Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

پارس ۔ قسط 1

کچھ نہیں بلکہ بہت سارے لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں ۔مرد ہونا طاقت اور اکرام کا سبب ہے۔عورت کا وجود کمزوری اورشرمندگی کی علامت ہے۔
ایسا سوچنے والے صرف مرد ہی نہیں ہیں کئی عورتیں بھی اس بات پر یقین رکھتی ہیں۔
بیٹے کی ماں بن کر بعض عورتیں خود کو محفوظ اورمعزز خیال کرتی ہیں، بیٹی کی ماں بن کر خود کوکمزور محسوس کرتی ہیں۔ مردانہ تسلط والے معاشر ے میں کئی مصیبتوں ،دکھوں اورظلمتوں کے درمیان ابھرنے والی ایک کہانی….مرد کی انا اورعونت، عورت کی محرومیاں اوردکھ،پست سوچ کی وجہ سے پھیلنے والے اندھیرے، کمزوروں کا عزم ،علم کی روشنی ،معرفت کے اجالے، اس کہانی کے چند اجزائے ترکیبی ہیں۔
نئی قلم کار آفرین ارجمند نے اپنے معاشرے کا مشاہدہ کرتے ہوئے کئی اہم نکات کو نوٹ کیا ہے۔ آفرین ارجمند کے قلم سے ان کے مشاہدات کس انداز سے بیان ہوئے ہیں اس کا فیصلہ قارئین خود کریں گے۔

پہلی قسط :
برگد کے درخت پر چڑیا کے دو بچے جنھوں نے ابھی کچھ ہی دیر پہلے دنیا میں سانس لی تھی چیں چیں کرتے دانہ کا تقاضہ کر رہے تھے۔ چڑا چڑیا انہیں دیکھ کر نہال ہوئے جارہے تھے۔چڑِا پُھر سے اُڑا کہ کچھ دانے کا انتظام کرے۔ ممتا کے جذبے سے سرشار چڑیا ان نومولودوں کو اپنے پروں میں چھپائے محتاط انداز میں بیٹھ گئی ۔اس وقت تو ان کی حفاظت ہی اس کی اولین ترجیح تھی۔
بل میں گھسے سانپ نے موقع غنیمت جانا ، وہ رینگتا رینگتا درخت پر چڑھا۔ابھی گھونسلے سے ذرا دور تھا کہ چڑیا کو سرسراہٹ محسوس ہوئی۔ وہ بھانپ گئی کہ خطرہ نزدیک ہے۔میرے یہ کلیجے کے ٹکڑے …. ایک کرنٹ تھا جو اس سے اس کے ننھے سے کمزور جسم میں دوڑ گیا۔ قریب تھا کہ سانپ چڑیا کے بچوں پر حملہ کرتا ، غصیلی چڑیا اس پر جھپٹ پڑی آؤ دیکھا نہ تاؤ ، چونچیں مار مار کر اس کا حال برا کردیا ۔سانپ اس اچانک حملہ کے لئے تیار نہ تھا ،وہ گھبرا گیا اورٹہنی سے پھسل کر نیچے زمین پرگر پڑا۔چڑیا نے پھر بھی سانس نہ لی۔درخت سے اُڑتی ہوئی نیچے آئی اور سانپ کو چونچیں مارتی رہی اسکی چونچ کسی باریک سو ئی کی طرح سانپ کی کھال میں اس طرح گھپ جاتی کہ وہ بلبلا کر رہ جاتا۔
کہاں وہ نازک جان کہاں وہ موٹی کھال والا ڈھیٹ کمبخت سانپ،پے درپے حملوں نے سانپ کو تو بے حال کیا ہی ، چڑیا کی بھی سانس اکھڑنے لگی، اسے مدد کی ضرورت تھی۔ اس کی نظریں بے قراری سے چڑے کو ڈھونڈ رہی تھیں۔اسی اثناء میں سانپ کو سنبھلنے کا موقع مل گیا ۔قریب تھا کہ وہ ایک ہی وار میں چڑیا کو اپنا لقمہ بناتا۔دانہ لاتے چڑے کی نگاہ اپنی چڑیا اور اس سانپ پر پڑی۔ وہ تیزی سے اڑان بھر کر سانپ کے قریب پہنچا اور اس کی آنکھ پر اپنی چونچ سے وار کیا ۔ سانپ تڑپ گیا۔گھبرا کر پیچھے ہٹا۔ چڑے کو پاس پاکر چڑیا کی جان میں جان آئی…. پھر کیا تھا۔ دونوں مل کر سانپ پر ٹوٹ پڑے، ان کی چونچوں کی پے درپے ضربیں سانپ کوہلکان کئے دے رہی تھی، اس نے اب جان بچانے کی سعی کی ، اور بھاگ کھڑ اہوا ….
کانپتی لرزتی چڑیا کا ایک پر خاصا زخمی ہوگیا تھا، وہ چڑے کے پروںمیں گھس گئی۔چڑے نے کانپتی چڑیا کو اپنے پر سے ڈھانپ لیا،جیسے کہہ رہا ہو…. ڈرتی کیوں ہے میں ہوں نہ۔ چڑے کا پر بھی زخمی ہوگیا تھا۔چڑیا اسے دیکھ کر پریشان ہوگئی۔دونوں فی الحال اڑنے کے قابل نہیں تھے۔ایک دوسرے کو تھامے پھدک پھدک ، ڈال ڈال ہوتے ، کسی نہ کسی طرح گھونسلے تک پہنچے۔ننھے ننھے دو سہمے، لرزتے کانپتے وجود اپنے ماں باپ کے منتظر تھے، چڑا چڑیا نے جلدی سے آگے بڑھ کر بچوں کو اپنے پروں کے سائے میں چھپالیا۔
٭٭٭
دھڑ دھڑ دھڑ، یہ کیسا طوفان تھا….. گھونسلہ ہل کر رہا گیا۔ دونوں نے گھبرا کر نیچے دیکھا۔سامنے والے گھر سے کچھ سامان باہر پھینکا جارہا تھا ، اور آخر میں ایک عورت کو تقریبا پھینکا ہی گیا تھا،ا س کی گود میں ایک ننھی سی جان بھی تھی، بال بکھرے ہوئے تھے، چہرہ تھپڑوں کی بارش سے لال ہورہا تھا، آنکھوں سے مینہ برس رہا.تھا۔
خبردار…..جو دوبارہ اپنی یا اس منحوس کی شکل دکھائی تو….. دروازہ پر کھڑے مرد نے الودا عیہ جملے کے طور پر یہ الفاظ ادا کیےاور پوری قوت سے دروازہ ہمیشہ کے لیے اس عورت اور اس کی بیٹی پر بند کردیا گیا۔
دھڑ ….اُف آواز کتنی زور دار تھی۔چڑیا کانپ گئی۔یہ ہولناک منظر دیکھ کر چڑیا اپنے چڑے سے کہنےلگی
شکر کہ ہم آدمی نہیں ۔
٭٭٭
دوستو…. یہ تو تھی ایک چڑا اور چڑیا کی کہانی۔
اللہ کی بنائی ہر مخلوق جوڑے کا مطلب سمجھتی ہے۔ ایک دوسرے کے لئے اپنی ذمہ داریوں ،ضروریات سے بخوبی واقف ہے۔ سمجھتی ہے کہ نر اور مادہ ایک دوسرے کے لیے کس طرح لازم و ملزوم ہیں۔نہیں جانا تو انسانوں میں سے بے شمار لوگوں نے نہ جانا۔اکثریت نے عورت کی اہمیت کو جانا مگر صرف ضروریات کی حد تک۔ دونوں کا آپس میں چاہے رشتہ جو بھی بنا۔ صدیوں سے انا کے پجاری ،ِ بنتِ آدم کوہر رشتے میں مغلوب ہی کرتے چلے گئے، وہ بھول گئے کہ مرد و عورت بھی دراصل ایک دوسرے کے دو رُخ ہیں۔ ایک جیسی کئی خصوصیات، صفات اور خواہشات کے حامل ہیں ۔
جب تک میں اُس سے نہیں ملی تھی مجھے ڈر تھا کہ تعلیم کی کمی ، مذہب سے دوری ہمیں دوبارہ دورِ جاہلیت کی پستیوں میں نہ دھکیل دے ۔مگر اس سے مل کر امید کی چند شمعیں روشن ہوئی ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ کی ملاقات بھی اس سے کرواؤں ۔
ایک کہانی اور سناتی ہوں جو اسی معاشرے کی ہے جہاں میں آپ اور وہ سانس لیتی ہے۔
وہ ایک ایسے پسماندہ تعفن زدہ ماحول میں پیدا ہوئی جہاں عورت کی سوچ کے پر بچپن میں ہی کترَ دیئے جاتے۔اسے سکھایا جاتا کہ عورت کی فلاح تعلیم یا عبادت میں نہیں بلکہ صرف اپنے شوہر کی دل و جان سے خدمت کرتے رہنے اور اس کی اطاعت اور تا بعداری میں ہے۔کئی جگہ عورتوں کو بتایا جاتا ہے کہ جو عورتیں ونی ہونے کی صورت میں اپنے باپ بھائی اور شوہر پر اپنی جان وار دیتی ہیں وہ توجنت میں جگہ پاتی ہیں۔ اس برین واشنگ کے نتیجہ میں انکی سوچ کی اُڑان باپ بھائی کی خدمت سے شروع ہوتی اور شوہرنامدار کی سخت نااہلی کے باوجود اس کی تابعداری اور خدمت گزاری اور اسے خوش رکھنے تک ہی محدود ہوجاتی ہے۔ او ل تو لڑکی کا پیدا ہونا ہی باعث شرم ہوتا اور کوشش ہوتی کہ اس مصیبت سے جلد سے جلد چھٹکارا حاصل کیا جائے اور اگر اس ننھی جان کو جینے کا حق دے بھی دیا جاتا تو اسکی وقعت کسی بھیڑ بکری سے زیادہ نہ ہوتی ، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کسی گاؤں کے مرد د ودھ دینے والی بھینسوں اور بکریوں کی تعداد پر تو فخر کرتے لیکن گھر میں بیٹی کی پیدائش ان کے لئے گویا ڈوب مرنے کا مقام بن جاتی۔ بیٹیوں کے عیوض روپے کھرے کرنا بھی معیوب نہ تھا۔ ایسی پست ذ ہنیت اور حبس ز دہ ماحول میں اس کی اللہ سے قربت ، مذہب سے لگاؤ اور ماورائی خوبیوں سے واقفیت خود اس کے لئے ایک کڑی آزمائش تھی۔ گاؤں کے مردوں کی انا پر ایک کاری ضرب تھی۔ جس کو قبول کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔

 

گاؤں کے دستور کے مطابق جس آدمی کے چاربیٹے ہوتے اس کا کلہ گاؤں کی مکھیا کے کلہ سے بھی بلند ہوتا، گا ؤں والوں کی نظر میں اس کا رُتبہ بلند ہوجاتا ۔پنچائیت میں اسے ویٹو کا حق حاصل ہوتا یعنی چار بیٹوں کا باپ کسی بھی فیصلے میں دخل انداز ہوسکتا تھا اوراسے چیلنج کر سکتا تھا۔ بڑی حویلی میں اسکی پہنچ ہوتی اور اس کی بات سنی جاتی ۔ عورت بھی خود کو بیٹوں کی ماں کہلانے میں بڑا ہی فخر محسوس کرتی۔ وہ یہ اعزاز پاکر پھولے نہ سماتی، نہ صرف سسرال میں بلکہ دوسرے گھرانوں میں بھی اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی۔ اس کی بات مانی جاتی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ چار بیٹوں کی پیدائش سے عورت کی وقعت اس کے شوہر کی نگاہ میں بہت زیادہ بڑھ جاتی۔

٭٭٭

دو،چار اور یہ چھ او ر اب کی چھ ملا کر ہو جا ئیں گی سونے کی پوری درجن بھر چوڑیاں، بانو نے تصور میں انگلیوں پر چھ چوڑیوں کا حساب لگاتے ہوئے کہا۔یہ کہتے ہوئے اس کے روم روم سے خوشی پھوٹ رہی تھی چہرہ لال ٹماٹر ہورہا تھا…..
ہائے باجی کتنی پیاری چوڑیاں ہیں۔ بانو کی چھوٹی بہن نصیبو نے اس کی چوڑیوں کی طرف دیکھتے ہوئےکہا۔
ہاں وہ تو ہیں ، بانو چوڑیوں والا ہاتھ لہرا کر اتراتی ہوئی بولی۔ اس نے وعدہ کیا ہے کہ چوتھے بیٹے کی پیدائش پر پوری چھ چوڑیاں بنوا کر دے گا۔سونے کی چھ چوڑیاں اس نے اپنی بات دہرائی جیسے خود اسے بھی اپنے شوہر کرم دین کے وعدے پر یقین نہ ہو….
ہاں ہاں سنا ہے میں نے بھی گاؤں کی اکلوتی درزن زرینہ جو دوپٹہ ٹانکنے میں مصروف تھی دوپٹے پر نظریں گاڑے بولی مگر اس کے لہجے سے حسرت صاف جھلک رہی تھی۔
لے َ ، تو، توُ کیوں جل مر رہی ہے؟ ۔اب دیکھ نہ ایسے نصیب سب کے تو ہوا نہیں کرتے۔بانو نے اس کی جلن کو مزید ہوا دی۔وہ جانتی تھی زرینہ کو دو بیٹیوں کی پیدائش پر اس کا شوہر گھر سے نکال چکا تھا۔
ہاں ، یہ تو ہے، باجی توُ ہے بڑی نصیبوں والی ۔
بانو کی بہن نصیبو دونوں بازو فضاء میں پھیلا کر بولی،
تین تین بیٹوں کی ماں ہے ،زمین ہے، بھینسیں ہیں اور اب چوتھے بیٹے کی پیدائش۔اس کے بعد تو تو ُ مہارانی بن جائے گی۔حویلی میں بڑی چودھرائین کے ساتھ بیٹھا کرے گی۔
نصیبو روانی میں بولتی ہوئی بانو کی آنے والی شاہانہ زندگی کا نقشہ کھینچتی بے دھیانی میں اس کی ٹانگ پر بیٹھ گئی ۔بانو نے جو چوڑیوں کو کلائی میں گھماتی ، خیالوں ہی خیالوں میں حویلی میں چودھرائین کیے ساتھ دعوت اڑا رہی تھی، زور کی چیخ ماری….
اوئی اللہ ، اری کیا ٹانگ توڑے گی میری ، ہٹ پرے۔بانو تکلیف سے بلبلا ئی اور نصیبو کی کمر پر زور سے ہاتھ مارا ۔ چل جا…. ذرا ٹھنڈی لسی لے کر آمیرے لیے۔ اب اتنی نازک بھی نہ بن۔ نصیبو منہ بناتی کمر سہلانے لگی۔
ہائے،نصیبو ذرا سوچ میری جیٹھانی کو جب خبر پہنچے گی تو اس کے سینے پر کتنے سانپ لوٹ جائیں گے۔
بانو نصیبو کی بات ان سنی کرتی پھر سے اپنی من چاہی دنیا بسانے لگی ۔
ہاں وہ تو ہے ،جل مر جائے گی ایمان سے، نصیبو نے بھی بہن کی ہاں میں ہاں ملائی۔
اب دیکھ نہ ….اس کے چھ بچوں میں چار بیٹیاں ہیں …. بے چاری کی ….سر اٹھائے بھی تو کیسے۔
ہمم،باجی کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو ….پر ذرا دھیان رکھنا، میں نے سنا ہے کہ وہ پرلے گاؤں میں کسی سفلی والے کے ڈیرے پر بھی جاتی ہے، یہ کہتے ہوئے نصیبو کی نظر زرینہ پر پڑی۔ وہ بدستور انجان بنی جلدی جلدی دوپٹہ ٹانک رہی تھی۔جیسے اسے کسی اور بات سے دلچسپی ہی نہ ہو۔ اور پھر اپنا منہ بانو کے کان میں تقریباً گھسا ہی دیااور رازدارانہ انداز میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ کہیں زرینہ نہ سن لے۔ بس تو خیال رکھنا تیری جیٹھانی کہیں جلن میں تجھ پر تعویذ ہی نہ کرادے۔
ارے کیا بک رہی ہے ….؟بانو خوفزدہ ہوگئی۔ اسے جھٹکے سے خود سے الگ کیا۔دیکھ میں نے تو سائیں کی درگاہ کا دھاگہ بھی باندھا ہوا ہے ۔بانو نے جلدی سے دائیں ہاتھ میں پہنی چوڑیاں پیچھے کرکے دھاگہ دکھایا۔دیکھ تو ، فضل دین کا ابا خود لایا تھا میرے لیے ۔ میں بھی خوب جانتی ہوں کہ برادری میں اور گاؤں میں کون کون عورت مجھ سے جلتی ہے۔
ہمم ، نصیبو نے اس کی بات خاموشی سے سنتے ہوئے لمبی سی ہمم کی ،جیسے کسی گہری سوچ میں گم ہو۔
بانو الجھ گئی ،اف ، کیا ہمم ہمم لگا رکھی ہے ۔ایک تو تجھ سے ایک کام کہو وہ بھی نہیں ہوتا ،کہا تھا لسی لادے مجھے کمزوری ہورہی ہے۔
افوہ! اچھا جاتی ہوں ،نصیبو جلدی سے باہر باورچی.خانے کی طرف دوڑ گئی ۔بانو نے خود کو سنبھالا، لیکن نصیبو کی بات سے وہ ڈر گئی تھی اس نے خود کو ہمت دلائی اور زرینہ کی طرف متوجہ ہوئی۔
اے ہے، زرینہ تجھ سے تو ابھی تک ایک دوپٹہ نہیں ٹکا…. باقی کپڑے کیا اگلی برسات سی کر دےگی؟۔
اس نے زرینہ کو ٹوکا ۔
نہیں نہیں توُ مجھے سارے کپڑے دے دے میں مہینے بھر میں سی دونگی ۔
ہاں سوچ لے کل پندرہ جوڑے ہیں۔ سارے بڑے فیشن والے…. اچھے اچھے ہونے چاہئیں جیسے وہ چودھرائین پہنتی ہے۔ بھئی جب اس سے ملنے جایا کروں گی تو یہ غریبوں جیسے کپڑے تو نہیں پہنوں گی نہ، آخر کو مجھ میں اور تم لوگوں میں فرق تو ہونا چاہیے نا ۔
زرینہ کا تو کلیجہ چھنی ہوگیا۔اس کا دل چاہا دوپٹے کی دھجیاں بکھیر دےلیکن وہ بت بنی دوپٹہ ٹاکتی رہی۔ کہتی بھی تو کیا ، بانو سچ ہی تو کہہ رہی تھی۔ یہ سب نصیب کی بات ہے ۔کیا جاتا اگر مجھے بھی ایک بیٹا ہوجاتا ، اس کا دل پھر جلنے لگا۔

سچ تو یہ ہے کہ جب سے بانو کا پاؤں چوتھی بار بھاری ہوا تھا گاؤں بھر میں کھلبھلی سی مچی ہوئی تھی، دائی رشیدہ نے کہہ دیا تھا کہ اس کے تین بیٹے ہیں اب کی بار بھی بیٹا ہی ہوگا۔گاؤں کے دستور کے مطابق جس آدمی کے چاربیٹے ہوتے اس کا کلہ گاؤں کیء مکھیا کے کلہ سے بھی بلند ہوتا، گا ؤں والوں کی نظر میں اس کا رُتبہ بلند ہوجاتا ۔پنچائیت میں اسے ویٹو کا حق حاصل ہوتا یعنی چار بیٹوں کا باپ کسی بھی فیصلے میں دخل انداز ہوسکتا تھا اوراسے چیلنج کر سکتا تھا۔ بڑی حویلی میں اسکی پہنچ ہوتی اور اس کی بات سنی جاتی ۔ عورت بھی خود کو بیٹوں کی ماں کہلانے میں بڑا ہی فخر محسوس کرتی۔ وہ یہ اعزاز پاکر پھولے نہ سماتی ،نہ صرف سسرال میں بلکہ دوسرے گھرانوں میں بھی اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی۔ اس کی بات مانی جاتی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ چار بیٹوں کی پیدائش سے عورت کی وقعت اس کے شوہر کی نگاہ میں بہت زیادہ بڑھ جاتی۔
غرض ، کر م دین اور بانو کے تو پیر ہی زمین پر نہیں ِ ٹک رہے تھے۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا کس طرح اپنی خوشی کا اظہار کریں ۔اگر بانو کی تیاریاں گاؤں کی کئی عورتوں کو جلا جلا کر مارہی تھی تو مردوں کا بھی کم خون خشک نہیں ہورہا تھا۔
دونوں میاں بیوی زبان کے تیز تو تھے۔ مگر کرم دین کچھ زیادہ ہی خود غرض اور اناپرست تھااور ا ب تو اس کے روئیے میں تکبر بھی جھلکنے لگا تھا۔ بہت کم لوگوں سے اس کی بنتی تھی ۔
چوتھے بیٹے کی پیدائش پر گاؤں کا اتنا اہم مقام بھی اس کو مل گیا تو پھر کیا ہوگا…. یہی سوچ کر بہت سے مرد اپنی عزتِ نفس کو پسِ پشت ڈالے وقت سے پہلے ہی کرم دین کی آؤ بھگت اور خوش آمدی میں لگ.چکےتھے۔

چوتھے بیٹے کی پیدائش پر گاؤں کا اتنا اہم مقام بھی اس کو مل گیا تو پھر کیا ہوگا…. یہی سوچ کر بہت سے مرد اپنی عزتِ نفس کو پسِ پشت ڈالے وقت سے پہلے ہی کرم دین کی آؤ بھگت اور خوشآمدی میں لگ.چکےتھے۔

گاؤں کے لوگوں میں ایک بندہ ایسا بھی تھا جس کی راتوں کی نیندیں حرام ہوئی ہوئی تھی۔جمال کی کرم.دین سے کانٹے کی دشمنی تھی ۔وجہ اس کی دونوں کا ہم مزاج ہونا تھا یعنی دونوں ہی بدزبان ، پھوہڑ تھے۔ کسی محفل میں بھی مل جاتے گالم گلوچ سے کم بات نہ ہوتی۔جمال حیثیت میں بھی کرم دین سے کچھ کم تھا۔ کرم دین کئی بار اسے یہ جتا بھی چکا تھا۔ دونوں کی زمین ساتھ ساتھ تھی ،مگر برابر نہ تھی۔ کرم دین کچھ بڑے حصے کا مالک تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر کرم دین کو پنچائیت میں ویٹو کا حق مل گیا تو وہ سب سے پہلے اپنی زمینوں کا پانی چھڑائے گا۔جسے جما ل چالاکی سے چرالیتا، وہ آہستہ آہستہ کرم دین کی زمین کے کچھ حصوں پر بھی قبضہ کرنا چاہتا تھا جس پر عمل درآمد اس نے شروع کر دیا تھا مگر اب اس کے منصوبے ڈھیر ہوتے نظر آرہے تھے۔
٭٭٭
کلثوم کے ابا سنتے ہو۔ بانو کی جیٹھانی کنیز اپنی بچی کے سر میں تیل ڈالے اس کا سر بری طرح رگڑ رہی تھی۔ بچی آنکھیں بند کیے ایسے ڈول رہی تھی جیسے اسے حال آرہے ہوں مگر کنیز کا ہاتھ اسی سبک رفتاری سے اس کے سر پر چل رہا تھا۔ ساتھ ساتھ زبان بھی چل.رہی تھی ۔
ارے میں نے کہا کچھ سنا تم نے ،اس نے پھر ہانک لگائی۔ارے ہاں بہرا نہیں ہوں میں ، دم لے ذرا سا، رحم دین جو ابھی ابھی گھر میں گھسا تھا ، پھولی ہوئی سانس پر قابو پاتے ،بان کی چارپائی پر ٹانگیں پسار کر بیٹھ گیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا۔
او کلثوم …!باپ کو پانی پلا آکر،کنیز نے بیٹھے بیٹھے کلثوم کو آواز لگائی۔
لا رہی ہوں اماں ،کلثوم اماں کے کہنے سے پہلے ہی کٹورے میں پانی بھرچکی تھی۔
او شابشے،لا پتر ، رحم دین نے ہاتھ بڑھا کر کٹورا کلثوم سے لے لیا اور غٹا غٹ ایک ہی سانس میں پی گیا۔
ہاں اب بول…. کیوں آوازیں لگا رہی تھی۔رحم دین آستین سے منہ پوچھتے ہوئے اپنی جورو کنیز کی طرف متوجہ ہوا۔
کچھ پتہ بھی ہے تجھے ….؟کنیز نے پھر سوال کیا ،
اری تُو بتائے گی تو پتہ چلے گا نہ ،
دیورانی بڑی اترائی اترائی پھر رہی ہے۔ کہتی ہے اب کی بار بھی بیٹاہوگا۔
کنیز کے لہجے میں تلخی بھی تھی۔
اچھا اچھا ….تو میں کیا کروں ….؟ رحم دین نے بڑی مشکل سے دھیمے سے کہا ۔جیسے کوئی کڑوی گولی.نگلی.ہو۔
ارے تم کیا کروگے ، کبھی سوچا ان بیڑیوں کا ،چار بیٹے لے کر بیٹھ گئی تو میاں تمہارا کتنا حصہ رہ جائے گا، جائیداد میں….؟کنیز کا ہاتھ بچی کے سر میں اور تیزی سے چلنے لگا ، اوئی اماں آہستہ،بچی تڑپ گئی ،
چل جا یہاں سے۔کنیزنے اس کو غصے سے دھکیل دیا۔نوکرانی سمجھ رکھا ہے اپنی ۔ وہ بڑ بڑائی
اری کیوں اس پر غصہ نکال رہی ہے ۔ اس کا کیا قصور ….؟
ہاں ہاں سارا قصور میرا ہی تو ہے ۔
ارے توُ بات کیوں بڑھارہی ہے ….؟
سن لے ، کلثوم کے ابا …..
ایک تو تُو بار بار مجھے کلثوم کے ابا مت کہا کر۔رشید کا با پ بھی ہوںمیں۔رحم دین بات کاٹ کر تیز لہجے میں بولا۔
ہا ں تو کلثوم کا باپ بھی توُ ہی ہے ،کنیز تڑخ کر بولی ،
چپ نہیں ہوگی توُ،دو تھپڑ پڑیں گے ، بالکل سیدھی ہو جائے گی ،کب سے تیری بکواس برداشت کر رہا ہوں۔ احسان مان میرا کہ تو نے چار بیٹیاں پیدا کی ہیں پھر بھی میں نے تجھے گھر میں رکھا ہوا ہے۔وہ غصےسےچلایا۔
ہاں توکون سا احسان کیا ہے تُو نے مجھ پر ۔جہیز میں اتنی زمینیں بھی تو لائی تھی ۔جس کا تُو کھا رہا ہے ۔ارے تُو کیا نکالے گا مجھے ۔کنیز کون سا چپ رہنے والی تھی۔
تُو دفع ہوجا میری نظروں کے سامنے ،ورنہ تیرا خون پی جاؤں گا ،رحم دین کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔وہ غصے سے تلملاتا ہوا اٹھا اور لکڑی اٹھا کر کنیز کو مارنے دوڑا ۔
یہ منظر دیکھ کر ننھی پروین بہن کی گود میں چھپ گئی۔کلثوم خود ایک 10 سال کی بچی تھی،مگر ماں باپ کے روئیے اور حالات نے اسے بیس سال کا کردیا تھا ۔ اس نے پروین کے ساتھ سارے بہن بھائیوں کو اپنی چھوٹی.سی گود میں سمیٹ لیا۔تینوں بہنیں تو بری طرح لرز رہی تھی۔باہر سے ماں کی چیخیں بلند ہورہی تھیں ۔کلثوم نے پریشانی سے آنکھیں بند کرلیں اور کانوں میں انگلیاں ٹھوس کر کسی خوف زدہ کبوتری کی طرح طوفان کے تھم جانے کا انتظار کرنے لگی۔
٭٭٭
آج بانو کی طبیعت صبح سے ٹھیک نہیں تھی۔ اسے گھبراہٹ ہورہی تھی ۔بولائی بولائی سی سارے گھر کا چکر لگاتی پھر تھک کر بیٹھ جاتی ۔مگر اس کے دل کو قرار نہ تھا۔کرم دین تو ویسے ہی اس پر فریفتہ ہوئے جارہا تھا۔ اس کی گھبراہٹ دیکھ کر زمین پر جانے کے بجائے گھر میں ہی رک گیا تھا۔
لے دودھ پی لے۔ جی اچھا ہوجائے گا تیرا۔ کرم.دین ایک ہاتھ میں دودھ کا گلاس لئے کھڑا تھا۔
ایسے پیار سے تو اس نے مجھ سے پہلے کبھی بات نہ کی تھی۔وہ حیران پریشان ساکت سی ہوگئی۔ ذرادیر کو تو وہ اپنی طبیعت بھی بھول گئی ۔اس نے جلدی سے دونوں ہاتھوں کا کٹورا سا بنا کر اس طرح دودھ کا گلاس پکڑا جیسے کوئی تبرک دونوں ہاتھوں میں لے کر ماتھے سے لگا کر چومے اور پھر مودب بیٹھ کر پورا کھا جائے کہ تبرک کی بے ادبی نہ ہو اور پھر اس کے بعد تبرک کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے عقیدت سے انگلیوں اور ہتھیلیوں کو بھی چاٹ لے۔یہی حال بانو کا بھی تھا ۔
ہہم ،کرم دین نے پھر بانو کو گھورا ،جیسے اس کے ٹھیک ہونے کا یقین کررہا ہو۔
بانو بیاہ کر کریم دین کے گھر آئی تو تیسرے یا چوتھے دن سے ہی اس نے چولہا ہانڈی سنبھال لیے تھے۔ اس کی ساس نے جو اس کی پھوپھی بھی تھی کئی دوسرے کام بھی اس کے ذمے لگادیے تھے۔

گاؤں کی عورتیں محنتی اور سخت جان ہوتی ہیں۔ بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ وہ مردوں سے زیادہ کام کرتی ہیں۔ ان کے کاموں کی صرف تعداد ہی زیادہ نہیں ہوتی بلکہ یہ عورتیں مشقت بھی مردوں سے زیادہ کرتی ہیں اور ان سب کا ۔۔۔۔۔ ….؟

گاؤں کے زراعت پیشہ لوگ صبح جلدی بیدار ہوکر کام کے لیے زمینوں پر چلے جاتے ہیں۔ گاؤں کی عورتیں بھی صبح سویرے اُٹھ کر چولہا ہانڈی اور گھر کے دوسرے کاموں میں مصروف ہوجاتی ہیں۔
بانو صبح اذانوں سے پہلے ہی گھر کے کام شروع کردیتی تھی۔ صرف کھانا پکانا ہی اس کے ذمہ نہ تھا۔ کچھ فاصلے پر واقع کنویں سے گھر کی ضروریات کے لیے پانی بھر کر لانا ، گھر کی صفائی کے ساتھ ساتھ بھینوں کو چارہ ڈالنا اور آگ جلانے کے لیے بھینسوں کے گوبر اور بھوسے کو ملا کر اُپلے بنانا بھی اس کی ذمہ داری میں شامل ہوگیا تھا۔
گاؤں کی عورتیں محنتی اور سخت جان ہوتی ہیں۔ بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ وہ مردوں سے زیادہ کام کرتی ہیں۔ ان کے کاموں کی صرف تعداد ہی زیادہ نہیں ہوتی بلکہ یہ عورتیں مشقت بھی مردوں سے زیادہ کرتی ہیں اور ان سب کا ۔۔۔۔۔ ….؟
مردوں کی طرف سے کبھی گالیاں ، کبھی مارپیٹ، کبھی طعنے …
بانو کام کے لیے کرم دین کے پلے باندھی گئی تو کریم دین اور سسرال کے دوسرے لوگوں کی طرف سے اسے بھی روایتی سلوک کا سامناکرنا پڑا۔ سختیاں، طعنے، کبھی تھپڑ اور لاتیں بھی۔ لیکن جیسے جیسے بانو کے ہاں بیٹوں کی پیدائش ہوتی گئی کئی لوگوں کے رویے اس کے ساتھ تبدیل ہوتے گئے۔
میں ٹھیک ہوں جی …..
اب چوتھے بیٹے کی آمد آمد تھی اور بانو کو اپنے شوہر کرم دین میں ایک نیا انسان نظر آرہا تھا۔ ایک نیا مرد محسوس ہورہا تھا۔ ایسا مرد عورت جس کی تمنا کرتی ہے جو عورت کو پیار دیتا ہے ، اس کی عزت کرتا ہے۔ اس کا خیال رکھتا ہے۔
ہوں ۔ کیا ، نہیں ….
میں ٹھیک ہوں جی …. بانو اپنے خیالات کی دنیا سے واپس آکر بولی۔
مگر مجھ کو ٹھیک نہیں لگ رہی ہے ۔جا ،،جاکر لیٹ جا میں گھر میں ہی ہوں۔ کرم دین نے نرمی سے کہا
آہو جی بانو کا دل دھک دھک کرنے لگا۔یامیرے مولا یہ کرم دین کو کیا ہوا ہے۔وہ حیران پریشان اٹھ گئی کمرے میں جاکر، بستر پر کروٹ لے کر لیٹ گئی۔مگر اس کو نیند کہاں آنی تھی۔ آنکھ بند کرتی تو کرم دین دودھ کا گلاس لئے آنکھوں کے سامنے آجاتا۔ وہ جلدی سے آنکھیں کھول دیتی ،ادھر ادھر کروٹیں بدلتی رہی۔اس نے کرم دین کا اتنا محبت بھرا روپ پہلی بار دیکھا تھا۔
کیا ہوا نہیں سوئی ابھی تک ،کرم دین نے کھڑکی سے اندر جھانکتے ہوئے بولا۔
وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی ۔نہیں جی نیند نہیں آرہی۔
اچھا چل اٹھ ،میں تجھے نہر پر لے کر چلتا ہوں۔ وہاں بیٹھے گی تو اچھا لگے گا۔چل اٹھ ۔
وہ جیسے بیٹھی تھی ویسے ہی کھڑی ہوگئی۔ چلیں جی میں تیار ہوں ۔
ہاں ٹہر… میں تانگہ لے کر آتا ہوں… اس حالت میں تُو پیدل کیسے جائے گی ۔
ہاں جی ٹھیک ہے ،بانو وہیں زمین پر بیٹھنے لگی ،کرم دین نے اس کو ٹوکا کیا کررہی ہے ،باؤلی ہوگئی ہے کیا۔ اوپر چارپائی پر بیٹھ میں ابھی آیا۔
نصیبو جو کھڑکی کی اوٹ سے جھانک جھانک کر یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی،کرم دین کے باہر جاتے ہی دوڑ کر بانو کے پاس چلی آئی۔
ہائے باجی قسم لے لو ،تیرا یہ آنے والا بیٹا بڑا ہی خوش قسمت ہے،ارے وِیر جی کیسے بدل گئے ہیں۔
ہاں یہ تو ہے ،بانو ابھی تک حیران حیران سی تھی۔
میں تو کہتی رہی ہوں کہ راستے میں درگاہ سے بھی ہوتی آنا ،اور ایک دھا گہ اور بندھوا لینا، نصیبو ہنستے ہوئے بولی ۔
اتنے میں کرم دین تانگہ لے آیا ۔
آج اس کا دل ایک انجانی سی خوشی محسوس کررہا تھا۔آج پہلی بار اس کے شوہر نے اس سے اتنی محبت سے بات کی تھی۔ اسے اپنے ساتھ ہونے کا احساس.دیاتھا۔
آخر کو اس کے بیٹوں کی ماں جو ہوں۔اس کا سر غرور سے تن گیا۔
سادہ دل عورت…. شوہر کے دو میٹھے بول اسے بے مول خرید لیتے ہیں۔ غرور ہورہا تھا اسے خود پر،کاش کنیز دیکھتی یہ پیار ،جل مر جاتی۔ اس نے چشمِ تصور میں کنیز کو جلتے روتے دیکھا اور ہنس پڑی۔
واپسی پر راستے میں درگاہ سے گزرتے اس نے کرم دین سے درگاہ پر کچھ دیر رکنے کے لئے کہا۔وہ بھڑک گیا ،
آج جمعرات تھوڑی ہے ،گھر چل تھک گیا ہوںمیں….
بانو کرم دین کو غصہ ہوتے دیکھ کر خاموش ہوگئی۔پھر نہ جانے کیوں ، اچانک سے کرم دین نے تانگے والے کو درگاہ کی جانب مڑنے کا کہہ دیا۔درگاہ پہنچ کر وہ بولا۔
او تُو جا اندر میں یہیں تیرا انتظار کرتا ہوں ۔
آہو جی ، بانو نے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا اور درگاہ میں حاضری دے کر کرمو کے ساتھ گھر واپس آگئی۔
جب تو گئی تھی تو پیچھے سے سکینہ آئی تھی۔تیرا حال پوچھ رہی تھی۔ گھر میں بانو کی بہن نصیبو نےاسےبتایا۔
سچی کہوں تو مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی وہ ۔بانو نے منہ بناکر کہا۔پتہ نہیں کہاں کی ماسٹرنی بنی رہتی ہے ہروقت اور اوپر سے بے اولاد ۔نہ بابا ایسے لوگوں سے تو دور ہی رہنا اچھا۔
ہاں باجی ٹھیک کہہ رہی ہے ،میں نے بھی کوئی زیادہ بات نہیں کی ،پر تجھے پتہ ہے نہ ،ویرجی کی وجہ سے خیال کرنا پڑتا ہے کہ کہیں یہ نہ سمجھے نصیبو بدتمیز ہے کہ میرے دوست اور اس کی بیوی کا خیال نہیں کرتی ۔
اچھا تو کیا شفیق بھی ساتھ آیا تھا۔بانو بولی۔
نہیں وہ تو اکیلے ہی آئی تھی ۔پھر آنے کا کہہ کر گئیہے ۔
بانو اوہ بانو کرم دین کی تیز آواز پر باتوں کا سلسلہ وہی منقطع ہوگیا۔آئی جی،بانو گھبرا کر جلدی سے اٹھ.گئی۔۔
سوتی کیوں نہیں تُو،جا جاکر آرام کر۔تُو بڑی قیمتی ہے میرے لئے ۔
ہاں جی میں سوتی ہوں ۔
٭٭٭
اور وہ دن بھی آگیا کہ جب کرم دین کا کلہ اونچا ہونے والا تھا۔وہ صبح سویرے کھیتوں پرجا چکا تھا۔ پیچھے سے بانو کی طبیعت بگڑنے لگی۔نصیبو ،دوڑ کر دائی رشیدہ کو بلا لائی۔ ایسے میں گاؤں کی دوسرے عورتیں بھی جمع ہونے لگیں۔ بے چینی و تجسس اتنا تھا کہ کوئی کرم دین کو بلا نے کھیتوں پر جانے کو تیار نہ تھا۔ اور پھر یہ انتظار بھی ختم ہوا۔
ٹھک….ٹھک ….ٹھک کرم دین بہت تیزی سے زمین پر کدال مارہاتھا۔ دائی رشیدہ کرم دین سے ذرا دور ہٹ کر کھڑی خود کو کوس رہی تھی، میں یہاں آئی ہی کیوں ؟ ا س کمبخت کو بتانے۔مگر پھر ہمت یکجا کرکے ڈرتے ڈرتے بولی :
کریم دین….! تجھے رب نے بہت سوہنی کڑی دی ہے ، تُو چل تو ،۔۔ اسے دیکھے گا تو چھاتی نال لگائے بنا چین نہ آئے گا ۔
کیا کہا…! لڑکی ہوئی ہے…؟
یہ کیسے ہوسکتا ہے….؟ تو نے ہی تو کہا تھا کہ اب کی بار بھی لڑکا ہی ہے۔
ہاں میں نے لڑکے کا ہی کہا تھا پر…. یہ رب دی مرضی۔ اس کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے۔
او رشیدہ، تُو جا یہاں سے…. اپنی منحو س شکل گم کر ورنہ ، ا بھی کہ ابھی تجھے یہی گاڑ دونگا۔
اُسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ جس کدُال سے وہ زمین کا سینہ چیرنے میں مصروف تھا ، بیٹی کی پیدائش کی خبر سنانے والی دائی رشیدہ کو اسی کدال سے چیر ڈالے ،
آئی بڑی رب دی مرضی بتانے والی۔
کرمو غراتے ہوئے کدال دونوں ہاتھوں میں بلند کرکے تیزی سے دائی ر شیدہ کی طرف لپکا۔رشیدہ کرمو کے تیور دیکھ کر خوف زدہ ہوگئی اور الٹے قدموں بستی کی طرف دوڑ پڑی کہ گھر جا کر ہی دم لیا ۔
رشیدہ کو یوں الٹے قدموں بھاگتے دیکھ کر ، کریم دین نے کدال نیچے پھینکی کدال سیدھی زمین پر گرنے کے بجائے کرم دین کی پنڈلیوں اور پیر سے ٹکراتی ہوئی نیچے گری۔ کدال ٹکرانے سے لگنے والی خراشوں سے ہلکا سا خون بہنے لگا۔
زمین پر کام کرنے والے کسانوں کے لیے چھوٹی موٹی خراشیں لگنا عام سی بات ہوتی ہے لیکن کرم دین کو یہ خراشیں لڑکی کی پیدائش کی خبر ملنے کے بعد لگیں تھیں۔ کرم دین نے اپنی ان چوٹوں کا سبب جھٹ لڑکی کی پیدائش کو قرار دے دیا۔
منحوس۔ کہیں کی … پیدا ہوتے ہی مصیبتیں آنا شروع ہوگئیں۔
خراشوں پر مٹی چھڑک کر وہ ایک ہارے ہوئے انسان کی طرح درخت کے نیچے جا پڑا۔ صدمے کی شدت سے اس کا جسم بے جان سا ہورہا تھا درخت تلے ہاتھوں کا تکیہ بنا کر اس پر سر ٹِکا کر لیٹ گیا۔
تین بیٹوں کی پیدائش نے کرم دین کا سرفخرسے بلند اور سینہ چوڑا کردیا تھا لیکن لڑکی کی پیدائش کی خبر سن کر اسے سخت صدمہ ہوا تھا ۔وہ پریشان تھا آنے والا وقت کا سوچ کر ۔
میں کیسے سامنا کرونگا ۔ سب کے سامنے میری کتنی ہنسی اُڑے گی۔
لڑکی کی پیدائش نے کرمو سے ایک بلند مقام ملتے ملتے ،چھین لیا تھا ۔اس کی انا یہ بار اٹھانے کو تیار نہ تھی۔ وہ اپنی بے بسی تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا…. تکبر اسے بغاوت پر ُاکسا رہا تھا۔ لیکن اس کا دماغ پھر بھی چل رہا تھا۔
یہ کیا ہوگیا….؟ میں کیا کروں۔ اس منحوس کا گلا نا دبا دوں…؟ اس کا جسم بے جان سا ہورہا تھا….

(جاری ہے….)
تحریر: آفرین ارجمند
از روحانی ڈائجسٹ مئی 2014ء

یہ بھی دیکھیں

پارس ۔ قسط 6

چھٹی قسط :  اماں میری گڑیا…..پارس نے سکینہ کو جھنجھوڑنا شروع کردیا۔ دونوں جیسے ہوش …

کشورِ ظلمات ۔ قسط 12

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….     …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے