شکریہ ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

دنیا بھر میں ہر روز بے شمار تربیتی پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ، مضامین، کالم اور کتابیں یہ بتانے کے لئے لکھی جاتی ہیں کہ کس طرح ان خواہشات کے حصول کی تکمیل کی جائے۔ زندگی بہتر انداز میں گزارنے کے لئے ہم اپنے طور پربھی کوشش اور تجربات کرتے رہتے ہیں ۔اس کے باوجودہم ایسی زندگی نہیں گزار پاتے جو انسانیت کے شایانِ شان ہو۔ہم غربت، جہالت، بے روزگاری جیسے مسائل سے دو چار ہیں ۔ ہمارے رشتوں میں محبت ، قربانی اور روا داری کا فقدان رہتا ہے۔ اچھی زندگی ہمارے لئے ایک خواب بن جاتی ہے، وہ خواب جو ہم ہر رات دیکھتے ہیں ۔زندگی ایک معمہ بن جاتی ہے ، جسے سمجھتے سمجھتے پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ 1998 سے میرا تعلق پڑھانے اور ٹریننگز کرانے سے رہا ہے۔ اس دوران میں نے سینکڑوں لوگوں کے نقطہ نظر کو سنا، کتابیں پڑھیں اور یہ کوشش کی کوئی ایسا فارمولا ہاتھ لگ جائے جس کے باعث ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر تے ہوئے خوشحال زندگی گزاریں ۔ ایسی زندگی جو دونوں جہانوں میں سرفراز کر دے۔میرا ایمان ہے کہ انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے وہ حاصل کر ہی لیتا ہے۔مجھے بھی وہ فارمولا مل گیا۔ میں اس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں یہ کامیابی اور خوشحالی کا واحد فارمولا ہے،واحد فارمولا۔ اس سلسلۂ مضامین کا مقصد یہی ہے کہ نا صرف اُس قانون کو بیان کیا جائے بلکہ اس پر عمل کرنا آسان بنا دیا جائے تاکہ ہماری زندگی صحت ،محبت ، دولت اور خوشیوں سے بھر نے کے ساتھ ساتھ خدا کی رضا بھی حاصل کر لے ۔ محمد زبیر

 


نعمتوں کو شمار کریں!

تیسرا دن

 

Do not spoil what you have by desiring what you have not; remember that what you now have once among the things you only hoped for. Epicurus

‘‘جو کچھ آپ کے پاس ہے انہیں ان چیزوں کی آرزو میں نظر انداز نہ کریں جو آپ کے پاس نہیں ۔ یاد رکھیں آج جو کچھ آپ کے پاس ہے، کبھی صرف امیدوں میں تھا’’۔ [ایپی کیورس]

ہماری زندگی میں 90فیصد سے زائدامور بالکل ٹھیک ٹھیک چل رہے ہوتے ہیں۔ 10فیصد سے بھی کم ہماری توقعات کے مطابق نہیں ہوتے۔ اگر ہم پرسکون اور خوشحال زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان% 90 فیصد معاملات کے متعلق غور کرنا چاہئے۔ اگر ہم غیر حاصل شدہ % 10فیصد پر غور کرتے رہیں گے تو پریشان حال رہیں گے۔ہمارے چہروں پر جھریاں، ماتھے پر بل اور معدے میں زخم ہوجائیں گے۔ ہم اپنے اور پرائے کا فرق محسوس نہیں کر سکیں گے،لڑائی جھگڑے کریں گے اور اپنے نصیب پر روتے رہیں گے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں ‘‘انسان کو حقیقت پسند ہونا چاہئے، خوشیوں کے ساتھ ساتھ غموں اور تکلیفوں کے متعلق بھی سوچنا چاہئے۔’’
اس طرح کی باتیں کرنے والوں سے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ کو حق حاصل ہے کہ 10فیصدمعاملات کے متعلق سوچیں، اُن پر تبصرہ کریں، شکوہ شکایت بھی کرلیں، لیکن اس سے پہلے اپنے ہی اصول پر عمل کرتے ہوئے، ان90فیصد معاملات پر خدا کا شکر ادا کر یں، ان کا دل سے احترام کریں، اُن چیزوں کی اہمیت کو سمجھیں جو اللہ نے بن مانگے عطا کر دی ہیں۔
کسی شے کا شکر ادا کرنے کیلئے اُس کی اہمیت کا ادراک ہونا ضروری ہے۔دراصل ہم میں سے اکثر لوگ اپنی اہمیت اور عظمت سے نا واقف ہو چکے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ اس زمین پر موجود اربوں انسانوں میں کوئی ایک انسان بھی ہماری طرح نہیں ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم منفرد ہیں۔ صرف سرکاری کاغذات اور پولیس کے ریکارڈ میں ہی نہیں، ہر لحاظ سے منفرد۔
یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں ہر شخص کی انگلیوں کے نشانات دوسرے کی انگلیوں کے نشانات سے مختلف ہیں لیکن جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق تمام انسانوں کے ہونٹوں کے نشانات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہونٹوں کے ساتھ ساتھ آنکھوں کے نشانات بھی جدا ہیں۔ بہت سے دفاتر میں حاضری لگانے کیلئے بائیو میٹرک اٹینڈینس مشین ہوتی ہے جن میں فنگر پرنٹس سے حاضری لگ جاتی ہے، اسی طرح کئی ممالک میں آنکھوں کے پرنٹس سے بھی اٹینڈینس لگ جاتی ہے اور دروازے کھل جاتے ہیں۔
بات یہیں نہیں رکتی۔ ہر شخص کا پیٹ اندر سے دیکھا جائے تو وہ بھی مختلف،دل اور دیگر عضو بھی بناوٹ اور سائز کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر انسان کے جسم میں ایک قسم کی بو پائی جاتی ہے، وہ بو اگر کسی کتّے کوسونگھادی جائے تو وہ میلوں دور سے اس شخص کو ڈھونڈتا ہوا آجائیگا،یعنی تمام انسانوں کے جسم کی بو بھی مختلف ہوتی ہے۔مزید یہ کہ اگر کسی انسان کے دماغ کا جائزہ لیا جائے تو ایسے ایسے انکشافات ہوتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
دیگر حقائق ایک طرف، ہر سیکنڈ میں انسانی دماغ تک دو ارب کے لگ بھگ معلومات پہنچ رہی ہوتی ہے جن میں سے دماغ اپنے مطلب کی چالیس ہزار معلومات کے علاوہ دیگر تمام معلومات رد کر دیتا ہے۔ دنیا کے تمام انسان ہر موضوع پر مختلف انداز سے سوچتے ہیں۔
ہم اپنی یا دوسروں کی نظر میں عام ہو سکتے ہیں لیکن اللہ نے ہر آدمی کو عام نہیں بلکہ بہت خاص بنایا ہے۔اگر ہر انسان اپنی انفرادیت کو پہچانتے ہوئے وہ کام کرے جو اس کے شایانِ شان ہو۔ وہ ایک ایسی زندگی گزار پائے گا جس کیلئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔
ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ اللہ نے آپ کو جو آنکھیں دی ہیں انہیں دس لاکھ روپے میں فروخت کر دیں گے….؟
کیا اپنا دماغ ایک کروڑ روپے میں بیچ دیںگے….؟
اپنے ہاتھوں اور اپنے پیروں کی کیا قیمت لگائیں گے ….؟ ایک ایک کر کے اپنے اعضاء کے متعلق سوچیں۔ آپ کے پاس کیا کچھ ہے ان سب نعمتوں ، صلاحیتوں کے لیے ہر روزدل سے شکر ادا ہونا چاہیے۔
اللہ نے آپ کو اربوں روپے سے زائد کا بنایا ہے، بلکہ انمول بنایاہے۔ لیکن ہم چند سو، چندہزار یا چند لاکھ روپوں کیلئے شکوہ شکایت کرنے لگ جاتے ہیں، زندگی سے مایوس ہوجاتے ہیں اور صرف منفی چیزوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔
بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ ہم اپنے دوستوں اور رشتے داروں کی محبت کو بھی قابلِ قدر یا قابلِ ذکر نہیں گردانتے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری اکثریت دکھوں اور پریشانیوں میں گھری رہتی ہے، اکثر لوگ ان چیزوں کے متعلق زیادہ سوچتے ہیں جو انکے پاس نہیں ہیں، چاہے وہ انتہائی معمولی نوعیت کی ہی ہوں، لیکن ان کے متعلق نہیں سوچتے جن کاکوئی نعم البدل نہیں، اور جو بن مانگے یا بنا کوشش کئے مل گئی ہیں۔

What if you woke up today with the things you were grateful for yesterday.

‘‘کیا ہو اگر آج آپ کے پاس صرف وہ سب ہو جس کے لئے آپ نے کل شکر ادا کیا تھا’’۔[ نامعلوم]

کچھ لوگ اس بات پر اعتراض کرسکتے ہیں کہ غلطیوں کی اصلاح کے لئے تنقید کرنا ناشکری تو نہیں ہے، تنقید تو اچھی چیزہے۔ ان کے لئے فی الحال اتنا جان لیناکافی ہے کہ جب دوستوں، عزیزوں یا رشتے داروں پر آپ تنقید کررہے ہوتے ہیں تو آپ کا مقصد ان کی اصلاح ہوتا ہے یا اپنے دل کا غبار نکالنا …؟
آپ کا جواب یقینا یہی ہوگا کہ اُن کی اصلاح۔ اگر آپ کا مقصد ان کی اصلاح ہے تو یاد رکھیں اصلاح کادرست طریقہ بنی کریم ﷺ نے سمجھا یا ہے اور وہ یہ ہے کہ تنہائی میں محبت سے سمجھایا جائے۔
اگر تنقید کرنے کو اپنا حق سمجھا جارہا ہو تو ان تمام باتوں کا شکریہ ادا کرنا بھی اپنا فرض سمجھیں جو کسی کی طرف سے آسانیوں، محبتوں اور توجہ کے ذریعے آپ کو ملتی رہی ہیں۔
عموماً گھر کے جن افراد سے ہمیں شکایات ہوتی ہیں اُنہیں بھی ہم سے اُتنی ہی شکایتیں ہوتی ہیں، ہمارے رویّوں سے، ہماری فرمائشوں سے، ہمارے غصے سے یا ہماری غیبتوں سے۔
جیسے جیسے ہم ناشکری سے شکر گزاری کے راستے پر آئیں گے، بلاوجہ اور غیر ضروری تنقید کا راستہ خود چھوٹ جائے گا جو درحقیقت ناشکری کا راستہ ہے۔ مخالفین کے ساتھ بھی ہمارا تعلق ہمدردی اور محبت والاہونا چاہیے۔
کسی دن تجربہ کرنے کے لئے دن بھر بُرائیاں اورتکلیفیں گننا شروع کردیں، دِن کے اختتام پر آپ خود اندازہ لگالیں گے کہ یہ دن زندگی کے خراب ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ اس کے بعد آپ پورا دن نعمتیں گننے میں گزاریں۔ اس دن کے اختتام پر آپ حیران رہ جائیں گے۔ لوگوں سے آپ کے تعلقات بہتر ہوجائیں گے، لوگ آپ سے محبت کریں گے، ذہن پر سکون رہے گا اور زندگی کی نئی راہیں کھلنا شروع ہوجائیں گی۔
آج صبح سویرے سب سے پہلا کام یہ کریں کہ کسی نوٹ بک، کمپیوٹر یا کسی جرنل میں کسی ایک جگہ ان دس چیزوں کی لسٹ بنائیں جن کے لئے (آپ اللہ کے یا لوگوں کے) دل سے شکر گزار ہیں اور وجہ بھی لکھیں کہ کیوں شکر گزار ہیں ؟ جب آپ شکر گزاری کی وجہ لکھیں گے تو شکر گزاری کا جذبہ مزید گہرا ہوتاجائے گا۔
آپ لسٹ اسی طرح بناسکتے ہیں۔
میں دل سے…………کا شکر گزار ہوں کیونکہ………………..
میں بہت خوش اور شکر گزار ہوں ……….. کا جس کی وجہ سے……………………
خالی جگہ میں کسی شخص، کام، جگہ یا چیز کا نام آسکتا ہے۔
لسٹ مکمل کرنے کے بعد پوری لسٹ کو غور سے دوبارہ پڑھیں اور ہر ہر نعمت کو دہرانے کے بعد دِل کی گہرائیوں سے ‘‘ الْحَمْدُ لِلّٰہِ’’ یا ’’Thank You‘‘ تین مرتبہ کہیں۔
شکر گزاری کے جذبے کو دل سے محسوس کرنے کے لئے اللہ، کائنات، روح، اچھائی،نیکیوں اور زندگی کے متعلق سوچیں۔ دنیا کی اکثر نعمتوں کو دیکھنے کے بجائے محسوس کرنے کی ضرور ہے۔
سماعت اور بینائی سے محروم ہونے کے باوجود اعلٰی تعلیم حاصل کرنے اور شاندار مصنفہ بننے والی خاتون ہیلن کیلر کہتی ہیں۔

The best and most beautiful things in the world cannot be seen or even touched – they must be felt with the heart. -Helen Keller

’’ دنیا کی بہترین اور خوبصورت ترین چیزوں کو دیکھا یا چھُوا نہیں جاسکتا۔ انہیں صرف آپ کا دل محسوس کرسکتا ہے’’۔ [ہیلن کیلر]

نعمتوں کو شمار کرنے کا عمل بے انتہا طاقتور ہے اسی لئے اگلے تیس دن تک روزانہ آپ کو اُن دس چیزوں کے متعلق سوچنا ہے جن کے لیے آپ دل سے شکر گزار ہیں۔
اس وقت یہ کام آپ کو مشکل لگے گا لیکن ہر دن جب آپ ایک بابChapter مکمل کریں گے، جس میں تقریباً دس سے پندرہ منٹ لگیں گے، آپ کے پاس دس سے زائد چیزیں ہوں گی جن کے لئے آپ شکر ادا کرسکیں گے اور یقین کیجیے کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا نعمتوں کی بارش ہونا شروع ہوجائے گی۔
آج کے دن کی لسٹ بنانے میں آپ کی مدد کرنے کے لئے کچھ (اشارے) دئیے جارہے ہیں اُنہیں ذہن میں رکھیں گے، تو لسٹ بنانا آسان ہوگا۔
جسم اور صحت
کام اور کامیابی
پیسہ
رشتے
خوشی
محبت
زندگی
قدرت(نیچر)۔ زمین، ہوا، پانی، سورج، چاند، چاندنی، روشنی
مادی چیزیں اور خدمات
آپ کی پسندیدہ کوئی چیز
جیسے جیسے شکر گزاری کی عادت بڑھتی جائے گی۔ ویسے ویسے آپ کی خوشیوں میں اضافہ ہونے لگے گا۔ خوشیوں میں اضافے کے ساتھ ہی آپ کی پوری زندگی بدل جائے گی۔ضروری نہیں ہے کہ آپ ہر وقت پر سکون اور خوش ہی رہیں۔ لیکن یہ ضرور ہوگا کہ آپ پہلے کے مقابلے میں بہت تیزی سے خوشی کی کیفیت میں داخل ہوجائیں گے۔

[تیسرا دن ]

آپ کس شے کے لیے شکر گزار ہیں؟                  کیوں شکر گزار ہیں ؟
(وضاحت کریں )
________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________ ________________                    _____________
فوائد و تاثرات:
_____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________

نعمتوں کو شمار کریں۔ آج صبح پہلا کام یہ کریں کہ اُن دس چیزوں کی لسٹ بنائیں جن کے لئے آپ دل سے شکر گزارہیں۔ وہ وجہ لکھیں جس کی وجہ سے شکر گزار ہیں۔ آپ لسٹ میں سے تمام چیزوں کا ایک ایک کر کے شکر اِس طرح اداکریں کہ ہر ایک کے بعد تین مرتبہ ’’الحمد للہ‘‘ یا شکریہ کہیں۔ مثلاً
والدین: میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے والدین کی محبت اور قربانیوں کی وجہ سے ہوں۔ شکریہ۔

 

کلارک فیملی

 

 

کیرئیر کوچگ کے معروف مصنف ڈان ملر Dan Millerاپنی کتاب ‘‘48 دن میں اپنے کام سے محبت کریں ’’ 48Days to the Work you Loveمیں ایک واقعہ تحریر کرتے ہیں۔
برسوں پہلے اسکاٹ لینڈ میں مسٹر کلارک کی بڑی سی فیملی ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی۔ فیملی میں ایک بیوی اور نو بچے شامل تھے۔دونوں میاں بیوی مل کراپنے حالات بدلنے میں لگے تھے لیکن حالات بہتر ہونے کے بجائے بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے۔
یہ وہ وقت تھا جب امریکہ کے معاشی حالات دور دراز کے ممالک کے لوگوں کو اپنی جانب کھینچ رہے تھے۔یہ دونوں بھی اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور بہتر معیارِ زندگی کے خواب دیکھنے لگے۔مستقبل کی آسانیوں اور آسائشوں کیلئے تکالیف اٹھانے کا فیصلہ کر لیا اور اس مقصد کیلئے زیادہ کام اور کم خرچ کا منصوبہ بنایا۔ اب وہ کم کھاتے، کم سوتے اور زیادہ محنت کرتے۔ گرمیوں اور سردیوں کے کپڑے تک بنوانا چھوڑ دئے۔کئی سالوں کی محنت کے بعد وہ اس قابل بھی نہیں ہو سکے کہ سب کیلئے بحری جہاز کے ٹکٹ ہی خرید لیں ۔ بالآخر انہوں نے گھر بھی گروی رکھوا دیا۔پیسے لیکر مسٹر کلارک بندرگاہ گئے اور سب کیلئے پانی کے جہاز کے تیسرے درجے کے ٹکٹ خرید کر خوشی خوشی گھر آگئے۔ سب بہت خوش تھے۔دونوں میاں بیوی نے نوکری بھی چھوڑ دی۔ ملنے والوں نے دعوتوں کا اہتمام کیا۔ کچھ لوگ رشک توکچھ حسد سے انہیں امریکہ جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھیک چل رہا تھاکہ اچانک ایک واقعے نے ہلچل مچادی۔جہاز کی روانگی سے ایک ہفتہ پہلے مسٹر کلارک کا چھوٹا بیٹا اپنے دوست سے ملنے جا رہا تھا کہ اسے راستے میں کتّے نے کاٹ لیا۔فوراًڈاکٹر کے پاس لے کر بھاگے، ڈاکٹر نے زخم سی دیا۔ حالت خطرے سے باہر تھی۔اگلے روز ڈاکٹر نے انکے دروازے پر پیلے رنگ کی چٹ چسپاں کر دی۔ اس چِٹ کا کیا مطلب تھا؟
اس چٹ کا مطلب یہ تھا کہ اسکاٹش قانون کے مطابق اس گھر کے باشندے پندرہ دن تک کہیں نہیں جا سکتے۔ پندرا دن تک پورہ خاندان ! …. مسٹر کلارک کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا، اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ امریکہ پہنچنے کے خواب، ا س کے بچوں کا مستقبل اور اپنی بیوی کے ساتھ پرسکون زندگی، سب ماند پڑتا محسوس ہو رہاتھا۔ وہ بندر گاہ پہنچا تاکہ معلوم کر سکے کہ اگلا جہاز کب روانہ ہوگا۔لیکن اسے بتایا گیا کہ یہ ٹکٹ واپس نہیں ہو سکتے، بہت دیر ہو چکی تھی۔ ہر فرداس بچے کو کوس رہا تھا جس کی وجہ ساری زندگی روتے، سسکتے اور قرضے اتارتے ہوئے گزرے گی۔ان کا گھر سے باہر نکلنا بند ہو گیا۔جب بھی گھر سے نکلتے لوگ مسکراتے ہوئے ایک ہی سوال کرتے،‘‘امریکہ کب جا رہے ہو؟’’
چند دن بعد انکے گھر کے دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔انہوں نے گھبرا کر دروازہ کھولا۔ سامنے ان کا پڑوسی کھڑاتھا۔ہاتھ میں اخبار اور چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔وہ مسٹر کلارک کے گلے لگ گیا۔ مسٹر کلارک نے حیران ہو کر پوچھا،‘‘ہوا کیا؟’’ اس نے جذبات سے لبریز آواز میں کہا،‘‘ٹائی ٹینک ڈوب گیا ۔’’
جی ہاں ! مسٹر کلارک کی فیملی دراصل ٹائی ٹینک Titanic جہاز کے ذریعے ہی امریکہ جارہے تھے۔
اب گھر بھر میں جشن کا سماں تھا۔سب نے اس بچے کوگلے لگا لیا۔وہ بچہ جسے منحوس سمجھا جا رہا تھا، خدا کی نعمت سمجھا جا نے لگا۔سب اس کے احسان مند اور خدا کے شکر گزار ہوگئے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہم سب جانتے ہیں۔
مسٹر کلارک نے دل لگا کر ایک مرتبہ پھر کام شروع کر دیا۔اب وہ محبت اور شکر گزاری کے جذبے سے سرشار تھا۔اس شکر گزاری کا صلہ یہ ملا کہ ان کا کاروبار ایسا چلا کی آج دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔
کہتے ہیں کہ یہ وہی کلارک فیملی ہے جس کی کمپنی C. & J. Clark کے جوتے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ہر سال دنیا کے 35 ممالک میں Clarks کے پانچ کروڑ سے زائد جوتے فروخت ہوتے ہیں اور آج Clarks کے 1200 اسٹورز میں پندرہ ہزار سے زائد لوگ کام کررہے ہیں۔

 

(جاری ہے)

 

 

[:]

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 3   گزشتہ صفحات میں ہم ...

اپنا ای کیو EQ لیول معلوم کیجیے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں اکثر ماہر نفسیات اب یقین رکھتے ہیں کہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے