Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے

آئیے مراقبہ کرتے ہیں ۔ 10

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

حصہ 10

نوجوانوں اور طالب علموں کے لیے مراقبہ

زندگی کے مختلف ادوار میں نوجوانی کا دور عموماً سب سے سہانا اور سنہرا دور کہلاتا ہے ۔ بچپن کا معصوم اورشاہی دور حال ہی میں رخصت ہوا ہوتا ہے لیکن عملی زندگی کے جھمیلے اور غم روزگار ابھی پوری طرح شروع نہیں ہوتا۔ لڑکا ہو یا لڑکی لڑکپن سے نوجوانی کی حدود میں قدم رکھتے وقت دلوں میں آرزوؤں ، امنگوں ، خواہشات ، ولولوں اور عزائم کا ایک ہجوم ہوتا ہے ۔ والدین ،گھر بار اور ارد گرد کا ماحول بچپن کے تصورات کی نسبت کچھ بدلا بدلا سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ انسان کی زندگی کا یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بچپن کی معصومانہ بے خبری کے دور سے گذر کر اپنے ’’ہونے ‘‘ کا کچھ کچھ احساس ذہن پر حاوی ہونے لگتا ہے ۔ یہ احساس جو ابتداء میں ایک ننھی سی کونپل کی حیثیت رکھتا ہے جلد ہی بڑھ کر ایک تناور درخت کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے اور نوجوان اپنی شناخت کی تلاش میں مصروف یا شناخت کے سحر میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ لڑکوں اور لڑکیوں میں اپنے ہونے کا احساس یا تو انہیں ، اپنے بہت کچھ ہونے کا یقین دلانے لگتا ہے یا کسی ناکامی یا کسی وجہ سے مسلسل نطرانداز ہونے کی وجہ سے اس احساس میں تبدیل ہوجاتا ہے کہ میں تو کچھ نہیں ہوں ، لوگوں کی نظروں میں میری کوئی ویلیو نہیں ہے۔ عمر کے اسی دور سے نوجوان کی شخصیت میں خود اعتمادی اور خود انحصاری یا احساس کمتری کے اوصاف نمایاں ہوتے ہیں۔ عملی زندگی میں اعلیٰ مقام کے حصول کا دارومدار بہت حد تک اس دورمیں متعین کی گئی ترجیحات پر ہے ۔
زندگی کے اس سنہرے دور کی سب سے اہم مصروفیت عموماً علم کا حصول ہے ۔ یہ اسکول کی تعلیم کی تکمیل اور مزید تعلیم کے حصول کا زمانہ ہوتا ہے ۔ زندگی کا یہ دور جس قدرشاندار اور سہانا ہوتا ہے ۔ اسی قدر اہم اور نازک بھی ہے۔ گھر میں اپنے مقام اور اہمیت کا تعین ، مستقبل کے بارے میں ذہن میں اٹھنے والے سوالات ، تعلیمی میدان میں پوری کامیابی حاصل نہ کرسکنے کا خوف ، عملی زندگی میں بہتر مقام حاصل نہ کرپانے کے اندیشے ، اس کے علاوہ جنس کے حوالے سے پیدا ہونے والے تقاضے اور ان تقاضوں میں آنے والی شدت زندگی کے اس دور کی عام باتیں ہیں۔
کسی بھی قوم کے لیے اس کے نوجوان بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ کوئی معاشرہ اپنے نونہالوں اور نوجوانوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما ، دیکھ بھال ، تعلیم و تربیت پر جتنی توجہ اور صلاحیتیں صرف کرتا ہے اسی مناسبت سے اس معاشرہ کو ترقی اوراستحکام ملتا ہے ۔
حکیم الامت علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ تعلیمی ، سماجی یا ثقافتی اداروں کا اس سے بڑھ کر اور کوئی مقصد نہیں ہوسکتا کہ وہ فرد کواس کی لامحدود صلاحیتوں کا احساس دلائیں ۔بچپن کا دور گزار لینے کے بعد اور عملی زندگی میں داخل ہونے سے پہلے حصولِ علم میں مصروف ایک نوجوان کی شخصیت کو کن اعلیٰ اوصاف سے مزین ہونا چاہئے؟ کیا یہ اعلیٰ اوصاف (جن تذکرہ آگے آئے گا ) موروثی یا پیدائشی طور پر شخصیت میں موجود ہوتے ہیں یا یہ اعلیٰ اوصاف اپنی شخصیت میں پیدا بھی کئے جاسکتے ہیں ؟
ان اعلیٰ اوصاف سے کس طرح کام لیا جائے کہ ایک نوجوان آنے والے دور میں ایک کامیاب فرد اور معاشرے کے لئے مفید شخصیت بن سکے ؟
اپنی شخصیت کو ان اعلیٰ اوصاف سے مزین کرنے اور ان سے بہتر طور پر کام لینے کے طریقے سیکھنے میں مراقبہ سے کیا رہنمائی اور مدد ملتی ہے؟ آئندہ سطور میں اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے ان ہی سوالات کے جواب پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔


انسانی شخصیت ظاہری اورباطنی دو رخ پر مشتمل ہے۔ کسی ایک روپ یا رخ پر ضرورت سے زیادہ توجہ دے کر اور دوسرے رخ کو نظر انداز کردینے والا فرد متوازن شخصیت کا حامل قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ اپنی شخصیت کو معاشرہ کے دوسرے افراد کے سامنے زیادہ سے زیادہ قابل قبول اور پر کشش بنانے ، ظاہری اور باطنی صلاحیتوں کو سمجھنے اور ان سے بھرپور کام لینے کے لئے ضروری ہے کہ ظاہری رخ کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ شخصیت کے باطنی رخ کو سنوارنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔
اسی ضرورت کے پیش نظر اس مضمون میں ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ پر بات کرتے ہوئے ان نکات پر بھی گفتگو کی ہے جن کا تعلق شخصیت کے ظاہری رخ سے ہے ۔ چنانچہ شخصیت کے حوالے سے یہ گفتگو تین ذیلی عنوانات کے تحت کی جارہی ہے۔

  1. ظاہری وضع قطع
  2. عام جسمانی صحت اور دماغی صحت
  3. ذہنی صحت اور رویّہ

 

1-ظاہری وضع قطع
ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے لوگوں میں پذیرائی اور احترام ملے۔ کسی شخص میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہوں لیکن اسے معاشرہ میں قرار واقعی پذیرائی اور مناسب مقام حاصل نہ ہوسکے تو اس کے ذہن پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسا شخص اگر ان منفی اثرات کا بخوبی مقابلہ نہ کرسکے تو وہ شدید اضطراب ، مایوسی حتیٰ کہ ڈپریشن تک کا شکار ہوسکتا ہے ۔
لوگوں میں بہتر تاثر بنانے میں شخصیت کے ظاہری رخ کی اپنی اہمیت ہے ۔ لوگوں کا سامنا کرتے ہوئے آپ اپنی شخصیت کے بارے میں جو اولین تاثر چھوڑتے ہیں وہ آپ کی ظاہری وضع قطع سے ہی مرتب ہوتا ہے۔ اپنی شخصیت کو دوسروں کے لئے زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنانے کے لئے ظاہری وضع قطع کی اہمیت کو ہمیشہ سامنے رکھئے ۔ اس مقصد کے لئے جن باتوں پر خصوصیت کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
لباس( الف): ہمیشہ صاف لباس زیب تن کیجئے۔ ضروری نہیں کہ آپ جو لباس پہنیں وہ بہت قیمتی ہو لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ جو کچھ بھی آپ پہنیں وہ صاف ستھرا ہو۔ اس سلسلے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ آپ کا لباس پھٹا ہوا نہ ہو۔ پھٹا ہوا کپڑا پہن کر کبھی اسکول ، کالج یا گھر سے باہر مت جائیں۔ اگر کوئی لباس پھٹ جائے تو یہ ضروری نہیں کہ آپ اسے اٹھا کر پھینک دیں ۔ اسے سی لیں یا رفو کرلیں مگر پھٹی ہوئی حالت میں نہ پہنیں۔
جوتے : جوتا کم قیمت کا ہو یا مہنگا ۔ جوتے کی قیمت کی نسبت جوتے کا صاف اور پالش شدہ ہونا زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ بہت سے لوگ جوتے یا سینڈل کی صفائی پر توجہ نہیں دیتے ۔ کئی کئی دن تک جوتوں پر پالش نہیں کرتے ۔ ان کے جوتے کے سامنے کے حصے یا اطراف سے چمڑے کی تہہ اتر چکی ہوتی ہے مگر وہ اسے پالش نہیں کرتے ۔ یاد رکھئے ! گرد آلود ، غیر پالش شدہ ، اکھڑے ہوئے چمڑے کے جوتے پہن کر آپ اپنی شخصیت کی منفی تشہیر خود کرتے ہیں ، جوتوں کی صفائی پر ہمیشہ توجہ دیجئے۔
موزے : موزے اگر میلے ہوں یا ان سے بدبو آئے تو آپ کی شخصیت کے بارے میں بہت خراب تاثر قائم ہوگا۔ ہمیشہ صاف موزے پہنئے ۔
ذاتی صفائی (الف) : ذاتی صفائی میں جسمانی صفائی شامل ہے۔ نہاتے ہوئے کان ، گردن ، کہنی ، ایڑی اور پیر کی انگلیوں کی صفائی پر خصوصی توجہ دیجئے۔
(ب) تراشے ہوئے ناخن : ناخنوں کی صفائی اور تراش پر توجہ دیجئے ۔ بہت سے لوگ ہاتھ کے ناخن کی صفائی اور تراش کا خیال تو رکھتے ہیں۔ لیکن پیروں کے ناخنوں کی صفائی سے بالکل لاپرواہ ہوتے ہیں ۔ مناسب وقت پر نہ تراشے جانے کے باعث ان کے پیر کے ناخن سخت اور بد وضع ہوجاتے ہیں۔ ان پر دوسروں کی نظر پڑے تو وہ اس کا اچھا امپریشن نہیں لیتے ۔
( ج)دانتوں کی صفائی : صاف و چمکدار دانت نہ صرف بات کرتے ہوئے اور ہنستے ہوئے خوشنما معلوم ہوتے ہیں بلکہ یہ آپ کی صحت کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی کا پورا خیال رکھئے۔ کسی کے منہ سے بد بو آئے یا دانت میلے نظر آئیں تو دوسرے لوگ اُس کے قریب آتے ہوئے یا اُس سے بات کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں ۔
( د)بالوں کی صفائی : بالوں کی صفائی اور مناسب تراش پر مکمل توجہ دیجئے ۔ سر کے بالوں کی صفائی نہ ہو تو بعض اوقات میل یا پسینہ کی وجہ سے سر پر خارش محسوس ہوتی ہے دوسرے لوگوں خصوصاً اپنے اساتذہ یا سینیئر لوگوں کے سامنے سرکھجاتے رہنا اچھی بات نہیں

2- جسمانی ودماغی صحت
بچپن ہو ، جوانی ہو یا بڑھاپا صحت تو زندگی کے ہر دور کی ضرورت ہے ۔ لیکن نوجوانی کا دور زندگی کا سب سے صحت مند توانا اور مضبوط دور کہلاتا ہے ۔
ایک نوجوان کے چہرے پر سرخی و شادابی بشاشت ، تازگی اور توانائی نظر آنی چاہئے۔ ڈھلکے ہوئے کندھے ، کمزور سا بے رونق چہرہ ، پیلی پیلی آنکھیں کسی نوجوان میں عموماً بیماری کی نہیں بلکہ اپنی صحت کی طرف سے غفلت اور لاپروائی برتنے کی علامت ہوا کرتی ہیں ، آپ نوجوان ہیں تو جوانی کی بہار آپ کے چہرے اور جسم سے نظر آنی چاہئے۔ روشن روشن آنکھیں ، چہرے پر جوان خون کی سرخی و شادابی ، اٹھے ہوئے کندھے ، سیدھی کمر ، مضبوط جسم والی شخصیت بننا چاہئے …اس کے لئے آپ
(الف)خوراک پر توجہ دیجئے : نوجوانی کے دور میں توانائی کا بھرپور ذخیرہ ہوتا ہے ۔ کم خوراک لے کر بھی آپ گھنٹوں بلا تکان کام کرسکتے ہیں۔ کم غذائیت والی اشیاء سے پیٹ بھر کر بھی کمزوری محسوس کئے بغیر دیر تک بھاگ دوڑ کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جسم پر اس کے منفی اثرات نہیں ہوتے ۔ منفی اثرات یقیناً مرتب ہوتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو اس وقت اس کا احساس نہ ہو۔لیکن یہ منفی اثرات چالیس سال کی عمر کے بعد یا خواتین میں دو تین بچوں کی زچگی کے بعد اپنے وجود کا احساس دلائیں گے ۔ تاہم متوازن اور مناسب مقدار میں غذا نہ لینے سے فوری طور پر چہرے پر اس کے اثرات ضرور نظر آجائیں گے۔
نوجوانی کے دور کا کھایا پیا نہ صرف اس دور میں جسم کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ زندگی کے آخری ایام تک کام آتا ہے ۔ ایک پاؤ دودھ اگر نوجوانی کے دور میں پیا جائے تو اس کا فائدہ نہ صرف اس وقت پہنچتاہے بلکہ اس سے جسم کے عضلات کی جو پرورش ہوتی ہے اس کی وجہ سے اس کا فائدہ پچاس سال کی عمر میں بھی حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ ایک پاؤدودھ اگر پچاس سال کی عمر میں پیا جائے تو اس کا فائدہ صرف اسی وقت ہوگا اور وہ بھی جزوی طور پر۔ لہٰذا نوجوانی کے دنوں میں کھانے پینے پر بھرپور توجہ دیں اس بات کا خیال رکھیں جو کچھ آپ کھائیں پیئں وہ غذائیت سے بھرپور ہو ۔
میری نو عمری کے ایک دن کا واقعہ ہے ۔ میں قلندر بابا اولیاء ؒ کے گھر واقع حیدری میں ان کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھارہا تھا ۔ آپ نے کھانا ختم کیا تو احتراماً میں نے بھی ہاتھ روک لیا ۔ آپ نے مجھ سے فرمایا ’’ تم اور کھانا کھاؤ ‘‘ میں نے کچھ تکلف برتا ۔ آپ نے فرمایا ’’ ارے بھئی اچھی طرح کھانا کھاؤ ، پڑا رہے گا ۔ کام آئے گا ‘‘۔
یاد رکھئے ! نوجوانی کا کھایاپیا ادھیڑ عمری یا بڑھاپے کے لئے ایک طرح سے سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتا ہے ۔
(ب ) ورزش: ۔ غذا کی طرح نوجوانی کے دنوں میں کی گئی ورزش بھی دور رس فوائد رکھتی ہے۔ آپ کو فوری طور پر بھی فٹنس حاصل ہوتی ہے جبکہ اس دور میں کی گئی ورزش کی وجہ سے جسم کو جو لچک ، مضبوطی اور توانائی ملتی ہے وہ متوازن طور پر زندگی گزاری جائے تو زندگی کے آخری ایام تک جسم کو فائدہ پہنچاتی رہتی ہے ۔
ورزش کے ضمن میں اس بات کا خیال رکھئے کہ ورزش ایسی ہو جس سے جسم کے ہر حصہ کو حرکت ملے بعض لڑکے شام کو کرکٹ کھیلتے ہیں ان سے پوچھو کہ بھئی تم ایکسر سائز کرتے ہو وہ کہتے ہیں جی ہاں ہم روز کرکٹ کھیلتے ہیں۔ کرکٹ یا اس جیسے دوسرے کھیلوں میں بھاگ دوڑ کی وجہ سے دوران خون تو ضرور تیز ہوجاتا ہے کچھ پٹھوں (مسلز) کو بھی تحریک مل جاتی ہے لیکن اس سے جسم کے تمام حصوں کو مناسب تحریک نہیں ملتی لہٰذا صرف کھیلنے کو ورزش کے متبادل مت سمجھئے ۔ کسی ہیلتھ کلب میں داخلہ لے کر ورزش کیجئے یا پھر کسی باغ ، کھلے میدان میں جاگنگ اور ورزش کیجئے ۔ یا گھر پر ہی ہلکی ورزش کیجئے۔ سوئمنگ بھی ایک بہت اچھی ورزش ہے ۔
(ج ) معمولات : متوازن غذا اور مناسب ورزش کے ساتھ ساتھ نوجوانی کے دنوں میں اپنے روزمرہ معمولات کی تنظیم پر بھی توجہ دیجئے۔ خاص طور پر سونے اور جاگنے کے اوقات مقرر کیجئے اور ان کی حتی الامکان پابندی کیجئے۔ اسکول کالج یا یونیورسٹی سے فارغ ہو کر گھر پر روزانہ پڑھائی کے لئے وقت ضرور مقرر کیجئے ۔
یاد رکھئے دور طالبعلمی میں آپ کی اولین ترجیح صرف اور صرف علم کا حصول ہونا چاہئے۔ دوستوں رشتہ داوں سے ملنا ، غیر نصابی سرگرمیاں ، گھومنا پھرنا ان چیزوں کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن ان تمام سرگرمیوں میں پہلی ترجیح یعنی حصول علم سے باقی بچ جانے والے وقت میں مصروف ہونا چاہئے۔ ان سرگرمیوں کے لئے حصول علم کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہئے۔


-3 دماغی صحت
دماغی صحت اور ذہنی صحت کا تذکرہ ہم نے الگ الگ عنوانات کے تحت کیاہے ۔ دماغی صحت کے عنوان کے تحت ہم یادداشت کی صلاحیت کا تذکرہ کریں گے۔ اچھی یادداشت کی اہمیت و ضرورت زندگی کے ہر دور میں مسلمہ ہے لیکن دورِ طالب علمی میں بہتر یادداشت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ بچپن اور نوجوانی کے دور میں چیزوں کو پڑھ کر یاد کرلینا اور انہیں یاد رکھنا آسان بھی ہوتا ہے ۔ عمر کے اس حصہ میں یاد کی گئی چیزیں عموماً زندگی کے آخری دور تک یاد رہتی ہیں اسی وجہ سے قرآنِ کریم حفظ کرنے کے لئے بھی بچپن یا نوجوانی کا دور ہی بہتر خیال کیا جاتا ہے ۔ بہت سے طلبہ و طالبات کورس کی کتابوں سے اس لئے گھبراتے ہیں کہ ان کے خیال میں ان میں لکھی ہوئی باتوں کو یاد رکھنا بہت مشکل ہے ۔ جبکہ میری نظر میں اپنے کورس کے مضامین پڑھ کر اس مندرجات یا نفس مضمون یاد کرنا کچھ زیادہ مشکل کام نہیں ہے ۔ میں نے بہت سے طالبعلموں کو یادداشت کی کمزوری کی شکایت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
ایک روز کالج کے ایک طالب علم میرے پاس مطب میں تشریف لائے ۔ وہ اپنی یادداشت کی کمزوری سے اسقدر نالاں تھے کہ ان کا دل پڑھائی سے ہی اچاٹ ہوگیا تھا۔ ان کی دو چار باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ ان کی یادداشت اتنی بھی خراب نہیں ہے ۔ خرابی اگر ہے تو ان کے پڑھائی کے طریقے میں ہے ۔میں نے ان سے پوچھا آپ نے آج کا اخبار پڑھا ہے ؟ ان کا جواب اثبات میں تھا۔ میں نے ان سے اس روز کے اخبار میں شائع ہونے والی خبروں کے بارے میں معلوم کیا۔ انہوں نے مجھے بالکل ٹھیک ٹھیک بتایا کہ اس روز اخبار کی سرخی کیا تھی۔ دوسری خبریں کس بارے میں تھیں حتیٰ کہ انہوں نے بعض خبروں کے بارے میں یہ بھی بتایا کہ وہ اخبار کے صفحہ پر کس جگہ شائع ہوئی تھیں ۔کیا واقعی اس نوجوان کی یادداشت کمزور تھی ؟
میرا اپنا جواب تو نفی میں ہے دراصل اسے کورس کی کتاب پڑھنے اور اسے یاد رکھنے کا صحیح طریقہ بتایا ہی نہیں گیا۔ صرف یہ طالب علم قصوروار نہیں ، قصور وار (معذرت کے ساتھ ) اس کے اساتذہ اور والدین بھی ہیں، جبکہ کافی قصور نظام تعلیم کا بھی ہے ۔
دستیاب حالات میں یادداشت کیسے بہتر بنائی جائے ؟ جس طرح جسمانی صحت کے لئے متوازن غذا اور ورزش کی ضرورت ہے اسی طرح دماغی صحت خصوصاً یادداشت کے لئے بھی ورزش یا ایکسر سائز کی ضرورت ہے ۔ یادداشت بہتر بنانے والی ایک ورزش سادہ بھی ہے اور آسان بھی ۔ اس ورزش یا مشق کے ذریعے آپ تھوڑی سی توجہ اور دلچسپی کے ذریعے پڑھی ہوئی باتوں کو یاد رکھ سکتے ہیں ۔ آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کسی فلم یا ڈرامے کی کہانی ، اخبار میں پڑھی ہوئی خبریں ، رسالے میں چھپا ہوا کوئی افسانہ بغیر رٹے ہوئے یاد ہوجاتے ہیں ۔ جب یہ چیزیں یاد رہ سکتی ہیں تو کورس کی کتابوں میں پڑھی ہوئی چیزیں کیوں یاد نہیں رہ سکتیں ۔ تھوڑی سی کوشش سے ایسا ہوسکتا ہے ۔ اس کے لئے آپ کو اپنے مضمون سے آگہی اور قربت پیدا کرنا ہوگی ۔ یہ آگہی اور قربت اس مضمون کو آپ کے لئے دلچسپ بنادے گی ۔ دوسرا کام یہ کرنا ہوگا کہ آپ ایک نشست میں بہت زیادہ صفحات نہ پڑھیں ، کم پڑھیں ۔ ایک بار پڑھنے کے بعد دوبارہ پڑھیں ۔ اس کے بعد اپنے کسی کلا س فیلو یا گھر میں کسی کے سامنے خواہ وہ عمر یا تعلیم میں کم ہی کیوں نہ ہو ، جو کچھ آپ نے پڑھا ہے اسے بات چیت کے انداز میں دہرائیں اور ان سے پوچھیں کہ آپ نے ان سے کیا کہا ہے ۔ جو کچھ وہ کہیں آپ غور سے سنیں۔ اس کے بعد جو کچھ آپ نے ان سے کہا تھا اسے لکھ لیں ۔ اب اپنا لکھا ہوا کتاب سے ملاکر دیکھ لیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ شاید چند الفاظ ہی کا ردوبدل ہوا ہوگا ورنہ آپ کی لکھی ہوئی بات اور کتاب میں بیان کی گئی بات تقریباً ایک ہی ہوگی ۔ اس سلسلے میں ایک بات اور یاد رکھیں جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اس کے الفاظ یا پیراگراف یاد کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ اس کا مقصد ومفہوم سمجھنے کی کوشش کریں ۔ اسی طرح لکھتے وقت کتاب کے الفاظ نقل کرنے کے بجائے اس سے اخذ کردہ مفہوم اپنے الفاظ میں لکھئے ۔ ایک بار آپ اس طریقہ کار کو ٹھیک طرح سمجھ گئے تو اپنا سبق جلدی یاد کرنا اور دیر تک یاد رکھنا آپ کے لئے بہت آسان ہوجائے گا ۔
یادداشت بہتر بنانے میں روحانی علوم سے کس طرح مدد لی جاسکتی ہے اس کا تذکرہ آگے آئے گا

 

(جاری ہے)

 

 

 

۔

(جاری ہے)

اپریل 2013ء


یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ بھی دیکھیں

آنکھیں بڑی نعمت : کروموپیتھی 33

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، ...

مائنڈ فُلنیس – 48

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے