Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / روحانی ڈاک / روحانی ڈاک – جولائی 2020ء

روحانی ڈاک – جولائی 2020ء

 
 ↑ مزید تفصیلات کے لیے موضوعات  پر کلک کریں↑

Image Map

 

 


 

***

بیٹوں کے روزگار، مکان پر نظربد اور بندش! 

سوال: مکان کی فروخت کے لیے دو سال سے کوشاں ہیں۔ خریداری کے لیے لوگ اس عرصے میں آتے رہے اور مکان کی تحسین و آفرین کرکے گئے۔ کچھ نے قیمت سن کر خاموشی اختیار کی، کچھ نے قیمت دریافت ہی نہیں کی۔
تین بار گفت و شنید کے بعد معاملہ طے پایا۔ خریدار بیعانے کی رقم کے ساتھ آئے لیکن بعد میں ارادہ بدل دیا۔ سبب کا اندازہ نہ ہوسکا۔
بڑے بیٹے نے کاروبار بند کرکے دوسرے شہر منتقل ہو کر وہاں رہائش کا بندوبست کیا۔ مکان کی فروخت نہ ہونے کے سبب مجبوراً زمین فروخت کرکے اب وہاں کام شروع کیا ہے۔ چھوٹے بیٹے کی ملازمت ایک نیم سرکاری ادارے میں تھی جو تقریباً چھ سات ماہ قبل ختم ہوگئی۔ ابھی تک اسے ملازمت ملنے میں کامیابی نہیں ہوئی ہے۔
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ بیٹوں کے روزگار اور مکان کی فروخت کے معاملات کسی نظر بد یا بندش کی زد میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دو سال سے مکان کی فروخت کا معاملہ تکمیل کو پہنچتے پہنچتے رہ جاتا ہے۔
ہم دو سال سے صبر و شکر کی زندگی گزارتے ہوئے اللہ کی مدد کے طالب ہیں۔ محفل مراقبہ میں بھی دعاؤں کی درخواست ہے۔

 

۔

جواب: قرآن پاک کی سورۃ الزلزال ایک بڑے سفید کاغذ پر سیاہ روشنائی سے لکھوا کر لکڑی کا فریم کروا کر یا پلاسٹک کوٹنگ کروا کر مکان کے اندر دیوار پر لگا دی جائے۔
کم ازکم اکیس دن تک مغرب کے بعد اس مکان میں سورۂ رحمٰن اور سورہ مزمل کی تلاوت کا اہتمام کیا جائے۔ اہل خانہ میں سے کوئی صاحب یا صاحبہ بلند آواز سے تلاوت کرلیں یا پھر کسی قاری مثلاً قاری عبدالباسط عبدالصمد کی آواز میں تلاوت سنی جائے۔
صبح شام سات مرتبہ سورہ فلق، سات مرتبہ سورہ الناس اور تین مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر پانی پر دم کرکے گھر کے چاروں کونوں میں چھڑکدیں۔
شام کے وقت گھر میں لوبان یا کسی اور مناسب لکڑی کی دھونی دیں۔
اپنے سب گھر والوں سے کہیں کہ وہ جب اپنے گھر میں داخل ہوں تو تین مرتبہ یہ دعاپڑھیں۔

اَللّٰھُمَ اِنِّی اَسْئَا لُکَ خَیْرُ الْمُوْلِجَ وَخَیْرَ الْمُخْرَجِ
بِسْمِ اﷲِ وَلَجْنَا وَبِسمِ اﷲِ خَرَجْنَا وَعَلَی اﷲِ رَبَّنَا تَوَکَّلْنَا  

[سنن ابی داؤد]

عشاء کی نماز کے بعد 101مرتبہ سورہ آل عمران(3)کی آیت 37 میں سے

 اِنَّ اللّـٰهَ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْـرِ حِسَابٍ

گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر معاشی معاملات میں بہتری، روزگار میں برکت و ترقی فراہم ہونے کی دعا کریں۔

 

 


***

خیر وعافیت سے شادی ہوجائے

سوال: میری انٹرنیٹ پر ایک لڑکے سے دوستی ہوگئی تھی۔ ایک سال بعد اس لڑکے نے مجھے پرپوز کیا اورمجھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔لڑکا دوسرے شہر میں رہتاتھا۔ میں نے والدہ صاحبہ سے اس بات کاذکر کیا پہلے تو وہ بہت ناراض ہوئیں پھر میری خوشی کی خاطر مان گئیں۔
میں نے لڑکے سے کہا کہ وہ ہمارے گھر اپنی والدہ کو لے کر آجائے۔ اس کے بعد سے لڑکے نے ٹال مٹول کرنا شروع کردی۔ کبھی کہتاہے کہ اس ہفتہ تمہارے گھر آرہے ہیں ۔کبھی کہتاہے کہ کل آرہے ہیں۔اس کےبعد نا آنے پر معذرت کرتاہے۔ میں نے کہا کہ سچ سچ بتاؤ کہ کیا بات ہے۔ اس کے بعد سے اس لڑکے کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔ اس بات کو چھ مہینے ہوگئے ہیں۔
پچھلے ہفتے والد صاحب کے دور کے جاننے والے ہمارےگھر آئےاورمجھے پسندکرکے چلے گئے۔ ان کا چند ماہ بعد شادی کا ارادہ ہے۔جب سے شادی کا سلسلہ شروع ہواہے اس دن سے اس لڑکے نے دوبارہ مجھےمیل کرنی شروع کردی ہے۔میں اب اس لڑکے سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتی۔اس لڑکے کے پاس میرے میسیج سیف ہیں۔مجھے ڈرہے کہ کہیں وہ اس کا مس یوز نہ کرے۔ آپ ایسا عمل بتائیں کہ میری خیر و عافیت کے ساتھ شادی ہوجائے۔
۔

جواب: درود شریف :

 اللّٰهُـمَّ صَـلِّ عَلَى مُـحَمَّد وَعَلَى آلِ مُـحَمَّد بِـعَدَدِ كُلِّ ذَرَّة مِائَةَ أَلْف أَلْف مَـرَّةوَباَرِكْ وَسَلِّمْ…..  

101 مرتبہ اسم الٰہی یاوہاب، اکیس مرتبہ سورہ بقرہ (2)کی آیت 163،

وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ ۖ لَّآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْـمٰنُ الرَّحِيْـمُO 

اکیس مرتبہ سورۂ حشر (59)کی آیت 24 

هُوَ اللّـٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَـهُ الْاَسْـمَآءُ الْحُسْنٰى ۚ يُسَبِّـحُ لَـهٝ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ O 

پھر 101 مرتبہ اسم الٰہی یاوہاب اور آخر میں درود شریف پڑھ کر
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بارگاہ رب العزت میں دعاکی جائے۔
یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔ تین ماہ تک ہر جمعرات حسب استطاعت صدقہ کرتے رہیں۔
ناغہ کے دن شمار کرکے بعد میں پورےکرلیں۔
اللہ آپ سے راضی ہو ں اور آپ کو دین و دنیا کی خوشیاں اور کامیابیاں عطا فرمائیں۔ آمین 

۔

 


***

عاشق مزاج شوہر 

سوال: میری شادی کو آٹھ سال کا عرصہ گزر کیا ہے۔ یہ آٹھ سال میں نے اس اُمید پر گزار دیے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شوہر کے مزاج میں تبدیلی آجائے گی۔ اب مجھے اس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ اُن میں تبدیلی نہیں آسکتی۔
میری شادی غیروں میں ہوئی تھی اس لئے ان کے بارے میں زیادہ معلومات کسی کو نہیں تھیں۔ شادی کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو شروع ہی سے عاشق مزاج رہے ہیں اور ہر خوبصورت لڑکی پر ڈورے ڈالنا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ شادی کے کچھ ہی عرصے بعد انہیں اپنے خاندان کی ایک لڑکی اس قدر بھائی کہ یہ اُس کے ساتھ دوسری شادی کا پکا ارادہ بھی کربیٹھے لیکن لڑکی والے کسی صورت راضی نہ ہوئے۔
میں نے اپنے شوہر کی خدمت میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی حرکتیں سامنے آنے پر بھی پیار سے انہیں سمجھایا ہے۔ اب میں تھک چکی ہوں آخر میں بھی انسان ہوں۔

 

جواب: صبح سویرے بیدار ہوجائیں اور وضوکرکے:

:

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمینO   – [سورہ الانبیاء ۔ 87]

اﷲ نور السمٰوٰتِ والارض O  – [سورہ نور۔35]

لاتاخذہٗ سنتہ وّ لا نوم O  – [سورہ بقرہ۔ 255 ]

بسم اللہ شریف کے ساتھ مندرجہ بالا تینوں آیتیں تین تین مرتبہ پڑھ کر ایک گلاس پانی پر دم کردیں۔
یہ پانی اپنے شوہر کوپلادیں اور ان کے لیے دعا کریں کہ انہیں آپ کے سب حقوق اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق ملے۔
یہ عمل چالیس روز تک کرنا ہے۔
ناغہ کے دن شمار کرکے بعد میں پورے کرلیں۔ اللہ تعالیٰ اپناکرم فرمائیں گے۔

 

 


***

کاروبار بند ہونے کوہے….

سوال:میں نے ایک سال پہلے کاسمیٹکس کی دکان کھولی تھی جو چند ماہ اچھی چلی ۔
ایک دن صبح جب میں دکان پہنچا تو دکان کے دروازے پر دونوں طر ف سڑا ہوا گوشت رکھا ہواتھا اورتالوں پر خون لگا ہوا تھا۔میں نے کسی کی شرارت سمجھ کر صفائی کروائی اور دکان کھول کر بیٹھ گیا۔ اس دن مجھے وقفہ وقفہ سے گھبراہٹ محسوسہوئی۔
اس کے بعد سے دکانداری کم ہونے لگی۔دکان میں کاسمیٹکس کی تمام رینج رکھی ہوئی ہے مگر اس کے باوجود گاہگ کو میری دکان جیسے نظر ہی نہیں آتی۔
وقار عظیمی صاحب ….! کاروبار کم ہوتے رہنے سے معاشی مشکلات میں گھرتا جارہاہوں۔ کوئی وظیفہ بتائیں کہ میری دکان پہلے کی طرح چلنے لگے اورکاروبار میں خیروبرکت ہو۔

 

جواب: عشاء کی نماز کے بعد باوضو ہوکر مصلے پر قبلہ رخ بیٹھ کر 101 مرتبہ

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَصَلِّ عَلیَ الْمُؤْ مِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ O

پڑھ کربرکت وترقی اوررزق میں فراوانی کے لیے دعا کریں۔
یہ عمل کم ازکم ایک ماہ تک جاری رکھیں۔
شام کے وقت سات مرتبہ سورہ فاتحہ اورتین تین مرتبہ سورہ فلق اورسورہ الناس پڑھ کر دکان کے چاروں کونوں پر دم کردیاکریں۔
یہ عمل اکیس روزتک جاریرکھیں۔
حسب استطاعت صدقہ کردیں۔ ہر جمعرات کم از کم دومستحق افراد کو کھانا کھلائیں۔

 


***

بیٹے کی خواہش

سوال: میری شادی پینتیس سال کی عمر میں بہت دعاؤں اوربڑی منتوں کے بعد ہوئی ۔اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مجھے بہت محبت کرنے والا شوہر اوربہت اچھا سسرال ملا ہے۔ شادی کے دوسال بعد میری بیٹی کی پیدائش پر سب نے خوشیاں منائیں۔ چند ماہ بعد شوہر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہماری دوسری اولاد بیٹا ہو۔
دوسال بعد دوسری بیٹی ہوئی۔ پھر تیسری اورچوتھی بیٹی ہوئی تو شوہر مجھ سے دوردور رہنےلگے۔ گھر پرکم توجہ دینے لگے ہیں۔ اب وہ اپنا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزارتے ہیں۔ رات کو دیر سے گھر آتے ہیں اور تھکاوٹ کا بہانہ کرکے سوجاتے ہیں۔
میں نے کئی بار ان سے بات کرنی چاہی لیکن وہ خاموش رہتے ہیں۔
میں جانتی ہوں کہ ان کے دل میں بیٹے کی خواہش ہے لیکن اب وہ اپنی زبان سے بیٹے کے لیے نہیں کہتے۔
آپ مہربانی فرماکر ایسا عمل یا وظیفہ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ اس مرتبہ ہمیں بیٹے سے نواز دے۔ 

 

جواب: اپنے شوہر کے دیر سے گھر آنے یا اپنے دوستوں میں زیادہ وقت گزارنے پر خود کو قصور وار مت سمجھیے۔ اگر آپ کے ہاں بیٹا ہوتا تب بھی شاید وہ ہر وقت گھر میں نہ رہتے۔ بعض مرد معاشی مصروفیات کے بعد اپنے گھر میں وقت گزارنا پسند کرتے ہیں ، بعض مرد دن بھر کام کاج کی تھکن کے بعد اپنے دوستوں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ آپ کے شوہر دوستوں میں خوش رہنے والے آدمی ہیں۔ ان کی اس بات کو اپنے لیے محبت میں کمینہسمجھیے۔
آپ خود ہی دیکھ لیجیے بحیثیت شوہر یا بحیثیت والد انہوں نے اپنی ذمہ داری کی ادائی میں کبھی کوتاہی یا لاپروائی برتی ہے….؟
میرا اندازہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا ہے۔
بطور روحانی علاج عشاء کی نماز کے بعد تین سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کا اسم

یااول

گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر پانی پر دم کرکے میاں بیوی دونوںپئیں۔
آپ کے شوہرغذاؤں میں بندگوبھی زیادہ استعمال کریں۔ اس کے علاوہ چھوارے ،چلغوزے اورسورج مکھی کے بیج بھی روزانہ کھایاکریں۔
یہ عمل کم از کم تین ماہ تک جاری رکھیں۔ 

 


***

وجاہت و خوبصورتی کا مراقبہ

سوال: میرا مسئلہ اپنی شخصیت میں جاذبیت و کشش کے فقدان کا ہے۔ میرا رنگ گہرا، ناک چپٹی ہے، ہونٹ باریک، آواز زنانہ ہے۔
لوگوں کی طرح طرح کی طنزیہ باتوں کو میں نے کبھی اہمیت نہ دی اورہمت نہ ہاری۔ آج میں ایم بی اے کرچکا ہوں اور اچھی جگہ برسرروزگار ہوں۔
آج کے دورمیں اکثرلوگ ظاہری شکل وصورت کو بھی بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اب میری شادی کا مسئلہ ہے۔ معمولی شکل وصورت کی وجہ سے شادی میں بہت مشکل پیش آرہی ہے۔میں چاہتاہوں کہ آپ مجھے وجاہت کے لیے کوئی مراقبہ بتادیں۔

 

جواب: رات کو سوتے وقت آنکھیں بند کرکے یہ تصور کریں کہ میں ایک باغ میں ہوں۔ باغ میں گلاب کے سرخ پھول کھلے ہوئے ہیں۔ ان پھولوں کی مہک ہر طرف پھیلی ہوئی ہے ۔
جب تصور قائم ہوجائے تو لمبے لمبے سانس لے کر اس خوشبو کوسونگھیں۔ چند دنوں کی مشق کے بعد آپ کو گلاب کی خوشبو آنے لگی گی۔ کچھ عرصہ تک اس خوشبو سے لطف اندوز ہوتے رہیں اور مراقبہ جاری رکھیں۔
ان شاء اﷲ نوے روز کے اس عمل سے آپ کے اندر مردانہ وجاہت اور کشش آجائے گی۔
مراقبہ کے دوران خیالات اگر آتے ہیں تو آنے دیں، خیالات کو نہ تو اہمیت دیں اور نہ انہیں رد کریں، وہ خود گزر جائیں گے۔
سرخ شعاعوں میں تیار کردہ پانی ایک ایک پیالی روزانہ صبح اور شام پئیں۔

 


***

حسد کے اثرات!

سوال: پانچ سال پہلے میری شادی دور کے رشتے داروں میں ہوئی۔ میرے شوہر کے دو بھائی، دو بہنیں ہیں۔ میرے شوہر بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ وہ ایک کمپنی میں سوفٹ انجینئر ہیں۔ ماشاء اللہ اچھی آمدنی ہے۔ گھر میں سب پیار محبت سے رہتے تھے۔
ایک سال پہلے ان کے والد کا اچانک انتقال ہوگیا۔ گھرانے کے سربراہ کے اس طرح چلے جانے سے سب اہلِ خانہ بہت دکھی اور بہت ڈسٹرب ہوئے۔ والد کے انتقال کے چند ماہ بعد بہنوں، بھائیوں نے کہا کہ والد کا مکان بیچ کر ہم اپنا حصہ الگ کرنا چاہتے ہیں۔
میرے شوہر نے پراپرٹی کی ویلیو معلوم کی اور دونوں بہنوں اور بھائیوں کا جو جو حصہ بنتا تھا وہ انہیں دے دیا لیکن وہ مکان نہیں بیچا کہ یہ والد صاحب کی نشانی ہے۔
گزشتہ چند ماہ سے ہمارے ساتھ عجیب و غریب واقعات ہورہے ہیں۔ کبھی گھر کے دالان میں سڑا ہوا گوشت ملتا ہے اور کبھی مین دروازے پر کسی جانور کی ہڈیاں رکھی ہوئی ملتی ہیں۔ کبھی رات کو گھر کے اندر لوگوں کے چلنے کی آوازیں آتی ہے۔ رات کو اکثر سوتے میں کوئی میرے شوہر کے بالوں کو پکڑ کر کھینچتا ہے جس سے وہ گھبرا کر اٹھ جاتے ہیں اور ساری را ت جاگتے رہتے ہیں۔ شوہر کو ایسا لگتا ہے کہ ان کے کندھوں پر منو ں وزن رکھ دیاگیاہو۔
ان کو بہت زیادہ غصہ آنے لگا ہے۔ طبیعت میں بےچینی اور دل پر دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ آفس کے معاملات بھی خراب ہورہے ہیں۔ وہ آفس میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھ جاتے ہیں۔
ہم نے دو تین عامل حضرت سے معلوم کیا۔ ان سب نے یہ کہا کہ آپ لوگوں پر سفلی عمل کروایا گیا ہے۔ انہوں نے توڑ بھی کیا لیکن کوئی خاص فرق نہیں ہوا۔
اب شوہر کی حالت مزید بگڑتی جارہی ہے انہیں مختلف آوازیں آتی ہیں جو رات بھر سونے نہیںدیتیں۔
محترم وقار صاحب….! ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے پھر نجانے کوئی کیوں ہمارے پیچھے پڑگیا ہے۔ ہم بہت اذیت میں ہیں۔ آپ سے التماس ہے کہ کوئی وظیفہ بتائیں کہ ہر قسم کے برے اثرات ختم ہوجائیں۔ 

 

 

جواب: آپ کے شوہر کو روحانی علاج کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مدد (Psychological Support) کی بھی شدید ضرورت ہے۔ والد کے انتقال کا صدمہ ان سے برداشت نہیں ہورہا۔ اس وجہ سے ان کے ذہن پر شدید دباؤ ہے۔ اللہتعالیٰ سے دعا ہے کہ انہیں صبرِ جمیل عطا ہو،آمین۔
بہتر ہوگا کہ کسی اچھے نفسیاتی معالج سے کاؤنسلنگ کے لیے وقت لیا جائے۔
بطور روحانی علاج صبح اور شام کے وقت اکیس اکیس مرتبہ سورہ البقر:(02)کی آیت109،

وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِـمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُـمُ الْحَقُّ ۚ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّـٰى يَاْتِىَ اللّـٰهُ بِاَمْرِهٖ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌO

اور سورہ حشر(59)کی آیت22

هُوَ اللّـٰهُ الَّـذِىْ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْـمٰنُ الرَّحِـيْـمُ O

تین تین مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر شہد پر اور تھوڑے پانی پر دم کرلیں۔ دم کیا ہوا شہد ایک ایک چمچ شوہر کو پلائیں اور دم کیا ہوا پانی .گھر کے چاروں کونوں میں چھڑک دیں۔
رات سونے سے پہلے سات مرتبہ سورۂ فلق، سات مرتبہ سورہ الناس اور تین مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر اپنے اور شوہر کے اوپر دم کردیاکریں۔
مکان میں کم از کم اکیس دن تک ایک مقررہ وقت پر پابندی کے ساتھ لوبان یا کسی اور مناسب لکڑی کی دھونی دی جائے۔
آپ کے شوہر کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء
یا حی یا قیوم
اور دیگر سب گھر والے وضو بےوضو کثرت سے
یاحفیظ یاسلام
کا وردکرتے رہیں۔
حسب استطاعت صدقہ کردیں۔

 


***

لڑکیوں کی شادیاں!

سوال: میری چار بیٹیاں ہیں ۔چاروں بیٹیوں کی شادی نہ ہونے کا مسائل ہیں۔بڑی بیٹی کی عمر بیالیس سال ،اس سے چھوٹی اڑتیس سال ،پھرستائیس سال اورسب سے چھوٹی بائیس سال کی ہوگئی ہے۔
کافی عرصے بعد کوئی رشتہ آتا ہے مگر بات نہیں بن پاتی۔رشتے کے لیے آنے والے لڑکیوں کو پسند بھی کرلیتے ہیں مگربعد میں خاموشی طاری ہوجاتی ہے۔
برائے کرم کوئی وظیفہ بتائیں کہ میری چاروں بیٹیاں جلد اپنے اپنے گھر کی ہوجائیں۔

 

جواب: عشاء کی نماز کے بعد 111مرتبہ سورہ اعراف(07) کی آیت 189

هُوَ الَّـذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْـهَا زَوْجَهَا لِـيَسْكُنَ اِلَيْـهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَـمَلَتْ حَـمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۖ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّـٰهَ رَبَّـهُمَا لَئِنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُـوْنَنَّ مِنَ الشَّاكِـرِيْنَ O
پڑھیں، اس کے بعد گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھ کر سب بیٹیوں کی شادی میں حائل رکاوٹیں دور ہونے اور اچھی جگہ رشتے طے ہونے کی دعاکریں۔
حسب استطاعت صدقہ کردیں۔ ہر جمعرات کم ازکم تین مستحق افراد کو کھانا کھلادیاکریں۔

 


***

والدین میں نااتفاقی 

سوال: ہم دوبھائی اورتین بہنیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ ہمارے گھر میں ہرنعمت موجود ہے۔ بھائیوں کا اچھا روزگارہے۔مسئلہ یہ ہے کہ میرے والد اوروالدہ کی آپس میں بہت لڑائی ہوتی ہے۔ذرا ذرا سی بات پر دونوں آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اورایک دوسرے پر گندی گالیوں اورفحش کلمات کی بوچھاڑ کردیتے ہیں۔ لڑائی جھگڑے اور بدزبانی کے اس ماحول سے چھوٹے بہن بھائی زیادہ پریشان ہیں۔ والد کے سخت رویے اور اپنے عدم برداشت کی وجہ سے ہماری والدہ اب ہمارے ساتھ بھی بہت غصے میں بات کرتی ہیں۔ وقت بے وقت اپنی بیٹیوں کو نجانے کیا کیا کہہدیتیہیں۔
میری چھوٹی بہن نے کہنا شروع کردیا ہے کہ مجھے امی اچھی نہیں لگتیں۔ میں اسے سمجھاتا ہوں تو کہتی ہے کہ آپ کو معلوم نہیں کہ والدہ مجھ پر ایسے ایسے الزامات لگاتی ہیں کہ میرا دل کرتا ہے کہ خودکشی کرلوں۔
میری بڑی بہن والدین کو سمجھاتی ہیں لیکن وہ آپس میں لڑنے سے باز نہیں آتے۔ والدین کی روز روز کی لڑائی کی وجہ سے محلے والے بھی اب ہمارا مذاق اُڑانے لگے ہیں۔
میری خواہش ہے کہ گھر میں والدین کی ناچاقی اور بد سلوکی ختم ہوجائے اور وہ آپس میں عزت و احترام کے ساتھ رہیں۔ ہمارے گھر کا ماحول بھی پرسکون ہوجائے۔ اس مقصد کے لیے آپ کوئی ایسی دعا بتائیں جو میں خود یا میری بہن پڑھ سکیں۔ 

 

جواب: جس گھر میں والدین ایک دوسرے کی عزت نہ کرتے ہوں اور آپس میں لڑتے رہتے ہوں وہاں بچوں پر شدید منفی اثرات کا اندیشہ رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں پلنے والے کئی بچے اعتماد کی شدید کمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ خود اعتمادی نہ ہونے کی وجہ سے ان بچوں کو عملی زندگی میں قدم قدم پر رُکاوٹیں محسوس ہوتی ہیں۔
باہم لڑائی جھگڑا کرنے والے والدین کسی اور کے لیے نہیں بلکہ خود اپنی اولاد کی خاطر ہی ضبط و برداشت سے کام لے لیں تو ان کے گھر کا ماحول بھی بہتر ہوجائے گا اور ان کے بچوں کو ڈر، خوف، عدم تحفظ، احساسِ کمتری ، خود اعتمادی میں کمی جیسے مسائل کا سامنا بھی نہیں ہوگا۔
اپنے والدین کے باہمی رویوں میں بہتری کے لیے بطور روحانی علاج :

صبح نہار منہ اورشام کے وقت اکیس اکیس مرتبہ سورہ فرقان(25) کی آیت نمبر63

وَعِبَادُ الرَّحْـمٰنِ الَّـذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَاِذَا خَاطَبَهُـمُ الْجَاهِلُوْنَ قَالُوْا سَلَامًا O

تین تین مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر پانی پر دم کرکے والد اور والدہ کو پلائیں۔
اگر یہ ممکن نہ ہو تو مذکورہ بالا وظیفہ پڑھ کر دونوں کا تصورکرکے دم کردیں اور دعاکریں کہ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک سے رہنے کی توفیق عطا ہو ۔
اکیس مرتبہ اللہ تعالیٰ کا اسم
یَا وَدُوْدُ 
تین تین مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر پانی یا چائے پر دم کرکے اپنے والد اور والدہ کو پلادیاکریں۔
یہ عمل کم از کم ایک ماہ تک جاری رکھیں۔

 


***

گھر کا بگڑا ہوا ماحول کیسے ٹھیک کیاجائے….؟

سوال:ہم سات بہن بھائی ہیں۔ چار بہنیں تین بھائی۔ ہمارے والدین میں آپس میں کبھی نہیں بنی ۔والد صاحب غصے کے تیز ہیں۔ موقع بے موقع امی کو ڈانٹتے رہے۔ کبھی ان پر ہاتھ بھی اٹھایا۔امی بھی ہمارے والد کو ترکی بہ ترکی جواب دیتی رہیں۔ اس دوران بچے بھی پیدا ہوتے رہے اور لڑائی جھگڑے اورباہمی بے عزتیوں کے اس ماحول میں پرورش پاتے رہے۔
والدین کی یہ شدید لڑائیاں آج تو کچھ کم ہوگئی ہیں لیکن اب بہن بھائی ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سب ایک دوسرے کی شکل سے بیزار ہیں۔ ساتوں بہن بھائی کی آپس میں بات چیت بھی نہیں ہے۔ بس کوئی ضروری بات ہوئی توسپاٹ لہجے میں جلدی سے کرلیتے ہیں۔ اگر چار پانچ منٹ تک بات ہوجائے تو اس کاانجام بحث اورلڑائی کی شکل میں ہی نکلتاہے۔ دوبہنوں کی شادی ہوچکی ہے۔
دو سال پہلے بھائی کی شادی ہوئی۔ اس کی بیوی نے سسرال کا یہ ماحول دیکھا تو الگ ہوجانے کی ٹھان لی۔ وہ ہر روز ہمارے بھائی سے ہم سب کی خاص طورپربہنوں کی شکایتیں لگاتی تھی۔ اپنی بیوی کی باتیں سن سن کر بھائی پر انکشاف ہوا کہ یہ گھر تو اب رہنے کے قابل نہیں رہاہے۔ چند ہفتوں بعد وہ اپنی بیوی کو ساتھ لے کر کرایہ کے مکان میں شفٹ ہوگیا۔
چند ماہ پہلے دوسرے بھائی کی شادی ہوئی۔ اس نے تو شادی سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ الگ رہے گا۔ شادی کے تیسرے ہفتے ہی وہ ایک فلیٹ میں شفٹ ہوگیا۔
اب اس گھر میں والدین کے ساتھ ہم دوبہنیں اور ایک بھائی رہتے ہیں۔ والد صاحب ہمارے چھوٹے بھائی کو نکما اورکام چور کہتے ہیں۔ جواب میں وہ بھی والد صاحب کو بہت کچھ کہہ دیتاہے۔ایک سنگین مسئلہ یہ ہے کہ بہن بھائیوں میں سےکوئی والد صاحب کی حمایت کرے تو والدہ اس سے ناراض ہوجاتی ہیں۔کوئی والدہ کی حمایت کرے تو والد صاحب اسے اپنا مخالف سمجھتے ہیں۔
ماں باپ کے ان جھگڑوں میں ہمارے چھوٹے بھائی نے ہمیشہ ماں کی سائیڈ لی ہے اس لیے والد صاحب اس سے ہمیشہ ناراض ہی رہتے ہیں۔نہ صرف یہ کہ اسے برا بھلا کہتے ہیں بلکہ دوسروں کے سامنے بھی اس کی برائیاں کرتے ہیں۔
ہماری ایک بہن والد صاحب کی بہت زیادہ سائیڈ لیتی ہیں۔ان سے ہماری امی سخت ناراض ہیں اورانہیں برابھلا کہتی رہتی ہیں۔
ماں باپ کے خراب تعلقات اوربہن بھائیوں کے باہمی جھگڑوں کی وجہ سے محلے والے ہمیں طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہیں اوررشتہ داروں میں ہمارا مذاق اڑایا جاتاہے۔
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہمارے گھر کا بگڑا ہوا ماحول کس طرح ٹھیک ہوگا….؟۔

 

جواب: آ پ کے گھریلو ماحول کی خرابی کی بنیاد غلط سوچ ہے۔ اس سوچ کا تعلق عورت کوکمتر، حقیر سمجھنے اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار سے ہے۔
بہت سے مرد گھر میں رعب جمانے کے لیے اپنی عورت کے ساتھ سخت رویہ رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔
محبت ،پابندیوں اور سختیوں میں نہیں بلکہ احترام اورآزادیوں میں پھلتی پھولتی ہے۔ گھر میں سختی کرنے سے بیوی اور اولا دپر مرد کا رعب تو قائم ہوسکتا ہے لیکن ایسا کرنے سے ان کے دلوں میں جگہ نہیں بن پاتی۔
والدین کی لڑائیاں اورایک دوسرے پر الزام تراشیاں گھر کے ماحول میں گھٹن کا سبب بنتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والے بچے شرمندگی، بیزاری اوراحساس کمتری میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔
قوت ارادی ،اعتماد اوربرداشت کی کمی کی وجہ سے ایسے اکثر لوگ محنت سے بھی کترانے ہیں اورشکایتی اورناراض رویہ اختیارکرلیتےہیں۔ اپنے بہن بھائیوں میں سے کسی کو آگے بڑھتا دیکھیں تو اپنے دل میں اس کے خلاف بغض پالنے لگتے ہیں۔
انسانی شخصیت کو کمزور کردینے والے ایسے عوامل سے چھٹکارا پانے کے لیے ماحول میں تبدیلی لانا ضروری ہے۔ ماحول کی تبدیلی کے لیے اہل خانہ کے رویوں میں اور مخالف باتوں پر ردعمل کے انداز میں تبدیلیاں درکار ہیں۔
آپ کے والدین ایک دوسرے سے سخت ناراض اور شاکی ہیں۔ ان کی باہمی شکایتیں دورکرنا تو اب بہت مشکل ہے لیکن انہیں اولاد کی طرف سے اطمینان دلایا جاسکتاہے۔
جو میاں بیوی آپس میں لڑتے رہتے ہیں ان میں سے اکثر اپنے بڑھاپے میں اپنی اولاد کی طرف سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ ضعیفی کے دور میں ان کے بچے ان سے لاتعلق ہوجائیں گے۔
اس خوف اور گھراہٹ میں بوڑھے والدین کئی غلط فیصلے بھی کرڈالتے ہیں۔ ایسے والدین کی اولاد اگر گھر کاماحول کچھ بہتر بنانا چاہے تو اولین قدم کے طورپر اپنے والدین کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ اولاد ان کا احترام کرتی ہے اور ان کی خدمت کرنا چاہتیہے۔
آپ کے والد اور والدہ نے اولاد کو حامی اور مخالف گروپوں میں تقسیم کرلیا ہے لیکن اولاد کو کسی ایک کا ہونے کے بجائے دونوں کا یکساں احترام اور خیال کرنا چاہیے۔
مجھے اندازہ ہے کہ ان باتوں پر عمل کرنا آسان نہیں ہے لیکن تیس چالیس سال پرانی تلخیوں کو فراموش کردینا بھی تو آسان نہیں ہوتا۔
رات سونے سے پہلے اکتالیس مرتبہ سورہ قریش گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے والدین کاتصورکرکے دم کردیں اور ان کے مزاج میں نرمی اوراصلاح کی توفیق ملنے کی دعاکریں۔
یہ عمل کم از کم چالیس روزتک جاری رکھیں۔
ناغہ کے دن شمار کرکے بعد میں پورے کرلیں۔

 

 


***

ظہر کے بعد طبیعت خراب!

سوال: ہم تین بہنیں اورایک بھائی ساتھ رہتے ہیں۔چھ ماہ پہلے بھائی کا ٹرانسفر کراچی ہوگیا۔ ان کے ساتھ ہم بھی کراچی آگئے۔ یہاں ایک بلڈنگ میں دوسرے فلور پر ایک فلیٹ لیا۔
اس فلیٹ میں آنے کے تیسرے دن سے ہی ہم تینوں بہنوں کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی۔ ڈاکٹروں کو چیک کروایا لیکن کوئی وجہ سامنے نہیں آئی۔ظہر کے وقت سے عصر تک ہمیں فلیٹ میں بہت سردی لگتی ہے اوراکثر اوقات ہمارےہاتھ پاؤں سن ہوجاتے ہیں۔بعض اوقات اس دوران ہم حرکت بھی کرنا چاہیں تو حرکت نہیں کرسکتے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس وقت گھر سے باہر ہوں تو طبیعت بالکل ٹھیکرہتیہے۔
کئی مرتبہ مولوی صاحب سے دم کروانے پرتو ایک دو دن حالات ٹھیک رہتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ وہی کیفیات پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ شروع ہوجاتی ہیں۔ ظہر سے عصر کے درمیان شدید ذہنی اور جسمانی اذیت محسوس ہوتی ہے۔ دیگر اوقات میں ہم بالکل ٹھیک رہتے ہیں۔ ایک خاص بات یہ کہ یہ کیفیت صرف ہم بہنوں کی ہوتی ہیں بھائی کو یہاں کبھی کوئی دباؤ وغیرہ محسوس نہیں ہوا۔

 

جواب: فجر کی نماز کے بعد سورہ فاتحہ ایک سو پچیس مرتبہ پڑھی جائے۔ اس تعداد میں سورہ فاتحہ گھر کے تین یا چار افراد مل کربھی تلاوت کرسکتےہیں۔
سورہ فاتحہ کی تلاوت سے پہلے اور تلاوت کے بعد گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کا ورد کرلیاجائے۔
دن میں تقریباً ایک بجے سات سات مرتبہ سورہ آل عمران (3)کی آیت 154 
اورسورہ فتح (48)کی آیت 29

تین تین مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر ایک ایک ٹیبل اسپون شہد یا ایک ایک پیالی پانی پر دم کرکے پئیں اور اپنے اوپر بھی دم کرلیں۔
یہ عمل تینوں بہنیں علیحدہ علیحدہ بھی کرسکتی ہیں یا کوئی ایک بہن پڑھ لیں اور شہد یا پانی پر دم کرکے خود بھی پی لیں اور دونوں بہنوں کو بھیپلادیں۔
عصر و مغرب کے درمیان سات مرتبہ سورہ فلق، سات مرتبہ سورہ الناس اور پانچ مربتہ آیتالکرسی پڑھ کر پانی پر دم کرکے سب گھر والوں کو پلائیں اور تھوڑا پانی .گھر کے چاروں کونوں میں چھڑک دیں۔
قرآن پاک کی سورہ الزلزال ایک بڑے سفید کاغذ پر سیاہ روشنائی سے لکھواکر لکڑی کافریم کرواکریا پلاسٹک کوٹنگ کروا کر مکان کے اندر کسی اونچی جگہ پر لگادیں۔
حسب استطاعت صدقہ بھی کردیں۔

 


***

بوڑھاپے میں تیسری شادی!

سوال: میرے سسر کی عمر پچھتر(75) سال سے زیادہ ہوگئی ہے۔ انہیں سب بابوجی کہتے ہیں۔ ان کے چھ بیٹے اور دوبیٹیاں ہیں جو سب شادی شدہ ہیں۔
پندرہ سال پہلے میری ساس کے انتقال کے ڈیڑھ سال بعد بابو جی نے ایک بیوہ خاتون سے جن کی عمر اس وقت پینتالیس سال تھی نکاح کرلیا۔ ان خاتون کے تین بچے تھے۔
بابوجی کا اپنا بڑا کاروبار ہے۔ روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ بابوجی نے ان خاتون کی دونوں بیٹیوں کی شادیاں اپنے ہاتھوں سے کروائیں۔ ان کے بیٹے کو ایک اچھی جگہ ملازمت دلوائی لیکن بابوجی کی یہ شادی نہ چل سکی۔ سات سال پہلے ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔ اس علیحدگی کے ایک سال بعد بابو جی نے اپنی بیٹی سے بھی کم عمر ایک خاتون سے نکاح کرلیا۔
میرے سسر من موجی آدمی تو پہلے ہی مشہور تھے لیکن اپنے سے اتنی کم عمر خاتون سے نکاح کے بعد ان میں بہت تبدیلیاں آئیں۔ سب سے اہم یہ کہ انہوں نے اپنے بیٹوں اوربیٹیوں سے دوری اختیار کرنا شروع کردی۔
میرے شوہر، دیور سب کے علیحدہ علیحدہ کاروبار ہیں لیکن اپنے ہر بیٹے کے کاروبار میں بابوجی کاچالیس فیصد حصہ بھی ہے۔
بابوجی اپنے سب بیٹوں کے کاروباری حالات سے واقفیت رکھتے تھے اور انہیں مشورے دیاکرتے تھے۔ جب سے ان کی تیسری شادی ہوئی ہے وہ آہستہ آہستہ اپنے بیٹوں کے نہ صرف کاروبار سے بلکہ ان کے گھر بار سے بھی لاتعلق ہونےلگے۔
اب حال یہ ہوگیاہے کہ وہ اپنے چار بیٹوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ باقی دوبیٹوں کے بارے میں بھی ان کے خیالات کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں۔
بابوجی کی تیسری بیگم کے چار بھائی ہیں۔ ایک کسی وکیل کے ہاں اسٹنٹ ہے۔ دو بھائی فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں اورایک بھائی کپڑے کی دکان پر سلیز مین ہے۔ بیگم صاحبہ نے بابو جی کو پتہ نہیں کیا پٹی پڑھائی ہے کہ اب وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے بیگم صاحبہ کے بھائیوں کو اپنے ساتھ کام میں شاملکرلیں۔
بابوجی کی اس بات پر سارے خاندان میں ہلچل مچ گئی ہے۔ خاندان کے کئی لوگوں نے بھی بابوجی کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس عورت نے میری بہت خدمت کی ہے۔ میں اس کے بھائیوں کو کاروبار میں شامل کرکے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بیٹوں سے تو کچھ نہیں مانگ رہا بلکہ اپنے چالیس فیصد حصے کی بنیاد پر بیگم کے بھائیوں کو شامل کرنے کا کہہ رہاہوں۔
خاندان والوں نے ان سے کہا کہ آپ کا اپنا کاروبار بہت اچھا ہے۔ آپ اس میں اپنے نئے سالوں کو شامل کرلیں اس پر وہ کہتے ہیں کہ نہیں…. یہ کاروبار تو مرتے دم تک میں صرف اپنے نام ہی رکھوں گا۔
میرے شوہر بتاتے ہیں کہ بابوجی نے ان کی ماں کے ساتھ زندگی بھر بہت سخت رویہ رکھا۔ اب بابوجی اپنی نئی بیگم پر محبت اور دولت لٹا رہے ہیں تو میرے شوہر اور ان کے بھائی بہن اسے اپنی مرحومہ والدہ کی توہین سمجھتے ہیں۔کاروبار میں ان کے بھائیوں کی شراکت کویہ لوگ اپنی زندگی میں مداخلت سمجھتے ہیں۔
بابوجی کے سب بیٹے بیٹیاں ان کی نئی بیگم کے بھائیوں کو علیحدہ کاروبار میں مدد دینے پرتیار ہیں حالانکہ ان لوگوں نے کبھی اپنا کوئی کام نہیں کیا۔ چھوٹی موٹی ملازمتیں ہی کر رہے ہیں….لیکن بابوجی کااصرار ہے کہ ان چاروں کو کاروبار میں شریک کیا جائے اور انہیں ساتھ بٹھایا جائے۔
بض لوگوں کو خیال ہے کہ یہ اسکیم دراصل ان کی بیگم صاحبہ نے تیار کی ہے اوربابوجی ان کے ورغلانے میں آکر ہی یہ سب کررہے ہیں۔
محترم بھائی جان…. ! روزانہ کئی لوگ اپنے بہت زیادہ الجھے ہوئے مسائل لے کر آپ کے پاس آتے ہیں۔ آپ ان مسائل کو ہمدردی اوربہت توجہ سے سنتے ہیں۔ روحانی ڈاک میں آپ کسی مسئلے کے ایسے پہلؤں کا ذکر کرتے ہیں جو عام لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوتاہے۔
بھائی جان….! کئی رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اس عورت نے بابوجی پر کچھ کروادیاہے۔اس کے زیر اثر بابوجی اپنی اولاد کو چھوڑنے پر بھی تیار ہوگئے ہیں۔
آپ استخارہ کرکے یاحساب لگا کر بتائیں کہ کیا یہ بات صحیح ہے….ان سب مسائل سے نجات کیسے حاصل کی جائے ۔ہمارے گھرانے کو اس خلفشار اوربے چینی سے نجات دلانے میں ہماری مدد فرمائیے۔

 

جواب: ہوسکتا ہے کہ آپ کے سسر پر کوئی سفلی عمل یا جادو بھی کروا دیا گیا ہو لیکن لگتاہے کہ ان پر ‘‘لذت’’ اور دولت کے جادو زیادہ چڑھ گئے ہیں۔
مرد کے بڑھاپے میں جوان عورت کی رفاقت مرد کو عورت کا معمول بنا سکتی ہے۔ کئی عورتیں مختلف ترکیبوں سے کام لے کر مرد کو اپنا تابع دار بنالیتی ہیں، بعض مردوں کو زن مرید کا لقب بھی ملتا ہے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے بابوجی اپنی تیسری بیوی کے نہ تو تابع دار ہیں اورنہ ہی زن مرید بلکہ ایسا معلوم ہوتاہے کہ وہ ان خاتون کے ہاتھوں معمول بن چکےہیں۔
اس قسم کے اقدامات کا مقصد عام طوپریہ ہوتاہے کہ شوہر کے خاندان کا شیرازہ بکھیر کر خود زیادہ سے زیادہ دولت کی مالک بنا جائے۔
کوئی مرد اپنی کسی بشری کمزوری یا لذت اندوزی کی زیادتی کی وجہ سے ورغلانے میں آجائے تو پھر اس سےمفادات حاصل کرنے والوں کا کام بہت آسان ہوجاتاہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ سازشوں اورمنفی ہتھکنڈوں سے آپ کے خاندان کی حفاظت ہو۔آپ کے سسر کو تکبر اور خوشامد پسندی اور نفسانی لذتوں کی بہت زیادہ طلب سے نجات ملے۔ انہیں اپنی اولاد کے حقوق کو سمجھنے اوران حقوق کی کماحقہ ادائیگی کی توفیق نصیب ہو۔آمین
بطورروحانی علاج رات سونے سے پہلے اکتالیس مرتبہ سورہ ابراہیم(14) کی پہلی آیت

الٓـرٰ ۚ كِتَابٌ اَنْزَلْنَاهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِۙ بِاِذْنِ رَبِّـهِـمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَـمِيْدِ O

گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کراپنے سسر کا تصورکرکے دم کردیں اورانہیں ہدایت ،اپنی اولاد کے حقوق کی ادائی اوراندھیروں سے نجات کی توفیق ملنے کی دعاکریں۔
یہ عمل کم ازکم چالیس روزتک جاری رکھیں۔

 


***

پیر صاحب کو سب پتہ ہوتاہے؟

سوال: ہمارے والد اور دو چچا اپنی اپنی فیملی کے ساتھ ایک ہی مکان میں ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح رہتے ہیں۔ میرے دونوں چچا میرے والد کی بہت عزت کرتے ہیں۔ میرے والد بھی اپنے دونوں بھائیوں پر جان چھڑکتے ہیں۔
ہمارا گھرانہ بزرگوں سے عقیدت رکھتا ہے لیکن میرے والد کسی سے بیعت نہیں ہیں۔ چار سال پہلے میرے چچا نے بتایا کہ وہ ایک بزرگ کے ہاتھوں پر بیعت ہورہے ہیں۔ میرے والد چچا کے ساتھ ان بزرگ سے جاکر ملے۔ مطمئن ہوئے اور چچا کو ان سے بیعت کرنے کی اجازت دے دی۔
ہمارے چچا ان پیر صاحب کے ہاں جاتے رہے۔ رفتہ رفتہ ان کے رویے میں تبدیلی آنے لگی۔ اپنے گھر والوں کی طرف سے انہوں نے لاپرواہی برتنی شروع کردی۔
ہمارے والد انہیں سمجھاتے تو تھوڑا عرصہ کے لیے تو وہ ٹھیک ہوجاتے پھر اسی پرانی ڈگر پر چلنے لگتے۔ چچا اپنے پیر صاحب کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگے۔کبھی دودوتین تین دن گھر نہ آتے۔ پوچھنےپر بتاتے کہ آستانے پر آنے والوں کی خدمت کرتاہوں اور میری روحانی تربیت بھی ہورہی ہے۔
ڈیڑھ دو سال ان پیر صاحب کے پاس گزارنے کے بعد چچا کہنے لگے کہ میرے پیر کامل ہیں، وہ جسے دعا دےدیں اس کا بیڑا پار اورجسے بددعا دے دیں وہ برباد ہوجاتاہے۔چچا کہتے ہیں کہ ان کے پیر صاحب لوگوں کے دلوں کا بھید بھی جان لیتے ہیں۔ ان کے پاس غیب کاعلم ہے۔انہیں سب پتہ ہوتاہے کہ کل کیا ہونے والا ہے۔پیر صاحب کی کوئی بات کبھی غلط ثابت نہیں ہوئی۔پیر صاحب کے سامنے کوئی آدمی جھوٹ نہیں بول سکتا کیونکہ پیر صاحب نہ صرف حقیقت سے واقف ہوتے ہیں بلکہ اس آدمی کے کئےہوئے کئی بُرے کام بھی اس کو بتادیتے ہیں جنہیں سن کر وہ آدمی ہکا بکا رہجاتاہے۔
ہم سب گھروالے نما ز روزے کے پابند ہیں لیکن چچا اب نماز کے پابند نہیں رہے۔ کبھی پڑھتے ہیں کبھی نہیں پڑھتے۔میرے والد نے ان سے یہ بات کہی تو انہوں نے زندگی میں پہلی بار اپنے بڑے بھائی کے سامنے تلخ لہجے میں بات کی اورکہا نماز پڑھنا میرا معاملہ ہے ۔آپ اس میں کیوں بول رہے ہیں….؟ چچا کےاس رویے کا ہمارے والد کو بہت صدمہ ہوا ۔گھر کے دیگر افراد کو بھی افسوسہوا۔
محترم ڈاکٹر صاحب….! آپ کا تعلق بھی ایک صوفی گھرانے سے ہے۔جو کچھ میں نے عرض کیا اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں….؟

 

جواب: زیادہ تر سلاسل میں بیعت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت کی راہوں پرچلنا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے تذکیہ نفس کی تربیت، اولیاء اللہ کی طرزفکر کے مطابق ذہن سازی، قرآنی آیات اور احکامات نبوی کی تفہیم، حقوق اللہ اورحقوق العباد کی ادائی ضروری ہے۔
آپ نے اپنے چچا کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھ کر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ یہ آپ کے چچا کے اپنے افعال ہیں یا ایسا کرنے کو ان کے پیر صاحب نے کہاہے۔
روحانی سلاسل سے وابستہ افراد کو کسی کے عیبوں کی نشاندہی کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی…اللہ تعالیٰ ستار العیوب اورغفار الذنوب ہیں۔ اللہ کے بندوں کو بھی دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کرنا چاہیے۔آج کے دور میں توہرانسان ہی خطا کارہے۔بہتر وہ ہیں جو اپنی خطاؤں پر ندامت محسوس کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرتے ہیں۔
بیعت ہونے کے بعد تذکیہ نفس کے مراحل میں ذاتی احتساب کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ایک مرید کو ہمہ وقت اپنا محاسبہ کرتےرہناچاہیے۔
کل کیا ہونے والا ہے ۔اس بات کا حقیقی علم تو اللہ کو ہی ہے۔ انسانوں میں سے کچھ لوگ اپنی ذہانت وبصیرت یا اپنے تجربات کی بناء پر اندازے قائم کرسکتے ہیں۔یہ اندازے کبھی درست نکلتے ہیں ،کبھی غلط ہوجاتے ہیں۔ ایسے اندازے قائم کرنے کے لیے روحانی عالِم اورپیر ہونا کوئی ضروری نہیں۔ کوئی بھی ذہین آدمی ذرا سی دلچسپی اور توجہ کے ساتھ غوروفکر کرکے ایسے اندازے قائم کرسکتاہے۔
سلاسل طریقت کے بزرگوں نے دینی فرائض کی پابندی اور حقوق العباد کی ادائی کی تلقین کی ہے۔
کئی روشن ضمیر اہل نظر صوفیاء کے تذکروں میں یہ بات ملتی ہے کہ وہ لوگوں کے احوال سے واقف ہوجاتے تھے مگر ان ہستیوں نے اپنی اس صلاحیت کو ہمیشہ خیر کے لیے استعمال کیا۔اس صلاحیت کی وجہ سے لوگوں کے اندر جھانکا نہیں۔ اس صلاحیت کے ذریعے کسی کو پریشان نہیں کیا۔ روحانی ہستیاں تولوگوں کی پردہ پوشی کرتی ہیں۔ یہ ہستیاں لوگوں کے لیے مہر ومحبت ،لطف وعنایات کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ایسی ہستیاں دوسروں کے لیے ہدایت کی دعا کرتی ہیں۔

 


***

 

شادی کے بعد پڑھائی 

سوال: ہماری شادی کوتین سال ہوگئے ہیں۔ میری تعلیم میٹرک ہے۔ میرے میاں نے بی کام کیاہواہے۔
میرے شوہر پہلے بینک میں ملازم تھے۔ شادی کے بعد انہوں نے وہ ملازمت چھوڑ دی کیونکہ انہیں احساس ہوا کہ بینک کی ملازمت مناسب نہیں۔ اس کے بعد وہ ایک پرائیویٹ فرم میں کام کررہے ہیں۔ ان کی تنخواہ سے گھر کے ضروری اخراجات ہی بمشکل پورے ہو پاتے ہیں۔
میرے شوہر کی خواہش ہے کہ میں مزیدتعلیم حاصل کرکے معاش کے معاملہ میں ان کی معاون بنوں، انہوں نے بورڈ سے میرے لیے فارم لے کر جمع بھی کروا دیا ہے۔
اب مشکل یہ ہے کہ میرا پڑھائی میں دل نہیں لگ رہا ہے۔ زبردستی پڑھنے بیٹھتی ہوں لیکن ذہن ادھر اُدھر ہی رہتا ہے۔ یاد کرنے میں بھی بڑی دشواری ہورہی ہے۔

 

جواب: ڑھائی ترک کیے ہوئے آپ کو کئی سال بیت چکے ہیں۔شاید ماضی میں بھی آپ کا پڑھائی سے زیادہ لگاؤ نہ رہا ہو ۔ پڑھائی میں دل لگنے کے لیے روحانی علاج کے ساتھ ساتھ ایسی ضروری تدابیر بھی اختیار کیجیے جن کی وجہ سے سیکھنے اور پڑھنے کے عمل میں دلچسپی پیدا ہو۔
بطور روحانی علاج صبح اور شام  101مرتبہ

رَبِّ یَسِّرْ وَلَا تُعَسِّرْ 

سات سات مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر ایک ایک چمچ شہد پر دم کرکے پیئیں۔

 

 


***

 

 


***


***


***


***


***


***


***

 

 

 

 

 

یہ بھی دیکھیں

روحانی ڈاک – ستمبر 2020ء

   ↑ مزید تفصیلات کے لیے موضوعات  پر کلک کریں↑   ***   اولاد نرینہ کے لیے …

روحانی ڈاک – اگست 2020ء

   ↑ مزید تفصیلات کے لیے موضوعات  پر کلک کریں↑   *** مالی مشکلات سے نجات کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے