شکریہ ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

دنیا بھر میں ہر روز بے شمار تربیتی پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ، مضامین، کالم اور کتابیں یہ بتانے کے لئے لکھی جاتی ہیں کہ کس طرح ان خواہشات کے حصول کی تکمیل کی جائے۔ زندگی بہتر انداز میں گزارنے کے لئے ہم اپنے طور پربھی کوشش اور تجربات کرتے رہتے ہیں ۔اس کے باوجودہم ایسی زندگی نہیں گزار پاتے جو انسانیت کے شایانِ شان ہو۔ہم غربت، جہالت، بے روزگاری جیسے مسائل سے دو چار ہیں ۔ ہمارے رشتوں میں محبت ، قربانی اور روا داری کا فقدان رہتا ہے۔ اچھی زندگی ہمارے لئے ایک خواب بن جاتی ہے، وہ خواب جو ہم ہر رات دیکھتے ہیں ۔زندگی ایک معمہ بن جاتی ہے ، جسے سمجھتے سمجھتے پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ 1998 سے میرا تعلق پڑھانے اور ٹریننگز کرانے سے رہا ہے۔ اس دوران میں نے سینکڑوں لوگوں کے نقطہ نظر کو سنا، کتابیں پڑھیں اور یہ کوشش کی کوئی ایسا فارمولا ہاتھ لگ جائے جس کے باعث ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر تے ہوئے خوشحال زندگی گزاریں ۔ ایسی زندگی جو دونوں جہانوں میں سرفراز کر دے۔میرا ایمان ہے کہ انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے وہ حاصل کر ہی لیتا ہے۔مجھے بھی وہ فارمولا مل گیا۔ میں اس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں یہ کامیابی اور خوشحالی کا واحد فارمولا ہے،واحد فارمولا۔ اس سلسلۂ مضامین کا مقصد یہی ہے کہ نا صرف اُس قانون کو بیان کیا جائے بلکہ اس پر عمل کرنا آسان بنا دیا جائے تاکہ ہماری زندگی صحت ،محبت ، دولت اور خوشیوں سے بھر نے کے ساتھ ساتھ خدا کی رضا بھی حاصل کر لے ۔ محمد زبیر

 


ذمہ داری قبول کریں !

دوسرا دن

 

ایک مریض ڈاکٹر کے پاس گیا۔ ڈاکٹر نے اس کا اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد تین گولیاں دے دیں، صبح ، دوپہر اور شام میں لینے کیلئے۔ مریض نے سوال کیا، ‘‘یہ گولیاں کون کھائے گا؟’’
ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا ،‘‘ایک تمہارا پڑوسی ، ایک تمہارا افسر اور ایک تمہاری بیوی۔’’
مریض نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے ڈاکٹر کی طرف حیرت سے دیکھا۔ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا،
‘‘طبیعت تمہاری خراب ہے تو یہ دوا بھی تمہیں ہی کھانی پڑیں گی ناں ۔ تمہیں ہی کھانی ہیں ۔’’
بظاہر یہ بات بہت نا معقول اور فضول لگ رہی ہے۔ جس وقت میں نے یہ مثال ڈاکٹر وین ڈائر Wayne W. Dyer سے ان کے لیکچر Excuses Be gone میں سنی تھی تو میرے تاثرات بھی کچھ ایسے ہی تھے۔ لیکن جب ان کی پوری بات سنی تو اندازہ ہوا کہ ہم سب اسی نا معقول اور فضول حرکت کے مرتکب ہوتے ہیں ،نا صرف ایک بار، بلکہ ہر روز باربار۔
کیسے؟ …………
جب بھی ہماری زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، چاہے وہ پیسوں کی وجہ سے ہو، تعلقات کی وجہ سے ہو، صحت کی وجہ سے ہو یا کسی اور وجہ سے تو ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں اور ہمیں کہاں اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی ہے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ دوسرے کو اپنے اندر کیا تبدیلی پیدا کرنی چاہئے۔ ہم اپنا علاج کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں لیکن دوسروں کو پکڑ پکڑ کر گولیاں کھلانے پر تلے ہوئے ہیں ۔اپنی اس نامعقول حرکت کی وجہ سے ہم دوسروں کی زندگیوں میں اکتاہٹ، جھنجھلاہٹ اور نفرت پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں ۔
اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو اپنی کامیابیوں ، اپنی ناکامیوں ؛ اپنی خوشیوں ، اپنے غموں ؛ اپنے اچھے تعلقات، اپنے برے تعلقات؛ اپنی دوستیوں ، اپنی دشمنیوں ؛ اپنی صحت اور اپنی بیماریوں کی ذمہ داری ہمیں خود لینی پڑیگی۔ ذمہ داری، وہ بھی 100فیصد۔
میں ٹی وی کیلئے ایک پروگرام پروڈیوس کر رہا تھا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگ روز مرہ کے مسائل کا حل بتایا کرتے تھے۔ ہم نے ایک ہفتے کی سیریز جادو کے موضوع پر کی، پھر قسمت پر، پھر جنات اور پھر آسیب پر۔
اس پروگرام میں ہم لائیو کالرز بھی شامل کیا کرتے تھے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ جب ہم نے جادو پر مبنی پروگرام کیا تو ہر کالر پورے یقین سے یہ باور کروانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس پر جادو کردیا گیا ہے۔
جب قسمت کے موضوع پر مبنی پروگرام کیا تو لوگ اب یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے انکی قسمت ہی خراب ہے۔لہذا زندگی اچھی ہو ہی نہیں سکتی۔
یہی طرزِ عمل جنات اور آسیب کے معاملے میں بھی ہوا۔
مجھے اندازہ ہو گیا کہ لوگ ذمہ داری لینا نہیں چاہتے۔ لوگ چاہتے ہیں اپنی نظروں میں ان کا دامن صاف رہے۔ اسی لئے وہ اپنے دکھوں کیلئے کبھی اپنے والدین کو قصور وار سمجھتے ہیں ، کبھی دوستوں ،کبھی میڈیا ، کبھی ساتھ کام کرنے والوں ، کبھی افسران ، کبھی شریکِ حیات ، کبھی معیشت تو کبھی پیسوں کی قلت کو ۔ ان سب کو قصوروار ٹھہرانے سے کام نہیں چلتا تو پھر تقدیر، جنات یا ستاروں تک کو نہیں بخشتے۔
ہو سکتا ہے کہ ان باتوں سے کسی حد تک فرق پڑتا ہو، ہوسکتا ہے کہ کسی کی تربیت میں کمی رہ گئی ہو، ہوسکتا ہے کہ کسی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آگیا ہو جس کی وجہ سے وہ مسائل کا شکار ہو گیا ہو، ہو سکتا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلیوں کی وجہ سے آپ کا بہت بڑا نقصان ہو گیا ہو۔لیکن پھر بھی یہ سب ہماری زندگی کو محدود نہیں کر سکتے۔
یہ مسائل قائدِ اعظم کی زندگی میں بھی آئے اور گاندھی کی زندگی میں بھی، انہی مشکلات کا سامنا عبدالستار ایدھی کو بھی کرنا پڑا اور ڈاکٹر عبدالقدیر نے بھی کیا، یہی دشواریاں بل گیٹس کی زندگی میں بھی آئیں اور اسٹیوجابز نے بھی جھیلیں لیکن پھربھی انہوں نے خود کو حالات کا غلام نہیں سمجھا، ناکامی کیلئے بہانے اور دلیلیں جمع نہیں کیں بلکہ انہی حالات کو اپنی کامیابی کا زینہ بنالیا۔
اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے اب تک کی زندگی کس طرح برباد کردی، اور اس بات سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ اس بربادی کی وجوہات کیا تھیں ۔ ماضی ماضی ہوتا ہے ، یہ اب لوٹ کر نہیں آئے گا۔ حال آپ کے ہاتھ میں ہے۔جو ماضی کی تکلیفوں کو کامیابی کا زینہ بنا کر مستقبل کو خوشگوار بنا دے گا۔
جارج واشنگٹن کارورGeorge Washington Carver ایک کیمیا گر تھے،انہوں نے مونگ پھلی کے 325 سے زائد استعمال کے متعلق آگاہی فراہم کی تھی، کہتے ہیں :

Ninety-nine percent of all failures come from people who have a habit of making excuses.  George Washington Carver

‘‘نناوے فیصد ناکامیوں کی وجہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں بہانے بنانے کی عادت ہوتی ہے۔’’ [جارج واشنگٹن کارور]

مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر شکوہ شکایت کرنے یا دوسروں پر الزام لگانے سے کو ئی شخص کامیاب نہیں ہوتا۔اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ ماننا پڑیگا کہ آ پ جیسی بھی زندگی گزار رہے ہیں اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں ۔
آپ ہی ہیں جس نے غیر صحت بخش کھانے کھائے ہیں ۔
آپ ہی ہیں جس نے وہ کام نہیں کئے جسے کرنے کیلئے آپ کو پیدا کیا گیا ۔
آپ ہی ہیں جس نے اپنے جذبات پر قابو پانا نہیںسیکھا۔
آپ ہی ہیں جس نے وہ کتابیں نہیں پڑھیں جنہیں پڑھنا آپ کیلئے سودمند تھا۔
آپ ہی ہیں جس نے اپنی صحت کا خیال نہیں رکھا، ورزش نہیں کی ۔
آپ ہی ہیں جس نے اپنا وقت غیر ضروری ٹی وی پروگرام دیکھنے میں گنوایا۔
آپ ہی ہیں جس نے روح کو بھلا کر جسم کو ہی سب کچھ سمجھ لیا۔
بعض اوقات ناشکری ، یعنی شکوہ شکایت کرنا ہماری زندگی کا لازمی جز وبن جاتا ہے، ہم اس کے بغیر رہ نہیں پاتے کیونکہ شکر گزاری کی طرح شکوہ شکایت بھی ایک عادت ہے اور ہم جانتے ہیں کہ عادت ایک کام کو بار بار کرنے سے مضبوط ہو تی ہے۔
ہم شکایتیں کرنے کے ایسے عادی ہو جاتے ہیں کہ اپنوں سے شکایت نہ کریں تو اپنوں کی شکایت کرنے لگتے ہیں ، اور ان لوگوں سے کرتے ہیں جن سے کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔
ہم کام پر جاتے ہیں اور گھر والوں کی برائیاں کرتے ہیں اور جب گھر واپس آتے ہیں تو ان لوگوں کی برائیاں ،جن کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ یہ آسان بھی ہے اور اس کے لئے ہمت اور حوصلے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔موثر انداز میں محبت کے ساتھ چیزوں کو بدلنے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ جس چیز کی عادت نہ ہو وہ کام پہاڑ بن جاتا ہے، چاہے چیونٹی جتنا چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں 
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

چیزیں اور لوگ ایک دم نہیں بدل جاتے، وقت لگتا ہے۔ راتوں رات آپ کسی بڑی بیماری کا شکار نہیں ہوجاتے، چیزیں آہستہ آہستہ تبدیل ہوتی ہیں ۔ ہمیں اشارے بھی مل رہے ہوتے ہیں مگر ہم انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں ۔
میاں بیوی ، والدین اولاد یا دوستوں کے تعلقات راتوں رات خراب نہیں ہوتے، ہمیں اشارے مل رہے ہوتے ہیں مگر ہم انہیں نظر انداز کرتے رہتے ہیں اور نظر انداز کرنے کے لئے دلیلیں بھی ہوتی ہیں ۔ دلیلیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر ان پر غور کیا جائے تو ہنسی آئے، اس کے باوجود یہ دلیلیں ہم دیتے ہیں ۔اپنے الفاظ پر نظر رکھیں ، ہمارے کئی الفاظ ناشکری پر مشتمل ہیں۔ ان سے چھٹکارا حاصل کریں ۔مثال کے طور پر:
حالات بہت سخت تھے (اس لئے کبھی کچھ نہیں کرسکے)
ہر طرح کی آسانی میں تھے ( اس لئے کچھ کرنے کی عادت نہیں رہی)
میرے والدین بہت سخت تھے
میرے والدین نے کبھی سختی نہیں کی
کسی نے کبھی مجھے کچھ کرنے نہیں دیا
کسی نے کبھی بھی میرے لئے کچھ نہیں کیا
میں اکلوتا تھا
میں سب سے چھوٹا تھا
میں سب سے بڑا تھا
میں درمیان کا تھا
ہمیں کچھ کرنے کی آزادی نہیں تھی
ہمیں بہت زیادہ آزادی مل گئی تھی
ہم بہت مذہبی تھے
ہمارے گھر میں مذہب نام کی کوئی چیز نہیں تھی
میرا قد بہت چھوٹا تھا
میرا قد بہت لمبا تھا
میری آواز بہت باریک تھی
میری آواز بہت بھاری تھی
ہمارے معاشرے میں عورتوں کیلئے نوکری کرنا بہت مشکل ہے
یہاں عورتوں کو نوکری مل جاتی ہے، مرد صرف دھکّے کھاتے ہیں

The best day of your life is the one on which you decide your life is your own. No apologies or excuses—- The gift is yours—- it is an amazing journey—- and you alone are responsible for the quality of it. Bob Moawad

‘‘آپ کی زندگی کا بہترین دن وہ ہوتا ہے جب آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ زندگی آپ کی اپنی ہے۔ کوئی معذرت نہیں ، کوئی بہانہ نہیں …. یہ تحفہ آپ کا اپنا ہے…. یہ ایک حیرت انگیز سفر ہے…. اور اس کے معیار کے ذمہ دار صرف اور صرف آ پ ہیں ’’۔[ بوب معاود]

سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے
کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی 
[احمد فراز]

اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کیلئے، اسے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرمانے کیلئے اس زمین پر حالات کو سازگار بنایا۔انسان کو عقل کی دولت عطا فرمائی۔ انبیاءکرام کو بھیجا، کتابیں نازل کیں ۔ ہر دور میں بڑے بڑے فلسفی، شاعر، رہنمااور مسیحاؤں کو بھیجا کہ انسان شکر گزار بن جائے۔ کچھ لوگوں کیلئے یہ جملہ حیران کن یا ناقابلِ یقین ہو سکتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔ اس کا ادراک اگلے اسباق (chapters) میں تو ہوگا ہی، اس موضوع پر قرآن کی ایک بہت آیت سے اس بات کی خوب وضاحت ہوتی ہے:

اِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوْرًا

‘‘ہم نے اسے (انسان کو)راہ دکھا ئی اب خواہ وہ شکر گزار بنے یا نا شکرا۔ ’’[سورۂ دہر :آیت 3]

یہاں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی بھی وضاحت کر دی کہ اپنی خراب زندگی کی ذمہ داری خود لینا سیکھو، کسی اور کو یا تقدیر کو الزام دینا چھوڑ دو۔اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ انسان کا نصیب برا بنائے۔زندگی ناشکری خراب سے ہوتی ہے۔ شکر گزار اور ناشکرا ہونا انسان کے اختیار میں دیا گیا ہے۔
آج آپ کو یہ کرنا ہے کہ وہ پانچ چیزیں جو آ پ نے گزشتہ باب پڑھنے کے بعد لکھی تھیں ، جنہیں آپ حاصل کرنا چاہتے تھے، ان کے آگے وجوہات لکھیں کہ اب تک آپ انہیں کیوں حاصل نہ کر پائے۔ انہیں حاصل نہ کرنے میں آپ کہاں اور کیا غلطی کر رہے تھے۔

[پہلادن ]

  آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟                   کیوں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں؟
( تفصیل سے لکھیں )
________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________
فوائد و تاثرات:
_____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________

آج اپنی غلطی مانیں اور آج سے ہی اسے سدھارنے کی کوشش کریں واضح رہے کہ شکر گزاری محض سوچ کا نہیں عمل کا بھی نام ہے۔ بے عمل انسان ناشکرا ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے وقت اور صلاحیتوں کو ضائع کرتا ہے، وقت اور صلاحیتوں کو ضائع کرنا بھی کفرانِ نعمت میں شمار ہوگا۔

 

کیلیفورنیا میں زلزلہ

 

 

جیک کینفیلڈ Jack Canfieldاپنی ایک کتاب Success Principles ‘‘کامیابی کے اصول’’ میں 1994 میں کیلیفورنیا میں آنے والے زلزلہ کے دنوں کا ایک تجربہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :

شہر تک جانے والی ایک شاہراہ بری طرح متاثر ہوئی جس کے باعث ایک گھنٹے کا سفر دو اور کبھی تین گھنٹے تک طویل ہو گیا۔سی این این (CNN)کے رپورٹرنے ایک گاڑی کی کھڑکی پر دستک دی جو ٹریفک میں پھنسی ہوئی تھی۔
وہ شخص غصے میں بھرا بیٹھا تھا فورا پھٹ پڑا۔ ‘‘مجھے کیلیفورنیا سے نفرت ہے۔ پہلے یہاں آگ لگ گئی، پھر سیلاب آ گیا اور اب زلزلہ۔صبح چاہے کتنی جلدی ہی کیوں نہ نکل جاؤں وقت پر نہیں پہنچ سکتا۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ہے۔

’’اب رپورٹر دوسری گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹاتاہے اور ڈرائیور سے وہی سوال کرتا ہے۔ ڈرائیور مسکراتا ہے اور کہتا ہے ،‘‘پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ۔ میں صبح پانچ بجے گھرسے نکل گیا تھا۔ مجھے نہیں لگتاکہ میرا باس اس سے زیادہ کی توقع رکھے گا۔ میں نے بہت سی موسیقی کے ساتھ اسپینش زبان کی کیسٹیں بھی رکھ لی ہیں ۔سیل فون کے علاوہ میں نے تھرماس میں کافی بھی بھر کر رکھ لی ہے۔اس کے علاوہ ایک کتاب بھی ہے۔ لہذا سب خیریت ہے ۔’’


اگر مسائل اور ان کے حل ہی ہماری خوشیوں اور غموں کا فیصلہ کریں گے تو ہم حالات کے غلام ہو جائیں گے۔ اگر زلزلہ، فکر اور پریشانی کی علامت تھا تو دونوں افراد کیلئے ہونا چاہئے تھا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو یقینا ایسا نہیں تھا۔آج ہماری زندگی جو کچھ بھی ہے وہ ان فیصلوں کی بدولت ہے جو ہم ماضی میں کرتے آئے ہیں ۔

Yesterday I was clever, so I wanted to change the world. Today I am wise, so I am changing myself. Rumi: 13th-century Persian poet

‘‘کل میں چالاک تھا اس لئے دنیا کو تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ آج مجھے عقل آگئی ہے اس لئے میں خود کو تبدیل کر رہا ہوں ’’۔[ مولانا رومی]

 

(جاری ہے)

 

 

[:]

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 3   گزشتہ صفحات میں ہم ...

اپنا ای کیو EQ لیول معلوم کیجیے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں اکثر ماہر نفسیات اب یقین رکھتے ہیں کہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے