شکریہ ۔ قسط 9

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

دنیا بھر میں ہر روز بے شمار تربیتی پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ، مضامین، کالم اور کتابیں یہ بتانے کے لئے لکھی جاتی ہیں کہ کس طرح ان خواہشات کے حصول کی تکمیل کی جائے۔ زندگی بہتر انداز میں گزارنے کے لئے ہم اپنے طور پربھی کوشش اور تجربات کرتے رہتے ہیں ۔اس کے باوجودہم ایسی زندگی نہیں گزار پاتے جو انسانیت کے شایانِ شان ہو۔ہم غربت، جہالت، بے روزگاری جیسے مسائل سے دو چار ہیں ۔ ہمارے رشتوں میں محبت ، قربانی اور روا داری کا فقدان رہتا ہے۔ اچھی زندگی ہمارے لئے ایک خواب بن جاتی ہے، وہ خواب جو ہم ہر رات دیکھتے ہیں ۔زندگی ایک معمہ بن جاتی ہے ، جسے سمجھتے سمجھتے پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ 1998 سے میرا تعلق پڑھانے اور ٹریننگز کرانے سے رہا ہے۔ اس دوران میں نے سینکڑوں لوگوں کے نقطہ نظر کو سنا، کتابیں پڑھیں اور یہ کوشش کی کوئی ایسا فارمولا ہاتھ لگ جائے جس کے باعث ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر تے ہوئے خوشحال زندگی گزاریں ۔ ایسی زندگی جو دونوں جہانوں میں سرفراز کر دے۔میرا ایمان ہے کہ انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے وہ حاصل کر ہی لیتا ہے۔مجھے بھی وہ فارمولا مل گیا۔ میں اس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں یہ کامیابی اور خوشحالی کا واحد فارمولا ہے،واحد فارمولا۔ اس سلسلۂ مضامین کا مقصد یہی ہے کہ نا صرف اُس قانون کو بیان کیا جائے بلکہ اس پر عمل کرنا آسان بنا دیا جائے تاکہ ہماری زندگی صحت ،محبت ، دولت اور خوشیوں سے بھر نے کے ساتھ ساتھ خدا کی رضا بھی حاصل کر لے ۔ محمد زبیر


اَب کی طاقت

The Power of NOW

نواں دن

 

 

انیسویں صدی میں دو دوست برک اور ہئر گزرے ہیں ۔ انہیں ایک ایسے کاروبار کا خیال آیا جس نے ان کوراتوں رات مالا مال کردیا۔ کاروبار بہت عجیب و غریب تھا۔ یہ بات ہے 1827 کی جب وہ قبرستان جایا کرتے اور تازہ دفن کئے مردوں کو قبر سے نکال کر ایڈنبرگ میڈیکل اسکول میں فروخت کردیتے تھے۔ اُن لوگوں کو تو اِس کاروبار میں کوئی برائی نظرنہیں آئی لیکن میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں ۔ ‘‘ کیا آپ یہ کاروبار کرنا چاہیں گے؟ ’’۔
میں نے جب بھی مختلف پروگرامز میں یہ سوال کیا ہے لوگوں کا جواب ہمیشہ نہ صرف ‘‘نہیں ’’ میں آیا ہے بلکہ انہوں نے ناگواری کا اظہار بھی کیا ۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری اکثریت یہی کام دن رات کرتی رہتی ہے یعنی گڑھے مردے اکھاڑتی ہے ، جوواقعات ہوچکے ہیں ان پر ماتم کرتی رہتی ہے، جو غلطیاں ہوچکی ہیں ان پر ہاتھ ملتی رہتی ہے، جو نقصانات ہوچکے ہیں انہیں یاد کر کے اپنا اور اپنوں کاخون جلاتی رہتی ہے۔
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو لاتعداد خوشگوار یادوں کے انبار میں سے چند ایک نا گوار باتوں کوکرید کرید کر نکالتے ہیں اور پھر انہیں ان خوشیوں کے اوپرپھیلا کر بین کرتے ہیں۔ یہ لوگ خوبصورتی میں بھی بد صورتی نکالنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ ان کی مثال اس مکھی کی طرح ہے جو صاف ستھرا جسم چھوڑ کر زخم پر بیٹھتی ہے۔ ایسے لوگ ، دوسروں کے زخموں کو ٹھیک نہیں کرتے مزید خراب کرتے ہیں۔ جراثیم پھیلاتے ہیں۔


کتاب The Power of Now ‘‘اب کی طاقت’’ کے مصنف اکہارٹ ٹولے Eckhart Tolleمغرب کے مشہور روحانی اسکالر ہیں۔ ایک مرتبہ ان کے پاس ایک شخص آیا اوراپنے مسائل بتانے لگا کہ وہ بہت پریشان ہے، حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں، میں نے پوری کوشش کر کے دیکھ لی لیکن کوئی بہتری نہیں آئی۔
اکہارٹ ٹولے نے سوال کیا،
‘‘اس وقت تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟’’
اس شخص نے بہت خوبصورت جواب دیا
‘‘اِس وقت تو کسی کے ساتھ کوئی بھی مسئلہ نہیں ہوتا۔یا تو ہمیں ماضی کا دکھ ہوتا ہے یامستقبل کی پریشانی۔’’ اس شخص کے جواب نے اس کے اپنے سارے مسائل ختم کر دئیے۔
مشکلات کس کی زندگی میں نہیں آتیں؟لیکن ان پر رک جانا کسی بھی طرح کی عقل مندی نہیں ہے۔ ماضی کی تکلیف دہ یادوں کو دہرانے کاایک بہت بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہمارا یقین شک میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ شک ڈر پیدا کرتا ہے۔ یقین روشنی ہے، جب کہ ڈر اندھیراہے۔ ایسا شخص خوف کے باعث مستقبل کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ اب وہ ہر چیز سے ڈرتا ہے۔ ملازمت چلے جانے یا نہ ملنے کا خوف، رشتوں کے ٹوٹ جانے کا خوف، چھوٹوں کی نافرمانی کا خوف ،پیسوں کی کمی کا خوف۔خوف ، خوف اور خوف…. اس کا حَل بہت آسان ہے۔ اللہ سے دوستی کرلی جائے کیونکہ یہ بات ہم پہلے جان چکے ہیں کہ اللہ سے دوستی کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس طرح نہ تو ماضی کے واقعات تلخ لگتے ہیں اور نہ ہی مستقبل فکرمند کرتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

‘‘بیشک جو اللہ کے دوست ہیں انہیں نا تو کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ ہی ملال’’۔ [سورۂ یونس:آیت62]

 

دوستی کرنا ہے بھی بہت آسان ۔ اُس کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے اورہر حال میں کیا جائے ۔ آپ کو لگتا ہوگا کہ آپ نعمتوں کا شکر ادا کرنے لگے ہیں ، ایک مرتبہ غور کریں کہ کیا واقعی شکر گزار بندے بن رہے ہیں۔بہت سارے حالات میں آپ یقینا شکر ادا کرر ہے ہیں اور یہ بہت اچھی بات بھی ہے لیکن جہاں اپنی لاعلمی کی وجہ سے نہیں کرپارہے تھے وہاں آج سے شروع کردیں ۔خاص طور پر ان باتوں پر جن پر اب تک آپ پریشانی بے چینی یا جھنجھلاہٹ محسوس کرتے تھے۔ مثلاً کیا آپ کو اچھی صحت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ صحت مند ہوتے ہیں یا اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی چوٹ لگتی ہے یا طبیعت خراب ہوتی ہے؟
اب اگر طبیعت خراب ہو تو ان تمام دنوں کیلئے شکر کریں جب آپ صحت مند رہے ہیں۔
کیا آپ اپنی ملازمت کے لئے روزانہ شکر ادا کرتے ہیں یا اس وقت اللہ کی طرف راغب ہوتے ہیں جب ملازمت خطرے میں ہوتی ہے؟ اب اگر ملازمت یا کاروبار میں کوئی پریشانی آئے تو ان تمام لمحات کیلئے شکر ادا کریں جب آپ بے خوف اور بے فکر ہو کر کام کر رہے تھے۔کیا ہر بار تنخواہ ملنے پر اللہ کا شکر د ل سے ادا کرتے ہیں، اس تنخواہ کیلئے جسے آپ ہمیشہ اپنا حق سمجھ کر لیتے رہے ہیں ؟
کیا آپ ہر دن ان لوگوں کا شکر ادا کرتے ہیں جو آپ سے بہت محبت کرتے ہیں یا صرف اس وقت ان کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے جب مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں ؟اب اگر کوئی آپ کو تنگ کرے، نظر اندازکرے یا نقصان پہنچائے تو اللہ کا شکر ادا کریں کہ اتنی بڑی دنیا میں ایسے لوگ کتنے کم ہیں۔ اور اگر یہ بھی نہ ہوتے تو مجھے کیسے علم ہوتا کہ مجھ میں کیا کیا خامیاں ہیں۔

In the practice of tolerance, one’s enemy is the best teacher. -Dalai Lama

’’صبروتحمل کی مشق کرتے ہوئے، کسی شخص کا دشمن اس کا بہترین استاد ہوتا ہے’’ [دلائی لامہ]

 

کیا آپ اپنی سواری کی اہمیت کو سمجھتے ہیں یا اس کی اہمیت کا اندازہ اس کے خراب ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ اگر اب کبھی آپ کی گاڑی وغیرہ وقت پر ساتھ نہ دے تو اللہ کا شکر ادا کریں کہ ہزاروں دفعہ آپ مختلف مقامات پر وقت پر پہنچتے رہے ہیں، آج اگر نہیں پہنچ سکے تو کوئی بات نہیں۔کیا ٹریفک جام ہونے کے بعد ہی آپ کوبحال ٹریفک کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے یاجب کبھی روڈ کھلاملے تو دل سے شکریہ کے الفاظ اداہوتے ہیں ؟ اب جب بھی ٹریفک جام ہونے کی صورت میں منہ سے شکوہ شکایت نکلنے لگے تو رکیں، اور ان تمام اوقات کو یاد کریں جب آپ سکون سے اپنی منزل کی طرف گامزن تھے۔
کیا آپ ہر روز شکر ادا کرتے ہیں کہ آپ زندہ ہیں یا اسے بھی معمول کی چیز سمجھتے ہیں۔
ہماری کثریت ایسی ان گنت نعمتوں کیلئے اللہ کا شکر ادا نہیں کرتی لیکن جب یہ چیزیں نہیں ملتیں تو شکایتیں شروع کردیتی ہے ۔
قانون کشش کے مطابق جب آپ کسی چیز کے لئے شکر ادا کرتے ہیں تو اس جیسی یا اس سے بہترچیزیں زندگی میں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس کے بر عکس جب شکایات کرتے ہیں تو اس جیسی یا اس سے بد تر چیزیں زندگی میں آتی رہتی ہیں ۔ ضروری نہیں ہے آپ جس چیز کی شکایت کر رہے ہیں وہی چیز آپ کے لئے مسائل پیدا کرے، مسائل کہیں سے بھی آسکتے ہیں ۔
اگر آپ برا بھلا کہہ رہے ہیں موسم ، ٹریفک ، اپنے افسران ، اپنے شریک حیات ، اپنے خاندان ، اپنے دوستوں ، کسی اجنبی یا لمبی لمبی قطاروںکویا حکومت کو تو آپ اپنی زندگی سے خوبصورتی اور آسانیوں کو دور دھکیل رہے ہیں ،یہی ناشکری ہے۔
یہ بات سب جانتے ہیں اور دنیا کی تقریباً تمام عظیم شخصیات نے سمجھائی ہے کہ منفی ذہن مثبت چیزیں حاصل نہیں کرسکتا۔ منفی خیالات پوری زندگی کو خراب کر کے رکھ دیتے ہیں ۔مزے دار بات یہ ہے کہ آپ جس وقت شکر ادا کر رہے ہوتے ہیں ایسا ہو نہیں سکتا کہ منفی خیالات بھی آرہے ہوں ۔ شکر گزاری پورے دماغ کو مثبت بنادیتی ہے ۔
جو شخص شکر گزاری کا عادی ہوجائے وہ مثبت باتوں کیلئے تو اللہ کا شکر کرتا ہی ہے ،ان معاملات میں بھی ،جن میں لوگ روتے دھوتے اور واویلا مچاتے ہیں ، یہ شخص پرسکون رہتا ہے اورمشکلات کو خدا کا انعام سمجھتاہے۔وہ جانتا ہے ‘‘آزمائش میں اگرآزمائش دینے والے کا خیال آجائے تو وہ آزمائش نہیں رہتی۔ ’’ اسے یقین ہوتا ہے کہ مشکلات مجھے توڑنے کے لئے نہیں سنوارنے کے لئے آئی ہیں ۔

تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب !
یہ توچلتی ہیں تجھے اونچا اڑانے کے لئے

آج سب سے پہلے تو یہ کریں کہ اُن تمام چیزوں کے لئے شکرادا کریں جنہیں آپ ناپسند کرتے ہیں چاہے وہ چیزیں آپ کو کتنی ہی ناپسند کیوں نہ ہوں۔ اور یہ بات یاد رکھیں شکر کرنے کے مواقع ہمارے پاس ہر وقت وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں ۔

 

Let us rise up and be thankful, for if we didn’t learn a lot today, at least we learned a little, and if we didn’t learn a little, at least we didn’t get sick, and if we got sick, at least we didn’t die; so, let us be thankful. -Buddha

‘‘ چلیں اٹھیں اور شکر ادا کریں کیونکہ اگرچہ ہم نے آج بہت زیادہ نہیں سیکھا ہے تھوڑا بہت تو سیکھا ہی ہے۔ اگر چہ تھوڑا بہت نہیں سیکھا کم از کم بیمار تو نہیں ہوئے، اگر بیمار ہو بھی گئے تو کیا ہوا مرے تو نہیں ۔لہذا چلو مل کر شکر ادا کرتے ہیں ’’۔ [گوتم بدھ]

 

آج اپنے ساتھ ایک بالکل مختلف کام کریں۔ آج ان تین لوگوں پر مسکرائیں جن کو آپ کبھی پسند نہیں کرتے تھے یا جن کی موجودگی میں آپ اچھا محسوس نہیں کرتے۔ آج ان کی اچھی باتوں کو یاد کریں ۔ آج ان بری باتوں پر بھی مسکرائیں کہ جن کی وجہ سے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ میں کون کون سی خامیاں ہیں ۔ اس کے علاوہ ان باتوں پر بھی شکر ادا کریں جو آپ کو ناپسند ہیں یا جن پر آپ کو غصہ آجاتا ہے۔ آپ یہ بھی سوچیں کہ آپ سے بھی تو کتنی غلطیاں ہوجاتی ہیں اور لوگ درگزر کردیتے ہیں۔ آپ کے دوست ،آپ کے گھر والے اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالی ۔ جب مجھے اس قدر معاف کیا جاتا ہے اور درگزر کیا جاتا ہے تو میں کیوں یہ کام نہیں کرسکتا ۔یہ سب آپ کے استاد ہیں ، ان کا شکریہ ادا کریں ۔ جن لوگوں کو آپ ناپسند کرتے ہیں جیسے جیسے ان کی مثبت باتیں یاد کر کے آپ شکر ادا کریں گے آپ کے تعلقات ان سے بہتر ہونے لگیں گے ۔ اِس کا فائدہ کسی کو ہو یا نہ ہو آپ کو ضرور ہوگا۔ آپ انہیں کہیں بھی دیکھیں گے تو آپ کو غصہ نہیں آئیگا۔ موڈ خراب نہیں ہوگا، ان کی غیبت نہیں کریں گے، ان سے مقابلہ نہیں کریں گے، ان کی کامیابی سے حسد نہیں کریں گے اور سب سے اہم ان سے نفرت نہیں کریں گے ، کیونکہ نفرت کرنے والا شخص احساسِ کمتری اور خوف کا شکار ہو جاتا ہے۔

Let them hate me, so that they will but fear me. -Julius Caesar

‘‘اُنہیں مجھ سے نفرت کرنے دو تاکہ وہ مجھ سے ڈرتے رہیں’’۔[جولئس سیزر]

اسی طرح ٹریفک جام ہو ، کوئی دیر سے آئے، آپ کی بات کاٹی جائے ، کوئی گاڑی غلط پارک کردے تو آپ شکر ادا کریں گے کیونکہ آپ کو احساس ہوگا کہ کتنی ہی دفعہ آپ کو ٹریفک جام نہیں ملتا، کتنے ہی لوگ وقت پر آبھی جاتے ہیں ، کتنے ہی لوگ آپ کی بات توجہ سے سنتے ہیں ،کتنے ہی لوگ گاڑی ٹھیک طرح پارک کرتے ہیں ۔اس طرح آپ پر سکون رہیں گے، اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام لوگ جو آپ سے وابستہ ہیں وہ بھی پُر سکون ر ہیں گے۔
‘‘اگر آپ کے آنے سے ماحول اچھا نہیں ہوتا تو جانے سے ضرور ہوتا ہوگا۔’’
صرف آج کے دن کوئی منفی بات منہ سے نہ نکالیں بلکہ جنہیں آپ منفی سمجھتے رہے ہیں انہیں نئے انداز سے دیکھیں ، ان سے سیکھیں اور اللہ کا شکر یہ ا دا کریں کہ اُس نے آپ کو ان سے محفوظ رکھا ہے۔ یہ آپ کے لئے چیلنج تو ہوگا لیکن ایک دن کے لئے یہ چیلنج قبول کرلیں ، اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ ایک دن میں کتنی مرتبہ منفی باتیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے ناشکری کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ ایک بہت دلچسپ ترکیب آپ کو سکھائی جارہی ہے اُس پر عمل کریں اس عادت سے نجات مل جائے گی۔ خود کو کسی کے بھی خلاف منفی بات کرتے ہوئے پائیں تو رک جائیں اورپھر اس کی تعریف میں کوئی بات کہہ کر بات مکمل کریں ۔ مثال کے طور پر
……………….. لیکن میں کہوں گا کہ میں دل سے اس کا شکر گزار ہوں کیونکہ…………
یہ جملہ اس کی کسی اچھائی پر ختم کریں ، اور اس کے لئے شکر گزار ہوں ، اس با ت پر سختی سے عمل کریں ۔ اور جب بھی کوئی ناپسندیدہ صورتحال سامنے آئے تو یاد رکھیں اس انگارے کو آگ نہ بننے دیں ، شکر گزاری کے ذریعہ ٹھنڈا کردیں ۔ آپ تو اس جلتے ہوئے انگارے کو بجھارہے ہوں گے لیکن آپ کے اندر ایک ٹھنڈی اور پر سکون روشنی پھیل رہی ہوگی۔

 

 

[نواں دن ]

ان پانچ لوگوں یا چیزوں ے نام لکھیں جن پر آپ کو غصہ آتا ہے یا جن کے متعلق آپ منفی بات کرتے ہیں۔
آج ان کا شکریہ ادا کریں۔ مثال اوپر پیراگراف میں ملاحظہ فرمائیں۔

1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

4۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    4۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

5۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    5۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

فوائد و تاثرات: 
_____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________

 

 

 

راہب اور عورت

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اکیڈو Ekidoنامی ایک لڑکا ، بدھ مت کے مشہور راہب بزرگ تانزان Tanzanکے پاس آیا اور عرض کی،ـ ‘‘میں بہت دور سے آپ کے تلاش میں آیا ہوں، مجھے نروان کی تلاش ہے، برائے مہربانی مجھے اپنی شاگردی میں قبول کر لیجئے؟ ’’
راہب نے کہا کہ ‘‘میری شرائط بہت سخت ہیں، کیا تم ان پر کاربند رہ سکوگے؟ ’’
لڑکے نے ادب سے جواب دیا،‘‘مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے’’۔
اس پر بزرگ بودھ سادھو نے کہا، ‘‘ بدھ مت کے اصولوں کے مطابق تمہیں دنیا کی ساری مصنوعی خوشیاں ترک کرنی ہوں گی، گھر سنسار کی دنیا چھوڑ کر راہبانہ زندگی گزارنی ہوگی، برہمچاری بن کر کسی عورت کو چھونا تو دور تم اسکی طرف نظر اٹھا کر دیکھو گے بھی نہیں۔’’ لڑکے نے اس راہب کی تمام شرائط منظور کر لیں۔ اب یہ دونوں بودھ برہمچاری راہب اور بھکشو گاؤں گاؤں پھرتے ، جو ملتا وہ کھالیتے، نہ ملتا تو روزہ رکھ لیتے۔ نروان کی تلاش میں کبھی کسی کسی جنگل ڈیرہ ڈال کر بیٹھ جاتے۔ وہ راہب اپنے بھکشو کے ساتھ منزلوں پر منزلیں مارتا جا رہا تھا، اسی طرح کے ایک سفر پر چلتے چلتے سرِ شام وہ کسی تیز بہتے دریا کنارے پہنچے ۔


بارش کی وجہ سے وہ علاقے جہاں سے بارش کا پانی بہہ کر دریا کی طرف آتا ہے اب بھی زیرآب تھے، اور دریا میں پانی کا بہاؤ خاصہ تیز تھا لیکن گہرائی اتنی نہیں تھی۔ وہ دونوں جب کنارے پرپہنچے تو وہاں پر ایک خاصی حسین و جمیل نوجوان حسینہ ایک پتھر پر بیٹھی ہوئی دکھائی دی ، جو خود بھی دریا پار کرنا چاہ رہی تھی – لیکن دریا کی روانی دیکھ کر اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ، وہ بھی اسی کنارے پر تھی ، جہاں دونوں راہب اور بھکشو کھڑے تھے ۔
اب دونوں راہب دریا پار کرنے کی تیاری کرنے لگے کیونکہ ان کی منزل ابھی دریا کے پار خاصی دور تھی۔ ایسے میں وہی خوبصورت اور حسین و جمیل حسینہ
انہیں دیکھ کر آگے بڑھی اور انکے نزدیک آئی۔

اس لڑکی نے دونوں راہبوں سے اپنا تعارف رقاصہ کے طور پر کروایا اور لجاجت سے ان راہبوں سے مدد مانگتے ہوئے کہاکہ ‘‘میرا گاؤں اس دریا کے پار ہے، میں اس گاؤں میں ایک محفل کیلئے آئی تھی اور اب واپس جارہی ہوں ۔ آج صبح تک تو دریا بالکل کم تھا، مگر جب واپس آئی ہوں تو دریا میں پانی چڑھ آیا ہے، دریا کا تیز پانی دیکھ کر پارکرنے سے ڈر لگ رہا ہے۔ مجھے تیرنا نہیں آتا اس لیئے میری مدد کیجیے اور دریا کے اس پار اتار دیجیے۔ بھکشو نے تو اسے دیکھے بنا ہی اس کی بات سنی ان سنی کی فوراً دور ہٹ کر کھڑا ہوگیا ۔ البتہ بزرگ راہب نے حامی بھر لی اور اس حسین و جمیل لڑکی کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور دریا میں چل پڑا۔


یہ دیکھ کر بھکشو بے حد مایوس ہوگیا ، کیونکہ راہب پن کا تقاضا تھا کہ وہ کسی عورت کو ہاتھ نہیں لگائیں گے ، لیکن راہب پن کا ایک تقاضا اور بھی ہوتا ہے کہ اپنے سے بڑوں کا ادب اور لحاظ کریں گے، اس لئے بھکشو کی راہب سے اس کے عمل کی وضاحت طلب کرنے کی جرأت نہیں ہوئی ۔ چنانچہ بھکشو بھی ان کے پیچھے پیچھے دریا میں اتر گیا۔
راہب نے دریا پار کرنے کے بعد اس لڑکی کو دوسرے کنارے پر اتار دیا ۔ لڑکی شکریہ ادا کرکے اپنے راستے چل پڑی گئی اور خود راہب بھکشو کے ساتھ بیٹھ کر کپڑے سکھانے لگا۔

پھر وہ دونوں بھی چل پڑے۔ چونکہ اگلا پڑاؤ کافی دور تھا اور سورج بھی ڈھل چکا تھا ، لہٰذا انہوں نے دریا کنارے قیام کر لیا۔
اگلی صبح راہب نے محسوس کیا اس کا بھکشو خاموش اور مایوس سا نظر آرہا ہے۔ اور بڑی دیر سے اس نے کوئی بات نہیں کی ، تب اس نے پوچھا ، ‘‘کوئی بات ہو گئی ہے ؟ تم خاصے افسردہ دکھائی دے رہے ہو ! ’’
بھکشو جو اندر سے پوری طرح اکتا چکا تھا بالآخر سکوت توڑ کر بڑے ناراض لہجے میں کہنے لگا کہ ‘‘بطور راہب ہمیں کسی عورت کو چھونے کی ممانعت ہے ، تو پھر آپ اس عورت کواپنے کاندھے پر اٹھا کر کیوں لے آئے تھے ؟ ’’ پھر بھکشو نے راہب سے راستہ جدا کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئےکہا کہ ‘‘میں تمہیں ایک نیک بزرگ سمجھ تمہارے ساتھ تھا ، لیکن تم نے عورت کو چھونے کاپاپ کیا ہے اس لئے میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتا’’۔


راہب نے تھوڑے وقفے کے بعد جواب دیا ، ‘‘ میں اس لڑکی کو کل شام ہی دریا پار کرانے کے بعد کنارے پر چھوڑ آیا تھا – البتہ لگتا ہے تم ابھی تک اسے اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہو ! ’’


ہم سب دن رات اسی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں۔گھر سے آفس جاتے ہیں تو گھر کو اپنے ساتھ اور آفس سے گھر آتے ہیں تو آفس کو اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ہم نا تو گھر میں مکمل ہوتے ہیں اور نا ہی آفس میں۔یہی وجہ ہے کہ ہماری اکثریت نہ تو رشتوں کو بہتر طور پر نبھا رہی ہے اور نا ہی اپنے پیشے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر پارہی ہے۔یاد رکھیں جو وقت گزرجاتا ہے تو ہمیشہ کیلئے گزر جاتا ہے اس لئے آج اور ابھی میں زندہ رہیں کیونکہ آج ہی زندگی ہے۔
***

بدھ مت کے راہب اور بھکشو قدیم حکایات کو نظموں اور رُباعی کی صورت میں یاد کرتے ہیں جسے وہ ‘‘کوآن’’ Kōanکا نام دیتے ہیں، مندرجہ بالا واقعہ بھی ایک بدھ کوآن سے ماخوذ ہے، جس کے مصنف اٹھارہویں صدی کے جاپانی بودھ راہب اور ٹوکیو یونیورسٹی کے پروفیسر ہارا تانزان Hara Tanzan ہیں ۔

 

 

(جاری ہے)

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 4

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 4   کامیاب اور پُراثر لوگوں ...

عادت بدلو، زندگی بدلو

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں ایک  امیر اور ایک غریب میں کیا فرق ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن