کشورِ ظلمات ۔ قسط 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….

 

’’اندھیرا بھی روشنی ہے‘‘….
یہ حضرت قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے….
جس چیز کو ہم اندھیرا کہتے ہیں اُس میں بھی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا میں بھی زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ حرکت میں ہے…. ہم نے چونکہ اندھیرے کو خوف کی
علامت بنا دیا ہے، اس لئے اندھیرے میں روشن یہ دنیا ہم پر منکشف نہیں ہوتی…. لیکن ایسے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں جب کشورِ ظلمات کے مظاہر کے ادراک
کا احساس ہونے لگتا ہے…. سائنسی علوم کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں زندگی بیِشمار پیکر میں جلوہ گر ہوسکتی ہے…. سائنسی تحقیق کے مطابق
ایک زندگی وہ ہے جو ’’پروٹین اِن واٹر‘‘ کے فارمولے سے وجود میں آئی ہے۔ ہم انسان جو پروٹین اور پانی سے مرکب ہیں اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل
کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی مخلوق ’’پروٹین اِن ایمونیا‘‘ کے فارمولے پر تخلیق ہوئی ہو تو اُسے ایسی غذا کی ضرورت ہرگز نہ ہوگی جو انسان استعمال کرتے ہیں…. ممکن ہے وہ فضا
سے انرجی جذب کرکے اپنی زندگی برقرار رکھتی ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کے جسم میں نظام ہضم کے آلات مثلاً معدہ، جگر، گردے، آنتیں وغیرہ بھی موجود نہ ہوں!…. اُن
کے جسم کی ہیئت ہمارے تصور سے بالکل ماوریٰ ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کا جسم وزن سے بالکل آزاد ہو!…. وہ ہوا میں اُڑسکتی ہو!…. اتنی لطیف ہوکہ چشم زدن میں
ہماری نظروں سے غائب ہوجائے!…. وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہو!…. مابعد الحیاتیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسی مخلوق کا پایا جانا جانا
بعیدازامکان ہرگز نہیں ہے….
ظلمات کے معنی ہیں….تاریکی…. اور کشور کے معنی دیس یا وطن کے ہیں…. تاریکی کے دیس میں آباد ایک مخلوق سے متعارف کرانے والی یہ کہانی فرضی واقعات پر
مبنی ہے….  کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی….

 

 

(چھٹی قسط)

جس روز سے حرا کو قسطورہ کے بارے میں عمر نے تفصیل کے ساتھ بتایا تھا…. وہ مسلسل اُسے کہہ رہی تھی کہ آخر ماورائی مخلوق تمہیں ہی کیوں نظر آتی ہے…. اور تم اس مسئلہ کا حل کیوں نہیں نکالتے….کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی بڑی پریشانی میں مبتلا ہوجائو….
عمر نے آگیا بتیال کے واقعہ کا جان کر ذکر نہیں کیا تھا…. اس سے قبل عمر نے اس طرح نہیں سوچا تھا بلکہ وہ تو قسطورہ سے ملاقات کو ایک طرح سے اپنی روٹین میں شامل کرچکا تھا…. لیکن حرا اُس سے کہہ رہی تھی کہ یہ ایبنارملٹی ہے…. لہٰذا وہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ ایبنارملٹی ہی ہے….
لیکن اُس مجذوب فقیر کا ذومعنی جملہ بھی اُس کے ذہن میں گونجنے لگتا…. ’’ڈرنا مت…. ہمت مرداں مددِ خدا‘‘…. اگر یہ جملہ اُس سے متعلق نہیں تھا تو پھر اُس فقیر نے یہ کیوں کہا تھا ’’بچہ! تُو آگ سے کھیل رہا ہے‘‘…. کیا یہ جنات کے حوالے سے کوئی اشارہ تو نہیں تھا؟…. اس لئے کہ سب جانتے ہیں کہ نوعِ اجنّہ کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے…. اور وہ آج کل ایسی کوٹھی میں مقیم تھا جس کے بارے میں عام لوگوں میں مشہور تھا کہ یہاں جنات آباد ہیں…. اور اس بات کا اُس سے بڑا شاہد بھی کون ہوگا؟….
یقینا وہ مجذوب فقیر ہی میری درست رہنمائی کرسکتا ہے!…. لیکن اُس کو کہاں تلاش کیا جائے؟…. اُس کا کوئی ٹھکانہ تو ہے نہیں…. اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے…. دوسرے کئی روز سے عقابل خان بھی نظر نہیں آیا تھا…. نہ شام کو نہ ہی صبح کے وقت…. ورنہ وہ تو یہ سوچ رہا تھا کہ اب وہ عقابل سے صاف صاف بات کرے گا…. انہی فکرات میں غلطاں و پیچاں وہ حرا کے مجبور کرنے پر حرا کے مسٹری انکل کے گھر جاپہنچا….


مسٹری انکل نے اُس کی پوری روداد سُنی اور گہری سوچ میں ڈوب گئے….
وہ سوچنے لگا کہ اب یہ یقینا اُس کی ساری کیفیات اور مشاہدات کو دماغی خلل یا نفسیاتی عارضہ یا پھر نا آسودہ خواہشات کا ذہن پر حاوی ہوجانا قرار دینے کی کوشش کریں گے…. وہ اُن کے سامنے بیٹھا بے چینی سے ہاتھ مل رہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ آخر میں یہاں کیوں آگیا؟…. لیکن جب مسٹری انکل نے بولنا شروع کیا تو اُس کی بے چینی رفتہ رفتہ ختم ہوتی گئی….مسٹری انکل نے نہ تو اُس کی کیفیات کو مالیخولیا قرار دیا اور نہ ہی کوئی اور نفسیاتی عارضہ…. بلکہ اُنہوں نے کہا ’’بعض جگہیں، مکانات یا پھر علاقے ہمیں بظاہر ویران دکھائی دیتے ہیں…. لیکن درحقیقت ویران نہیں ہوتے بلکہ وہاں آبادیاں ہوتی ہیں…. مختلف جانداروں کی…. جن میں زندگی کی تمام قدریں موجود ہوتی ہیں…. بہت سے جاندار ہمیں نظر آتے ہیں اور بہت سے جاندار ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں…. بہت سی ایسی چیزیں جنہیں موجودہ سائنس نے دریافت کیا ہے وہ بھی تو ہماری ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتیں…. لیکن ہم اُنہیں اِسی طرح تسلیم کرنے پر مجبور ہیں…. جس طرح تم اور میں یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ تم میرے سامنے بیٹھے ہو اور میری گفتگو سُن رہے ہو‘‘…. یہ کہہ کر مسٹری انکل نے سگریٹ سلگایا اور اُس کا گہرا کش لے کر فضا میں دھواں چھوڑ دیا…. دھواں لہراتا ہوا بلندی کی طرف بڑھا اور کچھ اوپر جاکر غائب ہوگیا….

’’دیکھو یہ دھوئیں کی لکیر جو ہمیں نظر آئی…. اور پھر غائب ہوگئی…. ہمارے لئے ایک مثال ہے…. دھوئیں میں جلے ہوئے تمباکو کے مہین ذرّات جب تک ایک دوسرے کے قریب قریب تھے ہمیں نظر آتے رہے اور جب اُن میں فاصلہ بڑھتا گیا وہ ہماری نظروں سے معدوم ہوگئے!…. لیکن کیا وہ واقعی معدوم ہوگئے؟…. فنا ہوگئے؟…. ہرگز نہیں اُن کا وجود اسی فضا میں قائم ہے لیکن ہماری نظریں اُنہیں دیکھنے سے قاصر ہیں‘‘….۔


’’سر! کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ قسطورہ، عقابل خان اور آگیا بتیال کا واقعہ میری نظروں کا فتور نہیں ہے؟‘‘…. عمر نے سوال کیا
’’میرا سمجھنا یا نہ سمجھنا کچھ معنی نہیں رکھتا…. تم بتائو تم خود کیا سمجھتے ہو؟‘‘….
’’سر میں نے تو اپنی کھلی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا ہے اور دیکھتا ہوں…. میں اُسے کیسے جھٹلا سکتا ہوں؟‘‘…. عمر نے یقین کے ساتھ کہا
’’بس پھر بات ہی ختم ہوگئی‘‘…. مسٹری انکل مسکراتے ہوئے بولے
’’نہیں سر! بات تو یہیں سے شروع ہو رہی ہے…. مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں دنیا والوں کے نزدیک ایبنارمل ہوچکا ہوں‘‘….۔
’’میاں صاحبزادے! اس چکر میں خود کو کیوں ڈالتے ہو…. یہاں تو سب ہی ایبنارمل ہیں…. نارمل تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا…. اس لئے کہ اگر ہر ایک نارمل ہوگیا تو زندگی میں حرکت ختم ہوجائے گی…. اور یوں سب کچھ فنا ہوجائے گا…. زندگی میں حرکت اور دنیا میں ارتقاء کا عمل ہی اس لئے جاری ہے کہ لوگ اپنی ایبنارملٹی کو دور کرنے میں لگے ہوئے ہیں…. جو خود کو نارمل یعنی مکمل سمجھ لیتا ہے وہ ٹھہرجاتا…. اور تم جانتے ہو کہ پانی اگر کہیں ٹھہرجائے تو اُس میں سڑاند پیدا ہوجاتی ہے…. یہ بھی تو اللہ میاں ہی کا چلایا ہوا چکر ہے‘‘…. مسٹری انکل اُس کے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے بولے


’’سر آپ بڑی دلچسپ باتیں کرتے ہیں…. لیکن میرا مطلب تھا کہ اگر میرے ساتھ یہ سلسلہ چلتا رہا تو مجھ سے محبت کرنے والے بھی مجھ سے دور ہوسکتے ہیں‘‘….
’’یہ بات تم اُس جنّی…. کیا نام بتایا تھا تم نے اس کا؟‘‘….انکل نے مسکراتے ہوئے پوچھا
’’قسطورہ!‘‘….۔
’’ہاں…. قسطورہ…. اُس سے کیوں نہیں کہتے؟‘‘….۔
’’میں نے اُس سے یہ بات کی تھی…. اُس نے کہا تھا کہ میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوں…. اُس کا کہنا ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے…. پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ معاملہ صرف کوٹھی کی حد تک محدود ہے لیکن وہ مجھے گائوں میں بھی نظر آئی…. اور وہیں سے اس پریشانی کی ابتداء ہوئی‘‘….
’’کیسی پریشانی؟‘‘….۔ مسٹری انکل سے زیرِلب مسکراہٹ کے ساتھ کہا
’’دراصل بات یہ ہے کہ …. حرا اور میں…. ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور‘‘….
’’ہاں بولو…. رُک کیوں گئے‘‘…. عمر کو ہچکچاتے ہوئے دیکھ مسٹری انکل بولے ’’ویسے مجھے پوری بات معلوم ہے اور بیٹا حرا کی پریشانی اپنی جگہ درست ہے…. وہ ڈرتی ہے کہیں تم کسی پریشانی میں مبتلا نہ ہوجائو…. ظاہر ہے جب تم پریشان ہوگے تو لامحالہ حرا بھی سکون سے نہیں رہ سکے گی‘‘….
’’آپ کیا سمجھتے ہیں اس مسئلے کا حل کیا ہے؟‘‘…. عمر نے پوچھا
’’ایک آسان حل تو یہ ہے کہ تم اُس کو ٹھی کو چھوڑ دو…. اور فوری طور پر کسی دوسری جگہ پر شفٹ ہوجائو‘‘….
’’کیا اس طرح مسئلہ حل ہوجائے گا؟‘‘….
’’بھئی کم ازکم اتنا تو ہوگا کہ حرا کسی حد تک مطمئن ہوجائے گی‘‘…. مسٹری انکل بولے
یہ لوگ لان میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ بارش شروع ہوگئی…. اُنہیں برآمدے میں آنا پڑا…. مسٹری انکل نے پھول پھلواری خوب لگا رکھی تھی…. برآمدے میں بھی کئی قسم کے بیلیں لوہے کی جالیوں پر لگی ہوئی تھیں…. عمر کو برآمدے میں بٹھاکر مسٹری انکل کچن میں گئے اور ذرا سی دیر میں دو کپ قہوہ تیار کرکے لے آئے….
’’سر! آپ نے ناحق زحمت کی‘‘….عمر نے کپ تھامتے ہوئے کہا
’’اماں چھوڑو یار…. کیوں تکلفانہ جملے بول رہے ہو…. اور زحمت کاہے کی…. میرا دل قہوہ پینے کو چاہ رہا تھا…. بس ایک کپ ہی تو میں نے زیادہ تیار کیا…. تم نہ ہوتے تب بھی یہ کام میں ہی کرتا‘‘….برآمدے میں بیٹھ کر قہوے کا سپ لیتے ہوئے پودوں درختوں پر پڑنے والی بارش کی پھوار کو دیکھنا اُسے بچپن ہی سے بہت پُرلطف لگتا تھا…. آج یہ منظر دیکھ کر اُسے اپنے گائوں کا گھر یاد آگیا….
’’ہاں بھئی کیا سوچا تم نے‘‘….
’’جی!…. جی سر!…. آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں…. میں ایک دو روز میں کوئی بندوبست کرتا ہوں…. سر! آپ جنات پر یقین رکھتے ہیں؟‘‘….۔
’’بھئی! میرے یقین رکھنے یا نہ رکھنے سے حقیقت کی نفی تو ہو نہیں سکتی!‘‘…. مسٹری انکل نے اُسے گہری نظر سے دیکھتے ہوئے جواب دیا…. اتنے میں دروازے پر بیل ہوئی…. بارش رُک گئی تھی۔ مسٹری انکل نے دروازہ کھولا تو حرا کھڑی…. ’’آئو بھئی آئو…. تمہارا ہی انتظار تھا‘‘….
’’سوری انکل!…. بارش کی وجہ سے مجھے کچھ دیر ہوگئی‘‘…. حرا اندر آتے ہوئے بولی
’’سوری تو اپنے عمر صاحب سے کرو…. وہ تو تمہارے انتظار میں بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے‘‘…. مسٹر ی انکل نے مسکراتے ہوئے کہا….
حرا فوراً کچن میں چلی گئی کچھ دیر بعد واپس آئی تو اُس کے ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھی…. چائے کے ساتھ اُس نے کچھ پکوڑے اور فرنچ فرائیز بھی تیار کرلئے تھے….
’’انکل!…. آپ نے عمر سے ساری روداد تو سن لی ہوگی…. یہ بتائیے آپ نے اس سے پہلے کبھی اس قسم کا کوئی واقعہ سنا ہے…. کہ ایک جنّی کسی انسان پر عاشق ہوگئی ہو‘‘…. حرا چائے کپ میں نکالتے ہوئے بولی….
’’ایک واقعہ تھوڑی ہے…. اس طرح کے تو اَن گنت واقعات ہیں‘‘…. انکل نے جواب دیا
’’کیا آپ اس طرح کی باتوں پر Believe کرتے ہیں!…. کیا ایسا ہوسکتا ہے؟‘‘…. حرا نے پوچھا


’’یہی سوال عمر نے ابھی کچھ دیر پہلے مجھ سے کیا تھا…. اور میں تمہیں بھی یہی جواب دوں گا کہ میرے یقین کرنے یا نہ کرنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی‘‘…. انکل نے دو ٹوک بات کی
’’اصل میں ہمارا مطلب یہ ہے کہ جنات کے حوالے سے جو روایات مشہور ہیں اُن کا تعلق مذہبی عقائد سے ہے…. آپ بظاہر مذہبی آدمی نہیں لگتے…. اس لئے ہم نے یہ سوال کیا ہے‘‘…. عمر نے وضاحت کی
’’مذہبی آدمی نہیں لگتا…. مذہبی عقائد؟…. کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘….۔ انکل کچھ خفا سے ہوگئے…. پھر لمحے بھر میں اُن کے چہرے سے خفگی کے آثار ختم ہوگئے اور اُن کی مسکراہٹ لوٹ آئی ’’اچھا میں سمجھا…. میرا حلیہ مولویوں والانہیں ہے…. اس لئے تم یہ سوال بار بار مجھ سے پوچھ رہے ہو…. لُک مائی چلڈرنز!…. مذہب اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانے کا نام ہے…. اور ایمان لانے یا یقین کرنے کا تعلق طرزِفکر کے ساتھ …. سوچ کے ساتھ …. یا قلب کے ساتھ ہے…. ظاہری وضع قطع سے اس کو جوڑنا میرے نزدیک تو حماقت ہوگی‘‘….
’’آپ کہہ رہے تھے کہ جو معاملہ میرے ساتھ پیش آرہا ہے اس طرز کے اَن گنت واقعات ہیں…. کوئی ایک واقعہ ہمیں بھی سنائیے‘‘…. عمر نے کہا
’’ہاں…. ہاں کیوں نہیں‘‘….انکل آج موڈ میں تھے…. پہلے اُنہوں نے سگریٹ سلگائی اور پھر ایک گہرا کش لینے کے بعد بولنا شروع کیا ’’ایسے بہت سے واقعات میری یادداشت میں ہیں…. ایک واقعہ کا تعلق تو میری اپنی ذات سے ہے…. وہ میں پھر کبھی سنائوں گا…. پہلے میں تمہیں حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کا ایک واقعہ سناتا ہوں….
دلّی میں ا یک نواب صاحب ہوا کرتے تھے…. نواب سعادت یار خان!…. خدا نے جہاں دولتِ مال و منال سے نوازا تھا…. وہیں دولتِ حسن بھی انہیں بے بہا عطا ہوئی تھی…. دلّی کے رئیسوں میں مشہور و معروف تھے…. شہر کی حسین سے حسین تر عورتیں اُن کی ایک جھلک دیکھنے کی تمنا کیا کرتی تھیں…. جب وہ بگھی میں بیٹھ کر دریا کے کنارے سیر کو نکلتے تو راستے میں بالا خانوں کی کھڑکیوں کے پردوں میں سرسراہٹ شروع ہوجاتی…. اُن پردوں کے پیچھے سے لڑکیاں بالیاں اور شادی شدہ خواتین تک اُنہیں دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیا کرتیں….
یہ واقعہ جو میں بیان کرنے جارہا ہوں اُس وقت کا ہے جب نواب سعادت یار کی عمر کوئی اٹھارہ سال کے لگ بھگ ہوگی…. اُن کے والد بڑے نواب صاحب چند سال قبل انتقال کرگئے تھے…. جائیداد اور کاروبار کا انتظام نواب سعادت کی والدہ نے سنبھالاہوا تھا…. ایک روز نواب صاحب دریا کی سیر سے لوٹے تو طبیعت بہت مضمحل تھی…. سر میں شدید درد محسوس ہورہا تھا اور چکر بھی آرہے تھے…. چلتے چلتے لڑکھڑا کر گرنے لگتے…. جو دیکھتا یہی سمجھتا کہ نواب صاحب کی پارسائی کا ڈھونگ آخر کھل ہی گیا…. آج اس قدر پی لی ہے کہ قدم تک ڈگمگارہے ہیں…. اُن کی آنکھیں بھی چڑھی ہوئی تھیں….۔
اپنی حویلی پہنچے تو اپنے قدموں پر چلنا بھی محال ہوگیا…. دو تین خادموں نے اُٹھاکر نواب صاحب کو اُن کے کمرے تک پہنچایا…. اور نواب صاحب کی والدہ بیگم جہاں آراء کو ساری کیفیت جا سنائی…. بیگم صاحبہ سمجھیں کہ اُن کے صاحبزادے کو کسی کی نظر لگ گئی ہے…. اور اُنہوں نے نظر اُتارنے کے سارے ٹوٹکے ایک ایک کرکے آزما ڈالے….
لیکن رات گئے تک نواب صاحب کو ہوش نہیں آیا…. اب بیگم صاحبہ کو بھی شدید پریشانی لاحق ہوئی اور اُنہوں نے فوراً ایک خادم کو حکیم نعمت اللہ کے گھر دوڑایا جو اُن کے خاندانی حکیم تھے…. حکیم نعمت اللہ غضب کے نبّاض تھے…. صرف نبض پر ہاتھ رکھ کر مرض کے اسباب تک بتادیتے تھے….
لیکن حکیم صاحب کے ساتھ ایک مسئلہ یہ تھا کہ وہ وقت کے بے حد بے پابند تھے…. عشاء کی نماز کے بعد جو گجر بجتا تھا…. اُس وقت وہ سونے کے لئے لیٹ جاتے تھے‘‘….
’’انکل یہ گجرکیا چیز ہوتا تھا؟‘‘…. حرا نے درمیان میں سوال کیا
’’بھئی اُس زمانے میں گھڑی کا رواج عام نہیں تھا…. شاید کسی بڑے رئیس کے پاس ہو تو ہو…. یا جو ولایت سے آیا گیا ہو تو اُس کے پاس ہو…. تو بھئی اُس زمانے میں شہر میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے مخصوص وقت پر گھنٹے اور ڈھول بجائے جاتے تھے یا پھر توپ چھوڑی جاتی تھی…. یعنی توپ سے فائر کیا جاتا تھا…. تاکہ شہر کے افراد اپنے کام دھام اسی حساب کتاب سے انجام دیں…. ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا‘‘؟…. انکل نے سر کھجاتے ہوئے پوچھا….
’’سر آپ بتا رہے تھے کہ رات کو حکیم صاحب کو بلانے کے لئے خادم اُن کے گھر پہنچا‘‘…. عمر نے کہا
’’ہاں!…. تو بھئی حویلی کے خادم نے حکیم صاحب کے دروازے کو خوب بھڑبھڑایا…. بُہتیری آوازیں دیں…. لیکن حکیم صاحب سوتے رہے…. وہ نجانے کون سا چورن پھانک کر سوئے تھے کہ اڑوس پڑوس کے لوگ گھروں سے باہر نکل کر پوچھنے لگے کہ آخر کیا ماجرا ہے؟…. لیکن اُن پر کچھ اثر نہ ہوا….خیر رات اسی کیفیت میں گزری اور صبح صادق کے وقت تک نواب صاحب خود ہی ہوش میں آگئے….
صبح صبح حکیم صاحب بھی آن پہنچے…. فجر کی نماز کے بعد پڑوسیوں نے اُنہیں بتایا کہ حویلی کا خادم رات کو سخت پریشانی کے عالم میں آپ کا دروازہ بھڑبھڑ ا رہا تھا…. اور آپ ایسے انٹاغفیل تھے کہ اس شور شرابے سے نہ اُٹھ سکے…. جبکہ سارا محلّہ بیدار ہوگیا تھا…. اب حکیم صاحب فجر کی نماز کے بعد وظائف کی لمبی فہرست پوری کرنے کے بجائے سیدھے حویلی جاپہنچے….
حکیم صاحب نے نواب سعادت یار خان کی نبض دیکھی تو وہی بات کی جس کا اندیشہ جہاں آراء کو تھا یعنی نواب صاحب کو انتہائی ڈھیٹ نظر لگ گئی ہے…. حکیم صاحب نے بھی کچھ پڑھ کر پھونکا اور مقویٔ اعصاب دوا کے لئے کہہ دیا کہ خادم آکر اُن کے گھر سے لے جائے….۔
اگلے روز پھر نواب سعادت کی وہی کیفیت ہوئی…. پہلے نشہ سا چڑھا اور پھر مغرب تک بالکل بے ہوش ہوگئے…. پھر تویہ معمول ہی بن گیا…. حکیم صاحب کے سارے نسخے فیل ہوگئے…. اور بیگم جہاں آراء کے کوئی ٹوٹکے کارگر ثابت نہ ہوئے…. ویسے نواب صاحب بالکل صحت مند اور باشعور تھے…. لیکن بس سرِ شام اُن کی کیفیت تبدیل ہونے لگتی اور مغرب تک وہ ہوش و خرد سے بیگانے ہوجاتے…. حکیم صاحب حویلی کے خاندانی حکیم تھے اور بیگم صاحبہ نے خادموں کو سختی سے منع کردیا تھا کہ بات باہر نہ جائے….


نواب سعادت یار خان نے قرآن شریف حضرت شاہ عبدالعزیزؒ سے پڑھا تھا…. اور اُن کا معمول تھا کہ ہر جمعہ شاہ صاحبؒ کے درس میں بھی شریک ہوا کرتے…. بیگم جہاں آراء بھی شاہ صاحبؒ سے بے حد عقیدت رکھتی تھیں اور اکثر اُن کی خدمت میں حاضری دیا کرتی تھیں…. حضرت شاہ عبدالعزیز ؒ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے صاحبزادے تھے اور علومِ ظاہری و علومِ باطنی میں اپنے والد بزرگوار سے خوب فیض پایا تھا….
چند روز دیکھنے کے بعد بیگم جہاں آراء نواب سعادت کو لے کر شاہ عبدالعزیزؒ کی خدمت میں حاضر ہوئیں…. شاہ صاحبؒ پہلی نظر میں معاملہ سمجھ گئے…. لیکن اُنہوں نے کچھ ظاہر نہیں کیا….
نواب سعادت کو نظر ہی لگی تھی…. لیکن یہ نظر انسانوں میں سے کسی کی نہیں تھی…. بلکہ نوعِ جنات میں سے ایک جنیّ کی تھی…. وہ نواب صاحب پر دل و جان سے فدا ہوگئی تھی…. نواب صاحب کا شعور بہت کم زور تھا…. سیدھے سادھے نوجوان تھے…. اُن کی زندگی بھی بڑی آسان تھی…. اس لئے اُن کی ذہنی صلاحیتیں بیدار نہ ہوسکیں…. شاہ صاحبؒ نے بیگم جہاں آراء کو سمجھایا کہ اب آپ سعادت یار خان کو بچہ نہ سمجھیں بلکہ آپ زندگی کے گرم و سرد سے آشنا کرنے کے لئے آہستہ آہستہ کاروبار اُن کے سپرد کردیں…. اُن کی نگرانی ضرور سختی سے کریں لیکن آپ جب تک اُنہیں اُنگلی تھام کر چلاتی رہیں گی اُن کا ذہن ہمیشہ کے لئے اسی جگہ ٹھہر جائے گا….
دوسرے شاہ صاحبؒ نے نواب سعادت یار کو میٹھی اشیاء کے زیادہ استعمال کا مشورہ دیا…. اور یہ بھی کہا کہ ایک شہد کا مرتبان بھجوادیں میں اُس پر قرآنی آیات پڑھ کر دم کردوں گا….
شاہ صاحبؒ کی تشخیص یہ تھی کہ نواب سعادت کا اگر شعور مضبوط ہوجائے تو اس بلائے جان سے چھٹکارے کی تدبیر کی جائے ورنہ اس طرح نواب سعادت کے ذہن کو نقصان بھی پہنچ سکتا تھا…. پھرشاہ صاحبؒ کی ہدایت پر عمل شروع ہوگیا…. کاروبار اور جائیداد کی دیکھ بھال نواب سعادت کی سپرد کردی گئی…. منشی سارا حساب کتاب نواب صاحب کو پیش کرتے…. سارے معاملات کو بیگم جہاں آراء بھی چیک کیا کرتیں…. لیکن یہ دیکھ ریکھ نواب سعادت کی غیر موجودگی میں ہی ہوتی…. اُن کے سامنے نہیں…. تاکہ ہر اچھے بُرے کی ذمہ داری نواب سعادت خود محسوس کریں…. یہی شاہ صاحبؒ کی ہدایت تھی….
لیکن سرِشام مدہوشی کا سلسلہ بھی اُسی طرح برقرار رہا…. یوں دو ماہ گزر گئے…. تیسرے مہینے شاہ صاحبؒ نے نواب سعادت کو بلوا بھیجا…. جہاں آراء بھی ہمراہ گئیں…. شاہ صاحبؒ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ نواب سعادت کو دیکھ چکے تھے اور اُن کی کیفیت معلوم کی تھی…. اُس وقت تک دورانِ مدہوشی نواب سعادت یار کا ذہن کورا یعنی Blank ہوجاتا تھا….


شاہ صاحبؒ کے بتائے ہوئے پروگرام پر عمل کرتے چونکہ دو مہینے گزرچکے تھے اور نواب سعادت کے مزاج میں خاصی تبدیلی آرہی تھی…. اُنہیں آٹے دال کا بھائو معلوم ہو رہا تھا…. زمانے کے گرم و سرد کی فکرات نے اُن کے منجمد شعور پر خوب ضرب لگائی…. شاہ صاحبؒ کی توجہ بھی مسلسل تھی…. چنانچہ اب کے نواب سعادت نے بتایا کہ دو تین روز سے جب اُنہیں سرِشام چکر آنا شروع ہوتے ہیں اور سر میں ہلکا درد ہونے لگتا ہے…. ایک خوبصورت نوجوان حسینہ دکھائی دیتی ہے…. جو اُنہیں دیکھ کر مسلسل مسکراتی رہتی ہے….
شاہ صاحبؒ نے نواب سعادت کو ایک تعویذ دیا اور کہا کہ اسے بازو میں باندھ لیں…. اور آئندہ شام جب تمہیں وہ لڑکی نظر آئے…. تم اُس سے کہو کہ میرا پیچھا چھوڑ دو ہم دونوں کا میل ہونا ممکن نہیں…. تمہاری نوع الگ ہے اور میری نوع الگ….
شاہ صاحبؒ کا دیا ہوا تعویذ تو اُسی روز نواب سعادت کے بازو میں باندھ دیا گیا…. لیکن نواب سعادت چند روز تک شاہ صاحبؒ کی ہدایت پر عمل نہ کرسکے….

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

کشورِ ظلمات ۔ قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے