لوب سانگ رمپا – 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

ماورائی علوم اور روحانی صلاحیتوں کے ماہر لوب سا نگ ـ رمپا کی کہانی …. جس میں وہ لہاسا تبت میں طبیب لامہ بننے ، اپنی باطی آنکھ کھولنے اور روحانی علوم سیکھنے کے بعد چین کا سفر کرتے ہیں اور چینی اور مغربی سائنس پڑھ کر اپنے طبی تحقیق میں اضافہ کرتے ہیں، وہاں جاپانی انہیں قیدی بنالیتے ہیں لیکن اس دوران ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جاتے ہیں ۔ مگر لوب سانگ رمپا وہاں سے زندہ بچ نکلتے ہیں ۔ زیرِ نظر کہانی 1959ء میں شایع ہوئی رمپا کی کتاب ‘‘لہاساکا ڈاکٹر’’ Doctor from Lhasa، کی تلخیص ہے۔ رمپا کی یہ کتاب انٹرنیٹ پر درج ذیل لنک پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے:

https://www.lobsangrampa.org/books/en/Doctor-from-Lhasa.htm
https://www.lobsangrampa.org/books/en/Doctor-from-Lhasa.pdf

پہلی قسط:

میرا نام لوبـ سانگـ رمپا Lobsang Rampa ہے۔ ہمارا خاندان تبت کی سب سے بڑی جاگیر کا مالک تھا۔ میرے والد دلائی لامہ کے بعد سب سے زیادہ لائق احترام اور مقدس شخص سمجھے جاتے تھے۔ میں پیدا ہوا، تو میرے والد نے ایک شاندار ضیافت کا اہتمام کیا۔ جس میں ملک کی بڑی بڑی شخصیتیں اور لہاسا Lhasa کے معززین شریک ہوئے۔ مہمان خصوصی خود تیرہویں دلائی لامہ تھے۔
کھانے کے بعد تبت کے سب سے بڑے نجومی نے میرے مستقبل کے متعلق پیشن گوئی پڑھ کر سنائی۔ پیشن گوئی کے مطابق میری زندگی مصائب و آلام سے بھری ہوئی تھی، تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میں ایک بے مثال طبیب اور عظیم لامہ بننےوالا تھا۔
بچپن کے دن گھر میں ہنستے کھیلتے گذرگئے۔ سات سال کی عمر میں مجھے چکپوری Chokporiکی طبی درس گاہ میں بھیج دیا گیا۔ وہاں ایک ہفتہ مختلف کٹھن آزمائشوں میں گزرا۔ صبح سے شام تک بوڑھے لامے مختلف طریقوں سے میری جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو جانچتے رہتے۔ میرے ممتحن میرے بارے میں مطمئن نظر آئے، آخر ساتویں دن درس گاہ کے استاد لامے نے مجھے باقاعدہ طالب علم بنا لیا۔
اپنی عمر کے ساتویں سال سے میں دس سال تک چپکوری میں تعلیم حاصل کرتا رہا۔ اس درس گاہ میں مجھے تبتی طب، طبیعات، روحانیت، مذہب اور دیگر علوم سیکھائے گئے۔ یہاں مجھے جسمانی مشقت کےسخت ترین مراحل سے بھی گزرنا پڑا۔ اب میں طبیب، لامہ بن چکا تھا۔
چکپوری کے زمانہ قیام میں میں نے جنگلی جڑی بوٹیوں کی تحقیق میں بھی حصہ لیا۔ اس دوران میں نے تقریباً چھ ہزار جڑی بوٹیوں کے خواص اور اثرات کا تفصیلی علم حاصل کیا۔
  اپنے بزرگ استاد، کے ہمراہ اڑن کھٹولے (آدمی کو اُڑانے والی ہوائی پتنگ Manlifting Kites)میں بیٹھ کر مجھے تبت کے دور دراز اور سطح سمندر سے 12 ہزار فیٹ بلند ترین مقامات تک جانے کا اتفاق بھی ہوا۔ چانگ تانگ کی یادگار اور ناقابل فراموش مہم میں میں اپنے عظیم استاد کے ہمرا ہ تھا۔ اس مہم کے دوران ہم اڑن کھٹولے کے ذریعے چینگ تانگ Chang Tang کی پراسرار گھاٹی میں جاپہنچے۔ راشن ختم ہوگیا، لیکن علم کی جستجو نے حوصلے بلند رکھے اور ہم تین ہفتے تک اس قدیم شہر کے غار نما کھنڈروں میں سرگرداں رہے۔ دوران لاکھوں ٹن برف میں دبی ہوئی قدیم تبتی تہذیب کا تفصیلی مطالعہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس مہم کے ذریعے ہماری فراہم کردہ معلومات سے تبت کی تاریخ مرتب کرنے میں بےحد مدد ملی۔
میری سوجھ بوجھ ذرا پختہ ہوئی، تو مجھے روحانیت کا درس دینا شروع کیا گیا۔ درس گاہ کے بڑے لامہ نے جڑی بوٹیوں سے ایک خاص قسم کا محلول تیار کیا۔ نگاہ باطن یعنی تیسری آنکھ Third Eye کھولنے کےلیے چاندی اور لکڑی سے بنی ایک سخت کیل کو اس محلول میں بھگوکر میرے ماتھے میں ٹھونک دیا گیا۔
تبتی طبیبوں کا خیال ہے کہ دماغ کے اگلے حصے میں ایک خاص غدود (پائنل گلینڈ Pineal Gland)ہوتا ہے۔ لکڑی کا کیل ٹھونک دینے سے اس غدود کو تحریک ملتی ہے، اس سے انسان کی روحانی حس بیدار ہوجاتی ہے اور وہ روحانی تعلیمات کو بآسانی سمجھنے لگتا ہے۔
اس درس گاہ میں میری روحانی تربیت کا ایک مرحلہ مکمل ہوا تو مجھ پر انسان کا باطن آشکار ہو نے لگا اور مجھے ہر آدمی کا پَرتو (اوراء Aura ) نظر آنےلگا۔ لوگوں کا پَرتو دیکھ کر میں ان کی اُمیدیں اور خوف بھی جان جاتا تھا۔
چکپوری کی درس گاہ سے فارغ ہوا، تو دلائی لامہ نے ہماری خاندانی حیثیت اور میری روحانی اور علمی قابلیت کے پیش نظر مجھے اپنا مصاحب مقرر کردیا۔ دلائی لامہ کے دربار میں جو شخص بھی آتا، میں اس کاپُر تو، دیکھ کر اس کے دل کا حال دلائی لامہ کو بتا دیتا۔ چند ہی روز میں دلائی لامہ میری خاص روحانی قوت کے معترف ہوگئے۔ انہی دنوں لہاسا میں ایک انگریز وارد ہوا۔ اس کے عجیب و غریب طور اطوار دیکھ کر میرے دل میں تبت سے باہر جانے کا خیال پیدا ہوا۔ میں دلائی لامہ کا معتمد خاص بن چکا تھا۔ ایک دن وہ مجھے پوتالا محل Potala Palaceکے نیچے خفیہ سرنگ میں لے گئے۔ یہاں بدھ کے مقدس نواردات محفوظ ہیں۔ دلائی لامہ کے علاوہ کسی شخص کو سرنگ کا راستہ معلوم نہیں ہوتا۔ دلائی لامہ مرنے سے چند روز قبل اپنے جانشین کو اس خفیہ سرنگ کا راستہ دکھا دیتے ہیں۔ یہاں دلائی لامہ بدھ، سے ہم کلام ہوتے ہیں اور گیان حاصل کرتے ہیں۔
میں نے دیر تک سرنگ میں رکھے ہوئے نایاب اور گراں بہا نواردات کا بغور مطالعہ کیا اور دس پندرہ فٹ لمبے دیووں Giants کی محفوظ شدہ لاشیں دیکھیں۔ دیواروں پر منقش تصویروں اور خاکوں کے ذریعے زندگی اور موت کے اسرار حقائق کا مطالعہ کرنے کے بعد جب ہم سرنگ سے باہر نکلے، تو یوں محسوس ہوا جیسے بیرونی دنیا سے رابطہ ٹوٹے صدیاں گزر گئی ہوں۔
چند روز بعد دلائی لامہ نے مجھے بلایا اور کہا:
‘‘تمہاری ذہنی اور روحانی صلاحیتوں کا تقاضا ہے کہ تم دیگر دنیاوی علوم بھی حاصل کرو۔ اس طرح تم تبت کی ایک ایسی بڑی علمی شخصیت بن سکو گے جو روحانیت اور مادیت دونوں طرح کے علوم می ماہر ہو۔ اگر تم پسند کرو، تو میں چنگ کنگ Chungking، کی مشہور چینی درس گاہ میں تمہارے داخلے کا بندوبست کردوں….؟’’
دلائی لامہ کی یہ بات سن کر میرا دل خوشی سے بے قابو ہونے لگا۔ دراصل مجھے تبت سے باہر کی دنیا دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا۔ میں نے چینی درس گاہ میں داخلے کے لیے دلائی لامہ کے سامنے فوراً آمادگی ظاہر کردی۔

بیسویں صدی عیسوی میں اوکلٹ سائنس ، ماورائی علوم   اور روحانی صلاحیتوں   کے ماہرین  میں ڈاکٹر   لوب سانگـ رمپا   Lobsang Rampa کا نام ایک منفرد اور اعلیٰ مقام کا حامل تھا ۔ لوب سانگ رمپا کو مقبولیت اور شہرت    1956ء میں  لکھی ان کی پہلی کتاب   تیسری آنکھ The Third Eye  سے ملی۔  اس کتاب میں تبت کے کئی خفیہ اور  ماورائی علوم کا تذکرہ کیا گیا تھا۔   یہ کتاب لوب سانگ رمپا کی سوانح  کا پہلا باب تھا ۔ یہ کتاب ان کے لہاسا  میں طبیب لامہ بننے اور اپنی باطی  آنکھ کھولنے کے ساتھ تبت میں گزری ان کی زندگی کے بارے میں تھی۔

  ان کی دوسری کتاب لہاسا کا ڈاکٹرDoctor from Lhasa،  1959  میں  شایع ہوئی، اس میں وہ لہاسا تبت سے  چین کا سفر کرتے  ہیں اور چینی اور مغربی سائنس پڑھ کر اپنے طبی تحقیق میں اضافہ کرتے ہیں، وہاں  جاپانی انہیں قیدی بنالیتے  ہیں لیکن اس دوران ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جاتے ہیں ۔ لیکن رمپا وہاں سے زندہ بچ  نکلتے ہیں ۔

تیسری کتاب رمپا کی کہانی The Rampa Story، 1960 میں شایع ہوئی  اس میں ڈاکٹر رمپا  اپنے سفر میں آگے بڑھتے ہیں اور روس  اور یورپ کا  سفر کرتے ہیں۔

کتاب دی سیج The Hermit    ، 1971 ء میں لکھی جس میں ان کی ملاقات ایک  اندھے راہب سے ہوتی ہے جو انہیں کائنات کی تخلیق کے رازوں سے آگاہ کرتا ہے او بتاتا ہے کہ اس کائنات  میں کئی   اور بھی زمینیں ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام ایک پیغامبر تھے جیسے دوسرے پیغامبر گذرے ہیں۔ 

کتاب Twilight  میں انہوں نے بیرونِ جسم روحانی اسفارOBE،  کا تذکرہ کیا ، جس میں   انہوں نے دیگر سیاروں پر آباد مخلوقات،  دعا کی طاقت،   اوراء  اور کئی دیگر ماورائی موضوعات بیان کیے ۔  

ان کی دیگر کتابوں میں، Wisdom of the Ancients،  Chapters of Life،  You Forever، Tibetan Sage اور Living with the Lama کافی مقبول رہیں۔   

لوب سانگ رمپا  نے اپنی تحریروں میں باطنی آنکھ، انسانی مقناطیسی قوت اوراAura ،   ٹیلی پیتھی، ہپناٹزم اور دیگر خفیہ علوم، بیرونِ جسم روحانی اسفارOBE،  قدیم تہذیبوں کے معموں مثلاً  اہرامِ مصر  اور کائنات میں موجود سیاروں پر زندگی، UFO کے متعلق  اسرار سے بھی پردہ اٹھایا ہے۔ 

لوب سانگ رمپا  25 جنوری 1981ء کو 70 برس کی عمر میں کینیڈا میں انتقال کرگئے ۔

ہم 1927ء کے آغاز میں لہاسا سے روانہ ہوئے۔ عظیم اتالیق لامہ منگیار Mingyar Dondup میرے ساتھ تھے۔ وہ اپنے عزیز شاگرد کو بذات خود چنگ کنگ چھوڑنے جارہے تھے۔ ہم دن بھر سفر کرتے اور رات کسی خانقاہ یا سرائے میں گزارتے۔ راستے میں جہاں کہیں بھی جاتے، ہماری بےحد آؤ بھگت کی جاتی۔
وادی کین تنگ Kanting میں پہنچے، تو ایک عجیب رواج دیکھنے میں آیا۔ لوگ چائے کی پتیوں کو ایک خاص طریقے سے چھوٹی چھوٹی اینٹوں میں تبدیل کرلیتے اور سردیوں میں استعمال کرنے کے لیے محفوظ کرلیتے۔ یہاں چائے کی اینٹیں کرنسی سکوں کی جگہ بھی استعمال کی جاتی تھیں۔
کین تنگ کے بعد سائی کانگ Xikang پہنچے اور یہاں سے دریائےینگ سی Yangtze کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے شکوان Szechwan پہنچے اور وہاں سے چین میں داخل ہوگئے۔
یہاں ایک گونج سی پیدا ہوئی۔ ہمارے گھوڑے بدک کر بےقابو ہوگئے۔ اس اثنا میں گردوغبار کا ایک بادل بڑی تیزی سے ہماری جانب بڑھتا چلا آرہا تھا۔ چند لمحے بعد اس بادل میں سے ایک دوڑتا ہوا مکان نمودار ہوا۔ میرے اتالیق نے بتایا کہ یہ موٹر کار ہے۔ میں دیر تک اس سواری کو دلچسپی سے دیکھتا رہا۔ آخر وہ نظر سے اوجھل ہوگئی اور ہم اپنی منزل کی طرف چل کھڑے ہوئے۔
رات ہوئی تو ہم ایک چینی خانقاہ میں ٹھہرے۔ یہاں ہماری ملاقات ایک جاپانی بدھ بھکشو سے ہوئی۔ وہ لہاسا میں میرے اتالیق منگیار کا شاگرد رہ چکا تھا۔ اس نے ہمیں دیکھتے ہی پہچان لیا اور بےحد خاطر مدارات کی۔ اس نے ہمیں چینی خانقاہوں کے تازہ ترین حالات بتائے جنہیں سن کر مجھے بےحد دکھ ہوا۔
اس نے بتایا کہ روسی نمائندے ، چینی لوگوں کے مذہبی اعتقادات کو سخت نقصان پہنچا رہے ہیں اور گوناگوں لالچ دے کر لوگوں کو خانقاہوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر رہے ہیں۔
اگلی صبح ہم منہ اندھیرے روانہ ہوگئے اور سہہ پہر کے وقت چنگ کنگ Chungking کے نواح میں پہنچ گئے۔ شہر کی بلند و بالا عمارتیں دیکھ کر میرے دل میں خوشیوں کے طوفان مچل گئے۔ چنگ کنگ، دریائے ینگ سیYangtzeاور دریائے شیلانگ Chialing کے سنگم پر چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں پر واقع ہے۔ پہاڑیوں کے دامن سے لے کر سنگم تک ریت کی چمکتی ہوئی چادر پھیلی ہوئی ہے۔ درس گاہ میں داخل ہوئے، تو بڑے دروازے پر دو چینی ملے۔ ان کےلباس سے ظاہر ہوتا تھا کہ درسگاہ کے ملازم ہیں۔ وہ مجھے درسگاہ کے بڑے استاد کے پاس لے گئے۔
‘‘لوب سانگ، میں چین کے اس عظیم کالج کا پرنسل لی Lee ہوں اور تمہیں کالج کی نتظامیہ کی طرف سے خوش آمدید کہتا ہوں۔’’
‘‘عزت افزائی کا شکریہ۔’’ میں نے کہا اور دلائی لامہ کا تعارفی خط اس کے حوالے کردیا۔
‘‘مجھے، بودھ لامہ ، کا حکم نامہ پہلے ہی موصول ہوچکا ہے اور میں تمہارے متعلق بہت کچھ جان چکا ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ تم جیسا عظیم لامہ میرا شاگرد بن رہا ہے۔’’ پرنسپل نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ پرنسپل کچھ دیر مجھ سے تبت کے حالات سنتا رہا، پھر گھنٹی بجائی۔ نیلے لباس میں ایک کلرک حاضر ہوا پرنسپل لی نے اس سے چینی زبان میں کہا،
‘‘آفوAhFu ….!، لوب سانگ کو دفتر میں لے جاؤ اور اس کا نام وغیرہ درج کروادو۔’’
دفتر سے فارغ ہو کر میں کالج کے مہمان خانے میں پہنچا جہاں اتالیق منگیار اور دوسرے ساتھی میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔ پھر ہم سب کھانا کھانے بازار کی طرف چل دیے۔
بیس لاکھ نفوس پر مشتمل یہ شہر اپنی مثال آپ تھا۔ ایسی چہل پہل اور رونق میں نے زندگی میں پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ ہم ایک درمیانے درجے کے ہوٹل میں داخل ہوئے۔ تبت میں کھانا کھاتے وقت باتیں کرنا نہایت برا سمجھا جاتا تھا، لیکن یہاں لوگ کھانے کے دوران بھی گرما گرم بحث میں مصروف تھے۔ ہوٹل میں بیٹھے لوگوں نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔ اگلی صبح عظیم استاد منگیار اور دوسرے ساتھی تبت واپس روانہ ہوگئے۔ میں نے انہیں بادیدہ نم رخصت کیا۔
جب میں کالج پہنچا، تو ہانگ Huangنامی ایک چینی راہب سے ملاقات ہوئی۔ وہ بھی میری طرح نووارد تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم آپس میں گھل مل گئے۔
استاد نے کلاس روم میں داخل ہوتے ہی لڑکوں میں کاغذ اور سوال نامے تقسیم کردیے۔ وہ طالب علموں کی انفرادی قابلیت کا اندازہ کرنا چاہتا تھا۔ امتحان کے مطابق مجھے پہلے سال زیادہ تر توجہ الیکٹرسٹی اور مقناطیسیت پر دینا تھی۔
اگلے روز ہمیں پہلی بار ایک لیبارٹری میں لے جایا گیا۔ سب سے پہلے ہمارے استاد نے بجلی کے متعلق بہت سی دلچسپ باتیں بتائیں۔ میری معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔ پھر ان باتوں کے دوران استاد نے مجھے اپنے قریب بلایا، میرے ہاتھوں میں تانبے کی دو نلکیاں پکڑادیں اور ایک بٹن دبایا۔ مجھے کچھ محسوس نہ ہوا۔ میں آرام سے کھڑا رہا۔استاد نے پوچھا۔
‘‘تمہیں کیا محسوس ہورہا ہے….؟’’
‘‘کچھ بھی نہیں۔’’ میں نے جواب دیا۔
میری بات سن کر استاد کو کچھ حیرت ہوئی۔ استاد کو خیال آیا شاید تار ٹھیک طرح نہیں لگے ہوئے۔ انہوں نے نلکیاں خود پکڑلیں اور بٹن پھر دبایا۔ اچانک استاد کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ گر پڑے۔ اس کا رنگ سفید پڑنے لگا۔ لیبارٹری کا کلرک بھاگم بھاگ آیا اور سوئچ آف کردیا۔
کچھ دیر بعد استاد کو ہوش آگیا۔ اس نے چھوٹے سے بلب کے ذریعے برقی، روٹیسٹ کی اور نلکیاں میرے ہاتھ میں دے کر بٹن دبا دیا، لیکن مجھے کچھ بھی نہ ہوا۔ آخر تنگ آکر بولا:
‘‘220 وولٹ کے بجائے 440 وولٹ لگاتے ہیں۔’’
دیوار میں نصب شدہ چند بٹن دبانے کے بعد اس نے نلکیاں پھر میرے ہاتھ میں دے دیں۔ اس بار مجھے ہاتھوں پر چیونٹیاں سی رینگتی ہوئیں محسوس ہوئیں۔ 440 وولٹ کرنٹ کے باوجود مجھے زندہ سلامت کھڑا دیکھ کر استاد ششدر ہوگیا: ‘‘عجیب انسان ہےیہ ، اس پر برقی رو کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔’’ وہ بڑبڑایا۔
بہر حال کلاس ختم ہوئی اور ہم باہر آگئے۔
چین میں سب سے بڑا مسئلہ خوراک کا تھا۔ تبت کی سی سادہ اور طاقتور غذا ناپید تھی۔ لامہ کے لیے مچھلی اور گوشت کھانا گناہ ہوتا ہے، لیکن دلائی لامہ نے مجھے ضرورت کے وقت یہ چیزیں کھا لینے کی اجازت دے دی تھی۔ چین پہنچ کر میں نے زندگی میں پہلی بار کچھوے، گھونگھے اور مینڈک کا گوشت بھی کھایا۔ سیپ کا گوشت، بانس کی کونپلیں، مچھلی اور بطخ کاشوربا میرے پسندیدہ کھانے تھے۔ چین میں منہ سے سگریٹ کا دھواں نکالنا بھی ایک فن ہے۔ بعض لوگ ناک کے علاوہ کانوں سے بھی دھواں نکالتے ہیں۔ا س مقصد کے لیے کان کے پردے میں سوراخ کروالیتے ہیں اور صرف شوق پورا کرنے کے لیے زندگی بھر کے لیے بہرے ہوجاتے ہیں۔
ہمارے کالج میں مردہ خانہ بھی تھا، کالج کے اس مردہ خانے کا ماحول بےحد خوفناک تھا۔ بیسوں لاشیں ادھر ادھر پڑی رہتیں۔ بعض اوقات کسی لاغر لاش کو حاصل کرنے کے لیے لڑکے آپس میں جھگڑ پڑتے۔ یہ مغربی طریقہ ہے تبت میں کبھی ایسا نہیں ہوتا، تبتی لامہ لاشوں کا بہت احترام کرتے ہیں ، یہاں تک کہ تبتی طب میں جسم کو چیرنا پھاڑنا بھی منع ہے لامہ طبیب صرف بیرونی طور پر ہی اندرونی امراض کا علاج بخوبی کردیتے ۔
تو ہم پرستی نے چین کو اپنے نرغے میں لے رکھا تھا۔ بیمار ہسپتال آتے، ایکسرے کرواتے اور دوا تک لیتے، مگر ڈاکٹروں پر ان کا اعتقاد نہ تھا۔ غیر مستند لامہ طبیبوں کا رخ کرتے۔ یہ طبیب بڑے ماہر نبض تھے۔ نبض دیکھ کر کھایا پیا تک بتا دیتے۔ لیکن ان مغربی اور چینی طبیبوں کا ڈھنگ بھی نرالا تھا۔ جسم کے مختلف حصوں کے لیے مختلف رنگ کی دوائیں تجویز کرتے۔ تمام بیماریوں کا علاج کرتے۔ آپریشن بھی کرتے اور دانت بھی نکالتے۔ دانت نکالنے کا طریقہ بےحد دلچسپ تھا۔ طبیب اپنے پڑوسی دکانداروں اور بعض اوقات راہ گیروں کو مدد کے لیے بلا لیتا۔ وہ مریض کو جکڑ لیتا اور طبیب ٹیڑھے میڑھے آلات سے دانت نکالنے لگتا، ایسے میں تکلیف کی شدت کی وجہ سے مریض کے منہ سے ایسی آوازیں نکلتیں جیسے بکرے کو ذبح کیا جارہا ہو۔
چند روز بعد ایک اور استاد ہماری کلاس میں آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک مقناطیس تھا۔ استاد نے لڑکوں سے پوچھا:
‘‘کیا تم بتا سکتے ہو مقناطیس کا حلقہ کشش magnetic field کیسا ہوتا ہے….؟’’
سب لڑکے خاموش رہے۔ میں نے اس مقناطیس پر ایک نظر ڈالی تو مجھے وہاں ایک جال سا دکھائی دیا ‘‘میں دیکھ رہا ہوں، استاد مکرم۔’’
میں نے اٹھ کر کہا۔
‘‘تم کیا دیکھ رہے ہو….؟’’ استاد نے پوچھا
‘‘میں مقناطیس کا حلقہ کشش دیکھ رہا ہوں ’’
‘‘اچھا….تو پھر بنا کر دکھاؤ۔’’ استاد نے کچھ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
میں نے بلیک بورڈ پر ایک سفید چاک سے لہروں کا ہوبہو وہ جال بنا دیا جو مجھے مقناطیس کے گرد ہلکی سی روشنی کی صورت میں نظر آرہا تھا۔
استاد بےحد حیران ہوا، کیونکہ ان کے خیال میں تکنیکی لحاظ سے میرا بنایا ہوا جال بالکل درست تھا۔ اس نے سوچا کہ شاید میں پہلے ہی مقناطیسیت کے متعلق بہت کچھ جانتا ہوں اور انہیں بیوقوف بنا رہا ہوں۔ اب انہوں نے لوہے کا ٹکڑا لیا، اس کے گرد تار لپیٹ کر عارضی مقناطیس بنایا اور مجھے حلقہ کشش بنانے کو کہا۔ میں نے چاک سے جال بنانا شروع کیا۔
اچانک روشنی غائب ہوگئی۔ میں نے استاد سے کہا کہ ‘‘مجھے اب کچھ نظر نہیں آرہا۔’’
وہ بہت حیرت زدہ ہوا۔ جونہی اس نے خفیہ بٹن کے ذریعے برقی رو بند کی، عارضی مقناطیس ختم ہوگیا اور دائرہ کشش میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ برقی رو دوبارہ جاری ہوئی، تو میں نے حلقہ کشش کا پورا نقشہ بنا دیا۔
استاد کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ بار بار میری طرف دیکھتا۔ آخر اس نے لڑکوں کو چھٹی دے دی اور مجھے اپنے کمرے میں لے گیا۔ میں نے بتایا: ‘‘مجھے مقناطیس دیکھنے کا اتفاق پہلی بار ہوا ہے۔ نیز یہ کہ میں انسان کا ‘‘پرتو’’ Auraدیکھ سکتا ہوں۔’’
یہ سنتے ہی استاد مجھے پرنسپل کے پاس لے گیا۔ پرنسپل کرسی پر خاموش بیٹھا ہوا تھا۔
‘‘یہ تبتی نووارد بھی عجیب وغریب آدمی ہے۔ کہتا ہے ہر انسان کا پَرتو، Aura ہوتا ہےا ور میں اس کو دیکھ سکتا ہوں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے اس نے مقناطیس کے حلقہ کشش کو بھی آنکھوں سے دیکھ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔’’ استاد ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ گیا۔
پرنسپل نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر بولا:
‘‘لوب سانگ، میں جانتا ہوں تم نے روحانی تعلیم حاصل کی ہے، مگریہ پرتُو (اورا Aura)، کیا بلا ہوتی ہے؟….’’
‘‘جناب والا!….، ہر انسان میں مقناطیسی طاقت ہوتی ہے، چنانچہ اس کے جسم سے برقی لہریں نکلتی رہتی ہیں جو تقریباً ڈیڑھ انچ موٹی ہوتی ہیں۔ یہ لہریں انسان کے جسم کے اردگرد موجود رہتی ہیں۔ یہی روشنی پرتو، کہلاتی ہے۔ میں پر تو دیکھ سکتا ہوں اور اس کو دیکھ کر انسان کے خیالات، دل میں ہونے والی کشمکش اور ذہن اور جسم کی حالت معلوم کرلیتا ہوں۔’’ میں نے جواب دیا۔
‘‘پوچو Po Chu، لوب سانگ درست کہتا ہے۔ چند سال قبل اس کے اتالیق منگیار نے بھی ایسی ہی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔ یہ بتاکر پرنسپل نے میرے استاد سے کہا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تبت کے علوم کو جھٹلانے کے بجائے ان کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔’’

 ڈاکٹر لوب سانگـ رمپا    Lobsang Rampa کو   یوں تو 1950اور 1960 کی دہائی میں اوکلٹ سائنس ، ماورائی علوم    اور روحانی صلاحیتوں  کی وجہ سے کافی شہرت  اور مقبولیت حاصل رہی تھی،  اکیسویں صدی کے  کئی نوجوان لوب سانگ رمپا کے نام سے ناواقفیت  کا اظہار کریں  گے۔      لیکن کئی نوجوان  مارول Marvel کامکس  اور فلم کے مشہور کردار ‘‘ڈاکٹر اسٹرینج ’’ Doctor Strange  کے نام  سے واقف ہوں گے اور  ان کے کارنامے  بڑھ چڑھ کر بیان کریں گے۔  شاید  آج کے نوجوانوں کی اکثریت   اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ  فلم اور کامکس کا مشہور کردار ‘‘ڈاکٹر اسٹرینج ’’ دراصل  لوب سانگـ رمپا     کی   سوانح حیات  اور کارناموں سے ہی ماخوذ  ہے۔          

لوب سانگ رمپا  کی طرح ڈاکٹر اسٹرینج  نے بھی تبت میں لامہ راہب سے تبتی طب  اور روحانی علوم حاصل کیے    اور میڈیکل سائنس  کی  بھی تعلیم  حاصل کی۔

   ڈاکٹر اسٹرینج کے باطنی آنکھ،  اورا،   الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ،  جام جمشید کی طرح روشن گولا  Orb of Agamotto، بیرونِ جسم روح کی منتقلیAstral Projection ،    روحانی طور پر تبت میں لامہ  سے ملاقات،  لامہ کی موت کے بعد بھی روح سے رابطہ جیسے کارنامے     دراصل لوب سانگ رمپا کی کہانی سے ہی اخذ ہیں۔    ڈاکٹر اسٹرینج کے گلے میں تعویز نما آنکھ کا میڈل  بھی ڈاکٹر لوب سانگ رمپا کی اکثر تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

درسگاہ سے تھوڑی دور دریائے ینگ سی کے کنارے چنگ کنگ کا ہوائی اڈہ تھا۔ دریا کے ساتھ ساتھ ریت کا میدان دور تک پھیلا ہوا تھا اور ہوائی اڈے کی سڑک سفید کاغذ پر سیاہ لکیر کی مانند دکھائی دیتی تھی۔ ایک دن میں اپنے دوست ہانگ کے ہمراہ ہوائی اڈے گیا۔ وہاں دو طیارے کھڑے تھے۔ ہانگ نے میرا تعارف پائلٹوں سے کرایا۔ وہ جھک کر ملے اور بےحد احترام سے پیش آئے۔ میں نے انہیں بتایا کہ تبت میں طیاروں کا کام اُڑن کھٹولوں (ہوائی پتنگ )سے لیا جاتا ہے، تو وہ بےحد حیران ہوئے۔ پائلٹ ہمارے دوست بن گئے اور ہم گاہے گاہے ہوائی اڈے پر جانے لگے۔ انہوں نے ہمیں طیاروں کے متعلق معلومات فراہم کیں۔ بعض اوقات وہ مجھے کیبن میں اپنے ساتھ بٹھا لیتے اور فضا کا چکر لگاتے۔ پرواز کے دوران میں میری نگاہیں کنٹرول بورڈ پر جمی رہتیں۔
آہستہ آہستہ میری خود اعتمادی نے یقین کی شکل اختیار کرلی۔ میرے دل میں یہ خیال جاگزیں ہوگیا کہ میں طیارہ چلا سکتا ہوں۔ آخر ایک دن مجھے اپنے ارمان پورے کرنے کا موقع مل گیا۔
ہانگ اور میں ہوائی اڈے پر پہنچے، تو دونوں پائلیٹ ایک طیارے کی صفائی میں مصروف تھے۔ ہانگ ان کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا۔ میں چپ چاپ دوسرے طیارے کی طرف چل دیا۔ قریب پہنچا، تو میرا دل بےقابو ہوگیا۔ کنٹرول بورڈ مجھے ایک مانوس کتاب کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ میرا ہاتھ بےساختہ اسٹارٹر کی طرف بڑھ گیا۔
یکایک گڑگڑاہٹ سی پیدا ہوئی اور پھر ایک زور دار جھٹکے سے طیارہ رن وے پر دوڑنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد سڑک ختم ہوگئی۔ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، دل دھک دھک کرنے لگا اور جسم پسینے میں بھیگ گیا۔ طیارے کے پہیے ریت میں دھنستے چلے جارہے تھے۔ مجھے جھرجھری سی آگئی۔ میں نے طیارے کا رخ اوپر نیچے کرنے والا بٹن دبا دیا۔ فوراً طیارے کا اگلا حصہ اوپر کی طرف اٹھ گیا اور طیارہ فضا میں بلند ہوگیا۔
طیارہ تیز رفتاری کے ساتھ زمین سے تقریباً 90 درجے کے زاویے پر اوپر کی طرف جارہا تھا۔ میرے ہاتھ شل ہوگئے۔ کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کروں۔‘‘اگر طیارہ اسی انداز میں اڑتا چلا گیا، تو زمین پر زندہ واپس آنے کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔’’میں نے سوچا اور تھروٹل Throttleکو دبا دیا۔ پہلے تو طیارہ ڈگمگایا اور پھر نیچے آنے لگا۔ اب وہ ناک کی سیدھ میں زمین کی طرف آرہا تھا۔ چنگ کنگ کی عمارتیں میرے سامنے تھیں۔ میں نے اعصاب کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی اور تھروٹل Throttle کو تھوڑا سا کھینچا۔ اس طرح کرنے سے طیارے کا رخ تو ٹھیک ہوگیا، مگر اب وہ ہچکولے کھانے لگا۔ میں نے سیٹ کو ٹانگوں میں جکڑ لیا اور کنٹرول بورڈ پر پوری توجہ کی۔ آخرکار طیارہ زمین کے متوازی اڑنے لگا۔
اب مجھے نیچے اترنے کی فکر لاحق ہوئی۔ اس وقت اپنی جان بچانے کی جدوجہد کرتے ہوئے مجھے زندگی میں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ نظریے اور عمل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
جونہی رخ بدلنے کے لیے میں نے بٹن دبایا، طیارے نے غوطہ لگایا۔ ایک لمحے کے لیے میرے ہوش جاتے رہے، کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیا ہوگیا ہے۔ طیارہ تیزی سے نیچے جارہا تھا۔ اس کا رخ سامنے ایک اونچی پہاڑی کی طرف تھا۔ خون میری رگوں میں جم گیا، آنکھوں کے سامے دھند سی چھا گئی،لیکن پھر میں فوراً سنبھلا، زور سے اپنے سر کو جھٹکا دیا اور ہمت کرکے پوری قوت سے تھروٹل کو کھینچا۔ طیارے کا رخ یک لخت اوپر کی طرف اٹھ گیا اور وہ پہاڑی کے اوپر سے گزر گیا۔
یہ جان لیوا مرحلہ گزرا، تو میں نے دیکھا کہ میرے کپڑے پسینے میں بھیگ چکے ہیں۔ مجھے کوئی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ آخرکار میں نے طیارے کا رخ ٹھیک کیا اور ڈیش اسکرین میں سے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی۔
چنگ کنگ شہر کا کہیں پتہ نہ تھا۔ میں چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے طویل سلسلے پر پرواز کر رہا تھا۔ میں نے طیارے کی رفتار کم کی اور اس کا رخ دائیں طرف موڑ دیا۔ دفعتاً مجھے زمین پر ایک سفید سی لکیر دکھائی دی۔ یہ دریائے ینگ سی تھا۔ اسے دیکھ کر کچھ امید بندھی۔ بڑی احتیاط سے طیارے کو موڑا اور اسے دریا کے رخ پر ڈال دیا۔
کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ طیارہ بالکل مخالف سمت میں جارہا ہے۔ اب تک مجھے خاصی مہارت ہوچکی تھی، اس لیے سمت تبدیل کرنے میں کوئی خاص دشواری پیش نہ آئی۔ اب چنگ کنگ کا شہر نظر آیا تھا۔ میں نے طیارے کی رفتار خاصی کم کردی۔
اچانک میری نظر ہوائی اڈے پر پڑی۔ ہانگ اور دونوں پائلٹ مجھے ننھے ننھے کیڑوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے طیارے کا رخ نیچے کی طرف موڑ دیا۔ طیارے نےاچانک غوطہ لگایا، قریب تھا کہ وہ دریا میں گر کر غرق ہوجاتا، لیکن میں نے پھرتی سے کام لیا اور ایک بار پھر موت کےمنہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔
اب میں پھر بلندی پر اڑ رہا تھا۔ میں نے شہر کا ایک چکر لگایا اور پھر دریا کے کنارے کنارے نیچے آنے لگا۔ اس بار بھی اندازہ غلط نکلا اور ہوائی اڈے کی سڑک پیچھے رہ گئی۔ لاچار طیارے کو پھر اوپر لے جانا پڑا۔ میں نے شہر کے گرد ایک اور چکر لگایا۔اب کی بار میں نے دور ہی سے طیارے کو اتارنا شروع کردیا۔ آہستہ آہستہ طیارہ ہوائی میدان کے قریب ہوتا گیا۔
اچانک جھٹکا لگا اور پہیے رن وے سے ٹکرائے، طیارہ زمین پر دوڑنے لگا۔ میں نے انجن بند کردیا۔ طیارہ سڑک سے اتر کر دور تک ریت میں دھنستا چلا گیا اور پھر رک گیا۔ طیارہ زمین پر اتار کر میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی، دونوں پائیلٹ کبھی میری طرف دیکھتے اور کبھی طیارے کی طرف۔ آخر طیارے کو صحیح سالم دیکھ کر ان کے چہروں کی رونق لوٹ آئی۔ ایک نے مجھے گھورتے ہوئے کہا ‘‘تمہارے جنون کا صحیح علاج یہ ہے کہ تمہیں فضائیہ میں پائیلٹ بھرتی کروا دیا جائے۔’’
ہانگ نے خوب مرچ مسالہ لگا کر یہ داستان کالج کے دوستوں کو جاسنائی۔ تقریباً ہفتہ بھر ہسپتال اور کالج میں میری جرات مندی اور انتہائی خطرناک کارنامے کے تذکرے ہوتے رہے۔
دو ہفتے بعد مجھے چیانگ کائی شیک Chiang Kai-Shek کی طرف سے بلاوا آگیا۔ پائیلٹوں نے یقیناً اس واقعے کی اطلاع چین کی ہوائی فوج کے اعلیٰ افسروں کو دے دی تھی۔ میں نے رضا مندی ظاہر کردی۔ اس طرح چند سال بعد میں بیک وقت تربیت یافتہ ڈاکٹر اور پائیلٹ بن گیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں چنگ کنگ کے ہسپتال میں ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کرنے لگا۔ میں عموماً شام کا کھانا کھانے کے بعد سیر کو نکل جاتا۔ ایک دن حسب معمول میں کالج سے نکل کر دریاے ینگسی کی ساحلی چٹانوں کی طرف جارہا تھا مجھے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ کوئی میرے پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا۔ مڑ کر دیکھا لیکن دور تک کوئی آدمی نظر نہ آیا۔ سورج غروب ہوچکا تھا، مگر ابھی کافی روشنی موجود تھی اور کئی فرلانگ تک کی چیزیں نظر آرہی تھیں۔ شاید مجھے وہم ہوا تھا۔ میں نے سوچا اور پھر چل کھڑا ہوا لیکن چاپ پھر سنائی دی۔ میں نے دوبارہ مڑ کر نظر ڈالی۔ تھوڑی دور ایک شخص کمر پر ہاتھ رکھے جھکے جھکے میری طرف آرہا تھا۔
جونہی قریب پہنچا، میں نے پہچان لیا۔ یہ میرا عظیم استاد منگیار تھا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا، تو میرے ہوش اڑ گئے۔ اس کی پشت میں چھرا پیوست تھا اور زخم سے خون نکل کر بہہ رہا تھا۔ میں اسے سہارا دینے کے لیے آگے بڑھا۔
‘‘لوب سانگ، مجھ سے دور رہو، میں صرف خدا حافظ کہنے آیا ہوں۔ میں تم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ رہا ہوں۔’’ میرے اتالیق منگیار نے کہا۔
‘‘میرے پیارے لوب سانگ ، دنیا کی جھوٹی قدروں کو چھوڑ کر سچائی سے آگاہ ہونے کا نام موت ہے۔ انسان مر کر ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ ابدی زندگی حاصل کرتا ہے۔ سب سے بڑی قیامت وہ ہے جو انسان خود اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ سچائی اور برائی کی قوتیں جنگ کرتی ہیں۔ سچائی جیت جائے، تو انسان ابدی زندگی پالیتا ہے اور اگر برائی غالب آجائے، تو ابدی زندگی سے محروم ہوجاتا ہے…. میں تم سے بچھڑ رہا ہوں، لیکن اگر اس عارضی فرقت کو دائمی وصل میں تبدیل کرنا چاہتے ہو، تو سچائی کا دامن تھام لو اور اپنی روح کو کٹھن اور پاکیزہ راستے پر چکا کر مجھ سے آ ملو۔ یہی میری آرزو ہے، یہی میرا پیغام ہے، کیا تم اسے پورا کروگے….؟’’
‘‘ضرور، ضرور…. میرے عظیم استاد، میں آپ کی آخری خواہش ضرور پورا کروں گا، خواہ اس میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔’’ میں نے گلوگیر آواز میں کہا۔
میرا جواب سن کر وہ مسکرائے اور پھر زمین پر لیٹ گئے ۔ میں دوڑ کر اس کے قریب پہنچا، لیکن وہاں کچھ بھی نہ تھا، البتہ تازہ خون کے چند قطرے اس زمین پتر ضرور موجود تھے۔
میں سخت حیران پریشان کانپتا ہوا واپس لوٹا۔ ہسپتال کے بڑے ڈاکٹر سے کہا کہ آج میں رات کی ڈیوٹی نہ دے سکوں گا۔ اس نے میری طبیعت مضمحل دیکھی، تو پوچھا۔ ‘‘کیا بات ہے….؟’’
میں نے تمام داستان کہہ سنائی۔ بڑے ڈاکٹر نے میری باتوں کو واہمہ قرار دیا۔ میں اس کی باتوں کا جواب دیے بغیر خاموشی سے اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔ انتہائی تھکن کے باوجود نیند نہ آئی۔ کروٹیں بدلتے بدلتے آدھی رات کے وقت ایک اور واقعہ پیش آیا۔ میرے کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ تقریباً بارہ بجے ایک کونے میں روشنی سی نمودار ہوئی جس میں لہاسا کی بڑی خانقاہ کے لامہ کا چہرہ دکھائی دیا۔ لامہ میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ اپنی روح کو بیرونِ جسم دوردراز مقامات پر لے جاکر یا پھر ٹیلی پیتھی کے ذریعے اپنے شاگردوں سے رابطہ قائم کرلیتے ہیں۔ وہ لامہ میرے قریب آیا اور بولا:‘‘میرے بیٹے، تیرھویں دلائی لامہ تھبتین گیاستو Thubten Gyatso اب اس دنیا میں نہیں رہے ، تم سے جیسے بھی ممکن ہو فوراً لہاسا پہنچو۔’’
جونہی میں بستر سے اٹھا، روشنی جاتی رہی اور ساتھ ہی لامہ کا چہرہ اندھیرے میں غائب ہوگیا۔

(جاری ہے)

[:]
اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

جیتے جاگتے زندہ ڈائنو سارز

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں   کانگو (افریقہ) کے جنگلات اور لاک نیس ...

ڈھائی ہزار برس قدیم الیکٹرک بیٹری

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     ڈھائی ہزار برس قدیم  الیکٹرک بیٹری  ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن