یوگا – 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

 یوگا کا تعلق زمانہ قدیم کے مشرق سے ہے ، جہاں یوگا کو ایک عبادت  جیسا درجہ حاصل تھا،    مگر  گزشتہ  برسوں میں ہونے والی سائنسی  تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ   جسمانی اور نفسیاتی ورزش کا یہ طریقہ انسانی صحت پر خوشگوار اثرات  مرتب کرتاہے، یوگا سے انسانی جسم کا پورا میٹا بولزم متحرک ہوجاتا ہے اور بیماریوں کے خلاف دفاع کرنے والا نظام مضبوط ہوجاتا ہے۔ دنیا بھر میں وزن کی کمی سے لے کر بلڈ پریشر، سانس کی تکلیف، ڈپریشن، مختلف جوڑوں کے دردوں اور کھچاؤ کی کیفیتوں سے نجات کے لیے یوگا کی مشقوں کی افادیت   تسلیم کی گئی ہے۔ اپنی انہی  خصوصیات کی بنا پر دنیا بھر میں یوگا کی مقبولیت میں اضافہ ہورہاہے۔

پہلی قسط

کیا آپ سدا جوان رہنا چاہتے ہیں؟ آپ کی یہ خواہش ہے کہ ہر عمر میں آپ کا ذہن درست کام کرتا رہے اور آپ جسمانی طور پر ہشاش بشاش رہیں…. ذہن اور جسم میں ہم آہنگی برقرار رہے یعنی ذہن کی اطلاعات پر جسم فوری طور پر عمل درآمد کرے…. آپ کے جسم میں قدرت کے عطیہ عظیم کے طور پر موجود مدافعتی نظام Immune System اس قدر قوی ہوجائے کہ بہت سی بیماریوں یہاں تک کہ کینسر تک سے مزاحم ہونے کی صلاحیت جسم میں پروان چڑھے اور دیگر وبائی ، ذہنی، جلدی اور نفسیاتی امراض سے محفوظ رہیں…. کیا آپ کی یہ آرزو نہیں ہے کہ آپ کی شخصیت جاذب نظر ہوجائے اور آپ کا شمار خوبصورت اور اسمارٹ افراد میں ہونے لگے….؟

یقیناً ان تمام سوالات کے لئے ہمارے زیادہ تر قارئین کا جواب اثبات میں ہوگا اور بہت سے سوالات اکثر ذہنوں میں ہوں گے مثلاً آخر یہ کس طرح ممکن ہے؟…. اس کے لئے تو نہ جانے کیا کیا کرنا پڑے گا؟…  آیئے۔۔!ہم آپ کو  بتاتے ہیں۔۔

 ان تمام ثمرات کے حصول کے لئے آپ کو کائناتی توانائی حاصل کرنا ہوگی۔ 

زمین پر سورج اور دیگر اجرام فلکی کے ذریعے دو طرح کی لہریں ہمیں موصول ہوتی ہیں جنہیں میگنیٹک اور الیکٹرو اسٹیٹک لہریں کہا جاتا ہے۔ یہ منفی اور مثبت دونوں طرزوں میں ہم پر اثر انداز ہوتی ہیں، اب ہمیں ایسا طرزِعمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہمیں زیادہ سے زیادہ مثبت کائناتی توانائی حاصل ہو۔ شاید بعض قارئین  کائناتی توانائی کے حصول کو ناممکن تصور کررہے ہوں ۔ تو جناب گھبرانے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ کائناتی توانائی آپ صرف صبح سویرے بیدار ہوکر یا دن میں کسی بھی وقت اپنی سہولت اور ٹائم ٹیبل کے مطابق مخصوص یوگا ورزش کے ذریعے حاصل کرسکتے ہیں۔

یوگا کی تعریف (Introduction)

یوگا ہندی زبان کا لفظ ‘‘یوگ’’ سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ملنا، متحد ہونا ، قابو پانا کے ہیں۔ ابتداء میں یہ لفظ یوگ ہی استعمال کیا جاتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ لفظ یوگ، یوگا میں تبدیل ہوگیا اور آج دنیا میں لوگ اسے یوگا کے نام سے جانتے ہیں۔

یوگا صرف ورزشوں آسنوں کا نام ہی نہیں بلکہ اس میں مکمل ڈاکٹریٹ بھی ہے۔ جو کہ ابتدائی دو لیول پر مشتمل ہے جس میں تقریباً تین ہزار ورزشیں ہیں۔ جن میں اکثربیماریوں کا علاج موجود ہے۔ مثلاً شوگر، کینسر، بلڈ پریشر، دمہ، پتھری، امراض دل، بواسیر، نزلہ، موٹاپا، گنج پن اور بالوں کے امراض، آنکھ کے امراض، چہرے، جسم اور ہاتھوں کو خوبصورت بنانا، آنکھیں بڑی کرنا، قد لمبا کرنا، یا قد بڑھانا، رنگ گورا کرنا، بینائی تیز کرنا وغیرہ ۔ 

ان عمل اور مشقوں سے آپ خود کو ہمیشہ چاق و چوبند، پرکشش، سدا جوان رکھ سکتے ہیں۔ اس فن کی صرف چند معمولی مشقوں سے آپ اپنی جوانی کا دورانیہ کئی سال تک بڑھا سکتے ہیں۔ یوگا کرنے والے کو جسمانی امراض عموماً لاحق نہیں ہوتے۔ مختلف آسن اور ورزشیں ہی انسان کو بہتر صحت مہیا کرتی ہیں۔ اس کی مشقیں اعضاء کی فعالیت (Function) کو بڑھاتی ہیں جسم میں بیماری کے خلاف قوت مدافعت میں حیرت انگیز اضافہ کردیتی ہیں۔ اس کی مشقوں سے جسم خوبصورت بنتا ہے اندرونی عضلات کے نقائص دور ہوتے ہیں۔ جگر، تلی، انتڑیاں، پھیپھڑے، دماغ، گردے، پٹھے اور اندرونی غدود جو کہ انڈو کرائن، تھائیرائڈ، گلینڈز اور ایڈرینل گلینڈز کہلاتے ہیں جلا پاتے ہیں۔

یوگا کی مشقوں کا سانس کے نرخرے سپر نلی کیپوا، تھائی مس گلینڈ، پیچوٹری گلینڈ اور پائنل گلینڈ سے بھی گہرا تعلق ہوتا ہے۔ یہ تمام غدود زندگی اور اس کے قدرتی افعال (Function) کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے پیدا ہونے والے کیمیائی مادے مثلاً ہارمونز، انزائمز خون کے بہاؤ میں شامل ہو کر نئے خلیے پیدا کرتے ہیں جو کہ جسم کی تعمیر کرتےہیں۔ دراصل ایک انسانی جسم میں بے شمار گلینڈز ہوتے ہیں۔ یوگا کی مختلف مشقوں اور آسنوں سے ان گلینڈز کی کارکردگی کو بڑھا کر زیادہ فعال بنایا جاتا ہے۔

یوگا ورزشوں کا ایسا مجموعہ ہے جس میں مقابلوں کا کوئی امتحان نہیں ہو تاہم یہ جسمانی قوت پر مشتمل تقریباً تمام کھیلوں مثلاً جو ڈو کراٹے، باکسنگ، کشتی، باڈی بلڈنگ اور جمناسٹک وغیرہ کے علاوہ تمام کھیلوں میں بے انتہا معاون ہے۔ مثلاً اس کی مشقوں سے جسم کو انتہائی لچکدار بنایا جاسکتا ہے۔ نیز سانس کی مخصوص ورزشوں کے ذریعے جسم کو مضبوط اور پٹھوں کو بھی مضبوط اور لچکدار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ جسم کے اسٹیمنا میں بھی یوگا کی مشقوں سے نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ 

یوگا کی مشقوں  کی اہم بات یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے ہر عمر کے افراد بچے، بوڑھے، جوان، مرد و عورتیں، لڑکے اور لڑکیاں استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔ آج کل کے اس مشینی دور میں جبکہ انسان تن آسانی کا مجسمہ بن کر رہ گیا ہے حد درجے بیماریوں نے انسانوں کی زندگی پر برے اثرات مرتب کردیے ہیں۔ بہت کم جگہ پر زیادہ ہاتھ پیر ہلائے بغیر ان سے فائدہ حاصل کرکے اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے ڈھال سکتا ہے۔ جبکہ کسی بھی دوسرے کھیل میں یہ بات نظر نہیں آتی۔ اس کے کرنے سے بیماریاں آپ سے دور بھاگیں گی اور آپ ایک پرمسرت، صحت مند اور ذہنی سکون کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

یوگا کی مشقوں سےآپ کو ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ آپ اپنے اندر ایک خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے۔ ان ورزشوں کی بدولت جسمانی لچک میں بے انتہا اضافہ ہوتا ہے اور قوت مدافعت بڑھتی ہے۔ دراصل یوگا میں سانس اور ارتکاز کی مشقیں نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔

 

یوگا کی تاریخ

یوگا کے ذریعے جسم میں موجود برقی لہروں کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔ انسان کو ودیعت کردہ اس پراسرار برقی توانائی کو Piezo Electricity کہا جاتا ہے جو نہ صرف بیماریوں کے خلاف مزاحم ہوتی ہے بلکہ لامحدود ذہنی اور جسمانی قوتیں بھی پیدا کرتی ہے۔ یوگا کی ورزشیں ذہنی اور جسمانی صحت کے لئے تریاق ہیں۔ محققین کے مطابق یہ ورزشیں تقریباً 2 ہزار برس سے مختلف شکلوں میں رائج ہیں اور ہر آسن کے پیچھے صدیوں کا تجربہ کار فرما ہے۔ ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود یوگا کی افادیت آج تک کم نہیں ہوئی بلکہ اس میں مزید جدت آگئی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یوگا کا آغاز ہزار ہا سال قبل برصغیر پاک وہند سے ہوا۔ پاکستان میں ‘‘موہنجوداڑو’’ کے ڈھائی ہزار سال قبل از مسیح کے آثار سے انکشاف ہوا ہے کہ اس دور میں بھی یوگا مروج تھا کیوں کہ وہاں کی دیواروں پر ایسی شبیہسات اور نقوش بنے ہوئے نظر آتے ہیں جن میں ایک شخص کو یوگا کے عام اور مقبول آسن میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔  دیگر ورزشوں کی نسبت یوگا کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں اتنے یوگا آسن ہیں جتنے کہ یوگی۔ یوگا کا بانی شیوا نامی ایک یوگی کو بتایا جاتا ہے۔ جس نے آسنوں کی تعداد 84 لاکھ بتائی…. تاہم ہزاروں سال کے تجربات کے بعد مہارشیوں نے اس کی تعداد کم کرکے صرف چراسی بلکہ اس سے بھی کم  کردی۔ہر شخص خواہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا، ان سے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ یوگا کے آسنوں کو دیکھا جائے تو یہ اُلٹی سیدھی حرکات نظر آتی ہیں۔ اگر کوئی یوگا سے نابلد شخص کسی فرد کو اس کا آسن کرتا ہوا دیکھ لے تو اس کی ذہنی حالت کو مشکوک قرار دے گا لیکن یہ اُلٹی سیدھی حرکات جسم وذہن کو فعال بناکر انسان کو ایسی دلکش، جامع اور ہمہ صفت شخصیت بناسکتی ہیں جس سے وہ معاشرے میں پر مسرت زندگی بسر کرسکتا ہے۔ 

حیاتیاتی نقطۂ نظر

یوگا گہرے سانس کے ذریعے نس نس میں خالص آکسیجن بھر دیتا ہے۔ جسمانی اعضاء خصوصاً ریڑھ کی ہڈی میں لچک پیدا کرکے انسان شباب کو برقرار رکھتا ہے اور حسن کو نکھارتا ہے۔ صحت کو برقرار رکھنے والے پراسرار غدود کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ اعضائے رئیسہ کو تازہ خون سے سیراب کرکے توانائی فراہم کرتا ہے مختصراً یوں کہئیے کہ یہ جسم میں موجود توانائی کو بروئے کار لاکر انسان کی قوتوں کو نکھارتا اور شخصیت کو باعثِ رشک بناتا ہے۔

جدید ریسرچ کے مطابق یوگا سے انسانی جسم کا پورا میٹابولزم متحرک ہوجاتا ہے اور بیماریوں کے خلاف دفاع کرنے والا نظام Immune system مضبوط ہوجاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یوگا کے آسنوں میں آپ اعضاء کو پھیلاتے ہیں، سُکیڑتے ہیں، جسم کے مختلف حصوں پر خاص انداز میں دباؤ ڈالتے ہیں اور مخصوص ترتیب سے سانس لیتے ہیں۔ ان تمام حرکات اور دباؤ سے جسم کے مختلف چکروں اور کشش ثقل Gravitation force کے مراکز میں واقع جسمانی ٹشوز میں ایک خاص برقی توانائی پیدا ہوتی ہے جس کا ذکر گذشتہ سطور میں بھی کیا گیا ہے یعنیPiezo Electricity۔ دباؤ سے پیدا ہونے والی یہ الیکٹرو میگنیٹک انرجی انسانی جسم کے اندر باریک ترین خلیوں، خون کے سرخ وسفید ذرات، قوت.مدافعت، خون کی گردش، آکسیجن کی ترسیل غرض پورے جسمانی اور ذہنی نظام پر صحت بخش اثرات مرتب کرتی ہے۔ کائناتی توانائی کے حصول کے مخصوص مشقوں  کا طریقہ بتانے سے پہلے یوگا کی اقسام اور سانس کی اہمیت واضح کرنا ضروری ہے۔ اب ہم یوگا کی اقسام پر روشنی ڈالتے ہیں جس سے کائناتی توانائی کی اہمیت مزید اجاگر ہوجائے گی۔

یوگا کی اقسام

کنڈلینی، لایا، تنترک، راجہ اور ہاتھا یوگا کی اقسام زیادہ مشہور ہیں۔ یوگا کی ہر قسم ایک مخصوص دور میں اپنی مخصوص فلاسفی اور طریقوں سے رائج رہی ہے۔ موجودہ دور میں جو یوگا عام ہے اور جس کے مخصوص آسنوں کے ذریعے مثالی ذہنی اور جسمانی صحت حاصل کی جاسکتی ہے وہ ہاتھا یوگا ہے۔ ہاتھا یوگا کی بنیاد سن عیسوی کے ابتدائی چند سالوں میں رکھی گئی تاہم ‘‘پرادی پیکا’’ نامی مشہور کتاب پندرھویں صدی میں لکھی گئی۔ ہاتھا یوگا پر اسی دور میں لکھی گئی ایک اور کتاب سیواسہتیا میں اسی یوگا کی مشقوں کی تفصیلات درج کی گئیں اور ان کا مقصد مختلف ورزشوں کے ذریعے جسم میں کائناتی قوتوں کو بیدار کرنا تھا۔ ہاتھا یوگا کی بنیاد بھی مراقبہ کی طرح ‘‘جسم لطیف’’ کی تھیوری پر ہے جسے جسم کا ایک اور غیر مرئی جسم کہا جاتا ہے اور ہمارے جسم کے اندر ہی ملفوف ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ یوگا کے لغوی معنی بھی مراقبہ اور ذہنی ورزش کے ہی ہیں۔ جس میں ذہن کو کسی ایک نقطے پر مرکوز کرکےہر  قسم کے خیالات سے آزاد کیا جاتا ہے جس کی بدولت انسان جسم لطیف سے روشناس ہوسکتا ہے۔

جسم لطیف میں پیدا ہونے والی توانائی دراصل پورے جسم پر کار فرما ہوتی ہے اور اسی پر زندگی کا دارومدار ہوتا ہے۔ آنکھ سے اوجھل جسم لطیف میں توانائی کے مراکز اور بہاؤکے جو راستے بنے ہوتے ہیں حقیقت میں ہمارا ٹھوس جسم اسی سے ترتیب پاتا ہے۔ اس جسم کا مرکزی راستہ Channel ریڑھ کی ہڈی میں سے گزرتا ہے۔ دو مزید راستے ریڑھ کی ہڈی کے دونوں پہلوؤں سے گزرتے ہوئے ناک کے دونوں نتھنوں پر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ انسانی جسم میں توانائی کے مراکز کو ‘‘چکر’’ کہا جاتا ہے اور پورے جسم میں ان کی تعداد سینکڑوں میں دیکھی گئی ہے، لیکن ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ ساتھ ایسے بڑے چکروں کی تعداد آٹھ ہے۔ توانائی سے لبریز ہر چکر مختلف جسمانی اعضاء کی کارکردگی سے مربوط اور ہم آہنگ ہوتا ہے۔ یوگا میں جو بھی   ورزش یا سانس کی مشق کی جاتی ہے وہ انہی چکروں میں پوشیدہ توانائی کو حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے۔

 

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کلر سائیکلوجی ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں   قسط 3 سُرخ رنگ۔۔۔ طاقت کا رنگ ...

فینگ شوئی – 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 6   فینگ شوئی اور آپ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے