روحانی ڈائجسٹ / جہاں نما / پراسرار و حیرت انگیز / جیتے جاگتے زندہ ڈائنو سارز

جیتے جاگتے زندہ ڈائنو سارز

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..

 


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

کانگو (افریقہ) کے جنگلات اور لاک نیس ( اسکاٹ لینڈ ) کی جھیل میں دو صدیوں سے ڈائنوسارز دیکھے جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ سائنس دانوں کا ایک گروہ ان کا وجود تسلیم نہیں کرتا، لیکن سائنسدانوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یہ یقین رکھتا ہے کہ کئی ڈائنوسارز اس تباہی سے بچ گئے تھے اور آج تک اپنے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

 

جیتے جاگتے زندہ ڈائنو سارز

کیاآج بھی اس کرۂ ارض پر موجود ہیں….؟ 

ہم یہاں مشہور ناول نگار مائیکل کرسٹین کے ناول کی کہانی نہیں سنا رہے، جسے مشہور فلم ڈائریکٹر اسٹیون اسپیل برگ نے ‘‘جراسک پارک’’ کے نام سے سینما اسکرین پر پیش کیا تھا۔ جس کی کہانی میں چند سائنسدان ڈی این اے کو جوڑ جاڑ کر جیتا جاگتا ڈائنو سار پیدا کرلیتے ہیں….

بلکہ ہم یہاں ان ڈائنو سارز کا ذکر کر رہے ہیں جنہیں کئی لوگوں نے اپنی آنکھوں سے زندہ دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ آج سے دو سو برس قبل کوئی جانتا بھی نہیں تھا کہ ڈائنو سار کیا ہوتے ہیں۔ 1822ء کے بعد ملنے والے فوسلز اور ہڈیوں پر تحقیق کے بعد دنیا بھر کے انسانوں کو اس عجیب الخلقت جانور کے بارےمیں علم ہوسکا۔ ڈائنو سار کے معنی ہیں‘‘ہیبت ناک چھپکلی’’…. سائنس نے یہ نام کسی ایک جانور کو نہیں بلکہ جانوروں کے ایک گروہ کو دیا ہے جو مختلف طرزِ زندگی کے مالک ہوسکتے ہیں۔ زمین پر چلنے والے، رینگنے والے، اڑنے والے، پانی میں تیرنے والے ڈائینو سارز کی اب تک 13 ہزار سے زائد اقسام دریافت ہوچکی ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق ڈائنوسارز نے اس زمین پر ساڑھے بائیس کروڑ برس قبل آنکھ کھولی اس دور کو میوزوٹک دور کہا جاتا ہے۔ لگ بھگ 15 کروڑ برس تک یہ ڈائنوسارز اس کرۂ ارض پر پھلتے پھولتے رہے۔ ڈائنوسارز اپنے عہد میں کرۂ ارض پر مطلق العنان بادشاہ تھے۔ اس زمانے میں کوئی جانور ایسا نہیں تھا جو ان کے سامنے دَم بھی مار سکے۔ ڈائنوسارز صرف گوشت خور ہی نہیں تھے بلکہ کچھ ڈائنوسارز سبزی خور بھی ہوا کرتے تھے۔ ان کی حکمرانی صرف خشکی پر ہی نہیں بلکہ سمندروں اور فضاؤں پہ بھی تھی اور تقریباً ساڑھے 6 کروڑ برس قبل میسوزوئک عہد کے اختتام پر زبردست ارضیاتی تبدیلیاں رونما ہوئیں، کئی خطوں میں آتش فشاں بھڑک اُٹھے، زلزلوں، سونامی اور خوراک کی قلت سے بالآخر ڈائنوسارز کی یہ نسل معدوم ہوگئی۔
کانگو (افریقہ) کے جنگلات اور لاک نیس ( اسکاٹ لینڈ ) کی جھیل میں دو صدیوں سے ڈائنوسارز دیکھے جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ سائنس دانوں کا ایک گروہ ان کا وجود تسلیم نہیں کرتا، لیکن سائنسدانوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یہ یقین رکھتا ہے کہ کئی ڈائنوسارز اس تباہی سے بچ گئے تھے اور آج تک اپنے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
افریقہ میں عوامی جمہوریہ کانگو کی جھیل ٹیل اور لیکوالا کے دلدلی علاقے میں ایک عجیب و غریب مخلوق دیکھے جانے کا تذکرہ دوسو سال سے ہوتا آرہا ہے۔ اس جانور کو مقامی لوگ Mokele-mbembe کہتے ہیں۔
1913ء میں کیپٹن لاس نز نے اس علاقے میں موکیل میمبے کی تلاش کا کام کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ یہ حیوان بھورا یا خاکی رنگ کا بتایا جاتا ہے۔ اس کی جسامت ہاتھی جتنی یا کم از کم دریائی گھوڑے جتنی ضرور ہوگی۔ اس کی جلد ہموار ہے اور ایک لمبی لچکدار گردن ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس حیوان کی مگر مچھ کی طرح ایک دُم بھی ہے۔ یہ پانی کے کناروں پر زیرِ آب غاروں میں رہتا ہے۔ بعض اوقات دن میں بھی باہر نکل آتا ہے۔ اس کی غذا نباتات پر مشتمل ہے۔ اگر کوئی کشتی اس کے قریب سے گزرے تو اس پر حملہ آور ہوجاتا ہے اور جو آدمی ہتھے چڑھ جائے اس کی جان لیے بغیر نہیں رہتا۔ 1970ء کی دہائی میں موکیل کی تلاش کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ مگر مچھوں پر تحقیق کرنے والے جیمز ایچ پاؤل جو بذاتِ خود کانگو میں ٹیل جھیل دیکھنے گیا اور عینی شاہدوں سے ملاقات کی، اسے ایک اسکول کے استاد نے بتایا کہ 1977ء میں اسے موکیل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس نے تیس فٹ کے فاصلے سے اس بھورے رنگ کے جانور کو دیکھا۔ اس کی گردن انسانی ٹانگ جتنی موٹی ہوگی لیکن یہ سانپ نہیں تھا کیونکہ اس کے بدن کا کچھ اور حصہ بھی دکھائی دیا تھا۔

ساروپوڈ (موکیل ) Sauropods

1980 ء میں ڈاکٹر رائے میکل نے دومرتبہ کانگو کا سفر کیا اور بعد ازاں اپنے سفر اور تحقیقات کو ایک کتاب A Living Dinosaurمیں پیش کیا۔ اس کا خیال ہے کہ یہ یا تو ڈائنو سار عہد کے حیوان سارو پوڈSauropodsکی باقیات سے ہے یا چھپکلی کی نسل کا کوئی عجیب الخلقت ایسا جانور ہے، جس کی اب تک شناخت نہیں ہوسکی۔ اس کی لمبائی بشمول گردن اور دُم 15 سے 30 فٹ تک ہوتی ہے۔ اس کی چار چھوٹی ٹانگیں ہیں، قدموں کے نشانات میں پنجوں کا ثبوت ملتا ہے۔
1983ء میں کانگو میں مارسلین اگناگنا Marcellin Agnagna نامی ماہر حیوانیات نے موکیل میمبے دیکھنے کا دعویٰ کیا۔ اس مہم میں وہ دو مقامی باشندوں کے ہمراہ جھیل ٹیل کے کنارے کھڑا تھا کہ جھیل میں انہیں کسی جانور کی بڑی سی پشت، لمبی گردن اور چھوٹا سا سر نظر آیا۔
سطح آب پر اس کی جسامت 15 فٹ کے قریب معلوم ہوتی تھی۔ وہ اپنے کیمرہ لے کر آیا مگر وہ جانور اس وقت تک جا چکا تھا۔
کانگو میں لیکوالا کا علاقہ انتہائی پُر اسرار ہے۔ آج تک یہاں کا مکمل سروے نہیں ہوسکا ہے۔ یہ گھنے جنگلات اور جوہڑوں سے اَٹا پڑا ہے۔ مہذب تو مہذب وحشی نیگرو بھی یہاں جانے سے کتراتے ہیں، جن کا یہ اپنا علاقہ ہے۔ یہاں کے نباتات اور حیوانات پر اب تک تحقیق نہیں ہوئی۔
کیا عجب قبل از تاریخ عہد کے ڈائنو سار یہاں رہائش پذیر ہوں یا کم از کم ایسے مہیب جانور رہ رہے ہوں جن کے بارے میں سائنس دان واقف نہ ہوں۔ مقامی لوگوں کے بیانات کی روشنی میں کم از کم یہی نتیجہ نکلتا ہے۔

سیراٹوپ ۔ایمیلانٹوکا Ceratops


ایمیلانٹوکا  Emela-ntoukaجو موکیل میمبے سے مشابہ ہے اور اس کے سر پر ایک ہی سینگ بتایا جاتا ہے۔ یہ بھی اگرچہ سبزی خور ہے لیکن اتنا خطرناک ہے کہ ہاتھی اور دریائی گھوڑے کوبھی خاطر میں نہیں لاتا اور اُنہیں جان سے مار ڈالتا ہے۔ کیا معلوم یہ گینڈے کی کسی غیر دریافت شدہ نسل سے تعلق رکھتا ہو یا شاید سیرا ٹوپ Ceratops یا  Centrosaurus نسل کے ایک سینگ کے رینگنے والے جانوروں کی باقیات سے ہو۔

سیٹیگوسارز۔ مبیلوStegosaurus

یہاں ایک جانور اور بھی ہے، جسے مقامی لوگ ‘‘مبیلو، مبیلو، مبیلو’’ کہتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس کی پشت پر چپٹے، موٹے اور سخت تکونی سینگیں اُگی ہوئی ہیں۔ مبیلو کی اس خصوصیت کا سراغ اسٹیگوسارز Stegosaurus نامی قدیم معدوم ڈائنو سار میں نظر آتا ہے۔
24 فروری 1976ء کو اسکول کے کچھ اساتذہ سان انٹو نیو(ٹیکساس) جارہے تھے کہ ان کی نگاہ کے سامنے اچانک ایک دیو قامت پرندہ آگیا۔ اس کے پروں کا سائز پندرہ سے بیس فٹ تک کا ہوگا۔ یہ پرندہ ہوا میں اُڑتا ہوا اِن لوگوں کی گاڑیوں پر سے گزرا تو انہوں نے اس کے پروں کی جھلی میں باریک ہڈیاں نمایاں طور پر دیکھیں۔

ٹرینوڈون Pteranodon


کچھ عرصے بعد ان اساتذہ کو اس پرندے کی تصویر ایک انسائیکلو پیڈیا میں دیکھنے کا موقع ملا تو وہ بھونچکا رہ گئے۔ یہ ٹرینوڈون Pteranodon تھا۔ قبل از تاریخ کے اُڑنے والے دیو قامت حیوانات کی نسل کا وہ جانور جو سائنس کے مطابق 65 ملین سال ہوئے کرہ ارض سے معدوم ہوچکا تھا۔
ان جانوروں کو سائنسدانوں نے اب تک تسلیم نہیں کیا ہے، کیونکہ اس کے عینی شواہد یا تو بہت کم ہیں یا پھر وحشی دنیا کے توہمات پرست لوگ ہیں۔ لیکن اسکاٹ لینڈ کی ایک جھیل میں پایا جانے والا عظیم الجثہ سمندری ڈائنوسار کو مہذب دنیا کے ایک دو نہیں دو ہزار کے قریب افراد نے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے اور سینکڑوں کے قریب تصاویر لی گئی ہیں۔
اسکاٹ لینڈ میں واقع لاک نیس جھیل Loch Ness جزائر برطانیہ کی تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے، یہ 24 میل لمبی اور تقریباً ایک میل چوڑی ہے۔ اس کی گہرائی 970 فٹ ہے۔ یہ سامن، ٹراؤٹ، بام مچھلیوں اور بہت سے دوسرے آبی جانداروں سے بھری ہوئی ہے۔‘‘لاک’’ گلیک Gaelic زبان کا لفظ ہے جس کے معنی جھیل کے ہیں۔ اس جھیل میں ایک ایسا عجیب و غریب جانور پایا جاتا ہے جو کہ سائنس دانوں کے خیال میں ڈائنو سارز کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس جانور کا نام نیسی Neisse ہے۔ اس جانور کو سب سے پہلے قرونِ وسطیٰ میں اس جھیل میں دیکھا گیا تھا اور اس وقت سے لے کر آج تک یہ جھیل میں موجود ہے۔

لاک نیس جھیل


نیسی کی کہانی، داستان یا حقیقت 565ء سے شروع ہوتی ہے جب سینٹ کولمبیا، آئرلینڈ کے ایک مشنری نے مطلع کرتے ہوئے دریائے نیس کے ساحلوں پر کھڑے ہوئے ایک ڈریگن کے بارے میں نشاندہی کی۔ اس کے بعد کے سالوں میں اس کی موجودگی کی مسلسل اطلاعات ملتی رہیں۔ اسکاٹ لینڈ کے ساحلی علاقوں میں رہنے والے ماہی گیر اور دیگر افراد ایک مدت سے اس کے وجود سے واقف تھے لیکن وہ اسے کوئی محیر العقل شئے سمجھتے تھے اور اس کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے بھی احتراز کرتے تھے، جس کی شاید یہ وجہ تھی کہ وہ اسے منحوس سمجھتے تھے۔

لاک نیس کے ڈائنوسار‘‘ نیسی’’ کی چند تصاویر


سروالٹر اسکاٹ نے اس موضوع پر ایک یا دو کتابیں بھی لکھیں اور 1880ء میں ایک غوطہ خور نے مطلع کیا کہ اس نے عفریت کا پتہ لگایا ہے۔ لیکن 1933ء تک نیسی نے بین الاقوامی شہرت حاصل کرنا شروع نہیں کی تھی۔ 1933ء میں برطانوی جریدے ‘‘انور نیس کوریئر’’ کو یکے بعد دیگر تین خبریں موصول ہوئیں کہ کچھ لوگوں نے ایک حیرت انگیز، ڈریگن کی طرز کا ایک جانور دیکھا ہے ، جس کا جسم وہیل سے ملتا جلتا تھا اور گردن سانپ کے جیسی لمبی ہے۔ ان خبروں کے تواتر سے موصول ہونے پر لندن کے ڈیلی میل نے ایک رپورٹر لاک نیس کی طرف بھیجا۔ اس نے اس خبر کے عینی شاہدوں کے انٹرویوز لیے اور ایک رپورٹ تیار کی جو دنیا بھر کے بڑے اخبارات کے پہلے صفحات پر شایع ہوئی، جس کی وجہ سے نیسی عالمی سیاحوں اور سائنسدانوں کے لیے توجہ کا مرکز بن گئی۔
اپریل 1934ء میں رابرٹ کینتھ ولسن نامی لندن کے ایک ممتاز سرجن نے کامیابی سے ایک جانور کی تصویر کھینچی، جس میں اس کی گردن پانی سے اوپر اور ایک کوہان نظر آرہا تھا۔ اس تصویر کی وجہ سےنیسی نامی اس جانور کے حوالے سے ایک مضبوط ثبوت سامنے آگیا۔
ٹم ڈنسڈیل Tim Dins dale پیشے کے لحاظ سے ہوائی جہازوں کا انجینئر ہے۔ 23 اپریل 1960ء کو ٹم نے لاک نیس جھیل کے اس پار کنارے سے دو تہائی فاصلے پر کوئی مخلوق دیکھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ کسی جانور کی کمر ہو۔ ٹم نے سوچنے لگا کہ یہ کیا ہوسکتا ہے، اچانک اس نے حرکت کرنی شروع کی ، ایک دم اسے نیسی کا خیال آیا اس نے کیمرا نکالا اور فلم بنانا شروع کی۔ وہ جو کچھ بھی تھا، زندہ اور جیتا جاگتا تھا ….بہت طاقتور اور بہت بڑا….یہ فلم لاک نیس کی بلا کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ، جسے بی بی سی نے ٹیلی کاسٹ کیا۔ یہ دیکھ کر سائنسدانوں کی بڑی تعداد کیمرا لیے جھیل کے کنارے جاپہنچی۔ لیکن نیسی پھر کافی عرصے سطح پر نہیں آئی، بظاہر تو یہ ناممکن لگتا ہے کہ نیسی جیسی بڑی چیز کو اب تک اچھی طرح نہیں دیکھا جاسکا ہے، لیکن یہ جھیل بہت بڑی ہے اور اس میں بڑے سے بڑے جانور کو ڈھونڈنا ایسا ہی ہے جیسے کہ بھوسے کے ڈھیر میں کھوئی ہوئی سوئی کو ڈھونڈنا اور وہ بھی ایسی جو تیر سکتی ہو، یہ مخلوق ان بے شمار غاروں میں سے کسی ایک میں چھپ بھی سکتی ہے جو اس وسیع و عریض جھیل کی گہرائی میں زیرِ آب واقع ہیں۔
1968ء میں برمنگھم یونیورسٹی کی ایک مہم جوٹٰم نے جھیل پر ایک سونار اسٹیشن قائم کیا اور پانی کے اندر حرکت کرتے ہوئے سات ناٹ کی رفتار کے ساتھ بڑے اجسام کی گونجیں وصول کیں، جن کی غوطہ کے وقت رفتار 100 فٹ فی منٹ تھی۔ اس کے بعد ڈاکٹر رائنز نے سونار آلات ایکو امپلسز کے مطابق بنائے جو حرکت کرتے ہوئے جسم سے ٹکرا کر پاورفُل روشنیوں سے جھیل کے گدلے پانی کو بےانتہاء روشن کرکے تصویر حاصل کرلیتے ہیں۔ 1972ء کو یہ کامیاب تجربہ ہوا، رات کے اندھیرے میں نیسی نمودار ہوئی تو سونار نے نوٹ کیا، روشنیاں چمکیں، کیمروں نے کلک کیا اورجو تصویریں حاصل ہوئیں، ان میں ایک ہیرے کی مانند پر (Fin) اور سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی گردن کی تھیں۔

پلیسیو سارز۔ نیسی Plesiosaurus

ان تمام تصاویر میں قبل از تاریخ کے 30 فٹ لمبے ایک بحری ڈائنوسار پلیسیوسارز Plesiosaurus کے مماثل ایک جانور نظرآرہا تھا۔ ان تصاویر کے باوجود کچھ سائنسدان آج بھی اس جانور کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں قائم کرسکے ہیں۔ ان تصویروں کا معائنہ کرنے کے بعد لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم کے سینئر برطانوی ماہرین پر مشتمل ایک پینل نے اعلان کیا کہ یہ تصویریں شناخت کو محکم بنانے کے لیے غیر واضح ہیں۔انسانی آنکھ آسانی سے دھوکہ کھا سکتی ہے اور یہ سب فلمیں جو اس سلسلے میں بنائی گئی ہیں، انہیں رد کیا جا سکتا ہے۔


لیکن نامعلوم حیوانات کی دریافت کا سب سے چونکا دینے والا واقعہ 1977ء میں پیش آیا۔ وہ جاپانی مچھیروں کی ایک کشتی تھی جس میں ایک جدید قسم کا جال نصب تھا۔ وہ لوگ بحراوقیانوس میں نیوزی لینڈ کے قریب مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ اچانک ان کے جال میں کوئی بہت بڑی چیز آپھنسی، وہ آزاد ہونے کی بڑی کوشش کرتی رہی اور آخر کار مرگئی۔ اسے باہر نکالا گیا، اس کی لمبائی 35 فٹ تھی۔ جاپانی سمجھ رہے تھے یہ سمندری اژدھا ہے، جب اس حیوان کا جسم گلنے سڑنے لگا تو جاپانیوں نے اس کی تصاویر کھینچیں اور جانور کو سمندر میں پھینک دیا۔ ماہرین نے بعد ازاں اس کی تصاویر دیکھ کر کہا کہ یہ قدیم میسوزوئک عہد کی ڈائنوسار پلا سیو سارزPlesiosaurus ہے۔ مگر پلا سیو سارز کو معدوم ہوئے تو ایک زمانہ بیت گیا ہے۔

موکیل، ایملانٹوکا، مبیلو ، نیسی اور نیوزی لینڈ کے ساحل پر پکڑی جانے والی عجیب و غریب چیز وہ سب کے سب ڈائنوسارز ہوسکتے ہیں۔ بہر حال فیصلہ کن شواہد کی کمی کے باوجود نیسی کو آج بھی سائنسی دنیا میں کچھ لوگوں کی طرف سے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
گو آج تک سائنس دان اس مخلوق کے رہن سہن اور اس کے آغاز و ارتقاء کے بارے میں زیادہ تفصیلات حاصل نہیں کر سکے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اگر وہ اس بارے میں کچھ مزید جاننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کا نتیجہ سائنس میں حیاتیات سے متعلق علم کے ایک نئے دور کے آغاز کی صورت میں ظاہر ہوگا۔

 

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

سرکتے پتھر – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     کئی صدیوں سے سائنس اس حیران ...

پراسرار دائرے – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     دنیا میں کبھی کبھی ایسے واقعات ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے