لوب سانگ رمپا – 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

ماورائی علوم اور روحانی صلاحیتوں کے ماہر لوب سا نگ ـ رمپا کی کہانی …. جس میں وہ لہاسا تبت میں طبیب لامہ بننے ، اپنی باطی آنکھ کھولنے اور روحانی علوم سیکھنے کے بعد چین کا سفر کرتے ہیں اور چینی اور مغربی سائنس پڑھ کر اپنے طبی تحقیق میں اضافہ کرتے ہیں، وہاں جاپانی انہیں قیدی بنالیتے ہیں لیکن اس دوران ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جاتے ہیں ۔ مگر لوب سانگ رمپا وہاں سے زندہ بچ نکلتے ہیں ۔ زیرِ نظر کہانی 1959ء میں شایع ہوئی رمپا کی کتاب ‘‘لہاساکا ڈاکٹر’’ Doctor from Lhasa، کی تلخیص ہے۔ رمپا کی یہ کتاب انٹرنیٹ پر درج ذیل لنک پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے:

https://www.lobsangrampa.org/books/en/Doctor-from-Lhasa.htm
https://www.lobsangrampa.org/books/en/Doctor-from-Lhasa.pdf

دوسری اور آخری قسط

میں نے جلدی سے کپڑے تبدیل کیے اور ہسپتال کے بڑے ڈاکٹر کی طرف روانہ ہوا۔ میں اندھیرے میں ڈوبے ہوئے برآمدے سے گزراتو قریب ہی کوئی چیز اچانک دھڑام سے گری۔ میں نے قریب ہو کر دیکھا، یہ میرا دوست لامہ جرسی Jersi تھا۔ یہ بھی تبت کا رہنے والا تھا اور چنگ کنگ کی درس گاہ میں سائنس کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔اس کا پاؤں پھسل گیا تھا اور ایک ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ درد کے مارے اس کا برا حال تھا۔
میں نے اسے اٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔ اس نے بتایا کہ لہاسا کے بڑے لامہ کی روح نے اسے بھی ٹیلی پیتھی کے ذریعے تیرہویں دلائی لامہ تھبتین گیاستو Thubten Gyatso کے مرنے کی خبر دی ہے اور فوراً لہاسا پہنچنے کا حکم دیا ہے۔
میں ہسپتال کے بڑے ڈاکٹر کے پاس پہنچا، تو پتہ چلا کہ ایسا ہی واقعہ اس کے ساتھ بھی پیش آچکا ہے، اس نے مجھے لہاسا جانے کی اجازت دے دی۔
اسی رات دو بجے کے قریب میں ہسپتال کی موٹر میں لہاسا روانہ ہوگیا۔
جب میں لہاسا پہنچا، دلائی لامہ تھبتین گیاستو اور اتالیق منگیار کی آخری رسوم ادا کی جارہی تھیں۔
دلائی لامہ دراصل ایک منگولی عہدہ ہے، تبتی زبان میں اسے گیاستوGyatso کہا جاتا ہے ۔ جس کا مطلب ہوتا ہے علم کا سمندر ….
دلائی لامہ کا خطاب سب سے پہلے منگول بادشاہ التان خان (وفات 1583) نے دیا تھا۔ بعدازاں منگولوں نے پانچویں دلائی لامہ گوانگ لوب سانگ گیاتسو ( 1617تا 1682 ) کو تبت کے روحانی اور سیاسی رہنما کا مقام دیا۔ یہ سلسلہ چلتے چلتے تیرہویں دلائی لامہ تک آن پہنچا تھا ۔ جن کی آخری رسوم ادا کرنے میں یہاں آیا ہوں۔
تبت میں بدھ مت کے پیروکاروں کی ایک شاخ گیلوگاپا (Gelug) ہے جس کے مطلب ہے پیلے ہیٹ والے۔ بودھ کی اس شاخ میں دلائی لامہ کو رحمت و شفقت کی خصوصیات رکھنے والے بدھا کے طور مانا جاتا ہے۔ گیلوگاپا (پیلے ہیٹ) کا یہ عقیدہ ہے کہ جب کوئی دلائی لامہ فوت ہونے لگتا ہے تو وہ یہ بتا دیتا ہے کہ آئندہ آنے والا دلائی لامہ کن کن نشانیوں کے ساتھ کب اور کہاں، مثلاً کس خاندان یا کس گاؤں میں پیدا ہو گا۔
ان ہدایات کے پیش نظر اہل تبت بیان کر دہ خاندان یا گاؤں کے نوزائدہ بچہ میں مطلوبہ نشانیاں دیکھتے ہیں اور پھر اُسے پوتالہ پیلس میں دلائی لامہ کی مسند اقتدار پر بٹھادیتے ہیں۔ جوان ہونے پر وہ تبت کا سربراہ اور روحانی پیشوا بن جاتا ہے ۔

تیرہویں دلائی لامہ تھُبتین گیاستو Thubten Gyatso نے شمالی تبت کے علاقے تھپکو لنگدُون میں 12فروری  1876ء میں جنم لیا تھا۔  پیدائش کے وقت ایک خاص نشان ظاہرہوا تھا جس کی بنیادپر اسے دلائی لامہ کے طورپرشناخت کیاگیا۔   انہیں  1878ء میں دو سال کی عمر میں ہی دلائی لامہ کیلئے نامزد کردیاگیا ۔ 1879ء میں انہیں پوتالہ پیلس لایاگیا۔  8 اگست 1895ء کو انہوں نے تبت کی سیاسی طاقت حاصل کرلی اور دیگر ممالک سے راہ و رسم بڑھانی شروع کردی اور تبت کی علیحدگی کیلئے برطانوی ہندوستان سے بات چیت کی ۔    8 جنوری 1913ء کوانہوں نے 5نکاتی بیان جاری کیا ۔ یہ دن تبت کا قومی دن قراردیا گیا ہے   ۔  پھر وہ تبت کی ترقی اورجدت کیلئے کوشاں ہوگئے،    1913ء میں انہوں نے پہلا ڈاک خانہ بنایا اور تبتی نوجوانوں کوانجینئرنگ کی تعلیم کیلئے برطانیہ بھیجا ۔ انہوں نے پہلی بار تبت کی کرنسی بھی جاری کی ۔ 1914ء میں انہوں نے تبت آرمی کی استعدارکار میں اضافہ کیلئے خصوصی تربیت کا آغازکیا۔ 1916ء میں ایک میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی انہوں نے 1917ء میں پولیس ہیڈکوارٹرکی بنیاد رکھی اورانگلش اسکول بھی کھولاگیا۔  تیرہویں دلائی لامہ  17دسمبر  1933ء میں 58 سال کی عمرمیں وفات پاگئے۔


لہاسا میں قیام کے دوران شاہی طبیب نے مجھ سے چینیوں کے طریق علاج کے متعلق دریافت کیا۔ جب میں نے بتایا کہ اہل چین اکثر بیماریوں کا علاج سوئی اور آگ سے کرتے ہیں، تو وہ بےحد حیران ہوئے اور پوچھا۔
‘‘وہ کیسے….؟’’
‘‘سوئی کے اس خاص طریقے میں، جسے وہ ژین جیو، یعنی ایکو پنکچرAcupuncture کہتے ہیں بال جیسی باریک سوئی جسم کے اندر بیمار مقام پر پہنچا دی جاتی ہے۔ا س طرح بیمار گوشت میں ننھے ننھے سوراخ ہوجاتے ہیں، خون کی آمدورفت شروع ہوجاتی ہے اور آدمی تندرست ہوجاتا ہے۔
آگ کا طریقہ موکسا Moxibustion ، جسے وہ جیو کہتے ہیں، بیرونی امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔ موکسا جسم کے مختلف حصوں پر حدت پہنچانے یا انہیں داغنے کا نام ہے۔ جڑی بوٹیوں میں ایک خاص آتش گیر مادہ ملا کر نلکیاں سی بنا لیتے ہیں، پھر انہیں آگ لگا کر بیمار مقام پر لگایا جاتا ہے۔ اس طرح بیمار گوشت پر دوا کا براہ راست اثر ہوتا ہے اور بیماری جاتی رہتی ہے۔ ان دونوں طریقہ علاج کا نظریہ یہ ہے کہ جسم میں توانائی کی اہم روشوں میں بندش ہو جاتی ہے داغنے یا سوئیاں لگانے سے یہ رکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔ ’’
دراصل تبتی طب میں ہر مرض کا علاج صرف اور صرف جڑی بوٹیوں سے ہی علاج کیا جاتا ہے، یا پھر مختلف مذہبی رسوم ادا کرکے ۔
تبتی طب میں نہ مالش پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور نہ ہی جراحی کی جاتی ہے۔ تبتی طب میں بیماریوں کی تین درجہ بندی کی گئی ہیں ۔ پہلی قسم مستحکم بیماریاں، جس میں جینیاتی خرابیاں اور پیدائشی نقص شامل تھے۔ ان کا علاج تبتی طب کے نقطہ نظر سے بہت ہی مشکل ہے۔ آپ اس میں مبتلا شخص کو صرف آرام مہیا کر سکتے ہیں۔
دوسری قسم ہے ماحولیاتی بیماریاں ۔ اس میں جسم میں وہ عدم توازن شامل ہیں جو کہ مختلف حالات مثلاً ماحول، آلودگی، غذا ، جراثیم وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں یہ عام بیماریاں ہیں اور تبتی طب کی زیادہ توجہ انہیں پر ہے۔
تیسری قسم فرضی بیماریوں کی ہےاور اس سے مراد ذہنی عوارض اور بیماریاں ہیں جو کہ تبتیوں کے خیال میں نقصان دہ طاقتوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس میں مایوسی اور دماغی ہیجان شامل ہیں ۔ ان بیماریوں کا علاج بنیادی طور پر مختلف رسوم کی ادائیگی کے ذریعہ کیا جاتا۔ مثلاً اگر کوئی بہت بیمار یا صدمہ میں ہو تو اُس کا رویہ اس کے مدافعتی نظام پر بہت حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص کا تمام محلہ اس کی خاطر رقص اور رسوم کی ادائیگی کرتے ہوئے ساری رات جاگے، تو اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر کوئی اس کی مدد کر رہا ہے ۔ یہ عمل اس کا حوصلہ بلند کرتا ہے جس کا اس کے مدافعتی نظام پر مثبت اثر ہوتا ہے اور اس سے مریض جلد تر شفا پاجاتا ہے۔
ماحولیاتی بیماریاں میں جسم کا معائنہ پانچ عناصر یا تین مزاجوں کے توازن کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ پانچ عناصر زمین، پانی، آگ، ہوا اور خلا ہیں۔ تبتی طب کا تین مزاجوں کا نظریہ یونانیوں اور ہندیوں جیسا ہی ہے ، مزاج جسم کے تین نظام ہیں بادی ، صفراوی اور بلغمی۔ بیماریوں کا تصور ان تینوں مزاجوں کے غیر متوازن ہونے کے سبب سے کیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان میں سے کوئی ایک یا تو بہت ایکٹیو ہے یا بہت کمزور….اور پھر جڑی بوٹیوں سے اس کا علاج کیا جاتا ہے۔
دلائی لامہ کی آخری رسوم سے فارغ ہو کر تین دن تک میں اپنے والدین کے پاس رہا اور پھر بوجھل دل کےساتھ لہاسا سے روانہ ہوگیا۔
چنگ کنگ پہنچا، تو ہانگ نے بتایا کہ جاپان نے جنگ چھیڑ دی ہے اور جاپانیوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر لوگ دھڑا دھڑ چنگ کنگ پہنچ رہے ہیں، تمام ڈاکٹروں کو فوج میں بھرتی کیا جارہا ہے۔ میں نے بھی اپنی خدمات پیش کردیں۔ مجھے فوراً چینی فوج میں کمیشن دے دیا گیا۔


میری خدمات شنگھائی Shanghai میونسپل ہسپتال کے حوالے کردی گئیں۔ جاپانیوں نے جنگ کے اصولوں کو یکسر نظر انداز کردیا تھا۔ وہ شہری آبادی پر بےتحاشا بمباری کر رہے تھے، ہسپتال زخمیوں سے کھچا کھچ بھر گئے تھے۔ چنانچہ ہمیں شہر کی پرائیویٹ عمارتوں اور اسکولوں میں عارضی ہسپتال قائم کرنے پڑے۔ مردوں کی تدفین کا کوئی انتظام نہ تھا، انہیں رات کے وقت ہسپتال سے باہر لے جاکر جلا دیا جاتا اور گوشت جلنے کی سڑاند سارے شہر میں پھیل جاتی۔ وباؤں کو روکنے اور مرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ٹھکانے لگانے کا اس کے سوا اور کوئی حل نہ تھا۔
کچھ مدت کےبعد ہم نے جرنل چیانگ کائی شیک Chiang Kai-Shek کے ذاتی حکم پر ائیر ایمپولینس سروس و ہوائی ہسپتال قائم کیے۔ اب میں مریضوں کو بھی دیکھتا اور ہوائی جہاز بھی اُڑاتا۔ شنگھائی سے چنگ کنگ تک مریضوں کی منتقلی اور ادویات سپلائی کا کام کرتا۔
ایک دن صبح سویرے مجھے ہیڈ کوارٹر میں طلب کیا گیا۔ میرا پائیلٹ دوست پوکو Po Ku وہاں پہلے سے موجود تھا۔ پتہ چلا کہ چینی فوج کا ایک جرنل چیانگ کائی شیک سے کسی خفیہ مقام پر ملنے جارہا ہےا ور ہوائی جہاز چلانے کی ڈیوٹی ہم دونوں دوستوں کو انجام دینی ہے۔
ہمیں جاپانی کیمپ کے اوپر سے گزر کر جانا تھا اور ہماری حفاظت تین لڑاکا طیاروں کے ذمہ تھی۔ لیکن میں پھر بھی اس پرواز سے مطمئن نہ تھا۔ جونہی جرنیل داخل ہوا، طیارہ روانہ ہوگیا۔ پوکو احتیاطاً طیارے کو دس ہزار فٹ کی بلندی پراڑائے لیے جارہا تھا۔

دائیں بائیں تین لڑاکا طیارے ہمارے ہمراہ تھے۔ جونہی ہم جاپانیوں کے اوپر پہنچے، ان کی طیارہ شکن توپیں آگ اگلنے لگیں، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہمیں بیسیوں طیاروں نے گھیر لیا۔ حفاظتی لڑاکا طیارے پہلےہی حملے میں تباہ ہوگئے اور ہم پر چاروں طرف سے گولیاں برسنے لگیں۔ ایک برسٹ سے طیارے میں ایک بڑا سا شگاف ہوگیا۔ دوسری بوچھاڑ سے جرنیل کے محافظ موت کے گھاٹ اتر گئے۔ میں سیٹ کے نیچے دبک گیا۔ اگلے ہی لمحے طیارہ شکن توپ کا ایک گولا لگا اور طیارے کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا۔ جرنیل کا سر پھٹ چکا تھا اور اُس جا بھیجا کھوپڑی سے باہر نکل آیا تھا۔ ادھر پائیلٹ بھی مر چکا تھا۔ بڑا ہی نازک وقت تھا۔ میں نے پوکو کی لاش کو ایک طرف دھکیلا اور طیارے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اچانک زبردست دھماکا ہوا اور طیارہ زمین سے ٹکرا گیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے ساری دنیا پاش پاش ہوگئی ہے۔
ہوش آیا، تو گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی۔ فضا میں جاپانی طیارے چکر لگا رہے تھے۔ انہوں نے کئی بار تباہ شدہ طیارے پر فائر کیے اور بم پھینکے، لیکن خوش قسمتی سے میرا جسم طیارے کے نیچے محفوظ پڑا رہا۔
میں نے ہلنے کی کوشش کی، تو ٹانگوں سے ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میرے دونوں گھٹنے اتر چکے تھے اور جسم زخموں سے چور چور تھا۔ زخموں کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے میں نے رینگنا شروع کیا اور جھاڑیوں میں چھپتا چھپاتا طیارے کے تباہ شدہ ڈھانچے سے دور گندے نالے کے کنارے پہنچ گیا۔ درد اور نقاہت کے باعث مجھ پر غشی طاری ہوگئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جاپانی سپاہی وہاں آپہنچےا ور اپنے بھاری بھرکم بوٹوں سے میری ایسی خاطر مدارت کی کہ میرے ہوش ٹھکانے آگئے۔
میں نے آنکھیں کھولیں، تو دیکھا ایک جاپانی سپاہی ٹامی گن لیے کھڑا ہے۔ وہ مجھ پر فائر کرنے ہی کو تھا کہ ا س کا ایک ساتھی بولا۔
‘‘یار، اسے کیمپ میں لے چلتے ہیں، شاید کوئی کام کی بات بتا دے۔’’
سپاہی کو یہ تجویز پسند آگئی۔ چنانچہ وہ دونوں ڈنڈا ڈولی کر کے مجھے ایک بہت بڑی عمارت میں لےآئے اور ایک تنگ سی کوٹھڑی میں بند کرکے چلتے بنے۔
مجھے اچھی طرح ہوش آیا، تو میں نے اپنے گھٹنوں کے جوڑ درست کیےا ور اپنا جبہ پھاڑ کر انہیں باندھ دیا۔ تقریباً ہفتہ بھر میں اس کوٹھڑی میں پڑا رہا۔ اس دوران کھانے کو روزانہ سوکھی روٹی کے چند ٹکڑے اور پانی کا ایک پیالہ ملتا رہا۔ آخر ایک رات کوٹھڑی کا دروازہ کھلا۔ محافظ نے مجھے سہارا دے کر نکالا اور ایک افسر کے سامنے پیش کردیا۔ اس نے پوچھا۔
‘‘تم کون ہو….؟’’
‘‘میں چینی فوج میں ڈاکٹر ہوں۔’’ میں نے مختصر سا جواب دیا۔ اس کے بعد اس نے کئی ایک سوال کیے، مگر میں چپ رہا۔ مجھے خاموش دیکھ کر افسر چراغ پا ہوگیا۔


‘‘ہم سب کچھ تم سے اگلوا لیں گے…. بدمعاش’’۔ وہ غرایا اور پھر سپاہی مجھ پر پل پڑے۔ مجھے سنگینوں کے خول اور بندوق کے کندوں سے بری طرح پیٹا، جلتے ہوئے سگریٹ میرے جسم پر بجھائے، میری انگلیوں کے درمیان جلتی ہوئی دیا سلائی رکھی، لیکن میں چپ چاپ عذاب سہتا رہا۔ افسر کا پارہ اور چڑھ گیا۔ ایک زور دار لات میرے منہ پر ماری، میرا ہونٹ پھٹ گیا اور میں اوندھے منہ فرش پر گر پڑا۔ افسر نے حقارت سے میرے منہ پر تھوکا اور چلایا۔
‘‘اسے لے جاؤ…. تھوڑی دیر بعد پھر تمہاری خبر لیتا ہوں، دیکھتا ہوں تم کب تک چپ رہتے ہو….’’
مجھے ایک بار پھر غلیظ کوٹھڑی میں بند کردیا گیا۔ تین دن تک کسی نے ادھر کا رخ نہ کیا، نہ کھانے ہی کو کچھ دیا گیا۔ چوتھے روز ایک اور افسر آیا، کہنے لگا۔
‘‘ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ تم تبت کےمعزز لامہ ہو۔ اگر چینی فوجوں کے متعلق معلومات دے دو، تو ہم تمہارے ساتھ بےحد اچھا سلوک کریں گے۔’’ اتنا کہہ کر افسر چلا گیا۔
اب جاپانیوں کا رویہ بالکل بدل گیا۔ تقریباً ہفتہ بھر میرے ساتھ بڑا اچھا سلوک کرتے رہے۔ دن میں دو بار کھانا دیتے اور بہت کم پوچھ گچھ کرتے۔
ایک روز صبح سویرے مجھے ہتھکڑی لگا کر باہر نکالا گیا۔ چند جاپانی افسر میرا استقبال کرنے کے لیے دروازے پر کھڑے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے تعظیم سے سر جھکا لیے…. پہلے تو خیال آیا شاید میرے مرتبے سے متاثر ہوچکے ہیں، مگر جلد ہی ثابت ہوگیا کہ یہ سب کچھ مجھ سے راز اگلوانے کے لیے کیا جارہا تھا۔ پہلے تو وہ لوگ بڑی عزت و احترام سے باتیں کرتے رہے، لیکن جب میں نے ان کے الٹے سیدھے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کردیا، تو گالیوں پر اتر آئے اور اندھا دھند لاتیں برسانا شروع کردیں۔ وہ مجھے مسلسل پیٹتے رہے حتیٰ کہ میرے ناک اور منہ سے خون بہنے لگا۔ آکر تنگ آکر جاپانی کرنل نے حکم دیا ‘‘اسے کوٹھڑی میں بند کردو۔’’
سپاہی مجھے کوٹھڑی میں لے گئے، میرے بازو، گردن کے گرد لے جاکر پیچھے مڑی ہوئی ٹانگوں سے اس طرح کس کر باندھ دیے کہ میرے پاؤں سر سے جالگے، پھر بندوق کے کندوں سے مجھے خوب اچھی طرح پیٹا اور چلے گئے۔
میں کئی دن تک یونہی پڑا رہا۔ کبھی کبھار کوئی سنتری آتا اور میرے منہ میں پانی کے چند قطرے اور روٹی کا سوکھا ٹکڑا ڈال کر اور چند ٹھوکریں رسید کرکے چلا جاتا۔ ان کے سوالوں کا جواب میرے پاس صرف ایک تھا ‘‘میں چینی فوج کا ڈاکٹر ہوں۔’’
ایک بار ان کے شدید تشدد کے باعث میں کئی دن بےہوش رہا۔ ہوش میں آیا، تو انہوں نے میری ٹانگیں کھول دیں۔ میرے پٹھے اکڑ چکے تھے اور بازو اور ٹانگیں شل ہوچکی تھیں۔ کافی کوشش کے باوجود میں انہیں سیدھا نہ کرسکا۔ چند سپاہیوں نے کھینچ کر میری ٹانگیں اور بازو سیدھے کیے۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی، لیکن دھڑام سے نیچے گر گیا۔ ٹانگوں نے میرا وزن اٹھانے سے انکار کردیا تھا۔ آخر وہ مجھے گھسیٹتے ہوئے کوٹھڑی سے باہر لائے۔ یہاں ایک بار پھر جاپانی افسروں سے واسطہ پڑا۔
‘‘تمہیں سب کچھ سچ سچ بتا دینا چاہیے۔’’ جاپانی کرنل نے کہا۔
‘‘جو کچھ مجھے معلوم تھا، بتا چکا ہوں۔ ’’ میں نے مختصر جواب دیا۔ کرنل کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ اس نے جاپانی زبان میں کچھ کہا۔ چند سپاہی مجھ پر پل پڑے۔ جان لیوا اذیت برداشت کرنے کے لیے میں نے خیالات کا رخ بیتے ہوئے دنوں کی طرف موڑ دیا اور اپنے عظیم اتالیق منگیار کی باتوں میں کھو گیا۔ تھوڑی دیر میں مجھے آس پاس کی کچھ خبر نہ رہی۔

لوب سانگ رمپا کی تصانیف

The Third Eye (1956)
Doctor from Lhasa (1959)
The Rampa Story (1960)
The Cave of the Ancients (1963)
Living with the Lama (1964)
You-Forever (1965)
Wisdom of the Ancients (1965)
The Saffron Robe (1966)
Chapters of Life (1967)
Beyond the Tenth (1969)
Feeding the Flame (1971)
The Hermit (1971)
The Thirteenth Candle (1972)
Candlelight (1973)
Twilight (1975)
As It Was ! (1976)
I Believe (1976)
Three Lives (1977)
Tibetan Sage (1980)۔


ہوش آیا، تو میں کوٹھڑی میں پڑا تھا۔ میرے ناک، منہ اور ہاتھ پاؤں کی انگلیوں سے خون رس رہا تھا۔ زخموں سے اُٹھنے والی ٹیسوں نے دماغ کو جلتے ہوئے چولہے میں تبدیل کر دیا تھا۔ میرا سارا جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ جونہی ہوش آیا، مجھے دوبارہ کوٹھڑی سے باہر نکالا گیا۔ میرے ناک پر ایک ہتھوڑے سے ضربیں لگائیں گئیں۔ یہاں تک کہ ناک کی ہڈی چور چور ہوگئی اور ناک کا نام و نشان مٹ گیا۔ جبڑے کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی اور میرے خدوخال بگڑ گئے۔
آخر جاپانی مجھے اذیتیں دیتے دیتے تنگ آگئے۔ ایک ہفتے تک کوٹھڑی میں نیم مردہ حالت میں پڑا رہا۔ ساتویں دن چند سپاہی آئے اور مجھے باہر لے گئے۔ اعصاب کو شکست دینے کے لیے انہوں نے مکروہ ترین کام میرے ذمہ لگا دیے۔
میں تمام قیدیوں کی گندگی صاف کرتا اور سخت گرمی میں مردہ قیدیوں کے گلے سڑے جسموں کو اکیلا دفن کرتا۔
ایک دن میرے سامنے ایک قیدی بھوک، پیاس اور گرمی کی شدت سے مرگیا۔ سپاہیوں نے اسے اٹھا کر لاشوں کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ اگلے دن دوپہر کے وقت میں اچانک لڑکھڑایا اور گر پڑا۔ میرے منہ سے جھاگ بہنے لگی اور تھوڑی دیر میں میری پتلیاں مردوں کی طرح باہر ابل پڑیں۔ میں نے سانس روک لی۔ قریب کھڑے ہوئے سپاہی نے لاپرواہی سے میری طرف دیکھا اور چلا گیا۔
مجھے تین گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔ اف! تین گھنٹے، جیسے تین سو سال بغیر آنکھیں جھپکائے اور جسم اکڑائے پڑا رہا۔ آخر وہ سپاہی اپنے ایک ساتھی کو لے کر آیا۔ مجھے خوب اچھی طرح دیکھا بھالا اور جب یقین ہوگیا کہ میرے جسم میں زندگی کی کوئی رمق نہیں، تو اٹھا کر لاشوں کے ڈھیر میں پھینک دیا۔ میں سارا دن گلی سڑی لاشوں میں پڑا رہا۔
غضب کی گرمی پڑ رہی تھی اور بدبو سے دماغ پھٹا جارہا تھا۔ شام ہوئی اور کیمپ کے محافظوں کی آمدورفت کم ہوگئی، تو میں نے اپنے اعصاب ڈھیلے چھوڑ دیے اور آرام سے سانس لینے لگا۔ سخت بدبو کے باوجود مجھے سکون محصوس ہوا۔ اندھیرا گہرا ہوا، تو میں لاشوں میں سے نکلا اور چھپتا چھپاتا خاردار تاروں کو عبور کرکے کیمپ سے دور، بہت دور نکل آیا۔ قریب ہی ایک چینی کا مکان تھا۔ وہ کئی دن تک ہسپتال میں میرے زیر علاج رہا تھا۔ میں نے اس کے دروازے پر ہولے سے دستک دی۔ مجھے دیکھ کر اس کے اوسان گم ہوگئے۔ مجھے فوراً اندر لے گیا۔ میرا مسخ شدہ چہرہ دیکھ کر اسے بےحد رنج ہوا۔ اس نے پانی گرم کیا، میرے زخم دھوئے اور مرہم پٹی کی۔ میں کئی دن تک اس مکان میں چھپا رہا۔ چلنے پھرنے کے قابل ہوا، تو اس نے مجھے کسی نہ کسی طرح چینی فوج کے ہیڈکوارٹر میں پہنچادیا۔ ان لوگوں نے مجھے فوراً ناک کے آپریشن اور علاج معالجے کے لیے چنگ کنگ کے ہسپتال میں منتقل کردیا۔
میں چنگ کنگ ہسپتال سے فارغ ہوا، تو جنرل یو نے مجھے محاذ کے عارضی ہسپتال کا انچارج بنا کر بھیج دیا۔ یہ ہسپتال شنگھائی سے چند میل کے فاصلے پر ایک کھلی جگہ واقع تھا۔ ہمارے پاس دوائیں اور آلات برائے نام تھے۔ بس مرہم پٹی ہی کی جاتی تھی۔
ایک روز بمباری نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جاپانی فوجیں ہمیں روندتی ہوئی گزر گئیں ہسپتال میں موجود تمام زخمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور عملے کو گرفتار کرلیا۔ مجھے شنگھائی کے جنگی کیمپ میں بھیج دیا گیا۔ یہاں ایک بار پھر پوچھ گچھ کا اذیت ناک سلسلہ شروع ہوا۔
آخرکار مجھے قیدیوں کا علاج معالجہ کرنے کا کام سونپ دیا گیا۔ چار مہینے بعد میں ایک اور کیمپ میں یہی کام کر رہا تھا۔ ایک روز میجر کیمپ کا معائنہ کرنے آیا۔ مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ ایک سپاہی سے کچھ کہا۔ تھوڑی دیر میں سپاہی لوٹ کر آیا، تو اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔ میجر نے فائل کھولی۔ اس میں چسپاں تصویر سے میری شکل ملائی اور چیخا۔
‘‘تم نے کیمپ سے فرار ہو کر ہمارے شہنشاہ معظم کی توہین کی ہے۔ تمہیں سنگین ترین سزا دی جائے گی۔’’
اب میرے بازوپشت پر لے جاکر ٹانگوں سے باندھ دیے گئے اور سپاہی مجھے گھسیٹتے ہوئے ایک کوٹھڑی میں لے گئے۔ دس دن کے بعد میرے ہاتھ پیر کھول دیے گئے اور کوٹھڑی سے نکال کر قیدیوں کے علاج معالجے پر لگا دیا گیا۔
ایک رات موقع پا کر میں پھر بھاگ نکلا۔ قریب ہی امریکی ریڈ کراس کے افسروں کے کوارٹر تھے۔ پہلے تو انہوں نے مجھے چھپا لیا، لیکن جب میری تلاش شروع ہوئی، تو جاپانی سپاہیوں کے حوالے کردیا۔ امریکیوں کی اس منافقت پر مجھے بہت افسوس ہوا۔
اگلی صبح مجھے کیمپ کے کمانڈنٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے سزا کے طور پر میری ٹانگیں توڑ دینے کا حکم دیا۔ فوراً حکم کی تعمیل ہوئی۔ درد کی شدت سے میں بے ہوش ہوگیا۔
ہوش میں آیا، تو میں اندھیری کوٹھڑی میں پڑا ہوا تھا۔ میری ٹانگیں سوج کر کپا بن چکی تھیں۔ آخر کوٹھری میں پڑے ہوئے بانس توڑ کر میں نے چھوٹی چھوٹی تختیاں تیار کیں اور انہیں ٹانگوں کے گرد رکھ کر باندھ دیا۔ میں وہاں کئی دن نیم مردہ حالت میں پڑا رہا۔ آخر تین ماہ بعد میری ٹانگیں ٹھیک ہوگئیں اور مجھے خطرناک قیدی قرار دے کر کیمپ میں منتقل کردیا گیا اور بیڑیاں بھی پہنا دی گئیں۔
دن گزرتے رہے ، میرے زخم مندمل ہونے لگے۔ آخر کار میں تندرست ہوگیا۔ ایک دن ایک جاپانی افسر آیا اور ایک فہرست پڑھ کر سنائی۔ اس میں میرا نام بھی شامل تھا۔ الزام یہ تھا کہ ہم خطرناک قیدی ہیں اور ہم نے شہنشا معظم کی توہین کی ہے۔
ہمیں ایک دخانی جہاز میں بٹھا کر جاپان بھیج دیا گیا۔ مجھے دوسرے قیدیوں سے الگ ایک جیل میں لے جایا گیا جہاں جاپانی افسروں نے پوچھ گچھ کی۔ میں نے اپنا وہی ایک جواب دہرا دیا۔ ‘‘میں چینی فوج میں ڈاکٹر ہوں۔’’
جاپانی افسر آپے سے باہر آگئے۔ مجھ پر پھر وہی پہلے جیسے ظلم و ستم توڑے جانے لگے۔ جب اس پر بھی جی نہ بھرا، تو انہوں نے مجھے الٹا لٹکا دیا اور میرے نیچے گھاس پھونس جمع کرکے آگ لگا دی۔ آگ کے شعلے لحظہ بہ لحظہ بلند ہوتے چلے گئے۔ میرے سر کی کھال جھلس گئی اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرا دماغ پگھل رہا ہے، پھر مجھے دنیا و مافیہا کی کچھ خبر نہ رہی۔
ہوش آیا تو میں ایک کال کوٹھڑی میں پڑا تھا۔ سر سے لے کر کندھوں تک تمام کھال جل چکی تھی اور چہرہ جھلس چکا تھا۔ جاپانی افسر میری قوت برداشت پر حیران تھے۔ وہ چند دن تک مختلف طریقوں سے راز اگلوانے پر مجبور کرتے رہے۔ آخر کار تنگ آکر مجھے موت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ کرلیا۔
مجھے اپنی قبر خود کھودنے کا حکم ملا۔ میں دن بھر بیلچہ ہاتھ میں لیے گڑھا کھودتا رہا۔ اگلے روز مجھے اس گڑھے کے کنارے ایک کھمبے کے سہارے کھڑا کردیا گیا۔ کچھ فاصلے پر چھ سپاہی رائفلیں تانے کھڑے تھے۔ اچانک آواز آئی۔

‘‘فائر’’
پھر رائفلیں حرکت میں آئیں اور ان سے نکلنے والی گولیاں میرے جسم میں دھنس گئیں اور میں چھ فٹ گہرے گڑھے میں گر گیا۔
پتہ نہیں کتنی دیر گزر گئی تھی مگر جب ہوش آیا، تو ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا اور چیخ پکار جاری تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے دنیا بھر کے درندے ایک جگہ جمع ہو کر چیخ رہے ہوں۔ گولیاں لگنے سے جسم میں نصف درجن سوراخ ہوچکے تھے اور مٹی میرے خون سے گیلی ہوچکی تھی…. دفعتاً میرے ذہن میں عظیم اتالیق منگیار کی تصویر ابھر آئی میرے کانوں میں ان کے الفاظ گونجنے لگے۔
‘‘موت ابدی زندگی تک لے جانے والے راستے کا نام ہے اور سچائی پر قائم رہ کر ہی ابدی زندگی کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے۔’’


میں اٹھ کھڑا ہوا۔ گڑھے میں گرے ہوئے ایک کھمبے کا سہارا لے کر باہر نکلا۔ چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ باہر نکل کر میں نے ایک عجیب منظر دیکھا ، میں نے دیکھا کہ کیمپ میں ہر طرف جاپانی سپاہیوں اور افسروں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ میں رینگتا ہوا ساحل کی طرف بڑھا۔ راستے میں کراہتے ہوئے ایک قیدی نے مجھے بتایا۔
‘‘ایٹم بم نے ناگا ساکی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے اور جاپان ہتھیار ڈال چکا ہے۔’’
میں اسے چھوڑ کر ساحل کی طرف بڑھا۔ خاصی دیر کے بعد بندرگارہ پر پہنچا۔
بندرگاہ سونی پڑی تھی۔ دور دور تک کوئی متنفس نظر نہ آتا تھا۔ فضا میں چاروں طرف چیلیں اور گدھ منڈلا رہے تھے۔
میں نے اپنے آپ کو ایک کشتی میں گرا دیا اور ساحل سے بندھا ہوا رسا دانتوں سے کاٹنے لگا۔ آخر دو گھنٹے کی لگاتار کوشش کے بعد رسا کاٹنے میں کامیاب ہوگیا۔ کشتی آہستہ آہستہ سمندر کی لہروں سے کھیلنے لگی۔ میں زخموں سے چور ہوچکا تھا۔ مسلسل خون بہنے کی وجہ سے نقاہت بڑھتی چلی گئی اور پھر مجھے کچھ سدھ بدھ نہ رہی۔
ہوش آیا، تو میں ایک امریکی جہاز کے ہسپتال میں پڑا ہوا تھا۔ آپریشن کے ذریعے میرے جسم سے چھ کی چھ گولیاں نکال لی جا چکی تھیں۔ ڈاکٹر مجھ پر جھکا ہوا تھا۔ مجھے ہوش میں دیکھ کر مسکرایا اور اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا۔
‘‘خطرے سے باہر ہے۔’’

 لوب سانگ رمپا اور اہرامِ مصر

اہرامِ مصر   اپنی پراسراریت    کی وجہ سے  آج بھی سائنس دانوں کے ذہنوں کو ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں، انہیں دیکھتے ہی سب سے پہلے ذہن میں یہ سوال اْبھر تاہے کہ آخر اس نادرِ روزگار اور عجوبہ عمارت کو کب اور کیوں  تعمیر کیا گیا ؟   وہ کون سی ٹیکنالوجی تھی جس کے ذریعے لاکھوں پتھروں کو پانچ سو میل سے دور لا کر تراشا گیا۔ انہیں تیس چالیس فٹ کی بلندی پر نصب کیا گیا۔

لاب سانگ رمپا اس سوال کا  جواب  اپنی کتاب ‘‘کینڈل لائٹ’’میں  اس طرح دیتے ہیں

When these pyramids were built there were many other devices on the Earth which now have been lost to Man, devices, for example, which could nullify the effects of gravity. Then one could put a sort of clamp on a huge block of stone and turn a switch and adjust a knob, and the block would rise up into the air and it could be guided to its destination.                              [Candlelight – Lobsang Rampa –  Pg : 216]

‘‘جب یہ  اہرام تعمیر کیے گئے ، تو اس وقت زمین پر انسان کے پاس بہت  سے ایسے زبردست ٹیکنالوجی والے ایسے   آلات موجود تھے جو اب گم گشتہ  ہوچکے ہیں۔ یہ   آلات، جیسے مثال کے طور ، جو کشش ثقل کے اثرات کو ضائع کر سکتے تھے۔   اس کے ذریعے پتھر کا  ایک بہت بڑا ٹنوں وزنی بلاک پر ایک قسم کا شکنجہ سا کسا جاتا تھا،  اوراسے  آلات سے سوئچ کر کے ہیں یا گرہیں  لگا کر  بلاک کو ہوا میں تیراتے ہوئے اس کی منزل کی طرف لے جاتے تھے ۔ ’’

سلسلہ عظیمیہ  کے مرشد حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی  نے بھی  اپنی تحریروں میں اہرامِ مصر اور اورا کے متعلق  لوبـ سانگـ رمپا    کی نظریات کا تذکرہ کیا ہے،   اپنی کتاب ‘‘ذات کا عرفان’’میں عظیمی صاحب تحریر کرتے  ہیں:

‘‘ایک بزرگ رمپا  RAMPAخیالات کی لہروں کے علم سے وقوف رکھتے ہیں۔ انہوں نے ماہرین آثار قدیمہ کے اصرار پر یہ انکشاف کیا ہے کہ بیس ہزار سال پہلے کے وہ لوگ جنہوں نے اہرام مصر بنائے ہیں آج کے سائنسدانوں سے زیادہ ترقی یافتہ تھے، اور وہ ایسی ایجادات میں کامیاب ہو گئے تھے جن کے ذریعے پتھروں میں سے کشش ثقل ختم کر دی جاتی تھی۔ کشش ثقل ختم ہو جانے کے بعد پچاس یا سو  ٹن وزنی چٹان ایک آدمی اس طرح اٹھا سکتا ہے جیسے پروں سے بھرا ہوا ایک تکیہ۔ اس طرح اوکلٹ سائنس کی اس دنیا میں ایک اور بزرگ جناب ایڈگر کیسی کے مطابق ان پتھروں کو ہوا میں تیرا(فلوٹ) کر موجودہ جگہ بھیجا گیا ہے۔ اہرام مصر کے سلسلے میں ان دانشور بزرگوں نے جو کچھ فرمایا ہے وہ لہروں کی منتقلی کے اس قانون کے مطابق ہے جس کو ٹیلی پیتھی کہا جاتا ہے۔ ہمارے اسلاف میں ایک بزرگ شاہ ولی اللہؒ گزرے ہیں۔ انہی بزرگ نے تحریری طور پر یہ بتایا کہ انسان کے جسم سے اوپر ایک اور انسان ہے جو روشنیوں کی لہروں سے مرکب ہے جس کا اصطلاحی نام انہوں نے نسمہ رکھا ہے اور جسے ڈاکٹر رمپا RAMPAنے اورا کا نام دیا ہے۔  شاہ ولی اللہؒ نے یہ بات واضح دلیل کے ساتھ بتائی ہے کہ اصل انسان نسمہ یعنی اورا ہے جتنی بیماریاں یا الجھنیں اور پریشانیاں انسان کو درپیش ہوتی ہیں وہ نسمہ میں ہوتی ہیں۔ گوشت پوست سے مرکب خاکی جسم میں نہیں ہوتیں۔ البتہ نسمہ کے اندر موجود کسی بیماری یا پریشانی کا مظاہرہ جسم پر ہوتا ہے ۔  بالفاظ دیگر اگر نسمہ کے اندر سے بیماری کو نکال دیا جائے تو جسم خود بخود صحت مند ہو جائے گا۔ خیالات پرسکون زندگی کا پیش خیمہ ہیں۔ اس کے برعکس اضمحلال، پریشانی، اعصابی کشاکش، دماغی کشمکش اور نت نئی بیماریاں خیالات میں پیچیدگی، پراگندگی اور تخریب کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ ٹیلی پیتھی چونکہ انفارمیشن، خیالات یا اطلاع کو جاننے کا علم ہے اس لئے یہ علم سیکھ کر کوئی آدمی خود بھی الجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہتا ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

[ کتاب ‘‘ذات کا عرفان’’ ، از  خواجہ شمس الدین عظیمی : صفحہ 113، 233-234]

 [:]

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

ہزاروں مردہ پرندوں اور مچھلیوں کی پُراسرار بارش ۔ عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں      2011ء کانیا سال شروع ہونے میں ...

سرکتے پتھر – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     کئی صدیوں سے سائنس اس حیران ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے