شکریہ ۔ قسط 5

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

دنیا بھر میں ہر روز بے شمار تربیتی پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ، مضامین، کالم اور کتابیں یہ بتانے کے لئے لکھی جاتی ہیں کہ کس طرح ان خواہشات کے حصول کی تکمیل کی جائے۔ زندگی بہتر انداز میں گزارنے کے لئے ہم اپنے طور پربھی کوشش اور تجربات کرتے رہتے ہیں ۔اس کے باوجودہم ایسی زندگی نہیں گزار پاتے جو انسانیت کے شایانِ شان ہو۔ہم غربت، جہالت، بے روزگاری جیسے مسائل سے دو چار ہیں ۔ ہمارے رشتوں میں محبت ، قربانی اور روا داری کا فقدان رہتا ہے۔ اچھی زندگی ہمارے لئے ایک خواب بن جاتی ہے، وہ خواب جو ہم ہر رات دیکھتے ہیں ۔زندگی ایک معمہ بن جاتی ہے ، جسے سمجھتے سمجھتے پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ 1998 سے میرا تعلق پڑھانے اور ٹریننگز کرانے سے رہا ہے۔ اس دوران میں نے سینکڑوں لوگوں کے نقطہ نظر کو سنا، کتابیں پڑھیں اور یہ کوشش کی کوئی ایسا فارمولا ہاتھ لگ جائے جس کے باعث ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر تے ہوئے خوشحال زندگی گزاریں ۔ ایسی زندگی جو دونوں جہانوں میں سرفراز کر دے۔میرا ایمان ہے کہ انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے وہ حاصل کر ہی لیتا ہے۔مجھے بھی وہ فارمولا مل گیا۔ میں اس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں یہ کامیابی اور خوشحالی کا واحد فارمولا ہے،واحد فارمولا۔ اس سلسلۂ مضامین کا مقصد یہی ہے کہ نا صرف اُس قانون کو بیان کیا جائے بلکہ اس پر عمل کرنا آسان بنا دیا جائے تاکہ ہماری زندگی صحت ،محبت ، دولت اور خوشیوں سے بھر نے کے ساتھ ساتھ خدا کی رضا بھی حاصل کر لے ۔ محمد زبیر


محبت کی طاقت

پانچواں دن

كنت كنزاً مخفياً فأحببت أن أعرف فخلقت الخلق لأعرف

‘‘میں ایک چھپے ہوئے خزانے کی مانند تھا ، میں نے چاہا کہ مجھے پہچانا جائے۔ اسی لئے میں نے اِس کائنات کو تخلیق کیا۔’’ [حدیث قدسی؛ کشف الخفا ]  

 

 انسان کو جو احساس کسی سے محبت کرنے اور کسی کی محبت حاصل کرکے ہوتا ہے وہ احساس اُس شخص کو حاصل ہوہی نہیں سکتا جس نے کسی سے اور جس سے کسی نے محبت نہ کی ہو ۔
انسان کو جو خوشی اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی بے تکلف اور قہقہوں سے بھرپور محفل میں ملتی ہے اس کا اندازہ وہ شخص کبھی لگانہیں سکتا جو ان رشتوں سے محروم ہو، انسان کو جو لذت کسی ضرورت مند کی مدد کر کے، اُسے کھانا کھلا کر حاصل ہوتی ہے اس کا اندازہ ایک خو دغرض شخص نہیں کرسکتا۔ انسان کو جو طمانیت اپنے کسی کام یا تخلیق کے سراہے جانے سے ہوتی ہے اس کے متعلق ان لذتوں سے تہی دست شخص کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔
ان تمام ذائقوں سے آشنا ہونے کے لئے لوگوں کاہونا ضروری ہے۔ ہم اِس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں اور اگر اکیلے ہوتے تو زندگی بے نام ہوکر رہ جاتی ۔
کوئی تصویر بنانے کا کیا فائدہ ہوتا جب کو ئی دیکھنے والا نہ ہوتا۔ کوئی گیت ترتیب دینے کا کیا فائدہ ہوتا جب کوئی سننے والا نہیں ہوتا ۔ کسی ایجاد کا کیا مقصد ہوتا جب کوئی استعمال کرنے والا نہ ہوتا۔ زندگی کے تمام رنگ پھیکے پڑجاتے ۔
بیمار ہونے کا کیا فائدہ جب کوئی تیمارداری کرنے والا نہ ہو۔
زندگی کو بھر پور انداز سے وہی لوگ جیتے ہیں جن کے تعلقات رشتے داروں ، دوستو ں اور دیگر لوگوں سے خوشگوار اور دلچسپ ہوتے ہیں ۔ شاندار اور پر جوش زندگی گزارنے کے لئے رشتوں کو سمجھنا اور ان کو نبھانا آنا چاہئے۔
سائنسی تحقیقات سے بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ رشتوں کی خرابی یا اچھائی کا دار و مدار صرف اور صرف ایک بات پر ہے اور وہ ہے شکر گزاری۔ جن رشتوں میں شکر گزاری کا عنصر موجود ہو، لوگ مثبت باتوں پر زیادہ توجہ دیں ایسے رشتے ہمیشہ دوستی ، محبت ، اپنائیت ، سکون اور قربانی کے جذبات سے مزین ہوتے ہیں ۔
ان لوگوں کو بتانا نہیں پڑتا کہ وہ کتنے خوش ہیں بلکہ خوشی ان کے انگ انگ سے پھوٹتی ہے۔ جس گھر میں محبت ہوتی ہے وہاں عزت، دولت اور کامیابی خوشی خوشی رہنا پسند کرتے ہیں ۔
اس کے بر عکس جن رشتوں میں نا شکری کے جذبات پائے جاتے ہیں وہاں وحشت نا صرف درو دیوار بلکہ ہر فرد کے چہرے سے ٹپک رہی ہوتی ہے۔
یہاں ناشکری کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ناشکری سے مراد تمام منفی خیالات یا الفاظ ہیں یعنی چاہے آپ کسی کے منہ پر اس کی تذلیل کر رہے ہوں یا پیٹھ پیچھے اس کی برائی کر یں ، نا شکری ہے۔
اپنی مرضی کے کام نہ ہونے پر لڑ نا یا جو کام آپ کی آسانی کے لئے کئے جارہے ہوں اُن کا شکریہ ادانہ کرنا بھی نا شکری ہے۔
ہم دوسروں کی غلطیوں کی اصلاح کرنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں لیکن جو کام اچھے ہورہے ہوں ان پر شکریہ ادا کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں ۔ غیبت، تنقید ، الزام تراشی، غصہ یا تذلیل کرتے ہوئے ہم یہ چاہتے ہیں کہ حالات ہماری مرضی کے مطابق ہوجائیں ، سامنے والا شخص ہماری ضرورتوں اور خواہشات کے مطابق کام کرے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ سالہا سال غصہ کرتے ہیں اس کے باوجود بھی کئی کام ویسے کے ویسے ہی خراب ہوتے رہتے ہیں۔ کئی لوگ اپنی بیوی بچوں کی جن باتوں پر ہزار بار تنقید کرچکے ہوتے ہیں اُن میں بہتری تو دور کی بات ہے مزید خرابی پیدا ہوتی رہتی ہے۔
ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ نے فارمولا سمجھا دیا ہے کہ تم میرا شکر ادا کرو میں اور دوں گا۔ اور اس نے یہ بھی سمجھا دیا کہ جو بندوں کا شکر گزار نہیں وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ۔ رشتوں کے لئے شکر ادا کرنے سے، تعلقات ہی تبدیل نہیں ہوں گے آپ خود بھی تبدیل ہوجائیں ۔
اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ آپ کا مزاج کیسا ہے….؟ شکر گزاری کی بناء پر آپ میں برداشت، فہم و فراست، صبر اور نرمی آجائے گی اور اس طرح آئے گی کہ آپ کو احساس بھی نہیں ہوگا۔ آپ کی زندگی سے تنقید ، شکوہ شکایت اور الزام تراشیوں کا خاتمہ ہوجائے گا کیونکہ شکر گزاری کی ان منفی صفات سے بنتی نہیں ہے۔
آج کی مشق اس لئے ہے کہ ہم لوگوں کا شکریہ ادا کریں چاہے وہ جیسے بھی ہوں۔

[پانچواں دن ]

نام  بمع   تصویر                              کیوں شکر گزار ہیں ؟ (وضاحت کریں )

_____________                   ________________ _____________                   ________________ _____________                   ________________ _____________                   ________________ _____________                   ________________

فوائد و تاثرات: 
_____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________

 


ہر انسان میں خوبیاں اور خامیاں دونوں ہوتی ہیں ۔ آج خامیوں سے نظر ہٹادیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لوگ ڈر کر آپ کی بات مان بھی لیں ، آپ کے کام کر بھی دیں ، آپ کی خواہشات میں ڈھل بھی جائیں ، یاد رکھیں ایسے رشتوں میں خوف تو ہوسکتا ہے سچی محبت اور دل سے عزت نہیں ہوسکتی۔اور جب لو گ ڈر کر آپ کا کام کرتے ہیں تو اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جیسے ہی دل سے ڈر نکلتا ہے،تعلقات بری طرح متاثر ہوتے ہیں ۔
چاہے آپ کے تعلقات کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں ، یہ مشق ان تعلقات میں مزید نکھار پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خوشیوں میں اضافہ کردے گی۔ تین رشتوں کا انتخاب کریں ۔ ان میں آپ کی بیوی، بچے، والدین، بہن بھائی ، رشتے دار، دوست ، ساتھ کام کرنے والے ، ماتحت یا افسران بھی ہوسکتے ہیں ۔ کسی بھی تین لوگوں کو منتخب کریں جو آپ کے لئے بہت اہم ہیں ، ان کی تصاویر اپنے پاس رکھیں (اگر تصویر رکھنا ممکن ہو)۔
جیسے ہی آپ تین لوگ منتخب کر کے ان کی تصویریں اپنے پاس رکھیں گے، شکر گزاری کا جادو اپنا کام شروع کردیگا۔ اب سکون سے بیٹھ جائیں اور ہر ایک کے متعلق ایک ایک کر کے سوچنا شروع کردیں کہ آپ ان کے شکر گزار کیوں ہیں….؟
آپ کو اُن کی کس بات سے سب سے زیادہ محبت ہے….؟
اُن کی خوبیاں کیا ہیں ….؟
یقیناً ان میں سینکڑوں خوبیاں ہوں گی۔مثلا آپ ان کے صبر ، جوش ، قربانی، حسنِ اخلاق،ان کی ذہانت ، شرارت ، مسکراہٹ یا شرم و حیاء کے لئے بھی شکر گزار ہوسکتے ہیں ۔ آپ اُن لمحات کے لئے شکر گزار ہوسکتے ہیں جب آپ کو مدد کی ضرورت تھی اور آپ کی بھر پور مدد بھی کی گئی ۔
ایک ایک کر کے تصویر سامنے رکھیں اور ان خوبیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پانچ ایسی باتیں لکھ لیں جن کیلئے آپ دل سے شکر گزار ہیں ۔ ہر جملہ لکھنے سے پہلے شکریہ لکھیں اور پھر شروع کریں ۔

شکریہ (…نام…) ، (…کام…) کے لئے

مثال کے طور پر :
شکریہ وجیہہ، میری خوبیوں کو سراہنے اور خامیوں کی طرف محبت سے توجہ دلانے کیلئے
شکریہ امی، ہم سب کو خوش رکھنے اور ہماری زندگی نت نئے تجربات سے بھرپور بنانے کیلئے

لسٹ مکمل کرنے کے بعداِن تینوں لوگوں کی تصویریں پورے دن اپنے پاس کسی ایسی جگہ پر رکھیں جہاں بار بار نظر پڑتی رہے اور جب بھی نظر پڑے آپ شکریہ کے الفاظ ادا کریں ۔ اگر آپ کا کام کسی ایک جگہ بیٹھنے کا نہیں ہے تو آپ اِن تصویروں کو اپنے ساتھ لے کر گھوم سکتے ہیں ۔
اگر تعلقات کی وجہ سے آپ کافی پریشان رہتے ہیں تو روزانہ کم از کم ایک مرتبہ یہ مشق ضرور کریں اور اگر ہوسکے تو وقتاً فوقتاً اس سبق کو پڑھتے بھی رہیں۔ اگرچہ یہ ہدایت اس کتاب کے لازمی حصے میں سے نہیں لیکن اس پر عمل کرنے سے اضافی فوائد حاصل ہوجاتے ہیں ۔
جیسے جیسے رشتوں میں شکر گزاری بڑھنا شروع ہو گی، تعلقات خود بخود بہترہوناشروع ہوجائینگے۔انشاء اللہ

انوکھے مہمان

 

چین میں تین عقلمند بزرگوں (Three Wise Men) کی لوک کہانیوں مشہور ہیں ، جنہیں Fuk، Luk اور Sau کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ایک خاتون گھر سے باہر نکلیں تو ان کی نظر تین بزرگ شخصیات پر پڑی، جن کے چہروں پرسفید داڑھی ان کی نورانیت میں مزید اضافہ کررہی تھی۔
خاتون نے ان سے کہا، ‘‘کھانے کا وقت ہو رہا ہے اور آپ مسافرمعلوم ہوتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ اندر تشریف لے آئیں تاکہ میں آپ کو کھانا پیش کر سکوں’’۔ـ
ایک بزرگ نے سنجیدگی سے سوال کیا، ‘‘کیا گھر کا مالک موجود ہے؟’’
‘‘نہیں، وہ تو نہیں ہیں’’۔ خاتون نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔
‘‘پھرہم نہیں آ سکتے۔ ’’ دوسرے بزرگ نے دلنشیں مسکراہٹ کے ساتھ انکار کر دیا۔
شام میں جب شوہر آگئے خاتون نے پورے واقعے کا نقشہ اس انداز سے کھینچا کہ شوہر نے فوراہی ملنے اور ساتھ کھانا کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ خاتون باہر گئیں اور ان سے کہا ‘‘میرے شوہر آگئے ہیں اور آپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، اب آپ اندر آ سکتے ہیں’’۔
تیسرے بزرگ نے پہلی بار کچھ کہا، ‘‘ہم کسی کے بھی گھر ایک ساتھ نہیں جاتے۔’’
‘‘لیکن کیوں؟’’ عورت سوچنے لگی کہ ایسے لوگ میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھے۔
اس کی پریشانی ختم کرنے کیلئے پہلے بزرگ نے اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ‘‘ان کا نام دولت ہے۔ ’’ پھر دوسرے ساتھی کا تعارف کروایا، ‘‘یہ کامیابی ہیں اور میں محبت ہوں۔ـ’’
وہ خاتون ابھی کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ بزرگ نے اپنی بات جاری رکھی، ‘‘آپ اندر جائیں اور مشورہ کر لیں کہ ہم میں سے کسے گھر میں بلانا چاہتے ہیں۔’’
‘‘اِس میں مشورہ کرنے کی کیا بات ہے؟ دولت سے کہو کہ آئے اور گھر دولت سے بھر دے۔’’ شوہر نے فوراً ہی فیصلہ سنا دیا۔

بیوی نے اپنے طور پر سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ‘‘دولت سے بہتر یہ ہوگا کہ کامیابی کو اپنے گھر بلائیں۔’’
سالی کھڑی ہوئی ساری بات بہت غور سے سن رہی تھی، اب اس نے بھی مشورہ دینا اپنافرض سمجھا،‘‘محبت کو بلانا کیسا رہے گا؟ سوچیں تو سہی، ہمارا گھر محبت سے بھر جائیگا۔’’

دونوں کو سالی کی بات سمجھ میں آگئی اور وہ بھی محبت کو گھر میں بلانے پر راضی ہو گئے۔ بیوی باہر گئی اور کہا، ‘‘آپ میں سے محبت کون ہیں؟ برائے مہربانی آپ آئیں اور ہمارے مہمان بن جائیں۔’’
محبت اٹھی اور گھر کی جانب چلنا شروع ہوگئی ۔محبت کے پیچھے پیچھے دولت اور کامیابی بھی خاموشی سے چلنے لگے۔ بیوی نے حیرت سے استفسار کیا،‘‘آپ دونوں کہاں آرہے ہیں؟میں نے محبت کو بلا یا ہے’’۔
ان دونوں نے بیک زبان جواب دیا، ‘‘اگر تم دولت یا کامیابی میں سے کسی کو بلاتیں تو ہم میں سے کوئی ایک آ جاتا، باقی دو باہر ہی رُک جاتے۔ لیکن تم نے محبت کو بلایا ہے لہذا ہم دونوں بھی اندر آئیں گے۔کیونکہ جس گھر میں محبت آتی ہے، دولت اور کامیابی خاموشی سے خود بخود آجاتی ہیں۔’’

]Source:
Builds A Better You—By Emmanuel Anthony Das ;
Soul Food – Vol. 1 – P.120 ;
The Shining Light – Vol. 64-66 P.94; The Theosophist – Vol.121 – P.384 ]۔

 

When we love, we always strive to become better than we are. When we strive to become better than we are, everything around us becomes better too. [Paulo Cohelho, Al Chemist]

‘‘جب ہم محبت کرتے ہیں بہتری کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جب بھی ہم پہلے سے بہتر ہونے کی کوشش کرتے ہیں ، ہمارے ارد گرد ہر شے بہتر ہوتی چلی جاتی ہے’’۔ [پاؤلو کوئیلو ۔ الکیمسٹ]

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

سوچ کی طاقت سے اپنی شخصیت مضبوط بنائیں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     قوتِ ارادی کیا ہے ….؟ ارادہ ...

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 2   دوسری عادت یہ ہے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے