روحانی ڈائجسٹ / گوشۂ ادب / عالمی ادب / تلاش (کیمیاگر) قسط 2

تلاش (کیمیاگر) قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، حصولِ مقصد کی راہ میں حائل مشکلات، رکاوٹیں نہیں بلکہ آزمائش ہوتی ہیں، جب انسان کےدل میں کوئی خواہش سراٹھاتی ہے اور وہ کسی چیز کو پانے کی جستجو اور کوشش کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے کہ اس کی یہ خواہش پوری ہو ۔ اگر لگن سچی ہو تو خدا کی اس کائنات میں بکھری نشانیاں اِس جدوجہد کے دوران راہنمائی اور معاونت کرتی نظر آتی ہیں۔
کیمیاگر (الکیمسٹ Alchemist ) برازیلی ادیب پاؤلو کویلہو Paulo Coelho کا شاہکار ناول ہے، جس کا دنیا کی 70 زبانوں میں ترجمہ ہوا ۔ اس ناول نے فروخت کےنئے ریکارڈ قائم کرکے گنیز بک میں اپنا نام شامل کیا۔ اس کہانی کے بنیادی تصوّرات میں رومی، سعدی اور دیگر صوفیوں کی کتابوں اور فکرِ تصوّف کی جھلک نظر آتی ہے۔
کیمیا گر ، اندلس کے ایک نوجوان چرواہے کی کہانی ہے جو ایک انوکھا خواب دیکھتا ہے جس کی تعبیر بتائی جاتی ہے کہ اسے کوئی خزانہ ضرورملے گا ۔ وہ خزانے کی تلاش میں نکلتا ہے اور خوابوں، علامتوں کی رہنمائی میں حکمت اور دانائی کی باتیں سیکھتے ہوئے ، افریقہ کے صحراؤں میں اس کی ملاقات ایک کیمیاگر سے ہوتی ہے ، یہ کیمیا گر خزانے کی تلاش کے ساتھ انسانی سرشت میں چھپے اصل خزانے کی جانب بھی اس کی رہنمائی کرتا ہے….

دوسری قسط

گزشتہ قسط کا خلاصہ : یہ کہانی اسپین کے صوبے اندلوسیا کی وادیوں میں پھرنے والے نوجوان چراوہے  سان تیاگو کی ہے ،جو  اپنی بھیڑوں کے گلّہ کے ساتھ ایک قدیم اور ویران گرجا گھر  میں رات گزارنے کی خاطر رُکتا ہے۔     وہاں اُسے ایک عجیب  خواب نظر آتا  ہے  اور  ادھورے خواب میں  ہی اُس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔  وہ اپنے بارے میں سوچتا ہے  کہ دو  سالوں سے  وہ  ان بھیڑوں کے ساتھ اندلوسیا کی وادیوں میں پھررہا  ہے، وہ ان بھیڑو ں سے مانوس ہوچکا ہے کہ  ہر بھیڑ کو ایک نام دے رکھا ہے  اور اُن سےباتیں کرتا ہے ۔    اکثر اوقات وہ اُن کے درمیان بیٹھ کر کتابوں کے کچھ حصے پڑھ کر  اُنہیں سنایا کرتا جیسے وہ ان کو سمجھ رہی ہوں ۔ لیکن گزشتہ چند دنوں سے بھیڑوں  سے  وہ صرف تاجر کی بیٹی کے متعلق بات کررہا ہے،   جس سے وہ پچھلے  سال ایک گاؤں میں ملا تھا ،  اور اب اُس کا گاؤں قریب تھا۔     اس کا ارادہ  تھا کہ گاؤں پہنچ کر وہ لڑکی کو  اپنے بارے میں بتائے گا کہ کس طرح  اس معمولی چرواہے نے پڑھنا سیکھا تھا۔ وہ سولہ سال کی عمر تک ایک درسگاہ  میں پڑھتا تھا ، اس کے ماں باپ کی خواہش  تھی کہ وہ ایک راہب بنے  لیکن بچپن ہی سے اُسے سفرکر کے دنیا کو جاننے کا شوق تھا۔   اس نے ہمت کرکے اپنے ماں باپ کے سامنے اپنی اِس خواہش کا اظہار کیا ، بحث و تکرار کے بعد بالآخر باپ نے ہار مان لی اور تین قدیم اندلسی طلائی سکے دے کر روانہ کردیا  …. اب آگے پڑھیں …………

….(گزشتہ سے پوستہ)
دُور فلک پر شفق کی سرخی پھیلنے لگی، پھر وہ لمحہ آیا کہ سورج اپنی کرنوں کے ساتھ نمودار ہوا اور رو شنی ہر طرف پھیل گئی۔
لڑکے کو اپنے باپ کے ساتھ کی گئی بات چیت یاد آ رہی تھی، لیکن وہ خوش اور مطمئن تھا، کیونکہ اُس نے بہت سے مَحلات اور مقامات دیکھ لئے تھے اور وہ بہت سے لوگوں سے بھی ملا تھا۔ ان میں عورتیں بھی تھیں (لیکن ان میں کوئی بھی اس لڑکی جیسی نہ تھی جس سے ملنے کاوہ انتظار کررہا ہے)۔
ایک جیکٹ ، اور ایک ایسی کتاب ، جس کے بدلے وہ دوسری کتاب لے سکتا تھا اور بہت سی بھیڑوں کا ایک گلّہ ہی اُس کی کل کائنات تھی۔ لیکن اس کے لیے ان سب سے بڑھ کر یہ چیز اہم تھی کہ اب وہ آزاد تھا۔ وہ اپنے ہر خواب کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے ہر روز ہمہ وقت مستعد اور تیار رہتا ۔ وہ اپنے خوابوں کے بارے میں سوچتا رہتا کہ اگر میں یہاں گھوم پھر کر اُکتا گیا اور اندلس کے میدانوں سے میرا دل بھرگیا تو تمام بھیڑوں کو بیچ کر میں کسی روز سمندر کی طرف نکل جائے گا۔
اور اگر سمندروں کو بھی چھوڑنا پڑا تو کیا ہو گا….؟؟ ، اُس وقت تک تو جانے کتنے شہروں کو دیکھ چکا ہوں گا اور کتنے ہی لوگوں سے مل چکا ہوں گا اور اسے خوشی کے کئی اور مواقعے بھی مل چکے ہوں گے۔ اُس کے خیالات بھٹکتے رہے۔
جب اُبھرتے ہوئے سورج پر اُس کی نظر پڑی تو اُس کے ذہن میں ایک خیال اور آیا۔ اگر میں اپنے گاؤں اور وہاں کے مدرسہ میں ہی رہ رہا ہوتا تو شاید خالق اور اس کی خلقت کو کبھی جان نہیں پاتا ۔
اب جب بھی اُس کا جی چاہتا وہ کسی نئے راستہ کا انتخاب کرتا اور اُس طرف چل پڑتا۔
اس ویران گرجاگھر کے اندر وہ کبھی نہیں آیا تھا ۔ حالانکہ وہ اس راستہ سے متعدد بار گزر چکا تھا لیکن اس جانب کبھی متوجہ نہیں ہوا تھا۔ یہ دنیا تو بے انتہا وسیع اور لامتناہی ہے کہ اُس کی سیاحت کبھی ختم ہی نہ ہو پائے گی۔ بس بھیڑوں کو ایک نئے راستہ پر ڈالنے کی دیر ہوتی ہے۔ پھر آپ نئی دنیا دریافت کرتے ہیں اور آپ کے سامنے نئی اور دلچسپ کائنات عیاں ہوتی چلیجاتیہے ۔
لیکن ان بھیڑوں کے ساتھ بھی عجیب مسئلہ ہے۔ اُنہیں تو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ ہر روز جس راہ سے گذررہی ہیں وہ نئی ہے یا پُرانی ۔ نہ اُنہیں یہ معلوم ہوتا کہ موسم میں کیا کچھ بدل گیا ہے۔ بس اُن کی سوچ تو پانی اور چارے تک ہی محدود ہے۔لیکن وہ سوچتے سوچتےچونکگیا۔
شاید ہم انسان بھی تو ایسے ہی ہیں۔ اب مجھ کو ہی دیکھ لو ۔ میں جب سے تاجر کی بیٹی سے ملا ہوں اُس کے علاوہ کسی اور عورت کا خیال دل میں آتا ہی نہیں۔ اس نے سورج پر نظر ڈالی اور اندازہ لگایا کہ دوپہر تک وہ طریفا Tarifa پہنچ جائے گا۔
وہاں پہنچ کر پہلے وہ اس پرانی کتاب کے بدلے ایک نئی موٹی کتاب لے سکے گا، اپنے مشکیزے میں تازہ پانی بھی حاصل کر لے گا۔ نائی سے خط بنوا کر اور بال ترشوا کر وہ تاجر کی لڑکی سے ملنے کے لئے تیار بھی ہو جائے گا۔ لیکن اُس وقت وہ یہ خیال دِل میں لانے کے لئے ہرگز تیار نہیں تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اب تک کوئی مجھ سے زیادہ بھیڑیں رکھنے والا چرواہا وہاں آچکا ہو اور اُس نے لڑکی کے باپ سے اُس کا ہاتھ مانگ لیا ہو۔
یہ خوابوں کے حقیقت میں بدل جانے کی اُمید ہی تو دراصل زندگی کو دلچسپ اور خوبصورت بناتی ہے…. اُس نے سورج کی بڑھتی ہوئی تمازت دیکھتے ہوئے اپنے قدموں کی رفتار بھی بڑھا دی۔
اچانک اُسے خیال آیا کہ طریفا میں ایک خانہ بدوش بوڑھی عورت بھی رہتی ہے، جو خوابوں کی تعبیر بتاتی ہے۔

***

طریفا ، اسپین کے جنوبی ساحل پر بحیرہ روم کے کنارے، اندلوسیا کے صوبے قادس Cadizمیں واقع ہے۔ یہ کبھی ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بندرگاہ ہواکرتی تھی۔عرب لوگ اس شہر کو ‘‘جزیرۂ طریف’’ کہتے ہیں کیونکہ 710 ء میں مسلمانوں کے اسپین پر قبضہ سے قبل، افریقا کے اموی گورنر موسیٰ بن نصیر نے اپنے بربر غلام طریف بن مالک کو صرف پانچ سو سواروں پر مشتمل ایک دستہ کے ساتھ اسپین روانہ کیا تھا۔ یہ دستہ ساحلی علاقوں پر حملہ آور ہوکر فتح مند واپس لوٹا۔ اس حملہ سے اسپین کی داخلی کمزوری اور نظام عسکری کی خامیوں کا پتہ چلا اور پھر موسیٰ بن نصیر کے دوسرے غلام طارق بن زیاد نے جبرالٹر میں اتر کر اسپین کی سرزمین کو مکمل فتح کیا ۔
طریف بن مالک اسپین کے جس ساحل پر اترا تھا ، وہاں اس کے نام سے ایک شہر آباد ہوا، جسے جزیرۂ طریف کہا جانے لگا اور یہی شہر آج طریفا Tarifaکے نام سے مشہور ہے۔

***

خانہ بدوش بوڑھی عورت لڑکے کو اپنے مکان کے عقب کے حصہ میں رہائشی کمرے سے متصل واقع ایک کمرہ میں لے گئی، موتیوں سے پرو کر بنایا ہوا ایک پردہ اس کمرے کو رہائشی کمرے سے الگ کرتاتھا۔
وہ بوڑھی عورت کرسی پر بیٹھ گئی اور لڑکے کو بھی ٹھیک سے بیٹھنے کو کہا۔ پھر اس عورت نے اپنے ہاتھ میں لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور خاموشی سے کوئی مخصوص دعا پڑھنے لگی۔
یہ خانہ بدوش جپسیوں کی زبان میں کوئی دعا تھی۔ لڑکے نے اس سے قبل بھی سڑکوں پر آتے جاتے خانہ بدوش بنجاروں کو اکثر کچھ ایسا ہیپڑھتے سنا تھا۔
خانہ بدوش بنجارے بھی چرواہوں کی طرح ہی سفر کرتے ہیں ، بس فرق یہ ہوتا ہے کہ اُن کے پاس بھیڑوں کا گلّہ نہیں ہوتا تھا۔
لوگ کہتے ہیں کہ خانہ بدوش بنجارے ٹھگ ہوتے ہیں، اپنی پوری زندگی لوگوں کو بیوقوف بنا کر دھوکہ دیتے اور اپنا کام چلاتے ہیں۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اُنہوں نے شیطانوں سے معاہدہ کر رکھا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خانہ بدوش بنجارے بچوں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ پراسرار کیمپوں میں لے جاتے ہیں اور انہیں اپنا غلام بنالیتے ہیں۔
اس نے بچپن میں سن رکھا تھا ، اکثر مائیں بچوں کو خانہ بدوشوں کا نام لے کر ڈرایا کرتی تھیں کہ وہ اُنہیں لے کر بھاگ جائیں گے۔ بچپن میں وہ بھی خانہ بدوشوں سے بہت خوف کھاتا تھا۔ جب اُس عورت نے لڑکے کا ہاتھ پکڑا تو وہی بچپن کا خوف اُس پر طاری ہو نے لگا تھا۔
لیکن یہ بُری عورت نہیں ہوسکتی۔ اُس نے اپنے خوف کو کم کرنے اور اپنے آپ کو یقین اور دلاسا دینے کے لیے سوچا ۔


اگر خوف سے اُس کے ہاتھ میں کپکپاہٹ پیدا ہوئی تو عورت پر اُس کا ڈر واضح ہو جائے گا۔ وہ دِل ہی دِل میں دعائیں پڑھنے لگا….
‘‘بہت ہی دلچسپ….’’
خانہ بدوش عورت لڑے کے ہاتھوں پر نظریں جماتے ہوئے بولی اور پھر خاموش ہو گئی۔
لڑکا کچھ مضطرب ہونے لگا جس کی وجہ سے اُس کا ہاتھ کانپنے لگا۔ اور خانہ بدوش عورت نے اُس کی گھبراہٹ محسوس کر لی۔ لڑکے نے یک دم تیزی سے اپنے ہاتھ کھینچ لیے اور ذرا سراسمیگیسےبولا:
‘‘میں یہاں تمہارے پاس اپنی ہتھیلیوں کی لکیریں پڑھوانے نہیں آیا ہوں ….’’
آخر میں اِس خانہ بدوش عورت کے پاس آیا ہی کیوں….؟، اُس نے تاسّف سے سوچا۔
پھر ایک لمحے کے یے اُسے خیال آیا کہ اُس خانہ بدوش عورت کو اس کی اُجرت دے کر خواب کی تعبیر جانے بغیر واپس چلا جاؤں۔ میں ہی شاید اپنے اس عجیب خواب کو ضرورت سے زیادہ اہمیتدے رہا ہوں۔
‘‘تم اپنے خوابوں کی تعبیر جاننے کے لئے آئے ہو ناں۔’’ بوڑھی عورت دوبارہ گویا ہوئی
‘‘خواب دراصل قدرت کی زبان ہوتے ہیں جن کے ذریعہ قدرت بعض اوقات اپنا پیغام انسانوں تک پہنچاتی ہے۔ اگر یہ پیغام ہماری زبان میں ہے تو میں اُس کی تعبیر آسانی سے بیان کر سکتی ہوں لیکن اگر وہ روح کی زبان میں پیغام دیتا ہے تو اُس کا مفہوم وہی سمجھ سکتا ہے جس کو یہ پیغام بھیجا گیا ہوگا۔ اگر تمہارا خواب روح کی زبان میں ہوا تو تم کو خود ہی مطلب اخذ کرنا ہو گا….خیر تعبیر جو کچھ بھی ہو لڑکے، تمہیں میری مشاورت کی اُجرت تو دینا ہی ہو گی۔’’


‘‘ہے نا چالاکی اِس خانہ بدوش عورت کی…. اسی طرح یہ لوگوں کو ٹھگتے ہیں’’…. لڑکے نے سوچا ، پھر بھی چلو دیکھتے ہیں۔ جب اُجرت دینی ہی ہے تو پھر خواب بتا کر ہی دینا چاہیے۔
اس نے بوڑھی عورت کو ایک موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ ویسے بھی چراہوں کو زندگی میں ایسے کئی مواقع پُرخطر فیصلہ لینے ہی پڑتے ہیں۔ کبھی بھیڑیوں کا خوف اور کبھی خشک سالی اور اور قحط کا خدشہ اور شاید اِنہیں خدشات میں زندگی کا لطف چھپا ہے۔’’
‘‘میں نے ایک ہی خواب دو بار دیکھا ہے ۔’’ لڑکے نے بتانا شروع کیا۔
‘‘میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنی بھیڑوں کے ساتھ ایک میدان میں ہوں کہ اچانک ایک بچہ نمودار ہوتا ہے اور میری بھیڑوں کے ساتھ کھیلنے لگتا ہے۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں کہ کوئی میری بھیڑوں کو پریشان کرے کیونکہ میری بھیڑیں اجنبیوں سے خوف محسوس کرتی ہیں، لیکن ناجانے کیوں میری بھیڑیں بچوں سے بالکل نہیں ڈر تیں۔
میری سمجھ میں اب تک نہیں آیا کہ آخر بھیڑیں انسانوں کی عمروں کا اندازہ کیسے کرلیتی ہیں۔’’
‘‘مجھے صرف اپنے خواب کے بارے میں بتاؤ،’’ عورت ذرا تلخی سے بولی۔‘‘ مجھے ابھی جاکر کھانا بھی بنانا ہے اور شاید تمہارے پاس پیسے بھی کم ہی ہیں، میرے پاس تمہاری باتیں سننے کے لیےزیادہ وقت نہیں ہے۔’’
لڑکا تھوڑا سا شرمندہ ہو ا۔پھر اپنا خواب بیان کرتے ہوئے بولا۔
‘‘تھوڑی دیر تک تو وہ بچہ میری بھیڑوں کے ساتھ کھیلتا رہا۔ لیکن پھر اچانک اُس نے میرے دونوں ہاتھوں کو پکڑا اور یکایک مجھے مصر کے قدیم اہرام تک پہنچا دیا۔’’


لڑکا ایک لمحہ کے لیے خاموش ہوا، یہ جاننے کے لیے کہ کہیں مصر کے اہرام کا لفظ اُس خانہ بدوش بوڑھی عورت کے لئے اجنبی تو نہیں، لیکن عورت خاموشی سے اس کی بات سن رہی تھی۔
‘‘پھر مصر کے اہرام میں ….’’ لڑکے نے ایک بار پھر مصر کے اہرام کے تین الفاظ ذرا زور دیتے ہوئے دہرائے تاکہ بوڑھی عورت سمجھ سکے اور کہنے لگا کہ :
‘‘پھر اس بچے نے مجھ سے کہا کہ اگر تم اِس جگہ آئے، تو تم یہاں ایک پوشیدہ خزانہ پاؤ گے۔ لیکن جیسے ہی وہ بچہ خزانہ کے درست مقام کی نشاندہی کرنے جا ہی رہا ہوتا ہے ، کہ میری آنکھ کھل جاتی ہے’’
دوسری بار بھی یہی خواب دیکھتے ہوئے ایسے ہی موقع پر میری آنکھ کھل گئی تھی۔
خانہ بدوش عورت تھوڑی دیر خاموش رہی۔ پھر دوبارہ لڑکے کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے احتیاط سے دیکھنے لگی ۔ پھر بولی۔
‘‘فی الحال میں تم سے کوئی اُجرت نہیں لوں گی، لیکن اس تعبیر کے عوض اگر تم خزانہ ڈھونڈ لیتے ہو تو اُس کا دسواں حصہ مجھے دینا پڑے گا۔’’
لڑکا ہنس پڑا….اس کی ہنسی میں ایک قسم کی خوشی بھی شامل تھی کہ چلو اچھاہوا خزانہ کے خواب کی وجہ سے ، کم از کم ابھی اِس کی رقم توبچگئی۔
‘‘ٹھیک ہے، مجھے خواب کی تعبیر تو بتاؤ’’ لڑکے نے پوچھا۔
‘‘نہیں سب سے پہلے، تم قسم کھاؤ کہ جو کچھ میں تمہیں بتاؤں گی اُس کے عوض تم خزانہ کا دسواں حصہ مجھے ضرور دو گے۔’’
لڑکے نے فوراً قسم کھا کر وعدہ کیا کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔ لیکن اُس عورت نے کہا کہ
‘‘تم دوبارہ قسم کھاؤ۔’’
جب لڑکے نے دوبارہ قسم کھالی تو وہ خانہ بدوش بوڑھی عورت بولی کہ ‘‘یہ خواب ہماری دنیا کی زبان ہی میں ہے اُس لیے میں اس کی تعبیر کرسکتی ہوں، لیکن چونکہ اس خواب کی تعبیر بہت مشکل ہے اِس لئے میں خزانہ کا دسواں حصہ تم سے مانگ رہی ہوں۔’’
‘‘اچھا سنو !…. میرے مطابق اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم مصر کے اہرام ضرور جاؤ گے….، اگر چہ میں نے ان کے بارے میں کبھی نہیں سُنا کہ یہ کہاں ہے، لیکن اگر خواب میں اس بچے نے اُن کودکھایا ہے تو سمجھ لو کہ وہ واقعی موجود ہیں اورتمہیں وہاں خزانہ ملے گا جو تمہیں دولت مند بنادے گا۔’’
لڑکا جو پہلے تو حیرت اور غور سے اس عورت کی باتیں سن رہا تھا، اب چڑچڑا سا گیا۔ لیکن وہ اپنی جھنجھلاہٹ عورت پر واضح نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اُس نے سوچا کہ کیا بے وقوفی ہے ۔ اس میں نئی بات کیا ہے، یہ بات تو خواب سے ویسے ہی واضح ہورہی ہے۔ اس میں اس بوڑھی عورت کا کیا کارنامہ….؟ لیکن پھر وہ یہ سوچ کر مطمئن ہوگیا کہ اچھا ہوا مجھے پیسے نہیں دینے پڑیں گے۔
‘‘مجھے اس بات کے لئے اپنا وقت برباد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں….‘‘لڑکے نے کہا۔
‘‘میں نے بتایا ناں کہ تمہارے خواب کی تعبیر تھوڑی مشکل ہے اور بعض اوقات زندگی میں بظاہر عام سی نظر آنے والی باتیں بھی انتہائی غیر معمولی ثابت ہوتی ہیں۔ صرف ذہین، صاحبِ فہم و بصیرت انسان ہی ان کو سمجھ پاتے ہیں ۔ عقل مند لوگ بھی اُن کو نہیں سمجھ پاتے۔میں اتنی ذہانت اور بصیرت نہیں رکھتی ، اِسی لئے صرف ہاتھ کی لکیریں پڑھنے کا ہنر سیکھ کر کام چلا رہی ہوں۔’’
‘‘اچھا یہ تو ٹھیک ہے ، یہ تو بتاؤ کہ میں وہاں تک کیسے پہنچوں گا۔’’ لڑکے نے سوال کیا۔
‘‘میں تو صرف خوابوں کی تعبیر بتا سکتی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اُنہیں حقیقت میں کس طرح تبدیل کیا جائے، اگر میں اس قابل ہوتی تو اس طرح یہاں کسمپرسی میں اپنی بیٹیوں کی مدد پرگزارا نہیں کررہی ہوتی ۔‘‘
‘‘اور اگر میں مصر کبھی نہیں جا سکا تو….’’
‘‘ظاہر ہے کہ مجھے میری رقم نہیں مل پائے گی اور میرے ساتھ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہو گا۔’’
اب خانہ بدوش بوڑھی عورت نے اس لڑکے سے جانے کو کہا کیونکہ اس نے پہلے ہی اس کا بہت زیادہ وقت ضائع کروادیا ہے۔


***

خواب کی تعبیر سننے کے بعد، لڑکا خاصا دل شکستہ اور مایوس ہوگیا تھا ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ کبھی بھی خوابوں کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لے گا اور نہ خوابوں پر یقین نہیں کرے گا…. پھر اچانک اسے یاد آیا کہ طریفا میں اسے آج بہت سارے کام کرنے تھے …. وہ فوراً بازا ر گیا تاکہ اپنے کھانے پینے کا بندوبست کرسکے، پھر اپنے پرانی کتاب کے بدلے نئی اور قدرے موٹی کتاب خرید ی اور بازار کے مرکز میں عوامی چوک میں رکھی ایک بنچ پر بیٹھ گیا۔
دھوپ کی شدّت کی وجہ سے دِن خاصا گرم تھا اور وہ مشروب نکال کر پینے لگا، جس سے اُ سے تازگی اور فرحت محسوس ہوئی۔ بھیڑوں کا گلّہ شہر کے داخلی دروازے پر ایک دوست کے اصطبلمیں تھا۔
طیفا شہر میں اس لڑکے کے کئی دوست تھے۔ دوستی کرنا اُس کا محبوب مشغلہ تھا اور شاید اِسی لئے سفر کرتے رہنے میں اور نئے دوست بنانے میں اُسے مزہ بھی آتا تھا۔ لیکن وہ ایک ہی دوست کو زندگی بھر یا ہر وقت برتنے کا قائل نہیں تھا۔ ہر روز ایک ہی جیسے چہرے نظر آئیں یہ اُس کو پسند نہ تھا۔ درس گاہ میں تعلیم کے دوران بھی اُسے ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا تھا۔
اگر آپ روز کسی ایک شخص کے ساتھ زندگی، گزارنے لگیں ، تو وہ شخص آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے ۔ پھر وہ شخص آپ کو اپنے حساب تبدیل کرنا چاہتا ہے اور جب کوئی دوسروں کی توقعات پر پورا نہ اتر پائے تو ظاہر ہے کہ خود بخود ناراضیاں اور دوریاں بڑھنے لگتی ہیں۔ اس طرح زندگی کا لطف بھی متاثر ہوتا ہے اور دوستی بھی….
یوں تو ہر شخص رائے رکھتا ہے کہ دوسروں کو کیسے رہنا چاہیے اور لوگ اپنی زندگی کیسے گزاریں، مگر خود ان کی اپنی زندگی کیسی ہو اور ان کا برتاؤ دوسروں کے ساتھ کیسا ہو ، یہ کسی کو خیال نہیںآتا۔
وہ سوچتا رہا …. اس نے آسمان کی جانب دیکھا سورج کی تمازت میں ابھی بھی شدت تھی، جب تک سورج قدرے ڈھل نہ جائے، اس نے انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ تھوڑی دیر میں گلّہ کو لے کر وہ اپنی راہ لے گا۔ بس اب تاجر کی بیٹی تک پہنچنے میں تین ہی دن تو بچے تھے۔
اُس نے خریدی ہوئی نئی کتاب کھول کر پڑھنا شروع کر دی۔ پہلے صفحہ پر کسی رسمِ تدفین کا احوال تھا۔ جس میں شریک لوگوں کے ناموں کا تلفّظُ خاصا مشکل تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ اگر اُسے کبھی کوئی کتاب لکھنے کا موقع ملا تو وہ ایک وقت میں صرف ایک ہی نام کا تذکرہ کر دے گا تاکہ پڑھنے والوں کو ڈھیر سارے نام یاد رکھنے میں دِقّت نہ ہو۔
آخر کار یکسوئی سے تھوڑی دیر پڑھنے کے بعد اُس کی دلچسپی بڑھتی گئی اور کتاب اُسے پسندآنےلگی۔
تدفین کے دن برف باری ہو رہی تھی۔ یہ پڑھتے ہوئے گرم دھوپ میں اسے ٹھنڈک کا پرلطف احساس پیدا ہوا۔ ابھی وہ پڑھنے میں محو ہی تھا کہ ایک ضعیف شخص اُس کے قریب آ کر اس طرح بیٹھ گیا جیسے اس سے کچھ پوچھنا چاہتا ہو۔

بوڑھے نے بازار کے اس چوک میں آتے جاتے لوگوں کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
‘‘یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟….’’
‘‘اپنے اپنے کام کر رہے ہیں۔ ’’لڑکے نے انتہائی روکھے لہجے میں مختصر جواب دے کر بوڑھے کو ٹالنا چاہا یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ ابھی کتاب پر زیادہ توجہ دینا چاہتا ہے ۔ جبکہ حقیقتاً وہ تاجر کی لڑکی کے تصوّر میں محو تھا اور سوچ رہا تھا کہ اس بار وہ تاجر کے پاس پہنچ کر بھیڑوں کے اون لڑکی کے سامنے ہی اُتارے گا۔ تاکہ لڑکی اُس کی صلاحیتوں سے متاثر ہو اور سوچے کہ اتنا مشکل کام کتنی آسانی سے کر لیتا ہے۔ وہ چشم تصور میں کئی بار اسی منظر کو دہرا چکا تھا ، ہربار جب وہ لڑکی کو بتاتا ہے کہ اون نکالنے کے لئے بھیڑ کے اون پیچھے سے آگے کی طرف کاٹے جاتے ہیں تو لڑکی اُس کی معلومات اور طریقے کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتی ہے۔ اُس نے بھیڑوں اور چرواہوں کے متعلق کچھ کتابوں میں پڑھ کر کہانیاں اور واقعات بھی یاد کرلئے تھے لیکن اب یہ کہانیاں وہ لڑکی کو اس طرح بتائے گا کہ جیسے یہ واقعات خود اُس کے ساتھ گزرے ہوں۔ لڑکی تو پڑھی لکھی ہے ہی نہیں ، اُسے حقیقت کا پتہ کہاں چل سکے گا۔


وہ سوچتارہا، لیکن اِس دوران بوڑھا مستقل اُسے متوجّہ کرکے بات کرنے کی کوشش کرتا رہا۔
پھر اس بوڑھے نےاُس نے لڑکے سے کہا کہ میں بہت تھک گیا ہوں اور پیاس بھی لگی ہے۔ اس نے مشروب مانگا۔ لڑکے نے اسے بوتل تھمادی، یہ سوچ کر کہ شاید اب بوڑھا خاموشی سے چلا جائے گا اور اُسے تنہا چھوڑ دے۔
لیکن وہ اجنبی بوڑھا ضد کا پکا تھا اور اس سے باتیں کرنا چاہتا تھا ، ‘‘کون سی کتاب ہے؟’’۔
لڑکا جھلّا گیا ، اور چاہا کہ اُس جگہ سے ہٹ کر کہیں اور جابیٹھے مگر یہ اسے غیر مہذب لگا، اُسے والد کی نصیحت یاد آ گئی کہ بزرگوں اور ضعیفوں کا احترام کرنا چاہیے۔ چنانچہ اُس نے کتاب بوڑھے کی طرف بڑھا دی۔اس کی دو وجوہات تھیں:
ایک وجہ تو یہ تھی کہ لڑکا خود ہی کتاب کے نام کے عنوان کا صحیح تلفظ نہیں جانتا تھا، اور دوسری یہ کہ اگر یہ اجنبی بوڑھا پڑھنا نہ جانتا ہو گا تو خود ہی شرمندہ ہو کر یہاں سے ہٹ کر دوسری بنچ کر جانے کا فیصلہ کرلے گا۔
‘‘ہمم ….’’ بوڑھے نے کتاب کو الٹ پلٹ کر ایسے دیکھا، جیسے یہ کوئی عجیب و غریب چیز ہو اور پھر بولا:
‘‘یہ کتاب ہے تو ٹھیک ٹھاک، لیکن تھوڑی خشک سی ہے اور پڑھتے ہوئے دقّت محسوس ہوتی ہے۔’’
یہ سن کر لڑکا کو دھچکا لگا اور حیرت بھی ہوئی کہ یہ بوڑھا تو نہ صرف پڑھ سکتا تھا بلکہ اُس کتاب کو پہلے ہی پڑھ چکا تھا۔ لڑکے نے سوچا کہ اگر یہ کتاب واقعی خشک اور الجھا دینے والی ہے تو ابھی بھی وقت ہے، میں یہ کتاب تبدیل کردیتاہوں۔
‘‘اِس کتاب میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہی کچھ ہے جو دنیا کی دوسری کتابوں میں ہے ’’۔ بوڑھے نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا،
‘‘اِس کتاب کا مرکزی خیال یہی بتاتا ہے کہ انسان اپنی منزل مقصود کو پانے کی کوشش میں کس طرح قسمت کے ہاتھوں بے بس ہوجاتے ہیں، اور اس کتاب کا انجام اس کہاوت پر ہوا ہے کہ ہر انسان دنیا کے سب سے بڑے جھوٹ پر یقین رکھتا ہے۔’’
‘‘اور یہ بڑا جھوٹ کیا ہے؟ ’’ لڑکے نے تعجب سے پوچھا۔‘‘عظیم ترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں ایک خاص مرحلہ آتا ہے جہاں حالات اس کے قابو میں نہیں رہتے اور اس کی زندگی قسمت کے کنٹرول میں ہوجاتی ہے ۔ یہی دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے ۔’’
‘‘میرے ساتھ تو کبھی ایسا نہیں ہوا۔’’ لڑکا بولا۔ ‘‘میرے والدین مجھے ایک راہب بنانا چاہتے تھے لیکن میں نے چرواہا بننے کا فیصلہ کیا ۔’’
‘‘یہ بہت اچھا ہے….’’ بوڑھے نے کہا۔ ‘‘ویسے بھی تمہیں سفر کرنا اچھا لگتا ہے….’’
‘‘میں کیا سوچ رہا ہوں یہ اس بوڑھے کو کیسے معلوم ہوا۔’’ لڑکا دِل میں سوچنے لگا۔
بوڑھا کتاب کی ورق گردانی میں ایسے مصروف تھا جیسے کتاب واپس کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہو۔ لڑکے نے بوڑھے پر غور سے ایک نظر ڈالی ۔ اس کا لباس اجنبی سا تھا۔ بوڑھا حلیے سے ایک عرب لگتا تھا جو اُس علاقہ میں اکثر نظر آتے رہتے تھے۔ افریقہ، طریفا کے ساحل سےمحض چند گھنٹوں کی مسافت ہی پر تو ہے۔ بس بحرہ اوقیانوس اور بحر روم کے درمیان موجود تنگ آبنائے کشتی کے ذریعہ پار کرنے پر افریقہ کی سرزمین آجاتی ہے۔
عرب لوگ اکثر و بیشتر اس علاقہ میں تجارت کے لئے آتے رہتے تھے۔ اس نے دن میں کئی بار ان عربوں کو اجنبی زبان میں دعائیں پڑھتے اور عبادات کی ادائیگی کرتے دیکھا تھا۔
‘‘آپ کس علاقے سے آئے ہیں؟…. ’’ لڑکے نے پوچھا۔
‘‘بہت سے علاقو ں سے….’’
‘‘کسی بھی شخص کا تعلق بیک وقت کئی علاقوں سے کیسے ہوسکتا ہے….’’ لڑکے نے پوچھا:
‘‘اب دیکھو جیسے کہ میں چرواہا ہوں ، میں نے اندلوسیا میں بہت دور دور تک سفر کیا ہے اور بہت سے علاقوں میں گھوما ہوں، لیکن میرا اصل علاقہ تو ایک ہی ہے۔ اندلوسیا کے تاریخی عالیشان محل (قصبہ المریہ)کے قریب آباد ایک چھوٹا سا شہر…. جہاں میں پیدا ہوا تھا۔’’
‘‘اچھا اگر ایسی بات ہے تو ٹھیک ہے…. میں کہہ سکتا ہوں کہ میں شالیم Salemمیں پیدا ہوا تھا۔’’ بوڑھے نے جواب دیا۔
لڑکے کو پتہ نہ تھا کہ شالیم کہاں ہے، لیکن اس نے مزید کچھ نہ پوچھا، اُسے خوف تھا کہ اگر میں نے پوچھ لیا تو کہیں بوڑھے پر اُس کی کم علمی ظاہر نہ ہو جائے۔ اپنے تاثرات چھپانے کے لیے اس نے اپنی نظریں سامنے بازار کے چوک کی جانب پھیر لیں جہاں لوگوں کے آنے جانے کا سلسلہ جاری تھا۔ سب بہت مصروف لگ رہے تھے۔
‘‘تو شالیم ….!! کیسی جگہ ہے’’ لڑکے نے کچھ جاننا چاہا۔ شاید کچھ اسی طرح جگہ کے متعلق اندازہہو سکے۔
‘‘ویسی ہی ہے جیسی ہمیشہ رہی ہے۔’’ بوڑھے نے جواب دیتے ہوئے کہا۔
اس سے بھی لڑکے کو کچھ سراغ نہ مل سکا کہ شالیم کہاں ہے۔ البتہ اُسے یہ تو معلوم تھا کہ شالیم اندلس کا کوئی شہر نہیں ہوسکتا، اگر ہوتا تو اُس نے کبھی نہ کبھی تو اُس کا نام سنا ہی ہوتا۔
لڑکے نے مزید جاننے کے لئے پوچھا ‘‘شالیم میں آپ کیا کام کرتے ہیں ۔’’
‘‘شالیم میں میں کیا کام کرتا ہوں؟؟؟’’ بوڑھا ہنسنے لگا اور پھر بولا ‘‘میں شالیم کا بادشاہ ہوں۔’’
شالیم کا بادشاہ!!…. لڑکا سوچنے لگا۔ آدمی بھی کیسی کیسی عجیب باتیں کرتے ہیں۔ اُن سے تو اچھا ہے کہ بھیڑوں کے ساتھ وقت گزارا جائے یا بس اپنی کتابوں کے ساتھ تنہا ہی رہا جائے ۔ کتابوں کم از کم دلچسپ اور حیرت انگیز کہانیاں تو سناتی ہیں اور وہ بھی اُس وقت جب سننے کو دل چاہتا ہو۔ لیکن جب انسانوں سے بات کرنے کا معاملہ ہو تو وہ بعض اوقات ایسی عجیب و غریب باتیں کردیتے ہیں کہ ان سے بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لڑکا سوچتا رہا۔
‘‘میں ملکیِ صادق Melchizedek ہوں۔’’ بوڑھے نے اپنا تعارف کرایا اور پھر بولا۔ ‘‘کتنی بھیڑیں ہیں تمہارے پاس۔’’
‘‘کافی زیادہ ہیں ’’ لڑکے نے جواباً کہا۔ اسے لگا کہ بوڑھا اُس کے بارے میں مزید جاننا چاہتا ہے۔
‘‘اچھا! یہ تو کافی بڑا مسئلہ ہے۔ اگر تم محسوس کرتے ہوکہ تمہارے پاس کافی زیادہ بھیڑیں ہیں تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔’’
یہ سُن کر لڑکا چڑچڑا گیا۔مدد ، کیسی مدد….؟ میں نے کب اس بوڑھے سے مدد مانگی، بلکہ اسی نے پہلے مجھ سے مشروب مانگا تھا اور پھر گفتگو کا آغاز بھی اُسی نے ہی کیا تھا۔ اب لڑکا اُکھڑ ے لہجے میں بولا،
‘‘مجھے میری کتاب واپس دے دیجئے۔ مجھے جاکر اپنی بھیڑیں اکٹھی کرنا ہیں اور کہیں جانا بھی ہے ۔’’
‘‘اگر تم مجھے اپنی بھیڑوں کا دسواں حصہ دے دو گے تو ….میں تمہیں اس پوشیدہ خزانے تک پہنچنے کا طریقہ بتا سکتا ہوں۔’’ وہ بوڑھے اچانک بول اٹھا، اور وہ نوجوان حیرت زدہ رہ گیا۔

پوشیدہ خزانہ …. اس بوڑھے کو کیسے پتا چلا….؟؟؟

تحریر : پاؤلو کویلہو ; ترجمہ: ابن وصی
(جاری ہے)

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے