روحانی ڈائجسٹ / ذہن و شعور / پرسنل ڈیولپمنٹ / عادت بدلو، زندگی بدلو

عادت بدلو، زندگی بدلو

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

ماہرینِ  نفسیات کا خیال ہے کہ ہمارے زیادہ تر رویے عادت سے تشکیل پاتے ہیں۔     ڈیوک یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ہم دن میں 40 فیصد کام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنی عادت کے مطابق کرتے ہیں۔ ہماری شخصیت ہمارے رجحانات، ہماری عادتوں اور ہماری ظاہری وضع قطع کا مجموعہ ہوتی ہے۔    تحقیق کے مطابق عادتیں ہر کامیابی کی کنجی ہیں،    جن لوگوں کی عادتیں اچھی ہوتی ہیں ان میں ترقی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔ 

ایک  امیر اور ایک غریب میں کیا فرق ہے،   ٹام کورلے اس سے  بخوبی واقف  تھا۔  

ٹام جب نو  برس کا تھا تب  اس کا محل جیسا گھر ایک تباہ کن آتشزدگی سے جل کر خاک ہوگیا   اور اس کا کروڑ پتی   خاندان ایک  ہی رات میں  سڑکوں پر آگیا تھا۔  اس  حادثے کے بعد ٹام کے خاندان  نے  14 برس  انتہائی غربت کے ساتھ  لیکن جدوجہد کرنے میں گزارے۔

ٹام جب باشعور ہوا تو   اس کے ذہن میں یہ سوال کھدبدانے لگے کہ کوئی  امیر کیسے بنتا اور  کوئی غریب کیسے رہ جاتا ہے،  ٹام  نے ان گتھیوں کو سلجھانے کے لیے  233  دولتمند  شخصیات اور 128 غریب افراد کی زندگیوں  اور روز مرہ کی سرگرمیوں پر تحقیق کی ۔ ٹام کی پانچ برسوں کی یہ محنت 2010ء میں  دنیا کے سامنے  ایک کتاب کی شکل میں آئی۔   اس کتاب  کانام ہے:

RICH HABITS : The Daily Success Habits Of Wealthy Individuals

امریکہ میں یہ کتاب تین سال تک  بیسٹ سیلر کی فہرست میں شامل رہی۔ اس کتاب میں  ٹام  نے  انکشاف کیا  کہ  آدمیوں کی روزمرہ کی عادات کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتی ہیں  ۔ اس نے  300 ایسی روز مرہ کی عادات  کی نشاندہی  کی جو امیر اور غریب طبقہ میں تفریق پیدا کرتی ہیں۔ حال ہی میں ٹام  کورلے  کی ایک اور کتاب   Change Your Habits, Change Your Life     یعنی ‘‘اپنی عادات بدلو، اپنی زندگی بدلو’’ منظرعام پر آئی ہے۔

امریکی مصنف اور  موٹیویشنل اسپیکر ، تھامس سی کورلے  Thomas C. Corley   کی ان کتابوں کی مدد سے   ایک مضمون نوجوان قارئین کے لیے   پیش خدمت ہے۔


 

 

عادت کے  لغوی معنی  کسی کام کو تکرار کے ساتھ بار بار کرنے کے ہیں،  یعنی ایسا کام جو ہم ہر روز   بار   بار کرتے ہیں اور اتنی مرتبہ  کرتے ہیں کہ وہ ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔    عادت  کی مثال ایک رسّی کی  سی ہے، ابتدا میں عادت ایک قسم کا دکھائی نہ دینے والا دھاگا بُنتی ہے۔ تاہم تکرار  سے وہ دھاگا موٹا ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ ایک رسی بن جاتا ہے۔ ہم جب بھی کسی عمل کو دہراتے ہیں، اپنی عادت کو مزید پختہ کر دیتے ہیں۔ یہ رسی  ہمارے لیے زنجیر بن جاتی ہے اور آخر کار ہم اپنی عادتوں کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔ ہم وہ بن جاتے ہیں، جو ہماری عادتیں ہوتی ہیں۔

ماہرینِ  نفسیات کا خیال ہے کہ ہمارے زیادہ تر رویے  ہماری عادت سے تشکیل پاتے ہیں۔  ڈیوک یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ہم دن میں 40 فیصد کام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنی عادت کے مطابق کرتے ہیں۔ ہماری شخصیت ہمارے رجحانات، ہماری عادتوں اور ہماری ظاہری وضع قطع کا مجموعہ ہوتی ہے۔      ہماری روزمرہ کی عادات  ہی ہماری کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتی ہیں ۔    اچھی عادتیں ہر کامیابی کی کنجی ہیں،    جن لوگوں کی عادتیں اچھی ہوتی ہیں ان میں ترقی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔ 

آپ کی جسمانی صحت کی طرح مالی صحت کا انحصار بھی ان فیصلوں پر ہوتا ہے جو آپ روزمرہ کی زندگی میں کرتے ہیں۔  جیسے صحت مند عادات یعنی بہتر غذا اور ورزش آپ کو فٹ رکھتی ہیں، اسی طرح کچھ عادتیں آپ کو مالی لحاظ سے دولت مند اور کامیاب شخصیت بننے میں مدد دیتی ہیں۔

آپ  روزانہ  ایسا کیا کرتے ہیں جس سے آپ کا بینک اکاؤنٹ بڑھتا ہے؟ اگر آپ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے تو اب وقت ہے کہ چند نئی عادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔  

اگر آپ امیر اور کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ایسے افراد کا جائزہ لیں جو اس مقصد میں کامیابی حاصلکرچکے ہیں۔

یہاں ہم نے اپنی محنت کے بل بوتے پر ارب پتی بننے والے افراد کی چند عادات کا ذکر کیا ہے ۔ انہیں جان کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ کامیابی کے لیے زندگی میں دھماکا خیز تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔بس چند معمولی چیزوں کو اپنا کر روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنانے سے ہی  آپ بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔

تو آئیے کامیاب اور دولتمند لوگوں کی ایسی مشترکہ عادات کے بارے میں جانیں ،  جن کو زندگی کا حصہ بنا کر آپ بھی ان کی طرح کامیابی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔

وہ  صبح جلد ی بیدار ہوتے ہیں

یہ ایک پرانی کہاوت کو بھی درست ثابت کرتاہے کہ :

‘‘صبح جلد اٹھنے والے پرندوں کو غذا بھی اچھی ملتی ہے’’۔  اگر آپ صبح دیر سے اٹھنے کے عادی ہیں تو آپ بے حد نقصان اٹھا سکتے ہیں۔ آپ کی کلاسز چھوٹ سکتی ہیں۔ آپ اپنی ملازمت پر دیر سے پہنچیں گے۔ صبح آپ کسی سے کاروباری ملاقات نہیں کرسکتے کیونکہ آپ جانتے ہیں آپ صبح نہیں اٹھ سکیں گے۔  اس طرح آپ ایسے بہت سے مواقع ضائع کردیں گے جو آپ کی کامیابی کے لیے سیڑھی بن سکتے ہیں۔

یاد رکھیں…..! کہ اگر آپ اپنی صبح کا آغاز صحیح انداز سے کریں گے تو آپ کا سارا دن اچھا گزرے گا۔  کامیاب افراد اپنی صبح کا آغاز بہترین طریقوں اور  مثبت عادات سے کرتے ہیں۔

جیک ڈورسےJack Dorsey، ٹوئٹر Twitterکمپنی کے بانی،  اپنے کام کے اوقات سے 3 گھنٹہ پہلے  صبح پانچ بجے بیدار ہوجاتے ہیں۔

صبح اس وقت اٹھنا جب سب سو رہے ہوں  شروع میں تو مشکل لگے گا، لیکن دنیا کے 90 فیصد کامیاب افراد اسی عادت کے پابند ہیں۔ صبح کا وقت تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال کے لیے بہترین ہے۔ اس وقت کوئی چیز آپ کے کام میں خلل نہیں ڈالتی اور آپ پرسکون ہو کر بڑے سے بڑا کام سر انجام دے سکتے ہیں۔ صبح جلدی اٹھ جانے سے آپ کو دن کے کئی گھنٹے اضافی مل جاتے ہیں اور آپ اپنے کئی کام مکمل کر سکتے ہیں۔ آپ اپنے آفس یا کسی دوسرے کام پر جانے کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر آرام سے تیار ہوسکتے ہیں۔

دنیا کے بیشتر دولت مند افراد علی الصبح جاگنے کے عادی ہوتے ہیں۔ جیسے امریکی صدر براک اوباما، ٹوئٹر کمپنی کے بانی جیک ڈورسے صبح پانچ بجے اٹھتے ہیں، ورجین گروپ کے بانی رچرڈ برانسن صبح 5:45 پر اور ایسے ہی متعدد نام اس فہرست کا حصہ ہیں۔ ٹام کورلے  کی تحقیق کے مطابق   تقریباً 50 فیصد کامیاب اور دولتمند شخصیات اپنے کام کے اوقات سے 3 گھنٹہ پہلے بیدار ہوجاتے ہیں۔

وہ   خود کو متحرک رکھتے ہیں :

اگر آپ صبح جلدی اٹھ بھی گئے لیکن نیند اور غنودگی میں ہیں تو جلدی اٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ نیند بھگانے اور فوری توانائی حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ورزش کرنا ہے۔  ضروری نہیں کہ آپ کوئی بھاری بھرکم ورزش کریں۔  اس کے لیے ہلکی پھلکی چہلقدمی بھی کافی ہوگی۔ صبح ورزش آپ کے جسم کے بند اعضا کو کھول دیتی ہے اور وہ بہترین طور پر اپنے افعال انجام دیتے ہیں۔

بہت زیادہ کامیاب افراد خود کو سست طرز زندگی تک محدود نہیں رکھتے بلکہ جسمانی طور پر متحرک رہنا پسند کرتے ہیں، وہ روزانہ کم از کم ایک گھنٹے تک کسی نہ کسی قسم کی ورزش کرتے ہیں جو ان کے خیال میں تخلیقی صلاحیت کو بھی بڑھاتی ہے۔

ٹام کورلے کے مطابق دنیا کے 76 فیصد دولتمند اور کامیاب لوگ ہفتہ میں 4  دن  جبکہ 66 فیصد امیر لوگ روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش،  جاگنگ، یوگا سائیکلنگ اور ایروبک  جیسی مشقیں کرتے ہیں جبکہ غریب افراد کا صرف 23 فیصد ہی اس بات پر عمل کرتا ہے۔  لہٰذا صحت پر سمجھوتہ نہ کریں،  ہلکی پھلکی ورزش اور صحت بخش غذا یہ دونوں چیزیں بھی کامیابی اور ایک خوشحال طرز زندگی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ 24 گھنٹوں میں سے 30 منٹ جسم اور صحت کےلیے وقف کردیں۔ وہ کہتے ہیں نا کہ احتیاط افسوس سے بہتر ہے،ظاہر ہے اگر آپ صحت مند رہیں گےتوآپ کا پیسہ ڈاکٹر کی جیب میں جانے کے بجائے آپ کے پاس ہی رہے گا۔

کامیاب لوگ   مراقبہ  کرتے ہیں

دنیا کے بیشتر دولتمند اور کامیاب افراد روزانہ مراقبہ کرتے ہیں۔   ٹام کورلے  نے مراقبہ کرنے والوں کی فہرست میں کئی سیاستدانوں، کاروباری شخصیات، مشہور ا داکار و کھلاڑی، ڈاکٹر، جرنلسٹ،   اکیڈمک اسکالر ، مصنفین کی ایک بڑی تعداد  بیان کی ہے۔

ایپل کمپنی کے بانی اسٹیو جابز کی جوانی کی یادگار تصویر، جنہوں نے اپنا ایک کمرہ مراقبہ کے لیے مخصوص کررکھا تھا۔

مایہ ناز سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن   ہوں ، یا  سابق امریکی خاتونِ اول ہیلری کلنٹن، جاپان کے سابق وزیر اعظم یوکیو ہوٹویامہ جیسے سیاستدان ،  ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو جیک ڈورسے لے کر ایپل کمپنی کے بانی اسٹیو جابز ،  برج واٹر  کے ڈیلیو اور لنکیڈ اِن Linkedinکے جیف وینر جیسی کاروباری شخصیات ہوں، ہفنگن پوسٹ کی ایڈیٹر  ایریانا ہفنگٹن  ہوں یا فورڈ کمپنی کے چئیرمین بِل فورڈ اور گوگل ڈاٹ اورگ کے بانی لیری بریلینٹ یا پھر ول اسمتھ، انجلینا جولی، ایما واٹسن، جم کیری، کلینٹ ایسٹ ووڈ،  کیمرون ڈیاز، آرنلڈ شوارزنگر، ایوا مینڈس، میگان فوکس، ہوجیک مین ،  جنیفر آسٹن اور لیونارڈو ڈی کیپریو   جیسے مشہور اداکار یا کیٹی پیری، ٹم برگ اورر 50سینٹ  جیسے گلوکار سے لے کر امریکی میڈیا کی ارب پتی خاتون اوپرا وانفرے تک ،   سب روزانہ مراقبے کی مشق کرتے ہیں اور اسے اپنی کامیابی کے لیے ایک اہم ذریعہ مانتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی فنڈ کمپنیوں میں  سے ایک برج واٹر ایسوسی ایٹ کے بانی رے ڈیلیو  کہتے ہیں کہ

Meditation more than anything in my life was the biggest ingredient of whatever success I’ve had,  ~ Ray Dalio

 ‘‘ مراقبہ میرے لیے  میری زندگی میں کسی بھی چیز سے اہم  ہے۔   اب تک میں نے جو بھی کامیابی حاصل کی ہیں، اس میں مراقبہ کا ایک بڑا حصہ ہے’’۔

ماہرین  کا کہنا ہے کہ مراقبے سے  متعدد ذہنی اور جسمانی طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں، یاداشت میں بہتری سے لے کر جسمانی دفاعی نظام میں اضافے تک۔ان فوائدکو مدنظر رکھتے ہوئے گوگل، ایپل، اے او ایل اور ایٹنا جیسی 500 سے زائد کمپنیاں  اپنے     ورکز کے لیے  خصوصی میڈیٹیشن  نشت کرواتی ہیں۔

صحت پر سمجھوتہ نہیں

جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ ورزش اور صحت بخش غذا یہ دونوں چیزیں بھی کامیابی اور ایک خوشحال طرز زندگی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔  ناقص غذائی عادات صحت اور قسمت پر اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ٹام کورلے  کی تحقیق کے مطابق 57 فیصد  کاروباری شخصیات روزانہ کیلیوریز کے حساب سے  اپنی غذا کا انتخاب  کرتی ہیں۔  70 فیصد دولت مند لوگ فاسٹ فوڈ کی کم مقدار کھاتے ہیں۔  دوسری جانب  97فیصد غریب افراد صحت کے لیے مضرغذاؤں کا استعمال کرتے ہیں اور  مختلف امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اس کے مقابلے میں امیر یا کامیاب افراد صحت بخش خوراک، ورزش کرنے، سات یا اس سے زائد گھنٹوں کی نیند اور دانتوں کے خلال جیسی عادت کو اپناتے ہیں۔

 مطالعے کی عادت

تینتیسوں امریکی صدر ، ہیری ٹرومین کا مشہور قول ہے کہ :

‘‘ضروری نہیں کہ ہر مطالعہ کرنے والا لیڈر ہو لیکن ہر لیڈر مطالعہ ضرور کرتا ہے’’۔

امریکی ارب پتی بزنس مین وارن بفٹ   سے جب پوچھا گیا کہ انہیں کامیابی  کیسے ملی تو انہوں  نے کہا۔ 

“Read 500 pages like this every day. That’s how knowledge works. It builds up, like compound interest. All of you can do it, but I guarantee not many of you will do it.” ~ Warren Buffet

‘‘ہر روز 500 صفحات پڑھنے سے۔  علم ایسے ہی  کام کرتا ہے ،  ضرب درد ضرب بڑھتا ہے،  تم سب یہ کر سکتے ہو، لیکن میں یقین سے کہتا ہوں کہ تم میں سے اکثر یہ  نہیں  کرو گے ’’۔

مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس  کو بچپن سے  ہی کتابوں سے محبت  ہے

دنیا کے بیشتر کامیاب ترین افراد مطالعے کے شوقین ہوتے ہیں، وارن بیفٹ جو روانہ 500 سے ہزار صفحات پڑھتے ہیں،  کام کے اوقات کا 80 فیصد پڑھنے پر خرچ کرتے ہیں۔  مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی  کتابوں سے محبت تو بچپن سے ہے،  وہ ہر سال 50 کتابیں مکمل پڑھتے ہیں۔ فیس بک کےبانی  مارک زکربرگ نے 2015 کا سال کتابوں کے لیے وقف کیا، اب وہ ہر دو ہفتے میں ایک کتاب پڑھتے ہیں۔   ایسے ہی متعدد نام اس فہرست کا حصہ ہیں۔

ٹام کورلے کے مطابق 88 فیصد دولت مند اور کامیاب شخصیات روزانہ  کم از کم 30 منٹ تعلیم،  نان فکشن یا  کیرئیر سے متعلق کتب کا مطالعہ کرتی ہیں  جبکہ غریب افراد میں یہ تناسب صرف 2 فیصد   ہے۔

 63 فیصد دولتمند گھرانوں کے بچے مہینے میں دو سے  تین کتب پڑھ لیتے ہیں جبکہ   غریب گھرانوں  میں یہ تناسب صرف  3 فیصد   ہے۔  

پورے دن میں صرف 30 منٹ مطالعے کے لئے نکالیے۔ ضروری نہیں کہ آپ مشکل ادب کا مطالعہ کریں بلکہ آپ پروفیشنل کیرئیر جیسے موضوع پر ہلکی پھلکی کتابیں بھی پڑھ سکتے ہیں۔

باخبر رہیں مگر ….

دنیا بھر کے 94 فیصد دولتمند لوگ اخبار پڑھتے ہیں  یا   پھر نیوز ویب سائیٹس سے بھی اپنے آپ کوباخبر رکھتے ہیں۔  لیکن بیشتر افراد ہر خبر نہیں پڑھتے بلکہ ہیڈلائنز یا موسم کے حالات کے ساتھ صرف اپنے موضوع  یا صفحات کا ہی مطالعہ کرتے ہیں۔  

ناشتے کے دوران سرسری سا اخبار پڑھنے کو اپنی عادت بنالیں۔ صبح گھر سے نکلنے سے پہلے حالات سے ضرور باخبر رہیں۔  اگر آپ اخبار نہیں پڑھیں گے تو آپ بے خبر رہیں گے۔  لیکن ایک حیرت انگیز بات جو ٹام کورلے نے نوٹ کی یہ ہے کہ  زیادہ تر بزنس مین صبح اٹھنے کے فوراً بعد اپنی ای میل یا میسجز چیک نہیں کرتے   ، وہ یہ کام زیادہ تر ناشتے، ورزش یامراقبہ کے بعد کرتے ہیں۔    

تھامس کورلے کی تحقیق کے مطابق دنیا کے 67 فیصد کامیاب ترین افراد ایک گھنٹے سے زیادہ ٹی وی دیکھنےسے گریز کرتے ہیں، اور کچھ تو بالکل بھی نہیں دیکھتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ جو وقت وہ اس ڈبے کے سامنے ضایع کریں گےاس وقت میں وہ کچھ منافع بخش کر سکتے ہیں۔ 

غریب افراد میں سے صرف 23 فیصد ایسے ہیں جو 1 گھنٹہ سے کم ٹی وی دیکھتے ہیں،  رئیلٹی شو دیکھنے والوں میں امیر افراد کی تعداد 6 فیصد ہوتی ہے جبکہ 78 فیصد غریب لوگ بڑے شوق سے رئیلٹی شو دیکھتے ہیں۔   تحقیق کے مطابق77فیصد ناکام افراد اپنا زیادہ وقت ٹیلیویژن دیکھتے ہوئے گزارتے ہیں،جبکہ اپنے بل بوتے پر کامیاب ہونے والے افراد اس پر بہت کم وقت صرف کرتے ہیں۔

روزمرہ اہداف کی فہرست

کامیاب اور دولتمند افراد   ہر صبح اٹھنے کے بعد جانتے ہیں کہ آج انہیں کیا کرنا ہے۔   ٹام کورلے   کے مطابق 81 فیصد کامیاب اور بزنس مین شخصیات  روزمرہ اہداف کی فہرست  مرتب کرتے ہیں   اور ان میں سے 67 فیصد  اس فہرست کو روز  مکمل بھیکرتےہیں۔  

اپنے دن بھر میں سر انجام دیے جانے والے کاموں کی فہرست بنائیں۔ یہ کام آپ اس وقت کریں جب آپ صبح صادق میں اٹھیں۔ اس سے ایک تو آپ کو کاموں کو نمٹانے میں آسانی ہوگی۔ دوسرا آپ اپنے لیے ٹارگٹ سیٹ کر سکیں گے کہ فلاں کام آج ہر حال میں انجام دینا ہے۔

یاد رکھئیے….! صرف طویل المد تی منصوبے بنانا کافی نہیں، آپ کو ضرورت ہے مختصر اور روزمرہ کے اہداف کی ، دن کے اختتام پر اپنے اہداف پر نظر دوڑائیں کہ آپ نے کتنے کاموں کو مکمل کیا اور کن عوامل نےان اہداف کو پانے میں آپ کی مدد کی۔ کوشش کریں کہ آنے والے دن کے لیے بھی اپنے کاموں کی پیشگی فہرست بنا لیں۔دن کے اختتام پر اس فہرست کو دیکھیں ۔  جب آپ دیکھیں گے کہ آپ یہ تمام کام انجام دے چکے ہیں تو آپ کو طمانیت کا احساس ہوگا۔ 

کامیاب اور دولتمند افراد  صرف ایک دن کی منصوبہ بندی کرنے کے ساتھ ساتھ طویل المعیاد منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں۔  اپنی زندگی کا ایک واضح مقصد بنائیں اور ہر روز اس تک پہنچنے کے لیے قدم قدم آگے بڑھیں۔

یاد رکھیں…..!  امیر اور کامیاب ترین لوگ ایک رات میں ہی اس مقام تک نہیں پہنچتے۔ ان کی کامیابی کے پیچھے برسوں کی محنت، رت جگے اور کٹھن دن ہوتے ہیں جو عموماً لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ 62 فیصد کامیاب روز اپنی طویل المعیاد منصوبہ بندی پر نظر رکھتے  ہیں۔ 

عام افراد جیسا طرز زندگی

یہ بات آپ بھی جانتے ہوں گے کہ پیسہ درختوں پر نہیں لگتا۔  اس کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ اگر آپ دولت کمانے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں آپ کہ بہت زیادہ اسراف کرنے لگیں۔  درحقیقت دنیا کے چند امیرترین افراد کفایت شعاری سے زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور 50 ارب ڈالر  کی کمپنی فیس بک کے بانی مارک زکربرگ ظاہری لباس اور سواری پر زیادہ خرچہ پسند نہیں کرتے اور لگ بھگ ایک جیسی قمیض کو  کئی بار استعمال  کرتے ہیں اور سستی گاڑی کے مالک ہیں، آپ گوگل پر مارک زکر برگ کی تصاویریں تلاش  کریں گے تو وہ زیادہ تر ایک سادہ سی گرے رنگ کی ٹی شرٹ پہنے ہی دکھائی دیں گے۔ ان کی الماری میں مہنگے سوٹس نہیں بلکہ صرف سادہ گرے ٹی شرٹ اور کلا دار قمیضHoody  ہوتی ہیں۔    

 

 

مارک زکربرگ اور ان کی الماری

 

ایسا ہی کچھ معاملہ  ایپل کے بانی آنجہانی اسٹیو جابز کے ساتھ بھی تھا۔ انہیں کئی تقریبات  میں کم و بیش ایک ہی سیاہ شرٹ میں دیکھا گیا۔ کامیاب اور دولت مند افراد عموماً اپنے اوپر سوچ و بچار کرنے میں کم وقت خرچ کرتے ہیں ۔  یہی وجہ ہے کہ وہ سادگی پسند ہوتے ہیں۔ ان کی نظر بڑے مقاصد پر ہوتی ہے لہٰذا وہ اس سوچ میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے کہ ’آج کیا پہنا جائے‘۔  اس عادت سے وہ بے مقصد شاپنگ مالز میں گھومنے اور نت نئے لباسوں پر ضائع کیے جانے والے وقت اور توانائی  کو نئی تخلیقات  ایجاد کرنے  اور دیگر بامقصد کاموں میں صرف کرتے ہیں۔  

ارب پتی بزنس مین وارن بفٹ خود سرو کرتے ہوئے

وارن بفٹ  ارب پتی ہونے کے باوجود اپنے پاس موبائل فون نہیں رکھتا نہ ہی اس کے پاس کمپیوٹر لیپ ٹاپ یا کوئی دوسری الیکٹرانک چیزیں ہیں۔  میکسکو  کے ارب پتی بزنس مین کارلوس سلِم ہولو Carlos Slim Helú  کا مکان چھ کمروں پر مشتمل ہے اور وہ خود کار ڈرائیو کرتے ہیں۔  مشہور اسٹور چین ہوبی لوبی کے CEO ڈیوڈ  گرین  فضائی سفر کے بجائے کوچ میں سفر  کو ترجیح دیتے ہیں ۔   بل گیٹس برسوں تک عام پروازوں کے ذریعے سفر کرتے رہے۔  دوسری جانب 95فیصد غریب افراد بچت کی بجائے قرض کے بوجھ میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانا ان کے لیے  مالی تناؤ کا باعث بنتا ہے ۔ اس طرح  وہ اپنے معیار زندگی کو کمتر کرلیتے ہیں۔

اپنے خواب کا تعاقب

ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز نے ایک موقع پر کہا تھا کہ جس مقصد سے آپ کو محبت ہے آپ اسے حاصل کرلیتے ہیں، مگر یہ جاننے کے لیے بھی آپ کو بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے کہ آپ کرنا کیا چاہتےہیں۔

 اگر آپ کوئی مقصد تلاش نہیں کرپائے تو اسے دریافت کرنے کی کوشش کیجیے اور خود کو روکیے نہیں۔ دیگر ماہرین بھی کہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص زندگی میں کامیاب نہیں ہوسکتا اگر وہ اس کام سے جڑا رہے جو وہ پسند نہ کرتا ہو۔

اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو وہ کام کیجیے جو آپ کو پسند ہے۔  اس کا مطلب  یہ ہے کہ اپنا ذاتی ہدف حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔ ہمارے ہاں  لوگوں کی بہت بڑی تعداد یہ غلطی کرتی ہے کہ دوسروں کے خوابوں کو تعبیر دینے میں لگجاتیہے۔

ہمیشہ وہ راستہ اختیار کریں جو آپ کو پسند ہے۔جس ملازمت سے نفرت کرتے ہوں اس کو برقرار رکھنا ناصرف آپ کو تناؤ کا شکار اور زندگی سے غیرمطمئن کرتا ہے بلکہ ترقی یا امیر بننے کے امکانات پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ درحقیقت اپنے خواب کا تعاقب کرنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

آمدنی کے ذرائع

کامیاب لوگ آمدنی کے ایک ذرائع پر لگے بیٹھے نہیں رہتے بلکہ  دو دیگر  ذرائع آمدنی کی کوشش کرتے ہیں ، اس کے لیے وہ بہتر سے بہتر کی تلاش میں رہتے ہیں ، یا پھر کسی کاروبار میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ 

اضافی آمدنی حاصل کرنے کا ایک موثر ذریعہ سرمایہ کاری کرنا ہے اور یہ کام آپ جتنا جلدی کریں گے، اس کا اتنا ہی فائدہ ہوگا۔ کروڑ پتی افراد اوسطاً اپنی 20 فیصد سالانہ آمدنی سے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ایسے افراد اپنی دولت کا شمار اپنی سالانہ آمدنی سے نہیں کرتے بلکہ اپنی بچت اور سرمایہ کاری سے لگاتے ہیں،  آپ 10 فیصدسے شروعات کریں۔اگر  آپ زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی طے کردہ حدود سے باہر نکلنا ہوگا مگر تحقیق کے مطابق عام  لوگ ایک حد تک محدود رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں اور اس سے باہر نکلنے سے ہچکچاتے ہیں،جبکہ کامیاب افراد غیریقینی صورتحال میں بھی پریشان نہیں ہوتے۔

خود اپنے ملازم ہوتے ہیں

ارب پتی افراد کے اندر خود اپنا باس ہونے کی عادت بھی پائی جاتی ہے۔  وہ خود اپنی تنخواہ اور اپنے  کام کا تعین کرتے ہیں۔ اس کی مثال مارک زکربرگ کی شکل میں سامنے ہے جنہوں  نے 2004 میں فیس بک کو متعارف کرانے کے بعد اپنے آپ کو اس میں بھرتی کیا ۔  سنیپ چیٹ کے سی ای او ایون اسپیگل بھی اسی فہرست کا حصہ ہیں۔ یہ لوگ لگے بندھے انداز میں کام کرنا پسند  نہیں کرتے، یعنی یہ لوگ  اتنا کام نہیں کرتے جتنا  ان کے دفتر یا فیکٹری  کی ڈیمانڈ ہوتی ہے  بلکہ اتنا کام کرتے ہیں جتنی ان میں  صلاحیتہوتی ہے۔ 

ٹام کورلے کے مطابق  86 فیصد کامیاب اور دولت مند لوگ اپنی آفس  ٹائمنگ سے زیادہ کام کرتے ہیں اور  ہر ماہ  آفس ٹائمنگ سے  کم از کم 50 گھنٹہ زیادہ کام کرتے ہیں۔ 

فلاحی سرگرمیاں

امیر افراد اپنی دولت سے دنیا پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔  وہ دنیا سے جو لیتے ہیں اسے لوٹاتے بھی ہیں۔  کچھ اس کے لیے فلاحی سرگرمیوں کا سہارا لیتے ہیں،  دیگر کاروبار یا مالیاتی اداروں کے ذریعے یہ کام کرتے ہیں۔ بل گیٹس اور متعدد ارب پتی افراد نے اپنی بیشتر دولت انسانی بھلائی کے لیے صرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں مارک زکربرگ، وارن بفٹ، کارلوس سلم، اینڈریو کارنیگی، نیلسن راک فیلر ایک سعودی شہزادے سمیت متعدد بڑے نام شامل ہیں۔ 83 سالہ وارن  بفٹ  2008ء میں  دنیا کے  امیر ترین بزنس مین میں پہلے نمبر پر تھے۔  ان کا اثاثہ 62 ارب  ڈالر تھا،  لیکن 2009 ء میں  انہوں نے فلاحی تنظیموں کو اتنی چیریٹی دی کہ ان  کا اثاثہ  کم ہوکر 37 ارب ڈالر  ہوگیا اور وہ  پہلے سے دوسرے   نمبر پر آگئے ۔ 

بچت  ، لیکن  کس قیمت پر 

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پیسا بچانے کی صلاحیت کا ہونا آپ کوامیر بنانے میں کافی مددگار ثابت ہوتا ہے لیکن اگر آپ امیر ہونا چاہتے ہیں تو سب سے پہلی ادائیگی خود کو کریں۔

نہیں سمجھ آئی….؟

آئیں آپ کو سمجھاتے ہیں۔  وارن بفٹ نامی مشہور بزنس مین جن  کے کل اثاثو ں کی قیمت 72 ارب ڈالر ہے ، کہتے ہیں۔

“Do not save what is left from after spending, but spend what is left after saving.” ~ Warren Buffet

‘‘خرچہ کرنے کے بعد جو باقی بچے اس سے بچت نہ کریں بلکہ بچت کرنے کے بعد جو  باقی رہ جائے  اسے خرچ کریں۔ ’’ 

بچت کے موضوع پر اس سے زیادہ جامع قول کیا ہو سکتا ہے ، اصل میں جب ہم ایک روپیہ کماتے ہیں تو سب سے پہلے دوسروں کو ادا کرنے لگتے ہیں۔ گھر کے کرائے سے لے کر بجلی، گیس کے بلوں تک۔ اور اس کے بعد جو بچتا ہے وہ خود کو ادا کرتے ہیں، یعنی بچت کرتے ہیں۔

امیر ہونے کے لیے اہم ترین قدم یہ ہے کہ پہلے بچت کریں، پھر اخراجات کی جانب دیکھیں۔ اس کا ابتدائی فارمولا ہمیشہ یہ بنائیں کہ اپنی آمدنی کا کم از کم 10 فیصد حصہ ایک طرف رکھ دیں اور باقی کے ذریعے اپنے مالی معاملات چلائیں۔ کفایت شعاری کی   عادت دیکھتے ہی دیکھتے آپ کو بہت ہی جلد امیروں کی صف میں لا کھڑا کرسکتی ہے۔  اس لیے اپنے غیر ضروری خرچے کم کیجئےاورجتنا ہو سکے پیسے بچائیے لیکن کنجوسی کے ساتھ نہیں….   اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اپنی دولت بڑھانے کے لیے بچت کی اہمیت بہت زیادہ ہے،   لیکن اس پر اتنا بھی زیادہ مت سوچیں کہ آپ کمائی کو ہی نظر انداز کرنے لگیں۔ امارت کی منزلیں چڑھنے والے افراد کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ کمانے کے طریقوں پر سے کبھی توجہ نہیں ہٹاتے۔ آپ کا یہ کہنا درست ہوگا کہ کسی ایک جگہ سے آپ کو اپنی ضروری اشیا سستی مل جاتی ہیں، لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ وہاں تک جانے اور آنے میں آپ نے اپنا کتنا قیمتی وقت ضائع کیا؟ وہ وقت جو آپ کمانے پر لگا سکتے تھے؟ تو یہ سوچیں کہ آپ کوئی ایسی بچت تو نہیں کر رہے جو دراصل گھاٹے کا سودا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ امیروں کی طرح سوچیں، پیسے ختم ہونے کے حوالے سے پریشان مت ہو، بس کمانے کے نئے ذرائع کے بارے میں سوچیں کیونکہ بچت کے لیے بھی تو پیسوں کی موجودگی ضروری ہے۔

ہار نہ ماننا

تھامس کورلے نے جتنے کامیاب اور دولت مند لوگوں  پر تحقیق کی ہے ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ وہ زندگی میں ایک مرتبہ تو ناکام ضرور ہوئے ہیں،  لیکن ناکامی کو کبھی انہوں نے اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دیا۔  وہ جانتے ہیں کہ ناکامی بھی کامیابی کا ایک حصہ ہے۔  چین کے امیر ترین شخص ،  مشہور بزنس مین  اور 230 ارب ڈالر  کے اثاثوں کی انٹرنیٹ کمپنی ”علی بابا“  کا مالک جیک ماکی زندگی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ، 15 سال پہلے وہ چین کے ایک اسکول میں انگریزی کے استاد تھے اور تقریباً 2000 روپے ماہانہ کماتے تھے۔ جب انہوں نے بہتر ملازمت کی تلاش شروع کی تو ناکامی ہوئی اور یہاں تک کہ کے ایف سی کے ایک ریسٹورنٹ نے بھی انہیں  ملازمت دینے سے انکار کردیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ جیک وہی شخص ہے جو کالج میں داخلے کے امتحان میں دو بار فیل بھی ہوا تھا۔ لیکن انہوں  نے  کبھی حوصلہ نہیں ہارا اور مسلسل کوشش کرتے رہے۔  آج وہ دنیا کے 70 ویں امیر ترین شخص ہیں۔  علی باباکمپنی آن لائن خرید و فروخت کرنے والوں کو خدمات فراہم کرتی ہے اور چین میں 80 فیصد آن لائن خریدوفروخت اس کے ذریعے ہوتی ہے۔

علی بابا کمپنی کے مالک جیک ما

اگر آپ امیر ہونا چاہتے ہیں، خود کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں یا زندگی میں بہت آگے جانا چاہتے ہیں تو یہ جان لیں کہ کئی ایسے مراحل آئیں گے جب آپ کو بے یقینی اور ناکامی  کا سامنا ہوگا۔  کامیابی کی سوچ رکھنے والے یہ بات شروع ہی میں جان لیتے ہیں کہ کروڑ یا ارب پتی بننا آسان نہیں، اس لیے وہ سخت محنت کرتے ہیں اور بالآخر اپنی منزل پا لیتے ہیں۔

نیا دن ، نئی اُمید

ہر نیا طلوع ہوتا سورج نئی امیدیں اور مواقع لے کر آتا ہے۔ کبھی بھی یہ مت سوچیں کی آج آپ کا برا دن ہے۔ ہوسکتا ہے دن کے اختتام پر آپ کے لیے کوئی بہترین چیز موجود ہو۔ اگر کوئی دن ایسا بھی ہے جو آپ کے خیال میں برا ہے تو اس کے بارے میں زیادہ مت سوچیں۔ اگلے دن میں یقیناً آپ کے لیے کچھ بہترین ہوگا۔ مایوسی اور ناامیدی سے دور رہیں اور ہر حال میں خوش رہنے کی کوشش کریں۔

آپ جیسا سوچتے ہیں وقت ویسا ہی کرتا ہے۔  اب یہ آپ پر ہے کہ آپ مثبت سوچیں یا منفی۔  یہی نہیں بلکہ مثبت سوچنے کو اپنی عادت نہیں بلکہ طرزِ زندگی کے طور پر اختیار کریں۔  اگر آپ اپنے معمولات سے منفی سوچوں اور ذہنی صلاحیتوں کو محدود کرنے والے عوامل کا خاتمہ کردیں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کتنی تیزی سے ترقی کی بلندی کو چھو لیتے ہیں۔ گرم جوش اور دوستانہ رویہ اپنائیں اور اپنی ترقی سے متعلق ہر نئے موقع کو خوش آمدید کہیں۔  طویل المعیاد کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب سوچ مثبت ہو،بیشتر افراد کا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اس بات سے واقف ہی نہیں ہوتے کہ ان کے خیالات مثبت ہیں یا منفی۔ اگر آپ اپنے خیالات کی سننا چھوڑ دیں گے تو یہی اس بات کا شعورہوتا ہے۔

ٹام کورلے نے   تحقیق میں یہ دریافت کیا ہے کہ مثبت سوچ امیر افراد کا طرہ  امتیاز ہوتی ہے۔دیرپا کامیابی صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ  آپ مثبت ذہنیت کے مالک ہوں۔

مثبت سوچ، مثبت صحبت

کامیاب لوگوں کی  اکثریت مثبت سوچ کی حامل ہوتی ہے  اور اپنے دوستوں کے حلقے میں بھی مثبت سوچ والے افراد ہی کو شامل کرتی تھی۔ کامیاب افراد کسی بھی جگہ اپنے جیسے ذہین شخص کے ساتھ کھڑا ہونا پسند کرتے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں تو آپ کی سماجی حیثیت آپ کے قریبی دوستوں کی حیثیت کا بھی عکاس ہوتی ہے۔ 

تھامس سی کورلے کے مطابق  تمام امیر افراد میں یہ ایک بات مشترک ہے کہ وہ قنوطیت پسند(مایوس رہنے والے) افراد سے حتی الامکان دور رہتے ہیں اور کسی بھی قیمت پر انہیں اپنے قریب نہیں آنے دیتے۔ 

تم اتنا ہی کامیاب ہو سکتے ہو جتنا وہ لوگ ہیں جن سے تم بکثرت ملتے ہو۔

 68فیصد کامیاب اور  امیر افراد ہمیشہ ایسے لوگوں کو اپنے اردگرد رکھنا پسند کرتے ہیں جو امید پرست، پرجوش اور مثبت سوچ کے حامل اور اپنے جیسے کامیاب و ہم خیال  ہوں اور ان کی توجہ ہمیشہ اپنی منزل کے حصول پر رہتی ہو۔ تھامس کارلے مزید لکھتا ہے کہ میں نے جن امیر لوگوں پر تحقیق کی ان میں سے 86فیصد ایسے لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں جو خود کامیاب ہوں اور منفی ذہنیت کے لوگوں سے ہمیشہ دور رہتے ہیں۔

مل جل کر کام کرنا

زیادہ تر کامیاب لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کبھی اکیلے ترقی نہیں کرتے  بلکہ  ہم خیال لوگوں  کے ساتھ ٹیم بناکر ترقی کرتے ہیں۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ آپ کو سمجھ نہیں پاتے وہ آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے مِیں بخل سے کام لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی آپ کے اطراف موجودگی ذہنی دباو اور فرسٹریشن کا باعث بنتی ہے۔ اس کے بر عکس آپ اگر ایسے لوگوں میں اٹھیں بیٹھیں جو آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوں اور آپ کے فن کے معترف بھی ہوں تو ایسے ماحول میں آپ کی ذہنی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں اور آپ بہت کم وقت میں کامیابی کی بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں۔

 دنیا کے 79 فیصد بزنس مین  دن کا کم ازکم 5 گھنٹہ  لوگوں سے ملنے  جلنے ، میٹنگز کرنے  میں گزارتے ہیں۔      آپ بھی مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں سے میل جول کی عادت اپنائیں اور کسی بھی میدان میں ان کی مدد کرنے سے گریز نہ کریں، اس کا سب سے بڑا فائدہ باہر کی دنیا سے آپ کا تعارف ہوگا یعنی مفت کی مشہوری۔  لوگوں کے ذہنوں میں آپ کا نام اور کام محفوظ رکھے گی جو کہ یقینا ایک اچھی سرمایہکاری ہے۔ 

وقت سے آگے

 اوسط افراد چاہتے ہیں کہ وہ کام کو جتنا وقت دیتے ہیں، انہیں اتنا کمانا چاہیے۔ لیکن یاد رکھیں دن میں صرف 24 گھنٹے ہی ہوتے ہیں جن میں آپ زیادہ سے زیادہ 18 گھنٹے کام کر سکتے ہیں۔ آپ فی گھنٹہ اگر ایک ہزار روپیہ بھی کما سکتے ہیں تو کبھی 18 ہزار سے آگے نہیں جا پائیں گے۔ اس کے مقابلے میں دولت مند افراد نتائج کی بنیاد پر ادائیگی حاصل کرتے ہیں۔ اسے آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ محنت کرنے والوں سے زیادہ وہ افراد کماتے ہیں جو کام کو جلد از جلد اور بہتر سے بہتر کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان افراد میں امیر ہونے کی شرح نوکری پیشہ افراد سے زیادہ ہے جو اپنے مالک خود ہوتے ہیں، یعنی اپنی خدمات مختلف افراد یا اداروں کو پیش کرتے ہیں اور پیش کردہ نتائج سے آمدنی پاتے ہیں۔

خود کو اپ گریڈ کرنا

اپنے خوابوں کی تعبیر نوٹوں کی صورت میں پانے کا بہترین طریقہ اپنے ٹیلنٹ میں اضافہ کرنا ہے، ٹیلنٹ میں اضافہ یقینی مستقبل کی ضمانت ہے۔  اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ  اپنی ملازمت میں بتدریج ترقی کریں اور اچھی تنخواہ پائیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو وقت اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اپ گریڈ کرتے رہیں۔ اپنے کام سے متعلق کچھ نیا سیکھیں ، اور اسے بہتر سے بہتر کرنے کا ہنر سیکھیں ۔  

سننے کے  عادی

جس طرح اچھا بولنا ایک ہنر ہے اس طرح مسلسل توجہ کو مرکوز کر کے سننا بھی ایک اہم اور منفرد ہنرہے۔  کامیاب لوگ اچھے  سامع ہوتے ہیں۔ لوگ آپ سے کیا چاہتے ہیں اس کو ٹھیک طرح سننا اور سمجھنا بھی  کامیاب  اور امیر لوگوں کی عادات میں سے ایک ہے،   مثال کے طور پر اگر آپ نیا کاروبار شروع کرنے جا رہے ہیں تو کم بولنا اور زیادہ سننا آپ کے لیے کامیابی کی کنجی بن سکتا ہے، اپنی سننے اور سمجھنے کی اہلیت کو بہتر بنا کر آپ دوسرے لوگوں سے سیکھنے اور اپنے اطراف موجود لوگوں کی مدد کرنے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔

مشورہ

تنقید کا خوف لوگوں کو دیگر افراد کے مشوروں یا تجاویز سے دور رکھتا ہے،مگر یہ وہ اہم چیز ہے جو سیکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔ اس طرح یہ پتا چلتا ہے کہ کس چیز کو نہ کرنا بہتر ہوتا ہے جبکہ یہ بھی معلوم ہوتا کہ آپ درست راہ پر ہیں یا نہیں۔تنقید کو برداشت کرنا،چاہے بری ہو یا اچھی،سیکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے ضروری عنصر ہے۔  کامیاب لوگ ہر کام شروع کرنے سے پہلے اپنے سے بڑوں، اپنے ساتھیوں   سے مشورہ ضرور کرتے ہیں  یا پھر وہ اکیلے میں بیٹھ کر خود سے مشورہ کرتے ہیں۔ اور کام مکمل کرنے کے بعد بھی وہ فیڈبیک کے متلاشی رہتے ہیں۔

وہ ریٹائیر نہیں ہوتے

ہر کوئی  شخص دولت  اس لیے کمانا چاہتا ہے کہ اسے جمع کرکے ریٹائرمنٹ کے بعد آرام سے زندگی گزارے  لیکن  کامیاب شخص ریٹائرمنٹ کی سوچ نہیں رکھتا ۔   کم سے کم 70سال  کی عمر سے پہلے تو نہیں۔    بہت سے امیر لوگ اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے کے باوجود بھی کام کرنا نہیں چھوڑتے ۔

  گلپ پول کے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں 1990 کی دہائی تک لوگ زیادہ سے زیادہ 57 برس کی عمر میں ریٹائر ہوجاتے تھے لیکن اب عمر کا تناسب بڑھ کر 65 سال ہوگیا ہے۔     مالی لحاظ سے کامیاب افراد دراصل کام کی بے آرامی میں ہی آرام محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ محنت کے عادی ہوتےہیں۔

کوئی شارٹ کٹ نہیں

 ایک عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ دولت مند ہونا کوئی خاص انعام  یا کوئی لک (Luck)ہوتا ہے جو صرف چند خوش قسمت افراد کو ملتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ  سائنس و ٹیکنالوجی اور سرمائے کے اس دور میں آپ کو بھی امیر ہونے کے کئی مواقع میسر ہیں لیکن اس کے لیے سوچ، محنت اور منصوبہ بندی کو درست سمت دکھانی ہوگی۔ کامیابی حاصل کرنے اور دولت مند بننے کے لیے کوئی   شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ دنیا کے  زیادہ تر کامیاب اور دولتمند بزنس مین  لاٹری یا جوا  پر یقین نہیں  رکھتے ،   صرف 6 فیصد دولتمند  لوگوں کو ہی جوے اور لاٹری  کی عادت ہے۔    جبکہ 77 فیصد غریب لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ لاٹری یا جوا    وغیرہ جیت کر امیر بنا   جاسکتا ہے۔ کامیاب لوگوں کا کہنا ہے کہ توجہ اور محنت لاٹری کی بہ نسبت زیادہ تیزی سے آپ کو دولتمند بناسکتی ہے۔

معمولات کے عادی ہوتے ہیں

انتہائی کامیاب افراد کی ایک مشترک عادت ایک معمول کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ ایسے افراد کا کہنا ہے کہ چاہے ہم کہیں بھی ہوں  گھر پر، ہوٹل یا دفتر وغیرہ، ہم اپنے لگے بندھے معمولات تک محدود رہتے ہیں۔ وہ کہیں بھی ہوں  کسی دوسرے ملک میں بھی ہوں ، اپنے روز مرہ کے معمولات  کو نہیں چھوڑتے ۔

 

کامیاب لوگوں کی مزید عادات

1۔ وہ جانتے ہیں کہ کب آگے بڑھنا ہے۔

2۔وہ اپنے خوف یا ڈر کو اپنا عزم بڑھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

3۔وہ جانتے ہیں کہ ناکامی کامیابی کا ہی حصہ ہے۔

 4۔وہ اپنی سوچ  کو اس طرح تربیت دیتے ہیں کہ ہرچیز میں اچھائی دیکھ سکیں۔

5۔ وہ اپنے مقصد پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں۔

6۔ وہ کوئی بات ذاتی طور پر نہیں لیتے۔

7۔ وہ خود پر یقین رکھتے ہیں۔

8۔ وہ کسی چیز میں مداخلت کی کوشش نہیں کرتے۔

9۔ وہ خود کو نو آموز ہی سمجھتے ہیں۔

10۔ وہ ایسی چیزوں سے دور رہتے ہیں جو وہ کرنا ہی نہیں چاہتے۔

11۔ وہ دیگر افراد کی خوشی اور کامیابی پر بھی جشن مناتے ہیں۔

12۔ وہ ہمیشہ بغیر کسی مقصد کے بھی لوگوں کی مدد کیلئے تیار رہتے ہیں۔

13۔ وہ اپنے منفرد انداز پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرتے۔

14۔ وہ اس بات کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ وہ ہرچیز کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

بھوکے رہو بے وقوف رہو

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     12جون2005کا دن تھا جب اسٹین فورڈ ...

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 3   گزشتہ صفحات میں ہم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن