روحانی ڈائجسٹ / علم و معرفت / تصوّف / اولیاء کرام / ملک الشعراء امیر خسرو

ملک الشعراء امیر خسرو

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ برصغیرکی سرزمین نے ہر دور میں عظیم المرتبت اوربلند و بالا شخصیتوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنی ذہانت ،قابلیت، علم اور فن سے دنیا میں وقار و عظمت کے آفاق چھولئے۔ ان جلیل القدر اور تاریخ ساز شخصیتوں کے اسمائے گرامی آج بھی تقدس و احترام کے ساتھ لئے جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت کا نام حضرت امیر خسرو ہے جنہوں نے لوگوں کے دلوں میں اپنے فضل و کمال کا سکہ بٹھایا۔ ان کے سرمدی نغمے، میٹھے اور رس بھرے گیت دل و دماغ کو سکون و چین اور کیف و سرود سے سرشار کرتے ہیں۔
خسرو کا شمار عام طور پر شعراء کی صنف میں ہوتا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی زیادہ تر توجہ شاعری ہی رہی ہے۔ لیکن وہ صرف شاعر نہ تھے۔ آپ نے بطور ایک سپاہی کئی فوجی مہمات میں شرکت بھی کی، اور اپنی انقلابی زندگی میں سات بادشاہوں کا دور دیکھا ۔ اگرچہ وہ بادشاہان وقت کے دربار میں بلند مناصب پر رہے مگر ان کے دل میں حضرت خواجہ محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء ؒ کی محبت کی حکمرانی رہی ۔

بارہویں صدی عیسوی میں ایک طرف تو اسلامی  سلطنت کا صدیوں پرانا شیرازہ بکھر چکا تھا،   عظیم الشان اسلامی سلطنت مختلف ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی تھی اور      بغداد کے خلیفہ  کا اثر رسوخ برائے نام رہ گیا تھا،  البتہ  اس اعتاب کے باوجود مسلمانوں کی علمی اور ادبی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں آیاتھا۔    بغداد دمشق اور بصرہ   کے ساتھ ساتھ  غزنی، بلخ ، بخارا، شیراز، اصفہان سے لے کر ہندوستان میں علم وادب کی محفلیں پرواان چڑھ رہی تھیں۔  

ہندوستان میں اس وقت قطب الدین ایبک کا انتقال ہوچکا تھا  اور اس کا غلام شمس الدین التمش دہلی کے تخت پر متمکن تھا۔    ایک ترک امیر سیف الدین لاچین اپنے قبیلے کے نامور جنگجو سپاہی تھے،  سلطان التتمش نے آپ کو  ناصرف اپنی فوج میں شامل کیا بلکہ پنے دربار میں انہیں اونچے عہدے پر فائض  کیا ،  ان کا سالانہ وظیفہ  بارہ سو تنكا (چاندی کا ایک پرانا سکہ) مقرر ہوا اور   آپ دلی سے سو کلو میٹر دور دریائے گنگا کے کنارے  پٹیالی (مومن پور)  میں  مقیم ہوئے۔

سیف الدین  کی شجاعت اور شخصیت سے  دہلی کے  مشہور امرائے شاہی اور  سپہ سالار ‘‘امیر عماد الملک راول   ’’ بہت متاثر ہوئے،  عماد الملک  ایک نومسلم راجپوت تھے، عمادالملک خواجہ نظام الدین اولیاء  کے مرید  تھے اور شاید آپ ہی کے توسط سے اسلام  لائے تھے۔          عمادالملک نے اپنی بیٹی دولت ناز کی شادی آپ سے کردی ۔             شادی کے  کچھ عرصے بعدہی آپ کے یہاں بیٹے کی ولادت ہوئی جن کا نام اعزالدین رکھا گیا۔ 

****

1253ءبمطابق 651ھ  کو سیف الدین کے  گھر ایک اور بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام ابولحسن یمین الدین رکھا گیا،     پیدائش کے فوراً بعد امیر سیف الدین محمود بچہ  کو ایک خرقے میں لپیٹ کر ایک مجذوب کے پاس لے گئے، جو پٹیالی  کے رہنے والے تھے ۔ مجذوب نے دور ہی دیکھ کر قلندرانہ نعرہ   لگایا: 

‘‘ وہ شخص آرہا ہے جو خاقانی سے بھی دو قدم آگے چلے گا’’۔    (خاقانی فارسی کے ایک مشہور شاعر گزرے ہیں)

امیر سیف الدین نے بچہ کو مجذوب کی جھولی میں ڈال دیا  ، مجذوب نے بچہ کو پیار کیا اور فرمایا کہ :

‘‘یہ لڑکا طوطیؒ ہند، ملکِ الشعراء اور عارف ِباﷲ، یگانۂ روزگار ہوگا، قیامت تک اس کا نام یادگار رہے گا’’ ….

 مجذوب نے آپ کو ہردلعزیز ہونے کی دعا بھی دی۔ ‘‘اے رب العالمین  اس بچے کا نام قیامت تک روشن رکھنا’’۔ 

یہ کہہ کر مجذوب نے بچہ سیف الدین کو  واپس دے دیا۔سیف الدین اپنے بچے کو لیے خوشی سے سرشار  واپس گھر پہنچے۔

بچے کے باپ امیر سیف الدین  اور نانا  عماد الملک دونوں ہی فوجی  تھے۔  دونوں  خاندان میں رواج تھا کہ وہ اپنے لڑکوں کو بڑا ہونے کے بعد فوج میں بھرتی کروادیا کرتے تھے۔ بچہ  کی والدہ کو بھی اس بات کا اشتیاق تھا کہ ان کا بچہ  فوج میں بھرتی ہو،  مگر جب امیر سیف الدین نے اپنی بیوی کو مجذوب کی دُعا سے آگاہ کیا تو اُس نے شوہر سے کہا :

‘‘اس دعا سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابو الحسن فوجی نہیں بن سکتا بلکہ یہ تو شاعر بنے گا۔ سپاہی لوگ اپنی زندگی خوب عیش و آرام سے گزار لیتے ہیں جبکہ شاعروں نے ہمیشہ کسمپرسی میں زندگی بسر کی ہے’’۔ 

امیر سیف الدین نے بیوی سے کہا :

‘‘نیک بخت! اب یہ بچہ شاعر ہی بنے گا اور اِس کا مستقبل دوسرے شاعروں سے ناصرف درخشاں ہوگا بلکہ اِس کی شہرت اِسے بعد ازمرگ بھی زندہ رکھے گی’’۔

****

امیرسیف الدین  نے اپنی پوری زندگی   شمشیر و سنان کے ساتھ گذاری تھی۔   وہ اپنی اولاد کو صرف شجاعت اور شہہ زوری کی تربیت دے سکتے تھے ، اور پٹیالی کے اس چھوٹے سے قصبہ میں کوئی مدرسہ  بھی موجود نہ تھی۔

اس دور میں دہلی علم و ادب کا گہوارہ تھا۔سیف الدین نے اپنے بیٹے کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لئے دہلی کا رُخ کیا اور  پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔

اس وقت ابولحسن  صرف چار سال کے تھے۔

علم و ادب کا شوق ابولحسن  کے دل میں بچپن سے ہی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُنہیں استاد بھی قابل ،باکمال ،رفیق اورشفیق ملے۔ لکھنے کی مشق کےلئے اس دور کے مشہور خطاط قاضی اسد الدین کی سرپرستی نصیب ہوئی۔شاعری میں اعز الدین علی شاہ اور خواجہ شمس الدین خوار زمی کی رہبری نصیب ہوئی۔

شعر و شاعری کا اتنا شوق تھا کہ شاعروں کے دیوان لیکر مطالعے میں ڈوب جاتے تھے۔ وہ خود فرماتے ہیں ‘‘میرے والد مجھے مکتب بھیجاکرتے تھے لیکن میں ردیف و قافیہ کے ہی چکر میں رہتا تھا۔ میرے قابل استاد مجھے خوش نویسی سکھانے کی کوشش کرتے تھے لیکن میں مہ جبینوں کے حسن کی تعریف میں شعر کہتا تھا….’’

صرف دس سال کی عمر میں ہی ان کی شعر و شاعری اورترنم کے چرچے ہونے لگے اور ان کی شہرت دور دور تک پھیلنے لگی۔ 

ان کے والد نے ان کو مکتب میں بٹھایا اور خوشنویسی کی مشق کے لئے مولانا سعید الدین خطاط کو مقرر کیا۔ لیکن امیر صاحب کو پڑھنے لکھنے کے بجائے شعر گوئی کی دھن رہتی تھی۔ جو کچھ موزوں ناموزوں کہہ سکتے تھے کہتے تھے اور وصیلوں پر اسی کی مشق کرتے تھے۔ خواجہ اصیل کوتوال کے نائب تھے۔ وہ کبھی کبھی سعدالدین خطاط کو خطوط وغیرہ لکھوانے کے لیے بلالیا کرتے تھے۔ ایک دن  انہیں بلایا گیا تو خسرو بھی ان کے ساتھ گئے۔

خواجہ اصیل کے مکان پر خواجہ عزیز الدین بھی تشریف رکھتے تھے۔ سعیدالدین نے خواجہ صاحب سے کہا کہ یہ لڑکا ابھی سے کچھ غوں غاں کرتا ہے۔ معلوم نہیں کہ موزوں بھی کہتا ہے کہ نہیں….؟ آپ ذرا اس کے کلام کو سن لیجئے۔

خواجہ عزیز کے ہاتھ میں اشعار کی بیاض تھی۔ خسرو کو دی کہ کوئی شعر پڑھو۔ خسرو صاحب نے نہایت خوش الحانی سے پڑھا۔ چونکہ آواز میں قدرتی تاثیر تھی، لوگوں پر اثر ہوا۔ سب کی آنکھیں بھر آئیں۔ سب نے بے اختیار تحسین کی۔

ان کے استاد نے کہا۔ شعر گوئی میں امتحان لیجئے۔ خواجہ عزیزالدین نے چار بے جوڑ چیزوں کا نام لیا کہ ان کو ملا کر شعر کہو۔ مو، بیضہ، تیر، خرپزہ۔

خسرو نےنے برجستہ کہا:

ہر موئے کہ دردوزلف آن صنم است

صد بیضئہ عنبریں برآن موے صنم است

چوں تیر مداں راست دش راز یرا

چوں خرپزہ دندانش درون شکم است

خواجہ عزیز الدین کو سخت حیرت ہوئی۔ پوچھا نام کیا ہے….؟

انہوں نے کہا خسرو، باپ کا نام پوچھا انہوں نے اصل نام کے بجائے قبیلہ کا نام بتایا یعنی لاچین۔ خواجہ صاحب نے ظرافت سے کہا لاچین یعنی ‘‘چین نہیں’’ پھر کہا ‘‘ترک خطاست’’ یعنی ان کو ترک کہنا خطا ہے….؟ خسرو نے اسی لفظ کو الٹ کر کہا ‘‘بے خطاترک است’’ یعنی قطعاً وہ ترک ہے۔

خواجہ صاحب نے کہا چونکہ تم کو دربار سلطانی سے تعلق ہے اس لئے تم کو سلطانی تخلص رکھنا چاہئے۔ چنانچہ تحفتہ الصغر کی اکثر غزلوں میں یہی تخلص ہے۔

امیر خسروؒ کے بڑے بھائی عزیز الدین کو امیر سیف الدین ایک روز اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی خدمت میں لے جارہے تھے۔ خسروؒ  نے جب والد  اور بھائی کو بڑے اہتمام کے ساتھ تیار ہوکر کہیں جاتے دیکھا تو سوال کیا :

‘‘محترم پدرگاہی!…. کہاں کے لئے تیاری کی جارہی ہے اور برادرِ محترم کو کیوں ساتھ لے جارہے ہیں؟’’…. باپ نے جواب دیا ‘‘ہم اُس جگہ جارہے ہیں جہاں چند سال بعد تُو بھی جائے گا’’….

عرض کی ‘‘والدِگرامی!…. اگر چند سال بعد جانا ہے تو ابھی کیوں نہ چلوں؟’’….

 والد تو تیار ہوگئے مگر امیر خسروؒ کے برادرِ کلاں  عزیز الدین شاہ نے والد سے کہا ‘‘خسروؒ  ابھی بہت کمسن ہے۔ ابھی اس کو گھر میں رہنے دیا جائے’’۔ مگر خسرو نے اتنی ضد کی کہ باپ اور بھائی کو اُن کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑے اور وہ آناً فاناً تیار ہوگئے اور یوں تینوں باپ بیٹے حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی درگاہ کی طرف روانہ ہوئے۔

والد نے بڑے بیٹے سے کہا کہ حضرت محبوب الٰہیؒ بہت بڑے ولی ہیں۔ اس دور میں آپؒ کا کوئی ثانی نہیں اور آج تم اُن کی بیعت کرو گے۔ امیر خسروؒ نے یہ بات سُنی تو والد سے کہا کہ بیعت تو میں بھی کروں گا…. جس پر والد نے کہا ‘‘نہیں بیٹے! ابھی نہیں۔  تم کرو گے تو ضرور مگر دو سال بعد’’…. یہاں امیر خسروؒ نے پھر ضد شروع کی۔ والد  اُنہیں سمجھاتے رہے مگر خسرو  بضد رہے۔ اسی کشمکش میں راستہ تمام ہوا اور وہ تینوں نظامی بارگاہ میں پہنچ گئے۔

والد  نے دونوں بچوں کو خانقاہی آداب سمجھائے اور اندر جانے کے لئے کہا۔ امیر خسروؒ نے والد سے کہا ‘‘آپ دونوں اندر جائیں میں باہر ہی ٹھہروں گا کیونکہ میں نظام الدین اولیاءؒ سے بیعت نہیں ہونا چاہتا’’…. والد  بہت حیران ہوا کہ اچانک اس بچے کی سوچ کیسے تبدیل ہوگئی۔ ابھی تو یہ بیعت کے لئے بضد تھا۔ والد نے پھر استفسار کیا ‘‘بیٹا! کوئی وجہ تو بتاؤ’’…. عرض کی ‘‘بس میرا  اُن پر اعتقاد نہیں بن رہا’’….

‘‘فرزند عزیز! تم نہیں جانتے حضرت محبوب الٰہیؒ بڑی کامل ہستی ہیں۔

وہ روشن ضمیر ہیں….’’

امیر خسروؒ نے جواب دیا ‘‘توٹھیک ہے آپ لوگ اندر جائیں میں یہاں انتظار کرتا ہوں۔ اگر وہ واقعی روشن ضمیر ہوئے تو پھر وہ خود میری طرف رجوع کریں گے’’….

امیر سیف الدین نے اپنے چھوٹے بیٹے کو خانقاہ کے دروازے پر چھوڑا  اور بڑے بیٹے عزیزالدین کو ساتھ لے کر اندر چلے گئے۔

امیر خسروؒ ابھی کمسن تھے مگر ذوقِ سخن اُن کی جبلّت میں داخل تھا۔ اُنہوں نے فوراً چند مصرعے موزوں کئے اور دل میں خیال کیا کہ اگر اِن مصرعوں کا حضرت محبوبِ الٰہیؒ اسی اندازِ شاعری میں جواب دیں گے تو اُن کو ولی مانوں گا….

تواں شاہی کہ بر ایوان قصرت

کبوتر گر نشیند باز گردد

غریبے مستمندے بردر آمد

بیا ید اندروں یا باز گردد

اُن مصرعوں کا مطلب یہ تھا

‘‘تُو ایسا بادشاہ ہے کہ تیرے محل کے کنگورے پر اگر کبوتر آکر بیٹھ جائے تو وہ باز بن جائے۔

ایک غریب حاجت مند تیرے دَر پر آیا ہے تو پسند کرے تو وہ اندر آئے، ورنہ واپس چلا جائے گا’’….

تھوڑی دیر کے بعد حضرت محبوبِ الٰہیؒ  کا خادمِ خاص خانقاہ سے باہر آیا اور بولا ‘‘ترک زادہ خسرو موجود ہے؟’’….

جواب دیا ‘‘بالکل موجود ہے’’…. خادم نے کہا ‘‘مجھے میرے آقا حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو چند اشعار سناؤں….

بیاید اندروں مرد حقیقت

کہ باما یک نفس ہم راز گردد

اگر ابلہ بوداں مردناداں

ازاں راہے کہ آمد بازگردد

ان اشعار کا مطلب یہ ہے

‘‘حقیقت کا مردِمیدان اندر چلا آئے تاکہ ہمارے ساتھ کچھ دیر ہمراز بن جائے ۔

 اگر آنے والا ناسمجھ اور نادان ہے تو جس راستے آیا ہے، اُسی سے واپس لوٹ جائے’’۔

امیر خسروؒ نے یہ کلام سُنا تو اُن کی حالت غیرہوگئی۔ اُن پر دیوانگی طاری ہوگئی۔ وہ اُس خادم کے پیچھے اِس طرح چلنے لگے جیسے کوئی معمول عامل کے پیچھے چلتا ہے۔ خانقاہ کے اندر امیر خسروؒ کے والد اور بھائی بھی تشریف فرما تھے۔ اُنہوں نے امیر خسروؒ کو دیکھا مگر امیر خسروؒ نے حضرت نظام الدین اولیاءؒ کو دیکھا۔ نظروں اور چُپ ہونٹوں کا کلام ایک دوسرے تک پہنچایا۔ خواجہ نظام الدین مسکرائے اور امیر خسروؒ کو اپنے پاس بلایا۔ آپؒ دوڑتے ہوئے آگے بڑھے اور حضرت کے قدموں میں گر کر عرض کی :

‘‘حضرت مجھے بیعت فرما لیجئے’’….

حضرت محبوب الٰہیؒ نے جواب دیا :

‘‘اے مردِ حقیقت! آ اور ایک دم کے لئے ہمارا ہم راز بن جا’’…. اور اُسی وقت حضرت نظام الدینؒ نے امیر خسروؒ  کو بیعت کرلیا۔

پھر جلد ہی حضرت امیر خسروؒ نے حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے انتہائی چہیتے اور محبوب مرید کا درجہ پالیا۔

 حضرت امیر خسروؒ کو سلطان غیاث الدین بلبن کے آخری زمانے میں عروج حاصل ہوا۔ بلبن کا سب سے بڑا بیٹا شہزادہ خان شہید حضرت امیر خسروؒ سے بہت محبت کرتا تھا۔ خود حضرت امیر خسروؒ بھی شہزادہ خان شہید سے بہت زیادہ قربت رکھتے تھے۔   شہزادہ سلطان محمد ملتان میں مغلوں کے ہاتھوں مارا گیا تو حضرت امیر خسروؒ  گرفتار کرلئے گئے اور پھر آپؒ  کو روسی ترکستان لے جایا گیا۔ کئی سال بعد قید سے رہا ہوئے اور شہزادہ خان پر ایک اثر انگیز مرثیہ لکھا جسے سُن کر غیاث الدین بلبن زار و قطار روتا تھا ۔

 بلبن خاندان کی تباہی کے بعد سلطان جلال الدین خلجی کے عہدِحکومت میں حضرت امیر خسروؒ کو ‘‘امیر’’ کا منصب حاصل ہوا، آپؒ  کو خلعت امارت سے نوازا گیا اور بارہ سو تنکہ سالانہ وظیفہ مقرر ہوا۔

جلال الدین کے قتل کےبعد سلطان علاء الدین خلجی نے بھی حضرت امیر خسروؒ کا عہدہ و منصب بحال رکھا۔ پھر سلطان سے اس قدر قربت بڑھی کہ آپؒ ‘‘مصاحبین خاص’’ کے حلقے میں شامل ہوگئے۔

جب بھی فرصت کے لمحات میسر آئے اور سلطان، حضرت امیر خسروؒ کو خلوت میں طلب کرتا تو آپؒ علاء ُالدین خلجی کے سامنے اپنے پیرو مرشد حضرت نظام  الدین اولیاءؒ کی روحانیت اور زہد و تقویٰ کا ذکر چھیڑ دیتے۔ اُن کا ایک امیر پہلے ہی حضرت محبوب الٰہیؒ کی شان میں قصیدے پڑھ چکا تھا۔ جب خسروؒ بھی انتہائی والہانہ انداز میں حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا ذکر کرتے تو سلطان علاء الدین خلجی جیسا خود پرست حکمراں اس درویش کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوجاتا جو غیاث پور کے ایک گوشے میں بیٹھ کر لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کر رہا تھا۔

‘‘خسرو! ایسا نظر آتا ہے جیسے شیخ نظام الدین اولیاءؒ کے ذکر کے علاوہ تمہیں دنیا میں کوئی اور کام ہینہیں ہے’’۔

‘‘سلطان المعظم! میرے شیخ ایسے ہی ہیں’’۔

حضرت محبوب الٰہیؒ کا نام لیتے ہی حضرت امیر خسروؒ کے چہرے پر عقیدت و محبت کا سمندر موجزن نظر آنے لگتا تھا۔

‘‘خسرو! تم اپنے پیرو مرشد سے کتنی محبت کرتے ہو؟’’…. ایک بار سلطان علاء الدین خلجی نے اپنے درباری شاعر سے پوچھا….

‘‘سلطان ذی حشم! غریب خسرو کے پاس اپنے شیخ کی محبت کو ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے’’…. حضرت امیر خسروؒ نے نہایت عجز و انکسار کے ساتھ فرمایا۔

‘‘پھر بھی؟’’…. علاء الدین خلجی حضرت امیر خسروؒ کی انتہائے عقیدت دیکھنا چاہتا تھا….

‘‘سلطان ذی وقار!…. اس غلام کے پاس ایک جان بیقرار کے سوا کچھ نہیں’’…. حضرت امیر خسروؒ نے فرمایا ‘‘اگر پیرو مرشد حکم دیں تو نذرانہ جاں اُن کے قدموں میں رکھ کر عرض کروں کہ سیدی!…. یہ حقیر تحفہ آپ کے شایانِ شان نہیں’’….۔

حضرت امیر خسروؒ  کا جوشِ عقیدت دیکھ کر سلطان علاء الدین خلجی حیران رہ گیا…. اور پھر غیر محسوس انداز میں والیٔ ہندوستان بھی حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی ذات ِگرامی کا اسیر ہوتا چلا گیا….

ایک دن سلطان علاء الدین خلجی نے حضرت امیر خسروؒ کو خلوت شاہی میں طلب کرتے ہوئے کہا ‘‘خسرو! میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہارے شیخ نظام الدین اولیاءؒ کے لئے گراں قدر تحائف بھیجوں…. میرے چاروں طرف سیم و زر کے انبار لگے ہوئے ہیں…. اگر اس میں سے کچھ دولت کسی درویش کے کام نہیں آئی تو پھر وسائل کا یہ ذخیرہ بیکار ہے’’….

اگرچہ علاء الدین خلجی نے یہ بات خلوصِ دل سے کہی تھی لیکن حضرت امیر خسروؒ خاموش رہے….

‘‘خسرو! تم مجھے بتاؤ کہ میں تمہارے پیرومرشد کی خدمت میں کیا نذر بھیجوں؟’’….

حضرت امیر خسروؒ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش ہی رہے….

سلطان علاء الدین خلجی حیرت زدہ ہوکر ان کی طرف دیکھنے لگا۔

‘‘کیا کوئی خاص بات ہے جو تم مجھ سے چھپانا چاہتے ہو؟’’…. سلطان نے حضرت امیرخسروؒ کے سکوت کا سبب دریافت کرنا چاہا….

اس بار حضرت امیر خسروؒ کے ہونٹوں کو جنبش ہوئی اور آپ نے والیٔ ہندوستان کو حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہیؒ کی زندگی کا ایک اہم واقعہ سناتے ہوئے فرمایا :

‘‘میرے شیخ حضرت نظام الدین اولیاءؒ نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے غیاث پور سے کیلو کھڑی تشریف لے جاتے ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں یہ طویل فاصلہ انسانی جسم کو بہت گراں گزرتا ہے۔ ایک دن پیرومرشد کے دل میں خیال آیا کہ اگر میرے پاس کوئی گھوڑا ہوتا تو یہ ایک کوس سے زیادہ کا فاصلہ سواری پر طے کرلیتا اور گرم ہواؤں کے تکلیف دہ تھپیڑوں سے کسی حد تک محفوظ رہتا…. حضرت شیخ نور الدین یارپراںؒ جو ایک ممتا ز صوفی ہیں اُن کے کسی خادم کے پاس ایک گھوڑی تھی۔ جس روز حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے دل میں یہ خیال آیا تھا، اُسی روز حضرت شیخ نور الدینؒ کے خادم نے خواب میں اپنے پیرومرشد کو دیکھا…. شیخ نور الدین یارپراںؒ اپنے خادم سے فرما رہے تھے…. ‘‘تیرے پاس جو گھوڑی ہے اُسے شیخ نظام الدین اولیاءؒ کی خدمت میں بلاتاخیر پیش کردے۔

صبح خادم کی آنکھ کھلی تو اُس نے حکمِ شیخ پر عمل کرنے کا ارادہ کیا مگر کسی کام کی وجہ سے اپنے ارادے کو تکمیل تک نہ پہنچا سکا اور شام ہوتے ہوتے اُس کے ذہن سے وہ خواب بھی محو ہوگیا۔ پھر جیسے ہی وہ دوسری رات سویا، تواُس نے پھر وہی خواب دیکھا…. اب کی بار حضرت شیخ نور الدین یارپراںؒ کسی قدر ناراضی سے فرمار ہے تھے ‘‘حکم کی تعمیل میں دیر کیوں ہوگئی؟….

خادم بے چین ہوکر اُٹھا پھر جیسے ہی صبح ہوئی، اُس نے نمازِ فجر ادا کی اور گھوڑی لے کر حضرت محبوب الٰہیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے خادم سے اُس کی آمد کا مقصد دریافت کیا…. جواب میں خادم نے اپنا خواب سنا کر گھوڑی کو نذر کے طور پر پیش کرنا چاہا….

خادم کی وضاحت کے بعد حضرت محبوب الٰہیؒ نے فرمایا :

‘‘تم اپنے شیخ کے حکم سے یہ ہدیہ میرے پاس لائے ہو…. مگر میں اِسے اُس وقت تک قبول نہیں کروں گا جب تک میرے شیخ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ مجھے حکم نہیں دیں گے’’۔

حضرت شیخ نور الدین یارپراںؒ کا خادم مایوس ہوکر چلا گیا۔ پھر تیسری شب اُس نے خواب میں اپنے شیخ کو دیکھا حضرت نور الدینؒ فرما رہے تھے

‘‘حضرت بابا فرید ؒ نے شیخ نظام الدین کو حکم دے دیا ہے۔ تو کسی پس و پیش کے بغیر نذر پیش کردے، وہ قبول کرلیں گے’’۔

جب علی الصباح حضرت شیخ نور الدین یارپراںؒ کا خادم گھوڑی لے کر حضرت محبوب الٰہیؒ کے پاس پہنچا تو آپ ؒ نے اُس کی نذر قبول فرمالی’’…. یہ کہہ کر حضرت امیرخسروؒ خاموش ہوگئے۔

سلطان علاء الدین خلجی ایک ذہین حکمراں تھا۔ اُس نے حضرت امیر خسروؒ  کی اِس علامتی گفتگو کا مفہوم سمجھ لیا اور وہ اِس راز تک پہنچ گیا کہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ اُس کی نذر قبول نہیں فرمائیں گے….

****

خسرو کو اپنے مرشد سے  والہانہ  عشق تھا،  ان کے عشق کا ایک  واقعہ ہی اُن کے  فنافی الشیخ ہونے کی روشن دلیل ہے۔ 

کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت نظامالدین اولیاء کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی :

یا حضرت میں ایک مفلس  آدمی ہوں۔ سر پر جوان بیٹیوں کا بوجھ ہے۔ آپ میری کچھ مدد کریں ۔

حضرت نظام الدین اولیاء  نے اس آدمی کو عزت و تکریم کے ساتھ بٹھایا اور خادم کو  بلا کر کہا کہ

‘‘آج تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سارا لےآؤ’’….

خادم آپ کا حکم سن کر گیا ۔  تھوڑی دیر بعد اُداس چہرے کے ساتھ واپس آیا اور کہا :

‘‘آج ایک سکہ بھی باقی نہیں بچا تمام پیسے خرچ ہو گئے یا لوگوں کو دے دیئے گئے’’

آپ نے اس  کو تسلی دی اور کہا اللہ پہ بھروسہ رکھے۔ وہ غیب سے کوئی نہ کوئی انتظام فرما دے گا،    چند دن گزر گئے مگر کوئی انتظام نہ ہوسکا۔   وہ شخص  بھی مایوس ہوکر جانے لگا۔  حضرت محبوب الہیٰ  نے اس کو چند  پل کے لیے  روکا اور اپنے نعلین اُتار کر دے دیئے اور کہا اس فقیر کے پاس تمھیں دینے کے لیے اپنے ان جوتوں کے علاوہ کچھ نہیں۔

وہ شخص  جوتے لیکر چل پڑا اور سوچنے لگا کہ ان پرانے بوسیدہ جوتوں کا کیا کروں گا۔   سارا دن سفر کر تا رہا۔ رات کے وقت ایک سرائے میں قیام کیا۔  پریشان سوچوں میں ہی سو گیا۔

 انہی دنوں وقت کا بادشاہ سلطان محمد تغلق کسی جنگی مہم سے واپس آرہا تھا اور حضرت امیر خسرو بھی سلطان کے ساتھ تھے اور  جنگ میں کامیابی پر خسرو نے ایک بہت اچھا  قصیدہ پڑھا تو انعام کے طور پر بادشاہ نے   آپ کو سات لاکھ چیتل سے نوازا۔

اپنے واپسی کے سفر پر جب ابھی لشکر سلطانی دہلی سے باہر ہی تھا اور رات کو پڑاؤ کیا گیا تو اچانک خسرو چلا اٹھے ۔  وہ بار بار ایک ہی فقرہ دہرارہے تھے۔

‘‘بوئے شیخ می آید بو ئے شیخ می آید”

یعنی مجھے میرے شیخ کی خوشبو آ رہی ہے۔

ساتھی  بولے کہ حضرت محبوب الہیٰ تو کیلوکھڑی میں ہیں جو دہلی سے کافی دور ہے تو آپ کو ان کی خوشبو کیسے آ گئی مگر خسرو بے قرار ہوکر باہر نکل پڑے۔ خوشبو کا تعاقب کرتے کرتے  وہ  ایک سرائے  تک جاپہنچے  جہاں ایک کمرے میں ایک شخص اپنے سر کے نیچے کچھ رکھ کر سویا ہوا تھا۔   خوشبو وہاں سے آ رہی تھی۔  آپ نے اس کو جگایا اور پوچھا :

‘‘کیا   تم  حضرت نظام الدین کی خانقاہ سے آرہےہو….؟’’

تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بولا ‘‘ہاں’’

آپ نے اشتیاق سے پوچھا ‘‘کیسے ہیں میرےمرشد…؟’’ 

وہ شخص بولا ‘‘وہ تو ٹھیک ہیں۔  میں ان کے پاس مدد کے لیے گیا تھا ۔ انہوں نے  اور کچھ تو دیا نہیں البتہ اپنے پرانے بوسیدہ جوتے ضروردے  دیئے ہیں…’’

یہ سنتے ہیں امیر خسرو کی حالت غیر ہو گئی اور کہنے لگے ‘‘کہاں ہیں میرے مرشد کے نعلین ؟’’

اس  آدمی نے ایک کپڑا کھول کر حضرت نظام الدین کے جوتے دکھا دیئے،  خسرو نے ان جوتوں کو ہاتھ میں لے کر چوما اور اپنی آنکھوں سے لگایا اور کہنے لگے‘‘ کیا تو ان کو بیچے گا’’۔ 

اس نے کہا ‘‘امیر کیوں مذاق اڑاتے ہو’’

امیر خسرو بولے ‘‘مذاق نہیں۔  میرے پاس اس وقت سات لاکھ چیتل ہیں وہ لے لو مگر میرے مرشد کے نعلین مجھے دے دو،  اگر چاہو تو دہلی چلو اتنی ہی رقم اور دے دوں گا تمہیں….’’

سات لاکھ چیتل کا سن کر وہ چکرا گیا اور بولا :

‘‘نہیں بس میرا تو چند ہزار سے گزارا ہو جائے گا’’….

مگر امیر خسرو نے زبردستی اس کو سات لاکھ چیتل دیئے اور ساتھ میں اپنی  تحریر دی تاکہ کوئی اس پر شک نہ کرے اور پھر امیر خسرو اس حالت میں خانقاہ مرشد میں داخل ہوئے کہ جوتے اپنی دستار میں لپیٹ رکھے تھے اور دستار سر پر رکھے بڑھے چلے آ رہے تھے اور زارو قطار رو رہے تھے، 

حضرت نظام الدین ؒ  نے مسکراتے ہوئے پوچھا:

‘‘خسرو ….!ہمارے لیئے کیا لائے ہو؟’’

امیر نے جواب دیا ‘‘سیدی آپ کے نعلین لایا ہوں، ’’ حضرت نظام الدین اولیاء نے استفسار کیا ، ‘‘کتنے میں خریدے….؟’’

‘‘سات لاکھ چیتل ’’خسرو نے جواباً عرض کی۔

 محبوب الہیٰ مسکراتے ہوئے بولے۔ 

بسیار ارزاں خریدی‘‘بہت ارزاں لائے ہو’’۔

‘‘ جی سیدی سات لاکھ چیتل تو بہت کم ہیں اگر وہ شخص  میری جان بھی مانگتا تو جان دے کر نعلینِ مرشد حاصل کر لیتا’’۔ 

یہ ہے  ان کی اپنے مرشد سے حضرت امیر خسرو ؒ  کی  بے پناہ محبت کی ایک جھلک ….  

امیر خسرو کو  اپنے مرشد نظام الدین کے سوا کوئی نظر نہیں آتا تھا،   عشق کی اپنی اس کیفیت کو وہ ان اشعار میں بیان  فرماتے ہیں:

من تو شدم تو من شدی

من تن شدم تو جان شدی

تاکس ناگوید بعد ازیں

من دیگرم تو دیگری

‘‘میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے  ،  میں جسم ہوں تو جان ہے،  پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا ، کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے۔’’

****

 

خسرو شیریں زباں

خسرو نےہر صنف شعر ، مثنوی ، قصیدہ ، غزل ، پہیلیاں ، کہہ مکرنیاں ، انمل، دوہے،گیت وغیرہ میں طبع آزمائی کی ، ان کی بعض پہیلیاں آج بھی کافی مشہور ہیں، مثال کے طور پر ایسی پہیلیاں جن کے سوال میں ہی جواب ہوتا ہے۔
بیسیوں کا سر کاٹا ، نا مارا نا خون کیا (ناخون ، ناخن)
فارسی بولی آئی نا، ترکی ڈھونڈی پائی نا، ہندی بولوں آرسی آئے ، خُسرو کہے کوئی نہ بتائے۔ (آئی نہ، آئینہ )
بعض پہیلیوں میں دو جواب ہوتے ہیں ، ایک مبہم اور ایک درست، جسے کہہ مکرنی کہتے ہیں
وہ آوے تب شادی ہووے، اس بن دوجا اور نہ کوئے….
میٹھے لاگیں وا کے بول،
اے سکھی‘‘ساجن’’نا سکھی ‘‘ڈھول’’.
بعض دو پہیلیوں کا ایک جواب جنہیں دوسخنے کہا جاتا ہے۔

انار کیوں نہ چکھا ، وزیر کیوں نہ رکھا= دانا نہ تھا
دہی کیوں نہ جما ، نوکر کیوں نہ رکھا = ضامن نہ تھا
سموسہ کیوں نہ کھایا ، جوتا کیوں نہ پہنا = تلا نہ تھا
ستار کیوں نہ بجا ، عورت کیوں نہ نہائی = پردہ نہ تھا
گھر کیوں اندھیارا ، فقیر کیوں بڑبڑایا = دیا نہ تھا
گوشت کیوں نہ کھایا ، ڈوم کیوں نہ گایا = گلا نہ تھا
پنڈت کیوں نہ نہایا، دھوبن کیوں ماری گئی =دھوتی نہ تھی
کھچڑی کیوں نہ پکائی ، کبوتری کیوں نہ اڑائی=چھڑی نہ تھی

اسی طرح وہ اشعار جس میں چند ایسے ان مل اور بےجوڑ لفظوں کو یکجا کر دیا جائے جن میں مناسبت موجود نہ ہو ‘‘انمل ’’کہلاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے امیر خسرو فی البدیہہ شعر کہنے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ کہیں سے گزر رہے تھے کہ پیاس محسوس ہوئی ، قریب کنوئیں پر چار لڑکیاں پانی بھر رہی تھیں۔ امیر خسرو نے ان سے پانی مانگا۔ لڑکیاں امیر خسرو کو پہچان گئیں، کہنے لگیں کہ ہم ایک شرط پر آپ کو پانی پلائیں گی کہ آپ ابھی ایسا شعر سنائیں کہ جس میں ہم چاروں لڑکیاں ایک ایک چیز کا نام لیں اور اس ایک ہی شعر میں ان چاروں اشیاء کا ذکر ہو۔ لڑکیوں میں سے ایک نے کھیر دوسری نے چرخہ تیسری نے ڈھول جبکہ چوتھی نے کتے کا نام لیا۔
امیر خسرو بے ساختہ بولے ۔ ‘‘کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا’’
اور لڑکیاں یہ سن کر ہکابکا رہ گئیں۔
امیر خسرو کے کہے ہوئے شادی اور ساون کے گیت آج بھی برصغیر پاک و ہند میں مقبول ہیں، مثلاً
چھاپ تلک سب چھین لی ری موسے نیناں ملائی کے اپنی ہی کرلی نی موسے نیناں ملائی کے
کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے ، کاہے کو بیاہی بدیس
اماں میرے بابا کو بھیجو ری کہ ساون آیا بیٹی تیرا باوا تو بڈھا ری کہ ساون آیا
میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے گھر ناری کنواری کہے سو کرے
سب سکھیوں میں چادر میری میلی دیکھیں ہنس ہنس ناری
سرسوں پھول بنی اور کوئل کوکت راگ ملھار ناریاں جھولے ڈال کے دیکھت ہیں ساون کی دھار
امیر خسرو کے کہے ہوئے دوہے یعنی دو بند والے اشعاربھی ملاحظہ ہوں
خسرو بازی پریم کی میں کھیلوں پی کے سنگ جیت گئی تو پیا مورے ہاری پی کے سنگ
خسرو دریا پریم کا الٹی وا کی دھار جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا اس پار
گوری سووے سیج پہ مکھ پہ ڈالے کھیس چل خسرو گھر اپنے ، سانجھ بھئ چو دیس

ایک روز حضرت نظام الدین اولیاء نے امیر خسرو سے از رہِ تفنن دریافت فرمایا کہ اچھے اشعار سُنانے کا تم  کو کیا صِلہ چاہیے  تو خسرو نے عرض کیا کہ

‘‘کلام میں شیرینی ’’

خواجہ صاحب نے فرمایا :

جاؤ اندر میرے پلنگ کے نیچے ایک برتن پڑا ہے اس میں  شکر رکھی ہے اس کو جا کر چکھ لو۔ خسرو نے ایسا ہی کیا ۔  یہ حضرت نظام الدین کے تصرف کا کمال تھا کی خسرو کی شیریں زبانی آج تک مستند ہے۔

خواجہ نظام الدین اولیاء کے نزدیک ان کےمرید خسرو  ایک معتبر شخصیت کے مالک تھے۔  کتابی علوم کے علاوہ علومِ دینوی کے بھی ماہر تھے۔  خواجہ نظام الدین اولیاء کی  نظر میں خسرو ایک ایسی شخصیت تھے جو کسی بھی موضوع پر کُھل کر لکھ سکتے تھے ۔   اَمیر   خسرو نے خواجہ صاحب کی ہدایت و فرمایش پر کئی مثنویاں اور اشعار تحریر فرمائے۔ امیر خسرو نے اپنی بیشتر تصانیف میں اپنے   پیرو مُرشد کی مدح سرائی کی ہے۔ 

 حضرت امیر خسروؒ فن شاعری میں ید طولی رکھتے، نا صرف فارسی بلکہ عربی ،ترکی،ہندی ہر زبان میں آپ نے اپنے علم وفن کا لوہا منوایا۔ اب تک آپ کی جو تصانیف دریافت ہوسکی ہیں ان کی تعداد نوے(90) ہے۔

امیر خسرو کو فارسی، ہندی، ترکی، سنسکرت اور عربی زبانوں پر عبور حاصل ہوچکا۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اُردو زبان بھی اسی دور کی پیداوار ہے۔

کہا جاتا ہے کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے ایک کمیٹی قائم فرمائی جس کا کام فارسی، عربی، ہندی اور دیگر مقامی زبانوں کے ارتباط سے ایک ایسی زبان تشکیل دینا تھا جو پورے ہندوستان میں رابطے کی زبان کا کام کرے۔ امیر خسروؒ اس کمیٹی کے سربراہ تھے۔ آپؒ ہی نے اُردو شاعری کی ابتداء کی۔

اردو کی پہلی غزل جو آپ سے منسوب ہے:

زحالِ مسکین مکن تغافل، دُرائے نیناں، بنائے بتیاں

کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں، نہ لیہو کا ہے لگائے چھتیاں

شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلش چو عمر کو تہہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یکا یک از دل دو چشمِ جادو، بصد فریبم ببرد تسکیں

کسے پڑی ہے جو سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

چو شمع سوزاں، چو ذرہ حیراں زمہرآں ماہ گشتم آخر

نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں نہ بھیجیں پتیاں

بحقِ روزِ وصالِ دلبر کہ داد مارا فریبِ خسرو

سپیت من کے درائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں

****

شیخ نظام الدین نے امیر خسرو کے متعلق یہ دو شعر کہے ہیں۔ رباعی

خسرو کہ بنظم و نثر مثلث کم خواست

 ملک است و ملک سخن آں خسرو راست

ایں خسرو ماست ناصر خسرو نیست

زیرا کہ خدائے ناصرِ خسرو ماست

ترجمہ (نظم و نثر میں امیر خسرو کا اور کوئی ہم پلہ نہیں، سخن بحنی کی بادشاہت اسی کے شایان شان ہے، ہمارا یہ خسرو، خسرو ناصر نہیں اس لیے کہ ہمارا خسر و ناصر سے بدرجہا فائق و بلند ہے)

جس وقت خواجہ  نظام الدین اولیا کا انتقال ہوا اس وقت خسرو سلطان محمد تغلق کے ساتھ لکھنؤتی  یا بنگال گئے ہوئے تھے، سفر  سے لوٹنے کے بعد  وصال کی خبر پاتے ہی دلّی پہنچے اور مزارِ مرشد پر حاضر ہوئے۔   گریہ و زاری اور تعزیت میں  آپ کی دیوانوں  کی سی حالت ہوگئی تھی۔ روتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے کہ مرشد کے بعد اب میں بھی زندہ نہ رہوں گا ۔  اس کے بعد چھ ماہ تک آپ زندہ رہے۔ اور یہ شعر کہتے ؎

گوری سوئے سیج پر مکھ پر ڈارے کیس

چل خسروؔ گھر اپنے رین بھئی سب دیس

اور کچھ ہی عرصے بعدآپؒ بھی عالمِ بالا تشریفلے گئے۔

شیخ نظام الدین اولیاء نے 18؍ ربیع الثانی 725ھ کو انتقال فرمایااور امیر خسرو نے چند ماہ بعد 18؍شوال 725ھ کو وفات پائی۔

حضرت نظام الدین کے مزار کے ٹھیک پاس امیر خسرو کا مزار واقع ہے۔  آج بھی یہاں حضرت نظام الدین اور امیر خسرو کو یاد کر چھاپ  تلک سب چھین لی” قوالی گائی جاتی ہے۔

خسرو نظام کے بل بل جئیے

موہے سہاگن کی نہیں رے

موسے نیننا ملائ کے۔

قدرت نے امیر خسرو کو رساذہن اور پرُہنر دماغ عطا کیا تھا۔ وہ نہ صرف باکمال اوربلند پایہ شاعر تھے بلکہ اُنہوں نے تاریخ، ادب،فقہ، تصوف اور کئی اصناف سخن میں اپنا لوہا منوالیا۔وہ نیک و پاکیزہ اخلاق کے مالک تھے۔ محتاجوں اور مسکینوں کی بھرپور مدد کرتے تھے۔ انکساری اور عاجزی کا ہر دم مظاہرہ کرتے تھے۔ ہمدردی اور محبت کے جذبے سے سرشار تھے۔ ان کی نکتہ شناس نظر اور مضمون آفرین دماغ نے ان کے کلام میں فصاحت و بلاغت دلکشی اور دلچسپی پیدا کردی تھی۔  ان کی شاعری کے چرچے ناصرف ہندوستان میں بلکہ ایران و افغانستان میں بھی ہوئے اور اسے فارسی ادب کا بڑا سرمایہ تصور کیاجاتاہے۔

امیر خسرو نے،کئی نقادوں کے مطابق ،سب سے پہلے نثر نگاری کے اصول وضع کئے۔ حضرت خسرو نے مختلف موضوعات پر اُٹھانوے کتابیں تصنیف فرمائی لیکن ان میں سے آج اکثر لاپتہ ہیں۔

 

خسرو شیریں زباں

حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کو خسرو سے بہت لگاؤ تھا۔ آپ نے یہ وصیت فرمائی کہ خسرو کو میرے قریب میں دفن کیا جائے۔ ایساہی کیا گیا۔
دہلی پر نظام الدین اولیاء کی درگاہ میں آنے والے زائرین پہلے امیر خسرو کے مزار پر حاضر ہوتے ہیں اس کے بعد محبوبِ الہٰی کی بارگاہ میں جاتے ہیں۔

 

 

 [:]

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

وادیٔ مہران کی پہچان صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر ؒ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں[:ur] آذربائیجان اور تبریر سے 40میل کے فاصلے پر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے