یوگا – 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

 یوگا کا تعلق زمانہ قدیم کے مشرق سے ہے ، جہاں یوگا کو ایک عبادت  جیسا درجہ حاصل تھا،    مگر  گزشتہ  برسوں میں ہونے والی سائنسی  تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ   جسمانی اور نفسیاتی ورزش کا یہ طریقہ انسانی صحت پر خوشگوار اثرات  مرتب کرتاہے، یوگا سے انسانی جسم کا پورا میٹا بولزم متحرک ہوجاتا ہے اور بیماریوں کے خلاف دفاع کرنے والا نظام مضبوط ہوجاتا ہے۔ دنیا بھر میں وزن کی کمی سے لے کر بلڈ پریشر، سانس کی تکلیف، ڈپریشن، مختلف جوڑوں کے دردوں اور کھچاؤ کی کیفیتوں سے نجات کے لیے یوگا کی مشقوں کی افادیت   تسلیم کی گئی ہے۔ اپنی انہی  خصوصیات کی بنا پر دنیا بھر میں یوگا کی مقبولیت میں اضافہ ہورہاہے۔

دوسری قسط

سانس کا اُتار چڑھاؤ

یوگا میں سانس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ماہرین یوگا کا کہنا ہے کہ ‘‘سانس سب لیتے ہیں اسی پر زندگی کا انحصار ہے۔ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اکثر لوگ آدھا سانس لیتے ہیں۔
جو ہماری اکثر بیماریوں کا سبب ہے۔ یوگا کا گہرا سانس، آپ کو نئی توانائی سے ہمکنار کردے گا۔’’
یوگا جسم میں توانائی پیدا کرتا ہے اور سانس کا کمال یہ ہے کہ یہ مختلف راستوں سے آکسیجن اور توانائی کو پورے جسم کے نیٹ.ورک میں پھیلا دیتا ہے۔ ایک مشہور یوگی کا کہنا ہے
‘‘ایک خاص مشق میں یوگا کی ورزش کے ذریعے لیا گیا سانس خلیوں کو زیادہ آکسیجن فراہم کرکے جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط اور مستحکم بناتا ہے، سرخ خلیوں کی تعداد بڑھتی ہے جس سے چہرے اور آنکھوں میں نئی زندگی اور چمک دمک نظر آنے لگتی ہے، شخصیت میں کشش پیدا ہوتی ہے، ذہن میں ارتکاز کی قوت پیدا ہوتی ہے، ہاضمے کا نظام بہتر ہوتا ہے….’’
ماہرین کا کہنا ہے جس شخص نے سانس پر کنٹرول کرلیا، گویا اس نے اپنے خیالات کو کنٹرول کرلیا۔ سانس لینے کا عمل ہماری زندگی میں کتنی اہمیت رکھتا ہے اس کا اندازہ آپ ایک سادہ سی مثال سے لگالیں کہ پانی اور روٹی کے بغیر آپ کئی روز تک زندہ رہ سکتے ہیں، لیکن سانس لیے بغیر آپ چند منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔ سانس زندگی کی بنیاد ہے۔ تمام جسمانی نظام، اعصاب کی کارکردگی، خون کی گردش، عمل انہضام، فالتو زہریلے مادوں کا اخراج اور دیگر عوامل کا انحصار سانس لینے پر ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر سانس لینے کا طریقہ غلط ہو تو تمام ذہنی اور جسمانی نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔ ہم سانس لینے کے ذریعے صرف آکسیجن ہی اندر نہیں لیتے، بلکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی خارج کرتے ہیں، اگر سانس کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ پوری طرح خارج نہ ہو تو یہ پھیپھڑوں میں جمع ہو کر مختلف جرثوموں کی پرورش کا سبب بنتی ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ اندر جمع ہو کر ان سرخ خلیوں کو بھی کمزور کردیتی ہے جو بیماری کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔ سانس کے ذریعے آکسیجن کے حصول اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے ہی سانس کی افادیت کا اندازہ کرسکتے ہیں۔
دور حاضر کی مصروفیات اور ذہنی پریشانیوں کی وجہ سے تقریباً ہر شخص کا سانس لینے کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ ہمیں جتنا گہرا سانس لینا چاہیے ہم اتنا نہیں لیتے اور میرا خیال ہے کہ آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں، جو پورا اور گہرا سانس نہیں لیتے۔ آپ معمول کا سانس لے رہے ہیں۔ اب ذرا گہرا سانس لے کر دیکھیں۔
آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ جتنا گہرا سانس لے سکتے ہیں اس کا آدھا، یا ایک چوتھائی بھی نہیں لے رہے۔ یعنی آپ کے پھیپھڑوں میں جتنی گنجائش ہے آپ اس سے کہیں کم استعمال کر رہے ہیں نتیجہ یہ کہ آپ کے جسم میں آکسیجن کی کمی واقع ہورہی ہے۔ جس پر تمام.تر صحت اور تندرستی کا انحصار ہے۔
جسم کے باریک ترین خلیوں کی خوراک آکسیجن ہے۔ یہ آکسیجن، کم گہرے سانس کی بدولت ان خلیوں تک نہیں پہنچتی جس کے سبب جسم کا مدافعتی نظام جو صحت مند خلیوں پر مشتمل ‘‘سرخ خون’’ سے عبارت ہے کمزور ہوجاتا ہے۔ یہ عمل برسہا برس تک جاری رہتا ہے اور انسان کو اس کا علم تک نہیں ہوتا۔ زندگی کی مصروفیات میں کسے خیال رہتا ہے کہ وہ گہرا سانس لے رہا ہے یا نہیں۔ خلیوں کو بھرپور آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر قسم کی بیماری اس پر جلدی قابو پالیتی ہے اور ذہنی طور پر ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ قوت ارادی کمزور پڑ جاتی ہے۔ جینے کی امنگ ختم ہوجاتی ہے۔ آخرکار وہ ڈاکٹروں اور اسپیشلسٹوں سے رجوع کرتا ہے۔ وہ اندھا دھند خواب آور اینٹی بائیوٹکس ادویات کا استعمال کرکے جسم کے مدافعتی نظام کو مزید تباہ کر ڈالتے ہیں۔
سانس کی خصوصیات کے بارے میں امریکہ اور یورپ میں جو ریسرچ ہو رہی ہے اس سے اب معلوم ہوا ہے کہ خون میں موجود خلیوں میں قدرت نے از خود شفایابی کا عنصر رکھ دیا ہے۔ جب بھی باہر سے بیماری کا کوئی جرثومہ حملہ آور ہوتا ہے، خلیوں کے درجہ حرارت اور کثافت میں ازخود تبدیلی عمل میں آتی ہے۔ جو حملہ آوروں کو ختم کردیتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خلیوں کا یہ فطری عمل، جو بیماریوں کے خلاف جنگ کرنے میں مدد دیتا ہے، سانس کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ہی ترتیب پاتا ہے۔ یوں سمجھیے آپ کے سانس کی بدولت ہی دشمن کے خلاف خلیوں کی صفیں ترتیب پاتی ہیں۔ سانس کا اتار چڑھاؤ بعض پراسرار کیمیاوی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے جو خلیوں میں قوت مدافعت پیدا کرکے انسان کو امراض سے نجات دلاتا ہے۔
کئی ماہرین صحت اب سانس کے ذریعے مختلف امراض کا علاج کر رہے ہیں، اور یوں ایک نئی سائینس وجود میں آرہی ہے۔
سانس کی اہمیت جاننے اور سمجھنے کے بعد اب دیکھیے کہ جب آپ یوگا کی ورزشوں میں گہرا سانس لیتے ہیں تو ایک ریلا آپ کی نس نس میں خلیوں کو آکسیجن سے سیراب کردیتا ہے۔


مخصوص مشقوں کے ذریعے سانس لینے کا فطری نظام درست ہوجاتا ہے۔
یوگا کے ماہرین اگر یہ کہتے ہیں کہ دور حاضر میں ہم صحیح طریقے پر سانس لینا بھول گئے ہیں، یا کئی جسمانی رکاوٹوں کے باعث ہم صحیح سانس نہیں لے سکتے تو وہ غلطی پر نہیں۔ آپ کہیں گے کہ سانس تو ہم سب لیتے ہیں، تبھی زندہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خوراک کی بے اعتدالیوں اور سہل انگاری کے سبب ہمارا معدہ اور پردہ شکم سخت ہوچکا ہے اور یہ ہر سانس میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔ پسلیوں کا ڈھانچہ بھی سخت ہوگیا ہے۔ پردہ شکن بھی گیس کے باعث اکڑ جاتا ہے۔ دوسرے متعلقہ پٹھے بھی تشنج کی کیفیت میں ہوتے ہیں…. ان حالات میں آپ عام زندگی میں بھی گہرا سانس لینے کے قابل ہی نہیں رہتے اور پھر رفتہ رفتہ اتھلا سانس لینا ہماری عادت میں شامل ہوجاتا ہے۔
یوگا میں سب سے پہلے تو ان تمام پٹھوں اور عضلات کو سکون اور آرام پہنچایا جاتا ہے۔ جس کے بعد انسان نارمل سانس لینے کے قابل ہوجاتا ہے۔
یوگا کی ورزشوں کے بعد آپ کو خودبخود اس بات کا احساس ہوگا کہ عام زندگی میں بھی آپ لاشعوری طور پر گہرا سانس لینے لگے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اب زیادہ آکسیجن آپ کے خلیوں کو فراہم ہونے لگتی ہے….

عام طور پر انسان تین طریقوں سے سانس لیتا ہے۔

1  – پسلیوں کے ذریعے 

اس میں سانس لیتے وقت سینے اور پسلیوں میں حرکت ہوتی ہے۔ سینہ باہر کو نکل آتا ہے۔ اس طریقے پر سانس لینے سے صرف پھیپھڑوں کا وسطی حصہ آکسیجن سے بھرتا ہے۔ اس طرح سانس لینے میں چونکہ زیادہ زور نہیں لگانا پڑتا، اس لیے لوگوں کی اکثریت یہ سطحی سانسلیتی ہے۔

2  – پردہ شکم کے ذریعے 

پردہ شکم (سینے اور پیٹ کے درمیان پٹھوں کی ایک دیوار)  کی وجہ سے انسان زیادہ گہرا سانس لیتا ہے۔ اس طرح پردہ شکم سکڑتا اور پھیلتا ہے۔ پردہ شکم مضبوط پٹھ یا ریشہ ہوتا ہے جو دیوار کی طرح ان دو حصوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے، جن میں سے ایک دل اور پھیپھڑے ہوتے ہیں اور دوسرے میں معدہ اور جگر۔ جہاں عمل انہضام اور فضلہ بننے کا عمل ہوتا ہے۔ جب آپ گہرا سانس لیتے ہیں تو پردہ شکم سکڑ کر چپٹا ہوجاتا ہے یہ نیچے کی طرف دباؤ ڈالتا ہے جس سے پیٹ کے ریشے قدرے پھیل جاتے ہیں۔ اس پوزیشن میں پھیپھڑے بھی پھیل جاتے ہیں اور ان میں ہوا چلی جاتی ہے۔ سانس خارج کرتے وقت پردہ شکم اپنی گنبد نما شکل میں واپس آجاتا ہے۔ جس سے پھیپھڑوں میں موجود گندی ہوا خارجہوجاتی ہے۔ سانس لینے کا یہ طریقہ فطری اور فائدہ مند ہے۔ کیونکہ پھیپھڑے مکمل طور پر ہوا سے بھر جاتے ہیں اور جسم کو مناسب مقدار میں آکسیجن مل جاتی ہے۔کاربن ڈائی آکسائیڈ اگر پھیپھڑوں میں رہے تو تھکاوٹ، اعصابی کشیدگی اور دیگر بے شمار بیماریاں پیداہوتی ہیں۔

3  – ہنسلی کی ہڈی کے ذریعے 

اس طرح انسان صرف ہنسلی کی ہڈی اور کندھوں کے زور سے ہوا پھیپھڑوں میں داخل کرتا ہے۔ جس سے پھیپھڑوں کے صرف بالائی حصے کو ہوا ملتی ہے۔ یہ طریقہ ناقص ہے اور عام طور پر خواتین اس طرح سانسلیتی ہیں۔
غرض سانس پورے جسم کے حیاتیاتی ڈھانچہ Biological Structure کو نئی قوت اور توانائی سے ہمکنار کرتا ہے۔درج ذیل طریقے سانس لینے میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے فرش، قالین، چٹائی یا دری پر کمر کے بل لیٹ جائیں اور آنکھیں بند کرلیں۔ اپنے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھیں تاکہ پٹھوں میں تحریک کا اندازہ ہوسکے۔ سانس خارج کرکے پھیپھڑوں کو بالکل خالی کردیں۔ اب ناک کے ذریعے آہستہ آہستہ اور گہرا سانس لیجئے۔ اس عمل میں کوئی جھٹکا نہیں لگنا چاہئے۔ اپنے سینے، پیٹ اور پھر پھیپھڑوں کو ہوا سے بھر لیجئے اور پسلیوں کو آہستہ آہستہ پھیلائیں اس عمل میں بھی زور نہیں دینا چاہئے۔ اب ہنسلی کی ہڈیوں کو ابھارتے ہوئے پھیپھڑوں میں مزید گنجائش پیدا کیجئے۔اس پورے عمل میں سانس ایک مسلسل عمل کے ساتھ اندر داخل ہونا چاہئے اور تمام تر توجہ سانس لینے پر مرکوز رکھنا ضروری ہے۔ جب پھیپھڑے پوری طرح ہوا سے پرُ ہوجائیں تو پھر ناک ہی کے ذریعے اسی طرح آہستگی اور نہایت خاموشی سے خارج کردیجئے۔ سانس اس طرح خارج نہ کریں جس طرح غبارے کا منہ کھول دیا جائے تو یکدم ہوا نکل جاتی ہے بلکہ آپ شعوری طور پر بھرپور سانس لیں اور آہستہ آہستہ خارج کریں یوں گہرا سانس لینا آپ کی عادت بن سکتی ہے۔ یوگا کی دیگر مشقوں کے ساتھ آپ کو گہرا سانس لینے کی مشق بھی لازماً کرنا چاہئے۔ آپ دن یا رات میں کسی بھی وقت چند منٹ اس کے لئے وقف کرسکتےہیں۔
ماہرین یوگا کے مطابق جب بھی آپ کا تھکن سے بُرا حال ہوجائے، اعصابی درماندگی سے دماغ پھٹا جارہا ہو تو سانس کی اس سادہ سی مشق کا اثر آپ کو سکون مہیاکرسکتاہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

یوگا – 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تیسری قسط سانس کی اہمیت آپ نے اکثر ...

مائنڈ فُلنیس – 8

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں  قسط نمبر 8   آپ کے کالج کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن