Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے

شکریہ ۔ قسط 11

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

دنیا بھر میں ہر روز بے شمار تربیتی پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ، مضامین، کالم اور کتابیں یہ بتانے کے لئے لکھی جاتی ہیں کہ کس طرح ان خواہشات کے حصول کی تکمیل کی جائے۔ زندگی بہتر انداز میں گزارنے کے لئے ہم اپنے طور پربھی کوشش اور تجربات کرتے رہتے ہیں ۔اس کے باوجودہم ایسی زندگی نہیں گزار پاتے جو انسانیت کے شایانِ شان ہو۔ہم غربت، جہالت، بے روزگاری جیسے مسائل سے دو چار ہیں ۔ ہمارے رشتوں میں محبت ، قربانی اور روا داری کا فقدان رہتا ہے۔ اچھی زندگی ہمارے لئے ایک خواب بن جاتی ہے، وہ خواب جو ہم ہر رات دیکھتے ہیں ۔زندگی ایک معمہ بن جاتی ہے ، جسے سمجھتے سمجھتے پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ 1998 سے میرا تعلق پڑھانے اور ٹریننگز کرانے سے رہا ہے۔ اس دوران میں نے سینکڑوں لوگوں کے نقطہ نظر کو سنا، کتابیں پڑھیں اور یہ کوشش کی کوئی ایسا فارمولا ہاتھ لگ جائے جس کے باعث ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر تے ہوئے خوشحال زندگی گزاریں ۔ ایسی زندگی جو دونوں جہانوں میں سرفراز کر دے۔میرا ایمان ہے کہ انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے وہ حاصل کر ہی لیتا ہے۔مجھے بھی وہ فارمولا مل گیا۔ میں اس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں یہ کامیابی اور خوشحالی کا واحد فارمولا ہے،واحد فارمولا۔ اس سلسلۂ مضامین کا مقصد یہی ہے کہ نا صرف اُس قانون کو بیان کیا جائے بلکہ اس پر عمل کرنا آسان بنا دیا جائے تاکہ ہماری زندگی صحت ،محبت ، دولت اور خوشیوں سے بھر نے کے ساتھ ساتھ خدا کی رضا بھی حاصل کر لے ۔ محمد زبیر


پانی زندگی ہے

گیارہواں دن

 کرشن چندر افسانہ نگاری کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں ۔ان کی زندگی نت نئے تجربات کرتے اور ان تجربات کو بیان کرتے گزری ۔یوں تو انہوں نے لاتعداد یادگار افسانے لکھے۔ اردو کے بہترین افسانو ں کا کوئی بھی انتخاب انکے افسانے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ ہم نے ان کے ایک افسانے کو اپنی کتاب کیلئے منتخب کیا ہے جس میں سے لئے گئے اقتباسات ہماری آنکھیں کھول دیں گے کہ لوگ کس کس طرح پانی کے لئے ترس رہے ہیں ۔کرشن چندر کے اس منتخب کردہ افسانے کا نام ہے ، ‘‘ پانی کا درخت’’۔ اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پانی اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ اس کہانی میں انہوں نے پوٹھوہار کے ایک ایسے علاقے کا ذکر کیا ہے جہاں نمک کی کانوں کے باعث کنویں تو دور چشموں تک کا پانی بھی کڑوا ہوتاہے۔پانی ان لوگوں کی زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے، ایسی دولت جو انسان کی عزتِ نفس، انسانی رشتوں کے تقدس اور بعض اوقات انسانی جان سے بھی زیادہ قیمتی تصور ہوتاہے۔ وہ لکھتے ہیں :
‘‘ہمارے گاؤں میں پانی بہت کم ہے۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں نے اپنے گاؤں کے آسمان کوتپے ہوئے پایا ہے ، یہاں کی زمین کو ہانپتے ہوئے دیکھا ہے اور گاؤں والوں کے محنت کرنے والے ہاتھوں اور چہروں پر ایک ایسی ترسی ہوئی بھوری چمک دیکھی ہے جو صدیوں کی نا آسودہ پیاس سے پیدا ہوتی ہے۔
ہمارے گاؤں کے مکان اور آس پاس کی زمین بالکل بھوری اور خشک نظر آتی ہے۔ زمین میں باجرے کی فصل جو ہوتی ہے اس کا رنگ بھی بھورا بلکہ سیاہی مائل ہوتا ہے۔ یہی حال ہمارے گاؤں کے کسانوں اور ان کے کپڑوں کا ہے۔صرف ہمارے گاؤں کی عورتوں کا رنگ سنہری ہے کیونکہ وہ چشمے سے پانی لاتی ہیں ۔
بچپن ہی سے میری یادیں پانی کی یادیں ہیں ۔ پانی کا درد اور اس کاتبسم، اس کا ملنا اور کھوجانا۔ یہ سینہ اس کے فراق کی تمہید اور اس کے وصال کی تاخیر سےگودا ہوا ہے۔
مجھے یا د ہے جب میں بہت چھوٹا سا تھا دادی اماں کے ساتھ گاؤں کی تلہٹی کے نیچے بہتی ہوئی رویل ندی کے کنارے کپڑے دھونے کیلئے جایا کرتاتھا۔ دادی اماں کپڑے دھوتی تھیں۔ میں انہیں سکھانے کیلئے ندی کے کنارے چمکتی ہوئی بھوری ریت پر ڈال دیا کرتا۔ اس ندی میں پانی بہت کم تھا۔ یہ بڑی دبلی پتلی ندی تھی۔ چھریری اور آہستہ خرام…. مسکراہٹ میٹھی تھی، اور مٹھاس کی قدر وہ لوگ جانتے ہیں جو میری طرح نمک کی کان میں کامکرتےہیں ۔
ہمارے گاؤں میں بچے پانی کے لئے بہت سوال کرتے تھے۔ پانی ان کے تخیل کو ہمیشہ اکساتا رہتا ہے۔ دوسرے گاؤں میں ، جہاں پانی بہت ہوتا ہے، وہاں کے لڑکے شاید سونے کے جزیرے ڈ ھونڈ تے ہوں گے یا پرستان کا راستہ تلاس کرتے ہوں گے لیکن ہمارے گاؤں کے بچے ہوش سنبھالتے ہی پانی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں اور تلہٹی پر اور پہاڑی پر اور دور دور تک پانی کو ڈھونڈ نے کا کھیل کھیلتے ہیں۔
میں نے بھی اپنے بچپن میں پانی کو ڈھونڈا تھا اور نمک کے پہاڑ پر پانی کے دو تین ، نئے چشمے دریافت کئے تھے۔ مجھے آج تک یاد ہے میں نے کتنے چاؤ اور خوشی سے پانی کا پہلا چشمہ ڈھونڈا تھا، کس طرح کانپتے ہوئے ہاتھوں سے میں نے چٹانوں کے درمیان سے جھجھکتے ہوئے پانی کو اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں کا سہارا دے کر باہر بلایا تھا اور جب میں نے پہلی بار اسے اوک میں لیا تو پانی میرے ہاتھ میں یوں کانپ رہا تھا جیسے نو گرفتار چڑیا بچے کے ہاتھوں میں کانپتی ہے۔
میں جب اسے اوک میں بھر کر اپنی زبان تک لے گیا تو مجھے یاد ہے میری کانپتی ہوئی خوشی کیسے تلخ اچھو میں تبدیل ہو گئی تھی۔ پانی نے زبان پر جاتے ہی بچھو کی طرح ڈنگ مارا اور اس کے زہر نے میری روح کو کڑوا کر دیا۔ میں نے پانی تھوک دیا اور پھر کسی نئے چشمے کی تلاش میں چل کھڑا ہو، لیکن نمک کے پہاڑ پر مجھے آج تک میٹھا چشمہ نہ ملا۔ اس لیے جب ندی سوکھنے لگی تو میٹھے چشمے کی یاد نے مجھے بے چین کر دیا۔
(اس بچے کے ابا اس علاقے کے اکثر مَردوں کی طرح نمک کی کان میں ہی کام کرتے تھے۔ ایک دن وہ اپنے ابا کے ساتھ کام پر جاتا ہے جہاں نمک کے پانی کی ایک جھیل ہوتی ہے۔ اس کے ابا جھیل کو دیکھ کرکہتے ہیں ۔)
یہاں اس قدر پانی ہے پھر بھی پانی کہیں نہیں ملتا۔ دن بھر نمک کی کان میں کام کرتے کرتے سارے جسم پر نمک کی پتلی سی جھلی چڑھ جاتی ہے جسے کُھرچو تو نمک چورا چورا ہوکر گرنے لگتا ہے۔ اس وقت کس قدر وحشت ہوتی ہے۔ جی چاہتا ہے کہیں میٹھے پانی کی جھیل ہو اور آدمی اس میں غوطہ لگاتاجائے۔
‘‘پانی!پانی!’’
پانی سارے گاؤں میں کہیں نہیں تھا۔ پانی نمک کے پہاڑ پر بھی نہیں تھا…. یہ میرے لڑکپن کی کہانی ہے۔ جب ہمارے گاؤں سے بہت دور ان پہاڑی سلسلوں کے دوسری طرف سینکڑوں میل لمبی جاگیر کے مالک راجہ اکبر علی خان نے ہمارے دیہات والوں کی مرضی کے خلاف ندی کا بہاؤ موڑ کر اپنی جاگیر کی طرف کر لیا اور ہماری تلہٹی کو اور آس پاس کے بہت سے علاقے کو سوکھا، بنجر اور ویران کر دیا۔ اس وقت ندی کے کنارے کا ہمارا گاؤں اور اس وادی کے اور دوسرے بہت سے گاؤں پریشان ہو گئے۔ اس طرح ہمارے لئے رویل ندی مرگئی اور اس کا پانی بھی مر گیا اور ہمارے لئے تلخ یاد چھوڑ گیا۔
مجھے یاد ہے اس وقت گاؤں والوں نے دوسرے گاؤں والوں سے مل کر سرکار سے اپنی کھوئی ہوئی ندی مانگی تھی کیونکہ ندی تو گھر کی عورت کی طرح ہے۔ وہ گھر میں پانی دیتی ہے، کھیتوں میں کام کرتی ہے، ہمارے کپڑے دھوتی ہے، جسم کو صاف رکھتی ہے۔ ندی کے گیت اس کے بچے ہیں ، جنہیں وہ لوری دیتے ہوئے ، تھپکتے ہوئے مغرب کے جھولے کی طرف لے جاتی ہے۔ پانی کے بغیر ہمارا گاؤں بالکل ایسا تھا جیسے گھر عورت کے بغیر۔ گاؤں والوں کو با لکل ایسا معلوم ہوا جیسے کسی نے ان کے گھر سے ان کی لڑکی اغوا کرلی ہو۔ وہی غم، وہی غصہ تھا، وہی تیور تھے، وہی مرنے مارنے کے اندازتھے۔
لیکن راجہ اکبر علی خا ں چکوال کے علاقے کا سب سے بڑا زمیندار تھا۔حکومت کے افسروں کے ساتھ اس کا گہرا اثر رسوخ تھا۔ نمک کی کان کا ٹھیکہ بھی اس کے پاس تھا۔
اور یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے گاؤں میں پانی کی عزت لڑکی کی طرح بیش قیمت ہے۔ پانی جو زندگی دیتا ہے۔ پانی جو رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ پانی ، جو منہ دھونے کو نہیں ملتا۔ پانی ، جس کے نہ ہونے سے ہمارے کپڑے بھورے اور میلے رہتے ہیں ، سر میں جوئیں ، جسم پر پسینے کی دھاریاں اور روح پر نمک جما رہتا ہے۔ یہ پانی تو سونے سے زیادہ قیمتی ہے اور لڑکی سے زیادہ حسین۔ اس کی قدر ہمارے گاؤں والوں سے پوچھیے جن کی زندگی پانی کے لئے لڑتے جھگڑتے گزری ہے۔ ایک دفعہ سامنے کے پہاڑ کے میٹھے چشمے سے پانی لانے کے لئے سرورخاں کی بیوی سیدان اور ایوب خاں کی بیوی عائشاں دونوں آپس میں لڑ پڑی تھیں حالانکہ دونوں اتنی گہری سہیلیاں تھیں کہ ہر وقت اکٹھی رہتیں ، گھر بھی ان کے ساتھ ساتھ تھے۔ چشمے پربھی اکھٹے ہی پانی لینے جاتی تھیں ۔ پہلے ایک پھر دوسری پانی بھرتی۔ باری باری وہ دونوں ایک دوسرے کا گھڑا اٹھا کے سرپر رکھتیں اور پھر باتیں کرتی ہوئی واپس چل پڑتیں ۔ لیکن آج نہ جانے کیا ہوا ، آج جانے دونوں کو کیا جلدی تھی۔ ایک کہتی پہلے پانی میں بھروں گی، دوسری کہنے لگی نہیں میں بھروں گی۔ شاید انہیں غصہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں تھا۔ شاید غصہ انہیں اس لئے تھا کہ یہاں میٹھے پانی کا ایک ہی چشمہ تھا جہا ں ندی کے سوکھنے کے بعد دور دور سے لوگ پانی لینے کے لئے آتے تھے۔ منہ اندھیرے ہی عورتیں گھڑالے کے چل پڑتیں ۔ جب یہاں پہنچتیں تو ایک لمبی لائن پہلے سے موجود ہوتی یا چشمے کے منہ سے ایک ایسی پتلی سی دھار کو نکلتے دیکھتیں جو آدھے گھنٹے میں مشکل سے ایک گھڑا بھرتی تھی۔ اور تین کوس کا آنا جانا قیامت سے کم نہ تھا۔ لڑائی کی وجہ کچھ بھی ہو اصلی لڑائی پانی کی تھی۔ دونوں عورتوں نے دیکھتے دیکھتے ایک دوسرے کے چہرے نوچ لیے، گھڑے توڑ دیے، کپڑے پھاڑ ڈالے اور پھر روتی ہوئی اپنے اپنے گھروں کو گئیں ۔
تب سیداں نے سرور خاں کو بھڑکایا اور عائشاں نے ایوب خاں کو ۔ دونوں خاوند غصے سے باتا ب ہوکر کلہاڑیاں لے کے باہر نکل پڑے اور پیشتر اس کے کہ لوگ آکر بیچ بچاؤ کریں دونوں نے کلہاڑیوں سے ایک دوسرے کو ختم کر دیا۔ شام ہوتے ہوتے دونوں ہمسایوں کا جنازہ نکل گیا۔
ہمارے گاؤں کے قبرستان کی بہت سی قبریں پانی نے بنائی ہیں ۔
فرہاد کی کوہ کنی سے پانی کی تلاش مشکل ہے، یہ بات مجھے اس روز معلوم ہوئی کیونکہ پانی سامنے نہیں ہوتا وہ تو ایک چھلاوے کی طرح پہاڑکی سلوٹوں میں گم ہو جاتا ہے۔ پانی خانہ بدوش ہے، آج یہاں کل وہاں ۔ پانی ایک پردیسی ہے جس کی محبت کا کوئی اعتبار نہیں ۔ پانی کا وجود اس نازک خوشبو کی طرح ہے جو تیز دھوپ میں اڑ جاتی ہے۔ اس پوٹھو ہار کے علاقے میں ، جہاں عورتیں با وفا اور با حیا ہیں ، پانی بے وفا اورہر جائی ہے۔ وہ کبھی کسی ایک کا ہو کہ نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ یہاں سے وہاں ، ایک جگہ سے دوسری جگہ ایک ملک سے دوسرے ملک گھومتا ہے، پاسپورٹ کے بغیر۔ ایسے ہر جائی کو تلاش کیلئے ایک تیشہ نہیں ایک آئینہ چاہئے جس کے سامنے پہاڑ کا دل اس طرح ہو جیسے ایک کھلی کتاب ۔ آخر میرے گاؤں والوں نے کچھ سمجھ کر میرے باپ کو اس کام کیلئے چنا تھا۔
اس روز ہم دن بھر اس بلند و بالا پہاڑ کی خاک چھانتے رہے۔ ہم نے کہاں کہاں اس پانی کو تلاش نہیں کیا: بیریوں کی گھنی جھاڑیوں میں چٹانوں کی گہری درزوں میں ، سیاہ ڈراؤنے کنووں میں ، جنگلی جانوروں کی بھٹ میں ۔ پانی کی تلاش میں ہم نے سارے پرانے چشمے کھدوائے لیکن ان کا کھدوانا ایسے ہی تھا جیسے آدمی زندگی کی تلاش میں قبریں کھودڈالے۔ پانی کہیں نہیں ملا۔
ایک چور کی طرح اس نے جگہ جگہ اپنے جھوٹے سراغ چھوڑے لیکن آخر خود ہمیشہ ہمیں جل دے کر کہیں غائب ہو جاتا تھا۔ جانے فطرت کے کس کونے میں بیٹھا ہوا اپنے چاہنے والوں پر ہنس رہا تھا۔ لیکن گاؤں والوں نے آس نہیں چھوڑی۔ وہ سارے دن میرے بابا کے پیچھے پانی کی کھوج کرتے رہے۔آخر جب شام ہونے لگی تو میرے ابا نے پسینہ پونچھ کر ایک اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کر اُدھر نظر دوڑائی جہاں سورج غروب ہو رہا تھا۔ یکا یک انہیں غروب ہوتے ہوئے سورج کی روشنی میں چٹانوں کی ایک گہری درز میں فرن کا سبزہ نظر آیا۔ کہتے ہیں جہاں فرن کا سبزہ ہوتا ہے وہاں پانی ضرور ہوتا ہے۔فرن پانی کا جھنڈا ہے اور پانی ایک گھومنے والی قوم ہے۔ پانی جہاں جاتا ہے اپنا جھنڈا ساتھ لے جاتا ہے۔
ایک چیخ مار کر جلدی سے میرے ابا اس طرف لپکے جہاں فرن کا سبزہ اُگا تھا۔ گاؤں والے ان کے پیچھے پیچھے بھاگے۔ جلدی جلدی میرے ابا نے اپنے ناخونوں سے زمیں کو کریدنا شروع کر دیا۔زمین، جو اوپر سے سخت تھی نرم ہوتی گئی گیلی ہوتی گئی۔ آخر میں زور سے پانی کی ایک دھار اوپر آئی اور سینکڑوں سوکھے ہوئے گلوں سے مسرت کی آواز نکلی۔
‘‘پانی! پانی….!’’
ابا نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اوک میں پانی بھرا ۔ ساری نگاہیں ابا کے چہرے پر تھیں ، سینکڑوں دل دھڑک رہے تھے: یا اللہ پانی میٹھا ہو، یا اللہ پانی میٹھا ہو، یا اللہ پانی میٹھا ہو۔
ابا نے پانی چکھا۔ ‘‘پانی میٹھا ہے!پانی میٹھاہے..!’’
گاؤں والے زور سے چلائے: ‘‘پانی میٹھا ہے۔’’ ساری وادی میں آوازیں گونج اٹھیں ۔میٹھا پانی مل گیا۔میٹھا پانی ہے۔
ساری وادی میں ڈھول بجنے لگے۔ عورتیں گانے لگیں ۔جوان ناچنے لگے۔ بچے شور مچانے لگے۔ گاؤں والوں نے جلدی سے چشمے کو کھود کر اپنے گھیرے میں لے لیا۔اب چشمہ ان کے بیچ میں تھا اور وہ اس کے چاروں طرف تھے۔اور وہ اسے مڑ مڑ کر اس طرح محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے جیسے ماں اپنے نو زائدہ بچے کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔
وہ رات مجھے کبھی نہیں بھولے گی ۔ اس رات کوئی آدمی گاؤں میں واپس نہیں گیا۔ اس رات سارے گاؤں نے چشمے کے کنارے جشن منایا۔ اس رات تاروں کی گود میں بھوری بیریوں کے سائے میں ماؤں نے چولہے سلگائے، بچوں کو تھپک تھپک کر سلایا۔ اس رات کنواریوں نے لہک لہک کر گیت گائے۔ ایسے گیت جو پانی کی طرح نرمل اور سندر تھے۔ جن میں جنگلی جھرنوں کا سا حسن اور آبشاروں کی سی روانی تھی۔اس رات ساری عورتیں ،سارے بیج تخلیق سے بے قرار ہو کر پھوٹ پڑے تھے۔
ایسی رات ہمارے گاؤں میں کب آئی تھی!جب ابا خدا بخش نے پانی ڈھونڈ نکالا تھا۔ پانی جو انسان کے ہاتھوں کی محنت تھا۔ اس کے دل کی محبت تھا۔ آج پانی ہمارے ہاں اس طرح آیا تھا جیسے بارات ڈولی لے کر آتی ہے۔ وہ نیا چشمہ ہمارے درمیان آج اس طرح ہولے ہولے شرمیلے انداز میں چل رہا تھاجیسے نئی دلہن جھجھک جھجھک کر اجنبی آنگن میں پاؤںرکھتی ہے۔
ایک رات بانو نے مجھے کہا کہ میں رات کے دو بجے چشمے پر اسے ملوں ۔ میں نے کہا، ‘‘میں بہت تھکاہوا ہوں ۔’’
وہ بولی: ‘‘نہیں ضروری کام ہے، آنا ہوگا۔’’چنانچہ میں گیا۔
دو بجے کے وقت آدھی رات میں چشمے پر کوئی نہیں تھا، ہم دونوں کے سوا۔ میں نے اس سے پوچھا: ‘‘کیا بات ہے؟’’ و ہ کافی دیر تک خاموش رہی، پھر میں نے پوچھا: ‘‘ ابھی بتاؤ آخر کیا بات ہے؟’’
وہ بولی: ‘‘ میں گاؤں چھوڑ کر جا رہی ہوں ۔’’
میرا دل دھک سے رہ گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے چشمہ چلتا چلتا رک گیا۔ میرے گلے سے آواز نکلی: ‘‘کیوں ؟’’
‘‘میری شادی طے ہوگئی ہے…. چاچا کے لڑکے کے ساتھ جو لام سے ہوکر یہاں آیا ہے۔ وہ چکوال میں ہے صوبیدارہے۔
‘‘اور تم جا رہی ہو؟’’ میں نے تلخی سے پوچھا۔‘‘ہاں ۔’’
وہ چپ ہوگئی اور میں بھی چپ ہو گیا۔ سوچ رہا تھا کہ اسے ابھی جان سے مار وں یا شادی کی رات قتل کروں ۔
تھوڑی دیر رک کر بانو پھر بولی: ‘‘ سنا ہے چکوال میں پانی بہت ہوتا ہے۔ سنا ہے وہاں بڑے بڑے نل ہوتے ہیں جن سے جب چاہو ٹوٹی گھما کے پانی نکاللو۔’’
اس کی ا ٓواز خوشی کے مارے کانپ رہی تھی۔ وہ شاید اور بھی کچھ کہتی لیکن شاید میری آزردگی کا خیال کر کے چپ ہو گئی۔ اس کی نگاہوں میں میری محبت سے انکار نہیں تھا بلکہ پانی کا اقرار تھا۔
یکایک مجھے محسوس ہوا کہ محبت سچائی خلوص اور جذبے کی گہرائی کے ساتھ تھوڑا پانی بھی مانگتی ہے۔ بانو کی جھکی ہوئی نگاہوں میں اک ایسی جاں گسل شکایت کا گریز تھا جیسے وہ کہہ رہی ہو: جانتے ہو ہمارے گاؤں میں کہیں پانی نہیں ملتا۔ یہاں میں دودو مہینے نہا نہیں سکتی۔ مجھے اپنے آپ سے اپنے جسم سے نفرت ہو گئی ہے۔
بانو چپ چاپ زمین پر چشمے کے کنارے بیٹھ گئی۔ میں اس تاریکی میں بھی اس کی آنکھوں کے اندر اس محبت کے خواب کو دیکھ سکتا تھا جو گندے بدبو دار جسموں ، پسوؤں ، جوؤں اور کھٹملوں کی ماری غلیظ چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی محبت نہ تھی۔ اس محبت سے نہائے ہوئے جسموں دھلے ہوئے کپڑوں اور نئے لباس کی مہک آتی تھی۔ میں بالکل مجبور اور بے بس ہوکر ایک طرف بیٹھ گیا۔
رات کے دو بجے بانو اور میں دونوں چپ چاپ ۔ کبھی ایسا سناٹا جیسے ساری دنیا کالی ہے۔ کبھی ایسی خاموشی جیسے سارے آنسو سو گئے ہیں ۔ چشمے کے کنارے بیٹھی ہوئی بانو آہستہ آہستہ گھڑے میں پانی بھرتی رہی ۔ آہستہ آہستہ پانی گھڑے میں گرتا ہوابانو سے باتیں کرتا رہا۔اسے کچھ کہتا رہا، مجھ سے کچھ کہتا رہا۔پانی کی باتیں انسان کی بہترین باتیں ہیں ۔
بانو چلی گئی۔
جس رات بانو کا بیاہ غضنفر سے ہو ا، اس رات میں نے عجیب خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ہماری کھوئی ہوئی ندی ہمیں واپس مل گئی ہے اور نمک کے پہاڑ پرمیٹھے پانی کے چشمے ابل رہے ہیں ۔ ہمارے گاؤں کے مرکز میں ایک بہت بڑا درخت کھڑا ہے ۔ یہ درخت سارا کا ساراپانی کا ہے۔ اس کی جڑیں شاخیں پھل پھول پتیاں سب پانی کی ہیں اور اس درخت کی شاخوں سے ، پتوں سے پانی بہہ رہا ہے۔ اور یہ پانی ہمارے گاؤں کی بنجر زمین کو سیراب کر رہا ہے۔
(لڑکا یہ خواب اپنے بابا کو سناتا ہے تو وہ ڈر جاتے ہیں اور سختی سے منع کرتے ہیں کہ اس خواب کا ذکر کسی سے نہیں کیا جائے۔اس کے با وجود ایک دن وہ اپنا خواب دوستوں کو سناتا ہے۔ دوست ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ خواب تو گاؤں کے ہر لڑکے نے دیکھا ہے۔ گھبراؤ نہیں ایک دن یہ خواب ضرور پورا ہوگا۔ لڑکا کہتا ہے)
پہلے مجھے ان کی باتوں کا یقین نہیں آیا لیکن اپنے ساتھیوں کے ساتھ کام کرتے کرتے اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ ہمارا خواب ضرور پورا ہوگا۔ایک دن ہمارے گاؤں میں پانی کا درخت ضرور اگے گااورجو جام خالی ہیں وہ بھر جائیں گے اور جو کپڑے میلے ہیں وہ دھل جائیں گے اور جو دل ترسے ہوئے ہیں وہ کھل جائیں گے اور ساری زمینیں اور ساری محبتیں اور سارے ویرانے اور سارے صحرا شاداب ہوجائیں گے۔

***

اس کہانی، پانی کا درخت کے اقتباسات کرشن چندر کے بے مثال افسانے سے لئے گئے ہیں ۔یہ کہانی ہماری آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے کہ کہیں لوگ پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترس رہے ہوتے ہیں تو کہیں ہم پانی کی تھوڑی سی کمی سے بلبلااُٹھتے ہیں۔ شکر ادا نہیں کرتے کہ کس بڑی نعمت سے ہمیں نوازاگیا ہے۔
پانی دنیا کی اہم ترین نعمتوں میں سے ایک ہیں ، اگر پانی نہ ہوتا تو کوئی غذا کوئی سبزی، کوئی جانور اور کوئی زندگی نہیں ہوتی، پانی کی مدد سے ہم مزے مزے کے کھانے بنارہے ہیں ، اپنے باغات کو سر سبزو شاداب رکھتے ہیں ، باتھ روم میں استعمال کرتے ہیں ، گاڑیاں پانی کے بغیر نہیں چل سکتیں ۔
ہمارے اسپتال، ہماری صنعت ، ٹرانسپورٹیشن ، ہمارے روڈ، کپڑے ، پلاسٹک، گلاس ، ادویات، ہمارے گھر ۔ ہر چیز پانی ہی کی مرہونِ منت ہے، پانی ہی زندگی ہے اور پانی ہی زندہ رکھتا ہے۔
آج پورا دن پانی کیلئے دل سے شکر ادا کریں ، ہر اس چیز کا جو پانی سے بنائی جاتی ہے۔
جب کبھی پانی پئیں اور کھانا کھائیں الحمد للہ یا یا اللہ تیرا شکر ہے کہیں ، یہ کھانا اور پانی صحت ، برکت اور مزید نعمتوں کا سبب بنے گا۔

 

أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَO أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَO لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَO

‘‘ اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں ۔اگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کر دیں ۔پھر تم ہماری شکر گزاری کیوں نہیں کرتے۔’’
[سورۂ واقعہ (56) آیت 68 تا 70]

 

 

 

[گیارہواں دن ]

آج ان تمام چیزوں کے متعلق سوچیں جو صرف پانی کی وجہ سے موجود ہیں
اور جن کی وجہ سے زندگی رنگوں سے بھری ہوئی ہے۔

1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

4۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

5۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فوائد و تاثرات: 
_____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________

 

بادشاہ کے تخت کی قیمت

یہ عباسی حکمران ہارون الرشید کا دور تھا، جب رعایا خوشحال اور سلطنت ترقی کی طرف گامزن تھی اورسڑکوں پر کوئی بھوکا، کوئی سائل ڈھونڈنے سے نہ ملتا تھا۔ اُس کے زمانے میں جگہ جگہ محتاج خانے کھلے ہوئے تھے، جہاں مفلوک الحال اور معذور افراد مستقل طور پر رہائش رکھتے۔ہر شہر میں بیواؤں اور یتیموں کی الگ الگ تربیت گاہیں تھیں جن کے سارے اخراجات حکومت کے ذمہ تھے۔ اس کے ذاتی محتسب ملک کے ہر صوبے ، ہر شہر اور ہر قصبے میں پھیلے ہوئے تھے اور اگر کبھی کسی غریب کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی تو اس کی آواز ہارون کے کانوں تک پہنچے بغیر نہ رہتی۔ وہ اس وقت تک کھانا نہ کھاتا جب تک محل کے آس پاس رہنے اور جمع ہونے والوں کو کھانا نہ مل جاتا۔ ہارون الرشید کی کامیابیوں کی بنیادی وجہ علم دوستی’ غریب پروری اور انصاف پسندی تھی۔ وہ مفاد پرست ’ خوشامدی اور لالچی ٹولے کی بجائے علماء’ شعرا’ ادیبوں اور دانشوروں کو اپنے قریب رکھتا تھا جو اُسے اقتدار کی حقیقت سے آگاہ رکھتے اور ہر قدم پر رہنمائی کرتے۔ انہی مصاحب میں سے ایک حضرت ابو العباس محمد بن صبیح السماک المعروف ‘‘ابن السماک ؒ’’بھی تھے ، جو معروف صوفی بزرگ معروف کرخی کے اساتذہ میں سے تھے۔
ایک روز خلیفہ ہارون الرشید کا دربار لگا ہوا تھا۔ ملک کی مشہور ہستیاں براجمان تھیں ۔ عظیم مفکرین،نامور شعراء، دانا وزراء اورجیّد علمائے کرام تشریف فرما تھے۔ خدام ہاتھ باندھے حکم کے منتظر تھے۔ ایک خاموشی تھی۔
اسی دوران ہارون الرشید کو پیاس لگی۔ انہوں نے پانی لانے کا حکم دیا، حکم کی تعمیل کی گئی۔
ہیرے موتی سے جڑے سونے کے جھلملاتے کٹورے میں ٹھنڈا میٹھا اور صاف پانی پیش کیا گیا۔
ہارون نے ہاتھ بڑھا کر کٹورا تھاما اور اسے ہونٹوں سے لگانے کو تھا کہ ابن السماک ؒ نے ہاتھ اٹھا کربادشاہ کو پانی پینے سے رکنے کا اشارہ کیا۔ بادشاہ نے حیرت سے بزرگ کی طرف دیکھا۔


ابن السماک نے سوال کیا، ‘‘امیر المومنین!، اگر آپ کسی دشت بیابان میں بھٹک جائیں ، اوریہ پانی کو ایک لمبے عرصہ کے لئے نہ مل سکے ، اور پھر پیاس سے لبوں پر دم آجائے تو اور کسی کے پاس پانی کا ایک پیالہ ہو جسے وہ فروخت کرنا چاہے، تو آپ یہ پیالہ کتنی رقم میں خریدیں گے؟’’
ہارون الرشید نے تھوڑی دیر کیلئے توقف کیا اور پھر کہا، ‘‘ہم اُسے اپنی آدھی سلطنت دے کر خرید لیں گے۔’’
ابن السماک نے پانی پینے کی اجازت دیدی۔ ہارون الرشید نے اطمینان سے پانی پی لیا۔
ابھی وہ پانی پی کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ ابن السماک ؒ نے ایک اور سوال کر دیا،
‘‘امیرالمومنین! فرض کریں اگراس پانی کا اخراج آپ کے جسم سے رک جائے اور پانی آپ کے جسم سے نکل نہیں رہا ہو، آپ طبیبوں سے مشورہ کر لیں پھر بھی یہ پانی جسم سے نہ نکلے تو آپ اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے کتنی قیمت ادا کریں گے؟’’
بادشاہ نے بلا توقف جواب دیا، ‘‘اس کیلئے ہم اپنی باقی آدھی سلطنت بھی دیں گے۔’’
بزرگ نے انتہائی نرمی سے کہا، ‘‘اے امیر المومنین! جس سلطنت کی قیمت کے پیالے سے بڑھ کر نہیں ہے ، کیا وہ اتنی وقعت رکھتی ہے کہ انسان اس کی ہوس میں ڈوب جائے، اس کی خاطر عوام کا حق مارے’ ان پر ظلم اور زیادتی کرے اور انہی کا مال انہی پر خرچ نہ کرے’’۔
ابن السماک کی بات سن کر ہارون کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ’ ہچکی بندھ گئی اور جسم کانپنے لگا۔ وہ جابر حکمران نہ تھا مگر اس واقعے نے ہارون الرشید میں مزید انکساری و عاجزی پیدا کر دی اور دنیا کی حقیقت اور اقتدار کی اصلیت کھل کراس کے سامنے آ گئی ۔
[ماخوذ از تاريخ الرسل والملوك، وصلۃ تاريخ الطبری ، از محمد بن جریر ابو جعفر طبری۔ جُز 8، صفحہ 357 ]
ا …

You ain’t gonna miss your water until your well runs dry. Bob Marley

‘‘پانی کی قدر اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کنویں خشک نہ ہو جائیں ’’۔ [باب مارلے] 

 

(جاری ہے)

 

 

 


یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ بھی دیکھیں

شکریہ ۔ قسط 4

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، ...

شکریہ ۔ قسط 3

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے