روحانی ڈائجسٹ / علم و معرفت / تصوّف / حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ

حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

صوفی شاعر اور مفکر جلال الدین محمد رومی ؒ 604ھ، 1207ء میں بلخ  (افغانستان )کے مقام پر پیدا ہوئے۔  آپ  کے پردادا حضرت حسین بلخیؒ بہت بڑے صوفی بزرگ تھے۔ ان کے صاحب زادے شیخ بہاء الدین علم وفضل میں نہایت اعلیٰ مقام پرفائزتھے۔  علم وفضل کے ساتھ اس خاندان کی دنیاوی عزت و توقیر بھی تھی۔    شیخ بہاء  الدین 610 ھ میں  نیشاپور ہجرت کر گئے۔ جلال الدین چھ  سال کے تھے کہ ان کے صاحب زادے  نیشاپور کے مشہور بزرگ شیخ فریدالدین عطار شیخ بہاء الدین سے ملاقات کرنے آئے۔ فریدالدین نے بچے  کو دیکھ کر شیخ بہاؤالدین سے فرمایا   : ‘‘ اس کی تربیت میں غفلت نہ برتنا، آگے چل کر یہ مسلمانوں کا بہت بڑا امام بنے گا اور اس کا نام رہتی دنیا تک قائم رہے گا’’۔

یہ کہہ کر شیخ فرید الدین نے اپنی کتاب‘‘مثنوی اسرار’’ چھ سالہ جلال الدینؒ کوعنایت کی۔

 جلال الدین رومیؒ ابتدائی علوم کی منازل طے کرنے کے بعد  19  سال کی عمر میں اپنے والد محترم کے ساتھ قونیہ چلے آئے۔ قونیہ آمد کے  کچھ عرصے  بعد آپ  شفیق و مہربان باپ  انتقال کرگئے۔ اس جانگداز سانحہ جلال الدین   کو غمگین کردیا۔ اس غم سے نجات پانے کے لئے انہوں نے خود کو کتابوں میں گم کردیا ۔ 629ھ میں جب جلال الدین  کی عمر پچیس سال تھی آپ نے مزید تحصیل علم کے لئے شام  و حلب کا رخ کیا۔  سات سال اپنے زمانے کے کئی نامورعالموں سے تحصیل علم میں مصروف رہے۔ تحصل علم کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے آپ مرجع خلائق بن گئے  اور بڑے بڑے علما آپ سے  رجوع کرنے لگے۔    ظاہری علم کا رنگ جلال الدین پرغالب تھا۔ علمی برتری کا زعم بھی ساتھ تھا لیکن  اتنی شہرت کے باوجود دل میں ایک کسک سی باقی تھی کسی شے کی کمی محسوس ہوتی تھی۔  قدرت کا انتظام دیکھیے کہ علم کی اس  کمی کو پورا کرنے ایک مردِخدا  حضرت شاہ شمس تبریز  قونیہ پہنچے۔  

ایک دن درویش شمس تبریز، جلال الدین کے حلقہ درس میں پہنچ گئے اورجلال الدین سے پوچھا کہ تم کیا پڑھا رہے ہو….؟

 جلال الدین کو اپنی علمی مجلس میں ایک عام فقیر کا اس طرح سوال کرنابہت بُرالگا۔انہوں نے فقیر کی طرف دیکھتے ہوئے ناگواری سے کہا کہ یہ وہ علم ہے جسے تم نہیں جانتے ۔

شمس تبریز صحن میں تالاب کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے عالم جلال الدین قلمی کتابیں اٹھاکر پانی سے بھرے ہوئے حوض میں ڈال دیں۔ یہ منظر دیکھ کر جلال الدین نے غصہ میں کہا :

‘‘اے درویش! یہ کتابیں برسوں کی علمی ریاضت سے لکھی گئی تھیں، تونے میری ساری محنت ایک لمحہ میں برباد کردی ۔’’

شمس تبریز نے یہ سنا تو کہا کہ ‘‘فکر کیوں کرتے ہو’’…. اپناہاتھ حوض میں ڈالا اور تمام کتابیں صحیح سالم باہر نکال کر رکھ دیں۔ کتابوں کے سوکھے اوراق دیکھ کرظاہری علم کے ماہر جلال الدین پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے شمس تبریز سے پوچھا

‘‘یہ کیاعلم ہے….؟’’

 اللہ کے دوست شمس تبریز نے جواب دیا :

‘‘یہ وہ علم ہے جو تم نہیں جانتے۔’’

روایات کے مطابق یہ واقعہ 642 ہجری کا ہے،  اب جلال الدین  حضرت شمس کے مرید ہوگئے۔ شمس تبریزی کی تربیت نے رومی کے خیالات و افکار پر گہرا اثر ڈالا۔   حضرت شمس تبریزؒ کی چند روزہ صحبتوں نے مولانا رومؒ کو نیم مجذوب درویش بنا ڈالا تھا۔ 

مولانا خود فرماتے ہیں:

ہیچ    چیزے   خودبخود   نشد
ہیچ     آہن      خود      بخود      تیغے  نشد
مولوی  ہر گز نہ شد مولائے روم
تا غلامِ  شمس تبریزے نشد

(چیزیں خود بخود وجود میں نہیں آتی، لوہا خود سے تلوار نہیں بن سکتا اسی طرح مولوی   مولائے روم  ہر گز نہ بن پاتا اگر شمس تبریز کا غلام نہ بنتا۔)

اس کے بعد مولانا جلال الدین رومی  کی دنیا ہی بدل   گئی،  نہ شان و شوکت، نہ وعظ گوئی، نہ علمی مجلسیں و کتابیں۔ کہاں تو یہ عالم تھا کہ کتابوں اور وعظ کے سوا رومی کو  کو ئی دوسرا کام ہی نہیں تھا یا اب یہ حال ہوا کہ انہوں  نے خاموشی اختیار کرلی ، زیادہ  وقت عالمِ وجد میں رہتے اور اگر کسی وقت بولتے تو منہ سے خوبصورت اشعار نکلتے جو ان کے مریدِخاص حسام الدین چیلسی  لکھتے جاتے۔  یہی اشعار آج ہمارے سامنے ان کے کلام کی صورت میں موجود ہیں۔

رومی  کا روشن کلام اسرار و رموز کا ایک خزینہ اور معرفت و عرفان کا ایک گنجینہ ہے۔ آپ کی شاعری میں اللہ اور نبی کریمﷺ سے محبت کا اظہار ہے، پند و نصائح کے موضوعات  ہیں ،  ان میں فلسفیانہ عقائد جھلکتے ہیں، حکمت کا رنگ نمایاں ہے، سوز وگداز کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔  مولانا رومی کا کلام ایک طرف تو حکمت اور اعلیٰ خیالات کا گنجینہ ہے دوسری شاعری کے محاسن سے پُرہے۔  اُن کے کلام میں  سادگی بھی ہے، سوزو گداز بھی ہے ، عشق کی وارفتگی بھی اور  وحدت کا اظہاربھی ہے۔ عشقِ نبویﷺ کا اظہار بھی،  حیات و کائنات کے مسائل کا بیان بھی ہے۔

 واقعت نگاری ہو یا قصہ گوئی ، وعظ و نصیحت ہو یا درسِ اخوت و مساوات ، ہر فن میں طاق ہیں ۔ اُن کے اشعار معنویت کا گہرا دریا ہیں اور تصوف کی نئی جہتوں کے عکاس ہیں ۔ رومی  نے تصوف کی لگی بندھی راہوں پر چلنے کی بجائے نئے خیالات کو رواج دیا۔

انسان کا اصل باطن ہے:

صوفیاء کی تعلیمات بتاتی ہیں کہ ظاہری و باطنی تمام  علم انسان کے اپنے باطن میں موجود ہے۔    یہی وجہ ہے کہ  صوفیاء انسان کو اپنے باطن کے کھوجنے پر  پرزور دیتے ہیں۔  مولانا رومی  کے اشعار انسان کو اپنی اصل،  یعنی اپنے باطن کی جانب متوجہ کرتے  ہیں۔

ای نسخہ‌ی نامہ‌ی الہی که توئی

وی آینہ‌ی جمال شاہی که توئی

بیرون ز تو نیست ہرچہ در عالم ہست

در خود بہ طلب ہر آنچہ خواہی که توئی

(کیا تم نہیں جانتے ، خدا کے پیغام کا اصل نسخہ تم ہی  ہو، تم ہی وہ آئنہ ہو جس میں شاہ کا جمال اور صفات  نظر آتی ہیں، اِس کائنات میں جو کچھ ہے، تمہارے اندر بھی موجود ہے۔   خود اپنے اندر جھانکو، تم جس کے متلاشی ہو وہ تمہیں مل جائے گا۔)

مثنوی کے موضوعات میں شرف انسان، تکریم آدم اور علم الاسماء کا ذکر بھی جابجا موجودہ ہے۔

وجہ     آدم  آينہ  اسما  كند

عكس خود در صورتش پيدا كند

نقش آدم را رقم نوعي زند

کہ دو عالم را  در او پنہان کند

(آدم کو اللہ نے اپنے اسماء کا آئینہ یعنی اپنی صفات کا مظہر اور صورت پر تخلیق کیا ہے، آدم کے نقش میں دو عالم پنہاں ہیں۔)

سلسلہ عظیمیہ کے امام قلندر بابا اولیاء اسی بات کو اپنی رباعیوں میں اس طرح بیان کرتےہیں۔

آدم کا کوئی نقش نہیں ہے بے کار
اس خاک کی تخلیق میں جلوے ہیں ہزار

مٹی کی لکیروں میں ہزاروں دَر ہیں
گر جھانکئے کتنے مَیکدے اَندر ہیں

رومی انسان کے  وجود  اور  زندگی کی سچائیوں  کو سمجھاتے  ہیں:

اوّل ہر آدمی خود صورت است
بعد ازاں  جاں  کو جمال سیرت ست
اوّل ہر میوہ جز صورت کے  ست
بعد ازاں  لذّت کہ معنی ولیست

(یعنی انسان کی ابتدا خود صورت ہے اور اس کے  بعد یعنی باطن کا جمال ہے، ہر میوے  کا جز صورت ہے  اس کے  بعد لذّت ہے  جو اس کے  معنی ہیں )

علم الاسماء:

قرآن کریم کہتا ہے  کہ آدم کو جو علم عطا ہوا ہے اس کی بدولت آفاق آدم کے  لئے  مسخر ہو سکتے  ہیں۔

 آدم خاکی ز حق آموخت علم
 تا بہ ہفتم آسمان ، افروخت علم

(آدم خاکی نے حق تعالیٰ سے جو علم سیکھا ہے، اس علم کی بدولت  ساتوں آسمان اس کے سامنے روشن کردئیے گئے ہیں۔ )

بوالبشر کو علم الاسما بگست
صد ہزاران علمش اندر ہر رگست
اسم ہر چیزی چنان کان چیز ہست
تا بہ پایان جان او را داد دست
اسم ہر چیزی تو از دانا شنو
سر رمز علم الاسما شنو
اسم ہر چیزی بر ما ظاہرش
اسم ہر چیزی بر خالق سرش

(ابوالبشر آدم کو علم اسماء  جو علم کا سردار ہے عطاکیا، جس  کی ہر  رگ میں لاکھوں علم  ہیں۔ جس چیز کا اسم جس طرح وہ ہے آخر تک ان کی روح کو معلوم ہوگیا۔  تو ہر چیز کا نام اے عقلمند سُن، علم الاسماء کا راز سُن، ہمارے نزدیک ہر چیز کا نام اس کا ظاہر ہے،  مگر رب کے نزدیک ہر چیز کا نام اس کے باطن پر ہے۔ )

 لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آدم اپنے آپ سے بے خبر ہے۔ وہ خود کو نہیں جانتا۔ اگر وہ خود کو جان لے، دیکھ لے تو اللہ تعالیٰ کی صفت ربانیت کو پہچاننا بالکل آسان ہے۔ اس لئے اس کی تخلیق صفت ربانیت کا مظہر ہے ۔ رومی فرماتے ہیں

جملہ عالم ہست حاجت مند تو
تو گدایا نہ چہ گردی کوبکو

(تمام عالم کو انسان کی حاجتمندی کے لیے بنایا گیا ہے….،  پس اے انسان ! تو خود کو یوں محتاج سمجھ   کر بھٹکتا نہ پھر)

گر کفِ خاکے  شود چالاک اُو

پیشِ خاکش سر نہد افلاکِ اُو

خاکِ آدم چونکہ شد چالاکِ حق

پیشِ خاکش سر نہد املاکِ حق

(اگر ایک مٹھی مٹی (یعنی انسان) اپنی زیرکی دکھائے تو اس کے  سامنے  آسمان جھک جائیں، خاکِ آدم کی مثال ایسی ہی ہے کہ اس کے  آگے  اللہ کی مملوک نے  سر رکھ دیا۔  )

کاملے گر خاک گیرد زر شود

ناقص ار زَر بُرد خاکستر شود

(کامل انسان خاک پکڑےتو سونا بن جائے۔ ناقص اگر سونا لے لے تو خاک ہو جائے۔)

روح ، قلب و نگاہ:

تصوف او ر روحانیت میں روح ، قلب اور نگاہ کی بہت اہمیت ہے، مولانا رومی فرماتے ہیں:

قالب بے جان کم از خاک استدوست
روح چوں مغز است و قالب ہمچو پوست
قالب بے جان نمی آید بے کار

سعی کُن جانِ بدست آر اے غیار

قالبت پیدا و آں جان بس نہاں

راست شد زیں ہر دو اسباب جہاں

(اے دوست ! جسم بے روح، خاک سے بھی کمتر ہے، روح اگر مغز ہے تو جسم پوست، بے روح قالب کسی کام کا نہیں، تو کوشش کر اور اس روح کو بھی پالے۔ روح باطن ہے اور جسم ظاہر ، دونوں   کو پاکر دنیا کے سب کام درست ہوجائیں گے۔)

جسم کی اندر خور پایۂ دل است

مرد خفتہ روح او چون آفتاب

در فلک تابان و تن در جامہ خواب

جان نہان اندر خلا ہم‌چون سجاف

تن تقلب می‌کند زیر لحاف

روح چون من امر ربی مختفی است

ہر مثالی کہ بگویم منتفی است

(جسم تو قلب  کا سایہ ہے،  جسم قلب کے رتبہ  کے  کب لائق ہے، سوئے ہوئے انسان کی روح سورج  کی طرح ہے، جو آسمان میں چمکتی ہےاور جسم بستر میں محو خواب  ہے۔   روح خلا میں کشیدہ کاری کررہی ہے اور جسم زیر لحاف کروٹیں لے رہاہے، روح  کی حقیقت تو امر ربی میں پوشیدہ ہے۔  میں جو کچھ مثال دوں وہ جداگانہ ہے۔ )

 چہ تعلق آن معانی را بہ جسم
چہ تعلق فہم اشیا را بہ اسم
لفظ چون وکرست و معنی طائر است
جسم جوی و روح آب سائر است

(صفات کا جسم سے کیا تعلق؟….،  اشیاء کے فہم کا اسم سے کیا تعلق؟….،  لفظ گھونسلے کی طرح ہے اور معنی پرندے کی طرح،  جسم ٹھہرا پانی ہے اور روح بہتے پانی کی طرح ہے۔)

مولانا روم نے قلب کو آئینے سے تشبیہ دی ہے اور فرمایاہے  کہ  انسان اپنے  دل کے  آئینے  کو اتنا صاف شفّاف بنا سکتا ہے  کہ اس میں  زندگی کی تمام سچائیاں، تمام اشیا و عناصر  اور  تمام صورتیں  نظر آ سکتی ہیں:

آہن ارچہ تیرۂ و بے  نور بود
صیقلی آں  تیرگی ازوے  زُدود
صیقلی دید آہن و خوش کر د رُو
تاکہ صورتہا تواں  دید اند رُو
گر تن خاکی غلیظ و تیرہ است
صیقلش کن زانک صیقل گیرہ است
تا درو اشکال غیبی رو دہد
عکس حوری و ملک در وی جہد
صیقل عقلت بدان دادست حق
کہ بدو روشن شود دل را ورق

(لوہا اگرچہ کالا اور بے نور ہوتا ہے، مگر صیقل ہوکر اس کی کالک صاف ہوجاتی ہے، مزید صیقل ہوکر لوہا خوبصورت بن جاتا ہے کہ اس میں آئینے کی طرح صورتیں دیکھی جاسکتی ہیں،  گر تیرا خاکی جسم بھی آلودہ ہوچکا ہے تو اسے سیقل کر، وہ صیقل قبول کرنے والا ہے، تاکہ اس میں غیبی صورتیں نظر آئیں، حور و ملائک  کا عکس جھلکے، تجھے اللہ نے عقل کا سیقل اسی لیے دیا ہے کہ تو اس کے ذریعے دل کا ورق روشن  کرے)

نور نور چشم خود نور دلست
نور چشم از نور دلہا حاصلست
باز نور نور دل نور خداست
کو ز نور عقل و حس پاک و جداست

(نگاہ کا نور ، دل کا نور ہے۔دل کے نور سے نگاہ کا  نور   حاصل ہوتا ہے، پھر دل کی بصیرت کا نور خدا کا نور ہے، جو عقل و حواس کے نور سے پاک اور جُدا ہے۔)

تو نہ‌ای ایں جسم تو آں دیدہ ‌ای
وا رہی از جسم گر جاں دیدہ ‌ای
آدمی دیدہ ‌ست باقی گوشت و پوست
ہرچہ چشمش دیدہ است آں چیز اوست

(تو یہ جسم نہیں بلکہ آنکھ ہے، اگر تو  جان یعنی اپنے اصل باطن کو دیکھ لے تو جسم سے نجات پا جائے،   آدمی کی نگاہ اصل چیز ہے اسکے علاوہ گوشت پوست ہے  ۔  جو نگاہ نے دیکھا  اصل چیز وہی ہے۔

آدمی دیداست باقی پوست است
دیدآں است آنکہ دید دوست است

(آدمی کی اصل نگاہ ہے ، باقی تو  کھال  ہے  اور نگاہ بھی وہ ہے جو دوست کو پہچان سکے)

شیخ سعدی نے اسی طرح بھی کہا ہے کہ

آدمی را عقل باید  در بدن
ورنہ جان در کالبد دارد حمار

(آدمی کی اصل ماہیت عقل و شعور و ادراک ہے ورنہ رہا جسم تو وہ گدھے کے پاس بھی ہے۔)

ہین بہ بین کز تو نظر آید بہ کار
باقیت شحمی    و    لحمی   پُود و تار
شحم تو در شمع ہا نفزود تاب
لحم تو مخمور را نامد کباب
در گداز این جملہ تن را در بصر
در نظر رو در نظر رو در نظر
یک نظر دو گز ہمی‌بیند ز راہ
یک نظر دو کون دید و روی شاہ
در میان این دو فرقی بی‌شمار
سرمہ جو واللہ اعلم بالسرار

(خبر دار نگاہ پر توجہ دے ، تری نظر کام آئے گی،  باقی تو  چربی و تانا بانا ہے، تری چربی سے شمع کی روشنی  بڑھائی نہیں جاسکتی ، تیرا گوشت گباب بنانے   کے کام نہیں آتا، تیری نظر ہی ہے اس نظر سے جسم کو پگھلادے، نظر میں جا، نظر میں جا، نظر میں جا، ایک نگاہ تو وہ ہے جو دوگز راستہ ہی دیکھ پاتی ہے ، اور ایک نگاہ وہ ہے جو دو نوں جہاں  اور شاہ کو دیکھ لیتی ہے۔  ان دونوں نگاہ میں بڑا  فرق ہے۔ اس سرمہ کو تلاش کر،  اوراللہ ہی اسرا ر کا جاننے والا ہے۔)

آنکہ یک دیدن کند ادارک آں
سالہا نتواں نمودن از زباں
آنکہ  یک دم بیندش ادراک ہوش
سالہا نتواں شنودن آں بگوش

(لمحہ بھر میں نگاہ جو ادراک کرلیتی ہے،  زبان سے اسے  سالوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا، جس کو علم و ہوش یکدم دیکھ لیتا ہے،  اس کو کانوں کے ذریعے سالوں سنایا نہیں جاسکتاہے۔ )

عشق و عرفان:

رومی اور صوفیاء کرام کے نزدیک عشق  اللہ تعالیٰ کا قرب بخشنے والا  جوہر ہے۔ عشق ہی عرفان و تصوف کا حقیقی سرمایہ ہے اور عشق ہی کی بدولت حضرت آدم نے شرف اور بزرگی کا غیر معمولی در جہ پایا  ہے۔

وجودِ آدمی از عشق می رَسَد بہ کمال
گر ایں کمال نَداری، کمال نقصان است

(آدمی کا وجود عشق سے ہی کمال تک پہنچتا ہے، اور اگر تو یہ کمال نہیں رکھتا تو پھر کمال نقصان ہے۔)

عشق جوشد بحر را مانند دیگ
عشق ساید کوہ را مانند ریگ
عشق‌بشکافد فلک را صد شکاف
عشق لرزاند زمین را از گزاف

(عشق سمندر کو دیگ جیسا  کھولادیتا ہے،  پہاڑ کو ریت جیسا پیس دیتا ہے،  عشق آسمان میں سو شگاف ڈال دیتا ہےاور زمین کو بآسانی لرزا دیتا ہے۔)

مردہ بُدم زندہ شُدم، گریہ بدم خندہ شدم
دولتِ عشق آمد و من دولتِ پایندہ شدم

(میں مُردہ تھا زندہ ہو گیا، گریہ کناں تھا مسکرا اٹھا…. دولتِ عشق کیا ملی کہ میں خود ایک لازوال دولت ہو گیا….)

عشق برد بحث را ای جان و بس

کو ز گفت و گو شود فریاد رس

(اے جان! عشق  بحث کو کاٹ دیتا ہے اور بس، کیونکہ وہ گفتگو کے معاملے میں فریاد رس بن جاتا ہے، یعنی جب روح میں عشق بس جائے تو بحث و مناظرہ  ختم  ہوجاتا ہے  ور نطق اس کے بیان میں عاجز  ہوجاتا ہے)

عاشقی کز عشق یزدان خورد قوت

صد بدن پیشش نیرزد ترہ‌توت

(وہ عاشق جس نے خدا کے عشق کی روزی کھالی ، اس کے آگے سینکڑوں بدن بھی  شہتوت کے پتے،  گھاس پھوس سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ )

ہر چہ جز عشقست شد ماکول عشق

دو جہان یک دانہ پیش نول عشق

(جو عشق کے سوا ہے وہ عشق کی غذا ہے، عشق کے لیے تو دوجہاں ایک دانہ کے برابر ہیں)

عقل در شرحش چو خر در گِل بخُفت

شرحِ عشق و عاشقی ہم عشق گفت

عشق کی تشریح میں عقل ناکام رہتی ہے اور عشق و عاشقی کی شرح بھی خود عشق کرتا ہے ۔

من کی آواز :

رومی نے انسان کے باطن  یعنی من سے آنے والی آواز    پر متوجہ کیا ہے، اور اس کو ستار کی تمثیل میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے  کہ

خشک سیمی ،  خشک چوبی ، خشک پوست

از کجا می آید ایں آوازِ دوست

(یعنی ستار میں دیکھو تار بھی خشک ہے ، لکڑی بھی خشک ہے  اور کھال  بھی خشک ہے پھر یہ محبوب کی آواز کہاں سے آ رہی ہے….)

جان چہ باشد با خبر از خیر و شر
شاد با احسان و گریان از ضرر
چون سر و ماہیت جان مخبرست
ہر کہ او آگاہ ‌تر با جان‌ترست
روح را تاثیر آگاہی بود
ہر کہ را این بیش اللہی بود

(انسانی جان  کی تعریف یہ ہے کہ وہ خیر و شر سے باخبر  ہو اور نیکی سے خوش ہو اور برائی سے غمگین ہو۔     جان  کا راز و ماہیت اس کا باخبر ہونا ہے، جو زیادہ آگاہ ہے وہ  اتنا  محتاط ہے۔ روح کی تاثیر باخبری ہے، یہ تاثر جس کو زیادہ حاصل ہے وہ اللہ والا ہے۔ )

لمحہ موجود  اور مائنڈ فلنیس:

رومی  نے اپنی  ایک نظم میں انسان کو  لمحہ بہ لمحہ آنے والے خوشی و غم کے خیالات  اور اندیشوں کی ایک تمثیل کچھ اس طرح پیش کی ہے۔ 

ہست مہمان‌خانہ این تن ای جواں
ہر صباحی ضیف نو آید دواں
نے غلط گفتم کہ آید دم بدم
ضیف تازہ فکرتِ شادی و غم
میزبانِ تازہ روشو اے خلیل
در مبندو منتظر شو در سبیل
ہرچہ آید از جہان غیب‌وش
در دلت ضیفست او را دار خوش
ہیں مگو کیں  مانند اندر گردنم
کہ ہم اکنون باز پرّد در عدم

(اے جوان یہ جسم ایک مہمان خانہ ہے،  ہر صبح ایک  نیا مہمان دوڑا آتا ہے، بلکہ  غلط کہا کیوں کہ لمحہ بہ لمحہ آتا ہے،  خوشی و رنج و فکر  کا نیا مہمان، اے دوست خندہ پیشانی والا میزبان بن، دروازہ بند نہ  کر  اور راہ  میں  منتظر رہ ،  غیب جیسے جہاں سے جو آئے وہی  تیرے  دل کا مہمان ہے ، اسے  بخوشی رکھ ، خبردار یہ نہ کہو کہ وہ گلے کا ہار  بن گیا،  بلکہ ابھی وہ عدم کی جانب پروازکرجائے گا۔ )

مولانا رومی ؒ کی یہ نظم    آج کل مغرب میں مراقبہ اور مائنڈ فلنیس کے ماہرین میں بہت مقبول ہورہی ہے،  ‘‘Guest House’’ کے عنوان اس کا انگریزی ترجمہ  مائنڈ فلنیس کے ماہر جان کباٹ زن،   ایلیشا گولڈ اسٹین ،  مارک ولیم اور ڈینی پینن  مائنڈفلنیس ٹریننگ  پروگرام میں بطور حوالہ پیش کرتے ہیں۔ 

[A Mindful Dialogue (2nd Edition) by ELISHA GOLDSTEIN, PH.D.
   https://blogs.psychcentral.com/mindfulness/2010/03/the-rain-practice-mondays-mindful-quote-with-rumi/

Mindfulness : an eight-week plan for finding peace in a frantic world
   By: Mark Williams and Danny Penman ; foreword by Jon Kabat Zinn.

  https://books.google.com.pk/books?id=aV_YAAAAQBAJ&printsec=frontcover ]

 

اس نظم میں مائنڈ فلنیس کا بنیادی اصول پیش کیا  گیا ہے،  مائنڈ فلنیس میں لمحہ موجود کی بہت اہمیت ہے،  مائنڈفلنیس کے مطابق انسان کو ہر  لمحہ ہر دم آنے والے  مہمان یعنی  خیالات  اور حالات  کا خوش دلی سے سامنا کرنا چاہیے۔    سلسلۂ عظیمیہ کے امام قلندر بابا اولیاء  دورباعیوں میں فرماتے ہیں :

ہر چیز خیالات کی ہے پیمائش

ہیں نام کی دنیا میں غم و آسائش

تبدیل ہوئی جو خاک گُورستاں میں

سب کوچہ و بازار کی تھی زیبائش

خانے ہیں دماغ کے وہ خالی ہیں سب

چیزیں جو نظر آتی ہیں جعلی ہیں سب

ہرَ لمحہ بدلتا ہے جہاں کا منظر

نظّارے بھی آنکھوں کے خیالی ہیں سب

یعنی انسانی نگاہ کے سامنے جتنے مناظر ہیں وہ شعور کی بنائی ہوئی مختلف تصویریں ہیں۔ دیکھنے کی یہ طرز مفروضہ ہے۔   دیکھا جاتا ہے کہ ایک ہی چیز ایک آدمی کے لئے خوشی اور دوسرے کے لئے غم کا باعث ہوتی ہے۔ ایک چیز کے بارے میں مختلف لوگوں کی سینکڑوں مختلف آراہوتی ہیں حالانکہ حقیقت ایک اور صرف ایک ہوسکتی ہے۔

عبادت:

آدمی را ہست در ہر کار دست

لیک ازو مقصود این خدمت بدست

ما خلقت الجن و الانس این بخوان

جز عبادت نیست مقصود از جہان

(انسان ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے، لیکن اس کا اصل مقصود خدمت خلق ہے۔ اور  یہ آیت  پڑھ لے ما خلقت الجن و الانس کہ انسان و جنات کو اس جہاں میں صرف عبادت کے لیے پیدا کیا گیاہے۔ )

نوم عالم از عبادت بہ بود

آنچنان علمی کہ مستنبہ بود

آن سکون سابح اندر آشنا

بہ ز جہد اعجمی با دست و پا

اعجمی زد دست و پا و غرق شد

می‌رود سباح ساکن چون عمد

(عالم کی خاموشی بھی ظاہری عبادت سے بہتر   اور علم بھی  وہ جو آگاہی  دینے والا ہو،   بالکل جیسے  تیراکی میں تیراک کا سکون اناڑی کے ہاتھ پاؤں مارنے سے بہتر ہے،  اناڑی نے ہاتھ پاؤں مارے اور ڈوب گیا، اور تیراک  شہتیر کی طرح ساکن محو سفر رہا۔ )

فکر آن باشد کہ بکشاید راہے

راہ آن باشد کہ پیش آید شاہے

(فکر وہ بہتر ہے جو راستہ دکھائے اور راستہ وہ مفید ہے جو شاہِ حقیقی یعنی حق تعالیٰ تک پہنچادے)

صحبتِ اولیاء :

رومی نے صالح  لوگوں  ، بزرگ و اولیاء کی صحبت پر بھی   کافی اشعار کہے ہیں۔

صحبت صالح ترا صالح کند

صحبت طالح ترا طالح کند

(نیک لوگوں کی صحبت نیک بنا دیتی ہے اور بُرے لوگوں کی صحبت بُرا بنا دیتی ہے)

یک زمانہ صحبت با اولیا

بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

(اللہ کے ولی کی صحبت کے چند لمحے سو سال کی بے ریا عبادت سے بہتر ہیں)

ہمنشینی مُقبلاں چوں کمیاست

چوں نظر شاں کیمائے خود کجاست

(بارگاہ حق کے مقبول بندوں کی ہم نشینی تو سونا ہے، بلکہ ان لوگوں کے نظر کے مقابلے میں سونا خود کچھ نہیں۔)

اولیا را ہست قدرت از الہ

تیر جستہ باز آرندش راہ

(اللہ کے ولیوں کو رب کی طرف سے طاقت ملتی ہے کہ وہ کمان سے نکلے ہوئے تیر کو بھی واپس کر دیتے ہیں یعنی ان کی نظر تقدیر بدل دیتی ہے)

مولانا رومی اخلاقیات پر بہت زور دیتے ہیں:

خلق نیکو وصف انسانی بُود

آدمی با خُلق بد حیوان شُود

(اچھے اخلاق انسانیت کے اوصاف ہے اور بد اخلاق آدمی جانور جیسا ہوتا ہے۔ )

ہر کہ دراد در جہاں خلق نکو

مخزنِ اسرار حق شد جان او

(جس شخص کےاندر اخلاق حسنہ دیکھو تو سمجھ جاؤ کہ اس کی روح اسرارِ الٰہیہ کی حامل ہے۔)

خیر کن باخلق بہرا یزدت

یا برای راحت جاں خودت

(خدا کی رضا کے لیے مخلوق کے ساتھ خیر خواہی کر کے دیکھ ، تو اپنی روح میں راحت محسوس کرے گا۔ )

رحمت مادر اگر چہ از خدا است

خدمت اوہم فریضہ است و سزا ست

ترک شکرش ترک شکر حق بود

حق اُولا شک بحق ملحق بود

(ماں کی رحمت اللہ کی عطا کردہ ہے۔  ماں کی خدمت کرنا بھی فرض ہے۔ ماں کا شکر ادا نہ کرنا حق کا ناشکرا ہونے کے مترادف ہے، کینونکہ ماں کا حق، اللہ نے اپنے حق کے ساتھ ملحق کیا ہے۔ )

رمز الگاسبُ حبیب اللہ شنو

از توکل در سبب کاہل مشو

(اشارہ سمجھو کہ حلال روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے، توکل کے نام پر کاہل نہ بن جانا۔)

گفت پیغمبرؐ با آواز بلند

بر توکل زانوئے اُشتر بہ بند

(نبی پاک نے واضح انداز میں بتا دیا کہ  اللہ پر توکل رکھو ساتھ ہی اُونٹ کے گھٹنے بھی باندھوٕ)

جلال الدین رومی کا شمار ایسے شعرا میں ہوتا ہے۔ جن کا کلام سالوں کی گرد اُڑنے کے بعد بھی دھندلا نہیں ہوا بلکہ اُن کے اشعار کو پڑھ کے دلوں کے آئینے شفاف تر ہوجاتے ہیں اور روحوں کی کثافتیں دور ہو جاتی ہیں ۔آپ کا ہر شعر سوزوگداز میں گندھا ہوا اور پڑھنے والے کے دل میں اترتا جاتا ہے۔     سات سو سال گزرنے کے بعد بھی یہ کلام عالمی ادب میں بے نظیر ہے۔  آپ کو یہ جان کر بھی شاید حیرت  ہوگی کہ رومی کی شاعری امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے کلام  میں سے ہے۔    آج بھی    انٹرنیٹ پر مولانا رومی کے اشعار جا بجا شئیر کیے  جاتے ہیں۔

 سالہا سال تک بنجر دِلوں کو آباد کرنے والا یہ عظیم انسان 5جمادی الثانی 672ھ بمطابق 17 دسمبر 1273ء کو اس دارِفانی سے کوچ کر گیا۔ قونیہ میں ان کا مزار آج بھی اہلِ دل کے لیے حرم ہے۔   مولانا رومؒ کے مزار کے داخلی درازے کے اوپر لکھا گیا ہے کہ

کعبۃ العشاق باشد ایں مقام

ہر کہ ناقص آید ایں جا شد تمام

یہ مقام عاشقوں کا کعبہ ہے  جو بھی ناقص یہاں آتا ہے وہ مکمل ہوجاتاہے  ۔

 

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

تلاش (کیمیاگر) قسط 4

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں چوتھی قسط ….(گزشتہ سے پوستہ) اطریفا کے بلند ...

تلاش (کیمیاگر) قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تیسری قسط ….(گزشتہ سے پوستہ) اس بوڑھے شخص ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن