Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے
روحانی ڈائجسٹ / Uncategorized / ذیابیطس کے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے چند ضروری نکات!

ذیابیطس کے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے چند ضروری نکات!

کہتے ہیں کہ صحت کی صحیح قدر تو بیمار پڑنے کے بعد ہی آتی ہے۔ تن درستی کے دنوں میں صحت کا خیال رکھا جائے تو کئی بیماریاں آدمی کے پاس بھی نہ آئیں۔ ان بیماریوں میں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ جن لوگوں کو ذیابیطس ہے ان کی اولاد کو بھی یہ بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ جن بچوں یا جوانوں کے والد، والدہ یا دونوں ذیابیطس کے مریض ہیں وہ اپنی عمر کی تیسری، چوتھی یا پانچویں دہائی میں ذیابیطس کے مریض بن سکتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تقریباً سوا تین کروڑ (3,25,00,000) سے زیادہ ہے۔ موجودہ مریضوں کی اس تعداد سے آئندہ دس برسوں میں ذیابیطس کے نئے مریضوں کی تعداد کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

ذیابیطس کی فیملی ہسٹری رکھنے والے کروڑوں صحت مند مرد و خواتین خود کو ذیابیطس سے بچا سکتے ہیں….؟:

اس سوال کا جواب ہے۔ جی ہاں ! ایسے افراد خود کو ذیابیطس سے مکمل طور پر بچا سکتے ہیں یا اس مرض کو کئی سال تک ٹال (Delay) سکتے ہیں۔

ذیابیطس کے مریض والدین کی ذمہ داریاں:

ذیابیطس کے مریض اپنی اولاد کو آگہی دے کر اور صحت مند طرز زندگی (Healthy Life Style) اختیار کرنے پر قائل کرکے انہیں ذیابیطس سے تادیر (Delay)یا ساری عمر کے لے محفوظ (Prevent)رکھنے میں اپنا کردار اداکرسکتےہیں۔
ذیابیطس کی فیملی ہسٹری رکھنے والے صحت مند افراد کو خود بھی بر وقت احتیاطی اقدامات کرنا چاہئیں۔
صحت مند آدمی عام طور پر یہ سمجھتا ہے کہ فلاں بیماری مجھے نہیں ہوگی۔ پاکستان میں تعلیم اور آگہی کی کمی کی وجہ سے بھی بڑی تعداد میں لوگ اس حقیقت سے بےخبر ہیں کہ بیمار پڑنے کے امکانات میں فیملی ہسٹری اہم کردار ادا کرتی ہے۔
فیملی ہسٹری سے واقف کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں بیماری آنی ہی ہے تو صحت کی حالت میں کھانے پینے کے خوب مزے اُڑالینے چاہییں۔
میری اس تحریر کے قارئین کے دو بڑے گروپ بن سکتے ہیں۔
ذیابیطس کی فیملی ہسٹری والے اور ذیابیطس نہ ہونے کی فیملی ہسٹری والے۔
1– Having Family History of Diabetes
2– Having No Family History of Diabetes
اپنی صحت کی حفاظت کے لیے ہر شخص کو احتیاط کرنی چاہیے تاہم جن صحت مند قارئین کی فیملی میں ذیابیطس موجود ہے انہیں ابھی سے ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے اقدامات شروع کردینے چاہئیں۔

 

ذیابیطس سے بچنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیا ہیں….؟

دو چیزیں کھانے پینے میں احتیاط زیادہ ضروری ہے۔ ان میں ایک شکرہے، دوسری چکنائی۔ کھانے پینے میں حالت صحت میں ہی احتیاط شروع کردیجیے۔
تیس سال کی عمر کے بعد چکنائی، سفید شکر کا استعمال چھوڑ دیجیے یا بہت کم کردیجیے۔ شکر والے سافٹ ڈرنکس، شربت، مرتکز فروٹ جوسز (Concentrated Fruit Juices)، آئس کریم اور مٹھائیوں سے اجتناب کیجیے۔
کھانوں میں گھی استعمال نہ کیجیے۔ زیادہ تلی ہوئی (Deep Fried) اشیاء مثلاً سموسے، نمک پارے، پکوڑے کھانا بہت کم کردیں۔ پیزا، برگر، فرائز وغیرہ بہت کم کھائیں۔ یاد رکھیے ….! فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال صحت کے لیے مفید نہیں۔ وہ غذائی اشیاء جن میں Preservatives شامل کیے گئے ہیں ان سے اجتناب کیجیے۔ ڈبوں میں پیک غذائی اشیاء استعمال نہ کیجیے۔
سگریٹ نوشی کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ ذیابیطس کی فیملی ہسٹری والے افراد سگریٹ نہ پئیں۔ اگر سگریٹ پیتے ہیں تو اب ترک کردیں۔
الکحل، شراب پینے سے سب سے زیادہ نقصان جگر کو پہنچتا ہے۔ ذیابیطس کی فیملی ہسٹری والے افراد شراب نہ پئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق پاکستان میں شراب پینے والے یا دیگر نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والے مردوں اور عورتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ ان برائیوں سے متاثر ہونے والوں میں پندرہ سے تیس سال کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔

ذیابیطس سے بچنے کے لیےکھانے پینے میں کیا لیا جائے….؟

بنیادی بات یہ یاد رکھیں کہ سادہ غذا لینی ہے۔ اس غذا میں نمک اور چکنائی بہت کم ہو۔
بغیر چھنے ہوئے آٹے کی روٹی لیں۔ کھانوں میں سبزیاں، دالیں، چاول، دہی، گوشت، مچھلی، موسمی پھل لیں۔ پانی زیادہ پئیں۔

 

وزن نہ بڑھنے دیں:  یاد رکھیے! وزن کی زیادتی ذیابیطس کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے۔

جسمانی مشقت: روزانہ کم از کم بیس منٹ پیدل چلیے یا ورزش کیجیے۔ آرام طلبی اور پُرآسائش طرززندگی ذیابیطس کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔

اعصابی دباؤ Stress: صحت مند فرد میں نیند کی کمی، اسٹریس، ٹینشن، ڈپریشن، ذیابیطس کے امکانات کو بڑھادیتے ہیں۔ ذیابیطس سے بچنے کے لیے اسٹریس مینجمنٹ (Stress Management )بھی سیکھنا چاہیے۔

تشخیصی ٹیسٹ:    ذیابیطس کی فیملی ہسٹری رکھنے والے صحت مند مرد و خواتین کو پینتیس سال کی عمر کے بعد سال میں کم از کم ایک بار ڈاکٹر کے مشورے سے اپنے میڈیکل ٹیسٹ کروانے چاہئیں۔
معالج ابتداء میں عموماً مندرجہ ذیل ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں۔
1– Complete Blood Count (CBC)
2– Fasting Blood Sugar (FBS)
3– HbA1c
4– Cholesterol
5– S.G.P.T
6– Creatinine
ان ٹیسٹ کے مطالعے کے بعد آپ کے معالج آپ کی صحت کی حالیہ صورت حال سے واقف ہو کر آپ کو مزید گائیڈ کر سکیں گے۔
یا درکھیے….! صحت ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ہر انسان کو اس نعمت کی قدر کرنا چاہیے۔
ذیابیطس کی فیملی ہسٹری رکھنے والے مرد و خواتین بروقت احتیاط کرکے اپنی صحت کی زیادہ بہتر حفاظت کرسکتےہیں۔
اپنی صحت کا خیال رکھیے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے۔

 

 

ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی

h

یہ بھی دیکھیں

مسجد میں بچے … روشن مستقبل

ترکی میں اکثر مساجد میں مختلف مقامات پر آویزاں تختی میں تحریر ہے کہ : …

ایک غریب مہمان نواز کا دسترخوان

الحمدللہ پاکستانی قوم میں اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺکی خوشنودی کے لیے بڑھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے