روحانی ڈائجسٹ / جہاں نما / پراسرار و حیرت انگیز / اُس کا ذہن راڈار کی مانند کام کرتا تھا۔۔۔

اُس کا ذہن راڈار کی مانند کام کرتا تھا۔۔۔

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..

 


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

1958ء میں پیٹر ہرکوس کو امریکہ لے جایا، گیا جہاں دماغی ماہرین کی ایک ٹیم نے اس کا معائنہ کیا۔ انہوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ وہ پیٹر ہرکوس کی ان عجیب و غریب خصوصیات کو دیکھ کر حیران ہیں جس کا ذہن راڈار کی مانند ہے۔پیٹر ہرکوکس کو خود معلوم نہیں کہ وہ کس طرح کسی معمے کو حل کر لیتا ہے…. 1988ءمیں پیٹرہرکوس کی موت کے بعد بھی سائنس اس کی صلاحیتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں….

 

پیٹر ہرکوس Peter Hurkos 

اُس کا ذہن راڈار کی مانندکام کرتا تھا ….؟ 

 

یہ 1950ء کا واقعہ ہے جب برطانیہ میں ایک بیش.قیمت ہیرا چوری ہو گیا۔ یہ کوئی معمولی ہیرا نہیں تھا . یہ برطانیہ کا تاریخی ہیرا تھا، جسے صدیوں قبل اسکاٹس بادشاہ پہنا کرتے تھے…. بعد میں یہ ہیرا برطانوی بادشاہ ایڈورڈ اوّل انگلینڈ لے آیا۔ 664 برسوں سے یہ برطانیہ کے تاریخی نوادرات میں شامل تھا اور لندن شہر میں ویسٹ منسٹر ایبے کی تاریخی عمارت میں ایک شاہی کرسی پر جڑا ہوا تھا۔یہ چوری کا ایک ایسا واقعہ تھا جسے عالمگیر شہرت حاصل ہو گئی تھی۔ اسکاٹ لینڈ پولیس کے لیے تو یہ ایک چیلنج کی حیثیت اختیارکر چکا تھا۔ موقع واردات سے صرف ایک ہتھیارCrowbar اور ایک دستی گھڑی ان کے ہاتھ لگی تھی جو چور بھاگتے وقت چھو ڑ گیا تھا۔
لیکن اسکاٹ لینڈ یارڈ کی سرتوڑ کوشش کے بعد بھی چور کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔


کچھ عرصے بعد ہالینڈ سے ڈچ قوم کےایک فرد پیٹر ہرکوس نے اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس سے رابطہ کیا کہ وہ اُن کی مدد کرسکتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے نمائندے پیٹر ہرکوس سے ڈارڈرچ میں ملے، تاکہ اس سلسلہ میں شرائط طے کی جاسکیں۔ شرائط طے ہونے کے بعد اس نے لندن کے لیے پرواز کی جہاں ائیرپورٹ پر پولیس حکام اس کے استقبال کے لیے موجود تھے۔حکام نے اسے ایک ہتھیار اور ایک کلائی کی گھڑی دی جو چور جاتے وقت چھوڑ گیا تھا۔
موقع واردات پر کاغذ کے چند ٹکڑوں کے معائنے کے بعد پیٹر ہرکوس نے اسکاٹ لینڈ یارڈ سے لندن شہر کا نقشہ مانگا، جو اُسے فوراً فراہم کردیا گیا۔ اُس نے نقشہ پر آہستہ آہستہ ایک لکیر کھینچی یہ لکیر، ہرکوس کے مطابق وہ راستہ تھا، جو چور نے لندن سے فرار ہوتے وقت اختیار کیا تھا۔ اگرچہ پیٹر ہرکوس نے اس سے پہلے لندن نہیں دیکھا تھا، تاہم اس نے اس نقشہ پر اسی راستے کے اردگرد مخصوص عمارتوں کی نشاندہی بھی کر دی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ چور ایک نہیں پانچ تھے، تین عمارت کے اندر تھے، دو باہر ٹرک لیے ان کا انتظار کررہے تھے اور ان میں ایک عورت بھی ہے۔ یہ ہیرا لےجاکر انہوں نے قدیم چرچ میں چھپایا ہے اور اب وہ چور گلاسکو شہر کی جانب فرار ہوگئے ہیں۔ بالآخر جب تین ماہ کی سر توڑ کوششوں کے بعد چور گرفتار ہوئے تو ان کے حلیے پیٹر ہرکوس کی تفصیلات کے عین مطابق تھے۔


پیٹر ہرکوس Peter Hurkos نہ تو جادوگر یا شعبدہ باز تھا اور نہ ہی اس کا تعلق کسی پولیس یا جاسوسی کے ادارے سے تھا۔ پیٹر ایک سادہ اور خاموش طبیعت کا نوجوان تھا، وہ 21 مئی 1911ء کو ہالینڈ کے شہر ہیگ کے قریب قصبہ ڈارڈرچ میں پیدا ہوا۔ اسے ایک ڈچ خاندان نے گود لے لیا اور اس کا پورا نام پیٹر فان ڈیرہرک رکھا۔ پیٹر کا باپ ایک مستری تھا جو گھروں کو پینٹ کرتا تھا اور ماں ایک گھریلو خاتون،۔
وہ ریڈیو انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا مگر معاشی پریشانیوں کے سبب اس نے تعلیم کو خیرباد کیا اور ایک بحری جہاز میں باورچی کا کام کرنے لگا۔ کچھ عرصہ بعد اسے شنگھائی کی بندرگاہ میں سامان کاحساب کتاب کرنے کی ملازمت مل گئی۔
جب شنگھائی کے ساتھ تجارتی معاہدے ختم ہوگئے تو وہ واپس انگلینڈ آگیا اور شادی کے بعد ہالینڈ میں اپنے باپ کے ساتھ مستری کا کام کرنے لگا۔
جون1941ء کا ایک کُہرآلود دن تھا، جب وہ اپنے باپ کے ساتھ ہیگ شہر کی چار منزلہ فیکٹری پر رنگوروغن کرنے گیا۔ اس نے اپنے باپ کو نچلی منزل کو پینٹ کرنے کے لیے کہا اور خود سیڑھی لے کر اوپری منزل کی کھڑکیوں پر پینٹ کرنے چلا گیا۔ وقت بچانے کے لیے اس نے دو کھڑکیوں کے درمیان سیڑھی لگالی تھی، تاکہ وہ ایک ساتھ دونوں کھڑکیوں کو پینٹ کرسکے۔ لیکن اس طرح پینٹ کرتے ہوئے وہ اپنا توازن کھو بیٹھا اور اس کا پیر پھسل گیا۔ وہ دھڑام سے نیچے آ گرا اور بے ہو ش ہو گیا۔ اس کی کھوپڑی میں فریکچر ہو گیا تھا ۔
ہسپتال میں اسے ہوش آیاتو وہ بے شعوری کی حالت میں تھا۔ اُسے اپنا اور اور اپنے خاندان تک کا نام یاد نہیں آرہاتھا۔ چار دن اسی حالت میں رہنے کے بعد جب اس کی یادداشت کچھ بہتر ہوئی تو اس کی دنیا بدل چکی تھی۔
اب اس کے اندر ایک نئی صلاحیت بیدار ہو چکی تھی۔ ہر کوس چیزوں کو چھُوکر ان سے متعلقہ واقعات اور شخصیات کے بارے میں جان لیتا تھا۔
ایک نرس نے اس کی نبض دیکھنے کے لیے کلائی تھامی، تو اس نے اس نرس سے کہا کہ وہ احتیاط کرے ورنہ اس کی دوست کا سوٹ کیس گم جائے گا۔ تب نرس کو یاد آیا کہ وہ ہسپتال آتے ہوئے اپنی دوست کا سوٹ کیس ریل گاڑی میں بھول آئی ہے۔
ہسپتال سے فارغ ہو کر ایک مریض گھر جانے والا تھا۔ اس نے جاتے ہوئے ہر کوس سے الوداعی طور پر ہاتھ ملایا اور ہر کوس نے جان لیا کہ یہ شخص برطانوی جاسوس ہے، جو نازیوں کے خلاف تحریک میں کام کرتاہے۔ یہ جونہی ہسپتال سے نکلے گا تو باہر ایک نازی جاسوس کے ہاتھوں قتل کردیا جائے گا۔
ہرکوس نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانا اور باہر چلا گیا اورویسا ہی ہوا، وہ مارا گیا۔
ہر کوس کی اس پیش گوئی کے بارے میں ہسپتال میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں، مقتول جس نازی مزاحمتی تحریک کا رُکن تھا، جب ان لوگوں کواس بات کا پتہ چلا تو انہیں شک گزرا کہ ہر کوس نازیوں کا ایجنٹ نہ ہو۔ چنانچہ ایک رکن کو بھیجا گیا کہ ہر کوس کو قتل کر دیا جائے، ہرکوس نے بڑی مشکل سے اپنی جان بچائی۔
ہر کوس ہسپتال سے فارغ ہو ا تو اپنے پرانے کام کا اہل نہیں رہا تھا ۔ اس کے لیے بڑی توجہ کی ضرورت ہوتی تھی، جو ہر کوس کے بس کی بات نہیں رہی تھی۔ چنانچہ نازی مزاحمتی تحریک کے کارکنوں نے خفیہ طور پر اس سے اپنی تحریک کے لیے کام لینا شروع کیے۔ جنگِ عظیم کے دوران چند ڈچ محبّ وطن افرادکو اپنے ایک نئے ممبر کے متعلق شک گزرا کہ یہ نازیوں کا جاسوس ہے۔ وہ اس کی تصویر لےکر ایک روز ہرکوس سے ملنے آئے۔ ہر کوس نے آنکھیں بند کرکے تصویر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ مجھے یہ شخص جرمن افسر کی وردی پہنے نظر آرہا ہے۔ ڈچ کارکن محتاط ہوگئے اور کافی عرصہ نگرانی کے بعد اسے جرمنی کو جنگی معلومات فراہم کرتے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔
اگست 1951ء میں ہالینڈ کے ایک شہر نجمی گن کے کسی مضافاتی علاقے میں کوئی نامعلوم شخص آگ لگا کر لوگوں کو پریشان کرتا تھا۔ دو سو سے زائد سپاہی اس علاقے میں گشت پر معمور کیے گئے تھے۔ لیکن اس کے باوجود جھونپڑیوں، مکانوں اور پلوں کو آگ لگانے کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ ان وارداتوں کے شروع ہونے کے بعد ایک رات پیٹر ہرکوس نجمی گن میں ایک دوست کے ساتھ گھوم رہا تھا کہ اچانک وہ ٹھہر گیا۔اس نے اپنے دوست کو بتایا کہ جلد ہی جانسن کے کھیتوں میں آگ لگائی جانے والی ہے۔ پھر وہ اپنے دوست کے ساتھ پولیس کو آگاہ کرنے کے لیے دوڑا۔لیکن وہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ وہاں آگ لگ چکی ہے اور اس آگ کی اطلاع ابھی دو منٹ پہلے چوکی کو ملی ہے۔ چوکی پولیس جو پیٹر ہرکوس کی خصوصیات کے متعلق لاعلم تھے، اس کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آ رہے تھے۔


پیٹر ہرکوس نے اصرار کے ساتھ یہ پیش کش کی کہ اسے اگر ایک موقع دیا جائے تو وہ اس پر اسرار آگ کے بارے میں پولیس کی مدد کر سکتا ہے۔
اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور پولیس آفیسر کی جیب میں موجود اشیاء کی تفصیل بتا دی، حتّٰی کہ ہرکوس نے پولیس آفیسر کی جیب میں موجود پنسل کے اوپر تحریر کمپنی کا نام اور تجارتی نشان بھی بتا دیا۔ چنانچہ پیٹر ہرکوکس کی درخواست منظور کر لی گئی۔
سب سے پہلے پیٹر ہرکوس نے درخواست کی کہ پولیس اسے وہ جگہ دکھائے، جہاں اس سے پہلے آگ لگ چکی ہے۔ اس مقام پر راکھ ٹٹولنے کے بعد اسے ایک جلا ہوا پیچ کس ملا۔ ہرکوس نے چند لمحوں کے لیے اسے خاموشی سے ٹٹولا اور کہا، ہمیں ایک نوجوان طالبِ علم کی تلاش کرنی چاہیے۔ چنانچہ اسے اسکولوں کی ائیر بک میں موجود طلبہ کی تصویریں دکھائی گئیں۔ آخر کار پیٹر ہرکوس نے گروپ فوٹو میں موجود ایک لڑکے کی نشاندہی کر دی۔
لڑکے کے متعلق پیٹر ہرکوس نے پولیس آفیسر کو مزید بتایا کہ اس کی عمر سترہ سال ہے اور یہ شہر کے ایک امیر کبیر آدمی کا بیٹا ہے۔
‘‘یہ بڑا مضحکہ خیز انکشاف ہے….’’ پولیس آفیسر بڑبڑایا۔ لیکن پیٹر ہرکوس بدستور کہتا رہا۔
‘‘اس لڑکے کی ایک جیب میں تمہیں ماچس ملے گی اور دوسری میں لائیٹر میں جلنے والا مادہ۔ لیکن یہ لڑکا سگریٹ بالکل نہیں پیتا۔’’
جب اس لڑکے کو پکڑ کرپولیس اسٹیشن لایا گیا تو اس نے اقبالِ جرم کرنے سے انکار کر دیا۔
اس پر پیٹر ہرکوس نے کہا کہ ‘‘اپنی ٹانگ اوپر اٹھاؤ اور پولیس کو وہ زخم دکھاؤ جو بھاگتے وقت تمہیں خار دار تاروں کی باڑ کو پھلانگتے وقت لگا تھا۔’’
یہ زخم ٹھیک اسی جگہ موجود تھا۔ چنانچہ لڑکے نے تمام الزامات تسلیم کر لیے۔
اس حیرت انگیز تفتیش نے بڑی شہرت اختیار کر لی مگر پیٹر ہرکوس کے لیے تو یہ ایک معمول کی بات تھی۔ اس کے بعد پیٹر ہرکوس کی صلاحیتوں سے پولیس نے بھی استفادہ کرنا شروع کر دیا ۔
ایک شخص کو اس کے مکان کی دہلیز پر کوئی قتل کر گیا تھا ۔ ہر کوس کو بلایا گیا، اس نے مقتول کا کوٹ پکڑ کر بتانا شروع کر دیا کہ قاتل ایک بوڑھا آدمی ہے جس نے چشمہ لگا رکھا ہے۔اس کی مونچھیں بھی ہیں مزید برآں وہ مصنوعی ٹانگوں کے سہارے چلتا ہے۔اس آدمی نے آلہ ٔقتل مقتول کے مکان کی کی چھت میں چھپا رکھا ہے۔
پولیس نے وہ بندوق تو اسی وقت برآمد کر لی۔ جس سے مقتول پر گولی چلائی گئی تھی اور اس بندوق پر سے قاتل کی انگلیوں کے نشانات بھی مل گئے۔ یہ نشانات مقتول کے خُسر کے تھے، جس کی مونچھیں بھی تھیں اور وہ عینک بھی لگاتا تھا۔مزید برآں وہ بیساکھیوں کو بھی استعمال کرتا تھا۔ اس کا حلیہ عین وہی تھا جو پیٹر ہر کو س نے بیان کیا تھا۔ اس کے بعد تو پیٹر ہرکوس کی شہرت بیرون ملک بھی پھیلتی چلی گئی۔ پیٹر ہرکوس سے یورپ کے کئی ممالک کی پولیس نے رابطہ کیا۔
اس نےتقریباً 17 ملکوں میں جاکر قتل، اغوا اور چوری کے درجنوں کیسز کی گتھیاں سلجھا کر پولیس کو حیرت زدہ کر دیا۔
1958ء میں پیٹر ہرکوس کو امریکہ لے جایا گیا، جہاں دماغی ماہرین کی ایک ٹیم نے اس کا معائنہ کیا۔ انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ وہ پیٹر ہرکوس کی ان عجیب و غریب خصوصیات کو دیکھ کر حیران ہیں، جس کا ذہن راڈار کی مانند ہے۔ پیٹر ہرکوس کو خود معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ وہ کس طرح کسی معمے کو حل کر لیتا ہے….!
1988ءمیں پیٹرہرکوس کی موت کے بعد بھی سائنس دان اس کی صلاحیتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں….


بعض سائنسدان اور ماہرین نفسیات پیٹر ہرکوس کی صلاحیت کو چھٹی حس یا ماورائے حواس ادراک یعنی Extra Sensory Perception (ESP)قرار دیتے ہیں۔ یعنی وہ حس جو حواس ِ خمسہ سے ماورا ہوتی ہے۔
چھٹی حس کے بیدار ہونے کو ماہرین نفسیات اس کی تقدیر سے بھی منسوب کرتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ چھٹی حس ایک روحانی طاقت ہوتی ہے۔ یہ قدرت کا ایک ایسا عطیہ ہے جو ہر شخص کے پاس ہوتی ہے لیکن ہر شخص اس طاقت سے باخبر نہیں ہوتا۔ یہ اس وقت ہی جاگتی ہے کہ جب اس شخص کا واسطہ کسی ایسی صورتحال سے پڑنے لگتاہے جو اس کے ساتھ رونما نہیں ہونی ہوتی ۔
ماہرین نفسیات چھٹی حس کو سائنسی بنیادوں پر ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ اس حس سے حاصل ہونے والی معلومات کو ایسا ہی قراردیتے ہیں جیسے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے دنیا کے کونے کونے میں معلومات پہنچائی جاتی ہے۔
جس طرح تصاویر آواز کی لہروں کی صورت میں سفر کرتی ہوئی میلوں دور پہنچ سکتی ہے، اسی طرح ماورائےحواس ادراک کی قوت بھی انسان کو آنے والے واقعات اور لوگوں کے حوالے سے آگاہ کر دیتی ہے۔

 

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

کشورِ ظلمات ۔ قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے