روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / صحت و تندرستی / غذائیت / دالیں امراض قلب اور کولیسٹرول کے لیے بہترین غذا اور دوا

دالیں امراض قلب اور کولیسٹرول کے لیے بہترین غذا اور دوا

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

غذائیت کے اعتبار سے گوشت کے بعد پروٹین کی فراہمی کا اہم ذریعہ دالیں ہیں۔اسی لئے انہیں غریبوں کا گوشت بھی کہا جاتا ہے ۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دالیں، فائبر، وٹامن اور معدنیات کی وجہ سے دل کی صحت کے لئے بہترین ہیں۔ دالوں میں فولیٹ اور میگنیشیم پائے جاتے ہیں۔ میگنیشیم کی کمی سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دالوں کے باقاعدہ استعمال سے یہ کمی دور کی جاسکتی ہے۔ دالوں میں موجود فائبر کی وجہ سے خون میں کولیسٹرول کا لیول کم ہوتا ہے۔

دماغ کو آکسیجن کی سپلائی متاثرہونے سے اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کولیسٹرول کا لیول دائرے میں رکھنا ضروری ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں خاص طور پر کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ ذیابیطس میں خون میں شوگر کے زیادہ ہونے سے خون کی نالیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یعنی ایک کی جگہ دو مسئلے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔دالوں کا زیادہ استعمال ذیابیطس کے مریضوں  کو کئی طبی مسائل سے محفوظ رکھتا ہے ۔

غذائیت:کچھ لوگ گوشت کو دالوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ گوشت بھی صحت کے لیے ضروری ہے مگر  زیادہ گوشت کھانا بعض اوقات آنتوں کی صحت کے لیے مضر ہے۔  فروٹ، سبزیاں اور دالیں کھانے سے آنتوں کی صحت بہتر رہتی ہے۔ دالیں کھانے سے قبض کی شکایت بھی دور ہوتی ہے۔ یہ فوائد حاصل کرنے کے لئیے ہفتے میں ایک سے زائد مرتبہ دال کھانی چاہیے۔ دالیں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مفید ہیں۔

اکثر لوگوں کی ایک پسندیدہ خوراک دال چاول ہے۔  دال کا سوپ بھی بہت مزے کا بنتا ہے۔  اسے باآسانی بنا سکتے ہیں۔ سوپ بنانے کے لیے دال دھو کر اس میں پانی ، نمک ، مرچ اور ہلدی ملا کر پکائیں۔ ایک ٹماٹر کاٹ کر ڈال دیں۔ جب دال نرم ہوجائے تو اس کو بلینڈ کرلیں۔ ریگولر دال سے اس کو زیادہ پتلا رکھنا ہوگا۔

دالوں میں فولاد موجود ہوتا ہے۔ فولاد سے خون کے سرخ خلیے بنتے ہیں۔    خواتین میں فولاد کی کمی سے خون کی کمی بہت عام ہے۔ خون کے سرخ جسیمے آکسیجن کی سپلائی کا کام کرتے ہیں۔  اگر ان کی کمی ہوتو تھکن کی شکایت ہوسکتی ہے۔ دال اس کمی کا بہترین تدارک ہے ۔دالوں میں فولیٹ موجود ہوتا ہے۔ حاملہ خواتین میں فولیٹ کی کمی کی وجہ سے ان کے ہونے والے بچوں میں جسمانی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ان میں سے ایک بیماری نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے معصوم بچے معذور ہوجاتے ہیں۔ حاملہ عورتوں کو آئرن کی طبعی مقدار کا خیال رکھنا چاہیے۔

اگر آپ وزن کم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں تو دالوں کو اپنی خوراک کا باقاعدہ حصہ بنائیں۔ دالوں میں کئی ضروری وٹامن اور نمکیات موجود  ہیں۔  دالوں سے پروٹین حاصل ہوتے ہیں۔ دالوں میں  چکنائیاں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ ایک کپ پکی ہوئی دال میں صرف 230 کیلیریز ہوتی ہیں۔

کینیڈا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دالوں کا استعمال بلڈ پریشر بڑھنے سے روکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دالیں انسانی خون کو صاف کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ دالیں آئرن کا خزانہ ہیں۔ایک پلیٹ دال روزانہ کھانے سے مطلوبہ خوراک کا37 فیصد آئرن حاصل ہوتاہے۔ دالوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمارے پٹھے کو مضبوط بناتی ہے۔

خواص کے لحاظ سے مختلف دالوں میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے ۔یہاں چند دالوں اور ان میں موجود غذائی اجزا کی تفصیل بیان کی جارہی ہے

اُرد کی دال:

ارد کی دال دیگر تمام اقسام کی دالوں میں سب سے زیادہ غذائیت کی حامل ہوتی ہے۔اُرد کی دال میں پروٹین 24.0 فیصد، رطوبت 10.9فیصد، چکنائی 1.4فیصد ، چکنائی 0.9 فیصد اور کاربوہائیڈریٹس 59.6فیصد ہوتی ہے۔ 100گرام دال میں فاسفورس 385 ملی گرام ، آئرن 9.1 ملی گرام ، کیلشیم 9.3ملی گرام کے علاوہ قلیل مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس بھی پائی جاتی ہے۔

ارہر کی دال:

ارہر کی دال بھی لوگوں کی مرغوب غذاؤں میں شامل ہے۔  ارہر کی دال میں پروٹین 22.3 فیصد،ریشے 1.5 فیصد، رطوبت 13.4 فیصد،معدنی اجزا 3.5فیصد ، کاربوہائیڈریٹس 57.6فیصد اور قلیل مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس موجود ہوتی ہے۔  اس میں فاسفورس، آئرن اور کیلشیم کی بھی مناسب مقدار شامل ہوتی ہے ۔

مسور کی دال:

یہ منہ اور مسور کی دال….. اندازہ لگالیجئے یہ دال اتنی مشہور ہے کہ اس کے حوالے سے محاورہ بھی موجود ہے ۔ انسانی خوراک کے لیے کاشت کی جانے والی نباتات میں مسور کی دال قدیم ترین ہے ۔ دال میں 12 فیصد رطوبت،  25 فیصد پروٹین 60فیصد کاربوہائیڈریٹس پائی جاتی ہے۔ پوٹاشیم اور فاسفورس بھی وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے ۔

چنے کی دال:

 چنے کی خشک دال میں 17.1فیصد پروٹین ، 3.0فیصد معدنیات،9.8فیصد معدنیات ، 3.9فیصد ریشے ، 5.3فیصدچکنائی اور60.9فیصد کاربوہائیڈریٹس پائی جاتی ہے ۔ 100 گرام چنے کی دال میں فاسفورس 312ملی گرام ،وٹامن سی 3ملی گرام ، کیلشیم 2.2ملی گرام ، آئرن 10.2ملی گرام کے علاوہ مناسب مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس بھی شامل ہوتی ہے۔

مونگ کی دال:

 مونگ میں پروٹین 24فیصد، چکنائی 1.3فیصد، رطوبت 10.4فیصد، معدنی اجزا3.5فیصد، ریشے 4.1فیصد، کاربوہائیڈریٹس 56.7فیصد ہوتی ہے ۔  100 گرام مونگ کی دال میں فاسفورس 326ملی گرام ، آئرن 7.36ملی گرام ، کیلشیم 124 ملی گرام اور کسی حد تک وٹامن بی کمپلیکس پائی جاتی ہے۔

 [:]

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

فالسہ ۔ معدے کے امراض میں مفید

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں[:ur] آگ برساتے سورج کے ساتھ موسم گرما کی ...

دہی ۔ گرمیوں میں ایک مکمل غذا

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں[:ur] غذائیت کے اعتبار سے دہی میں ناصرف پروٹین ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے