روحانی ڈائجسٹ / جہاں نما / پراسرار و حیرت انگیز / سرکتے پتھر – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

سرکتے پتھر – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..

 


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

 

کئی صدیوں سے سائنس اس حیران کن راز کو کے حوالے سے انگشت بدنداں ہے کہ آخر ایسی کونسی قوت ہے جو وادیٔ موت کے صحرا میں پتھروں کے ازخود تیرنے کا سبب بنتی ہے اور کس طرح سینکڑوں کلوگرام وزنی پتھر لگاتار ایک جگہ سے سرک کرسینکڑوں گز دور چلے جاتے ہیں۔ امریکا کی ریاست کیلی فورنیا کے شمالی حصے میں پھیلے ہوئے پہاڑی سلسلے میں، ڈیتھ ویلی نیشنل پارک نامی جگہ پر ریس ٹریک پلیاRacetrack Playa نامی ایک خشک جھیل واقع ہے، یہ خشک جھیل اپنے پتھروں اور چٹانوں کی وجہ سے مشہور ہےجو پراسرار طور پر اس کی خشک سطح پر حرکت کرتے ہیں۔
سطحِ سمندر سے282 فٹ نیچے یہ وادی امریکی علاقوں میں سب سے نشیبی شمار کی جاتی ہے، جبکہ عام طور پر اس وادی کا درجۂ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈرہتا ہے۔ بالکل سپاٹ، سیدھی، چپٹے میدان کی ریتیلی سطح پر انتہائی وزنی چٹانوں کے ٹکڑوں کا بغیر کسی جانور اور انسان کی مداخلت ادھر سے ادھر خودبخود لڑھک جانا، سائنسی ماہرین کے لیے اچنبھے کاباعث ہے۔
ماہرین اب تک اس گتھی کو سلجھانے میں مصروف ہیں کہ کس طرح 107کلو گرام سے زائد وزنی چٹانی پتھر ایک سال میں350 گز تک کا سفر طے کرلیتے ہیں۔ ماہرین کے اس بارے میں مختلف تجزیے سامنے آتے رہے ہیں، جن کے مطابق کئی کا خیا ل موسمیاتی تبدیلی کی طرف جاتا ہے تو کئی اسے90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں، سطح پر برفیلی تہہ بننا اور گیلی چکنی مٹی کو پتھروں کی اس کارستانی میں شامل قرار دیتے ہیں۔
کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان پتھروں کے سرکنے کا ایک سبب تیز ہوا اور برفانی سطح بھی ہے، لیکن یہ بات اس پراسرار راز کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔
مختلف پتھر ایک جگہ سے سرکنا شروع کرتے ہیں، مگر دور جانے کے بعد اُن کے سمت اور فاصلوں میں بہت فرق پڑجاتا ہے۔
تاحال فزکس اس مسئلہ کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ ان پتھروں کو تھوڑا سا بھی سرکانے کے لیے بھی ہزاروں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوا درکار ہے، لیکن اس کے بعد بھی پتھر اتنی دور تک نہیں سرک سکتے۔ لہٰذ اصل وجہ ابھی تک ایک پراسرار راز ہے۔
1948ء میں یہاں میپنگ کے لیے آئے ہوئے دو جیو لوجسٹ جِم لیک السیٹر اور ایلن ایگنیو نے سب سے پہلے ان پتھروں کی عجیب و غریب حرکات نوٹ کیں اور نیشنل پارک کے ریسرچرز کو اس طرف متوجہ کیا، جنہوں نے ان پتھروں کا مزید تجزیہ کر کے بین الاقوامی سائنسی جریدے ‘‘لائف’’میں اس پر فیچر شائع کرکے دنیا بھر کے ریسرچرز اور سائنسدانوں کو پتھروں کی ان عجیب و غریب حرکات کو سمجھنے کی دعوت دی۔



پھر تو ان انوکھے پتھروں کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سائنسدانوں اور ریسرچرز کا تانتا سا بندھ گیا۔ کچھ سائنسدانوں نے یہ تجزیہ کیا کہ یہ سب کچھ ہوا کے دباؤ کی وجہ سے ہو رہا ہے اور ہوا ہی ان پتھروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سرکاتی ہے۔
لیکن دوسرے جیولوجسٹ نے اس بات کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ یہاں موجود بعض پتھر کا وزن تو سینکڑوں کلوگرام ہے، انہیں سرکانے کے لیے تو ہزاروں میل فی گھنٹہ رفتار والی ہوا چاہیے۔
1955ء میں ایک جیو لوجسٹ جارج اسٹینلی نے ان پتھروں کی حرکات کی وجہ برف کی تہہ کو بتایا جو عموماً سرد موسم میں یہاں جم جاتی ہے اور جن پر پتھروں کا سرکنا کم رفتار کی ہوا میں بھی آسانی سے ممکن ہے۔
1969ء میں کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے رابرٹ شارپ اور ڈوائٹ کیری نامی ریسرچرز نے ان پتھروں کے لیے مانیٹرنگ پروگرام شروع کیا۔ اس وادی کے تیس پتھروں کو منتخب کیا گیا، ان پر لیبل لگائے گئے، ہر ایک پتھر کا نام رکھا گیا اور ان کی پوزیشن نوٹ کی گئی۔ یہ پروگرام سات سال تک چلا۔
اس پروگرام کے ذریعہ ہوا کی رفتار اور برفانی تہہ کی تھیوری کو صحیح ثابت کرتے ہوئے بتایا کہ ان تیس پتھروں میں سے 28 پتھر ان سات سالوں میں جگہ تبدیل کرتے پائے گئے۔


پہلے سال ایک کورل پتھرجوایک پونڈ وزنی تھا اپنی جگہ سے تقریباً 25 سے 30 انچ کے فاصلہ پر پایا گیا۔ تجربہ کے لیے دو وزنی پتھر اس کے آس پاس رکھے گئے جن میں سے ایک پتھر تو پانچ سال میں کچھ فاصلہ طے کر گیا لیکن دوسرا پتھر وہیں پڑا رہا۔ میری این نامی پتھر نے 212 فٹ کا فاصلہ طے کیا۔


نینسی نامی پتھر جو2.5 انچ قطر رکھنے والا سب سے چھوٹا پتھر تھا، اس نے تقریباً 860 فٹ کا فاصلہ طے کیا۔ اس پروگرام میں سب سے زیادہ فاصلہ طے کرنے والا سب سے بھاری پتھر 80 پونڈ وزنی تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کیرن نامی پتھر، جو 700 پونڈ وزنی تھا، اس نے مانیٹرنگ پروگرام کے دوران کوئی حرکت نہیں کی۔ یوں اس تجربے کا نتیجہ یہ نکالا گیا کہ برفانی سطح پر ہوا اتنی طاقت نہیں رکھتی ہے700 پونڈ کےپتھر کو سرکا سکے۔ لیکن برسوں بعد 1994ء میں جب اس پروگرام کا اعادہ کیا گیا تو یہی کیرن پتھر اپنی جگہ پر موجود نہ تھا۔
بالآخر 1996ء میں کیرن کو تلاش کرلیا گیا، جو ان برسوں میں 800 میٹر کا فاصلہ طے کرچکا تھا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنے برسوں میں کسی شخص نے بھی اپنی کھلی آنکھوں سے چلتے ہوئے نہیں دیکھا۔
بغیر کسی مدد کے لڑھکنے والے پتھروں کا نہ سمجھ آنے والا یہ معمہ سائنسدانوں کے لیے ایک چیلنج بن کر رہ گیا ہے۔ بغیر کسی مدد کے لڑھکتے ہوئے یہ پتھراپنے پیچھے سفری نقوش چھوڑتے جاتے ہیں۔کیا پتھروں کے سفر کا یہ معمہ کبھی سائنسدان حل کر پائیں گے، یہ تو شایدآنے والا وقت ہی طے کرسکے گا۔

[یہ مضمون روحانی ڈائجسٹ، دسمبر 2011ء کی اشاعت میں شامل ہے]

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

اہرامِ مصر – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     اہرامِ مصر کی تعمیر کا عجوبہ  ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے