شکریہ ۔ قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

 

دنیا بھر میں ہر روز بے شمار تربیتی پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ، مضامین، کالم اور کتابیں یہ بتانے کے لئے لکھی جاتی ہیں کہ کس طرح ان خواہشات کے حصول کی تکمیل کی جائے۔ زندگی بہتر انداز میں گزارنے کے لئے ہم اپنے طور پربھی کوشش اور تجربات کرتے رہتے ہیں ۔اس کے باوجودہم ایسی زندگی نہیں گزار پاتے جو انسانیت کے شایانِ شان ہو۔ہم غربت، جہالت، بے روزگاری جیسے مسائل سے دو چار ہیں ۔ ہمارے رشتوں میں محبت ، قربانی اور روا داری کا فقدان رہتا ہے۔ اچھی زندگی ہمارے لئے ایک خواب بن جاتی ہے، وہ خواب جو ہم ہر رات دیکھتے ہیں ۔زندگی ایک معمہ بن جاتی ہے ، جسے سمجھتے سمجھتے پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ 1998 سے میرا تعلق پڑھانے اور ٹریننگز کرانے سے رہا ہے۔ اس دوران میں نے سینکڑوں لوگوں کے نقطہ نظر کو سنا، کتابیں پڑھیں اور یہ کوشش کی کوئی ایسا فارمولا ہاتھ لگ جائے جس کے باعث ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر تے ہوئے خوشحال زندگی گزاریں ۔ ایسی زندگی جو دونوں جہانوں میں سرفراز کر دے۔میرا ایمان ہے کہ انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے وہ حاصل کر ہی لیتا ہے۔مجھے بھی وہ فارمولا مل گیا۔ میں اس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں یہ کامیابی اور خوشحالی کا واحد فارمولا ہے،واحد فارمولا۔ اس سلسلۂ مضامین کا مقصد یہی ہے کہ نا صرف اُس قانون کو بیان کیا جائے بلکہ اس پر عمل کرنا آسان بنا دیا جائے تاکہ ہماری زندگی صحت ،محبت ، دولت اور خوشیوں سے بھر نے کے ساتھ ساتھ خدا کی رضا بھی حاصل کر لے ۔ محمد زبیر

 

قانونِ فراوانی

اس دنیا میں ہمارے پاس دوطرح کے اختیارات ہیں  یاتو  ہم اپنی زندگی خوشحال، مطمئن اور کامیاب انداز میں  گزاریں  یا پھر لڑتے جھگڑتے، چھوٹی چھوٹی جائز ضروریات پوری کرنے کی ناکام کوشش کرتے  ہوئے بیماری و بدحالی میں  گزاریں ۔ کیا  ہم  چاہتے ہیں  کہ ….

ہمارے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہیں ….؟
لوگ ہم سے خوش رہیں  ….؟
ہم ہمیشہ چا ق وچوبند رہیں ….؟
ہم اپنی اور اپنوں  کی تمام ضروریات با آسانی پوری کر سکیں ، اُن کی زندگی نت نئے تجربات سے بھر دیں ۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اپنے رب کو راضی کرلیں۔

میں  نے سینکڑوں  لوگوں  کے نقطہ نظر کو سنا، کتابیں  پڑھیں  اور یہ کوشش کی کوئی ایسا فارمولا ہاتھ لگ جائے جس کے ذریعے ہم  خوشحال زندگی گزاریں ۔ ایسی زندگی جو دونوں  جہانوں  میں  سرفراز کر دے۔ ہمارا ایمان ہے کہ انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے وہ حاصل کر ہی لیتا ہے۔مجھے بھی وہ فارمولا مل گیا۔ میں  اس کے بارے میں  مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں  یہ کامیابی اور خوشحالی کا واحد فارمولا ہے…. جی ہاں، واحد فارمولا۔

 

 اس فارمولے کو اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں  بہت واضح انداز میں  بیان فرمایا ہے :

 لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ

‘‘اگر تم شکرگزاری کروگے تو بیشک میں  تمہیں  زیادہ دوں  گااور اگر تم نا شکری کروگے تو یقینا میرا عذاب بہت سخت ہے’’۔ [سورۂابراہیم: آیت 7]

زندگی کے جس شعبے میں  بھی آپ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں ، چاہے صحت ہو ، محبت ہو ، عزت ہو ، علم ہو ، یا کوئی عظیم کارنامہ سرانجام دینے کا عزم، فارمولا اس کا یہی ہے کہ شکر ادا کیا جائے ۔

 ہمارے لئے یقین او ر اطمینان کی بات یہ ہے کہ یہ فارمولا انسان کا بنایا ہوا نہیں  ہے کہ جس میں  خطا کا امکان ہو ، یہ فارمولا تو اُس ہستی کا دیا ہوا ہے جس نے زمین و آسمان ہی نہیں  ستاروں  سے آگے بھی جہاں  اس طرح تخلیق کئے ہیں  کہ رائی کے دانے کے برابر بھی کمی یا زیادتی نہیں  رکھی ، ٹھیک ٹھیک اندازے کے مطابق وہ ہستی ہمیں  بتارہی ہے کہ کچھ بھی حاصل کرنا کتنا آسان ہے، نہ صرف خود بتایا بلکہ اس کائنات کی سب سے محبوب و محترم ہستی سے بھی کہلوادیا  :

‘‘نعمتوں  پر شکر گزاری اس بات کی ضامن ہے کہ نعمتوں  کا سلسلہ جاری رہے گا’’ [حدیث رسول  ﷺ ]

زندگی ہماری خواہشات کے مطابق نہیں  بلکہ ان قوانین کے مطابق چلتی ہے جنہیں  قوانینِ قدرت Laws of Nature کہتے ہیں ۔ کچھ قوانین ہم نے جان لئے ہیں  لیکن بہت سے قوانین جاننا باقی ہیں ۔ ہم یہ جانتے ہیں  کہ اگر کسی شے کو آسمان کی طرف اچھالا جائے تو وہ نیچے کی طرف آئے گی، ہوا میں  معلق نہیں  رہے گی کیونکہ زمین ہر شے کو اپنی جانب کھینچتی ہے، قوتِ ثقل  Gravitational forceرکھتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے قانونِ ثقل Gravitational Lawجان لیا ۔

صدیوں  سے انسان کی خواہش تھی کہ وہ ہوامیں  اڑے، اس خواہش میں  اس نے عرصہ درازتک تحقیق کی،جسم پر پَر باندھ کر پہاڑ سے کود پڑا،اپنے جسم کی ہڈیاں  تڑوائیں ، جان تک گنوائی مگر اڑ نہیں  سکا۔ اس کے بعد اس نے ہوا بازی aviation کے قوانین جاننے کی کوشش کی۔سائیکلوں  کی مرمت کرنے والے دو بچوں  نے جہاز بنانے کیلئے مختلف معلومات جمع کیں ،کتنی ہی راتیں  جاگ کر گزاریں ، اس کے بعد وہ جہاز اُڑانے کے قابل ہو سکے۔

 ہر عمل کا ردّ عمل ہوتا ہے، یہ قانون موجود تھا لیکن ہمیں  علم نہیں  تھا۔ نیوٹن نے جب قانون دریافت کیا تو انسان نے اس قانون کی بدولت بے پناہ ترقی کی۔ اسی طرح علت و معلول کے تصور Cause and Effect  نے سائنس اور فلسفے کے میدان میں فہم و ادراک کی نئی راہیں   پیدا کیں ۔

قوانین کا جانناایسا ہی ہے جیسے آپ موٹر وے پر سفر کر رہے ہیں  جہاں  حدِ ّ  رفتارSpeed Limit  110 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے لیکن آپ 120  کلومیٹر کی رفتار سے گاڑی چلا رہے ہیں ۔ موٹروے پولیس آپ کو روکے اور آپ کا چالان کردے۔ چالان کے بعد آپ وجہ جانے بغیر دوبارہ سفر شروع کردیں  اور یہی غلطی ایک مرتبہ پھر دہرائیں  تو ایک مرتبہ پھر اسی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جب تک آپ قانون کو جانیں  گے نہیں  نقصان اُٹھاتے رہیں  گے۔

قوانین موجود ہیں  اگر انہیں  سمجھ لیا تو فائدہ اٹھائیں  گے، اگر نہیں سمجھا تو اُن بے پناہ آسانیوں  سے محروم رہ جائیں  گے جو ہماری زندگی کا حصہ بن سکتی ہیں ۔

انہیں  قوانین میں  ایک اہم ترین قانون ‘‘قانونِ فراوانی’’ Law of Abundanceہے۔یہ وہ قانون ہے جس کی تصدیق تمام آسمانی کتابیں  ، عظیم مفکر ، نامور سیاست دان اور تمام صاحبِ کمال لوگ کرتے آئے ہیں  ۔  اس قانون کو  ’قانونِ شکرگزاری‘  بھی کہتے ہیں ۔

اب چاہے ہم اسے مانیں  یانہ مانیں ، اس کا علم رکھیں  یا نہ رکھیں  دیگر قوانین کی طرح یہ قانون بھی جاری و ساری رہتا ہے ۔یہ قانون اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کون کتنی پُرسکون زندگی گزارے گا اور کون کتنی بے چین ؛ کون لوگوں  کے ساتھ بھرپور تعلقات رکھے گا اور کون اذیت ناک؛کون صحت مند زندگی گزارے گا اور کون تھکی تھکی اور بیمار؛ کون خوشحال زندگی گزارے گا اور کون بد حال؛ کس کی زندگی علم و عمل سے عبارت ہوگی اور کس کی جہل و بے عملی سے۔  صرف زبان سے شکریہ یا الحمد للہ کہنا ہی شکر گزاری نہیں ، کسی شے کے ملنے پر خوشی کا اظہار کرنا بھی شکر گزاری ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام شکر کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے اس لئے وہ جاننا چاہتے تھے کہ شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔امام غزالی ؒ  ‘‘کیمیائے سعادت’’ میں  لکھتے ہیں  کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مناجات میں  اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ تو نے آدم علیہ السلام کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا کرکے یہ نعمتیں  عطا فرمائیں۔  انہوں  نے کس طرح تیرا شکر ادا کیا۔ ارشاد ہوا کہ آدم نے یہ جانا کہ وہ نعمتیں  سب میری طرف سے ہیں۔ اس کا یہ جاننا ہی شکر تھا۔ گوتم بدھ کہتے ہیں :

You have no cause for anything but gratitude and joy.

‘‘کوئی بھی شے شکر گزاری اور خوشی کے بغیر حاصل نہیں  کی جاسکتی’’۔ [گوتم بدھ]

آئن اسٹائن جسے گزشتہ صدی کا سب سے بڑا سائنسدان سمجھا جاتا ہے،اس کا کہنا ہے کہ وہ دن میں  سو مرتبہ لوگوں  کا شکریہ ادا کرتا ہے۔

A hundred times every day
I remind myself that my inner and
outer life depend on the labors of
other men….

‘‘ہر روز دن میں  سو مرتبہ میں  خود کو یہ بات یاد دلاتا ہوں  کہ میری ظاہری اور باطنی زندگی دوسرے لوگوں  کی محنت کی مرہونِ منّت ہے’’۔[البرٹ آئن اسٹائن ]

مارکس سسرو Cicero، جس پر رومی اکّیس سو سال گزرنے کے بعد ، آج بھی فخر کرتے ہیں ، اسے اپنا اثاثہ مانتے ہیں ، اس کا کہنا ہے :

"Gratitude is not only the greatest of virtues, but the parent of all others.” 

‘‘شکر گزاری نا صرف تمام نیکیوں  میں  سب سے عظیم نیکی ہے بلکہ یہی نیکیوں  کو جنم دیتی ہے’’۔  [سسرو]

اب ہم یہ دیکھیں  گے کہ شکر ادا کرنے سے یہ فوائد کس طرح حاصل ہوتے ہیں ۔

ویسے تواس بات کی وضاحت اس کتاب کے تقریباًہر باب میں  کی گئی ہے، مگر یہاں  مختصراً یہ دیکھتے ہیں  کہ دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان آئزک نیوٹن کا مشہورِ زمانہ قانون کیا کہتا ہے :

Every action always has an opposite and equal reaction. Newton

‘‘ہر عمل کا ہمیشہ ردّعمل مخالف سمت میں  اسی شدت سے ہوتا ہے’’۔[ نیوٹن]

نیوٹن کی اس بات کو انسان ہزاروں  سال سے کسی نہ کسی انداز سے مانتا ہو ا آ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے ،‘‘جیساکرو گے ویسا بھرو گے’’۔‘‘جو بوؤ گے وہی کاٹوگے’’۔‘‘دنیا مکافاتِ عمل ہے’’ وغیرہ ۔ ہم جب کبھی کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں  تو در حقیقت اس شخص کے ساتھ نہیں  بلکہ کائنات (universe) کے ساتھ نیکی کر رہے ہوتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے جس کے ساتھ آپ نے نیکی کی ہو، صلہ وہ شخص نہیں  دے، لیکن کائنات صلہ ضرور دیتی ہے۔ یہی کچھ بدی کے معاملے میں  بھی ہوتا ہے، اگر کسی کے ساتھ برا عمل کیا جائے تو ضروری نہیں  ہے کہ وہی شخص آپ کے ساتھ برا کرے، لیکن کائنات کسی نہ کسی شخص کے ہاتھوں  حساب بے باق کر لے گی۔اور یہی کچھ شکر گزاری کے معاملے میں  بھی ہوتا ہے۔جب آپ کسی کا دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں  تو آپ کو شکر ادا کرنے کا ایک اور موقع مل جاتا ہے۔ 

 اسی بات کو امریکہ کے معتبر روحانی پیشوا ڈاکٹر نارمن ونسنٹ پیل  کہتے ہیں :

A basic law: the more you practice the art of thankfulness, the more you have to be thankful for.” Norman Vincent Peale

‘‘ایک بنیادی قانون: جتنا زیادہ تم شکر ادا کروگے، اتنا زیادہ تمہیں شکرادا کرنے کے مواقع ملتے رہیں  گے’’۔ [نارمن ونسنٹ پیل]

اس سلسلۂ مضامین  کا بنیادی مقصد یہی ہے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں  کہ اللہ تعالی کا شکر کس طرح ادا کیا جائے، ویسے تو اس کی شکر گزاری کا حق ادا ہوہی نہیں  سکتا لیکن کم از کم کسی حد تک تو ہم اپنا یہ فریضہ ادا کردیں  اور ساتھ ساتھ یہ بھی جان لیں  کہ کس طرح ہم کفرانِ نعمت کر رہے ہیں  ۔

اس کے بدلے یقینا اللہ تعالی ہمیں  دنیا و آخرت میں  ہر طرح کی خوبی اور بھلائی عطا فرمائے گا ۔ اور آخرت میں  آگ کے عذاب سے بھی بچائے گا۔

اس بات سے کوئی فرق نہیں  پڑتا کہ آپ کون ہیں،  کہاں  ہیں  یا کن حالات میں  زندگی گزار رہے ہیں  ۔ جیسے ہی شکر گزاری کی راہ پر چلنا شروع کرتے ہیں ، حالات حیران کن انداز سے تبدیل ہوجاتے ہیں  کیونکہ یہ وہ قانون ہے جس کا وعدہ اللہ تعالی نے قرآنِ حکیم میں  کیا ہے کہ جیسے جیسے شکر گزاری کا تناسب ہماری زندگی میں  بڑھے گا، اسی تناسب سے خوشیوں  اور آسانیوں  میں  بھی اضافہ ہونا شروع ہوجائیگا۔اس حوالے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے الفاظ ہیرے موتیوں  سے لکھ کر اپنے گھروں  اور دفاتر میں آویزاں  کرنے کے قابل ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں :

‘‘نعمتوں  میں  اضافہ شکرگزاری کا ادنیٰ ترین فائدہ ہے’’۔[حضرت علی ؓ]

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں  یہی نہیں  معلوم کہ شکر کیا ہے اور کس طرح ادا کیا جاتا ہے ، اسی لئے ہماری دنیا دکھوں ،بیماریوں ، محرومیوں  اورنفرتوں  سے بھری پڑی ہے۔یہ کتاب اسی سلسلے میں  آگہی اور یاددہانی کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔ شکر گزاری کا موضوع ایک سمندر ہے ، ہماری یہ کوشش  ایک قطرہ بھی نہیں ۔لیکن اتنا ضرور ہے کہ شکر گزاری کا سفر یہاں  سے شروع کرکے ایک بھرپور زندگی میں  قدم رکھا جا سکتا ہے۔ آج سے شکر گزاری کی روش اپنائیں  اور دیکھیں اس دنیا میں  کیا کیا خزانے آپ کے منتظر ہیں ۔    

 


آپ کیا چاہتے ہیں

پہلا دن

یہ مضامین   بہت دلچسپ انداز میں  لکھے گئے ہیں ۔ اسے پڑھنے کے لئے نہیں  عمل کے لئے لکھا گیا ہے۔ یہ مضامین  ہر قسم کے لوگوں  کے لئے ہے اور ہر شخص کو اتنا ہی فائدہ ہوگا جتنا وہ اس پر عمل کریگا ۔

آپ روزانہ 10 سے 15منٹ اس کتاب کو دیں  اور دیکھیں  کہ ہر آنے والا دن کس طرح پچھلے دن سے بہتر ہوتا جارہا ہے۔  چیزیں  کس طرح آپ کی خواہشات کے مطابق چلنا شروع ہوتی جارہی ہیں ، کس طرح آپ کی زندگی میں  محبت اور سکون داخل ہورہا ہے۔ اگر آپ کو سفر کرنے کا ، گھومنے پھرنے کا شوق ہے تو مواقع کس طرح سامنے آرہے ہیں  ۔ اگر آپ خود کو صحت مند اور چاق و چوبند دیکھنا چاہتے ہیں  تو کس طرح توانائی آپ کی رگ و پے میں  سرائیت کرنا شروع ہوگئی ہے ۔ کس طرح آپ کے پاس پیسے آرہے ہیں  جس کی مدد سے نہ صرف آپ کی بلکہ ان سب لوگوں  کی زندگی بہتر انداز میں  گزر رہی ہے جو آپ پر انحصار کرتے ہیں  یا آ پ سے امیدیں  وابستہ کئے ہوئے ہیں  ۔ چاہے آپ نوکری کی وجہ سے پریشان ہوں  یا رشتوں  کی طرف سے ، سب مسائل حل ہوتے چلے جائیں  گے۔ یہ بات اتنے وثوق سے اس لئے کہی جارہی ہے کہ اس کی بدولت بے شمار لوگوں  کی زندگیاں  تبدیل ہونے کے واقعات ہمارے سامنے موجود ہیں  ، اور ہرآنے والے دن کے ساتھ لوگوں  کی کامیابی کی کہانیوں  میں  اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

اس سلسلۂ مضامین  کاہر مو ضوع ایک کہانی سے شروع ہوتا ہے ۔پھر عقلی یا سائنسی دلائل کے ساتھ اس کی تشریح بیان کی جاتی ہے۔ اس کے بعد روزانہ ایک مشقexercise دی جاتی ہے جسے دن بھر یا دن کے کسی ایک حصے میں  کچھ دیر کے لئے کرنا ہوتا ہے۔ حالات کس طرح بدلیں  گے، آپ کچھ بھی کیسے حاصل کریں  گے یہ آپ کا مسئلہ نہیں  ہے۔ آپ کا مسئلہ خواہش کرنا اور شکر کرنا ہے۔ باقی کا کام قانونِ قدرت کا ہے، آپ کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں  ۔

جیسے جیسے آپ قسط وار ایک کے بعد ایک باب chapter پڑھتے جائیں  گے اور اُس پر عمل کرتے جائیں  گے آپ کو احساس ہونا شروع ہوجائیگا کہ لاتعداد چیزیں  ایسی ہیں کہ ان کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے لیکن ہم نے انہیں  یکسر نظر انداز کیا ہوا ہے۔ آپ کے شکرگزاری کے جذبات خود بخود دل سے ظاہر ہونا شروع ہوجائیں  گے ۔ نتیجہ آپ خود جان چکے ہیں  ۔ بے شمار فوائد میں  سے چند ایک فائدے جو فوری طور پر حاصل ہونا شروع ہوجائیں  گے وہ یہ ہیں  ۔

  1. ہر صبح کا آغاز پر جوش انداز میں ہوگا
  2. زندگی اور زندگی دینے والے سے محبت ہوجائے گی
  3. وہ خوشی اور اطمینان حاصل ہوگا جو زندگی میں کبھی پہلے حاصل نہیں  ہوسکا ۔
  4. مشکلات آئیں گی لیکن یہ مشکلات آپ کو توڑنے کے بجائے خوبصورت اور طاقتور بنا دیں  گی۔
  5. ہر دن کرشماتی ہوگا جسے ناصرف آپ بلکہ وہ تمام لوگ دیکھیں گے جن کا آپ سے تعلق ہے۔

آپ زندگی میں  کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ، آپ کے اہداف کیا ہیں  یہ جاننا بہت ضروری ہے اور یہ عمل آج سے نہیں  ہزاروں  سال سے جاری ہے۔ کسی بھی دور کی عظیم شخصیات کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں  بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ انہوں  نے پہلے اپنے اہداف کا تعین کیا ،Goals Setting کی ،اس کے بعد ہی وہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں  کامیاب ہوئے۔

 فرض کریں  کہ آپ فٹبال کا میچ کھیلنے جائیں  ، پوری تیاری اور جوش و خروش کے ساتھ۔ بہت سارے لوگ اسٹیڈیم میں  آپ کا میچ دیکھنے کیلئے موجود ہوں ، آپ سے امیدیں  لگا کر بیٹھے ہوں ، آپ کے لئے دعائیں  کر رہے ہوں ۔ آپ کی مخالف ٹیم بھی میدان میں  آجائے، پورے جوش و خروش، امیدوں  اور دعاؤں  کے ساتھ۔جیسے ہی میچ شروع ہونے والاہودونوں  طرف سے گول پوسٹ ہٹا دئے جائیں  اور میچ شروع ہوجائے۔ آپ گیند لیکر بھاگ رہے ہیں ، اپنے ساتھیوں  کو گیندپاس کر رہے ہیں، چونکہ گول پوسٹ نہیں  ہے لہذا آپ محض بھاگ رہے ہیں ، بھاگ رہے ہیں ، لیکن کچھ حاصل نہیں  کر پا رہے ہیں ۔ اب آپ تھکنا شروع ہوگئے ہیں ، آپ کی مجبوری یہ ہے کہ جب تک وقت پورا نہیں  ہو جاتا، میدان سے باہر بھی نہیں  آ سکتے ۔ یہی حال مخالف ٹیم کا بھی ہے اور ان شائقین کا بھی جو آپ کی صلاحیتوں  پر اعتماد کر کے آپ کا کھیل دیکھنے اور سراہنے کے لئے آئے تھے۔اب آپ بے دلی سے کھیلیں  گے، ایک دوسرے سے الجھیں  گے اور جوش و جذبے سے عاری ہو جائیں  گے۔نہ توآپ پُرجوش اور نہ ہی شائقین۔

یہی حال ہم اپنی زندگی کے ساتھ بھی کرتے ہیں ، اپنی منزل کا تعین کئے بغیر بھاگنا شروع کر دیتے ہیں ، سنگِ میل کو منزل سمجھ کر خوش ہوجاتے ہیں  ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پتہ چلتا ہے کہ یہ چراغِ راہ ہے منزل نہیں  ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پہلے ہم اپنوں  کیلئے ،  پھر اپنوں  سے اور پھر اپنے آپ سے لڑنا اور الجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اس کے بر عکس جب ہم اپنی منزل کا تعین کرلیتے ہیں  تو راستے میں  آنے والے مناظر سے مکمل طو پر لطف اندوز ہوتے ہیں ، جیسے جیسے آگے بڑھتے ہیں ، منزل تک پہنچنے کا خیال ہی پرجوش کر دیتا ہے۔ اس دوران اگر مسائل آبھی جائیں  تو ولولے پست نہیں  ہوتے، کیونکہ انہیں  معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کیلئے وہ سفر کر رہے ہیں  اس کے حصول کے سامنے ان مسائل کی کوئی اہمیت نہیں  ہے۔ اوگ مینڈینو جن کی کتاب عظیم ترین سیلز مین The Greatest Salesman کی پانچ کروڑ سے زائد کاپیاں  فروخت اور دنیا کی پچیس سے زائد زبانوں  میں  ترجمہ ہو چکی ہیں ، کہتے ہیں :

The victory of success is half won when one gains the habit of setting and achieving goals. Og Mandino

‘‘کامیابی کی فتح آدھی تو اسی وقت حاصل ہو جاتی ہے جب کسی شخص میں  اہداف کو مقرر کرنے اور انہیں  حاصل کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے’’۔[اوگ مینڈینو]

مسلمانوں  کے متعلق مشہور تھا کہ وہ رات کے زاہد  اور دن کے مجاہد تھے، یعنی رات میں  عبادت، غور و فکر، منصوبہ بندی اور دن میں  جدوجہد۔ہم تمام سیاحوں  کو جانتے ہیں  کہ انہوں  نے طویل عرصہ منصوبہ بندی میں  گزارا تب کہیں  جا کر دنیا کو دریافت کر سکے۔ کولمبس جب کہا کرتا تھا کہ سمندر کے پیچھے بھی ایک دنیا آباد ہے تو لو گ اس کا مذاق اڑاتے تھے، مگر اس نے ثابت کر دکھایا۔ سلطنتِ روم سے لے کر مسلمانوں  کی فتوحات اور پھر آج تک ہونے والی کوئی بھی جنگ ، اہداف کا تعین کئے بغیر نہیں  جیتی گئی۔دنیا کی کوئی بھی تحریک الل ٹپ کامیاب نہیں  ہوئی، پہلے اس کے لئے اہداف متعین کئے گئے، پھر کامیابی نصیب ہوئی۔جن لوگوں  کا ہدف چاند تھا ، وہ چاند تک گئے اور جن لوگوں  کا کوئی ہدف نہیں  تھا، وہ خلاؤں  میں  بھٹکتے رہ گئے۔آج کے دور میں  کوئی بھی ادارہ، کوئی بھی کاروبار سب سے پہلے اپنے ہدف لکھتا ہے پھر کام شروع کرتا ہے۔

Give me six hours to chop down a tree and I will spend the first four sharpening the axe. Abraham Lincoln

مجھے کوئی درخت کاٹنے کیلئے چھ گھنٹے دو،  پہلے چار گھنٹے میں  کلہاڑی تیز کرنے میں  صرف کروں گا۔ [ابراہم لنکن]

 اپنے ارد گرد کسی بھی قابلِ ذکر شخصیت پر نظر دوڑائیں ، آپ کو معلوم ہو جائیگا کہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں  کہ وہ کیا کرنا، کیا بننا اور کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔یہ واحد خوبی، یعنی اپنے اہداف کا علم ہونا اتنا اہم ہے کہ اس پر ہماری کامیابی اور ناکامی کا مکمل انحصار ہے۔لیکن ہر دور کی طرح اس دور کا بھی المیہ ہے کہ ہماری اکثریت اس بات سے لاعلم ہے کہ وہ چاہتی کیا ہے، اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور وہ کونسی چیزیں  ہیں  جو اس کی زندگی کو مکمل کر سکتی ہیں ۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں  ہونے والے ایک سروے کے مطابق دنیا کے 95 فیصد لوگ وہ ہیں  جو یہ ہی نہیں  جانتے کہ انکی زندگی کا مقصد کیاہے جبکہ تین فیصد سے بھی کم وہ لوگ ہیں  جنہوں  نے اپنے اہداف لکھ رکھے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے والوں  کی اکثریت ان لوگوں  پر مشتمل ہے جو اپنے مقاصد لکھ کر رکھتے ہیں  یا انہیں کم از کم واضح طور پر علم ضرور ہوتا ہے۔

میں  نے بہت سے ٹریننگ پروگرامز میں  لوگوں  سے ایک سوال کیا ، جس کے بعد میں  اس نتیجہ پر پہنچا ہوں  کہ یا تولوگوں  کو معلوم ہی نہیں  کہ انہیں  کیا چاہیے یا پھر انہیں  بہت ہی معمولی چیزیں  چاہئیں ۔ میں سوال کرتا ہوں ’’ فرض کریں  اچانک ایک جن برآمد ہوجائے اور کہے اپنی تین خواہشات بتاؤ جنہیں  میں پورا کروں  تو آپ کی کیا  خواہشا ت ہوں  گی۔ اُسے

آپ کیا بتائیں  گے کہ آپ کیا چاہتے ہیں  ؟

  زیادہ تر لوگ اِدھر اُدھر کی باتیں  کرنا شروع کر دیتے ہیں۔جیسے:

  1. سوچنے دیں (یعنی یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ کیا چاہئے)
  2. بہت ساری ہیں کیا کیا بتاؤں ؟
  3. ہزاروں خواہشیں  ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے (  میں  پوچھتا ہوں ،تین کونسی ہیں ؟ جواب ملتا ہے ) بہت ساری ہیں  ۔

We don’t know what we want, but are sure that we have not got it.

‘‘ہم یہ تو نہیں  جانتے کہ ہم کیا چاہتے ہیں ، مگر یہ اچھی طرح جانتے ہیں  کہ وہ چیز ابھی تک ہمیں  ملی نہیں  ہے’’۔ [نامعلوم]

آج آپ وضاحت کے ساتھ لکھ لیں  کہ آپ کیا چاہتے ہیں  ؟ لیکن اس بات کے لئے پریشان مت ہو ں کہ وہ شے حاصل کیسے ہوگی؟ یہ آپ کا مسئلہ نہیں  ہے، آپ کا مسئلہ خواہش کرنا، یقین رکھنا اور شکر ادا کرنا ہے۔اور قانونِ قدرت کے مطابق وہ شے آپ کی ہوجائے گی۔ مثال کے طورپر اگر آپ کو آپ کی مرضی کی نوکری حاصل کرنی ہے تو وضاحت کے ساتھ سوچیں  کہ کس قسم کی ملازمت آپ چاہتے ہیں  ، کس قسم کا ماحول، کن لوگوں  کے درمیان کام ، کام کی نوعیت ،ملازمت کے اوقاتِ کار، کتنی تنخواہ وغیرہ۔ تفصیل کے ساتھ لکھ لیں  ۔

اسی طرح اگر تعلیم حاصل کرنا یا اپنی اولاد کواعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے ہیں  تو پوری وضاحت سے سوچیں  ۔یعنی کس ادارے  ، کس کو رس ، کس ماحول میں  اور کن کن پروگرامز میں اس کی شمولیت چاہتے ہیں  وغیرہ۔ اگر آپ سفر کرنا چاہتے ہیں  تو لکھ لیں  کہ کہاں  کا سفر ،کتنے عرصے رہنا ہے، کیا کیا دیکھنا چاہتے ہیں  ، کہاں  رہائش ہوگی ؟اگر آپ شریکِ حیات چاہتے ہیں  تو لکھ لیں  اس میں  کیا کیا خصوصیات دیکھتے ہیں  یا اگر اپنے رشتوں  کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں  تو بھی لکھ لیں  کہ کِس قسم کے تعلقات آپ رشتوں  میں  دیکھنا چاہتے ہیں  ۔ آپ کچھ بھی بننا ، کرنا یا حاصل کرنا چاہتے ہیں  ، مثلا کسی امتحان میں  کامیاب ہونا، کوئی ڈگری حاصل کرنا ، کسی کھیل میں  جیتنا ، بطور ڈاکٹر ، رائٹر، ایکٹر ، سائنس دان ، سیاستدان، بزنس مین یا انجینئر کامیاب ہونا چاہتے ہیں  تو لکھ لیں  ، لیکن یہاں  یہ بات یاد رکھیں  کہ آپ کو specificہونا ہے۔

اگلا موضوع chapter شروع کرنے سے قبل یہ بہت ضروری ہے کہ تھوڑا سا وقت نکالیں  اور  ایک خالی صفحہ پر ان تمام خوابوں  کی فہرست مرتب کرلیں  جن کو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ کی آسانی کے لئے ان چیزوں  کو مختلف حصوں  میں  تقسیم کردیا گیاہے۔ فہرست بنالیں  اور جیسے جیسے آپ اُنہیں  حاصل کرتے جائیں  لسٹ میں  سے کاٹتے جائیں۔ جب تک اس صفحے کو پُر نہ کرلیں  اگلے صفحے پر مت جائیں  کیونکہ یہ کام کئے بغیر آپ کا اپنے مقاصد میں  کامیاب ہونا مشکل ہے۔ہر مشق کے اختتام پر ‘‘فوائداور تاثرات’’ کے حصے کو ضرور پُر کریں ۔

[پہلادن ]

آپ کیا چاہتے ہیں ؟….   کیوں  چاہتے ہیں ؟
( تفصیل سے لکھیں )
_____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________
فوائد و تاثرات:
_____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________

 Fortune favors the prepared mind. Louis Pasteur

‘‘تقدیر ان لوگوں  پر ہی مہربان ہوتی ہے جو ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں ’’۔ [لوئی پاسچر]

 

مارک وکٹر ہینسن کی سائیکل

 

 

مارک وکٹر ہینسن (Mark Victor Hansen) دنیا بھر میں  لوگوں  کو بہتر انداز میں  زندگی گزارنے کے طریقے بتاتے ہیں ؛ پچھلے تیس سالوں میں ساٹھ سے زائد ممالک میں  ٹریننگ پروگرامز منعقد کر چکے ہیں ؛ ان کی کتاب چکن سوپ فار سول(Chicken Soup for Soul) پچاس کروڑ سے زائدفروخت ہو چکی ہے۔

یہ تو بات ہے آج کی۔مارک سونے کا چمچہ منہ میں  لیکرپیدا نہیں  ہوئے تھے۔

سن انّیس سو اڑتالیس(1948) میں  جب انکی عمر نوسال تھی  اس وقت وہ گھر گھر جا کر اخبار ڈالا کرتے تھے۔اپنی محنت کی کمائی سے اس نو سالہ بچے نے ریسنگ سائیکلوں  کا ایک میگزین خریدا۔یہ میگزین اس کی جان تھا۔اسے سا  ئیکلوں  کی ریس کا بے حد شوق تھا۔اس نے سا  ئیکلوں  کے متعلق ہر طرح کی معلومات جمع کر لیں  کہ ہنڈل کتنا جھکا ہونا چاہئے، پتلے ٹائر تیز دوڑنے میں  کس طرح مدد کرتے ہیں  یا چھوٹی سیٹ کے کیا فوائد ہیں  وغیرہ۔اسے یقین تھا کہ وہ بہت اچھا سائیکلسٹ بن سکتا ہے۔

اس کی زندگی کا صرف ایک مقصد تھا…. سائیکل خریدنا۔ اور وہ سائیکل کیسی ہوگی؟؟؟  یہ بھی اس کے ذہن میں  پوری وضاحت کے ساتھ موجود تھا۔

اس نے اپنی من پسند سائیکل کی تصویر کاٹ کر اپنے بستر کے نزدیک رکھ لی تھی۔ اب وہ خواب میں  بھی خود کو سائیکل ریس میں  دوڑتا ہوا دیکھتا۔ لیکن جب وہ اپنے والد کے پاس گیا اور سائیکل کی خواہش کا اظہار کیا تو والداس کی خواہش سے بالکل بھی متاثر نہیں  ہوئے انہوں  نے صاف صاف منع کر دیا کہ ابھی اُسے سائیکل نہیں  دلائی جا سکتی۔جب مارک نے زیادہ بحث کی تو اس کے والدنے گفتگو اس وعدے پر ختم کرنی چاہی ، ‘‘جب تمہاری عمر اکیس سال ہو جائیگی تو میں  تمہیں  سائیکل دلادونگا۔’’

‘‘اکیس سال؟ اس وقت تک تو میں  بوڑھا ہو جاؤنگا۔ آپ سمجھ نہیں  پا رہے ہیں  کہ مجھے  تو سائیکل ابھی چاہئے، ۔’’

طویل بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اس بات سے آگے بڑھنے کیلئے تیار نہیں  ہوئے کہ سولہ سال کی عمر میں اسے سائیکل دلادی جائیگی اور مزید بحث بھی نہیں  کی جائیگی۔  مارک کہتے ہیں  کہ جب میں  وہاں  سے اٹھ کر آرہا تھا تو مجھے ایک خیال آیااور میں  نے سوچا کہ ایک آخری کوشش کر کے دیکھتا ہوں ۔ میں  نے کہا،‘‘اگر میں  اس سائیکل کیلئے پیسے خود ہی اکھٹے کر لوں  تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں  ہوگا۔’’

انہوں  نے سوچا ہوگا کہ نو سالہ بچہ 175 ڈالر کی رقم کس طرح جمع کر سکے گا، لہذا فوراًہامی بھر لی۔مارک کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا، اس کے خوابوں  کی سائیکل۔اسی دوران ایک میگزین  ‘‘بوائز لائف’’  میں  ایک اشتہار چھپا جس میں  کرسمس کارڈ کی فروخت کیلئے سیلز مین کی ضرورت تھی۔ مارک نے سوچا ،’یہ کام تو میں  آسانی سے کر سکتا ہوں ۔‘ اُس کی ماں  ایک سیلز پرسن تھیں ۔مارک نے جب اپنی ماں  سے پوچھا کہ کیا میں  کارڈز فروخت کر سکتا ہوں  تو انہوں  نے کہا‘‘نا صرف تم یہ کر سکوگے بلکہ میں  تمہیں  سکھاؤں  گی کہ یہ کارڈز کس طرح بیچے جاتے ہیں ۔’’

یہ بات ہے 1957کی سردیوں  کی۔ مارک نے کام اپنے پڑوس سے شروع کیا۔ وہ دروازے پر دستک دیتا اور جیسے ہی دروازہ کھلتا وہ اپنی سرخ ناک کو صاف کرتا اور کہتا :

‘‘آپ کرسمس کارڈکا ایک پیکٹ لینا پسند کرینگی یا دو؟’’ اتنے معصوم سے بچے کو لوگ سردی میں  کھڑا نہیں  دیکھ سکتے تھے، اسی لئے فوراً اندر بلا کر کارڈ پسند کر لیتے ۔ مارک کہتے ہیں  کہ میں  376پیکٹ بیچنے میں  دلچسپی نہیں  رکھتا تھا، مجھے شہر کا سب سے بڑا سیلز مین بھی نہیں  بننا تھا۔ مجھے تو سائیکل چاہئے تھی۔۔۔۔وہ بھی کرسمس سے پہلے۔ اور میں  اسے لینے میں  کامیاب بھی ہو گیا۔

 

 

 

 

[:]

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

سوچ کی طاقت سے اپنی شخصیت مضبوط بنائیں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     قوتِ ارادی کیا ہے ….؟ ارادہ ...

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 2   دوسری عادت یہ ہے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے