روحانی ڈائجسٹ / ذہن و شعور / پرسنل ڈیولپمنٹ / اپنا ای کیو EQ لیول معلوم کیجیے

اپنا ای کیو EQ لیول معلوم کیجیے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

اکثر ماہر نفسیات اب یقین رکھتے ہیں کہ EQ ذہانت میں IQسے زیادہ اہم ہے

 

 


کئی قارئین عنوان پڑھ  کر یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید پرنٹنگ میں غلطی کی وجہ سے I.Q کے بجائے E.Q چھپ گیا ہے۔ جی نہیں۔  یہ  E.Q ہی ہے۔ بعض قارئین کے ذہن میں سوال اُبھرے گا کہ یہ E.Q  ہے کیا؟

E.Q درحقیقت ایک اصطلاح ہے جو جذباتی ذہانت Emotion Quotient یا Emotional Intelligence کے لیے  استعمال ہوتی ہے۔ یہ ایک مکمل علم بھی ہے،  EQ دراصل اپنے اور دوسروں کے جذبات کو بھاپنے اور اُنہیں کنٹرول کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔

ذہانت کے بارے میں سوچتے ہوئے ہم میں سے بہت سے لوگ آئن اسٹائن  کو سوچنے والی مشین کے طور پر دیکھتے ہیں۔     اکثرمفکرین ذہن کے ہارڈویئر  (کھوپڑی) اور فہم و ادراک کے سوفٹ  ویئر (دماغ) کو ذہانت کا منبع سمجھتے آئے ہیں۔ جب کہ دل کی طاقت کو صرف اور صرف شاعروں کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا …. وہ کیا چیز ہے جو انسان کو مسائل حل کرنے اور آگے بڑھنے  کے قابل بناتی ہے۔  دوسری جنگ عظیم سے پہلے تک اس سوال کا جواب بڑی حد تک IQ  یا  انٹیلی جنس کوشنٹ  Intelligence Quotient کی صورت میں دیا جاتا تھا۔

ذہانت کی پیمائش کے لئےIQ کا تصور 1905ء میں الفرڈ بینٹ Alfred Binet نے دیا اور   پہلی بار ذہنی عمر کا نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے میں کہا گیا ہے کہ انسان کی طبعی عمر کے علاوہ اس کا ذہن بھی عمر کی منازل طے کرتا ہے۔ انسان کی جسمانی ساخت سے قطع نظر ذہنی عمر کی رفتار ہر انسان  میں دوسرے سے مختلف پائی جاتی ہے۔ الفرڈ نے مختلف عمروں کے لحاظ سے ایسے سوالات کی فہرستیں ترتیب دیں جن کے ذریعے کسی بھی فرد کی ذہانت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا  اور یہ عمل IQ ٹیسٹ کہلایا۔   

اس نظرئیے  کی بنا پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ تعلیم یافتہ ہو، چیزوں پر زیادہ سے زیادہ توجہ کرنے والا ہو، اتنا ہی وہ کامیاب ہوگا۔ صرف انہی  خوبیوں سے متصف انسان کو ذہین Intelligent کہاجاتاتھا۔

تجربات و مشاہدات نے ثابت کیا کہ IQ کی بنیاد پر ذہانت کا نظریہ حقیقی دنیا میں درست ثابت نہیں ہوپارہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو کیوں اعلیٰ  تعلیم حاصل کرنے والے، نمایاں گریڈ اسکور کرنے والے اور اپنی توجہ کو چیزوں پر مرکوز کرنے والے عموماً ذہنی، جسمانی اور جذباتی مسائل کا شکار رہتے ہیں؟ کیوں کلاس کا سب سے ذہن بچہ بڑا ہوکر سب سے امیر آدمی نہیں بنتا….؟

  اس کے برخلاف جن لوگوں کو عرفِ عام میں نالائق، کند ذہن کہا جاتا ہے، جن میں آئن اسٹائن سے لے کر  مارک زکربرگ جیسے لوگ  شامل ہیں،  انہوں نے کیسے  بڑے بڑے کارنامے انجام دے دیئے ۔  عام طور پر کیوں موجد، مصور، اور تخلیق کار وہ لوگ ہوتے ہیں جو IQ لیول پر پورے نہیں اترتے۔ IQ کم اسکور کرنے والے افراد کیوں سماجی اور معاشی برتری حاصل کرلیتے ہیں۔ کیوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں میں نیوٹرل ٹیلنٹ اچانک بیدار ہوجاتا ہے اور کچھ لوگوں اچانک بچھ جاتاہے؟….

مختصراً یہ کہ ذہن و دماغ یا فہم و فراست  کی وہ کون سی خوبیاں ہیں جو کامیابی کو ہمارا مقدر بناتی ہیں؟….

چنانچہ ماہرین نے  ذہانت کی کچھ اور  اقسام بھی دریافت کیں۔ مثلاً تجزیاتی Analytic، لسانیاتی linguistic، یا پھر جذباتی ذہانت۔ لیکن نفسیات دانوں اور علم الاعصاب کے ماہرین کا اس بات پر اختلاف رہا  کہ آیا یہ ساری ذہانتیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں یا پھر یہ ایک دوسرے سے مختلف وجود رکھتی ہیں۔ بیسویں صدی میں ذہانت کے حوالے سے تین اہم نظریات سامنے آئے ہیں۔

پہلا نظریہ چارلس سپیرمین Charles Spearmanنے پیش کیا تھا جس میں اس نے یہ تو مان لیا کہ ذہانت کی مختلف اقسام ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ ساری اقسام باہمی طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ گویا اگر کوئی شخص کسی IQ ٹیسٹ کے ایک شعبے کو اچھی طرح سے پار کرتا ہے تو وہ باقی شعبوں میں بھی اچھا ہوگا۔

ہارورڈ کے نفسیات دان ہاورڈ گارڈنر Howard Gardner نے سپیرمین کے اسی خیال پر اپنے نئے نظریے Multiple Intelligences کے ساتھ نظر ثانی کردی، جس میں آٹھ مختلف اقسام کی ذہانتوں کا ذکر کیا اور دعوی کیا گیا کہ ان ذہانتوں کے درمیان کسی باہمی تعلق کی ضرورت نہیں۔ یعنی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی اچھی طرح سے کئی زبانیں سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو لیکن تجزیاتی صلاحیت سے محروم ہو۔

  1985 میں رابرٹ سٹرن برگ Robert Sternberg نے ایک نظریہ پیش کیا جس میں یہ بحث کی گئی کہ ذہانت کی پرانی تعریفیں بہت تنگ نظر تھیں، کیونکہ وہ صرف انہی ذہانتوں پر انحصار کرکے ترتیب دی گئی تھیں جو کہ IQ ٹیسٹ سے ناپی جاسکیں۔ اس کے برعکس سٹرن برگ کا کہنا تھا کہ ذہانت کو بنیادی طور پر تین ذیلی اقسام میں بانٹا جاسکتا ہے  تجزیاتی ذہانت، تخلیقی ذہانت اورعملیذہانت۔

ڈاکٹر گارڈنر اپنے نظریے ملٹپل انٹیلیجنسز کے حوالے سے کہتے ہیں کہ جیسے جیسے تاریخ آگے بڑھتی ہے، جیسے جیسے ثقافتیں ترقی کرتی ہیں، ذہانتیں بھی اسی حساب سے تبدیل ہوتی ہیں۔ سو سال پہلے تک اگر آپ کو اعلی تعلیم کی ضرورت ہوتی تو آپ میں لسانیاتی ذہانت اہم کردار کی حامل تھی۔ ڈیڑھ سو سال پہلے داخلے کے امتحانات یونانی، لاطینی اور عبرانی زبانوں میں ہوا کرتے تھے   آج کے دور میں ریاضیاتی اور جذباتی ذہانتیں معاشرے میں زیادہ اہم ہیں۔ان کے نزدیک اگر آپ کو لوگوں کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنا نہیں آتا تو آپ معاشرے میں کسی کام کے نہیں ہیں۔

جذباتی ذہانت یا اموشنل کوشنٹ EQ کی اصطلاح یوں تو  1960 کی دہائی میں استعمال ہونا شروع ہوگئی تھی  لیکن  سب سے پہلے ماہرِ نفسیات پیٹر سیلووے  Peter Salovey اور یونیورسٹی  آف نیو ہمپشائر کے جون میر  John Mayer نے 1989ء میں اپنے مضامین میں اس پر تفصیلی بحث کی۔   لیکن  E.Q  کا تصور دنیا بھر میں رائج کرنے کا کریڈٹ  1990ء کے وسط میں امریکی ماہر نفسیات اور نیویارک ٹائمز کے سابق رپورٹر، ڈینئل گولمین  Daniel Goleman  کو جاتا ہے۔  Emotional Intelligence   نامی تصنیف کے ذریعے  جذباتی ذہانت EQکو متعارف کرایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی ملازمت میں آپ کی اعلیٰ کارکردگی کے لئے آپ کی تکنیکی ہنر مندی یا ذہنی قابلیت IQ کے مقابلے میں آپ کا EQ دگنی اہمیت رکھتا ہے۔

 ماہرین نفسیات EQ کو عام ذہانت کے بجائے جذبات و احساسات سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ ای کیو (EQ) کا تعلق انسان کی  جذباتی صلاحیتوں سے ہوتا ہے۔ یعنی  E.Q درحقیقت  I.Q کی ضد نہیں ہے۔ بہت سے لوگ   E.Q اور I.Q  دونوں سے مالامال ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ  دونوں میں سے کسی ایک سے یا  بہت کم۔   IQ میں ذہنی جبکہ EQ میں جذباتی صلاحیتوں کا دخل ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ اپنے شعبے میں ماہر اور ذہین شخص جذباتی معاملات  میں بھی ہمیشہ ذہین واقع ہو۔ ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جو بہت اچھا IQ رکھنے کے باوجود EQ میں مار کھا جاتے ہیں۔  اس کی مثال یوں لی جا سکتی ہے کہ ایک تجربہ کار بزنس مین  کسی کاروباری معاملے میں مشتعل ہو کر اپنا نقصان کرالیتا ہے جبکہ اسی معاملے کو ایک نوجوان سیلزمین پرسکون اور ٹھنڈے دل و دماغ سے حل کر کے بگڑنے نہیں دیتا اور فائد ے میں رہتا ہے، اس سے ثابت ہو گا کہ نوجوان سیلزمین کا EQ تجربہ کار بزنس مین  کی نسبت بہتر تھا۔ اگر کوئی شخص زندگی کے معاملات میں اپنے جذبات پر قابو رکھنا اور انہیں درست طریقے سے استعمال کرنا جانتا ہے تو یقینا اس کا EQ بہت اچھا ہو گا۔

کچھ لوگ غصے کو بڑی اچھی طرح کنٹرول کرلیتے ہیں مگر خوف کو اسی طرح کنٹرول نہیں کرسکتے۔ بہت سے لوگ خوشی برداشت نہیں کرپاتے۔ اس لیے ہر جذبہ کو الگ الگ رکھ کر غور کرنا پڑے گا۔ اگر کوئی بچہ سڑک پر دوڑ رہا ہو تو اس کے والدین اس کو چیخ کر بلاتے ہیں ۔ درحقیقت وہ بچے پر اس کی اس نافرمانی کی وجہ سے غصہ ہورہے  ہوتے ہیں مگر غصہ کے  جذبات پر خوف کے جذبات حاوی ہوتے  ہیں کہ اگر بچہ سڑک پر دوڑتا رہتا تو کیا ہو جاتا۔

ڈینئل گولمین  کے تجزیہ کے مطابق  خود آگاہی شاید سب سے بڑی صلاحیت  ہے کیونکہ صرف یہی وہ خوبی ہے جو ہمیں خود پر کنٹرول کرنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ اس کا مطلب احساسات اور محسوسات کو دبانا نہیں  بلکہ انہیں  جاننا اور ان کے ساتھ قوتِ ارادی کا صحیح استعمال ہے۔ گولمین نے لکھا ہے کہ

‘‘ ہر کوئی غصہ کرسکتا ہے مگر صحیح شخص پر ، صحیح ڈگری پر، صحیح ٹائم پر، صحیح مقصد پر اور صحیح طور سے غصہ کرنا بہت مشکل امر ہے’’۔

دراصل غصہ کا اظہار اس  وقت ہوتا ہے  جب انسان کو اس بات کا احساس ہو کہ اس کا حق اس سے چھن گیا ہے۔ ماہرین صرف یہی نہیں دریافت کررہے ہیں کہ غصہ کہاں سے آتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ یہ راز جاننے کی بھی کوشش کررہے ہیں  کہ اسے کس طرح صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے ؟….

ڈینیل گولمین کا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ غصے میں رہنا درحقیقت غصے کے لیول کو اور بھی زیادہ  بڑھا ہے، جسم کو ایک چانس کی ضرورت ہوتی  ہے تاکہ وہ ایکسرسائز  کے ذریعے Relexation کے ذریعے یا پھر کسی بھی  سکون پانے کے طریقے سے وہ  Adernaline متحرک کرسکے جو دل کے ہارمونز میں ضروری ہیں۔

فکر و پریشانی یا    Anxiety بھی ہمارے لیے کارآمد ہوسکتی ہے۔ تاوقتیکہ  یہ کنٹرول سے باہر  نہ ہوا۔ فکرمندی دراصل خطرے کا ریہرسل ہے۔ فکر اور سوچ ذہن کو فوکس کردیتے ہیں اور ذہن کوئی نہ کوئی حل تلاش کرلیتا ہے۔ اصل خطرہ اس وقت ہوتا ہے جب فکر و پریشانی  سوچنے کا راستہ بلاک کردے اور انسان مایوس  ہوجائے۔ کسی ناکامی پر غیر ضروری فکر اس ناکامی کو اور گہرا کردیتی ہے مگر کیوں  بہت سے لوگ ان تمام حالات پر کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں اور ہر قسم کی فکر و پریشانی ، خوف اور غصہ سے باہر آجاتےہیں؟…. 

درحقیقت یہ خود شناسی اور خود آگاہی ہے جو ان میں ایسی صلاحیت پیدا کردیتی ہے جس سے وہ ان مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ آرام کرنا یا  Relexation ایک آزمودہ طریقہ ہے۔  خاص کر     High Energy Mood کے لیے بہرحال کوئی بھی طریقہ ہو علاج یہی ہے کہ اس کے نقطہ چڑھاؤ کو اس حد تک  گرادیا جائے کہ اس موڈ کی تباہ کن حالت ختم ہوجائے۔

ڈینئل گولمین  کے مطابق جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو ان میں نیورولوجیکل ونڈو Neurological Window اپنے تمام تر مواقع کے ساتھ کھلی ہوتی ہے۔  کیونکہ ذہن ہی وہ سرکٹ ہے جہاں سے  ہمارے افعال اور جذبات  ریگولیٹ  ہوتے ہیں اور  یہ کھڑکی بلوغت تک کھلی رہتی ہے۔   بیرونی دنیا کے متعلق ہماری معلومات کاذریعہ ہمارے حواس خمسہ ہیں جن کے ذریعے حاصل ہونے والی تمام تر معلومات  مشاہدات و تجربات ہمارے دماغ کے کروڑوں خلیوںمیں جمع ہوتے رہتے ہیں ۔ مشاہدات و تجربات کا یہی خزانہ سائنس کی اصطلاح میں انسان کا فریم آف ریفرنس یا فیلڈ آف ایکسپیریئنس کہلاتا ہے۔ جب کوئی صورتحال انسان کو پیش آتی ہے ہمارا شعور فوری طور پر اسے اپنے ذہن میں موجود تجربات کے اس خزانے کو ریفر کرتا ہے۔  انسانی دماغ اتنا بڑا سپر کمپیوٹر ہے کہ ایک سیکنڈ کے صرف دسویں حصے میں ہمیں ریفر کردہ اس صورتحال کے متعلق رپورٹ بیک کرتا ہے یعنی ہمیں درپیش صورتحال کا مفہوم سمجھاتا ہے جس کی روشنی میں ہم اپنے فیصلے کرتے ہیں۔

 تاہم ماہرین نفسیات انسانی زندگی پر اثرانداز ہونے والے محرکات ، محسوسات ، جذبات اور انسانی فہم و شعور کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ ان کی خالص سائنسی تحقیق جہاں انسانی دماغ کے مختلف حصوں کے متعلق مفید معلومات بہم پہنچاتی اور مختلف بیرونی عوامل کی صورت میں مخصوص عمومی ردعمل کی نشاندہی کرتی ہے  وہاں ماہرین اپنی جدگانہ طرز فکر کا بھی واضح اظہار کرتے ہیں۔ ڈینیل گولمین کہتا ہے

 احساس اور فکر کے رقص کے دوران ہماری جذباتی صلاحیت ہمارے   لمحہ بہ لمحہ فیصلوں میں ہماری  رہنمائی کرتی ہے، یہ ہمارے استدلالی ذہن کی بانہوں  میں بانہیں  ڈال کر کام کررہی ہے۔  یہ فکر کو کار گر بھی بناتی ہے اور بے کار بھی ….! سوچ وفکر کرنے والا ذہن ہمارے جذبات میں ایک حاکم کا کردار ادا کرتا ہے سوائے ان لمحات کے جب کہ جذبات قابو سے باہر ہوجاتے ہیں اور جذباتی ذہن زور آور ہوجاتا ہے۔  اس  طرح گولمین ذہن کو جذباتی ذہن اور فکری ذہن یا جذباتی ذہانت اور فکری ذہانت میں تقسیم کرتا ہے۔ تاہم بہت سے لوگوں کے نزدیک جذبات انسانی زندگی کا دوسرا نام ہے  اگر جذبات کو زندگی سے نکال دیا جائے تو باقی کچھ بھی نہیں رہتا۔

خوشی ،غم ،امنگ ،محبت ،نفرت، دشمنی،  دوستی، خوف ، امید، حسد وغیرہ کے جذبات انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ لیکن ایک فرد باہمی روابط اور تعاون بڑھانے کے لئے معاشرتی اقدار اپنانے اور اپنے منفی جذبات پر قابو پانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ شاعر اور ادیب مختلف انسانی جذبات کو لطیف اور موثر پیرائے میں بیان کرکے اعلی انسانی اقدار کی ترویج کے لئے کام کرتے ہیں۔

تاہم سکالرز مختلف انسانی جذبات کابنظر دقیق مشاہدہ کر کے انسانی زندگی کے اسرار و رموز سمجھنے کے لئے سرگرداں رہتے ہیں۔

ڈینئیل گولڈمین نے انسانی محسوسات کو جذبات کے معنوں میں استعمال کرتے ہوئے اسے جذباتی ذہانت کا نام دیا ہے ۔ وہ کہتا  ہے کہ محسوسات انسانی فکر کی بنیاد بنتے ہیں۔ ڈینیل  گولمین کی کتاب Emotional Intelligence نفسیات کے علاوہ دوسرے عمرانی علوم میں بھی ایک اہم مقام حاصل کرچکی ہے۔ مصنف کتاب کے ابتدائی صفحات میں مختلف جذبات کی صورت میں انسانی جسم کی مختلف کیفیتوں کے متعلق دلچسپ حقائق بیان کرتا ہے۔  وہ لکھتا ہے :

غصے کی حالت میں خون کی گردش انسان کے ہاتھوں کی طرف بڑھ جاتی ہے جس سے اس کے لئے کسی ہتھیار وغیرہ کو سنبھالنا اور مخالف کو پکڑنا آسان ہوجاتا ہے۔ دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے اور ہارمون میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے جس سے اس کی طاقت میں کوئی سخت کارروائی کرنے کے لئے کافی اضافہہوجاتاہے۔

خوف کی صورت میں خون انسانی جسم کے بڑے ڈھانچے اور پٹھوں کی طرف حرکت کرتا ہے،ٹانگوں کی طرف خون کی روانی زیادہ ہوجاتی ہے اور اس کے لئے بھاگ جانا آسان ہوجاتا ہے۔ چہرے سے خون جسم کے دوسرے حصوں کی طرف جانے کی وجہ سے چہرے کی رنگت زرد پڑ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ جسم ٹھنڈا پڑجاتا ہے۔ اگرچہ یہ صرف ایک لمحہ ہی کے لئے ہو۔  غالبا ًیہ قدرت کی طرف سے انسان کو اس بات کا جائزہ لینے کا موقع دیا جانا ہے کہ آیا چھپ جانے میں بہتری ہے۔دماغ کے جذباتی مرکز میں سرکٹ ہارمونز کی بہتات کردیتے ہیں جس سے جسم ایک عمومی الرٹ کی کیفیت میں آجاتا ہے۔ اس طرح جسم چوکنا ہونے کے بعد کسی بھی کارروائی کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ اس کی توجہ سر پر منڈلاتے ہوئے خطرے کی طرف مبذول ہوجاتی ہے اس کی پوزیشن یہ جانچنے کے لئے بہتر ہوجاتی ہے کہ اس کا ردعمل کیا ہونا چاہئیے۔

خوشی کے موقع پر دماغ کے مرکز میں ہونے والی سرگرمی بڑھ جاتی ہے جس سے منفی احساسات کی مدافعت ہوتی ہے اور موجود طاقت میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔  وہ احساسات ختم ہوجاتے ہیں جن سے پریشان کن خیالات جنم لیتے ہیں۔ اس سے جسمانی طور پر سکون کی حالت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی وہ جسمانی پہلو ابھر نہیں پاتے جن سے جذبات میں ابتری پیدا ہوتی ہے ۔ خوشی کی حالت میں جسم کو ایک طرح کی راحت نصیب ہوتی ہے۔ موجودہ کام میں بہتری ہونے کے علاوہ مستقبل کے مقاصد کے حصول کے لئے جوش و خروش پیدا ہوتا ہے۔محبت کا جذبہ انسان میں نازک احساسات پیدا کرتا ہے۔ اس سے انسان کو آسودگی اور اطمینان ملتا ہے اورقناعت اور تعاون کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔

تعجب اور حیرت کی صورت میں ہماری آنکھوں کی بھوئیں اوپر کو تن جاتی ہیں جس سے ہمیں زیادہ وسیع کینوس میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور ہماری آنکھ کی پتلی کو زیادہ روشنی میسر آتی ہے۔ جس سے غیر متوقع صورتحال کے متعلق بہتر جاننے کا موقع ملتا ہے۔ او ر اس سے نمٹنے کے لئے ہم بہتر منصوبہ تیارکرلیتےہیں۔

حقارت اور نفرت کا اظہار  دنیا بھر میں  تقریبا ایک ہی طرح کیا جاتا ہے۔ اگر ہم کسی جگہ بدبو محسوس کرتے ہیں تو اس کے متعلق ناک منہ چڑھا کر تقریبا ایک ہی طرح کے سگنلز دیتے ہیں۔ اس صورت میں ہمارا اوپر کا ہونٹ عموماً ایک طرف کو سکٹر جاتا ہے اور کسی حد تک ناک پر بل آجاتا ہے۔ یہ وہی قدیمی انسان والے سگنلز ہیں جو صدیوں پہلے وہ کسی صورت حال پر ناگواری کا اظہار کرنے کے لئے دیا کرتا تھا۔

غم کی صورت میں جذبات کا کام اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے جسم کی ایڈجسٹمنٹ ہے۔ مثلاً کسی قریبی شخص کی وفات کا موقعہ یا کسی دوسرے معاملے میں بڑی مایوسی۔ غم سے توانائی اور زندگی کی سرگرمیوں کے جوش و خروش میں کمی واقع ہوتی ہے۔ مایوسی سے جسم کے ہارمونز م میں کمی ہوجاتی ہے۔ اس طرح انسانی زندگی میں خوشی کی کمی کے ساتھ امید یں بھی ختم ہونے لگتی ہیں۔  انسانی جسم کی توانائی میں کمی اسے زیادہ دیر تک مغموم رکھ سکتی ہے۔

جذبات مختلف قسم کے ہوتے ہیں جس میں غصہ، خوشی، حیرت، وغیرہ شامل ہیں جبکہ ایمو شنل انٹیلی جنس کے بھی مختلف  ڈائمیشنز  ہوتی ہیں۔   ڈاکٹر گولمین کے مطابق  کسی بھی بہتر EQ والے فرد میں پانچ چیزوں کو خصوصاً دیکھا جا سکتا ہے۔

  1.  خود آگہی (Self Awareness)
  2.  ضبط نفس (Self Regulation)
  3.  تحریک (Motivation)
  4.  احساس (Empathy)
  5.  معاشرتی سلیقہ (Social Skills)

خود آگہی  Self Awarenessکا مطلب اپنے آپ کو اور اپنے جذبات  کو سمجھنا اور کسی بھی مسئلے میں خود آگہی کے ذریعے مسئلے کو کنٹرول کرنا ہے۔   Self Regulation کامطلب کسی بھی حالات میں اپنے آپ کو مینج کرنا ہے یعنی کبھی اگر انسان پر غم و غصہ یا خوشی طاری ہوتا ہے جس سے انسان کی ذات کے علاوہ دوسرے انسان بھی متاثر ہوتے ہیں تو اس وقت اپنے آپکو منیج کرنا سیلف  ریگولیشن  کہلاتا ہے۔ 

کسی بھی چیز سے تحریک یا حوصلہ افزائی  پانا Motivationکہلاتا ہے یعنی انسان اپنے آپ کو کسی کام کیلئے آمادہ کرتا ہے ہر انسان کے Self Motivationمیں فرق ہوتا ہے کسی کو تنخواہ اور پیسہ تحریک دیتا ہے تو کسی کو شہرت ،  کسی کو خدمت اور کام کی لگن Motivateکرتی ہے ۔ 

Empathyکا مطلب ہے دوسرے کے احساسات  جذبات کو سمجھانا ، اشتراک کرنا ۔  اپنے آپ کو دوسروں کی جگہ رکھ کرسوچنا  اور دوسروں کی تکلیف کو اپنا تکلیف سمجھنا۔

  Social Skills یعنی سماجی سلیقہ و مہارت  خود اعتمادی کی تعمیر کرتی ہے۔

ڈینئل گولمین سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ ‘‘جذباتی ذہانت ہمیں کس طرح کامیاب بناتی ہے؟’’

ان کے مطابق، ‘‘ کاروباری مشیران سے لے کر سی ای اوز تک اورطلباء سے لے کر انتظامی ماہرین تک، ہر شخص جذباتی ذہانت کے متعلق کچھ نصیحتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ گولمین نے اعلیٰ درجہ کی جذباتی ذہانت رکھنے والے افراد کی چند علامات بتا ئی ہیں۔ شاید، ان علامات میں سے کچھ، آپ میں پہلے سے ہی موجود ہوں یا شاید نہ ہوں۔ بہرحال اگرآپ ان علامات کو جاننا اور اپنانا چاہتے ہیں تو ان کی فہرست حسب ذیل ہے۔

  1. آپ خود اعتمادی کے ایک حقیقی احساس کو فروغ دیتے ہیں۔
  2. آپ جانتے ہیں کہ آپ کے احساسات کس طرح کام کرتے ہیں۔
  3. آپ دباؤ کے تحت یا تو ٹوٹتے نہیں، اور اگر ٹوٹ جائیں تو پھر جلد ہی بحال ہو جاتے ہیں۔
  4. اگر آپ کو لوگوں سے کوئی پریشانی ہو تو بھی آپ ان کا سامنا کر لیتے ہیں۔
  5. آپ ناکامی کا سامنا کرنے کے باوجود ہمت نہیں ہارتے۔
  6. آپ دیگر تناظرات کی بڑی تعداد کو سمجھ سکتے ہیں۔
  7. آپ جذبات کے اظہار کے معاملے میں کمزور نہیںہوتے۔
  8. آپ ایک اچھے سامع ہوتے ہیں۔
  9. آپ واضح طور پر قادالکلام ہوتے ہیں۔

ان خصوصیات سے بہتر EQ والے افراد کی شناخت کی جا سکتی ہے۔ اس کے لئے اعلیٰ ذہانت کا مالک  ہونا ضروری نہیں۔ کوئی بھی نارمل ذہنیت کا حامل شخص یہ خصوصیات اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے۔

جذباتی ذہانت بڑھانے اور اپنی جذباتی کیفیت کو کنٹرول کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے اور دوسروں کے جذبات سے آگاہ اور واقف ہوں۔ جذباتی ذہانت پیدا کرنے کے لیے ابتدا میں ضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات کے بارے میں سادہ اور چھوٹے چھوٹے جملے بولنے شروع کریں۔ مثال کے طور پر:

  • میں غمگین ہوں ۔ میں خوش ہوں۔
  • میں بیزار ہوں ۔ میں دلچسپی محسوس کر رہا ہوں
  • میں خوف محسوس کر رہا ہوں، مجھے تحفظ کا احساس ہے
  • مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ مجھے خوداعتمادی کا احساس ہے

جذباتی ذہانت کو بڑھانے کے لیے یہ سادہ جملے بڑے کارگر ہیں، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ یہ سادہ جملے بولنا بھی اکثر  لوگوں کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ دراصل اس طرح انہیں اپنے حقیقی جذبات کا اظہار مشکل محسوس ہوتا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بچپن سے بڑی عمر تک سماجی اور خاندانی نمو کچھ اس طرز پر کی جاتی ہے کہ ہم اپنے احساسات و جذبات کو بہت سی چیزوں اور مثالوں سے گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ ہمیں بچپن سے ہی  ملکوں کے نام، جانوروں کے نام، دوست احباب، رشتے داروں کے نام، پہاڑی اور دریاؤں کے نام لباس کے نام، مفکرین و ماہرین کے نام، کتابوں کے نام بلاواسطہ بتاتے اور سمجھائے جاتے ہیں لیکن ہمیں احساسات و جذبات کے نام بلاواسطہ نہیں بتائے جاتے اور نہ سمجھائے جاتے ہیں۔

انسانی نفسیات کے ماہرین کے مطابق بہتر EQ موجودہ  صدی میں کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ اس مقام تک پہنچ گئے تو آپ عام انسان کے مقابلے میں معاشرے میں کہیں زیادہ کامیاب اور مقبول سمجھیں جائیں گے۔ آپ کے تعلقات کا دائرہ بھی وسیع ہو گا۔ EQ نظریے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 21 ویں صدی میں EQ نہ صرف لوگوں کی ذاتی زندگی میں بلکہ ان کے کاروبار میں بھی نمایاں مقام حاصل کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ سمیت یورپی ممالک میں EQ آج کل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

EQ  کا تذکرہ آج کل اتنا زیادہ اور کہیں نظر نہیں آتا جتنا کہ امریکن ہائی اسکولوں میں نظر آتا ہے جہاں پر اس کی Application اور Opportunities بہت  زیادہ ہے۔ 

ایک پرنسپل  Robert کے مطابق  پانچ سال پہلے ٹیچرز کے نزدیک یہ بات غور کے قابل بھی نہ تھی لیکن جب بڑے پیمانے پر اسکولوں میں مجرمانہ کاروائیں ہونے لگیں تو پھر ہمیں  Emotional Literacy یا جذباتی تعلیم کے پروگرام کا آغاز کرنا پڑا۔ اس تعلیمی پروگرام میں بچوں کو غصہ، فرسٹریشن اور اکیلے پن کے محسوسات کو کنٹرول کرنے کا ہنر سکھایا گیا۔ اس کے بعد سے لنچ ٹائم میں ہنگامے اور جھگڑوں کا  Ratio بہت کم ہوگیا۔ 

ماہر تعلیم اس نئے نظریہ کے بارے میں  معلومات  فراہم کرسکتے ہیں مثلاً وہ طالب علم  جو ڈپریس رہتے ہیں  یا ہر وقت غصہ میں رہتے ہیں اور تعلیم حاصل نہیں کرپاتے۔   امریکہ میں بہت سے اسکول ایڈمنسٹریٹرز یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ روایتی اسباق  اور  Standardized Test کی تعداد میں کمی کی جائے مثلاً پیٹر ریلک  Peter Relic جو کہ National Association of Independent Schools کے پریزیڈنٹ ہیں، کہتے ہیں کہ S.A.T جیسے ٹیسٹ کو ہی ختم کردینا چاہیے کیونکہ بجائے اس کے کہ E.Q معلوم کیا جائے،  I.Q معلوم کرنا ہمیں زیادہ مہنگا پڑتا ہے اور اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹیسٹ کا اسکور ہمارے لیے زیادہ اہم ہے بجائے اس کے کہ کون سا بچہ  کیسا انسان اور کیسی شخصیت ہے یہ معلوم کیا جائے اور اس کا مطلب ہوگا ‘‘ انسانی قابلیت کا ایک بہت بڑا نقصان’’۔ 

زندگی میں کامیابی جب ہی ممکن ہے جب ہم  اپنے جذبات کے اظہار کے مثبت اور تعمیری طریقےسیکھ لیں۔

یہی وجہ ہے کہ جذباتی ذہانت کا نظریہ  دنیا بھر کے نفسیات دانوں میں مقبول ہو رہا ہے۔انسانی تعلقات، تعمیری محنت اور  اعصابی دباؤ سے تحفط  میں  جذباتی  ذہانت کے استعمال کا تصور زور پکڑتا جارہا ہے 

 اگر آپ اپنی زندگی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں  اور اپنی مرضی کی کامیابی چاہتے ہیں تو  جذباتی ذہانت پر قابو پائیے۔   اس سے آپ عامل بنیں گے معمول نہیں۔  جذباتی ذہانت پر قابو نہ ہو تو انسان دوسروں کے ہاتھوں کھلونا بن سکتا ہے اور دوسرے اسے جب چاہیں غصہ دلا کر، خوش کرکے، مایوسی پیدا کرکے،  ہمدردی کے جذبات ابھار کر، ڈرا کر یا کسی  اور جذباتی صلاحیت کے ذریعے اس پر اپنی مرضی مسلط کرسکتے ہیں  ۔

اگر آپ اپنے جذبات کو ذہانت سے ہم آہنگ کرلیں  تو زندگی پر آپ کے اختیارات لامحدود ہوتے چلے جائیں گے۔  اپنے جذبات کو پہچاننے اور انہیں توازن میں رکھنے کی صلاحیت کے پیمانہ کو  نفسیات دان  EQ کہتے ہیں ۔

 جذباتی ذہانت کی موجودگی ہمیں اس قابل کردیتی ہے کہ ہم دوسروں کے محسوسات اور ان سے پیدا ہونے والے جذبات اور بھر ان جذبات کے  ممکنہ ردعمل کا اندازہ لگا سکیں۔ چنانچہ جذباتی ذہانت ہمیں تنازعات میں،  جذباتی بحرانوں اور صدمات  میں  تعلقات کو بحال رکھنے اور ذندگی کے توازن کو برقرار رکھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

***

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 2   دوسری عادت یہ ہے ...

آئیے مراقبہ کرتے ہیں ۔ 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں دوسرا حصہ مراقبہ کا ایک بڑا فائدہ یہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے