کشورِ ظلمات ۔ قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….

 

’’اندھیرا بھی روشنی ہے‘‘….
یہ حضرت قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے….
جس چیز کو ہم اندھیرا کہتے ہیں اُس میں بھی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا میں بھی زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ حرکت میں ہے…. ہم نے چونکہ اندھیرے کو خوف کی
علامت بنا دیا ہے، اس لئے اندھیرے میں روشن یہ دنیا ہم پر منکشف نہیں ہوتی…. لیکن ایسے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں جب کشورِ ظلمات کے مظاہر کے ادراک
کا احساس ہونے لگتا ہے…. سائنسی علوم کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں زندگی بیِشمار پیکر میں جلوہ گر ہوسکتی ہے…. سائنسی تحقیق کے مطابق
ایک زندگی وہ ہے جو ’’پروٹین اِن واٹر‘‘ کے فارمولے سے وجود میں آئی ہے۔ ہم انسان جو پروٹین اور پانی سے مرکب ہیں اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل
کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی مخلوق ’’پروٹین اِن ایمونیا‘‘ کے فارمولے پر تخلیق ہوئی ہو تو اُسے ایسی غذا کی ضرورت ہرگز نہ ہوگی جو انسان استعمال کرتے ہیں…. ممکن ہے وہ فضا
سے انرجی جذب کرکے اپنی زندگی برقرار رکھتی ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کے جسم میں نظام ہضم کے آلات مثلاً معدہ، جگر، گردے، آنتیں وغیرہ بھی موجود نہ ہوں!…. اُن
کے جسم کی ہیئت ہمارے تصور سے بالکل ماوریٰ ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کا جسم وزن سے بالکل آزاد ہو!…. وہ ہوا میں اُڑسکتی ہو!…. اتنی لطیف ہوکہ چشم زدن میں
ہماری نظروں سے غائب ہوجائے!…. وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہو!…. مابعد الحیاتیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسی مخلوق کا پایا جانا جانا
بعیدازامکان ہرگز نہیں ہے….
ظلمات کے معنی ہیں….تاریکی…. اور کشور کے معنی دیس یا وطن کے ہیں…. تاریکی کے دیس میں آباد ایک مخلوق سے متعارف کرانے والی یہ کہانی فرضی واقعات پر
مبنی ہے…. کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی….

 

پہلی قسط

’’لیکن یاد رہے…. وہ کوٹھی پچھلے تیس برسوں سے ویران ہے!‘‘….۔ شیراز نے اُسے دوبارہ سمجھانے کی کوشش کی….
’’دیکھو بھئی جسے ہم ویرانہ کہتے ہیں وہاں بھی آوازوں کا ہجوم ہوتا ہے‘‘….
’’کیا مطلب؟‘‘…. شیراز نے اُسے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے اُس کی دماغی صحت پر شک کر رہا ہو….
’’ارے یار یہ کوئی ایسی اچھنبے کی بات بھی نہیں ہے…. سائنس کہتی ہے کہ ہم جو کچھ بولتے ہیں…. ہماری آوازیں فضا میں ریکارڈ ہوجاتی ہیں…. یعنی ویرانہ بھی درحقیقت ویرانہ نہیں ہوتا…. وہاں بھی ریکارڈ آوازوں کی گہماگہمی موجود ہے…. بس ہمیں یہ گہما گہمی اور شوروغل سنائی نہیں دیتا‘‘….
’’ہاں یہ تو ہے…. لیکن!‘‘…. شیراز کے لہجے میں بے یقینی برقرار تھی….
’’بھئی اب وہ کوٹھی گذشتہ تیس سالوں سے ویران ہے اور جیسا کہ تم نے بتایا کہ وہاں جو بھی گیا اُسے خوفناک آوازیں سنائی دیں…. تو بھائی خوف تو اندرونی کیفیت کا نام ہے…. بہت سی چیزوں پر ہم میں سے بہت سے لوگ خوف کا ردّعمل ظاہر کرتے ہیں…. تو اُنہی چیزوں کو بعض لوگ ایڈونچر کے طور پر لیتے ہیں…. یعنی خوف اُس چیز میں نہیں، بلکہ ہمارے اندر پوشیدہ ہوتا ہے….۔ اب یہ بھی تو ممکن ہے اُن لوگوں کو کسی طرح سے کوٹھی کی فضا میں ریکارڈ کچھ آوازیں سنائی دے گئی ہوں اور چونکہ وہ لوگ اس چیز کے لئے ذہنی طور پر تیار نہ تھے اس لئے خوف زدہ ہوگئے‘‘….۔ عمر نے اس قدر دلائل دئیے تو شیراز کندھے اُچکاکر خاموش ہوگیا…. لیکن دل ہی دل میں وہ اُس وقت کو کوس رہا تھا جب اُس نے بے دھیانی میں عمر سے اُس کوٹھی کا تذکرہ کرد یا تھا….
دراصل بات یہ تھی کہ عمر کو فوری طور پر کرائے کا گھر چاہئے تھا…. اور اس شہر میں اُسے اتنے معمولی کرائے پر آفس کے بے حد قریب گھر تو درکنار فلیٹ کا حصول بھی ناممکن تھا….کرائے کی مد میں صرف بجلی اور پانی کے بل کی ادائیگی ہی تو کرنی تھی…. اور بجلی آخر وہ کتنی استعمال کرلیتا ہے…. یعنی لگ بھگ زیادہ سے زیادہ تین چار سو روپے ماہانہ!….سوسائٹی ایریا میں یہ کوٹھی شیراز کے تایا کی تھی، جو گذشتہ 25 سالوں سے امریکہ میں مقیم تھے…. اس کے علاوہ اُن کی دو اور کوٹھیاں بھی اسی شہر میں تھیں، ایک کوٹھی اسلام آباد میں تھی…. سال میں دو تین مرتبہ وطن کا چکر ضرور لگاتے…. اس کوٹھی کے علاوہ اس شہر کی دونوں کوٹھیاں بھاری کرائے پر اُٹھی ہوئی تھیں…. کرائے کی وصولی اور کوٹھیوں کی دیکھ بھال شیراز کے سپرد تھی…. یہ پُرانی کوٹھی اس لئے آباد نہ ہوسکی کہ اس کے متعلق یہ بات پورے علاقے میں مشہور ہوگئی تھی کہ اس میں جنّات نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے…. اور وہ یہاں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتے…. جس کسی نے بھی اس کوٹھی کو کرائے پر حاصل کیا وہ توبہ توبہ کرتے ہی نکلا…. آخری کرایہ دار شاید دل کا مریض تھا اس لئے کوٹھی میں شفٹ ہونے کے چند دنوں بعد ہی چل بسا…. پھر اُس روز سے یہ کوٹھی بند پڑی تھی…. حیرت کی بات یہ تھی کہ تیس سال کے دوران چار یا پانچ چوکیدار آئے گئے…. لیکن اُن میں سے کسی نے بھی کوئی حیرت انگیز، خوفناک یا ماورائی واقعہ نوٹ نہیں کیا…. شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ چوکیدار کا کمرہ مین گیٹ کے بالکل ساتھ تھا…. اور جناتی واقعات ہمیشہ کوٹھی کی عمارت میں ہی رونما ہوئے…. باہر کبھی کوئی ایسی بات محسوس نہیں کی گئی…. جو کچھ بھی تھا وہ کوٹھی کے اندر تھا….یا تو وہ باہر نہیں آسکتا تھا یا پھر کوٹھی کی فضا میں ہی اس کا مشاہدہ ہوسکتا تھا….۔ باہر کی فضا اُسے واپس اُسی ظلمات میں دھکیل دیتی تھی…. جو اُس کا وطن تھا….
ایسا نہیں تھا کہ عمر بہت نڈر اور بہادر تھا یا پھر اُسے ماورائی مخلوقات اور جنات سے ملاقات کا کوئی شوق تھا…. حقیقت تو یہ تھی کہ وہ بالکل عام سا نوجوان تھا…. لیکن اُس کے حالات اُس دوران بہت پریشان کُن ہوگئے تھے…. لہٰذا یہ جان کر کہ کوٹھی کی انیکسی اُسے کچھ عرصے کے لئے مل سکتی ہے…. اُس نے فوراً وہاں رہائش کا فیصلہ کرلیا….اُس کے لئے تو ایک کمرہ ہی کافی تھا…. انیکسی کوٹھی کی اصل عمارت سے کچھ فاصلے پر تھی…. درمیان میں پائیں باغ اور کار پورچ تھا…. کوٹھی کی یہ انیکسی بھی اُس کے شہر کے گھروں سے دُگنی بڑی تھی…. انیکسی کے ایک پورشن کی چابی شیراز نے اُسے دے دی تھی…. اگلے روز چھٹی تھی لہٰذا اگلے روز ہی شفٹ ہونے کا فیصلہ کرلیا…. شیراز نے اُسے چوکیدار سے ملوا دیا تھا…. اُس نے انیکسی کی صفائی کروائی اور پرانے فرنیچر کی مارکیٹ سے ایک سنگل بیڈ، الماری، ڈائننگ ٹیبل اور ایک کرسی خرید لایا…. ابھی اُسے مزید چیزوں کی ضرورت تھی لیکن اُس کی جیب اجازت نہیں دیتی تھی…. چنانچہ مزید خریداری اُس نے اگلی تنخواہ تک ملتوی کردی….
وہ اب تک رشتے کی ایک خالہ کے یہاں مقیم تھا…. خالہ اور خالو بے انتہا کنجوس تھے…. وہ اُنہیں ہر مہینے اپنی استطاعت کے مطابق ماہانہ خرچ بھی دیا کرتا تھا…. لیکن وہ لوگ نامعلوم کیوں مطمئن نہیں ہوتے تھے…. گھر میں داخل ہونے سے رات گئے تک اُسے یہی گردان سننے کو ملتی کہ مہنگائی ہوگئی ہے…. دال اتنے روپے کلو تھی، اب اتنے روپے ہوگئی ہے…. رات کو سونے سے قبل وہ کوئی کتاب پڑھنا چاہتا یا پھر آفس کا کچھ کام کرنا چاہتا تو خالو کی آواز آجاتی کہ میاں صاحبزادے بجلی کا بل بہت زیادہ آیا ہے…. لائٹ بند کرکے سوجائو…. جلدی سونا صحت کے لئے اچھا ہوتا ہے…. وغیرہ وغیرہ…. اُس نے اپنے آفس کولیگ شیراز سے ذکر کیا کہ کوئی کرائے کا گھر ہو تو بتائو…. اُس نے کئی فلیٹس کے متعلق بتایا لیکن جب عمر کو کرائے کا پتہ چلا تو اُس کے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑ گئے…. وہ دو دن تک بہت پریشان رہا…. اسی پریشانی میں اُس سے کھانا بھی نہ کھایا گیا…. شیراز کے پاس بھی اُس کی پریشانی کا کوئی حل نہ تھا…. سستا کرائے کا گھر مل تو جاتا لیکن شہر کے بالکل پچھواڑے اور اُن علاقوں کا ماحول بھی اچھا نہیں ہوتا…. شیراز کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے دوست کی کس طرح مدد کرے…. اسی دبائو میں شیراز نے عمر سے اپنے تایا کی جناتی کوٹھی کا تذکرہ کر ڈالا…. اور پھر کیا تھا عمر، شیراز کے گلے ہی پڑگیا….
٭٭٭
بس!…. بے بس مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی…. گرمی اور حبس کے مارے بُرا حال ہورہا تھا…. کنڈیکٹر مزید مسافروں کی گنجائش نکالنے کے لئے لوگوں کو زبردستی آگے بڑھا رہا تھا…. گیٹ کے پاس کچھ زیادہ ہی رش تھا…. کنڈیکٹر کو خود مزید آگے بڑھنا دشوار محسوس ہوا تو اُس نے دھکے دے کر زبردستی نکلنے کی کوشش کی….
’’انسان بن!…. میرے کپڑوں کا ستیاناس مار ڈالا‘‘….ایک بڑے میاں چلائے
’’اتنا نواب ہے تو ٹیکسی میں کیوںنہیں جاتا‘‘…. کنڈیکٹر نے خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے کہا
’’تمیز سے بات کر…. جانور نہ ہو تو‘‘….
’’جانور تو خود ہوگا!‘‘….
’’اوئے بزرگ آدمی سے کس طرح بات کر رہا ہے‘‘…. ایک نوجوان کے خون نے جوش مارا اور اُس نے یہ کہتے ہوئے کنڈیکٹر کو زوردار تھپڑ مار دیا…. شاید کنڈیکٹر کو اس کی توقع نہ تھی…. ایک ثانئے کے لئے تو وہ گم سُم سا ہوگیا…. پھر اُس نے ایک ہاتھ سے نوجوان کے بال پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے اُس کے چہرے پر مکے برسانے شروع کردئیے…. نوجوان نے بھی ناصرف دفاع کیا بلکہ ٹھیک ٹھاک جوابی حملے بھی کر ڈالے…. ایک صاحب نے بیچ بچائو کرانا چاہا تو اُنہیں بھی ایک مکا رسید ہوگیا…. بس کے مسافر بھیڑ بکریوں کی مانند بس میں ٹُھنسے ہوئے تھے…. قریب کھڑے ہوئے لوگ اس لڑائی کی زد میں آنے سے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے….
عمر کی نگاہ بس کی کھڑکی سے باہر گئی تو پتہ چلا کہ جامع کلاتھ مارکیٹ کا اسٹاپ آرہا ہے…. وہ بمشکل گیٹ تک پہنچ سکا…. بس سے نیچے اُتر کر وہ کچھ دیر اپنے کپڑے اور بال درست کرتا رہا…. اُس کو سگنل کے پاس اُترنا تھا، لیکن اس ہڑبونگ کی وجہ سے وہ بہت آگے اُتر گیا تھا…. جامع کلاتھ کے قریب ہی فریم شدہ طغرے اور تصاویر کی بہت سی دکانیں ہیں…. اُسے بھی اپنے کمرے میں لگانے کے لئے ایک طغریٰ خریدنا تھا….
کراچی میں اُس کو چھ مہینے گزر گئے تھے…. کراچی شہر میں اُسے بہت سے رنگ نظر آگئے…. ہر رنگ جداگانہ اور منفرد تھا…. سب سے منفرد بات جو اُسے یہاں محسوس ہوئی وہ یہ تھی اس شہر کی مٹی میں اُسے قلندرانہ رنگ نظر آیا…. شاید اسی بناء پر ہر ایک کو بلاامتیاز رنگ ونسل یہاں سر چھپانے کی جگہ مل جاتی ہے۔۔۔ غریب سے غریب آدمی بھی یہاں تھوڑا بہت ہاتھ پیر چلاتا ہے تو چند ہی برسوں میں اپنے حساب سے آسودہ حال ہوجاتا ہے…. اس شہر میں بہت سے طبقات ہیں…. امیروں میں بھی، غریبوں میں بھی اور متوسط درجے کے لوگوں میںبھی…. یہاں ہر طبقے کے لوگوں کو روزی روٹی ملتی ہے…. چھ مہینے میں اُس نے گھوم پھر کر یہ محسوس کیا کہ یہاں شاید ہی کوئی ایسا بندہ ہو جو بھوکا سوتا ہو…. ایک اور خاص بات جو اُس نے اس شہر میں دیکھی وہ یہ تھی کہ شاید پاکستان کا یہ واحدشہر ہوگا جہاں ادائیگی کا کلچر موجودہے۔ یہاں ہر آدمی ادائیگی کرتا ہے…. پانی میّسر نہ ہو تو رقم ادا کرکے پانی، ٹینکرز کے ذریعے حاصل کرتا ہے…. پولیس سے تحفظ نہیں ملتا تو اپنی حفاظت کا خود بندوبست کرتا ہے اور سیکورٹی ایجنسیز کو ادائیگی کرتا ہے…. یہاں تک کہ اس شہر کا بھکاری بھی اپنا ’’ٹھیا‘‘ رقم ادا کرکے حاصل کرتا ہے….اور ناصرف یہ بلکہ وہ پولیس یا ٹریفک پولیس کو ماہانہ ’’بھتہ‘‘ کی ادائیگی بھی کرتا ہے…. لیکن اس شہر کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کے شہریوں میں اجتماعی شعور کا فقدان ہے…. یہی وجہ ہے کہ ادائیگی کا کلچر ہونے کے باوجود اجتماعی مسائل کے گٹر دن رات اُبلتے رہتے ہیں….
اُسے خریدنا تو ایک طغریٰ تھا لیکن اُس کی نگاہ ایک تصویر پر جم کر رہ گئی…. وہ تصویر تھی بھی بہت پُرکشش…. کسی ماہر مصور نے مامتا کو اسکیچ کرنے کی کوشش کی تھی…. ایک ماں جس کے چہرے سے ملکوتی حسن چھلک رہا تھا…. اپنی گود میں لیٹے معصوم بچے کو مامتا بھری نظروں سے دیکھ کر دھیرے سے مسکرا رہی تھی…. تصویر کے دام پوچھے تو مناسب لگے…. پھر بھی اُس نے مول بھائو کرکے تصویر خریدلی…. تصویر لے کر وہ آگے بڑھا تو ایک دکان پر ’’یاحی یاقیوم‘‘ کا ایک نہایت خوبصورت طغریٰ بھی نظر آیا…. طغریٰ خرید کر وہ چلتا ہوا برنس روڈ کی طرف آنکلا…. یہاں سے اُس نے واپسی کے لئے بس پکڑنی تھی…. ابھی وہ بس اسٹاپ سے کچھ فاصلے پر تھا کہ پیچھے سے کسی نے اُسے ایک دھپ رسید کیا…. وہ اپنی دھن میں مگن تھا، اس اچانک اُفتاد پر بُری طرح بوکھلا گیا…. پیچھے مُڑ کر دیکھا تو اُس کے کالج کے دوست ظفر، حسن اور بوبی دانت نکالے کھڑے تھے…. ایک سال بعد اُن سے ملاقات ہوئی تھی…. ظفر نے اُسے ہکا بکا سا دیکھا تو خاص لاہوری اسٹائل میں بولا ’’حھّپـی پا اوئے رانجھیا‘‘…. اور اُسے سینے سے لگالیا…. دیر تک وہ چاروں اُسی جگہ کھڑے کالج کی یادیں تازہ کرتے رہے…. فٹ پاتھ پر چلنے والوں کو دشواری ہورہی تھی…. ایک شخص نے اُنہیں ٹوکا ’’بھائی یہ گپ مارنے کی جگہ نہیں ہے‘‘…. تو اُنہیں خیال آیا کہ وہ راستے میں کھڑے ہیں…. پھر وہ ایک ہوٹل میں جابیٹھے….
اُس کا تعلق جھنگ سے تھا اُس کے تینوں دوست لاہور میں رہتے تھے…. کالج ایجوکیشن کے دن اُس نے ہاسٹل میں رہ کر گزارے تھے۔ جھنگ سے تعلق ہونے کی وجہ سے سب اُسے رانجھا کہا کرتے…. حسن وعشق کی مشہور عالم داستان ’’ہیر رانجھا‘‘ جھنگ ہی کی سرزمین پر رقم ہوئی…. اور یہی نہیں بلکہ مرزا صاحباں، سہتی مراد، کیماں تے ملکی، محرم لک، مراد فتیانہ اور طاہرہ بگی…. کی لوک داستانیں بھی اسی سرزمین سے تعلق رکھتی ہیں….
حسن وعشق کی لوک داستانوں میں بھی کیا جادو ہے!…. یہ داستانیں صدیوں سے دُہرائی جارہی ہیں، سُنی جا رہی ہیں …. ہیر رانجھے کی داستان کو کم وبیش 72 شعراء نے فارسی اور پنجابی زبان میں نظم کیا ہے لیکن جو مقبولیت سید وارث شاہؒ کی ہیر کو حاصل ہوئی وہ کسی کو میسر نہیں…. کچھ لوگ ان لوک کہانیوں کو فرضی تصور کرتے ہیں…. لیکن اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حقیقت پر مبنی ہیں…. ایک مغربی مورخ ربسٹن کے مطابق ’’ہیر‘‘ دراصل ایک یونانی لفظ ہے۔ یونانی دیومالائی کہانیوں میں ایک خوبصورت دیوی کا ذکر ملتا ہے جس کو ہیر یا ہیرا کہا جاتا تھا…. سکندر اعظم جب دنیا فتح کرنے نکلا تو معرکے سر کرتے جھنگ تک آن پہنچا…. سکندر کی یادگار یونانی قبائل جونیے لونگ اور وینس آج بھی جھنگ میں ہیر کے مزار کے اردگرد آباد ہیں…. ممکن ہے ہیر کا تعلق یونانی قبیلے سے ہو…. بہرکیف حقیقت جو بھی ہو صوفی شعراء نے ہیر اور رانجھے کی روحانی عظمت کا اعتراف کیا ہے…. یہ دونوں کردار جذبۂ صادق کی علامت بن کر امر ہوچکے ہیں اور جب بھی کسی جواں دل میں عشق کی چنگاری روشن ہوتی ہے تو حسن وعشق کی داستانوں کے یہ کردار اس چنگاری کو بھڑکتے ہوئے شعلوں میں بدل دیتے ہیں….
عمر کے دل میں ایسی کوئی چنگاری سلگی ہی نہیں جو اُسے عشق کے بھڑکتے ہوئے شعلوں سے آشنا کردیتی…. وہ اپنے تمام دوستوں سے خاصا مختلف واقع ہوا تھا…. وہ اکثر اُن لوگوں سے کہا کرتا کہ ’’تم جسے محبت کا نام دیتے ہو….وہ محض جسمانی تقاضہ اور جبلّت ہے!…. یہ تقاضہ دنیا کی ہر مخلوق میں موجود ہے…. درندو ں میں…. پرندوں میں…. اور وہ محبت بالکل مختلف تھی جو رانجھے نے ہیر سے اور ہیر نے رانجھے سے کی تھی…. جب میرے اندر ایسا کوئی جذبہ پیدا ہوا تو میں بھی کہوں گا کہ مجھے محبت ہوگئی ہے یا مجھے عشق ہوگیا ہے‘‘….
’’ورنہ کسی پردے دار، پابندِ صوم وصلوٰۃ، ماہر خانہ داری وکشیدہ کاری نیک پروین سے شادی کر لو گے…. جو تمہیں صبح لسّی کا گلاس اور پراٹھے کھلایا کرے گی…. اور تمہارے آٹھ دس بچے پال پال کر اللہ میاں کی گائے بن جائے گی‘‘…. اور چاروں طرف سے قہقہے پڑتے….
آج بھی وہ ہوٹل میں ایک ٹیبل کے گرد بیٹھے تو کالج لائف کی بہت سی یادیں تازہ کرکے قہقہے لگاتے رہے…. ظفر اور بوبی نے تو لڑکیوں کے متعلق اتنی باتیں کیں کہ اُسے بوریت شروع ہوگئی….
’’یار تم لوگوں کے پاس آج بھی لڑکیوں کے علاوہ کوئی اور موضوع نہیں ہے؟‘‘….
’’بھائی رانجھے…. تو کیسا رانجھا ہے؟…. تجھے کائنات کا حسن دکھائی نہیں دیتا…. کیا خوب کہا ہے اپنے اقبالؒ نے؎
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘….
’’کائنات میں یقینا وجودِ زن سے ہی رنگ ہیں…. لیکن کائنات کی تخلیق کا کوئی مقصد بھی تو ہوگا نا…. اُس مقصد کو بھی تو تلاش کرو‘‘…. اُس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا….
’’او یار…. ہم تو کب کا تلاش کرچکے…. تُو بتا تُو کب تلاش شروع کرے گا‘‘….
’’حق کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں…. وہ تو خود تمہاری تلاش میں ہے‘‘….
ایں…. یہ کس نے کہا…. وہ چاروں بُری طرح چونک گئے…. مُڑ کر دیکھا تو ایک فقیر اُن کی ٹیبل کے قریب کھڑا تھا…. اُن کو دیکھ کر اُس نے صدا لگائی….
’’حق ہُو!‘‘…. اور قد آدم لمبی لاٹھی کو زور سے زمین پر مارا…. لاٹھی کے اوپری سرے میں لگے بہت سے گھونگرو چھن چھنا چھن بج اُٹھے…. فقیر کی آنکھوںمیں بلا کی کشش تھی…. عمر نے جیب سے چند سکے نکالے اور فقیر کے کشکول میں ڈال دئیے…. اِس دوران اُس نے محسوس کیا کہ باوجود اس کے یہ فقیر میلا کچیلا دکھائی دیتا ہے…. اُس کی شخصیت میں سلیقہ اور نفاست واضح طور پر نظر آرہی ہے…. سر کے بال بھی بے ہنگم نہیں بلکہ اُن میں تیل لگا کر کنگھا کیا گیا ہے…. ہلکی ڈاڑھی کے بھی خط بنے ہوئے ہیں…. کپڑے میلے ضرور نظر آرہے ہیں…. لیکن اُن میں بھی وقار سا محسوس ہورہا ہے…. اس کے ذہن میں خیال آیا کہ کہیں یہ میل کچیل ایسا تو نہیں ہے جیسے شیشے پر داغ پڑجائے تو آدمی کو اپنا عکس بھی دھندلا دکھائی دیتا ہے…. ایسا تو نہیں ہے کہ قدرت نے لوحِ محفوظ کے پروجیکٹر کے لینس پر کچھ لگا دیا ہو، اس لئے ڈسپلے ہونے والی تصویر میں یہ میل کچیل ہمیں نظر آرہا ہے…. اصل تصویر ایسی نہ ہو…. پھر اُسے حیرت بھی ہوئی کہ اُس کے ذہن میں یہ خیال کیوں کر آیا…. اُس نے کبھی بھی اس طرح کی کوئی بات یا واقعہ کہیں پڑھا نہیں تھا…. پھر آخر یہ بات اُس کے دھیان میں کہاں سے آئی؟….
’’بچہ سوچتا بہت ہے…. سوچنا اچھی بات ہے…. سوچ سوچ!…. ضرور سوچ!….سوچ سے ہی بندہ اللہ تک پہنچتا ہے‘‘…. فقیر نے مسکراتے ہوئے کہا اور ہوٹل سے باہر نکل گیا….
’’یار تُو ویسے کا ویسا ہی ہے…. ذرا نہیں بدلا…. پہلے بھی ایسے لوگوں کو بہت لفٹ کراتا تھا‘‘…. بوبی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا
’’بُری بات ایسے نہیں بولتے‘‘…. عمر نے کہا
’’کیوں؟‘‘…. ظفر نے سگریٹ سلگاتے ہوئے پوچھا….
’’بھئی ان فقیر لوگوں میں بعض اللہ والے بھی ہوتے ہیں…. انہوں نے سوانگ بھر رکھا ہوتا ہے تاکہ پہچانے نہ جائیں…. اگر یہ موڈ میں ہوں تو اُس بندے کی تقدیر بھی بدل دیتے ہیں….جو اُن کی خدمت کرتا ہے‘‘….
’’ہم نے تو کبھی نہیں سُنا‘‘…. ظفر نے سگریٹ کا کش لے کر دھواں اُڑاتے ہوئے کہا
’’اس لئے نہیں سنا کہ تم نے کبھی اس جانب توجہ ہی نہیں دی…. وہ جو اپنے کالج کے پاس ایک بندہ جوس کا ٹھیلا لگاتا تھا…. یاد آیا‘‘….
’’ہاں ہاں کیوں نہیں!…. کیا ہوا اُسے؟‘‘….
’’وہ مجھے یہاں کراچی میں ملا تھا…. وہ تو فروٹ جوس ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی کا مالک بن گیا ہے‘‘….
’’امیزنگ!‘‘….
’’نہیں یار‘‘….
’’ابے تو نے کسی اور کو دیکھ لیا ہوگا‘‘….
’’نہیں میں اُس سے ملا تھا…. وہ وہی ٹھیلے والا تھا…. نذیر احمد! …. اُس نے بتایا کہ ایک فقیر میرے پاس آتا تھا…. میں کبھی اُسے کھانا کھلا دیتا کبھی جوس پلادیتا …. جیسا وہ کہتا میں اُس کی خدمت کردیتا…. وہ کچھ دیر میرے ٹھیلے کے ساتھ بیٹھ کر بیڑی پیتا…. پھر نجانے کہاں چلا جاتا…. نہ میں نے اُس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور نہ اُس نے مجھے بتایا…. ایک روز اُس نے مجھ سے کہا…. پُتّر اپنا ہاتھ تو دکھا…. میں نے دکھایا…. اُس نے میری ہتھیلی پر دو مرتبہ اپنا دایاں ہاتھ پھیر ا اور کہنے لگا…. جا پُتّر جا!…. میں نے تیرے ہاتھ کی لکیریں بدل دیں…. میں نے بے یقینی کے ساتھ اُس کی شکل دیکھی…. لیکن کچھ بولا نہیں…. اس لئے کہ میں اپنے والد کی طرح اُس کا احترام بھی کرتا تھا…. اُس
روز کے بعد وہ فقیر میرے پاس نہیں آیا اور پورے لاہور میں میری نظریں غیر ارادی طور پر اُسے ڈھونڈتی رہیں لیکن وہ کہیں دکھائی نہیں دیا…. پھر دیکھتے ہی دیکھتے میرے لئے وسائل کے راستے کھلتے گئے…. جہاں قدم رکھتا تھا یوں لگتا تھا کہ میر اکام پہلے ہی ہوچکا ہے…. میں بی اے پاس تھا لیکن بیروزگاری کے ہاتھوں فروٹ جوس کا ٹھیلہ لگاکر روزی کما رہا تھا…. نذیر احمد نے بڑے یقین کے ساتھ مجھے بتایا کہ وہ یقینا اللہ کا بندہ تھا جس نے اُس کی تقدیر بدل ڈالی…. دو سال کے مختصر عرصے میں، وہ ایک کمپنی کا مالک بن گیا…. اب اُس کی کمپنی فروٹ جوس ایکسپورٹ کر رہی ہے‘‘….
’’یار یہ تو بڑی حیرت کی بات ہے…. اخبار میں نہیں چھپی…. اس خبر کو تو اخبار میں آنا چاہئے‘‘….
٭٭٭
یاحی یاقیوم کا طغریٰ اور مامتا والی تصویر دیوار پر آویزاں کرنے کے بعد وہ بستر پر لیٹا تو تھکن کی وجہ سے نیند نہ آئی…. اخبار کی ورق گردانی کرتے کرتے اُس کی نگاہ تصویر پر مرکوز ہوگئی…. تصویر میں بے حد کشش تھی…. وہ کافی دیر تک اُسے دیکھتا رہا…. اچانک دروازے پر دستک ہوئی…. چوکیدار کو آخر اِس وقت کیا کام پڑگیا؟…. یہ سوچتے ہوئے بستر سے اُٹھا…. دروازہ کھولا تو اُس کے حواس گم ہوگئے…. سامنے ایک نوجوان دوشیزہ کھڑی تھی…. کاسنی رنگ کے عروسی جوڑے میں ملبوس…. اُس کے جوڑے سے روشنیاں سی پھوٹ رہی تھیں…. اُس کی نگاہ جب اُس کے چہرے پر گئی تو وہ مدہوش سا ہونے لگا…. آج جو تصویر اُس نے خریدی تھی اور اپنے کمرے میں دیوار پر آوایزاں کرکے کچھ دیر پہلے تک اُس پر نگاہ مرکوز کررکھی تھی…. وہی تصویر والی دوشیزہ مجسم ہوکر اُس کے سامنے کھڑی تھی….

(جاری ہے)

 

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

پتھروں پر منقش ، ہزاروں برس قدیم انسائیکلوپیڈیا

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں   ان پتھروں کو دیکھ کر سائنسدان حیران ...

پارس ۔ قسط 4

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں چوتھی قسط :   چوتھی قسط : سب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن