فینگ شوئی – 8

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں


قسط نمبر  8


فینگ شوئی ایک قدیم سائنس ہے اس کا تعلق چین سے ہے۔ فینگ شوئی کے ذریعے آپ اپنے گھر کی تزئین و آرائش میں معمولی تبدیلی سے فطرت کے اصول آپ کے گھر میں روبہ عمل ہوجائیں گے۔ذہنی یکسوئی میں اضافہ ہوسکتا ہے رزق میں آسانی اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
روحانی ڈائجسٹ کے قارئین کے لیے ان صفحات پر چین کے معروف متبادل طریقہ علاج فینگ شوئی پرسلسلہ شروع کیاجارہا ہے۔

 

فینگ شوئی اور آپ کا گھر

 

ہم پچھلے شماروں میں فینگ شوئی کے تعارف اور گھر میں اسکے اصولوں کے مطابق ترتیب، تزئین و آرائش سے متعلق آپ کو آسان اور سہل انداز میں گائیڈ لائن فراہم کرتے آرہے ہیں تاکہ آپ اس قدیم ترین علم اور طریقہ ہائے زندگی کو سمجھ کر اور اپنا کر قدرت کے بیش بہا خزانے سے مستفیذ ہوسکیں ۔
فینگ شوئی کے اصولوں کی بنیادوں پر آراستہ کیے گئے گھر فطری طریقہ زندگی کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ ایسے گھروں میں رہائش پذیر لوگ معاش کی تنگی سے محفوظ رہتے ہیں۔ والدین اور بچوں کے تعلقات بہتر رہتے ہیں۔ آپس میں خلوص اور ہم آہنگی کے جذبات بڑھ جاتے ہیں۔ ان کا گھر ذہنی سکون کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔آمدنی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ بچے تعلیم میں دلچسپی لیتے ہیں۔ معاشی منصوبہ بندی کی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ عبادات میں ذہنی یکسوئی بڑھ جاتی ہے اور تمام افراد خانہ صحت اور سکون آور ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ محض الفاظ نہیں بلکہ فینگ شوئی کے اصولوں سے استفادہ کرنے والے اور اپنے مسائل کا حل فینگ شوئی کے اصولوں سے حاصل کرنے والے دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے لوگوں کے تجربات ہیں جو انھوں نے کسی نہ کسی پلیٹ فارم پر عوام سے شئیر کئے اور ہم نے آپ سے۔
آج ہم گھر کے ایک اور اہم اور بنیادی حصے کی بات کریں گے جو بظاہر تو کوئی مخصوص جگہ یا کمرہ نہیں مگر ان حصوں میں چی توانائی کا بحال رہنا اور اس کا مثبت ومتوازن بہاؤ ازحد ضروری ہے۔

برآمدہ ،ڈیوڑھی اور راہداریاں:
hallways/corridor

کوریڈورز یا ہال و یز توانائی کے مثبت بہاؤ میں کیا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی اس سلسلے میں کیا اہمیت ہے؟کوریڈورز یا ہال ویز کسی بھی عمارت کے مختلف حصوں کو آپس میں ملانے والے درمیانی راستے یعنی گزرگاہیں ہیں۔ اب اگر مرکزی داخلی دروازے سے گھر کے اندر تک راستہ برآمدہ ہے تو کمروں کے درمیان متصل خالی حصہ راہداری یا کوریڈورز ہے۔ 


فینگ شوئی اصول کے مطابق چی توانائی سے بھرپور ایک صحت مند گھر کی راہدری غیر ضروری سامان سے پاک ہوتی ہے، البتہ فیملی فوٹوز، پینٹنگ، آئینے، قالین، طاق، انرودی دیوار شیلف اور مناسب روشنی کا انتظام بے حد اہم ہے۔


یہ راہداریاں اوربرآمدے کسی بھی عمارت میں رگوں کی حیثیت رکھتے ہیں جس طرح رگوں کے ذریعے خون توانائی لے کر پورے جسم میں گردش کرتا ہے۔ اگر ان رگوں میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ آجائے تو اس حصے تک خون کی رسائی مشکل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے جسم کا وہ حصہ کسی نہ کسی تکلیف میں مبتلاہوجاتاہے۔
بالکل اسی طرح یہ کوریڈورز یا راہداریاں بھی دراصل عمارت کی رگوں کا کام کرتے ہیں اور گردش کرتی چی توانائی کے لئے راستہ فراہم کرتے ہیں اور ایک سمت کی توانائی کو دوسری سمت میں دور کرتی توانائی سے جوڑتے ہیں اس لحاظ سے ان کی اہمیت بہت زیادہ بڑھجاتی ہے۔
یہ آپ کے گھر کے وہ مقامات ہیں جہاں ہم ملنے جلنے کے لیے آنے والے افراد کوخوش آمدید اور اللہ حافظ کہتے ہیں یعنی یہ ملاقات کا پہلا مقام ہے اور رخصت بھی یہیں سے کرتے ہیں یہاں توانائی کے مختلف عناصراور ان کی تحریکات کو متوازن رکھنا بےحدضروری ہے۔
اس کے لئے بنیادی چیز راہداریوں کی چوڑائی اور لمبائی ہے ۔بہت زیادہ تنگ اور لمبی راہداریاں جہاں کسی اور کمرے کی کوئی بھی کھڑکی یا دروازاہ نہ کھلتا ہو توانائی کے بہاؤ کو تیز کر کے حیاتی قوت کی تاثیر کو زائل کردیتی ہے ۔

دروازے سے ڈرائنگ روم یا گھر کے کمروں کے درمیان برامدہ ، راہداری یا دالان میں غیر ضروری سامان نہیں ہونا چاہیے.. مثال کے طور پر ڈسٹ بن، پودوں کے گملے، جوتوں کا ڈھیر کرسی میز الماری یا کسی قسم کا فرنیچر وغیرہ، فینگ شوئی اصول کی رو سے یہ اشیا ء گردش کرتی چی توانائی کے لئے رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔

اس بات کو یوں سمجھیے کہ اگر نامناسب روشنی اور ہوا کا فقدان ، بےجا سازو سامان اور کاٹھ کباڑ چی توانائی کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا کرکے اس کے بہاؤکو سست کردیتے ہیں تو اسی طرح بہت زیادہ تنگ یا بہت زیادہ چوڑی اور لمبی لمبی راہداریوں میں چی توانائی کی مقدار غیرمتوازن ہوجاتی ہے۔ خالی ہونے کی وجہ سے توانائی کا بہاؤ اس قدر تیز ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے خواص کا پوری طرح مظاہرہ کئے بغیر ہی گزر جاتی ہے۔ نیز اندھیرا یا روشنی کی نامناسب مقدار ینِ لہروں کو قوت بخشتی ہیں جو کہ توازن میں بگاڑ اور منفی شاہ توانائی کو قوت بختشا ہے ۔یہ غیرمتوازن صورتحال بے جادبائو کا باعث بنتی ہے جو عموماً ڈر ،خوف یا تناؤ کی صورت میں محسوس کیا جاتا ہے۔
اب اس کا انتہائی سادہ سا حل یہ ہے کہ چاہے راہداری ہو، برآمدہ ہو یا ڈیوڑھی ،روشنی کا خاطر خواہ انتظام رکھئیے انہیں مکمل طور پر خالی نہ چھوڑیئے بلکہ ان حصوں کابھی پاکوآ چارٹ کے مطابق فینگ شوئی کارنرز تعین کیجیے اور ان کی ضروریات کے لحاظ سے آرائیشی سامان سے سجائیے۔ آئینوں اور تازہ پودوں کے گملے حیاتی قوت کوبحال رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ تنگ راہداریوں میں آئینے کا استعمال وسعت اور کشادگی کا باعث بنتا ہے اور توانائی کی اضافی مقدار کو جذب بھی کرتا ہے جبکہ اندرونی راہداریوں میں فیملی پکچرز یا خوبصورت مناظر کی کوئی سینری بھی لگائی جا سکتی۔ اس کے علاوہ بک شیلفز یا ٹیلیفون ریک بھی آپ کے کوریڈور کی دیوار کا حصہ بن سکتے ہیں ۔

 

 

فینگ شوئی گارڈن :

 

  فینگ شوئی کے ماہرین ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک آئیڈیل گھر چاروں اطراف سے سبزہ سے گھِرا ہونا چاہئے۔ اگر ہم اس کی وضاحت کے بجائے آپ سے کہیں کہ آپ کو گھر شمالی علاقہ جات میں بنانا چاہیئے تو شاید آئیڈیل لوکیشن سمجھنا بہت زیادہ آسان ہوجائے ۔ جا بجا پھیلا سبزہ تازگی، اونچے پہاڑ تحفظ اور بہتی ندیاں زندگی کا نغمہ سناتی ہیں۔شہری علاقوں میں ایسے آئیڈیل ماحول اورگھر کے لئے آپ فینگ شوئی کے اصول اپنائیے۔ اس کے مطابق اپنے گھر کے ساتھ ساتھ گارڈن کی بھی آرائش کیجئے۔آپ کے گھر کابیرونی اور کھلا حصہ ہوتا ہے ۔یہاں ین اور یینگ لہروں کو متوازن کرناآسان بھی ہے اور سودمند بھی۔
فینگ شوئی کے مطابق جنوب میں پھیلا سبزخوبصورت سا لان آپ کی شہرت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔شمال میں سجے چھوٹے خوشنما ٹیلے یا پہاڑیاں تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں یہی چھوٹے ٹیلے اگر مشرق میں موجود ہیں تو دانشمندی و فراست کو بڑھاتے ہیں مغرب میں بہتی ندی یا چھوٹا سا فوراہ یا پھر تالاب کی موجودگی نہ صرف ناگہانی صورتحال کو قابو میں رکھتی ہیں بلکہ چی توانائی کی اسٹوریج کا کام بھی کرتی ہیں۔ ہمارے ملک میں گارڈن لان کی کا رواج رو ہے مگر صرف خانہ پوری کی حد تک ۔ گھر کے اندرونی حصے سے ایک یا دوبڑی کھڑکیوں ہی سے اس کا نظارہ ممکن ہو پاتا ہے۔یا پھر زیادہ سے زیادہ شام کی چائے لان میں پی لی جاتی ہے اور بس۔
اگر آپ اپنے گارڈن کو چاہے وہ ایک بہت بڑے رقبے پر پھیلا ہویا گھر کے برآمدہ میں ایک چھوٹے سے لان کی صورت میں ہو فینگ شوئی کے اصولوں کے مطابق ڈھال لیں تو آپ کے گھر کے اندر داخل ہونے والے توانائی ہر لحاظ سے مثبت اور تمام خواص سے لیس حیاتی قوت لئے ہوئے ہوگی۔ فینگ شوئی گارڈن یا لان دائروی یعنی گولائی میں یا پھر ہشت پہلو شکل میں ہوتے ہیں اور اسی ساخت کو ترجیح بھی دی جاتی ہے چی توانائی کے بہاؤ کوربط میں رکھتے ہیں۔

*….اگر آپ کے لئے یہ ممکن نہیں تو پھر بھی اپنے لان میں سب سے پہلے فینگ شوئی سیکٹرز کی نشاندہی کیجئے اور پھر اسی لحاظ سے اپنے بیٹھنے کا انتظام یعنی سیٹنگ ارینجمنٹ کیجیئے اس کے لئے گول میز کا انتخاب انتہائی موزوں ہے۔
بچوں کے جھولے بھی اسی موافق سمت میں نصبکیجیئے۔
*…. اسی لحاظ سے پھولوں اور پودوں کا انتخاب کیجئے۔اگر اپنے گارڈن کے دولت والے سیکٹر میں لِلیLiLy لگائیں تو یہ دولت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
*….چینی تعلیمات میں لِلیLiLy گولڈ سونے کی نمائیندگی کرتے ہیں ۔
*….مختلف اقسام کے پتھروں اور دھات کا استعمال ینگ لہروں کو توازن میں رکھتا ہے ۔
*….اسی طرح پانی اور پودوں کی موجودگی ین لہروں کو توازن میں رکھنے میں مدگارثابت ہوتی ہے۔
*….درمیانی راستے بالکل سیدھے نہ بنائے جائیں تو بہتر ہے ان میں تھوڑا بہت گھماؤ رکھئیے ۔
*….دعوتوں کے دوران بار بی کیو کے لئے جنوب مشرق کا نتخاب کیجئے۔
*….مشرقی سمت میں اونچے درختوں سے اجتناب کیجئے۔ان کی موزوں ترین سمت جنوب اور مغرب ہیں ۔
*….اس کے علاوہ ضروری ہے کہ گھرکے اندرونی حصے اورلان کا رابطہ محض کھڑکی تک محدود نہ ہو۔ کمروں کے کھڑکیاں یا جھروکے اگر لان میں کھلے تو یہ مثبت توانائی سے زیادہ سے زیادہ مستفیذ ہو سکے گیں ۔
*….باغ کے گرد کھینچی بائونڈری وال یا باڑ جس کا بنیادی مقصد منفی توانائی کی روک تھام ہے اینٹوں کی ہو، لکڑی کی یا اس کے لئے سلاخوں کا استعمال کیا جائے۔ اس کے لئے جاننا ضروری ہے کہ آپ کا باغ یا لان گھر کی کس سمت میں واقع ہے۔
یہاں تک تو ہم نے فینگ شوئی کے مجموئی فوائد بتائے۔ انشاء اللہ آئندہ ہم ان اصولوں کے ذریعے کیرئیر کو بہتر بنانے،
ملازمت کے حصول، آپس کے تعلقات میں بہتری اور دفتر یا دکان میں کام کو بہتر انداز سے انجام دینے پر بھی روشنی ڈالیں گے۔مگر اس سے پہلے یہ بھی بتائیں گیں کہ آپ بذاتِ خود کس طرح اپنے گھر کے ان متاثرہ حصوں اور سمتوں کا پتہ لگا سکتے ہیں جہاں توانائی کا بہائو غیر متوازن ہے اور آپ کی زندگی پر اثر انداز ہورہا ہے یا ہوسکتا ہے ۔ ۔

 

(جاری ہے)

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

یوگا – 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تیسری قسط سانس کی اہمیت آپ نے اکثر ...

مائنڈ فُلنیس – 8

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں  قسط نمبر 8   آپ کے کالج کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن