روحانی ڈائجسٹ / ذہن و شعور / پرسنل ڈیولپمنٹ / کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 6

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

 


عالمی شہرت یافتہ موٹیویشنل مصنف، ماہرِتعلیم اور بزنس مین اسٹیفن رچرڈ کوؤی نے 1989ء میں دی سیون ہیبٹس آف ہائیلی ایفیکٹو پیپلThe 7 Habits of Highly Effective People نامی کتاب لکھی۔ عالمی سطح پر بیسٹ سیلر ہونے کے ساتھ اب تک 75 ممالک میں 40 زبانوں میں دو کروڑ پچاس لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔
اس کتاب میں اسٹیفن نے بتایا کہ دنیا کے بااثر ترین اور کامیاب انسانوں میں سات عادات مشترک ہوتی ہیں اور انہی عادات کی بنیاد پر ان کے کردار کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ ان کی یہی عادتیں ان کے مستقبل کو بھی روشن بناتی ہیں۔ ان سات عادات کو سمجھ لینے اور اپنانے سے نوجوان اپنی زندگی کامیاب بنا سکتے ہیں ۔
ذیل میں ہم اسٹیفن کوؤی کی شہرۂ آفاق کتاب The 7 Habits of Highly Effective People ‘‘کامیاب اور پُراثرلوگوں کی 7 عادتیں ’’ کے خلاصے کی پانچویں قسط نوجوان قارئین کے لیے پیش کررہے ہیں۔  

قسط نمبر 6

 

 

حصّہ چیارم

تجدید و اعادہ

 

عادت : 7

Sharpen the Saw
آری تیز کرنا

 

گاؤں میں ایک غریب لڑکا رہتا تھا، وہ بہت محنتی تھا لیکن تھوڑا کم پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے اسے مناسب کام نہیں مل پا رہا تھا۔ ایسے ہی ایک دن بھٹكتا بھٹكتا لکڑی کے ایک تاجر کے پاس پہنچا۔ اس تاجر نے لڑکے کی حالت دیکھ کر ایک آری اس کے حوالے کی اور اُسے جنگل سے درخت کٹوانے کا کامدے دیا۔
یہ نئی نوکری لڑکے کے لیے بہت حوصلہ افزاء تھی، وہ جنگل گیا اور پہلے ہی دن 18 درخت کاٹ ڈالے۔ تاجر نے بھی لڑکے کو شاباشی دی، شاباشی سن لڑکا خوش ہوا اور مزید جوش میں آگیا اور اگلے دن اور زیادہ محنت سے کام کیا۔ لیکن یہ کیا؟ اس بار وہ صرف 15 درخت ہی کاٹ سکا۔
تاجر نے کہا :‘‘ کوئی بات نہیں محنت کرتےرہو….’’
تیسرے دن اس نے اور زیادہ زور لگایا لیکن صرف 10 درخت ہی کاٹ سکا۔ اب لڑکا بڑا پریشان ہوا لیکن وہ خود نہیں سمجھ پا رہا تھا كہ وہ روز پہلے سے زیادہ کام کرتا لیکن درخت کم کاٹ پاتا ہے۔ ہار کر اس نے تاجر ہی سے پوچھا –
‘‘میں سارے دن محنت سے کام کرتا ہوں لیکن پھر بھی کیوں درختوں کو کاٹنے کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے….؟ ’’
اس بار تاجر نے خود جاکر صورتحال دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو تاجر جنگل میں اس نوجوان کے پاس پہنچا ، دیکھا کہ وہ بڑی تندہی سے ایک درخت کا تنا کاٹنے میں مصروف تھا۔
‘‘کیا کر رہے ہو بھئی….؟’’ تاجر نے پوچھا۔
‘‘آپ دیکھ سکتے ہیں….’’ اس نے بےصبری میں جواب دیا ‘‘میں اس درخت کو کاٹ رہا ہوں۔ شام ہونے کو آئی ہے اور ابھی تک صرف 5 درخت ہی کاٹ پایا ہوں ’’
‘‘تم بہت تھکے ہوئے لگتے ہو!’’ تاجر کہتا ہے ‘‘کتنی دیر سے یہ کام کر رہے ہو….؟’’
‘‘پانچ گھنٹے ہوگئے ہیں’’ وہ جواباً کہتا ہے ‘‘اور میں پریشان اور تھکا ماندہ ہوچکا ہے! یہ کام روز بروز سخت اور مشکل ہوتاجارہا ہے۔’’
‘‘اچھا، تم چند منٹ کے لیے رک کیوں نہیں جاتے ….؟’’ تاجر پوچھتا ہے۔
‘‘میرے پاس آرام کرنے کا وقت نہیں ہے’’ نوجوان تیزی سے جواب دیتا ہے ‘‘ میں درخت کاٹنے میں بہت زیادہ مصروف ہوں۔’’
تاجر نے اس سے پوچھا کہ ‘‘تم نے اپنی آری کو آخری بار دھار کب لگائی تھی….’’
لڑکا بولا – ‘‘دھار….؟ میرے پاس تو دھار لگانے کا وقت ہی نہیں بچتا میں تو سارے دن درخت کٹوانے میں مصروف رہتا ہوں۔’’
تاجر بولا – ‘‘بس یہی وجہ ہے کہ تمہارے درختوں کی تعداد روز بروز گھٹتی جا رہی ہے۔ اگر تم ٹہر کر آری کو دھار لگاؤ گے تو مجھے یقین ہے کہ دھار لگنے کے بعد یہ آری زیادہ تیزی سے کاٹے گی۔’’

***

 

 

یہی عادت نمبر 7 ہے جو ہر اس شخص زندگی پر بھی لاگو ہوتی ہے، جو روز صبح نوکری کرنے جاتے ہیں۔ خوب کام کرتے ہیں اور شام کو گھر واپس آجاتے ہیں اور اسی روٹین میں خود کو اتنا زیادہ مصروف کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے جسم اور ذہن کو بھی آری کی طرح دھار نہیں دے پاتے یعنی اپنی اسکِلز کو امپرُوو نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے وہ ناصرف اپنی ذہنی صلاحیتوں کو کھونے لگتے ہیں، بلکہ اپنے اوپر پہلے سے زیادہ محنت اور مشقت لاد کر جسمانی طور پر بھی تھکن، ڈپریشن اور دیگر امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
کامیاب اور پُراثر لوگوں کی ساتویں عادت ہمیں بناتی ہے کہ ہارڈ ورکنگ اور محنت مشقت کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہے، لیکن اسمارٹ ورک ہارڈ ورک سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ محنت و مشقت ضرور کیجیے مگر ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بھی نکھارتے رہیے۔ اپنی اسکِلز Skills کو Improve کرتے رہیے۔ یہی اس عادت نمبر 7 کا سبق ہے۔
ساتویں عادت اپنے اوزا ر کو تیز کرنے کے لیے وقت نکالنا ہے یعنی دل و دماغ کو باقاعدگی سے تروتازہ کرتے رہیے۔
ہم مشق کے تیس منٹ نہیں نکال سکتے، تاکہ ہماری صحت اچھی رہے۔ 15 منٹ کے لئے کوئی کتاب نہیں پڑھ سکتے تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہوسکے۔ اس کے بعد ہم شکایت کرتے ہیں کہ ہماری زندگی اچھی نہیں ہے۔
عادت نمبر 7 اپنے آپ کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔
یاد رکھیں….! جو ڈیلی یعنی روزانہ کی بنیاد پر ڈویلپمنٹ نہیں کرتا ، وہ ترقی نہیں کرتا اور موثر انسان نہیں بنتا۔ ڈویلپمنٹ شروع ہوتی ہے غورو فکر سے ، اپنے بارے میں سوچنے سے۔ اپنی عادتوں کے بارے میں سوچنا،اپنے مزاج کے بارے میں سوچنا، یہ سوچنا کہ میں کدھر جا رہا ہوں میں کیا کر رہاہوں….؟، میرا کل کیا تھا….؟، میراآجکیاہے ….؟
یاد رکھیے….! اگر آپ پچھلے کئی سالوں سے ویسے ہی ہیں جیسے کہ آج ہیں تو یہ کوئی ترقی نہیں۔ اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو کچھ بدلنا پڑے گا؟ اور کیا بدلنا پڑے گا…؟ دراصل اپنے آپ کو بدلناپڑےگا۔
اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کرنا تین طرح سےممکن ہے۔
ایک ذریعہ تو غوروفکر کرنا ہے۔
ڈویلپمنٹ کا دوسرا سورس یا ذریعہ کتابیں ہیں اور
تیسرا ذریعہ ابلاغی ذرائع (بامعنی گفتگو )ہیں۔
آپ کو کسی علم یا ہنر کے بارے میں معلوم نہیں تو پہلے خود غور فکر کریں ، اگر اس کے متعلق کتابیں ہیں تو ان سے استفادہ کریں اور پھر ایکسپیرینس رکھنے والے لوگوں سے گفتگو کریں۔
اسکول کی کتاب پڑھنا مجبوری ہوتی ہے لیکن جو شخص اس سے آگے بڑھ کر کتاب پڑھتا ہے تو یقینی بات ہے کہ وہ آگے بڑھنا جانتا ہے۔ وہ ایک نئی کتاب کا موضوع دیکھتا ہے اوراس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے پڑھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ان دیگر طالب علموں سے ایک درجہ آگے ہوتا ہے جو صرف اور صرف کورس کی کتابیںپڑھتےہیں۔
جب انسان زندگی میں مشکلات کی تیاری پہلے سے ہی کر لیتا ہے تو یقینی بات ہے اس کو وہ مشکلنہیں لگتی۔
کامیابی حاصل کرنے کے لئے تربیت حاصل کریں ۔ تربیت میںَ صرف کیے جانے والا وقت اور پیسہ کبھی ضائع نہیں جاتا بلکہ یہ سرمایہ کاری ہمیں منزل کے قریب تر لے جاتی ہے۔
عادت نمبر 7 ذاتی PC یعنی (پیداواری اثاثہ)ہے۔ یہ اپنے سب سے بڑے اثاثے کو برقرار رکھنے اور نشوونما کی عادت ہے اور یہ اثاثہ آپ خود ہیں۔ یہ آپ کی فطرت کے چاروں جہتوں کی تجدید renewing the 4 dimensions کا نام ہے۔

  1. طبعی یا جسمانیPhysical
  2. سماجیSocial ، جذباتی Emotional
  3. ذہنی ، دماغیMental
  4. روحانی Spiritual

 

گوکہ اس ضمن میں اور بھی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں لیکن زندگی زیادہ تر فلسفے ظاہری یا باطنی طور پر ان چار جہتوں سے متعلق ہی ہوتے ہیں۔ فلاسفر ہرب شیفرڈ Herb Shepherd ایک صحت مند متوازن زندگی کو ان چار اقدار کے حوالے ہی سے بیان کرتا ہے۔ نکتہ نظر(روحانی)، خود مختاری (ذہنی)، روابط (سماجی) اور جسمانی صحت (طبعی)۔ اسی طرح دوڑنے کا ماہر ایتھلیٹ جارج شی کان George Sheehan ، بھی چار عناصر کی بات کرتا ہے۔ اچھا جاندار ہونا (طبعی) اچھا کاریگر ہونا (ذہنی) اچھا دوست ہونا (سماجی) اور صوفی ہونا (روحانی)۔ موٹیویشنل نظریات بھی انہی چار جہتوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ معاشی (طبعی)، لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے (سماجی)، لوگوں کی ڈولپمنٹ کیسے کی جاتی ہےا ور انہیں استعمال کیسے کیا جاتا ہے (ذہنی) اور یہ خدمت، کام، کنٹریبیوشن آپ کو اندرونی طور پر کس قدر مطمئن کر پاتا ہے (روحانی)۔
‘‘آری تیز کرنے’’ کا مطلب بنیادی طور پر یہ ہے کہ ان چاروں جہتوں میں تحریک و تجدید کی جائے اور انہیں مسلسل، باقاعدہ، سمجھداری کے ساتھ اور متوازن طریقے سے استعمال کیا جائے۔
اس کام کے لیے ہمیں پروایکٹیو ہونا (عادت نمبر1)ضروری ہے۔ آری تیز کرنے کے لیے وقت نکالنا یقیناً Q2 یعنی اہم اور غیر ہنگامی کام (عادت نمبر3)سے متعلق ہے۔ Q2 کوہمارا عمل درکار ہوتا ہے۔ Q1(فوری اور ہنگامی کام) اپنی عجلت کی وجہ سے ہمارے اوپر عمل پذیر ہوتا ہے اور ہمیں مسلسل ایک دباؤ میں رکھتا ہے۔
ذاتی پیداواری اثاثہ پر کام کرتے ہوئے اس پر دباؤ ڈالتے رہنا چاہیے جب تک کہ یہ ہماری فطرت کا حصہ نہ بن جائے اور جب تک کہ یہ ایک صحت مند عادت کی صورت اختیار نہ کرلیں۔ چونکہ یہ ہمارے اثر کے دائرے کے درمیان میں واقع ہے، کوئی اور ہمارے لیے یہ نہیں کرسکتا۔ اپنے لیے یہ کام ہمیں خود ہی کرنا پڑے گا۔
زندگی میں اگر واقعی ہم اپنے لیے کوئی اہم اور طاقتور کام کرسکتے ہیں تو وہ یہی ہے کہ ہم اپنے اوپر انویسٹ کریں کیونکہ ہم ہی وہ اوزار ہیں کہ جس کے ذریعے ہم زندگی کے مسائل و مشکلات سے نپٹتے ہیں اور اس میں اپنا کنٹریبیوشن کرتے ہیں۔
ہم اپنی کارکردگی کے خود ذمہ دار ہیں۔ اپنی کارکردگی میں پراثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم چاروں طریقوں سے اپنی آری کو تیز کرنے یعنی سمجھنے اور سیکھنے کے لیے وقت نکالنے کی اہمیتکوسمجھیں۔

طبعی (Physical)جہت

طبعی جہت کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے جسم کی پُراثر طریقے سے دیکھ بھال اور حفاظت کریں۔ اچھی خوراک، مناسب آرام و سکون اور باقاعدہ ورزش۔ یہ سب اس میں شامل ہے۔
ورزش Q2کا کام ہے جس کے فوائد تو بےانتہا ہیں لیکن ہم میں سے اکثر اسے باقاعدگی سے نہیں کرتے ، کیونکہ اس کی کوئی ہنگامی ضرورت نہیں ہوتی اور چونکہ ہم اسے نہیں کرتے لہٰذا جلد یا بدیر ہم اپنے آپ کو Q1 میں پاتے ہیں۔ ہمیں صحت کے مسائل پیدا ہوچکے ہوتے ہیں اور ہم اپنی لاپرواہی کے نتائج سے نپٹ رہے ہوتے ہیں۔
ہم میں سے زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس ورزش کے لیے وقت نہیں۔ کیسی فضول سوچ ہے کہ ہمارے پاس ورزش کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ جب کہ ہم بات کررہے ہیں ہفتے میں چار سے چھ گھنٹے نکالنے کی یا یوں کہہ لیں کہ دن میں کم از کم آدھ گھنٹہ ۔ اس طرح دیکھیں تو یہ معمولی سا وقت ہے جبکہ اس وقت کے بےشمار فوائد باقی ہفتے کے 165تا 162 گھنٹوں پر محیط ہوتے ہیں۔ اور آپ کو یہ کرنے کے لیے کسی خاص چیز کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
اگر آپ جم یا اسپا میں جانا چاہتے ہیں یا ٹینس ، ریکٹ بال یا کوئی اور کھیل کھیلنا چاہتے ہیں تو یہ تو اور بھی اچھا ہے لیکن یہ جسمانی آری کو تیز کرنے کے لیے ضروری نہیں۔ ورزش کا ایک اچھا پروگرام وہ ہوتا ہے کہ جو آپ اپنے گھر میں کرسکیں اور جو آپ کو جسمانی طور پر تین طرح سے فائدہ پہنچائے۔ برداشت، لچک اور مضبوطی۔
برداشت،ایروبک یعنی سانس چڑھانے والی اس ورزش سے پیدا ہوتی ہے جس سے آپ کا دوران خون تیز ہو اور آپ کا دل آپ کے جسم میں زیادہ تیزی سے خون پمپ کرے۔ گو کہ دل بھی ایک پٹھا(Muscle)ہے لیکن براہ راست اس کی ورزش نہیں کی جاسکتی۔ دل کی ورزش بلاواسطہ دوسرے بڑے پٹھوں (مسلز)کے ذریعے ہی کی جاسکتی ہے اور ان میں سب سے اہم ٹانگوں کے پٹھے ہیں۔ اسی لیے تیز چلنے، دوڑنے، سائیکل چلانے، تیرنے، اسکیٹنگ، جاگنگ جیسی ورزشیں بہت فائدہ مند ہوتی ہیں۔
لچک،کھنچاؤ والی مشقوں کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔ زیادہ ماہرین کہتے ہیں کہ ایروبک ورزشوں سے پہلے وارم اپ Warm Up ہونا چاہیے اور ایروبک ورزشیں ختم کرنے کے بعد خود کو Coolیعنی پرسکون کرنا چاہیے۔
وارم اپ کرنے سے پٹھوں میں لچک پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس طرح وہ ذرا گرمائے جاتے ہیں اور سخت ورزش کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ بعد میں ورزش کے ذریعے جو تھکن پٹھوں (مسلز)میں اکٹھا ہوجاتی ہے اس کو پرسکون کرنے سے ذرا آرام مل جاتا ہے اور آپ کو تھکن محسوس نہیں ہوتی۔
مضبوطی،پٹھوں (مسلز)کی ایسی ورزشیں کرنے سے پیدا ہوتی ہے جس میں پٹھوں کو زور لگانا پڑے۔ مثلاً اٹھک بیٹھک لگانا، پُش اپ کرنا اور وزن اٹھانا۔ آپ پٹھوں کی مضبوطی کے لیے کتنی ورزش کرتے ہیں، اس کاانحصار آپ کی اپنی صورتحال پر ہے۔ اگر آپ جسمانی مشقت کا کام کرتے ہیں یا آپ کھلاڑی ہیں تو پھر پٹھوں کی مضبوطی آپ کی مہارت میں اضافہ کرے گی۔ لیکن اگر آپ کا بنیادی کام بیٹھ کر کرنے کا یعنی ڈیسک جاب ہے اور آپ کو پٹھوں کی زیادہ مضبوطی کی ضرورت نہیں تو معمولی ایروبک ورزش جو کہ آپ کو چاق و چوبند رکھ سکے، آپ کے لیےکافیہے۔
طبعی جہت پر کام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی آری کو متواتر تیز کرتے رہیں تاکہ ہم کام کرنے، چیزوں کو اپنانے اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت متواتر بڑھاتے رہیں۔ ورزش کا پروگرام بناتے وقت ہمیں سمجھ داری سے کام لینا چاہیے۔ اگر آپ نے ورزش کبھی نہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ شروع شروع میں آپ جوش میں آکر اپنی صلاحیت سے زیادہ ورزش کر بیٹھیں اور خوامخواہ اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلا کردیں۔ سب سے اچھا طریقہ آہستہ آہستہ شروع کرنا ہے۔ ورزش نئی تحقیقات کے مطابق ہونی چاہیے اور اگر اس میں ڈاکٹر کا مشورہ بھی شامل ہوجائے تو بہتر ہے اور سب سے بڑھ کر یہ آپ کے جسمانی صلاحیت اور ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔

روحانی Spiritual جہت

روحانی جہت کی تجدید آپ کو اپنی زندگی میں لیڈر شپ مہیا کرتی ہے۔ اس کا عادت نمبر 2 سے گہرا تعلق ہے۔ روحانی جہت آپ کا باطن ہے، آپ کا مرکز ہے۔ آپ کی اپنی اقدار کے ساتھ عزم و وابستگی ہے۔ یہ آپ کی زندگی کا ایک نجی اور انتہائی اہم حصہ ہے۔ یہ آپ کو متاثر کرنے والے تمام ذرائع سے منسلک ہے ۔
میں روزانہ کی عبادات و مراقبہ میں اپنی تجدید پاتا ہوں کیونکہ یہ میری اقدار کی نمائندگی کرتی ہے۔ میں مقدس کتاب پڑھتا ہوں اور عبادت کرتا ہوں اور اپنی تجدید محسوس کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو مضبوط ، مرکوز اور خدمت کے جذبے سے سرشارپاتا ہوں ۔
بعض لوگوں کے لیے اعلیٰ ادب اور موسیقی میں کھو جانا بھی باطنی تجدید کا باعث بنتا ہے۔
کچھ لوگوں کے لیے یہ کیفیت فطرت سے ہم کلامی میں چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ فطرت ایسے لوگوں کو اپنے انداز میں خوب نوازتی ہےکہ جو خود کو اس میں ڈبو دیتے ہیں۔ جب آپ شہر کے بے ہنگم شور شرابہ کو چھوڑ کر اپنے آپ کو فطرت کی روانی اور ہم آہنگی کے سپرد کردیتے ہیں تو آپ گویا نئے ہوکر واپس لوٹتے ہیں۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ شہر کی ہنگامہ آرائی اور شور شرابا آپ کے اندرونی سکون پر حملہ آور ہونے لگتے ہیں۔
آرتھر گورڈن Arthur Gordon روحانی تجدید کے حوالے سے اپنی کہانی بیان کرتا ہے جس کا عنوان The Turn of The Tide ہے، یہ کہانی اس کی زندگی میں اس وقت سے شروع ہوتی ہے جن دنوں اس نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ اس کی زندگی کا جوش و جذبہ ماند پڑگیا ہے، ہرچیز جامد اور بےمزہ ہوچکی ہے۔ بحیثیت لکھاری اسے اپنی تخلیقات فضول نظر آنے لگیں اور یہ صورتحال دن بدن بدتر ہوتیجارہیتھی۔
بالآخر اس نے ڈاکٹر سے مدد لینے کا سوچا۔ جب ڈاکٹر صاحب کو طبعی طور پر کوئی نقص نظر نہ آیا تو انہوں نے آرتھر سے کہا کہ کیا وہ صرف ایک دن کے لیے اس کا ایک مشورہ مانے گا۔ جب آرتھر نے رضا مندی ظاہر کی تو ڈاکٹر بولا کہ کل کا دن تم ایسی جگہ پر گزارو کہ جہاں جاکر تم بچپن میں سب سے زیادہ خوش ہوتے تھے۔ تم اپنا کھانا ساتھ لے جاسکتے ہو مگر نہ تو کسی سے بات کرنا اور نہ ہی کچھ پڑھنا، لکھنا یا ریڈیو وغیرہ سننا ۔ پھر اس نے چار نسخے لکھے اور اسے کہا کہ پہلا صبح 9 بجے کھولنا، دوسرا دن 12 بجے، تیسرا 3 بچے اور چوتھا شا م 6 بجے ۔
‘‘آر یوُ سیریئس ….؟’’ آرتھر نے پوچھا۔
‘‘جب تمہیں میرا فیس کا بل ملے گا تو پھر تم اسے مذاق نہیں سمجھوگے!’’ اس کا جواب تھا۔
اگلے دن آرتھر ساحل سمندر پر چلا گیا۔ جب اس نے پہلا نسخہ کھولا تو اس پر لکھا تھا :
‘‘غور سے سنو’’
اس نے سوچا کہ ڈاکٹر شاید پاگل ہوگیا ہے۔ وہ پورے تین گھنٹے کیسے صرف سن کر گزار سکتا ہے، چونکہ اس نے ڈاکٹر سے وعدہ کیا تھا لہٰذا وہ سننے لگا۔ اس نے سمندر اور پرندوں کی آوازیں سننا شروع کیں۔ کچھ دیر کے بعد اسے کچھ اور آوازیں بھی سنائی دینے لگیں جو کہ اسے پہلے نہیں آرہی تھیں۔ وہ جیسے جیسے سنتا گیا اسے تمام باتیں یاد آنے لگیں جو بچپن میں اس نے سمندر سے سیکھی تھیں۔ صبر، عزت اور چیزوں کے باہمی انحصار کی آگہی ۔ وہ آوازوں اور خاموشی کو سنتا رہا اور اس کے اندر ایک سکون سا اُترنا ہونا شروع ہوگیا۔
دوپہر کو اس نے دوسری پرچی کھولی ، اسمیںلکھا تھا:
‘‘ماضی میں جانے کی کوشش کرو’’
‘‘ماضی میں کس چیز کو یاد کروں!؟’’ اس نے حیران ہو کر سوچا۔ شاید بچپن کو یا شاید اچھے دنوں کی یادوں کو۔ اس نے اپنے ماضی کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے بارے میں سوچا اور کوشش کی کہ انہیں تفصیل کےساتھ صحیح صحیح یاد کرے ۔ اس دوران اسے اپنے اندر گرم جوشی پیدا ہوتی محسوس ہوئی۔
اب اس نے تیسری پرچی کھولی۔ اب تک پرچیاں آسان تھیں لیکن یہ پرچی ذرا مختلف تھی۔لکھا تھا :
‘‘اپنے مقصد کا تجزیہ کرو’’
شروع میں تو اس نے دفاعی ردعمل کا اظہار کیا۔ اس نے سوچا کہ وہ کیا چاہتا تھا۔ کامیابی، پہچان، تحفظ اور اس نے ان سب کو صحیح ثابت کرلیا لیکن پھر اسے خیال آیا کہ یہ باتیں تو خاص نہیں ہیں اور شاید اسی خیال میں اس کی جمود شدہ صورتحال کا جواب بھی تھا۔
اس نے اپنے مقصد و منشا کے بارے میں گہرائی سے سوچنا شروع کیا، اپنی ماضی کی خوشیوں کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور آخر اس کو جواب مل گیا۔ ‘‘یقین کا ایک جھماکہ سا ہوا ’’
بقول آرتھر :
‘‘اگر بندے کا مقصد اور منشا ہی درست نہ ہو تو پھر کچھ بھی درست نہیں ہوسکتا’’۔ اس بات سے قطعاً کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ایک ڈاکیے ہیں یا انشورنس ایجنٹ ہیں یا ہاؤس وائف ہیں، جو بھی ہیں جب تک آپ کو یہ احساس رہتا ہے کہ آپ دوسروں کے کام آرہے ہیں، آپ اپنا کام اچھے طریقے سے کرتے ہیں۔ جب آپ کا مطمع نظر صرف اپنی ذات، اپنا مطلب اپنی انا، ہوجاتا ہے تو پھر آپ کام اتنے اچھے طریقے سے نہیں کرتے۔ یہ قانون ، کشش ثقل کی طرح اٹل ہے۔
6 بجے آخری نسخے کو کھولا گیا۔ اس پر عمل کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ لکھاتھا :
‘‘اپنی فکر و پریشانیوں کو ریت پر لکھو’’۔
وہ ریت پر جھکا اور اس نے ایک ٹوٹی ہوئی سیپی کی مدد سے ریت پر کچھ الفاظ لکھے پھر وہ واپس گھر کی جانب چلنے لگا۔ اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسے معلوم تھا کہ ابھی سمندر کی موج سب اپنے ساتھ بہا لے جائیں گی۔
روحانی تجدید میں وقت لگتا ہے لیکن یہ Q2 کا کام ہے اور اس کو نظر انداز کرنے کے لیے بھی ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔
عظیم ریفارمر مارٹن لوتھر کے متعلق لکھا گیا ہے کہ ایک مرتبہ اس نے کہا :
‘‘آج مجھے بہت زیادہ کام کرنے ہیں اسے لیے مجھے دعا میں ایک گھنٹہ زیادہ لگانا پڑے گا ’’۔
ان کے مطابق دعا صرف کوئی مکینیکل فعل نہیں بلکہ طاقت کا منبع ہے جس کے ذریعے اپنی انرجی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا تھا۔
مذہبی رہنما ڈیوڈ اومیکے David O.Mckay کا کہنا ہے کہ
‘‘زندگی کی سب سے بڑی جنگیں وہ ہیں جو روزانہ روح کے خاموش نہاں خانوں میں لڑیجاتیہیں’’۔
اگر آپ یہ جنگیں جیت لیں اور اندرونی اختلافات کو طے کرسکیں تو پھر آپ کو حقیقی سکون حاصل ہوگا۔ اپنے بارے میں حقیقی خود آگہی پیدا ہوگی اور پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ فتوحات کا مطلب ہے کہ آپ باہمی تعاون کے انداز میں سوچتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کی فلاح اور بھلائی چاہتے ہیں اور ان کی کامیابی پر صحیح معنوں میں خوشہوتے ہیں۔


ذہنی Mental جہت

ہماری زیادہ تر ذہنی نشو و نما اور تربیت ہمارے باقاعدہ تعلیمی نظام اور نصاب کے تحت ہوتی ہے۔ لیکن ہم جیسے ہی اسکول، کالج کی تعلیم سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں تو ہم میں سے بہت سے اپنے ذہنوں کو زنگ لگنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اور پھر تاعمر ہم سنجیدگی سے پڑھائی لکھائی کا کام نہیں کرتے۔ ہم اپنی فیلڈ سے باہر نئے موضوعات کو گہرائی میں جاکر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم تجزیاتی انداز میں نہیں سوچتے اور نہ ہی لکھتے ہیں۔ ناہی تنقیدی انداز میں لکھتے یا یوں کہیں کہ کچھ نہیں لکھتے کہ جس کے ذریعے اپنے اظہار کی صلاحیت کو جانچ سکیں۔ ایسا اظہار جو انتہائی واضح، شفاف اور جامع زبان میں کیا جائے۔ اس کی بجائے ہم زیادہ تر وقت ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق زیادہ تر گھروں میں ہفتے میں 35 سے 45 گھنٹے تک ٹیلی ویژن لگا رہتا ہے۔ یہ تقریباً اتنا ہی وقت ہے جتنا بہت سے لوگ اپنی نوکریوں میں صرف کرتے ہیں اور اس وقت سے زیادہ جو بہت سے لوگ اسکولوں میں صرف کرتے ہیں۔ ہماری سماجی زندگیوں میں ٹی وی کا اثر بہت بڑھ چکا ہے۔ جب ہم اسے دیکھتے ہیں تو غیر شعوری طور پر اس میں دکھائی جانے والی اقدار کے تابع ہوجاتے ہیں۔ غیر محسوس طریقے سے ہم اس سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔
ٹیلی ویژن دیکھنے کے لیے عادت نمبر 3 (اہم کام پہلے)کی پراثر خود تنظیمی درکار ہوتی ہے۔ یہ اگر موجود ہو تو پھر آپ اپنی اقدار اور مقاصد سے مطابقت رکھتے ہوئے معلوماتی، پراثر اور تفریحی پروگراموں کا انتخاب کرسکتےہیں۔ ہمیں عادت نمبر 3 کی پریکٹس کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم خود کو موثر طریقے سے منظم کرسکیں اور کسی بھی ذریعے کو اپنے مشن کی تکمیل کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال میں لاسکیں۔
تعلیم اور مسلسل تعلیم، ذہن کا مستقل استعمال اور اس کی توسیع ، ذہنی تجدید کے لیے بہت اہم ہے۔ کئی مرتبہ اس کے لیے بیرونی ڈسپلن کی ضرورت ہوتی ہے جیسے کہ کلاس روم کا ماحول یا ایک منظم تعلیمی ماحول کی بندش اور کئی مرتبہ ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پروایکٹیو لوگ اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے بہت سارے طریقے جانتے ہیں۔ اپنے ذہن کی یوں تربیت کرنا کہ وہ اپنا خود تجزیہ کرسکے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔
میرے نزدیک تو آزادانہ تعلیم کے یہی معنی ہیں کہ اپنی زندگی کے بڑے سوالوں، مقاصد اور دوسرے زاویہ ہائے نظر کے حوالے سے تجزیہ کیا جائے۔ تعلیم کے بغیر تربیت ذہن کو تنگ اور بند کر دیتی ہے۔ اپنے مطالعہ کو وسیع رکھنا اور عظیم شخصیات کے افکار سے مستفید ہونا انتہائی اہم ہے۔
معلومات کے حصول اور اپنے ذہن کو وسیع کرنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ پہلے ادب کے مطالعہ کی عادت ڈالی جائے۔ یہ بھی Q2 کا ایک بہت اہم کام ہے۔ اس کےذریعے آپ دنیا کے موجود یا ماضی کےعظیم مفکروں کو جان سکتے ہیں اور ان کے تجربات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ میں بھرپور طریقے سے اس بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ ابتداء میں ہر ماہ ایک کتاب پڑھنی چاہیے اور پھر ہر دو ہفتوں میں ایک کتاب مکمل کرنی چاہیے۔
‘‘جو شخص کتاب نہیں پڑھتا وہ اس شخص سے مختلف نہیں کہ جو کتاب پڑھنا جانتا ہی نہیں۔’’
عظیم کتابوں، کلاسک ادب، خود نوشتوں، آپ بیتیوں، نیشنل جگرافک اور اسی طرح کی دوسری مطبوعات ہماری ثقافتی آگہی کے پھیلاؤ میں مدد دیتی ہیں۔ مختلف موضوعات پر تازہ ترین ادب ہمارے زاویہ ہائے نظر میں وسعت کا باعث بنتا ہے اور ہماری آری کو تیز کرنے میں مدد دیتا ہے۔ خاص طور پر اگر پڑھنے کے دوران ہم عادت نمبر 5 کی پریکٹس جاری رکھیں اور پہلے دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم مصنف کی بات کو صحیح معنوں میں سمجھنے سے پہلے ہی اپنی رائے قائم کرلیں تو اس تجربے سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے۔
آری کو تیز کرنے کا ایک اور موثر طریقہ لکھنے کی عادت پیدا کرتا ہے۔ اپنے خیالات کی ڈائری بنانے، اپنے تجربات، بصیرت، وجدان اور حاصل شدہ علم و آگہی کو لکھنے سے ذہن کی صفائی ہوتی ہے، الجھاؤ ختم ہوتا ہے۔ اتقان اور نکتہ نظر واضح ہوجاتا ہے ۔ اچھے خطوط لکھنے سے ہمارے احساسات خیالات اور آئیڈیا میں گہرائی سے گفتگو ہوتی ہے۔ سطحیت سے بلند ہو کر دوسروں کو سمجھانے کے لیے دلائل میں زور پیدا ہوتا ہے اور خود نقطہ نظر کو بہتر طور پر سمجھا جانے لگتا ہے۔
اپنے احساسات کو منظم کرنے اور اپنی پلاننگ کرنے سے بھی ایک مختلف نوعیت کی ذہنی تجدید ہوتی ہے۔ جس کا تعلق عادات نمبر 2 اور 3 سے ہوتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انجام کو ذہن میں رکھ کر کام شروع کیا جائے اور ایسی ذہنی تنظیم کی جائے جس سے آپ کو آپ کےاہداف کے حصول میں مدد حاصل ہو۔ اس سے ذہن میں تصور کی آنکھکھلتی ہے ۔
کہتے ہیں کہ جنگیں دراصل جنرل کے خیمے میں جیتی جاتی ہیں۔ تین جہتوں کے حوالے سے آری کو تیز کرنا ایک ایسی پریکٹس ہے جسے میں ‘‘روزانہ کی ذاتی فتح’’ کہتا ہوں اور میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ روزانہ ایک گھنٹہ مختص کردیں اور اپنی بقیہ ساری زندگی میں روزانہ یہ پریکٹس جاری رکھیں۔ اس ایک گھنٹے کا باقی وقت سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ یہ آپ کے ہر فیصلے اور ہر تعلق پر اثر انداز ہوگا۔ یہ آپ کو جسمانی، روحانی اور ذہنی طور پر مضبوط بنائے گا تاکہ زندگی کی مشکلات اور چیلنجوں کا زیادہ بہتر طریقے سے مقابلہ کرسکیں۔

 

 

ترجمہ: ہرمیس
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

بھوکے رہو بے وقوف رہو

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     12جون2005کا دن تھا جب اسٹین فورڈ ...

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 3   گزشتہ صفحات میں ہم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن