شکریہ ۔ قسط 4

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

دنیا بھر میں ہر روز بے شمار تربیتی پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ، مضامین، کالم اور کتابیں یہ بتانے کے لئے لکھی جاتی ہیں کہ کس طرح ان خواہشات کے حصول کی تکمیل کی جائے۔ زندگی بہتر انداز میں گزارنے کے لئے ہم اپنے طور پربھی کوشش اور تجربات کرتے رہتے ہیں ۔اس کے باوجودہم ایسی زندگی نہیں گزار پاتے جو انسانیت کے شایانِ شان ہو۔ہم غربت، جہالت، بے روزگاری جیسے مسائل سے دو چار ہیں ۔ ہمارے رشتوں میں محبت ، قربانی اور روا داری کا فقدان رہتا ہے۔ اچھی زندگی ہمارے لئے ایک خواب بن جاتی ہے، وہ خواب جو ہم ہر رات دیکھتے ہیں ۔زندگی ایک معمہ بن جاتی ہے ، جسے سمجھتے سمجھتے پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ 1998 سے میرا تعلق پڑھانے اور ٹریننگز کرانے سے رہا ہے۔ اس دوران میں نے سینکڑوں لوگوں کے نقطہ نظر کو سنا، کتابیں پڑھیں اور یہ کوشش کی کوئی ایسا فارمولا ہاتھ لگ جائے جس کے باعث ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر تے ہوئے خوشحال زندگی گزاریں ۔ ایسی زندگی جو دونوں جہانوں میں سرفراز کر دے۔میرا ایمان ہے کہ انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے وہ حاصل کر ہی لیتا ہے۔مجھے بھی وہ فارمولا مل گیا۔ میں اس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں یہ کامیابی اور خوشحالی کا واحد فارمولا ہے،واحد فارمولا۔ اس سلسلۂ مضامین کا مقصد یہی ہے کہ نا صرف اُس قانون کو بیان کیا جائے بلکہ اس پر عمل کرنا آسان بنا دیا جائے تاکہ ہماری زندگی صحت ،محبت ، دولت اور خوشیوں سے بھر نے کے ساتھ ساتھ خدا کی رضا بھی حاصل کر لے ۔ محمد زبیر


خوشی کا سکّہ 

چوتھا دن

Success is getting what you want, happiness is wanting what you get. -[W.P. Kinsella]

‘‘کامیابی اپنی من پسند شے کو حاصل کرنے جبکہ خوشی اپنے پاس موجود اشیاء کو من پسند بنالینے کا نام ہے۔’’۔ [ڈبلیو۔پی۔کنسیلا] 

 

انگریزی زبان میں حروفِ تہجیalphabet کی تعداد چھبیس ہے، ان چھبیس حروف کی مدد سے دس لاکھ سے زائد الفاظ استعمال ہو رہے ہیں ۔یہ دس لاکھ الفاظ لا تعداد جملے بنا سکتے ہیں ۔ ان الفاظ اور جملوں کی بدولت اربوں لوگ نا صرف ایک د وسرے سے اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرتے ہیں بلکہ دیگر فورم کی طرح گوگل پر بھی اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے اور دوسرے لوگوں کو حل بتاتے ہیں ۔اس وقت دنیا میں ایک ارب پچیس کروڑ کے لگ بھگ لوگ گوگل استعمال کررہے ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ سوا ارب لوگ سب سے زیادہ کس الفاظ کے متعلق معلومات تلاش کرتےہیں ….؟؟؟
سب سے زیادہ استعمال کئے جانے والے تین لفظوں میں سے ایک لفظ ‘‘خوشی’’ ہے۔
صرف چھ ماہ میں اس موضوع پر ایک ہزار سے زائد کتابیں لکھی جاتی ہیں۔اقوامِ متحدہ (United Nations) نے اس کی اہمیت کے پیشِ نظرہر سال پندرہ مارچ کو خوشی کا د ن منانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ انسان کی جستجو بھی اس شے کے حصول میں سرگرداں رہی ہے۔ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ اگر محنت کریں گے تو کامیابی ملے گی اور کامیابی خوشی کا باعث بنے گی۔
یہ درست ہے…؟
غلط …..
لوگوں کا یہ سمجھنا کہ محنت کریں گے تو کامیابی ملے گی اور کامیابی ہی خوشی کا سبب ہوگی، ایک فرسودہتصور ہے۔
تحقیق سے تو یہ ثابت ہوا ہے کہ اگر ہم خوش ہوں گے تومحنت بھی کرنے میں مزہ آئے گا او ر خوشی خوشی محنت کرنے سے کامیابی خود بخود مل جائے گی۔
تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ خوش رہنے والے ، پر امید اور مثبت سوچ رکھنے والے زیادہ آمدنی حاصل کرپاتے ہیں ، اپنے ہدف زیادہ آسانی سے حاصل کرلیتے ہیں ، اوران لوگوں میں ذہنی تناؤ بھی کم پایا جاتا ہے۔ یہی لوگ پر سکون بھی رہتے ہیں چاقوچوبند بھی ، بیماریوں پر بھی آسانی سے قابو پالیتے ہیں اورطویل زندگی بھی پاتے ہیں ۔
ہمارے جسم میں ایک ہارمون ڈی۔ ایچ ۔ای ۔ اے DHEA پایا جاتا ہے جس کی بدولت ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے، ہاضمہ درست اور یادداشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت ہم شکر ادا کر رہے ہوتے ہیں ، اس وقت ہم دل سے خوش ہو رہے ہوتے ہیں ۔ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم دل سے کسی چیز کیلئے شکرگزار ہوں اور اس کے ساتھ ہی نا خوش بھی ہوں ۔اس بات کی صداقت اسی وقت محسوس کی جا سکتی ہے۔ ابھی ایک لمحے کیلئے کسی ایسے شخص کا خیال دل میں لائیں جسے آپ اپنا حقیقی محسن سمجھتے ہیں ۔ اس کے سب سے بڑے احسان کے متعلق سوچیں ۔اگلی لائن پڑھنے سے پہلے تھوڑی دیر رکیں ، اس احسان کا دل سے شکریہ ادا کریں ۔
اب ایمانداری سے جواب دیں کہ آپ خوشی محسوس کر رہے ہیں یا دکھ؟
یاد رکھیں ، خوشی آپ کی زندگی کے تمام بند دروازوں کو کھول دے گی، کیونکہ جب تک ہم خوش رہتے ہیں ہر چیز ممکن ہو جاتی ہے۔اور یہ بھی یاد رکھیں کی خوشی کی چابی شکر گزاری ہے۔ شکر گزاری کا کمال یہ ہے کہ یہ انسان کو ماضی اور مستقبل سے نکال کر حال میں کھڑا کر دیتی ہے، اور یہی وہ کمال ہے جو انسان کو با کمال بنا دیتا ہے۔

Just an observation: it is impossible to be both grateful and depressed. Those with a grateful mindset tend to see the message in the mess. And even though life may knock them down, the grateful find reasons, if even small ones, to get up.-[Steve Maraboli]

‘‘ایک مشاہدہ: یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص بیک وقت شکرگزار اور اداس ہو۔ شکرگزاری کا عادی شخص خراب حالات میں بھی مواقع تلاش کر لیتا ہے۔ اگر حالات اسے گرا بھی دیں تووہ دوبارہ کھڑا ہونے کا کوئی نہ کوئی سبب تلاش کر ہی لیتا ہے، چاہے وہ سبب بہت چھوٹا ہی کیوں نہ ہو’’۔ [اسٹیو میرا بولی ]  

  ہم یا تو ماضی کی غلطیوں ، تکلیفوں ، جھگڑوں ، نفرتوں یا نقصانات کے غم میں گھلے جاتے ہیں یا مستقبل کے اندیشے ہر وقت دامن گیر رہتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم نہ تو حال سے لطف اندوز ہوپاتے ہیں اور نہ ہی ماضی سےسیکھتےہیں ۔
ہمارا حال خوشیوں اور نعمتوں سے بھرا پڑا ہے، لیکن ہم کبھی شکر تک ادا نہیں کرتے۔ جو لو گ حال کی نعمتوں کے لئے اللہ تعالی کے شکر گزار ہوتے ہیں وہی اللہ کے دوست ہوتے ہیں ۔

اَلَا ٓ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْن

‘‘بیشک جو اللہ کے دوست ہیں انہیں نا تو کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ ہی ملال’’۔ [ سورۂ یونس:62] 

  غم کا تعلق ماضی سے جبکہ اندیشے ہمیشہ مستقبل کے ہوتے ہیں ۔ لہذا حال میں رہیں اور ہروقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہیں ۔ لیکن انسان بہت جلد بھول جاتا ہے اسی لئے یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
کتاب ‘‘چکن سوپ فار سول’’ Chicken Soup for the Soul کے مصنف جیک کیفیلڈJack Canfield نے ایک بہت اچھا طریقہ بتایا ہے جس کی بدولت انسان زیادہ سے زیادہ شکر گزاری کے جذبے سے سرشار ہوسکتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اپنی جیب میں ایک سکہ رکھو جس کا نام شکر گزاری کا سکہ ہو۔ دن بھر میں جب بھی جیب میں ہاتھ جائے اور ٹھنڈا ٹھنڈا سکّہ انگلیوں کو چھوئے تو کسی نہ کسی بات پر اللہ کا شکر ادا کریں۔
اسی بات کو لی براور نے ایک اور انداز سے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی چھوٹا سا پتھر اپنے پاس رکھیں اور اسے اپنے ہاتھ میں لے کر مٹھی بند کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں ۔
ڈیوس یونیورسٹی کیلی فورنیا کے رابرٹ ایمونس Robert Emmons اور میامی یونیورسٹی کے مائیکل مک کولاف Michael McCullough نے 2003 میں ایک تحقیق کی، جس میں انہوں نے یہ معلو م کیا کہ جو لوگ نعمتوں کو گنتے اور جو لوگ مشکلات کا حساب رکھتے ہیں ان دونوں کی زندگی ایک دوسرے سے کس قدر مختلف ہوتی ہے۔
Counting Blessings Versus Burdens نامی اس تحقیق کے مطابق ایک گروپ کے لوگوں سے کہا گیا کہ وہ ایک جرنل لیں جس میں رات کو سونے سے پہلے دن بھر کی اچھی باتوں کاریکارڈرکھیں ۔
اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ شکر ادا کرنے والے افراد دیگر لوگوں کے مقابلے میں زیادہ خوش رہتے ہیں ، اپنے اہداف جلد حاصل کر لیتے ہیں ،زیادہ پرجوش اوزیادہ مثبت سوچ کے حامل ہوتے ہیں اوران کی صحت بھی اچھی رہتی ہے۔
آج کے دن آپ کو یہ کرنا ہے کہ ایک چھوٹے سائز کا پتھر ڈھونڈیں جسے آپ مٹھی میں بند کرسکیں۔ کوشش کریں کہ پتھر چھوٹا ہونے کے ساتھ ساتھ چکنا بھی ہو ، نوکیلا نہ ہو تاکہ مٹھی میں آسانی سے پکڑا جا سکے۔ یہ پتھر آپ اپنے گھر کے لان ، دریا یا سمندر کے کناے ، پارک یا کہیں سے بھی ڈھونڈ کر لے آئیں۔ یہ آپ کا شکر گزاری کاپتھرہوگا۔
آپ اس پتھر کو بستر کے سرہانے اس طرح رکھیں کہ آپ کی نظر با آسانی اس پر پڑسکے۔ اسے آپ سائیڈ ٹیبل یا الارم کلارک کے ساتھ بھی رکھ سکتے ہیں ۔ آج رات جب آپ سونے کے لئے لیٹیں تو پتھر کو اپنے ہاتھ میں لیں اور مٹھی میں بند کر کے دن بھر میں جتنی اچھی باتیں ہوئیں ایک ایک کر کے ذہن میں لائیں ۔ جو سب سے اچھی بات ہوئی ہو اس کے لئے دل سے اللہ کا شکر ادا کریں ۔ یہ شکر آواز کے ساتھ ادا کرنا ہے ‘‘ الحمدُ للہ ’’ یا Thank You اس پتھر کو دوبارہ وہیں رکھ دیں ، کام ختم۔ یہ عمل اگلے 26دن مستقل دہرائیں ۔
ہر روز سونے سے پہلے میری پانچ سالہ بیٹی ہادیہ، میں اور میری اہلیہ دن بھر میں ہونے والے کم از کم پانچ مثبت واقعات کو ایک ایک کر کے دہراتے ہیں۔ اس کا نام ہم نے شکر گزاری کا کھیل رکھا ہے۔ہم میں سے اگر کوئی بھول جائے تو دوسرا یاد دلا دیتا ہے۔ بظاہر یہ عمل عام سا محسوس ہوتا ہے لیکن درحقیقت اس طرح آپ دن بھر میں ہونے والے تمام اچھے کاموں کو دہرارہے ہوتے ہیں۔ یہ بات تو ہم جان ہی چکے ہیں کہ جتنا زیادہ خوشی اور شکر گزاری کے جذبات ہمارے دل میں پیدا ہوں گے ہم اتنا زیادہ اچھا محسوس کریں گے اور جتنا زیادہ اچھا محسوس کریں گے زندگی اتنی ہی خوب سے خوبصورت ہوجائے۔
آپ نے اکثر محسوس کیا ہوگاکہ آپ بعض اوقات جب صبح سو کر اٹھتے ہیں تو خوش اور تازہ دم ہوتے ہیں ۔۔ اس کے بر عکس بعض اوقات آنکھ کھلتی ہے تو طبیعت بوجھل ، اداس اور چڑ چڑی ہورہی ہوتی ہے۔ ان دونوں کیفیتوں کا تعلق بہت حد تک اس بات پر منحصرہوتا ہے کہ آپ رات میں کیا سوچتے سوچتے سوئے ہیں ۔
آپ جتنا زیادہ شکر گزاری کے جذبات لے کر سوئیں گے اتنی زیادہ خوشی آپ کے رگ و پے میں سرائیت کر رہی ہوگی اور پھر صُبح نئے رنگوں سےسجی ہوگی۔

 

 شکریہ کا پتھر 

 ایمپاورڈ ویلتھ Empowered Wealth نامی ادارے کے سربراہ لی بروور Lee Browerنے رہونڈا بیرن کی کتاب The Secret میں ایک واقعہ بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں۔
‘‘میں سمجھتا ہوں کہ ہر شخص پر یہ وقت آتا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ، معاملات درست طور پر نہیں چل رہے، یا ، معاملات خراب ہوگئے ہیں۔ جب میرے خاندان میں معاملات اُتار چڑھاؤ کا شکار ہوتے ہیں، میں ایک پتھر تلاش کرتا ہوں اور اسے تھام کر بیٹھ جاتا ہوں ۔ پھر اسے جیب میں ڈال کر کہتا ہوں، جب جب میں اس پتھر کو چھوتا ہوں تو مجھے شکر کا احساس ہوتا ہے۔  
تو ہر صبح جب میں سویرے اُٹھتا ہوں میں وہ پتھر دراز سے نکالتا ہوں اور جیب میں ڈال کر ان چیزوں کی تلاش میں نکل پڑتا ہوں، جن کا میں شکر ادا کرسکوں۔ رات کو میں اپنی جیبیں خالی کرتا ہوں اور وہ پھر وہاں موجود ہوتے ہیں۔
اس طرح سے مجھے حیرت انگیز تجربات ہوئے، جنوبی افریقہ کے ایک شہری نے مجھے ایسا کرتے دیکھا اور کہا ‘‘ یہ کیا ہے…؟’ میں نے اسے بتایا اور کہا کہ میں اسے تشکر کا پتھر  Gratitude Rock  کہتا ہوں۔
دو ہفتوں بعد مجھے اس کی ای میل ملی۔ اس نے لکھا ‘‘ میرا بیٹا ایک عجیب بیماری سے موت کے قریب پہنچ چکا تھا جو ہیپا ٹائٹس کی ایک قسم تھی۔ کیا تم مجھے شکر گزاری کے تین پتھر بھیج سکتے ہو؟ وہ سڑکوں پر پائے جانے والے عام پتھر ہی تھے۔ میں نے کہا ‘‘ یقیناً’’ مجھے چونکہ خاص پتھر بھیجنے تھے تو میں جھیل کے کنارے گیا، وہاں سے پتھر جمع کیے اور انہیں بھیج دیا۔ 
چار یا پانچ ماہ بعد مجھے اس کی ایک ای میل موصول ہوئی۔ اس نے لکھا ‘‘ میرا بیٹا اب بہتر ہے، بہت بہتر’’ پھر اس نے کہا ‘‘ تمہیں یہ معلوم نہیں کہ میں نے ہزاروں سے بھی زیادہ پتھر فروخت کیے ہیں، ایک پتھر دس ڈالر میں یہ کہہ کر بیچا ہے کہ یہ شکر کا پتھر ہے۔ اس کی تمام رقم فلاحی کاموں میں صرف کی جائے گی۔ آپ کا بہت بہت شکریہ’’۔
      [The Secret—By: Rhonda Byrne] 

[چوتھا دن ]

آج آپ کو ایک چھوٹا سا پتھر ڈھونڈنا جسے آپ مٹھی میں بند کرسکیں ۔ تفصیلات اوپر صفحہ پر موجود ہیں۔    آج رات جب آپ سونے کے لئے لیٹیں تو پتھر کو اپنے ہاتھ میں لیں اور مٹھی میں بند کر کے دن بھر میں جتنی اچھی باتیں ہوئیں ایک ایک کر کے ذہن میں لائیں۔ جو سب سے اچھی بات ہوئی ہو اس کے لئے دل سے اللہ کا شکر ادا کریں یہ شکر آواز کے ساتھ ادا کرنا ہے ’’ الحمدُ للہ یا Thank You ‘‘ اس پتھر کو دوبارہ وہیں رکھ دیں۔
یہ عمل اگلے 26دن مستقل دہرائیں۔

فوائد و تاثرات: 
_____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________

 

کلب 99

  ایک بادشاہ اپنی شاہانہ زندگی کے باوجود خوش نہیں تھا۔ایک دن اس کی نظر اپنے ایک غلام پر پڑی جو بڑی محنت اور محبت سے نہ صرف کام کر رہا تھا بلکہ مسلسل گنگنا بھی رہا تھا۔
اِس بات نے بادشاہ کو حیران کے ساتھ ساتھ پریشان بھی کر دیا کہ وہ خود ایک بادشاہ ہو کر بھی ناخوش تھا جبکہ ایک معمولی سا غلام اتنا خوش ۔
آخر کار بادشاہ سے رہا نہیں گیا اور اْس نے اپنے غلا م سے پوچھ ہی لیا کہ ‘‘تم اتنے خوش کیوں ہو؟’’
غلام نے جواب دیا کہ ‘‘میرے آقا! میں ایک غلام سے زیادہ کچھ نہیں ۔لیکن میرا گھرانہ اور میں بہت زیادہ کے طلبگار بھی نہیں ۔ہمیں بس سر ڈھانپنے کے لیے چھت اور پیٹ بھرنے کے لیے روٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔’’
لیکن بادشاہ اِس جواب سے مطمئن نہیں ہوا۔اس نے اپنے وزیر کو مشورے کے لیے بلایا۔ بادشاہ کی فکر کی کہانی سننے کے بعد ایک وزیر نے کہا۔‘‘میرے آقا! میرے خیال سے وہ غلام ابھی تک کلب 99 کا حصہ نہیں بنا ہے۔’’
‘‘کلب 99 ؟’’ بادشاہ نے حیرانگی سے پوچھا ….‘‘اور یہ کلب 99کیا ہے؟’’۔
وزیر نے کہا ‘‘بادشاہ سلامت یہ جاننے کے لیے کہ یہ کلب 99 کیا ہے، ایک تھیلی میں 99 اشرفیاں رکھ کر غلام کے گھر کے دروازے پر رکھوا دیں اور پھر دیکھیں ؟’’
ایسا ہی کیا گیا۔۔ جب غلام نے اپنے دروازے پر تھیلی دیکھی تو وہ خاموشی سے اْسے گھر کے اندر لے گیا اور جب اْس نے دیکھا تو اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔ اتنی ساری سونے کی اشرفیاں !!! اِس نے اْن کو گننا شروع کردیا اور کئی بار گن لینے کے بعد آخر اْس کو یقین ہو ہی گیا کہ وہ اشرفیاں 99 ہی ہیں ۔
اب اْس نے سوچنا شروع کردیا کہ100 ویں اشرفی کہا ں گئی…. کوئی بھی یقینا 99 اشرفیاں نہیں چھوڑیگا۔
اْس نے ہر اْس جگہ پر تلاش کرنا شروع کردیا جہاں وہ کر سکتا تھا….لیکن ناکام رہا۔آخر تھک ہار کر اْس نے فیصلہ کیا کہ وہ آخری اشرفی کو حاصل کرنے کے لیے جان توڑ محنت کریگا اور اْسے حاصل کر کے رہیگا۔ اب غلام کی زندگی پوری طرح بدل گئی۔ وہ دن رات اپنا سکون وآرام بر باد کرتے ہوئے سخت محنت کرنے لگا ، اْس نے اپنے خاندان کی بھی پروا کرنا چھوڑ دی۔ہر وقت اس کے چہرے پر بے سکونی نظر آنے لگی۔ اور اِس عجیب و غریب صورت حال کو دیکھ کر بادشاہ حیران ہوگیا اور اْس نے وزیر کو طلب کیا۔
وزیر نے کہا، ‘‘بادشاہ سلامت! اب وہ غلام اِس 99 Club کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔’’
اْس نے مزید کہا‘‘کلب 99 ہر اْس شخص کی پہچان ہے جن کے پاس خوش رہنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے لیکن انہیں کبھی سکون نہیں ہوتا کیونکہ وہ ہمیشہ اور زیادہ کی طلب میں رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ میں وہ آخری چیز اور حاصل کرلوں پھر زندگی بھر خوش رہوں گا۔

حال کی خوشیوں پر نظر رکھیں جو بے شمار ہیں ناکہ ماضی کی تلخیوں پر جوہر شخص کی زندگی میں کچھ نا کچھ ہوتی ہی ہیں ۔ [چارلس ڈکنز]

ہم اپنی زندگی میں چھوٹی چھوٹی چیزوں سے خوش ہو سکتے ہیں ۔ اس کے باوجود جب ہمیں تھوڑا ملے تو ہم اور زیادہ کی کوشش میں لگ جاتے ہیں ۔ ہم اپنی نیندیں ، اپنی خوشیاں سب قربان کر دیتے ہیں ۔ اپنی بڑھتی ہوئی خواہشات اور ضروریات کے لیے ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کو نظر انداز کرنا یا تکلیف دینا شروع کر دیتے ۔ ‘‘اسی کو 99 Clubکا حصہ کہا جاتا ہے۔’’

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 3   گزشتہ صفحات میں ہم ...

اپنا ای کیو EQ لیول معلوم کیجیے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں اکثر ماہر نفسیات اب یقین رکھتے ہیں کہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے