شکریہ ۔ قسط 7

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

دنیا بھر میں ہر روز بے شمار تربیتی پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ، مضامین، کالم اور کتابیں یہ بتانے کے لئے لکھی جاتی ہیں کہ کس طرح ان خواہشات کے حصول کی تکمیل کی جائے۔ زندگی بہتر انداز میں گزارنے کے لئے ہم اپنے طور پربھی کوشش اور تجربات کرتے رہتے ہیں ۔اس کے باوجودہم ایسی زندگی نہیں گزار پاتے جو انسانیت کے شایانِ شان ہو۔ہم غربت، جہالت، بے روزگاری جیسے مسائل سے دو چار ہیں ۔ ہمارے رشتوں میں محبت ، قربانی اور روا داری کا فقدان رہتا ہے۔ اچھی زندگی ہمارے لئے ایک خواب بن جاتی ہے، وہ خواب جو ہم ہر رات دیکھتے ہیں ۔زندگی ایک معمہ بن جاتی ہے ، جسے سمجھتے سمجھتے پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ 1998 سے میرا تعلق پڑھانے اور ٹریننگز کرانے سے رہا ہے۔ اس دوران میں نے سینکڑوں لوگوں کے نقطہ نظر کو سنا، کتابیں پڑھیں اور یہ کوشش کی کوئی ایسا فارمولا ہاتھ لگ جائے جس کے باعث ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر تے ہوئے خوشحال زندگی گزاریں ۔ ایسی زندگی جو دونوں جہانوں میں سرفراز کر دے۔میرا ایمان ہے کہ انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے وہ حاصل کر ہی لیتا ہے۔مجھے بھی وہ فارمولا مل گیا۔ میں اس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں یہ کامیابی اور خوشحالی کا واحد فارمولا ہے،واحد فارمولا۔ اس سلسلۂ مضامین کا مقصد یہی ہے کہ نا صرف اُس قانون کو بیان کیا جائے بلکہ اس پر عمل کرنا آسان بنا دیا جائے تاکہ ہماری زندگی صحت ،محبت ، دولت اور خوشیوں سے بھر نے کے ساتھ ساتھ خدا کی رضا بھی حاصل کر لے ۔ محمد زبیر


دولت کی فراوانی 

ساتواں دن

   ہم زندگی بھر چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور بڑے بڑے رشتوں کو صرف پیسے کے لئے نظر انداز کردیتے ہیں۔ مستقبل کے لئے فکر صرف اورصرف پیسے سے وابستہ کئے رکھتے ہیں۔ پیسے کے لئے جھوٹ بھی بولتے ہیں ، لڑتے بھی ہیں اور قتل بھی کردیتے ہیں۔ پیسے کے لئے کسی کا نقصان کرنے سے نہیں چوکتے ۔ اچھے برے کا فرق بھول جاتے ہیں۔ عزت و فخر کا معیار پیسے پر رکھتے ہیں۔ اس پیسے کی دوڑ میں جب صحت ہاتھ سے نکلنے لگتی ہے تو پھر اسی پیسے کو پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔ گھر، کاروبار، بینک بیلنس سب بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔ اُس وقت احساس ہوتاہے کہ صحت کتنی بڑی نعمت ہے اور ہم نے اِ س صحت کے لئے کبھی شکر تک ادا نہیں کیا اور اگر کبھی کیا بھی تو اتنا سرسری طور پر کہ جیسے کسی بے معنی چیز کے لئے شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ صحت کتنی بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ اسی وقت ہوتا ہے جب یہ ہمارے پاس نہیں ہوتی۔ پھر ہم سوچتے ہیں کہ جس کے پاس صحت نہیں اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں ۔ہم یہ سب جانتے تو ہیں لیکن جونہی صحت بحال ہوتی ہے ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمیں کس خزانے سے مالا مال کیا ہوا ہے۔صحت وہ تحفہ ہے جو ہمیں ہر روز ملتا ہے اور ملتا ہی رہتا ہے۔اس کی قدر اسلئے نہیں کرتے کہ اللہ رب العزت نے تحفے میں دے دی ہے، یہی صحت جب ہاتھ سے نکل رہی ہوتی ہے تو دنیا کی ہر نعمت ، ہر رشتہ،ہر خوبصورتی حقیرلگنے لگتی ہے۔

The lack of money is the root of all evil.
-[Mark Twain]

‘‘پیسوں کی قلت تمام برائیوں کی جڑ ہے’’۔  [مارک ٹوئن]  


اگر آپ کی زندگی کا ایک بہت اہم مسئلہ پیسہ ہے تو یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ پریشان ہونے، جلنے، کڑھنے ،مایوس ہونے ، حوصلہ ہارنے، شکوک و شبہات کا شکارہونے یا ڈرنے سے پیسہ نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہ سب چیزیں ناشکری کی علامات ہیں ۔
میں ایک مرتبہ معروف روحانی اسکالر ، ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ میں کوئی دولت مند شخص نہیں ہوں، والدصاحب نے رہنے کے لیے اچھا سا مکان دیا ہوا ہے لیکن گزر اوقات کے لئے میرے پاس کوئی بہت زیادہ پیسے نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود اللہ میری ہرضرورت کو پوری کردیتا ہے۔ میری بیٹی نے ایک اعلیٰ ادارے میں تعلیم حاصل کی۔ میرا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا ہے، اللہ ذرائع بنادیتا ہے۔ میرا رب میرا ہرکام کروادیتاہے۔ لیکن پھر بھی جب کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو میں پریشان ہوجاتا ہوں۔ کتنا ناشکرا ہوں میں ۔
یہ ُان کی عاجزی تھی کہ وہ شکر گزاری میں کوتاہی کو بھی ناشکری سے تعبیر کررہے تھے ،ورنہ میں نے انہیں ہمیشہ شکر ادا کرتے ہوئے ہی پایا ہے۔
چاہے آپ کے حالات کیسے بھی ہوں آپ اللہ کا شکر ادا کرسکتے ہیں اور دل سے ادا کرسکتے ہیں۔
کیسے….؟؟
یہ کام عام لوگوں کے لئے سب سے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اب آپ عام انسان نہیں رہے، خاص لوگوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ کیونکہ آپ کی زندگی میں شکر گزاری کے احساسات بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔ آپ دولت کے لیے اللہ کا شکر کیسے ادا کریں گے یہی سمجھنے کے لئے یہ سبق لکھا گیا ہے۔ اِسے غور سے پڑھیں اور ہدایات پر عمل کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ مالی طور پر آپ کتنی آسانی سے خوشحال ہوجائیں گے۔
آپ ایک ایک کرکے پیسہ اور وہ تمام چیزیں جو پیسوں کی وجہ سے حاصل کی جاتی ہیں اُن کے متعلق سوچیں اور ہر ایک چیز کے لئے الحمد للہ یا Thank youکہیں ۔
آپ کی عمر کتنی ہی ہو، ذرا سوچیں کہ اب تک آپ کتنی دفعہ بھوکے سوئے ہیں ۔ اگر آپ کی عمر بیس سال ہے تو دن میں تین دفعہ کے حساب سے آپ اکیّس ہزار نو سو (21900)مرتبہ کھانا کھا چکے ہیں ۔
اگر تیس سال ہے تو تقریباً بتّیس ہزار آٹھ سو پچاس (32850) مرتبہ ، اگر چالیس سال عمر ہے تو تینتالیس ہزار آٹھ سو (43800) مرتبہ سے زیادہ آپ کھانا کھاچکے ہیں ۔ چائے اور دیگر مشروبات اور چھوٹی موٹی چیزیں الگ ہیں ۔ یہ سب پیسوں سے آتی ہیں ۔ اس کے علاوہ اپنے آپ سے سوال کریں :
کیاہمیشہ کھانا موجود ہوتا ہے ؟
کیا آپ گھر میں رہتے ہیں ؟
کیا آپ تعلیم یافتہ ہیں ؟
آپ اسکول کس طرح جاتے تھے ، وین سے؟
لنچ اور دیگر ضروری اشیاء موجود ہوتی تھیں ؟
بچپن میں کبھی گھومنے پھرنے گئے ؟
بچپن میں سب سے پسندیدہ کھلونا کیا ملا؟
کیا آپ کے پاس کبھی کھلونے،سائیکل یا پالتو جانور رہے…. ؟
کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ کے پاس پہننے کے لئے ایک بھی سوٹ نہ ہو ؟
کیا آپ فلم دیکھنے ، پارک یا کھیلنے کے لئے باہر گئے ؟
کیا ایسا ہوا ہے کہ آپ کبھی بیمار ہوئے ہوں اور ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لئے گئے ہوں ؟
کبھی سفر کیا ہے؟
ٹی وی دیکھا ہے؟ ٹیلی فون کیا ہے؟
پانی گھر میں آتا ہے ؟ بجلی آتی ہے؟
یہ تمام چیزیں پیسوں سے آتی ہیں جو ہمیں ملتی رہتی ہیں ، ملتی رہتی ہیں اورہم اِن پر اپنا حق سمجھ کر بیٹھ جاتے ہیں، شکر ادا کرنے کا خیال تک نہیں آتا۔
یہی وجہ ہے کہ یا تو یہ ہم سے چھین لی جاتی ہیں یا اِن میں سے برکت اور خوشیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ گھر ہوتا ہے لیکن چھوٹا لگتا ہے، کپڑے ہوتے ہیں مگر کم لگتے ہیں ، گاڑی ہوتی ہے مگر دوسری گاڑیوں پر نظر ہوتی ہے، پیسے ہوتے ہیں مگر کم لگتے ہیں ، یعنی سب کچھ ہونے کے باوجود غریب کے غریب رہتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے،

‘‘کچھ لوگ اتنے غریب ہوتے ہیں کہ ان کے پاس پیسوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔’’

حدیثِ قدسی ہے :

 إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی يَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي،

أَمْلَأْ صَدْرَکَ غِنًی وَأَسُدَّ فَقْرَکَ،

وَإِلَّا تَفْعَلْ، مَلَأْتُ يَدَيْکَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَکَ۔

‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! تو میری عبادت کے لئے اپنے دل کو مطمئن وفارغ کرلے، میں تیرے سینے کو استغناء سے بھردوں گا اور تیرے لئے فقروافلاس کی راہ کو بند کردوں گا۔ اور اگر تونے ایسا نہ کیا تو تمہارے دونوں ہاتھ مشغول تو رہیں گے اور اس کے باوجود تمہارا فقر دور نہیں کروں گا۔’’  [ترمذی؛ سنن ابن ماجہ؛ مُسند احمد؛مشکوٰۃ ]

 

ہم نے بڑے بڑے مفلس مالدار اور بڑے بڑے دولت مند غریب دیکھے ہیں ۔ انسان اگر ناشکری پر اُتر آئے تو قبر کی مٹی کے سوا کوئی شے اس کا پیٹ نہیں بھر سکتی۔ اس کے برعکس اگر انسان شکر ادا کرنے لگے تو وہ قدرت کی ہر شے سے لطف اندوز ہوگا، اس پر نوازشات کی برسات ہوگی اور وہ حقیقی معنوں میں دولت مند ہو جائے گا۔
چھوٹی چھوٹی چیزوں اور یا داشتوں کے لئے شکر ادا کریں ، شکر ادا کرتے رہنے سے یہ چیزیں کس طرح بڑی ہوتی جائیں گی آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ کیونکہ آپ کا کام اس بات کی فکر کرنا نہیں کہ یہ چیزیں کس طرح آئیں گی؟ آپ کا کام تو شکر کرنا ہے، یہ چیزیں قدرت کے قانونِ شکر کے مطابق خود بخود آنے لگیں گی۔
ان تما م چیزوں کے لئے شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نوٹ لیں اور اُس پر یہ لائن پیسٹ کرلیں۔

‘‘زندگی میں مجھے جتنے بھی پیسے ملے ہیں اُن کے لئے شکریہ ’’

اس نوٹ کو آج پورے دن اپنی جیب، پرس یا بٹوے میں رکھیں اور کم از اکم ایک مرتبہ صبح، ایک مرتبہ شام اوررات میں اسے دیکھیں اور شکریہ ادا کریں ۔ اس کے علاوہ دن میں جب بھی موقع ملے اسے دیکھیں ، مسکرائیں اور دل سے اللہ کا شکر ادا کریں ۔ جتنے یقین اور خلوص کے ساتھ آپ یہ مشق کریں گے اتنی آسانی اور فراوانی کے ساتھ چیزیں آپ کی زندگی میں آنے لگیں گی۔
آج کے بعد اس نوٹ کو کسی ایسی جگہ رکھیں جہاں بار بار نظر پڑتی رہے، اور جب بھی نظر پڑے شکر ادا کریں ، اگر کسی وقت کوئی ایساموقع آئے جب پیسوں کے حوالے سے نا شکری کے جذبات دل میں پیدا ہوں تو ایک لمحے کے لئے سوچیں

‘‘کیا میں نا شکری کی قیمت ادا کرنے کے قابل ہوں ….؟’

  اگر جواب ہاں میں ہو توپھر کریں ناشکری، کریں شکوے شکایت، لڑیں پیسوں کے لئے ، کریں حسد،کریں فکر اور پھر محروم ہوجائیں برکتوں سے ، رحمتوں سے، رشتوں سے اور رزق سے۔
دوسری طرف شکر گزاری کے انعامات پر نظر ڈالیے ۔ بے شمار نعمتوں کا جائزہ لیجیے اور شکر گزار بندوں میں شامل ہونے کی سعی کیجیے۔

 

[ساتواں دن ]

نیچے دئیے گئے جملے کو ایک نوٹ پر پیسٹ کر کے اپنے پاس رکھیں اور جب بھی اس پر نظر پڑے شکریہ ادا کریں۔

 

‘‘زندگی میں مجھے جتنے بھی پیسے ملے ہیں ان کے لئے شکریہ! ’’ 

 

فوائد و تاثرات:
_____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________

 

 

 

آفس بوائے کا ای میل ایڈریس

ایک بے روزگار شخص نے بہت بڑے ادارے میں آفس بوائے (چپڑاسی) کیلئے درخواست دی۔
‘‘تمہارا کام صفائی کرنا ہے، اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے۔’’ انٹر ویو کے بعد اس کو منتخب کرتے ہوئے ایچ آر مینیجر نے ایک کاغذ اس کے آگے بڑھایا، ‘‘اس پر اپنا ای میل ایڈریس لکھ دو،میں تمہیں ایک فارم میل کردونگا، تم اسے بھردینا۔’’‘‘میرے پاس نہ تو کمپیوٹر ہے اور نہ ہی ای میل ایڈریس’’۔ لڑکے نے گھبراتے ہوئے جواب دیا۔
‘‘کس دور میں جی رہے ہو بھائی’’۔ مینیجر نے اس کی درخواست مسترد کردی،
‘‘جس شخص کا ای میل ایڈریس نہیں ، اس کا وجود ہی نہیں ۔ اور جس کا وجود نہیں ، اسے ہم نوکری پر کس طرح رکھ سکتے ہیں ۔’’
لڑکا نا امیدی کی حالت میں دفتر سے نکل گیا، اسے کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ایک ہزار روپے کے نوٹ کے سوا اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔
وہ بازار گیا اور سب پیسوں کے ٹماٹر خرید لئے اور گھر گھر جا کر بیچنے شروع کر دئے۔دو گھنٹوں کے اندر اندر اس کے پیسے دگنے ہو گئے ۔ پیسے لیکر وہ دوبارہ بازار گیا اور تمام پیسوں کے ایک مرتبہ پھر ٹماٹر خریدے اور دو گھنٹوں کے اندر اندرتمام ٹماٹر ایک مرتبہ پھر فروخت کر دئیے۔ رات میں جب وہ گھر پہنچا تو اس کے پاس چار ہزار روپے تھے۔
کام بہت مشکل تھا، لیکن اس کے حوصلوں سے بڑا نہیں۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ ہر روز صبح جلدی اٹھے گا، منڈی جائیگا، اور رات دیر تک کام کریگا۔ اس کا کام چل پڑا، اور بہت جلد وہ ٹھیلا خریدنے کے قابل ہوگیا۔
اس کی مسکراہٹ،محنت اور سادگی نے پانچ سال کے اندر اندر اسے امیراور خوشحال آدمی بنا دیا۔ اب اس نے سوچا کہ اپنے گھر والوں کا بیمہ (insurance) کروانا چاہئے۔
ایک انشور نس ایجنٹ کو فون کر کے بلایا ، اس سے تفصیلی ملاقات کی، مختلف منصوبوں کے متعلق معلومات لینے کے بعد معاملات طے کرلئے۔ جب گفتگو مکمل ہوگئی تو ایجنٹ نے فارم بھرنا شروع کیا۔ ایک نقطے پر پہنچ کر ایجنٹ نے سوال کیا، ‘‘آپ کا ای میل ایڈریس کیا ہے؟’’
‘‘میرا ای میل ایڈریس نہیں ہے۔’’ اس شخص نے سکون سے جواب دیا۔
اس شخص کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا،
‘‘آپ کا ای میل ایڈریس نہیں ہے اور اتنی زیادہ ترقی کر لی ۔ آپ کو اندازہ ہے کہ اگرا ٓپ کا ای میل ایڈریس ہوتا تو آپ کیا ہوتے۔’’
اس شخص نے تھوڑی دیر تک سوچا اور مسکراتے ہوئے جواب دیا،
‘‘آفس بوائے ’’۔

 

 Success is within reach of all people, but you can grasp it only when you realise the power within you.  -[Stephen Richards]

‘‘کامیابی ہر شخص کی دسترس میں ہے لیکن تم اسے حاصل اسی وقت کر سکتے ہو جب تمہیں اپنے اندر چھپی ہوئی طاقت کا ادراک ہوتا ہے’’۔[ اسٹیفن رچرڈز]  

 

 

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 4

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 4   کامیاب اور پُراثر لوگوں ...

عادت بدلو، زندگی بدلو

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں ایک  امیر اور ایک غریب میں کیا فرق ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن