روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / صحت و تندرستی / شوگر کنٹرول کرنے والی غذائیں

شوگر کنٹرول کرنے والی غذائیں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

 

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریض کو ایسی غذا لینی چاہیے جس میں کاربوہائیڈریٹ اور کیلوریز کم ہوں لیکن وہ غذائیت سے بھرپور ہو۔ غذا کا درست تعین کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اپنی پسندیدہ چیزیں کھانا چھوڑ دی جائیں بلکہ کھانے کے نظام کو منظم کیا جائے۔

شوگر کے مرض یعنی ذیا بیطُس کو ایک ‘‘خاموش بیماری’’ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ بیشتر افراد اکثر اس وقت معالج سے رجوع کرتے ہیں جب ان کی یہ بیماری اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق شوگر کی ابتدائی علامات بہت ہی معمولی ہو تی ہیں۔ لاکھوں مریضوں کو ذیابیطس لاحق ہوتی ہے، لیکن اُنہیں اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔
صحت کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ او(WHO) کے مطابق دنیا بھر میں اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد تقریباً 42 کروڑ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، صرف امریکہ میں دو کروڑ نوے لاکھ افراد کو یہ مرض لاحق ہے، اور اِن میں سے اسی لاکھ مریضوں کو اس کی خبر ہی نہیں۔
پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ ذیابیطس مریض ہیں، ذیابیطس ایسوسی ایشن کے سروے سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان کی 20 کروڑ کی آبادی سے پونے 4 کروڑ لوگ ذیابیطس کے مریض ہیں، یعنی تقریبا ہر چوتھا پاکستانی اس مرض میں مبتلا ہے۔ ماہرینِ صحت کےمطابق یہ تعداد 4 کروڑ سے زائد بھی ہوسکتی ہے کیونکہ ابھی بھی لاکھوں پاکستانی ذیابیطس لاحق ہونے سے لاعلم ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کی لاعلمی اور اس بیماری کے موجودہ شرح کے پھیلاؤ کو دیکھا جانے تو 2030ء تک اس خطرناک بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد دو گنا ہو جانے کا خطرہ ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر صحت مندانہ طرز زندگی اور نا مناسب غذا اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ ذیا بیطس سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ لوگ غیر صحت مندانہ طرز زندگی کو ترک کرتے ہوئے سادہ غذا اور ورزش کو معمول بنائیں۔
ماہرین صحت ذیابیطس یعنی شوگر کے مریضوں کو خاص طور پر غذا کا خیال رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق شوگر پر کنٹرول کے لیے خوراک سے بہتر کوئی تدبیر نہیں۔ ماہرین اینڈوکرائینولوجسٹ کے مطابق ذیابیطس کے مریض کو ایسی غذا لینی چاہیے جس میں کاربوہائیڈریٹ اور کیلوریز کم ہوں لیکن وہ غذائیت سے بھرپور ہو۔ غذا کا درست تعین کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اپنی پسندیدہ چیزیں کھانا چھوڑ دی جائیں بلکہ کھانے کے نظام کو منظمکیاجائے۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ شوگر کے مریض کو پھل نہیں کھانے چاہئیں کیونکہ ان میں شکر ہوتی ہے۔ لیکن ہر پھل سے پرہیز نہ کیا جائے۔کچھ پھلوں جیسے آم، انگوراور کیلے میں شکر بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے یہ نہیں کھانے چاہئیں۔ پپیتا، سیب ، امرود، ناشپاتی اور کینو وغیرہ لیئے جاسکتے ہیں۔
ماہرین چند ایسی غذائیں تجویز کرتے ہیں جو ذیابیطس کے مریضوں کو ضرور استعمال کرنی چاہئیں۔

ہلدی


یوں تو ہلدی کے بے شمار طبی فوائد ہیں، ہلدی کا استعمال قدیم زمانے سے ہی کھانے پکانے اور گھریلُو ٹوٹکوں میں کیا جاتا رہا ہے۔ دنیا بھر کے طبی ماہرین زخموں کو مندمل کرنے کے لیے ہلدی کا ستعمال بہتر قرار دیتے ہیں، امریکی کیمیکل جرنل کے مطابق ہلدی میں اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی وائرل ، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ ماہرین اسے کینسر، ذیابطیس، ہائی کولسٹرول،جگر کے امراض، اعصابی بیماریوں،گٹھیا، موٹاپا ، السر اور دوسرے امراض کے لیے مفید مانتے ہیں۔ ہلدی کا مسلسل استعمال میوٹاجن کے مضر اثرات کو نمایاں طور پرکم کرتاہے۔
ہلدی شوگر کے مریضوں کے لیے مؤثر ہے۔ ہلدی کو بلڈ پریشر کا لیول متوازن رکھنے کے لیے ایک طاقتور غذائی اجزاء مانا جاتا ہے ۔ماہرین کے مطابق ہلدی کا استعمال شوگر لیول کو متوازن رکھتا ہے اور جسم سے کیلوریز تیزی سے کم کرتا ہے۔
ہلدی انسولین کو اعتدال میں رکھ کر خون میں گلوکوز کی سطح کو اعتدال میں رکھنے میں معاون ہوتی ہے۔ ہلدی میں ایک بہت اچھا اینٹی اوکسیڈنٹ اوراینٹی سیپٹک عنصر پایاجاتاہے جوذیابیطس سے ہونے والی پیچیدگیوں کو کم کرتا ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق ہلدی میں شامل جُز کرکیومن Curcumin بیٹا سیلز کی حفاظت کرتا ہے، بیٹا سیلز چونکہ انسولین پیدا کرتے ہیں ۔ لہذا جن لوگوں کو ذیابیطس ٹائپ ٹو ہوتی ہے ان کے لئے ہلدی مفید ہے۔
لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہلدی کو براہ راست کھایا جائے، کھانوں اور دیگر اشیائے خوردنی کے ساتھ ملا کر ہی ہلدی استعمال کرنی چاہئے۔ کئی ملکوں میں ہلدی اور ادرک کا قہوہ بنا کر پیا جاتا ہے جو اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی فلیمیٹری خصوصیات پیدا کرتا ہے۔ نزلہ زکام اور سردی سے پیدا ہونے والے دردوں میں بھی قہوہ مفید ہے، ذیابیطس کے مریض دن میں ایک بار یہ قہوہ بھی پی سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ گرم دُودھ میں ہلدی پاؤڈر مِلاکر پینا بھی ذیابیطس میں مفید بتایا جاتا ہے۔

چقندر


ہرے پتوں والی گہرے سرخ رنگ کی سبزی ‘‘چقندر ’’ کو خون کی کمی کے مریضوں کے لئے مفید بتایا جاتا ہے ۔یہ قوتِ مدافعت کو بھی بحال کرتا ہے۔ چقندر میں کاربوہائیڈریٹ کی کمی پائی جاتی ہے لیکن اس میں وٹامن، فائبر فائیٹو نیوٹرینٹ کی مقدار پائی جاتی ہے۔ چقندر سے لپوئک ایسیڈ بھی ملتا ہے جس کے باعث جسم میں زہریلے اور جراثیم اور فاسد مادے قدرتی طور پر جسم سے خارج ہوجاتے ہیں۔ چقندر اس میں گلائی کولک ایسڈglycolic acid کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ یوں اس میں موجود فائبر جسم کے زائد گلوکوز اور کولیسٹرول کو جسم سے خارج کر کے دل اور ذیابیطس کے مریضوں کے لئے آسانی کاباعث بنتا ہے۔

ٹماٹر


امریکی ماہرین غذا کی جاری کردہ جدید تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ٹماٹر ہمارے کھانوں کو ذائقہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری صحت کے لیے بھی نہایت فائدہ مند ہے۔ رپورٹ کی مطابق ٹماٹروں میں وٹامن اے ، سی ، پوٹیشیم اور فولاد کی وسیع مقدار موجود ہے جو بلند فشار خون ذیابیطس اور سرطان جیسی بیماریوں کے خلاف ڈھال ثابت ہوتے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کا استعمال دل کے لیے مفید ہے یہ ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض سے بچاتا ہے۔ ٹماٹر کا بطور سلاد استعمال دل کی صحت ، وزن میں کمی لانے کے لیے بھی معاون ہے۔ ٹماٹر میں کیلوریز کی کمی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ ذیابیطس کے لیے مفید ہے ۔ ٹماٹر میں موجود سوڈیم کی کم مقدار بلند فشارخون کو کنٹرول میں رکھتی ہے جب کہ اس میں پوٹاشیم کی مقدار خون کی بہتر انداز میں گردش کو درست رکھتی ہے۔ ذیابیطس کی ٹائپ ٹو میں مبتلا افراد اپنی خوراک میں ٹماٹر کا استعمال کرکے خون میں شامل شوگر لیول کو بہتر کر سکتے ہیں۔
ٹماٹر میں موجود فائبر، پوٹاشیم، وٹامن سی اور فیٹی ایسڈ دل کے امراض کو کنٹرول میں رکھتا ہے، روزانہ 3 ٹماٹروں کے استعمال سے انسانی جسم میں فولک ایسڈ کی بھاری مقدار جمع ہوجاتی ہے جس سے دل کے امراض میں مبتلا ہونے کے خطرات میں کافی حد تک کمی واقع ہوجاتی ہے۔ٹماٹر کے جوس میں نمک اور پسی ہوئی کالی مرچ ملا کر نہار منہ پئیں اس سے بھی شوگر کنٹرول میں رہے گی۔

کریلے


کریلے کا استعمال ذیابیطس کے مرض کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق کریلا میں انسولین سے مشابہت رکھنے والا مادہ پایا جاتا ہے جس سے خون میں شوگر کی مقدار کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ شنگھائی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل کی رپورٹ کے مطابق کریلے میں چار انتہائی بائیو ایکٹو اجزاء پائے جاتے ہیں جن کے نام ہیں Lectin، Charantin، Vicine اور Polypetide-p جو خون میں گلوکوز کی مقدار کو کم کرتے ہیں اور ٹائپ ٹو ذیابیطس پر قابو پانے کی افادیت رکھتے ہیں۔ کریلے کے یہ اجزاءAMPK (activated Protein Kinase) مادے کو متحرک کرتے ہوئے ان خلیوں کو تعمیر کرتے ہیں جو ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ماہرین شوگر کے مریضوں کو کریلے کا استعمال باقاعدگی سے کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ شوگر کے زیادہ مریض ناقص غذائیت سے پریشان ہو جاتے ہیں۔ کریلا چونکہ تمام ضروری معدنی اجزاء ، وٹامن اے، بی، سی اور آئرن کی غذائیت رکھتا ہے، اس کا باقاعدہ استعمال شوگر کے مریضوں کیلئے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ صبح ایک گلاس کریلے کا رس پینے سے شوگر لیول متوازن رہتا ہے۔کریلہ خون صاف کرتا ہے اور جسم کو جراثیم سے دور رکھتا ہے جب کہ ساتھ ہی کیلوریز بھی کم کرتا ہے ۔

جامن


جامن جگر، نظام ہاضمہ اور شوگر کے لیے بے حد موثر ہے ۔ اس میں شامل گلوکوسائڈ نشاستے کو گلوکوز میں تبدیل ہونے سے روکتا ہے۔ جامن ذیابیطس کنٹرول کرنے میں انتہائی مفید مانا جاتا ہے بیسویں صدی میں بہت عرصہ تک ایلوپیتھک طریقہ علاج میں بھی شوگر کنٹرول کرنے کےلئے جامن کا فلوئڈ ایکسٹریکٹ استعمال ہوتا رہا ہے۔ جامن کی بیج کا پاوڈربلڈ پریشر اور شوگرلیول کو متوازن کرتا ہے ۔جامن میں گلائسیمک انڈیکس کی کمی ہوتی ہے جس کی مدد سے شوگر کے مریض بار بار بھوک میں آسانی سے کھا سکتے ہیں۔جامن خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں بہت مدد کر سکتا ہے کیونکہ اس میں اینتھوکائینینanthocyanins، ایلیگک ایسڈellagic acid، وغیرہ شامل ہیں، یہی نہیں جامن کے درخت کے تمام حصوں (پتہ ، پھل اور بیج) کا استعمال شوگر یمیں مبتلا افراد کے علاج میں کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جامن کے پھل اور بیج اینٹی ہائپر گلیکیمک عناصر anti-hyperglycemic موجود ہیں جو کہ خون اور پیشاب شکر کی سطح کو تیز ی سے کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ذیابیطس کے مریضوں میں آم کا استعمال شوگر بڑھنے کا باعث بنتا ہے لیکن کبھی کبھار آم کھانے کے بعد جامن کھانے سے شوگر لیول کو اعتدال پر رکھا جا سکتا ہے نیز اس سے آم کی حدت بھی معتدل ہو جاتی ہے۔

آم کے پتے


خون میں گلوکوز کی سطح کنٹرول کرنے کے لئے ذیابیطس کی علاج میں آم کے پتوں کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ آم کے پتے خون کی لپڈ پروفائل بہتر بنانے میں بھی مدد کر تے ہیں۔ جسم میں کولیسٹرول اور مختلف قسم کے Lipoproteins اور چکنائی کی مقدار معلوم کرنے کیلئے خون کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اسے Lipid profile کا نام دیاجاتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے آم کے پتوں کا سفوف بنا کر آدھا چمچ روزانہ استعمال کیا جاسکتا ہے یا پھر آم کے پتوں کا قہوہ بھی پیا جاسکتا ہے۔ آم کے 10 سے 15 ملی میٹر پتوں کو کی چھوکر ایک گلاس پانی میں رات بھر کے لیے رکھ چھوڑ دیں، اور صبح نہار منہ یہ پانی پئیں ۔

امرود


امرود میں بھی جامن کی طرح گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔ امرود وافر مقدارمیں فائبر فراہم کرتا ہے۔ اس کی مدد سے قبض کی شکایت دور ہوجاتی ہے جو کہ عمومی طور پر شوگر کے مریضوں کو ہوتی ہے۔ فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے امرود ذیابیطس کو بڑھنے سے روکتا ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو ریگولیٹ کرتا ہے۔
امرود میں کئی قسم کے وٹامینز اور اینٹی آکسڈینٹس مل جاتے ہیں۔
امرود کے پتوں میں الفا گلوکو سائیڈیز alpha-glucosidase انزائم پایا جاتا ہے جو پینکریاز کو انسولین پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ امرود کے پتے دھو کر ایک گلاس تازہ پانی میں ڈال کر رات بھر کیلئے رکھ لیں اور صبح اٹھ کر خالی پیٹ وہ پانی پی لیں۔ اس عمل کو ایک مہینہ کریں ۔جاپان میں ذیابیطس کے علاج کے لیے امرود کے پتوں کا قہوہ بنا کر پیا جاتا ہے۔

کڑی پتی


شوگر روکنے اور کنٹرول کرنے کے لئے کڑی پتہ بھی خصوصی فوائد کا حامل ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں ذیابیطس کے مخالف خصوصیات ہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ کڑی پتیوں میں ایک اجزا ہوتا ہے جو کہ خون میں گلوکوز کی مقدار کو کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ روزانہ صبح صبح 10 تازہ پتیوں کو چبانا مفید ہے۔ بہتر نتیجہ حاصل کرنے کے لئے اس عمل کو تین سے چار مہینے تک جاری رکھیں ۔
کڑی پتہ نا صرف بلڈ شوگر لیول کو کم کرتا ہے بلکہ اس کے استعمال کے کچھ دن بعد تک بھی اس کو قابو میں رکھتا ہے۔ یہ آپ کے جسم میں انسولین کے عمل کو موثر بناکر بلڈ شوگر لیول کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ پتوں میں موجود فائبر خون میں موجودگلوکوزکو نارمل رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ کڑی پتہ ذیابیطس کو اعتدال میں رکھنے کا ایک بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔یہ ذیابیطس کے علاوہ موٹاپا اور ہائی کولیسٹرول بھی کم کرتا ہے۔

السی کے بیج (فلیکس سیڈ)


ماہرین صحت کاکہنا ہے کہ السی کے بیجوں میں فائبرکی وافر مقدار پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ السی کے بیجوں میں موجود فائبر ، الفا لائنولینک ایسڈ اور اومیگا فیٹی تھری کی وجہ سے یہ ذیابیطس کے لئے بہت مفید پائے گئے ہیں۔ایسے افراد جنہیں ذیابیطس کا خطرہ موجود رہے انہیں چاہیے کہ السی کے بیج باقاعدگی سے استعمال کریں۔ السی کے بیج خون میں کولیسٹرول اور شکر کو کم کرتے ہیں۔ ان کے استعمال سے دل کے دورے سمیت دیگر امراضِ قلب سے بھی بچا جاسکتا ہے۔ ماہرین صحت کے نزدیک السی کے بیجوں کا ناشتے میں دلیے کے ساتھ استعمال صحت پر بہترین نتائج مرتب کرتا ہے۔

ساج (سیج Sage )


ساج ایک عام جڑی بوٹی ہے جو پودینہ کے خاندان Lamiaceae کی نوع Salvia سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ پودینہ سے ملتی جلتی خوشبودار جڑی بوٹی ہے۔ اردو میں اسے مریم گلی ، سمندر سوکھ ، بہمن سرخ بھی کہتے ہیں ۔ ساج کے پتّوں کا جوشاندہ دوا کے طور پر مُستعمل ہے۔ یہ ایک خاص جڑی بوٹی ہے جو بدن میں انسولین جذب کرنے اور اس کی سرگرمی بڑھانے میں مدد دیتی ہے، یہ شوگر کے خطرے کو کم کرتی ہے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کو بھی قابو میں رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ جگر کے افعال کو منظم کرکے جسم کے امنیاتی نظام کو بڑھاتی ہے۔ جرمن میں ہونے والی تحقیق کے مطابق خالی پیٹ ساج کھانے سے خون میں گلوکوز کی سطح کم ہوتی ہے ۔ اسے چائے کے ساتھ بھی پیا جاسکتا ہے۔

میتھی


میتھی ایک خوشگوار پودا ہے، جس کا استعمال صرف باورچی خانے میں ہی نہیں بلکہ دواؤں کی تیاری میں بھی ہوتا ہے. اس کا استعمال شوگر کے علاج کے لیے بھی مفید ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سبزی شوگر اور گھٹیا میں بہت مفید ہے، میتھی کے تازہ پتے 10گرام پانی میں پیس کر نہار منہ استعمال کرنا ذیابیطس کے علاج میں انتہائی مفید پایا گیا ہے۔
میتھی کی بیجوں میں کافی مقدار میں فائبر ہوتاہے، جو خون میں شکر کی مقدار کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ میتھی کے چند بیج رات بھر پانی میں بھگو کر رکھیں اور صبح نہار منہ کھالیں۔ شوگرکے تناسب سے میتھی کے بیج کا استعمال 10 گرام سے 100گرام روزانہ تک بھی کیاجاسکتا ہے۔ میتھی کے بیج دال کی طرح یا کسی سبزی میں ملا کربھی استعمال ہوسکتے ہیں۔
شگر کا علاج کرنے کے لئے میتھی دانہ کا ایک نسخہ درج ذیل ہے ۔
میتھی دانہ 100 گرام، تیز پات – 100 گرام، جامن کی گٹھلی -150 گرام اور بیل گری کے پتے –
250 گرام ان سب اجزاء کو پیس کر ایک پاؤڈر بنا لیں۔ اب یہ پاؤڈر ایک سے ڈیڑھ چمچ صبح خالی پیٹ اور شام کو کھانا کھانے سے ایک گھنٹے پہلے گرم پانی کے ساتھ لیں ۔

لوبیا


فائبر سے بھرپور لوبیا پیٹ بھرا ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اس کا استعمال خون میں گلوکوز کو کم کرنے کے ساتھ کولیسٹرول کو بھی گھٹاتا ہے۔ لوبیا کو سلاد اور سوپ کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

گرین ٹی

گرین ٹی میں پولی فینول وافر مقدار میں موجود ہے جو جسم میں شکر کی پیداوار کو کنٹرول کرتا ہے۔

دارچینی: Cinnamon


دارچینی کا استعمال صدیوں سے کئی قسم کی بیماری کے علاج میں کیا جا رہا ہے جن میں سے ایک بیماری ذیابیطس بھی ہے۔
دارچینی کا سفوف انسولین کی سرگرمی کو بڑھاتا ہے۔ دارچینی میں بائیوایکٹیو اجزاء Bioactive Compounds امراض کی روکھ تھام میں مدد کرتے ہیں۔ دارچینی کے استعمال سے شوگر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ خالی پیٹ میں دار چینی کا سفوف نیم گرم پانی کے ساتھ کھانے سے میٹا بولزم کی رفتار تیز ہوتی ہے۔

آملہ


آملہ کا استعمال کئی امراض میں کیا جاتا ہے ، ماہرین کے مطابق آملہ ذیابیطس میں بھی فائدہ مند ہے۔ دو تین آملہ کے پھل لے کر ان کےبیج نکال لیں۔ اب آملہ کا پیسٹ بنا کر ایک ململ کے کپڑے میں لپیٹ لیں اور اس کا رس نچوڑتے رہیں۔ اس رس کا روزازنہ خالی پیٹ دو چمچ کا استعمال ذیابیطس کے لیے مفید ہے۔

بادام

صبح کے وقت بھیگے ہوئے بادام کھانے سے بھی شوگر کنٹرول میں مدد ملتی ہے۔

بھوسی والا اناج


بھوسی والا اناج بغیر بھوسی والے اناج سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اپنی غذا میں بھوسی والے آٹے کی روٹی اور دوسرے سیریلز شامل کریں۔

فائبر والی سبزیاں

اپنی غذا میں بروکولی ، پھلیاں ، پالک ، مٹر اور پتوں والی سبزیاں ضرور شامل کریں۔ فائبر کی وجہ سے پیٹ دیر تک بھرا محسوس ہوتا ہے اور خون میں شوگر لیول صحیح رہنے کے ساتھ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔

دالیں


شوگر کے مریضوں کی غذا میں دال ضرور شامل ہونی چاہیے کیونکہ دال میں موجود کاربوہائیڈریٹ دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والے کاربوہائیڈریٹ کی طرح خون پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ دالیں پروٹین کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔

ایلو ویرا


ایلو ویرا کا گودا یا جیل تیزی سے بڑھتی ہوئی خون کی شکر کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس میں فائٹوسٹرولس Phytosterols پایا جاتا ہے، جو قسم 2 کی ذیابیطس کے کے لیے پر اثر ہے۔ ایلو ویرا کا گودا، تیز پات اور ہلدی کا مرکب استعمال کرنے سے بلڈ شوگر کو آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
ایک چمچ ایلو ویراجیل، آدھا چمچ ہلدی، اور تیز پات کا ایک مرکب تیار کریں۔ یہ مرکب دن میں دو بار کھانے سے پہلے لیں۔ ایلو ویرا کا استعمال کسی بھی عمر کا کوئی بھی کر سکتا ہے۔ یہ آپ اپنے گھر میں گملے میں یا کھلی جگہ پر بڑی آسانی سے لگا سکتے ہیں۔

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے