روحانی ڈائجسٹ / روحانی ڈاک / روحانی ڈاک – اکتوبر 2018ء

روحانی ڈاک – اکتوبر 2018ء

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں


 ↑ مزید تفصیلات کے لیے موضوعات  پر کلک کریں↑

Image Map

 


***

شادی میں رکاوٹ دور کرنے کے لیے ایک وظیفہ 

سوال: یہ مسئلہ ہماری بڑی بہن کا ہے۔ آپا کی چار بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں۔ ان کی بڑی دوبیٹیوں کی شادی تو بیس اور اکیس سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ دونوں چھوٹی بیٹیوں کے رشتوں میں نہ معلوم کیوں رکاوٹ ہورہی ہے۔ میری ایک بھانجی کی عمر ستائیس اور ایک کی چوبیس سال ہوگئی ہے۔ دونوں لڑکیاں خوبصورت اور تعلیم یافتہ ہیں۔ بڑی بھانجی نے ماسٹرز کیا ہے اور آج کل وہ ایک اسکول میں پڑھا رہی ہے۔ چھوٹی نے بی ایس سی کیا ہے۔ وہ گھر داری میں مصروف رہتی ہے۔
ہماری آپا انتہائی نیک، ملنسار دوسروں کے کام آنے والی ہستی ہیں۔ بیٹیوں کی شادی میں رکاوٹ سے وہ بہت فکر مند رہتی ہیں۔ اس فکر میں ان کی صحت بھی متاثر ہورہی ہے۔ ان کی نیند کم ہوگئی ہے۔ اکثر ان کے سر میں درد ہوجاتا ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ رشتوں پر کسی نے بندش کروادی ہے مگر ہمیں اس بات پر یقین نہیں آتا، اللہ کا شکر ہے ہمارے سب سے مخلصانہ تعلقات ہیں کسی سے کوئی دشمنی نہیں۔  

جواب: اپنی آپا سے کہیں کہ وہ رات سونے سے پہلے 101 مرتبہ سورۂ النساء (4)کی آیت 113

وَلَوْلَا فَضْلُ اللّـٰهِ عَلَيْكَ وَرَحْـمَتُهٝ لَـهَمَّتْ طَّـآئِفَةٌ مِّنْـهُـمْ اَنْ يُّضِلُّوْكَ ؕ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَهُـمْ وَمَا يَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَىْءٍ ۚ وَاَنْزَلَ اللّـٰهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْـمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ اللّـٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًاo

اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کراپنی بیٹیوں کے اچھی جگہ رشتہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں۔
یہ عمل نوے روز تک جاری رکھیں۔
دونوں لڑکیاں چلتے پھرتے وضو بےوضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسم یاوہاب کا ورد کرتی رہیں۔
ان دونوں کی طرف سے حسب استطاعت صدقہ کرتی رہیں۔

 


***

سرد مزاج شوہر

سوال: میری شادی کو ڈیڑھ سال ہوچکا ہے لیکن مجھے اب تک دلی سکون حاصل نہیں ہوا۔ شوہر میں وہ بات نہیں جو ایک صحت مند شوہر میں ہونا چاہیے۔وہ روکھے روکھے اور سردرہتے ہیں۔ میں نے ڈیڑھ سال میں کبھی ان کو خوش دلی سے ہنستے بولتے نہیں دیکھا۔ خاموش خاموش رہتے ہیں۔ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ ہرعورت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس کے اچھے کام کو سراہے۔ میں کتنا بھی اچھا کام کروں لیکن کبھی تعریف نہیںکرتے۔
میرے شوہر کی آمدنی بہت کم ہے۔ تقریباً ہر ماہ ادھار لینا پڑ جاتا ہے۔ شادی سے پہلے میری ہر خواہش پوری ہوجاتی تھی۔ معاشی بہتری کے لئے بھی میرے شوہر نے کبھی کچھ نہیں سوچا۔ شوہر کے سرد رویے اور مالی تنگی سے مجھے نہ تو ازدواجی خوشیاں مل رہی ہیں نہ ہی زندگی کی دوسری ضرورتیں ڈھنگ سے پوری ہو پارہیہیں۔
میری خواہش ہے کہ ہماری معاشی پریشانی دور ہو۔ شوہر کی سرد مہری ختم ہوکر ان میں زندہ دلی آ جائے۔  

جواب: ازدواجی لحاظ سے مرد کی صحت کمزور ہونا خود اس مرد کے لیے بہت زیادہ شرمندگی اور شدید نفسیاتی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔ اپنی کمزوری کا ادراک رکھنے والے کئی مرد شادی سے پہلے اپنا علاج کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کمزوری میں مبتلا کئی مرد شادی نہیں کرنا چاہتے اور اپنے گھر والوں کی جانب سے شادی کے اصرار پر بہانہ بازی اور ٹال مٹول سے کام لیتے رہتے ہیں۔ جن مردوں کو اس بات کا علم ہو کہ وہ اپنی زوجہ کے ازدواجی حقوق ٹھیک طرح ادا نہیں کرسکیں گے انہیں اپنی صحت یابی تک شادی نہیں کرنی چاہیے۔
کمزوری دور کرنے کے لیے بعض مقوی مغذیات، پھلوں اور سبزیوں کے استعمال بھی مفیدہیں۔
شوہر اور بیوی کے مزاج میں بہت زیادہ فرق ہو تو اسے دور کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ شوہر کی جانب سے ستائش اور محبت کا اظہار عورت کی جذباتی ضرورت ہے۔
اس ضرورت کی مناسب طور پر تکمیل نہ ہورہی ہو تو عورت کو حکمت و معاملہ فہمی سے شوہر کے مزاج میں تبدیلی کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس کے مزاج پر اس سے گلہ شکوہ کرتے رہنے یا خاموشی سے اندر ہی اندر کڑھتے رہنے کے بجائے اپنے مثبت ردِ عمل سے اسے متوجہ کرناچاہیے۔
یہ مثبت ردِ عمل کس طرح ظاہر کیا جائے….؟ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنے شوہر کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی ان کے ساتھ بھرپور خوشی کا اظہار کیا جائے۔ ان کی سرد مہری کی براہ راست نشاندہی کرنے کے بجائے عملی طور پر یہ احساس دلایا جائے کہ ان کی ذرا سی توجہ آپ کو کتنی خوشی فراہم کرتی ہے۔ آپ انہیں بتائیں کہ آپ سے متعلق ان کی فلاں بات پر آپ کا سارا دن بہت اچھا گزرا۔ ہوسکتا ہے شروع شروع میں وہ ان باتوں کو درست طور پر سمجھ نہ پائیں لیکن آپ کی جانب سے مستقل مزاجی کے ساتھ پرمسرت رویے کا اظہار رفتہ رفتہ ان کے احساسات پر اثر انداز ہوگا اور انشاءاللہ آپ کو اپنے شوہر کی بھرپور توجہ ملنے لگے گی۔
مالی حالات میں بہتری کے لئے اس بات کا جائزہ لیں کہ کیا آپ خود بھی کوئی ایسا کام کرسکتی ہیں جس سے مناسب آمدنی ہوسکے۔ اپنے شوہر کی اجازت سے کوئی ملازمت بھی ہوسکتی ہے یا کوئی ایسا کام بھی ہوسکتا ہے جو گھر بیٹھے بآسانی کیا جاسکے۔
بطور روحانی علاج رات سونے سے پہلے اکتالیس مرتبہ سورۂ اخلاص اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے شوہر کا تصور کرکے دم کردیں اور دعا کریں۔
یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔۔

 


***

بےعزتی کا بدلہ

سوال: میں ایک ایسی دکھیارن ہوں جس کے دکھوں کا علاج شاید کسی کے پاس نہیں۔ صبر کرتے کرتے نو سال ہوگئے ہیں۔اب دل بھر آیا ہے اور دل چاہتاہے کہ کوئی میری فریاد سنے۔ میرے مسئلہ کا حل بتائے۔
میرے والدین میں سے کوئی بھی اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ میں نے اپنی پسند کی شادی کرنا چاہی میرے بھائی راضی نہ تھے۔ والدین نے میری خوشی کی خاطر یہ رشتہ قبول کرلیا چونکہ لڑکا ابھی برسرروزگار نہ تھا اس لئے صرف نکاح کردیاگیا۔
کچھ عرصہ بعد اس لڑکے کی ملازمت لگ گئی۔ لڑکے والوں کا ہمارے گھر آناجانا شروع ہوگیا۔ میرے گھر والے ان چندملاقاتوں میں لڑکے اور اس کے گھروالوں کے بارے میں اچھی رائے قائم نہ کرسکے۔ ایک دن میرے شوہر اور بھائیوں کے درمیان لڑائی ہوگئی۔ غلطی میرے شوہر کی تھی انہوں نے میرے بھائیوں سے خطیر رقم ایک ماہ کے لئے لے کر واپس نہیں کی تھی۔ میرے بھائی تو پہلے ہی اس رشتے کے لیے رضا مند نہیں تھے۔ اس واقعے نے ان کے اشتعال میں اضافہ کردیا۔ میرے بھائی جذباتی ہیں بات تھانے تک پہنچ گئی اور میرے شوہر کوجیل ہوگئی کچھ عرصہ بعد وہ ضمانت پر رہا ہوگئے لیکن دونوں گھرانوں میں دشمنی کی دیوار حائل ہوگئی۔
والدین نے میری خاطر ان کے گھر جاکر معافی تلافی کرنا چاہی اور میری رخصتی کی بات کی۔لڑکے کے والدین نے کہا کہ یہ تو لڑکے پر منحصر ہے کہ وہ جب چاہے لڑکی لے کر آجائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ میرے والدین نے لڑکے سے بات کی تواس نے صاف کہہ دیا کہ میرا پانچ سال تک ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے آپ لوگ انتظارکریں۔
میں نے اپنے شوہر سے رخصتی کی بات کی تو اس کی بات سن کر میرے قدموں سے زمین نکل گئی۔ وہ کہنے لگا کہ تمہارے بھائیوں نے میرے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کا بدلہ میں تم سے لوں گا۔میں ساری زندگی تمہیں بیٹھا کر رکھوں گا نہ طلاق دوں گا اور نہ ہی اپنے ساتھ رکھوں گا۔ یہ بات میں نے اپنے والدین کو بتائی تو ان کو چپ سی لگ گئی۔
تین سال کے اندر میرے امی ابو یہ دکھ اپنے سینے میں لے کرمجھے میرے بھائیوں کے حوالے کرکے خالق حقیقی سے جاملے۔ میں نے نکاح کے سات سال بعد اپنے شوہر سے مجبورہوکر طلاق کا مطالبہ کیا تومیرا شوہر کہتاہے کہ میں طلاق نہیں دوں گا تم خلع لینا چاہتی ہوتو لے لو۔ میرے بھائی کہتے ہیں کہ ہم تیرے لئے عدالت میں نہیں جائیں گے۔ طلاق دینا ہے تو ایسے ہیدے دے۔
اب گذشتہ چھ ماہ سے میراشوہرسے کوئی رابطہ نہیں ہورہاہے۔ انہوں نے اپنے گھر، آفس اور موبائل فون کے نمبر تبدیل کرلئے ہیں۔
میں بہت پریشان ہوں میری عمر ابھی اٹھائیس سال ہے میرے نکاح کو نو سال ہوگئے ہیں۔ میں اکیلی لڑکی، کونسلر اور عدالت کے چکر نہیں لگاسکتی۔ مجھے دنیا داری کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ میرے بھائیوں کو میری ذات سے ہی الرجی ہے۔   

جواب: محترم بیٹی! ان پُرمصائب اور اذیت ناک حالات میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی مدد پر بھروسہ اور خود پر اعتماد کرنا ہوگا۔ آپ کے خاندان میں یا اقارب میں کوئی نہ کوئی خاتون یقیناًایسی ہوں گی جو آپ کی مدد کے لئے تیار ہو جائیں۔ یہ معاملہ خالصتاً آپ کا نجی معاملہ ہے ہوسکتا ہے کہ آپ کے کئی رشتہ دار آپ سے ہمدردی رکھنے کے باوجود کسی وجہ سے اس معاملہ میں پڑنا نہ چاہتے ہوں۔ شاید وہ آپ کے بھائیوں کے رویہ کی وجہ سے محتاط ہوں یا کچھ اور وجوہات ہوں۔ جب انہیں معلوم ہوگا کہ آپ خود ان کی طرف سے مدد کی خواہاں ہیں تو کچھ لوگ یقیناًمدد کو آئیں گے۔ ان لوگوں کے ذریعہ آپ کو وکیل سے ملنے اور عدالتی امور میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان رشتہ داروں میں سے کوئی معاملہ فہم آپ کے بھائیوں کو سمجھائیں دوسروں کے سمجھانے اور نصیحت کرنے سے ہوسکتا ہے کہ آپ کے بھائی آپ کی مدد پر آمادہ ہوجائیں۔ اس طرح زندگی کے ایک تکلیف دہ باب کو بند کرنے میں سہولت ہوجائے۔
صبح اور رات سونے سے پہلے 101 مرتبہ سورہ فاتحہ کی آیت

اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ  O 
گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کیجیے۔
چلتے پھرتے وضو بے وضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء یاولی یانصیر کا ورد کرتی رہیں۔

 

 


***

مستری کا بیٹا ڈاکٹر بننا چاہتا ہے

سوال: میں ایک مستری ہوں کبھی کام اچھامل جاتاہے کبھی نہیں ملتا۔ میرے خاندان میں کوئی بھی فرد پڑھا لکھا نہیں ہے۔ ہم غریب لوگ زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں مگر اللہ کا شکر ہے کہ ابھی تک کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑا۔
شادی کے پندرہ سال بعد بہت دعاؤں اور منتوں سے اللہ تعالیٰ نے بیٹا دیا۔ بہت ہی خوبصورت اور پرکشش بچہ تھا جو دیکھتا اسے پیارکرنے لگتا۔
جب وہ پانچ سال کا تھا تو دوسرے بچوں کو اسکول جاتادیکھ کر اس کو بھی پڑھنے کا شوق پیدا ہوگیا۔ بیٹے کے شوق کو دیکھتے ہوئے میں نے اسے گنتی اور الفاظ کی کتابیں لادیں۔ اس نے بہت جلد گنتی اور الفاظ کہنا سیکھ لئے۔ بچے کا اتنا شوق دیکھ کر ہم نے اسے اسکول میں داخلہ دلوا دیا۔ پڑھائی میں تیز تھا اس لئے اسکول میں اچھے پڑھنے والوں میں اس کا شمارہونے لگا۔ جیسے تیسے اس نے میٹرک کرلیا۔
اس کا ارادہ ہوا کہ وہ میڈیکل میں داخلہ لے۔اس کا داخلہ آسانی سے ہوگیا۔ انٹر تک پڑھائی کے اخراجات ہم میاں بیوی صبر سے برداشت کرتے رہے۔ لیکن اسے مزید پڑھانا اور اخراجات برداشت کرنا اب ہمارے اختیار سے باہر ہوگیاہے۔ میری بیوی کو سانس کا مرض ہوگیاہے اور مجھے خود شوگر ہے یہ بیماری اب اتنی بڑھ گئی ہے کہ جوکچھ کمایا جاتاہے اس رقم کا زیادہ تر حصہ ہمارے علاج میں ہی لگ جاتا ہے۔
بیٹا بہت خود دار ہے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے اس نے ٹیوشن پڑھانا بھی شروع کردی ہے۔ وہ رات دیر تک پڑھتا رہتا ہے۔ اس کی صحت متاثر ہورہی ہے لیکن پڑھنے کا جنون کم نہیں ہورہا بلکہ مزید بڑھتا جارہا ہے۔
ہم دونوں میاں بیوی بستر سے لگ گئے ہیں۔ میں مستری ہوں میرا بیٹا ڈاکٹر بننا چاہتاہے۔ اسے پڑھائی میں دوسروں کی طرف سے تذلیل اور رکاوٹ بھی ہوتی ہے مگر وہ اپنے ارادوں کا بہت مضبوط ہے۔ وہ کہتاہے بابا میں ڈاکٹر بنوں گا آپ اور اماں نے جو غریبی اور پریشانی کے دن دیکھے ہیں وہ خوشحالی میں بدل جائیں گے۔
ہمارے پاس وسائل نہیں کہ اس کا مقصد بآسانی پورا کرسکیں برائے کرم بیٹے کے مقصد کی بآسانی تکمیل کے لئے وظیفہ بتادیں۔ 

جواب: اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہوں آپ کے لئے آسانیاں فراہم ہوں آمین!
آپ شدید مالی مشکلات کے باوجود اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوا رہے ہیں۔ اس کے لیے میری طرف سے ستائش قبول فرمائیے۔ اللہ آپ کے بیٹے کو کامیابیوں سے نوازے اور آپ کو اس کی طرف سے بہت خوشیاں ملیں۔ آمین!
جو لوگ اللہ کے بھروسے پر کوشش کرتے ہیں انہیں زندگی کے مختلف مراحل میں اللہ تعالیٰ کی مدد ملتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم انشاء اللہ آپ کے شامل حال رہے گا۔
عشاء کی نماز کے بعد اکتالیس مرتبہ آیت الکرسی اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر خیرو برکت کے لئے دعا کریں۔
گھر والے وضو بےوضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء یاحی یاقیوم کا ورد بھی کرتے رہیں۔

 


***

دورِ بلوغت کی تعلیم

سوال: میرے چارلڑکے ہیں۔ میرے شوہر سعوی عرب میں کام کرتے ہیں۔ وہ سال میں ایک مرتبہ تقریباً تین ہفتوں کے لیے گھرآتے ہیں۔ بڑے لڑکے کی عمر اکیس سال ہے ۔دوسرا اٹھارہ سال کا اورتیسرے بیٹے کی عمر پندرہ سال ہے۔ سب سے چھوٹا بیٹا ابھی سات سال کاہے۔
آپ کو خط لکھنے کی وجہ تیسرے بیٹے کی بعض حرکتیں ہیں۔گذشتہ ایک ڈیڑھ سال سے میں اس بیٹے کی کچھ عجیب حرکتیں نوٹ کررہی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اس لڑکے میں بلوغت والی باتیں وقت سے پہلے نمودار ہورہی ہیں اورکچھ زیادہ ہی ہیں۔ اسے فلمیں اورگانے دیکھنے کا بہت شوق ہوگیاہے۔ ٹیلی ویژن پر فلمیں اور مردوں اورعورتوں کو گانا گاتے دیکھ کر اسے بے چینی ہونے لگتی ہے۔اس سے بڑے اپنے دونوں لڑکوں میں ،میں نے کوئی غیر معمولی باتیں نوٹ نہیں کیں لیکن اس بیٹے کو جذبات کا دباؤ شاید کچھ زیادہ متاثر کررہا ہے۔ دو بار اس کی کلاس ٹیچر نے بھی مجھے بلایا اور کہا کہ مجھے اس لڑکے پر مسلسل نظر رکھنا چاہیے۔ کلاس ٹیچر کی یہ باتیں سن کرمجھے بہت شرمندگی بھی ہوئی۔اپنے دوبڑے بیٹوں کی طرف سے کبھی ایسے کسی مسئلہ کاسامنا نہیں کرنا پڑا۔ تیسرے بیٹے میں نجانے یہ شیطانی باتیں کہاں سےآگئی ہیں۔
میرے شوہر وطن سے دورہیں ۔سمجھ نہیں آتا کہ میں اکیلی عورت کس طرح اپنے بیٹے کو سمجھاؤں۔اس لڑکے کی ان حرکتوں کی وجہ کیا ہے اورانہیں کس طرح ٹھیک کیا جاسکتاہے….؟    

جواب:لڑکا ہو یا لڑکی انہیں دور بلوغت میں چند اہم تبدیلیوں سے گزرنا ہوتاہے ۔عمر کا یہ دورانتہائی اہم ہے۔ لڑکیوں اورلڑکوں کو اس دور میں والدین یا بڑے بہن بھائی یا خاندان کے کسی اوربڑے کی جانب سے مناسب رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔بلوغت کی عمر میں داخل ہوتی ہوئی لڑکیوں کو توگھر میں والدہ یا بڑی بہن سے رہنمائی ملتی رہتی ہے لیکن لڑکوں کا معاملہ ہمارے معاشرہ میں کچھ مختلف ہے۔بلوغت کے دور میں لڑکوں کوجس رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے وہ انہیں اپنے والد یا بڑے بھائیوں کی طرف سے میسر نہیں آتی ۔لڑکے عموماً اپنی کیفیات اپنے ہم عمر لڑکوں کو بتاتے ہیں۔اس دوران لڑکوں کے لیے غلط رہنمائی کا راستہ کھل سکتاہے ۔بلوغت کی ابتداء میں بہت سے لڑکے اپنے دوستوں کی باتیں سن کر ہیجان میں آکر کسی بُری عادت میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں۔
نو عمری کے دور میں لڑکوں کورہنمائی ان کے والد یا بڑے بھائی کی جانب سے ملنی چاہیے اورلڑکے کو بلوغت میں ہونے والی تبدیلیوں اورمختلف نئے تقاضوں کے بارے میں علمی انداز میں بتایاجاناچاہیے۔
آپ کے شوہر ملک سے باہر ہیں ،آپ پر اپنے بچوں کی تربیت کی دُہری ذمہ داری ہے۔ بہتر یہ ہو گاکہ آپ اپنے بڑے بیٹے سے کہیں کہ وہ اپنے اس چھوٹے بھائی کے ساتھ کچھ وقت گزارے اورحکمت اورٹھنڈے مزاج کے ساتھ اس کی توجہ فضول فلموں اورفلمی گانوں کے بجائے ٹیلی ویژن سے نشرہونے والے مختلف اچھے پروگراموں کی طرف منتقل کرانے کی کوشش کرتا رہے۔
اپنے چھوٹے بیٹے کوآپ نماز کی تاکید کیجئے اوراسے زیادہ سے زیادہ وقت باوضو رہنے کی تلقین بھی کیجئے۔ اسکول سے جب وہ گھر آجائے تو جس قدر بھی ہو سکے آپ بھی اس کے ساتھ وقت گزارئیے اور اس سے اسکول کی پڑھائی، اسپورٹس اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں بھی بات کیجئے۔ اس کے اندر مختلف شوق بیدار کرنے کی کوشش کیجئے۔ خاص طورپر ایسے شوق جن کاتعلق ذہنی محنت سے بھی ہو،مثلاً مضمون لکھنا ،کتابیں پڑھنا وغیرہ۔
اپنے بیٹے سے کہیں کہ وہ دن میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء یاحی یا قیوم کا ورد بھی کرتا رہے۔

 


***

بیٹوں کے سامنے بےبس ماں

سوال: میرے سات بیٹے اور ایک بیٹی ہے جو میری پانچویں اولاد ہے۔ بیٹی کی شادی کو ڈھائی سال ہوئے ہیں۔ شادی غیروں میں ہوئی ہے۔ ہم نے اپنے طورپر چھان بین کی۔ لڑکا خوش شکل، ہنس مکھ اور خوش اخلا ق دکھتا ہے۔ تنخواہ مناسب ہے۔ اس کے گھر والے ہمیں اچھے لگے اور ہم نے شادی کردی۔
شادی کے چند ماہ بعد ایک بار میرے داماد کے بہنوئی نے ان سے مذاق کیا کہ تم صاحب اولاد نہیں ہوسکتے، اس پر داماد نے انہیں کچھ نہیں کہا بلکہ خاموش ہوگئے۔ میری بیٹی کو ان کا یہ مذاق بہت برا لگا۔اس نے ان کو جواب دے دیا تو یہ بات اس کے شوہر کو اچھی نہیں لگی۔ پھر ان کے گھر میں روز روز کے جھگڑے شروع ہوگئے۔ جب حالات بہت ناسازگار ہوئے تو میرے داما نے بیٹی کو میکے چھوڑ دیا کہ کچھ دن اپنے ماں باپ کے پاس رہو جب حالات بہتر ہوجائیں گے تو میں بلالوں گا۔
ہم نے بچی سے پوری تفصیلات معلوم کیں۔ شادی کے ڈیڑھ سال بعد ہمیں یہ معلوم ہواکہ میری بیٹی ابھی تک ازدواجی خوشیوں سے محروم ہے اور داماد کا علاج ہورہا ہے تو میں سکتے میں آگئی۔ میں سوچتی ہوں کہ کس جہنم میں میں نے اپنی بیٹی کو دھکیل دیا۔ بات گھرمیں کھلی تو بھائیوں نے بہت برہمی اور غصہ کا اظہار کیا۔ کچھ عرصہ بعد جب میرے داماد اپنی بیوی کولینے آئے تو میرے بیٹوں نے صاف کہہ دیا کہ پہلے اپنا مکمل علاج کرواؤ۔
آج بیٹی کو گھر بیٹھے ہوئے دس مہینے ہوگئے ہیں۔ میرے داماد ہر ہفتے آتے ہیں لیکن مایوس لوٹ جاتے ہیں۔ ان دونوں میاں بیوی میں بہت محبت ہے۔اس عرصہ میں مجھے احساس ہواہے کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ادھر اس نے مجنوں جیسا حال بنا رکھا ہے ادھر میری بیٹی کی حالت بھی بہت خراب ہوگئی ہے۔
میں اپنے بیٹوں کو سمجھاتی ہوں کہ جب بہن اس کے ساتھ خوش ہے تو تمہیں اس معاملہ کو نہیں الجھانا چاہیے۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ ہماری بہن کو طلاق دو یا پھر ہم کورٹ میں خلع دائر کردیں گے۔ میں بوڑھی عورت ہوں۔ شوہر کا انتقال ہوچکا ہے۔ جوان بیٹوں کی ضد کے سامنے بےبس ہوں۔ 

جواب: آپ کی صاحبزادی کے ساتھ اس کے شوہر کی جانب سے یقیناًبہت زیادتی ہوئی ہے تاہم یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ان کے شوہر کو اپنی کمزوری کا احساس ہے اور وہ ان کے ازالہ کے لئے کوشش بھی کررہے ہیں۔ اس صورتحال میں مبتلا مرد کو طبی علاج کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مدد بھی درکار ہوتی ہے۔ اپنی اہلیہ کے سامنے پشیمانی یا لوگوں میں مذاق کا نشانہ بننے کا خوف تندرستی کے حصول میں شدید رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ ان حالات میں مرد کو دواؤں سے بھی زیادہ فائدہ خود اس کی اہلیہ کے تعاون اور حوصلہ افزائی سے ہوتا ہے۔
آپ کی صاحبزادی بہت سمجھدار معلوم ہوتی ہیں۔ انہوں نے ڈیڑھ سال تک نہایت ایثار و صبر کے ساتھ اپنے شوہر کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ توقع ہے کہ ان کا یہ ایثار و صبر جلد ہی ثمر بار ہوگا۔ دعا ہے کہ انہیں ازدواجی زندگی کی بھرپور مسرتیں نہایت عزت و احترام کے ساتھ حاصل ہوں۔ اللہ انہیں صحت مند، سعادت مند اور صالح اولاد عطا فرمائے۔ آمین!
بہن کے معاملہ میں آپ کے بیٹوں کا طرزِعمل درست نہیں۔ عورت کئی مشکلات و تکالیف کے باوجود اپنا گھر بسائے رکھنا چاہتی ہے۔ اس عمل میں اسے اپنے میکہ والوں کی طرف سے مدد ملنی چاہیے۔ اگر آپ کے بیٹے اپنی بہن کو اس کی مرضی کے خلاف اس کے گھر جانے سے روک رہے ہیں تو معاملہ ان پر چھوڑنے کے بجائے مضبوط ارادہ کے ساتھ فیصلہ آپ خود کیجئے اور داماد کے آنے پر بیٹی کو ان کے ساتھ بھجوا دیجئے۔
رات سونے سے پہلے 101مرتبہ اللہ تعالیٰ کے اسم یارافع
گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے بیٹوں کا تصور کرکے دم کردیں اور دعا کریں کہ ان کی ضد ختم ہو اور انہیں درست فیصلہ کرنے کی توفیق ملے۔
یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔

 


***

سخت مزاج والد

سوال: میری عمر چوبیس سال ہے۔ میں اپنے والدین کی واحد اولاد ہوں۔ میں نے گریجویٹ کیا ہوا ہے مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ میرے والد صاحب کو میرا گھر سے باہر نکلنا بالکل پسند نہیں۔ میٹرک کے بعد بہت مشکلوں سے منتیں کرکے امی نے پڑھنے کی اجازت لی تھی مگر ایم اے اور پیایچ ڈی کرنے کا خواب پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا کیونکہ ابو نے صاف منع کردیا کہ اب گھربیٹھو اور گھر کی ذمہ داریاں نبھاؤ۔
سوچتی تھی کہ شادی کے بعد اپنے شوہر کو راضی کرکے مزید پڑھائی کروں گی۔ اس دوران میرے کئی رشتے بھی آئے مگر ابو نے کوئی نہ کوئی نقص نکال کرانکار کردیا۔ میری سمجھ نہیں آتا کہ وہکیاچاہتےہیں۔
میں سمجھتی ہوں کہ وہ مجھے ساری زندگی گھر میں بٹھاکر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ میں ان کے بڑھاپے کا سہارا بنوں۔ مجھے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے میری توبس یہ خواہش ہے کہ میں پی ایچ ڈی کرلوں۔ اپنے ابو کے رویے کو دیکھتے ہوئے میرے اندر بہت مایوسی ہوگئی ہے وہ خود تو اب ضعیف ہونے والے ہیں اور مجھے بھی بے جان لاٹھی بنا کر اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ مجھے کہنا تو نہیں چاہیے مگر لگتاہے کہ ابو ایک نفسیاتی مریض ہیں پر کس کی جرأت ہے کہ وہ ان کے سامنے یہ بات کہے۔
خود کو مصروف رکھنے کے لئے میں نے گھر پر بچوں کو ٹیوشن پڑھانے کی اجازت مانگی لیکن انہوں نے اس کے لئے بھی سختی سے منع کردیا۔ 

جواب: رات سونے سے پہلے 101مرتبہ سورۂ الاحزاب (33)کی آیت 43

هُوَ الَّـذِىْ يُصَلِّىْ عَلَيْكُمْ وَمَلَآئِكَـتُهٝ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ ۚ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا  O 
اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے مقصد کے حصول کے لئے دعا کریں۔
یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔

 


***

بیٹی کا شوہر نشہ کرتا ہے

سوال: میری تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ ماشااللہ سب کی شادی ہوگئی ہے۔
قسمت کی بات ہے کہ بڑی بیٹی کا رشتہ سب سے آخر میں طے ہوا جب کہ اس کی عمر تیس سال سے زائد ہوگئی تھی۔ بہت دعاؤں کے بعد ایک رشتہ آیا۔ چونکہ اس کی عمر کافی زیادہ ہوگئی تھی ہم نے اس رشتہ میں کافی جلد بازی سے کام لیااور چٹ منگنی اور پٹ بیاہ والی بات ہوئی۔ رشتہ میرے شوہر کے ایک جاننے والے اپنے عزیز کا لے کر آئے۔ میرے شوہر نے اُن پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے چھان بین کئے بغیر ہاں کردی۔ شادی کے بعد ایک سال تک توہماری بیٹی بہت خوش رہی۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک بہت پیارے خوبصورت سے بیٹے سے نوازا۔بیٹے کی پیدائش کے کچھ مہینوں بعد اس کے شوہر کی طبیعت خراب ہوگئی اور اتنی زیادہ ہوگئی کہ وہ بسترپرلگگئے۔
ڈاکٹروں کو دکھایا تو معلوم ہواکہ وہ نشہ کرتے ہیں اور یہ نشہ وہ پچھلے پندرہ سالوں سے کرتے آرہے ہیں۔ میری تو زندگی ہی اجڑ سی گئی۔ بیٹی نے شوہر کو سمجھایا کہ علاج مکمل کروائیں اورنشہ چھوڑ دیں مگر وہ اس لعنت میں اس قدر گھر چکا ہے کہ بستر پر پڑے ہونے کے باوجود نشہ کرتا ہے۔ گھر میں چولہا ہانڈی چلانے کے لئے بیٹی نے گھر سے باہر قدم رکھا۔ بیٹی نے گریجویشن کیا ہواہے اس لئے پرائیوٹ انگلش اسکول میں اس کو اچھی سیلری پرجاب مل گئی۔
اس کے شوہر نے صاف کہہ دیا کہ وہ اس کو توچھوڑ سکتاہے مگر نشہ نہیں چھوڑسکتا اورنہ ہی وہ اپناعلا ج کروائے گا۔اب وہ بہت زیادہ دیدہ دلیری اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے۔سارا دن گھر میں پڑا روٹیاں توڑتا رہتا ہے۔ نشہ نہ ملنے پر میری بیٹی کو زورکوب بھی کرتا ہے۔
میں اپنی بیٹی کو جب اتنی زیادہ ذمہ داریاں نبھاتے دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ اس سے اچھا توتھا کہ ہماری بیٹی ہمارے ساتھ ہی رہتی۔وہ بہت صابر بچی ہے ہم سے کچھ نہیں کہتی لیکن اس کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتاہے۔وہ بہت کمزور ہوگئی ہے۔ شاید راتوں کو جاگ جاگ کر روتی ہوگی کہ میرے ماں باپ نے مجھے کس جہنم میں دھکیل دیاہے۔  

جواب: بیٹی سے کہیں کہ رات سونے سے پہلے باوضو ہو کر بستر پر لیٹ کر اکتالیس مرتبہ سورۂ اخلاص
اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے شوہر کا تصور کرتے ہوئے دم کردیں اور ان کے لئے دعا کریں۔
یہ عمل کم از کم نوے روز تک جاری رکھیں۔
ناغہ کے دن شمار کرکے بعد میں پورے کرلیں۔

 


***

عورت بیوہ ہوجائے تو اس کا کیا قصور ہے….!

سوال: بہن کی شادی کے تین سال بعد اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ ان کے ہاں کوئی اولاد بھی نہیں ہوئی۔ بہن نے اپنے شوہر کی جدائی کا بہت اثر لیا۔ اسے کافی عرصہ بعد تھوڑا صبر آیا۔
اس کی حالت کچھ سنبھلی ہے تو ہم لوگوں نے اس سے دوبارہ گھر بسانے کے لئے کہا بڑی مشکلوں سے وہ اس پر آمادہ ہوگئی۔ ہمارے خاندان میں تو اس کے لئے کوئی رشتہ موجود نہیں تھا۔ ہم نے رشتہ کرانے والی عورتوں سے اس بارے میں بات کی۔ اس کے بعد بہن کے لئے کافی رشتے آئے۔ ہماری بہن ماشاء اللہ خوش شکل، دراز قامت اور تعلیم یافتہ ہے۔ رشتے کے لئے آنے والی تقریباً تمام عورتوں نے بہن کو پسند کیا۔ لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ اس کے پہلے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے۔ تو پھر وہ پلٹ کر نہیں آئے۔
رشتہ کی خاطر بار بار کی رونمائیوں سے اور پسندیدگی کے باوجود بیوگی کے باعث رشتوں سے انکار کی وجہ سے ہماری بہن اب مزید نفسیاتی الجھنوں میں پھنستی جارہی ہے۔
کوئی جوان عورت بیوہ ہوجائے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے….؟ 

جواب: آپ کی بہن خود یا آپ کی والدہ عشاء کی نماز کے بعد 101 مرتبہ سورۂ یوسف (12) کی آیت 87 کا آخری حصہ :

وَلَا تَيْاَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّـٰهِ ۖ اِنَّهٝ لَا يَيْاَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّـٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُوْنَ O

ولا تياسوا من روح اللّـٰه ۖ انه لا يياس من روح اللّـٰه الا القوم الكافرون
اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر خیروعافیت کے ساتھ بہتر جگہ شادی کے لئے اور خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے دعا کریں۔
یہ عمل کم از کم نوے روز تک جاری رکھیں۔
بہن کی طرف سے حسبِ استطاعت صدقہ بھی کردیں۔


***

سر میں درد اور پراسرار آوازیں

سوال: میری بیٹی کی عمر اکیس سال ہے۔ گزشتہ تین سال سے اس کے سر میں درد ہوتا ہے۔ جس کا دورانیہ چند منٹ ہوتا ہے اس دوران اس کو کانوں میں پراسرار آوازیں آتی ہیں۔ یہ مرد، عورت اور کبھی کبھی بچوں کی آوازیں ہوتی ہیں۔ درد کے بعد وہ بہت نڈھال ہوجاتی ہے اور دو تین اور کبھی کبھی پانچ چھ گھنٹے تک بستر پر لیٹی رہتی ہے۔ اس کا ذہن روز بروز کمزور ہوتا جارہا ہے۔ غصہ بڑھ گیا ہے اور طبیعت میں بہت چڑچڑا پن آگیا ہے۔
کچھ ڈاکٹر مرگی کا مرض بتاتے ہیں۔ تین سال سے علاج ہورہا ہے لیکن کوئی خاص فائدہ نہیں۔

جواب: سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ مرگی ایک قابلِ علاج مرض ہے تا ہم اس کے علاج کا دورانیہ خاصا طویل ہے۔ اس مرض کی نوعیت یاشدت کے لحاظ سے مختلف مریضوں میں علامات بھی مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہیں۔ مرگی کا دورہ ذہنی، اعصابی یا جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ مریض کے لئے معاشرتی لحاظ سے بعض مسائل کا سبب بنتا ہے۔ مضبوط قوتِ ارادی والے مریض اس مرض کی تکالیف کو بہادری سے جھیل لیتے ہیں۔ حساس طبیعت افراد خصوصاً کئی لڑکیاں اس تکلیف کی وجہ سے مزید حساس اور زود رنج ہوجاتی ہیں۔
اس قسم کے مسائل سے نجات کے لئے ضروری ہے کہ مناسب طبی علاج کے ساتھ ساتھ مریض یا مریضہ کو اس کے گھر والوں اور دوست احباب کی جانب سے بھرپور توجہ اور اعتماد کا احساسدلایا جائے۔
اس مرض میں ڈاکٹری علاج کے ساتھ کلرتھراپی کے اصولوں کے تحت نیلی روشنی میں تیار کردہ پانی کااستعمال بھی مفید ہے۔ ڈاکٹری دوائیں پابندی سے استعمال کرتے ہوئے صبح شام ایک ایک پیالی نیلی شعاعوں میں تیار کردہ پانی پلائیں۔ کھانوں میں زیادہ چکنائی والی، بادی اور کھٹی اشیاء سے پرہیز کروائیں۔ میٹھا زیادہ دیں خصوصاً شہد ایک ایک ٹیبل اسپون صبح شام پلائیں۔
اس بات کا خیال رکھیں کہ اس کی نیند کا دورانیہ چوبیس گھنٹوں میں ساتھ آٹھ گھنٹوں سے کم نہ ہو۔ کسی ڈسٹربینس کے بغیر خوب گہری نیند سوئے۔
بیٹی سے کہیں کہ صبح شام اکتالیس مرتبہ سورۂیونس (10)کی آیت 57

يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَـةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَـآءٌ لِّمَا فِى الصُّدُوْرِۙ وَهُدًى وَّرَحْـمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَO

اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیں۔
ناغہ کے دن شمار کرکے بعد میں پورے کرلیں۔

 


***

بیٹی کا شرعی حصہ

سوال: میں نے بڑی محنت سے 80 گز کے پلاٹ پر دومنزلہ مکان تعمیر کرایا تھا جس کی مالیت آج کل تقریباً اسّی سے پچیاسی لاکھ بنتی ہے۔ میری عمر ستر سال کے قریب ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں شریعت کے مطابق مکان کے حصے کردوں۔ میری دوبیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے کہ اپنے بیٹے کے مزاج کو جاننے کے باوجود میں نے جائیداد اس کے نام پر لیز کرادی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میرا بیٹا میری بڑی بیٹی کو مکان کے اس حصے میں نہیں آنے دے رہا جو میں نے بیٹی کے لیے رکھا تھا۔
بڑی بیٹی کے معاشی حالات خراب ہونے کی وجہ سے میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کی کرائے کے مکان سے جان چھوٹ جائے۔ میرا بیٹا کہتا ہے اس طرح میرا داماد پورے گھر پر قابض ہوجائے گا اور کوئی کام نہیں کرے گا۔ میرا بیٹا نہ تو مکان کی رقم بہن کو دینے کے لئے تیار ہورہا ہے اور نہ ہی بہن کو گھر آنے دےرہاہے۔
میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹی اور نواسی کو اپنی چھت مل جائے۔

جواب: رات سونے سے پہلے سورۂ النساء(4) کی آیت 36:

وَاعْبُدُوا اللّـٰهَ وَلَا تُشْـرِكُوْا بِهٖ شَيْئًا ۖ وَّبِالْوَالِـدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِى الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنِ وَالْجَارِ ذِى الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًاO

اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر بیٹے کا تصور کرکے دم کردیں اور دعا کریں کہ اسے آپ کی فرمانبرداری اور بہن بہنوئی کے ساتھ حسن سلوک کی توفیق ملے۔
یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔

 


***

جوان بیٹا والد سے نفرت کرنے لگا 

سوال:میرے بیٹے کی عمر اٹھارہ سال ہے۔ والدین کا فرمانبردار اور بہن بھائیوں سے ادب و محبت سے پیش آتا تھا۔ گزشتہ تین سال سے اس کا رویہ بہت تبدیل ہوگیا ہے۔ اب وہ ماں کی نافرمانی بھی کرتا ہے۔ بہن بھائیوں سے بات بند کررکھی ہے۔ والد سے تو لگتا ہے کہ اسے نفرت ہوگئی ہے۔ بات کرنا تو دور کی بات والد کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ تقریباً ایک سال سے وہ اپنے آپ ہی میں مگن ہے۔ رمضان اور عید پر بھی اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اس کا دل چاہتا ہے تو وہ گھر کا کوئی کام کرلیتا ہے۔ اگر میں سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں تو میرے ساتھ بہت بدتمیزی سے بات کرتا ہے۔
میرا بیٹا پانچ وقت نماز کے علاوہ تہجد کی نماز بھی پابندی سے پڑھتا تھا۔ مگر اب نہ جانے اسے کیا ہوگیا ہے۔ پتہ نہیں ہمارے گھر کے اچھے ماحول کو کس کی نظر لگ گئی ہے یا کسی نے کچھ کروادیا ہے۔

جواب: رات سونے سے پہلے اکتالیس مرتبہ سورۂ بنی اسرائیل (17)کی آیت 23 اور 24

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِـدَيْنِ اِحْسَانًا ۚ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَـرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّـهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْـهَرْهُمَا وَقُلْ لَّـهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا O وَاخْفِضْ لَـهُمَا جَنَاحَ الـذُّلِّ مِنَ الرَّحْـمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَـمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِىْ صَغِيْـرًا O


اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے بیٹے کا تصور کرکے دم کردیں اور دعا کریں کہ اسے والدین کے ساتھ ادب و احترام، سعادت مندی، فرمانبرداری کے ساتھ رہنے کی توفیقعطا ہو۔
یہ عمل کم از کم چالیس روزتک جاری رکھیں۔
اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ اس عمر کے بچے خصوصاً لڑکے اپنی شناخت اور گھر میں اپنی اہمیت کے حوالے سے بھی بہت حساس ہوتے ہیں۔ اس طرف توجہ دیجے کہ کہیں وہ آپ لوگوں کی جانب سے دانستہ یانادانستہ طور پر نظر انداز تو نہیں ہوتا رہا۔ اگر ایسا ہے تو اس کمی کے ازالے کی کوشش بھی ضروری ہے۔   


***

نیکی گلے پڑ گئی

سوال:میں ایک ادارہ میں کام کرتی ہوں، چند ماہ قبل ہمارے محلہ میں رہائش پذیر ایک لڑکی کے والدین نے ہمارے گھر آکر میری والدہ سے کہا کہ ان کے مالی حالات بہت خراب ہیں اگر ان کی لڑکی کو کہیں کام دلوادیا جائے تو انہیں کچھ سہارا ہوجائے گا۔ اپنی والدہ کے کہنے پر میں نے اس لڑکی کے لئے اپنے ادارہ میں کئی لوگوں سے بات کی بہرحال کافی کوششوں کے بعد اس کا یہاں اپائنٹمنٹ ہوگیا۔
ملازمت کی آزمائشی مدت کی تکمیل پر اپائنٹمنٹ لیٹر مل جانے کے بعد اس لڑکی کے رویہ میں تبدیلی آئی۔ پہلے وہ مجھ سے بہت ادب سے ملا کرتی تھی۔ لیکن پھر اس نے لاتعلقی برتنا شروع کردی۔ کچھ عرصہ بعد اس لڑکی نے دفتر میں میرے خلاف باتیں شروع کردیں۔
الحمد اللہ ! دفتر میں میری بہت عزت ہے۔ میرے ساتھیوں نے اس کی باتوں پر بالکل یقین نہ کیا لیکن مجھے یہ باتیں تکلیف پہنچاتی رہیں۔ کچھ عرصہ بعد اس لڑکی نے ہمارے باس سے میرے بارے میں کہا کہ میں یہ ادارہ چھوڑ کر کہیں اور جارہی ہوں۔ میرے باس نے مجھے بلا کر پوچھا کہ میں نے کہاں انٹرویو دیا ہے۔ مجھے ان کے سوال پر بہت حیرت ہوئی۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اس ادارہ میں پوری طرح مطمئن ہوں اور دل لگا کر کام کررہی ہوں۔ میں نے کہیں اور کوئی انٹرویو نہیں دیا ہے۔ میرے باس نے مجھے کچھ اور تو نہیں کہا لیکن مجھے لگتا ہے کہ مجھ پر ان کے اعتماد میں کچھ کمی آگئیہے۔
اس لڑکی نے یہاں اپنے دوستوں کا ایک چھوٹا سا گروہ بنالیا ہے اور یہ لوگ میرے خلاف سازشیں کرکے مجھے یہاں سے نکلوانا چاہتے ہیں۔ اس لڑکی کی مدد کرکے میں تو مشکل میں پھنس گئی ہوں آپ بتائیں کہ میں کیا کروں….؟

جواب:واقعی زندگی میں بعض اوقات ایسے تلخ تجربات بھی ہوجاتے ہیں کہ آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اچھائی کرکے وہ مصیبت میں پھنس گیا ہے۔ کچھ لوگ منفی طرزِ فکر کے حامل ہوتے ہیں۔ خود غرضی، کینہ، بغض وغیرہ منفی طرزِفکر کی ہی علامتیں ہیں۔ بعض لوگوں پر ان منفی جذبات کا یا شیطانی قوتوں کا اتنا زیادہ غلبہ ہوجاتا ہے کہ وہ خیر کے بجائے شر کو اپنا وطیرہ بنا لیتے ہیں ایسے ہی بعض لوگوں کی یہ عادت ہوجاتی ہے کہ وہ بھلائی کا بدلہ برائی سے دے کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ جب کہ کچھ لوگ محسن کش رویہ اختیار کرلیتے ہیں۔
غالباً اسی بشری کمزوری کے بارے میں باب العلم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایاہے کہ:
‘‘ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو۔’’
اللہ تعالیٰ آپ پر کرم فرمائیں اور آپ کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔ آپ اپنے دفتر میں کھلی آنکھوں اور کھلے کانوں کے ساتھ رہیں یعنی محتاط اور باخبر رویہ اختیار کریں۔ محض اپنے کام سے کام نہ رکھیں وفتاً فوقتاً اپنی کارکردگی اپنے افسران کے علم میں لاتی رہیں۔ دفتر میں اپنے کولیگز کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ رکھیں۔ اللہ پر پورا بھروسہ رکھتے ہوئے ان تدابیر کے ساتھ ساتھ دعا کریں۔
صبح دفتر کے لئے نکلتے وقت اور شام کو گھر واپس آکر باوضو ہو کر اکیس اکیس مرتبہ سورۂ ابراہیم(14)کی آیت 12 :

وَمَا لَنَـآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّـٰهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِـرَنَّ عَلٰى مَآ اٰذَيْتُمُوْنَا ۚ وَعَلَى اللّـٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ O
اول آخر تین تین مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔
یہ عمل تین ماہ تک جاری رکھیں۔
چلتے پھرتے وضو بےوضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء یاحفیظ یا سلام کا ورد کرتی رہیں۔
صدقہ و خیرات دافعِ مشکلات ہے۔ حسب استطاعت زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کریں۔

 


***

دیورانی نے گاڑی پر نظر لگا دی

سوال:میرے شوہر اور ان کے دونوں چھوٹے بھائی رنگ و رو غن کا کام کرتے ہیں۔ میرے شوہر نے ہی اپنے دونوں بھائیوں کو یہ کام سکھایا ہے اس کے باوجود وہ دونوں میرے شوہر سے جلتے اور ان کی کمائی پر نظر رکھتے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی سست اور کام چور ہیں جبھی لوگ انہیں کام پر لے جانا پسند نہیں کرتے۔ جس کا سارا ملبہ یہ میرے شوہر پر ڈالتے ہیں۔ حال ہی میں میرے شوہر کو ایک بنگلے میں رنگ کرنے کا ٹھیکا ملا، اس کام سے اچھا خاصا منافع ہوا، اس پیسے کے ذریعے شوہر نے میرے مشورے پر ایک نئی موٹر سائیکل خریدی۔ یہ موٹرسائیکل جب سے ہمارے گھر میں آئی ہے میری دیورانی شدید حسد میں مبتلا ہے۔ گاڑی لیے ابھی دو ہی دن ہوئے تھے کہ کھڑی کھڑی گاڑی کا ایک انڈی کیٹر ٹوٹ گیا۔ اگلے دن شوہر اور میں مارکیٹ سے گزر رہے تھے کہ یہ نئی گاڑی پنکچر ہوگئی۔ جب سے یہ گاڑی آئی ہے اسی طرح چھوٹے موٹے کام نکل رہے ہیں کبھی سائیڈگلاس ٹوٹ جاتا ہے تو کبھی اس کی لائٹ ٹوٹ جاتی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ سب دیورانی کے حسد کی وجہ سے ہورہا ہے۔
برائے مہربانی کوئی ایسا عمل بتادیجیے جس سے ہمیں اپنی دیورانی کے حسد اور نظر بد سے نجات ملے۔ 

جواب:حسد ایک بہت تکلیف دہ جذبہ ہے۔ اس کی منفیت سے حسد کرنے والا بھی خسارہ اٹھاتا ہے اور جس سے حسد کیا جاتا ہے اسے بھی تکالیف اور نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ نظر بد کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ حسد اور نظر بد کی وجہ سے صحت متاثر ہوسکتی ہے، معاش میں پریشانیاں آسکتی ہیں، میاں بیوی کے محبت بھرے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں، میاں بیوی دونوں کے صحت مند ہونے کے باوجود اولاد ہونے میں تاخیر ہوسکتی ہے اور ذہین بچوں کی اچھی تعلیمی کارکردگی میں زوال آسکتا ہے۔ غرض یہ کہ حسد اور نظر بد سے زندگی کے ہر شعبے میں منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔
حسد اور نظر بد سے بچنے کے لیے صدقہ خیرات مسلسل کرتے رہنا چاہیے۔ مصیبتوں اور پریشانیوں میں صدقہ ڈھال بن جاتا ہے۔
اپنے شوہر سے کہیں کہ وہ صبح کام پر جاتے وقت اور شام کو گھر واپسی پر
سات سات مرتبہ سورہ الفلق اور سورہ الناس، تین تین مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیا کریں اور اپنی سواری پر بھی دم کردیا کریں۔ ان سے یہ بھی کہیں کہ اپنی موٹر سائیکل کے ہینڈل پر ایک کالا ربن باندھ لیں۔
آپ دونوں وضو بےوضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء یاحفیظ یاسلام کا ورد کرتے رہیں۔

 

 


***

 

بزرگ کے بتائے وظیفے سے اولادِ نرینہ کی خوشی مل گئی!

 

سوال:  شادی کے بعد یکے بعد دیگرے میرے ہاں چار بیٹیاں ہی ہوئیں۔ مجھ سے پہلے میرے بڑے بھائی کے گھر بھی تین بیٹیاں تھیں، مجھ سے چھوٹے بھائی کے ہاں بھی اوپر تلے دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔
ہم سب مل جل کر ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، ہمارا تعلق ایک کاروباری گھرانے سے ہے۔ ماشاءاللہ روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں، البتہ ہمارے تمام اہل خانہ خصوصاً ہماری والدہ کی یہ شدید خواہش تھی کہ ہمارے اس گھرانے کا کوئی وارث بھی ہو جس سے ہماری نسل آگے چلے۔ میں نے اور میرے دوسرے بھائیوں نے اولاد نرینہ کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا ، مختلف معالجوں سے رجوع کیا تو کئی روحانی مراکز پر حاضری دی لیکن یہ سب بےسود رہا۔
ایک دن گاڑی پارک کرتے ہوئے میں نے ایک باریش بزرگ کو دیکھا۔ وہ سڑک پر اپنی ہی دھن میں مگن چلے جارہے تھے کہ ایک تیز رفتار کار نے انہیں ٹکر ماری اور وہ سڑک پر گرگئے، انہیں کافی چوٹیں آئی تھیں ، مجھے اگرچہ آفس کے لیے دیر ہورہی تھی لیکن پھر بھی میں اپنے ایک ساتھی کی مدد سے انہیں ہسپتال لے گیا، ان کا علاج کروایا۔جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے مجھے بہت سی دعائیں دیں اور کہا کہ….
‘‘اگر تو یہ عمل کرے تو تیری سب سے بڑی مراد پوری ہوسکتی ہے۔ ایک بیٹا ہی مراد ہے نہ تیری’’۔
میں حیرانی سے ان کی گفتگو سنتا رہا۔ ان بزرگ نے مجھے ایک وظیفہ لکھوایا اور اگلے ہی دن ہسپتال سے کہیں چلے گئے۔ شروع میں تو میں نے اس وظیفے پر عمل نہ کیا لیکن کچھ دن بعد اپنی بیگم کے کہنے پر یہ وظیفہ شروع کیا ۔
اس وظیفے کو پڑھتے ہوئے تیسرا مہینہ تھا کہ میری بیگم امید سے ہوگئیں۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کچھ ہی عرصے بعد ہمیں بیٹے کی پیدائش کی نوید ملی۔ یہ ہمارے پورے گھر کے لیے جیسے عید کا دن تھا۔ بعد میں یہی وظیفہ میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو بھی دیا، اس وظیفے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اسے بھی ایک بیٹے سے نوازا۔
اپنے گمنام محسن کو میں نے بہت تلاش کیا لیکن وہ دوبارہ مجھے کبھی نہیں ملے۔
میں چاہتا ہوں کہ یہ وظیفہ روحانی ڈائجسٹ میں شائع کیا جائے تاکہ اس کے ذریعے ہرخاص و عام کا بھلا ہو۔ ۔

 

وظیفہ یہ ہے:
ارات سونے سے پہلے سورۂ ابراہیم (14)کی آیت نمبر 38 سے 40:

رَبَّنَـآ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِىْ وَمَا نُـعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفٰى عَلَى اللّـٰهِ مِنْ شَىْءٍ فِى الْاَرْضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ O  اَلْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ وَهَبَ لِىْ عَلَى الْكِبَـرِ اِسْـمَاعِيْلَ وَاِسْحَاقَ ۚ اِنَّ رَبِّىْ لَسَـمِيْعُ الـدُّعَآءِ O  رَبِّ اجْعَلْنِىْ مُقِيْـمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ O 


اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر پانی پر دم کریں اور اپنی بیوی کو پلائیں یا شوہر خود پڑھ کر دم کرکے پی لیا کریں۔
حمل قرار پانے سے چند ماہ پہلے سے آپ اور آپ کی بیوی روزانہ 101مرتبہ اللہ تعالیٰ کے اسم :
یااوّل
گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر پانی پر دم کرکے پئیں اور اپنے اوپر بھی دم کرلیا کریں۔
ہر جمعرات چیل کوؤں کو پھیپڑے کا صدقہ دیں۔ کوشش کریں کہ اس صدقے میں ناغہ نہ ہو۔
یہ عمل حمل کے بعد بھی تین ماہ تک جاری رکھیں۔ 

 


***

 


***

 


***

 


***

 


***

 


***

 


***

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

روحانی ڈاک (اپریل 2018ء)

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں[:ur]     فہرست کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے