روحانی ڈائجسٹ / علم و معرفت / تصوّف / اولیاء کرام / وادیٔ مہران کی پہچان صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر ؒ

وادیٔ مہران کی پہچان صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر ؒ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

آذربائیجان اور تبریر سے 40میل کے فاصلے پر ایک گاؤں مروند واقع ہے۔ جہاں ایک چھوٹا سا تاریخی قلعہ اور خوبصورت مسجد واقع ہے۔ اس خطہ کو چہاراطراف سے باغات نے گھیرا ہوا ہے۔ اِسی گاؤں میں روحانیت کے ایک بطل جلیل نے اپنی زندگی کے ابتدائی دن گزارے۔ ولایت کی منازل طے کرتے ہوئے یہ منفرد ہستی ایک دن لعل شہباز قلندر کے نام سے ایسی چمکی جس کی ضوفشانی سے آج بھی وادیٔ مہران منور اور تاباں ہے۔
لعل شہباز قلند ر کے نام سے شہرت پانے والی بزرگ ہستی کا نام ان کے والد نے سید علی بن عثمان مروندی رکھا تھا ۔ آپؒ کو ‘‘لعل’’ کہنے کے حوالے سے مختلف روایات ہیں۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ لعل شہباز قلندر کا خطاب آپ کے پیرومرشد نے عطا فرمایا تھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ اکثر لال رنگ کا لباس زیب تن فرماتے تھے کیونکہ یہ اہل مروند کا مخصوص لباس تھا۔ ایک روایت کے مطابق ایک روز آپؒ عالمِ جذب میں چھوٹے چھوٹے پتھروں کو اُچھال کر بار بار اپنے دامن میں لے رہے تھے کہ کسی نے کہا تم جیسے اﷲ والوں کو تو پتھروں کے بجائے لعل و جواہر سے کھیلنا چاہیے۔ یہ بات سُن کر آپؒ نے دامن میں بھرے پتھر گرادئیے۔ جب وہ پتھر زمین پر بکھرے تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ سب کے سب پتھر تو تمام چمکتے دمکتے لعل بن گئے تھے۔ لقب ‘‘شہباز’’ دراصل تصوف و روحانیت کی ایک اصطلاح ہے جس سے مُراد فضائے بسیط میں آزاد پرواز کے ہیں۔ لفظ ‘‘قلندر ’’کا مفہوم علامہ اقبال یہ بتاتے ہیں؎

مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر
ایام کا مرکب نہیں راکب ہے قلندر

حضرت عثمان مروندی لعل شہباز قلندر کی ولادت 570 یا 573ھ بمطابق 1177ء میں ہوئی۔ آپ ؒ کو ابتدائی تعلیم آپؒ کی والدہ ماجدہ نےدی، سات برس کی عمر میں کلام پاک حفظ کرنے کے بعد علومِ ظاہری کے حصول کا اہتمام ہوا۔ عربی اور فارسی زبانوں میں آپ نے بہت کم عرصے میں خاصی مہارت حاصل کرلی تھی ۔
عثمان مروندی ابھی نوجوان ہی تھے کہ آپ کے والدین کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ آپ کا میلان طریقت و معرفت یعنی روحانی علوم کی طرف ہوا ، چنانچہ آپ نے مروند سے سبزوار کا بھی سفر کیا اور وہاں جلیل القدر شخصیت حضرت سید ابراہیم ولی ؒ ابراہیم ولیؒ کی خدمت میں رہ کرتحصیلِ علم میں مشغول ہوگئے۔ حضرت ابراہیم ولی ؒنے حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی صلاحیتوں کو پرکھ کر جلد ہی آپ کو خلافت کی دستار سے نواز دیا۔ آپ اپنے وطن مروند واپس لوٹے اور وہاں سے ایران میں حضرت امام ِرضاؒ اور عراق میں حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ کے مزارات پر حاضر ہوئے۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کی ۔ بارگاہِ رسالت میں دوران خواب آپ کو سندھ جانے کی بشارت ملی۔ اس بشارت پر آپ سندھ کی طرف روانہہوگئے۔
سفر کے دوران شہباز قلندر ؒ مکران کے ساحل پہنچے ، آپ کی تعلیمات سے متاثر ہو کر ہزاروں مکرانیوں اور بلوچوں نے اسلام قبول کرلیا اور آپ کے مرید ہوگئے۔ یہاں سے آپ اس دور میں سندھ کے مرکزی شہر ملتان پہنچے اور شہر کے مضافات میں قیام فرمایا۔ آپ کی شخصیت سے متاثر ہو کر ملتان اور گرد و نواح کے لوگ طرح طرح کے مسائل لے کر آپ کے پاس آنے لگے۔ ہر وقت لوگوں کا ایک ہجوم رہنے لگا۔ قلندر شہباز ؒ کی دعاؤں سے بے شمار مریضوں کو شفا ملی، لاتعداد دکھیاروں کے دکھ دور ہوئے، ان خوش نصیب لوگوں کی زبانی قلندر شہباز ؒکی کرامات کا شہرہ بھی دور دور تک ہونے لگا۔
اس وقت ملتان میں حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ تشریف فرما تھے۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ ایسی صحبتوں کے متلاشی تھے۔ حضرت بہاؤالدین زکریاؒ سے پہلی ہی ملاقات دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ اسی خانقاہ میں آپ کی ملاقات حضرت فرید الدین گنج شکرؒ اور حضرت سرخ بخاریؒ سے ہوئی۔ اس زمانے میں خطہ پنجاب میں کئی علاقے ایسے تھے جہاں اسلام کی روشنی نہیں پہنچی تھی۔ ان حالات کے پیش نظر حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ نے رشد و ہدایت اور اسلام کی تبلیغ کا ایک عملی منصوبہ تیار کیا۔ ایک طرف اپنے مریدوں کو مختلف تبلیغی دوروں پر روانہ کیا تو دوسری جانب حضرت لعل شہباز قلندرؒ حضرت فرید الدین گنج شکرؒ اور سید جلال سرخ بخاریؒ کے ہمراہ تبلیغی دوروں پر روانہ ہوئے۔ یہ بزرگ کافی عرصہ ایک ساتھ رہے۔بعد میں یہ چاروں بزرگ چار یا رکے نام سے بھی مشہور ہوئے۔
حضرت لعل شہباز قلندرؒ ہندوستان کے مختلف شہروں کی سیاحت کرتے ہوئے جوناگڑھ، گرنار، گجرات اور پانی پت بھی تشریف لے گئے۔ سب جگہ آپ نے لوگوں کو توحید اور حقانیت کا درس دیا۔ اسی سیاحت کے دوران آپ نے حضرت بوعلی شاہ قلندرؒ سے بھی ملاقات کی۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت بوعلی شاہ قلندرؒ ہی نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ سندھ میں سیوستان (سہون) میں سکونت اختیارفرمائیں۔
حضرت لعل شہباز قلندرؒ649ہجری میں سیہون سندھ تشریف لائے ۔

 

علم و ادب اور لسانیات کے ماہر

یوں تو صوفی اپنی زندگی میں صرف ایک مشن کے تحت کام کرتا ہے اور وہ ہے رضائے الٰہی، اللہ کا ذکر مخلوق کے درمیان عام کرنا ۔
تواریخ یا صوفیاء کرام کے تذکروں پر نظر ڈالیں تو ہمیں علم ہو گا کہ صوفیاء نے عمرانی، سیاسی، ثقافتی اور لسانی ترقی میں بھی اپنا کردار اداکیاہے۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ ناصرف صوفی باعمل بزرگ تھے بلکہ آپؒ نے علم کی ترویج کے لئے بھی گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ صرف ونحو کے بھی ماہر تھے۔ آپؒ کو ماہرِلسانیات بھی جانا جاتا ہے۔
برطانوی مصنف ، علوم شر قیہ لسانیا ت اور گرائمر کا ماہر رچرڈ فرانسس برٹن Richard Francis Burton نے اپنی تصنیف: Sindh and the Races  That Inhabit the Valley of Indus میں لعل شہباز قلندر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لعل شہباز قلندر ایک عظیم ماہر لسانیات ، ماہرِ گرامر، زبان دان، سیاح اور صوفی بھی تھے۔ شہباز قلندر نے چار کتابیں گرامر اور لسانیات کے حوالے سے فارسی زبان میں تحریر کیں تھیں جن کے نام میزان الصرف، صرف ِ صغیر (قسم دوئم )، عقد اور اجناس(منشعب) ہیں۔
رچرڈ فرانسس برٹن کے مطابق اس وقت مدارس میں جو کتا بیں پڑھا ئی جاتی ہیں ان میں پہلی کتاب میزان صرف کے نام سے ہے ۔ یہ ایک مختصر رسالہ ہے جو مشہور صوفی قلندر شہباز کا تحریر کردہ ہے، اس میں فعل کی گردان دی گئی ہے ، یہ حافظہ کے لیے ہے۔ ایک اور کتاب اجناس جسے منشعب بھی کہا جاتا ہے، جس میں مشتق و استخراج کے قوائد بیان کی گئے تھے۔ کتاب قسمِ دوم میں فعل مجہول(فعل فاسد) اور صرف صغیر سکھائی جاتی ہے۔ یہ دو کتابیں فارسی میں لکھی گئی ہیں اور ان کے مصنف لعل شہباز ہیں ۔ تیسرا رسالہ عقد کہلاتا ہے۔ یہ بھی انہی مصنف کا تحریر کردہ ہے لیکن فارسی اورعربی میں مشترکہ ہے۔ جس میں فعل معروف و فعل مجہول کے قوائد کے مطابق الفاظ بنانے کی ترتیب سکھائی جاتی ہے۔
1875ء میں برطانوی مصنف البرٹ ولیم ہگیز Albert William Hughes نے بھی اپنی تصنیف: A gazetteer of the province of Sindh میں صرف و نحو کی ان کتابوں کا ذکر کیا ہے۔ سندھ کے مدارس میں صرف و نحو کی جو تعلیم انگریز عہد سے قبل دی جاتی تھی اس کے نصاب میں حضرت لعل شہباز قلندر کی تصنیف شامل تھی۔ سىہون شرىف مىں بھی ایک مدرسہ‘‘فقہ الاسلام’’ تھا، جس کے بارے میں منقول ہے کہ وہ حضرت لعل شہباز قلندر ؒہی نے قائم فرمایا تھا ۔
لعل شہباز قلندر نے عوام کے لیے فارسی زبان میں تعلیم کو فروغ دیا ، ایسے درسی نصاب تحریر کیے ، جو اگلے کئی سو برسوں تک جب تک اٹھاوریں صدی میں انگریزوں نے فارسی کی جگہ انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ نہ دے دیا۔ سندھ کے مدارس میں پڑھائے جاتے رہے ۔
حضرت لعل شہباز قلندرؒ کو شعر وسخن سے بھی غیر معمولی دلچسپی تھی ۔ شہباز قلندرؒ وجد کی حالت میں بڑے بے مثال اور بے نظیر اشعار کہا کرتے تھے۔ شاعر و محقق ڈاکٹر ہرومل ایثار داس سدا رنگانی Dr. Harumal Isardas Sadarangani نے اپنے مقالہ Persian Poets Of Sind میں لعل شہباز قلندر کو سندھ کے اولین فارسی شعرا میں شمار کیا ہے۔ سندھ میں فارسی شاعری کی اولین کتاب ‘‘عشقیہ’’ نامی ہے جو لال شہباز قلندر نے تصنیف کی۔
حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے مجموعہ کلام میں معرفتِ الٰہی اور سرکارِ مدینہؐ کی مدح سرائی، عشق حقیقی کے والہانہ انداز اور عقیدت کا اظہار جا بجا نظر آتا ہے۔ آپؒ کی شاعری میں روحانی وارفتگی اور طریقت و تصوف کے اسرار و رموز بے حد نمایاں اور واضح ہوکر سامنے آتے ہیں جو اکابر صوفیاء کرامؒ کا ایک خاص طرۂ امتیاز ہے۔
حضرت لعل شہباز قلندرؒ اپنے کلام میں عبدو معبود کے رشتوں کی ترجمانی اتنے حسین پیرائے میں کرتے ہیں کہ پڑھنے اور سننے والوں کے قلوب میں گداز اور عشق و محبت کا جذبہ فروزاں ہونے لگتا ہے۔

 

سیہون میں اس وقت ہندو راجہ جیسر جی(جو عرف عام میں راجاچوپٹ کہلاتا تھا) کی حکومت تھی۔ راجہ چوپٹ ایک عیاش طبع آدمی تھا ۔ راجہ رعایا کے حال سے بے خبر رہتا۔ لاقانونیت اور ظلم و تشدد ہر طرف عام تھا۔ کسی کی کوئی فریاد نہیں سنی جاتی تھی۔ اسی وقت کا یہ مقولہ آج بھی مشہور ہے ‘‘اندھیرنگری چوپٹ راج’’۔
لوگوں کو بے بس اور لاچار دیکھ کر ایک مجذوب جس کا نام سکندر بودلہ تھا وہ اکثر ایک نعرۂ مستانہ لگایا کرتاتھا۔‘‘میرا مرشد آنے والا ہے، ظلم کا زوال ہونے والا ہے….’’
اس نعرے کو سن کر شہر کے لوگوں کے دلوں سے دعا اُٹھتی کہ خدا کرے ہمارا نجات دہندہ جلد آئے اور ہمیں راجہ کے ظلم سے بچائے۔
مجذوب کے نعروں کی اس آواز میں راجہ اور قلعہ کے لوگوں کو بغاوت کی بو محسوس ہوئی ، بالآخر راجا کے سپاہی اس مجذوب کو گرفتار کرکے راجہ کے پاس لے آئے۔ راجہ نے سکندر بودلہ کو قید کروادیا، لیکن قید خانے میں بھی اس کے فلک شگاف نعرے بند نہ ہوئے تو سکندر بودلہ پر تازیانوں کی بارش کردی گئی لیکن وہ یہی کہتے رہے
‘‘میرا مرشد آنے والا ہے۔’’
سندھ میں داخل ہونے کے بعد حضرت شہباز قلندر ؒ نے کسی ایک جگہ مستقل سکونت اختیار کرنے سے پہلے ارد گرد علاقوں میں تبلیغی دوروں کاآغاز کیا۔
وادیٔ مہران کے مختلف علاقوں کو فیضیاب کرنے لے بعد حضرت لعل شہباز قلندرؒ ‘‘سیوستان’’ یعنی سیہون میں مقیم ہوئے۔ لعل شہباز قلندر اور ان کے ساتھیوں نے جس میدان میں پڑاؤ ڈالا تھا، اس کے قریب ایک بستی میں شراب و شباب کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ درویش کے پڑاؤ کی وجہ سے اس بستی کے مکینوں نے خوف محسوس کیا اور راجہ کے پاس جاکر ان کی شکایت کی۔ ان لوگوں کی دروغ گوئی سن کر راجہ غصہ سے تلملا اُٹھا۔ اس نے بہت مغرور لہجے میں اپنے کوتوال کو حکم دیا کہ ان مسلمان فقیروں کو بےعزت کرکے اس کی ریاست سے نکال دیا جائے۔
راجہ جیر جی کے سپاہی گدڑی پوشوں کے خیمے میں داخل ہوئے اور انہیں حاکم سیوستان (سہون) کا حکم سنایا۔ گدڑی پوشوں نے کہا کہ ہم صرف اپنے مرشد کے حکم کی پابندی کرتے ہیں۔اگر تمہیں کچھ کہنا ہے تو ان سے کہو۔ راجا جیر جی کے سپاہی اسی حالت غضب میں قلندر شہبازؒ کے خیمے کی طرف بڑھے مگر وہ اندر داخل نہیں ہوسکے۔ سپاہیوں کو ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے پیروں کی طاقت سلب ہوچکی ہے اور وہ اپنے جسم کو حرکت دینے سے قاصر ہیں۔ پھر جب سپاہیوں نے واپسی کا ارادہ کیا تو ان کی ساری طاقت بحال ہوگئی۔ سپاہیوں نے دوبارہ خیمے میں جانے کی کوشش کی ۔ اس بار بھی ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ مجبوراً سپاہی کچھ کیے بنا واپس چلے گئے۔
راجا جیر جی اپنے سپاہیوں کی مجبوریوں کا قصہ سن کر چراغ پا ہوگیا۔ درباری نجومیوں کو طلب کیا گیا، درباری نجومیوں نے راجا جیر جی سے عرض کیا۔ ‘‘زائچے بتاتے ہیں کہ ایک شخص حدود سلطنت میں داخل ہوگا اور پھر وہی شخص اقتدار کے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن جائے گا۔ شاید وہی شخص ہے جس کے ایک مجذوب شاگرد کو آپ نے قید میں ڈال دیا ہے۔’’
نئی چال سوچی گئی، ہیرے جواہرات اور اشرفیوں سے بھرا ہوا خوان لے کر شہباز قلندرؒ کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ اسے قبول فرمائیں اور کسی دوسرے جگہ قیام فرمالیں۔ آپؒ نے حکم دیا کہ ان جواہرات کو آگ میں ڈال دو، خدمت گار نے اپنے مرشد کے حکم کے مطابق خوان اٹھا کر آگ میں ڈال دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک شعلہ سا بھڑکا، اور واقعی تمام ہیرے جواہرات اور سونے کے ٹکڑے کوئلے اور لکڑی کی طرح آگ میں جل کر خاک ہوگئے۔
آپ ؒ نے نہایت پر جلال لہجے میں فرمایا۔
‘‘اپنے راجا سے کہہ دینا کہ ہم یہاں سے واپس جانے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ اگر حاکم سہون اپنی سلامتی چاہتا ہے تو خود یہاں سے چلا جائے۔’’
وزیر دوبارہ حاکم سہون کی خدمت میں پہنچا اور اس نے لعل و جواہر کے راکھ ہوجانے کا پورا واقعہ سنایا تو راجا جیر جی اور زیادہ غضبناک ہوگیا۔
حضرت شہباز قلندرؒ نے قلعہ کی جانب رخ کرتے ہوئے فرمایا
‘‘بودلہ! اب تم ہمارے پاس چلے آؤ’’….
سکندر بودلہ جو راجہ جیر جی کی قید میں تھے اور کئی مہینے سے درد ناک سزائیں برداشت کررہے تھے۔ ادھر شہباز قلندر کی زبان مبارک سے یہ کلمات ادا ہوئے اور ادھر بودلہ کا جسم اچانک زنجیروں سے آزاد ہوگیا۔ بودلہ ابھی اسی حیرانی میں تھے کہ یکایک زنداں کا دروازہ کھل گیا۔ بودلہ کو اپنے مرشد کی آواز سنائی دی، بودلہ سمجھ گئے کہ یہ مدد کے سواء کچھ نہیں۔ انہوں نے بے اختیار نعرہ لگایا۔
‘‘میرا مرشد آگیا…. میرا مرشد آگیا۔’’
شدید زخمی ہونے کے سبب بودلہ تیزی سے اُٹھے اور قید خانے سے باہر کی جانب دوڑنے لگے۔ آخر اس میدان میں پہنچ گئے جہاں لعل شہباز قلندر اور ان کے ساتھیوں نے قیام کیا ہوا تھا۔ بودلہ سے مل کر لعل شہباز قلندر نے اپنے مریدوں کو بتایا کہ
‘‘یہی تمہارا بھائی بودلہ ہے۔ اسے حاکم سہون نے ناحق ستایا ہے۔ انشاء اللہ ! وہ ظالم بہت جلد اپنے عبرتناک انجام کو پہنچے گا۔’’
شدید مخالفتوں کے باوجود شہباز قلندرؒ نے سیہون شریف میں رہ کر اسلام کا نور پھیلایا ہزاروں لوگوں کو راہِ ہدایت دکھائی، لاتعداد بھٹکے ہوئے افراد کا رشتہ خدا سے جوڑا۔ لوگوں کو اخلاق او ر محبت کی تعلیم دی۔ سچائی اور نیکی کی لگن انسانوں کے دلوں میں اجاگر کی۔


نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بہ ہر صورت بہ پیشِ یار می رقصم
تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
بہ ہر طرزِ کہ می رقصانیم اے یار می رقصم
تو آں قاتل کہ از بہر تماشا خون می ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خوں خوار می رقصم
بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہ جانبازاں
بہ ایں دستارِ رسوائی سرِ بازار می رقصم
اگرچہ قطرۂ شبنم نہ پوید برسرِ خارے
منم آں قطرۂ شبنم بہ نوکِ خار می رقصم
منم عثمان مروندی کہ یارے شیخ منصورم
ملامت می کند خلقے ومن بردار می رقصم
———————————
رسیدم من بہ دریایی کہ موجش آدمی خوار است
نہ کشتی اندر آن دریا، نہ ملاحی؛ عجب کار است
شریعت کشتیی باشد، طریقت بادبان او
حقیقت لنگری باشد کہ راہ فقر دشوار است
چو آبش جملہ خون دیدم بترسیدم ازین دریا
بہ دل گفتم چرا ترسی گذر باید کہ ناچار است
ندا از حق چنین آمد: مگر ترسی زجان خود؟
جان مشتاقان درن دریا نگونسار است
ایا عثمان مروندی سخن با پردہ داری گو
نیابی در جہان یاری کہ این جا پر ز اغیار است

نہیں معلوم کیوں آخر دمِ دیدار رقصاں ہوں
مگر ہے ناز ہر صورت بہ پیشِ یار رقصاں ہوں
تو ہو نغمہ سرا ہر دم میں ہر اک بار رقصاں ہوں
تری خاطر میں ہر اک طرز پر اے یار رقصاں ہوں
تو وہ قاتل کہ جو بہر تماشا خون کرتا ہے
میں وہ بسمل کہ زیرِ خنحرِ خوں خوار رقصاں ہوں
مری جاں آ تماشا دیکھ جانبازوں کے مجمعے میں
ردا رسوائی کی اوڑھے سرِ بازار رقصاں ہوں
اگرچہ قطرۂ شبنم نہیں رکتا ہے کانٹے پر
میں وہ قطرہ ہوں شبنم کا بہ نوکِ خار رقصاں ہوں
میں ہوں عثمان مروندی کہ ہے منصور سے یاری
ملامت خلق کرلے میں تو سوئے دار رقصاں ہوں
——————————
میں تو اس دریا کا مانجھی ہوں کہ مردم خوار ہے
اور وہ دریا ہے بے کشتی عجب اسرار ہے
ہے شریعت اس کی کشتی اور طریقت بادباں
ہے حقیقت اس کا لنگر اپنا بیڑہ پار ہے
مثل آتش جملہ خوں دیکھا تو دنیا سے ڈرا
پر گزرنا ہے ضروری آدمی لاچار ہے
حضرت حق سے صدا آئی کہ کیوں ڈرتا ہے تو
جان شاقاں اسی دریا میں آتش بار ہے
بات اے عثمان مروندی فقط یاروں سے کر
یار دنیا میں کہاں ہیں مجمع اغیار ہے


آپ ؒ کی تعلیمات اور حسن سلوک سے سیہون کی ایسی کا یا پلٹی کہ بہت بڑی تعداد میں غیر مسلموں نے اسلام قبول کرلیا ۔ لعل شہباز قلندرؒ کی وجہ سے راجہ کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آرہا تھا۔ آخر حاکم سہون نے اپنے علاقے کے کچھ جادوگروں کو طلب کرکے ان سے مسلمان درویش سے مقابلے کا کہا، لیکن سہون کے ساحروں نے مقابلے سے پہلے ہی اپنی شکست تسلیم کرلی تھی کہ انہیں ہرا نا ہمارے بس کی بات نہیں۔ البتہ جادوگروں نے راجہ کو مشورہ دیا کہ اگر کسی طرح مسلمان درویش کے شکم میں حرام غذا داخل کردی جائے تو اس کی ساری روحانی قوت زائل ہوجائے گی اور پھر ہمارے جادو کی طاقت اس پر غالب آجائےگی۔راجہ نے ایک روز کسی حرام جانور کا گوشت پکوایا اور کئی خوان سجا کر مسلمان درویش کی خدمت میں بھیج.دیے۔
جب یہ خوان حضرت شہباز قلندر کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اسے دیکھتے ہی شیخ کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے یہ کہہ کر کھانے سے بھرا ہوا خوانالٹ دیا۔ ‘‘ہمارا خیال تھا کہ وہ ظالم اتنی نشانیاں دیکھنے کے بعد راہِ راست پر آجائے گا مگر جس کی تقدیر میں ہلاکت و بربادی لکھی جا چکی ہو، اسے اللہ کے سوا کوئی نہیںٹالسکتا۔’’
مرشد کے اس عمل سے خدام پر لرزہ طاری ہوگیا۔ پھر دوسرے ہی لمحے زمین بھی لرزنے لگی۔ سہون شدید زلزلےکی لپیٹ میں تھا۔ زمین نے دو تین کروٹیں لیں اور طاقت و اقتدار کا سارا کھیل ختم ہوگیا۔ ادھر شیخ کے سامنے خوان الٹا پڑا تھا…. راجہ جیر جی کے قلعے کی بنیادیں الٹی ہوگئی تھیں۔
حضرت قلندر لعل شہبازؒ 649ہجری میں سندھ تشریف لائے اور اسی شہر سیہون میں آخر وقت تک رہے۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒنے تقریباً 103 برس (بعض تذکروں کے مطابق 112 برس )کی عمر پائی ، آسمانِ ولایت کا یہ شہباز اور سیہون اور سندھ کے گردونواح کے تاریک علاقوں کو نورِ اسلام سے منور کرنے والا یہ آفتاب 18شعبان المعظم673ھ بمطابق1275ء میں غروب ہوگیا ۔ـ
آپؒ کا مزار سیہون شریف میں ہے جہاں ہر سال18شعبان المعظم کو عرس منایا جاتا ہے۔

 [:]

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

طوفانوں سے بچانے والے بزرگ حضرت عبداللہ شاہ غازی

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں سن 760ء کا ایک دن تھا، جب سمندر ...

بابا تاج الدین اولیاءؒ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں برصغیر پاک و ہند کی ابتداء ہی سے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے