آئیے مراقبہ کرتے ہیں ۔ 8

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

حصہ 8

اپنی ذات کے بارے میں فکر مندی، اپنے مفادات خیالات کے تحفظ کے بارے میں ہمارے معمولات میں شامل ہے۔
زندگی کے میدان میں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ،اللہ کی نعمتیں پاتے ہوئے اکثر لوگوں کو دوسروں کے حسد اورجلن کا خوف بھی دامن گیر رہتاہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہم دوسروں کے حسد سے محفوظ رہیں۔ اس کے لیے ہم دعائیں کرتے ہیں، صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں ۔دوسروں کی حاسدانہ نظروں سے بچنے کے لیے کچھ لوگ اپنی کئی کامیابیوں کا سب کے سامنے ذکرہی نہیں کرتے۔ بہت سے لوگوں کی زندگی میں کئی تلخ تجربات کی وجہ سے ایسی احتیاطوں کو غلط بھی نہیں کہا جاسکتا۔
دوسروں کے منفی جذبات سے بچاؤ کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ہمیں خود اپنا جائزہ بھی لینا چاہیے۔
ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ منفی جذبات کہیں ہمارے اپنے وجود میں تو فروغ نہیں پارہے….؟
دوسروں کے بارے میں جا ننے اوررائے قائم کرنے کے لئے ہم کوئی میعار یا چند پیمانے مقرر کرلیتے ہیں۔ کسی شخص کے رویے،قول یا وعدے کی پاس داری ،لین دین، اس کی پسند ناپسند، اس کے ذوق کو اپنے قائم کردہ ان معیارات سے جانچتے ہیں ۔ اپنے مرتب کردہ نتائج کے مطابق اس کے بارے میں اچھی یا بُری کوئی رائے قائم کرلیتے ہیں۔
دوسروں کے بارے میں جاننا آسان ہے۔ اپنے بارے میں جاننا یعنی خود آگاہی مشکل کام ہے۔
ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ دوسروں پر تنقید کررہے ہوتے ہیں کہ صاحب…..!اس آدمی میں فلاں عادت بہت بُری ہے۔ اس کی فلاں بات غلط ہے۔اب یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس عادت میں یا اس سے ملتی جلتی کسی اوربُری عادت میں ہم بھی مبتلا ہوں لیکن ہم اس کی فکر نہیں کرتے۔ عموماً یہ ہوتاہے کہ ہماری نظر خود اپنی کسی خامی پر نہیں جاتی۔اگر کبھی اپنی کسی خای پر نظر پڑبھی جائے تو اکثر ایسا ہوسکتا ہے کہ ہم اس کے لیے کوئی نہ کوئی جواز پیش کردیں ۔ ہماری کئی خامیاں بہت واضح اور ظاہر ہوتی ہیں لیکن کئی خامیاں ہمارے باطن میں موجود ہوتی ہیں ۔ اسی طرح کئی کثافتیں ظاہر میں نظر آرہی ہوتی ہیں لیکن بہت سی کثافتیں ہمارے باطن میں بہت زیادہ پیوست ہوئی ہوتی ہیں ۔
ظاہری صفائی آسان ہے اورباطنی صفائی بہت مشکل کام ہے۔ظاہر پر لگا میل باآسانی نظر آجاتاہے اسے دھودینا بھی آسان ہے لیکن باطنی کدورت اورکثافت کو محسوس کرنا آسان نہیں ہے۔
سیدھی سی بات ہے کہ جب یہ کدورت وکثافت محسوس ہی نہیں ہوگی تو اس سے نجات کی کوشش بھی نہکی جائے گی۔
ہم اپنی کامیابی پر دوسروں کے حسد سے تحفظ چاہتے ہیں،ایسا سوچنا ٹھیک ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں خود اپنا جائزہ بھی لینا چاہیے….؟
ہمیں تلاش کرنا چاہیئے کہ خودہمارے اندر دوسروں کے خلاف حاسدانہ جذبات تو پرورش نہیں پارہے….؟
قدرت کی طرف سے عطا کردہ اعلیٰ صفات کا ادراک ہو یا اپنی خامیوں کا احساس اوراعتراف ،نا کامیوں کے لیے خو دآگاہی درکار ہے۔
خود آگاہی ایک مشکل کام ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جب ہمارا ضمیر ہمیں اپنی خامیوں سے آگاہ کرتاہے تو اکثر ہم اُسے تسلیم ہی نہیں کرتے۔کسی ٹیچر گائیڈ کی زیر نگرانی مراقبہ کے ذریعہ ہم اپنی ذات کی اصلاح اور اپنی شخصیت کی مثبت بنیادوں پر تعمیرکرسکتےہیں۔
اپنے آپ کو جاننے اورسمجھنے یعنی خود آگاہی کی کوششوں میں مراقبہ بہت زیادہ معاون ہوسکتاہے۔
مراقبہ کے ذریعے بصیرت جلا پاسکتی ہے ۔ مراقبہ سے فہم و فراست میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان خوبیوں سے کام لیتے ہوئے آپ کا ذہن اپنی خامیوں کو دیکھنے اور ان کا اعتراف کرنے کے قابل ہوسکتاہے۔ بندہ اپنی خامیوں کے اعتراف پر آمادہ ہوجائے تو ان خامیوں سے نجات پانے کے مراحل آسان ہوسکتے ہیں۔ یہ جان سکتے ہیں کہ آپ کی شخصیت میں، آپ کی سوچ میں کہاں کہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔
(جاری ہے)

 

 

 

۔

(جاری ہے)

فروری 2013ء

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

یوگا – 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تیسری قسط سانس کی اہمیت آپ نے اکثر ...

مائنڈ فُلنیس – 8

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں  قسط نمبر 8   آپ کے کالج کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن