روحانی ڈائجسٹ / گوشۂ ادب / عالمی ادب / تلاش (کیمیاگر) قسط 5

تلاش (کیمیاگر) قسط 5

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، حصولِ مقصد کی راہ میں حائل مشکلات، رکاوٹیں نہیں بلکہ آزمائش ہوتی ہیں، جب انسان کےدل میں کوئی خواہش سراٹھاتی ہے اور وہ کسی چیز کو پانے کی جستجو اور کوشش کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے کہ اس کی یہ خواہش پوری ہو ۔ اگر لگن سچی ہو تو خدا کی اس کائنات میں بکھری نشانیاں اِس جدوجہد کے دوران راہنمائی اور معاونت کرتی نظر آتی ہیں۔
کیمیاگر (الکیمسٹ Alchemist ) برازیلی ادیب پاؤلو کویلہو Paulo Coelho کا شاہکار ناول ہے، جس کا دنیا کی 70 زبانوں میں ترجمہ ہوا ۔ اس ناول نے فروخت کےنئے ریکارڈ قائم کرکے گنیز بک میں اپنا نام شامل کیا۔ اس کہانی کے بنیادی تصوّرات میں رومی، سعدی اور دیگر صوفیوں کی کتابوں اور فکرِ تصوّف کی جھلک نظر آتی ہے۔ 
کیمیا گر ، اندلس کے ایک نوجوان چرواہے کی کہانی ہے جو ایک انوکھا خواب دیکھتا ہے جس کی تعبیر بتائی جاتی ہے کہ اسے کوئی خزانہ ضرورملے گا ۔ وہ خزانے کی تلاش میں نکلتا ہے اور خوابوں، علامتوں کی رہنمائی میں حکمت اور دانائی کی باتیں سیکھتے ہوئے ، افریقہ کے صحراؤں میں اس کی ملاقات ایک کیمیاگر سے ہوتی ہے ، یہ کیمیا گر خزانے کی تلاش کے ساتھ انسانی سرشت میں چھپے اصل خزانے کی جانب بھی اس کی رہنمائی کرتا ہے….

پانچویں قسط

گزشتہ قسط کا خلاصہ : یہ  کہانی اسپین کے صوبے اندلوسیا کی وادیوں میں پھرنے والے نوجوان چراوہا سان تیاگو کی ہے، ماں باپ اسے راہب بنانا چاہتے تھے مگر وہ سیاحت اور دنیا کو جاننے کے شوق میں چراوہا بن گیا۔ ایک رات وہ بھیڑوں کے گلّہ کے ساتھ ایک ویران گرجا گھر میں رات گزارتا ہے اور ایک عجیب خواب دیکھتا ہے کہ ‘‘کوئی اسے اہرام مصر لے جاتا ہے اورکہتا ہے کہ تمہیں یہاں خزانہ ملے گا۔’’ لیکن خزانے کا مقام دیکھنے سےقبل آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ دو سالوں سے ان بھیڑوں کے ساتھ پھرتے ہوئے ان ں سے مانوس ہوچکا ہے۔ لیکن اب اس کی دلچسپی کا محور تاجر کی بیٹی ہے، جسے وہ گزشتہ سال ملا تھا ، اس کا ارادہ تھا کہ دوبارہ اس لڑکی سے ملے اور اسے اپنے بارے میں بتائے ۔ لیکن پہلے اس نے شہر طریفا جانے کا ارادہ کیا ، جہاں وہ خوابوں کی تعبیر بتانے والی ایک خانہ بدوش بوڑھی عورت سے ملا۔ جس نے بتایا کہ وہ خزانہ جس کی خواب میں نشاندہی کی گئی تھی اسے ضرور ملے گا۔ وہ اس بات کو مذاق سمجھ کر چل دیا اور شہر کے چوک پر آبیٹھا جہاں اس کی ملاقات ایک بوڑھے شخص سے ہوئی جس نے اپنا نام ملکیِ صادق اور خود کو شالیم شہر کا بادشاہ بتایا اور کہا کہ وہ خزانہ ڈھونڈنے میں اس کی مدد کرسکتا ہے ۔ پہلے تو لڑکا اُسے فراڈ سمجھا، لیکن جب اس بوڑھے نے وہ باتیں بتائیں جو اس نے کسی کو نہیں بتائی تھیں، تو اسے یقین ہوا۔ بوڑھا سمجھاتا ہے کہ انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، جب انسان کسی چیز کو پانے کی جستجو کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے ۔ خزانہ کے متعلق مدد کرنے کے بدلے بوڑھا شخص بھیڑوں کا دسواں حصہ مانگتا ہے ۔ جسے لڑکا دے دیتا ہے۔ بوڑھا بتاتا ہے کہ خزانہ اہرامِ مصر میں ہے اور اسے ڈھونڈنے کے لیے قدرت کے اشاروں کی زبان کو سمجھنا ہوگا۔ بوڑھا اپنے سینے پر لگی طلائی زرہ میں جڑے دو سیاہ سفید پتھر دیتا ہے کہ اگر کبھی تم قدرت کے اشاروں کو سمجھ نہیں سکو تو یہ دونوں پتھر ان کو سمجھنے میں مدد کریں گے۔ لیکن بہتر یہی ہو گا کہ تم اپنے فیصلہ خود اپنی عقل سے کرنے کی کوشش کرو۔ بوڑھا چند نصیحتیں کرکے بھیڑیں لے کر چلاجاتا ہے ۔ وہ لڑکا ایک چھوٹے سے بحری جہاز سے افریقہ پہنچ جاتا ہے اور طنجہ شہر کے قہوہ خانہ میں پہنچتا ہے۔ یہاں کا اجنبی ماحول دیکھ کر وہ فکرمند ہوجاتا ہے کہ اسے ایک ہم زبان اجنبی ملتا ہے۔ لڑکا اس سے اہرام مصر پہنچنے کے لیے مدد مانگتا ہے۔ وہ اجنبی بتاتا ہے کہ اس کے لیے کافی رقم درکار ہوگی۔ لڑکے نے اپنی جامہ بند پوٹلی نکال کر رقم اجنبی کو دکھاتا ہے۔ اس دوران قہوہ خانہ کا مالک آکر جھگڑا کر تاہے۔ لڑکا اجنبی شخص پر بھروسہ کرکے اُسے رقم دے دیتا ہے۔، اجنبی اُسے اپنے ساتھ بازار لے آتا ہے اور بازار کی گہما گہمی میں نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ رقم کھونے پر اسے احساس ہوتا ہے کہ قہوہ خانہ کا مالک اسے اجنبی پر بھروسہ نہ کرنے پر انتباہ کررہا تھا۔ لڑکا خود کو بے یار و مددگار محسوس کرنے لگا، پھر اسے بوڑھے بادشاہ کی باتیں یاد آئیں، وہ خود کو گزرے لمحات کے بھنور سے باہر نکال کر مصمم ارادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی آئندہ زندگی پچھتاوے میں نہیں بلکہ خزانہ کی تلاش میں نکلے مہم جو کی طرح گزارے گا۔ …. اب آگے پڑھیں ………… 

….(گزشتہ سے پوستہ)


کسی نے اُسے گہری نیند سے جھنجھوڑ کر اُٹھایا تو اسے احساس ہوا کہ وہ بیچ بازار میں کسی جگہ لیٹ کر سو گیا تھا۔ اب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ بازار میں رونقیں واپس لوٹ رہی تھی۔
وہ چونک کر ہڑبڑا اُٹھا اور اِدھر اُدھر اپنی بھیڑوں کو تلاش کرنے لگا، فوراً ہی اُسے یاد آ گیا کہ اب تو اس کی دنیا ہی بدل گئی ہے لیکن اب اِس احساس نے اُسے ذرا بھی افسردہ نہیں کیا بلکہ وہ خوشی کے جذبہ سے مخمور تھا۔ اب اُسے اپنی بھیڑوں کے لئے چارہ اور پانی اکھٹا کرنے کی فکر نہ تھی بلکہ وہ آزاد تھا…. وہ اُن بھیڑوں کی فکر سے آزاد رہ کر بآسانی خزانے کی تلاش کر سکتا تھا۔ یوں تو اُس کی جیب میں ایک پیسہ بھی نہ تھا لیکن اب وہ یقین اور اعتماد کی دولت سے مالامال تھا۔
گزشتہ رات اُس نے مصمم فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ اپنی زندگی مہم جو بن کر گزارے گا۔ اس مہم میں وہ ہر قسم کی پریشانی کا مقابلہ کرے گا۔ اب تک کتابوں میں اُس نے جو کہانیاں پڑھی تھیں، اُن کے وہ مہم جُو کردار جو اُس کوپسند تھے۔ آج وہی اُس کے رہبر و گائیڈ بھی بن گئے تھے۔
وہ آہستہ آہستہ بازار میں اِدھر اُدھر گھومنے لگا۔ اُس نے دیکھا کہ سب دکاندار اپنی دکانیں اور پتھارے لگانے میں مصروف ہیں۔ اس نے ایک دُکاندار کو مٹھائی کی دکان لگاتے ہوئے دیکھا تو اس کی مدد کے لئے وہ آگے بڑھا اور اُس کا سامان لگانے لگا۔ وہ حلوائی ایک خوش مزاج آدمی تھا۔ اپنے کام میں مست۔ اُس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ سے لڑکے کو شالیم کے بوڑھے بادشاہ کی یاد آ گئی۔ اُس نے سوچا کہ
‘‘یہ مٹھائی فروش حلوائی اتنی محنت آخر کس کے لئے کرتا ہے ؟ کیا یہ محض اِس لیے مٹھائیاں بنارہا ہے کہ اُسے دنیا کا سفر کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے یا کسی تاجر کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے؟ نہیں بلکہ وہ ایسا کررہا ہے کیونکہ وہ یہی چاہتا ہے۔ دراصل کام کا چھوٹا یا بڑا ہونا اہم نہیں ہے بلکہ اصل مقصد تو یہ فیصلہ ہے کہ ہمیں کرنا کیا ہے۔’’
لڑکے کو احساس ہوا کہ وہ بھی اس بوڑھے کی طرح لوگوں کو محسوس کرسکتا ہے۔ کسی کو ایک نظر دیکھ کر پہچان لینا کہ وہ اپنے مقدر یا مقصد سے کتنا قریب یا کتنا دوُر۔ اب اس دُکان دار حلوائی کو ہی دیکھو…. اس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ اور طمانیت بتاتی ہے کہ وہ اپنے اس کام سے خوش اور مطمئن ہے، اس نے اپنے مقدر کوپالیا ہے ۔
تھوڑی ہی دیر میں مٹھائی کی دکان پر مٹھائی تیار ہونے لگی تو دُکان دار حلوائی نے سب سے پہلی مٹھائی اس لڑکے کو پیش کی ۔ لڑکا بھوکا تھا ، اس نے مٹھائی لی اور شکریہ ادا کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ چلتے چلتے اُسے احساس ہوا کہ مٹھائی کی دکان لگاتے ہوئے اُس نے حلوائی کو کسی گاہک سے عربی میں بات کرتے سُنا جبکہ گاہک ہسپانوی زبان میں جواب دے رہا تھا، وہ دونوں ایک دوسرے کا مدعا ٹھیک ٹھاک سمجھ رہے تھے۔ گویا یہ دونوں زبانیں یہاں اچھی طرح بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔
‘‘دنیا میں کوئی زبان ایسی بھی ضرور ہونی چاہیے جس کا انحصار لفظوں پر نہ ہو جو لفظوں سے ماورا ہو۔’’ لڑکے نے سوچا۔
مجھے اپنی بھیڑوں کے ساتھ تو ایسی زبان کا تجربہ رہا ہی ہے لیکن اب یہاں دیکھ کر احساس ہورہا ہے کہ انسانوں میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ اس انجان سرزمین پر میں بہت سی نئی نئی باتیں سیکھ رہا ہوں ، یوں تو ان میں بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو اِس سے قبل بھی میرے تجربہ میں آ چکی تھیں اور میرے لیے نئی نہیں….لیکن بس میں نے ان پر کبھی اس طرح توجہ نہیں دی تھی۔ کوئی بات اگر بار بار تجربہ میں آتی ہے تو انسان اُس کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر غور نہیں کرتا۔
‘‘اگر الفاظ سے ماور ا اس زبان تک میری دسترس ہو جائے تو پھر پوری دنیا کو سمجھنا میرے لیے آسان ہوسکتا ہے۔‘‘ اُس نے سوچا۔
لیکن مجھے جلد بازی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ آہستہ آہستہ تحمل سے ان چیزوں کو سمجھنا چاہیے ۔ اس نے طے کیا کہ وہ طنجہ کی تنگ گلی کوچوں ہی میں گھوم کر غور و توجہ کے ساتھ چیزوں کا مشاہدہ کرے گا ۔ شاید اِسی طرح قدرت کی نشانیوں کو سمجھنے میں مدد ملے۔ گو کہ یہ خاصا صبر آزما کام تھا لیکن ایک چراوہا ہونے کی وجہ سے بھیڑوں کے ساتھ رہتے وہ صبر و تحمل کا عادی ہوچکا تھا۔
اِس اجنبی دنیا میں بھی اُس کی بھیڑیں اُس کی راہنما بنیں۔ اس نے بھیڑوں کے درمیان رہ کر جو کچھ سیکھا ہےوہ یہاں آزمائے گا۔ یہ سوچ کر اُس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
اُسے یاد آیا بوڑھے بادشاہ نے سچ کہا تھا ۔
‘‘اس کائنات کی تمام چیزیں ایک ہی نکتہ پر مرکوز ہیں۔ تمام چیزیں اپنی اصل کے اعتبار سے ایک جیسی ہیں۔’’

***

شیشہ کی دکان کا سوداگر آج صبح جب سو کر اُٹھا تو اُس کی ذہنی پریشانی اور تشویش کا وہی عالم تھا جو ہر روز صبح اُٹھ کر ہوا کرتا تھا۔
گزشتہ تیس برسوں سے وہ شیشوں کے ظروف، بلوری اشیاء، آبگینوں، کرسٹل اور موتیوں سے بنے شوپیس کی دکان پر بیٹھ رہا تھا، جہاں گاہکوں کاگذر کم ہی ہوتا تھا۔ اِس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ دکان ایک تنگ پہاڑی راستے سے گزر کر ایک اونچے مقام پر واقع تھی۔ آمدنی کم ہونے کی بناء پر کئی بار اُس نے اپنی دکان کو کہیں اور منتقل کرنے کے لئے سوچا لیکن ایک بات تو یہ تھی کہ وہ خاصے طویل عرصہ سے وہ اِس دکان پر بیٹھ رہا تھا اور دوسرا یہ کہ اُس کے پاس سوائے شیشیوں کی چیزوں کی خرید و فروخت کے کسی اور کام کا کوئی تجربہ بھی نہ تھا۔
ایک وقت تھا کہ اُس کی دکان خوب چلتی تھی اور ہر وقت گاہکوں کی ریل پیل لگی رہتی تھی۔ طرح طرح کے لوگ آتے اور مال خریدتے۔ عربی تاجر ہوں یا فرانسیسی سیاح، انگریز ماہرینِ آثار قدیمہ ہوں یا جرمن فوجی سپاہی، اُس کی دکان سب کےلیے توجہ کامرکزتھی۔
وہ دن بھی کیا خوب تھے، اس کی زندگی مزے سے گزر رہی تھی ۔ ان دنوں اُسے یہ یقین ہونے لگا تھا کہ جلد ہی اُس کا شمار طنجہ شہر کے دولت مندوں میں ہونے لگے گا اور شہر کی خوبصورت عورتیں اُس کی بیوی بننے کے لئے تیارہوں گی۔
لیکن وقت گزرا تو طنجہ ہی بدل گیا۔ ساحلی شہر سبتہ (ہسپانوی زبان میں ثیوتا Ceuta) جو قریب ہی واقع تھا، جبل الطارق کے مزید قریب ہونے کی وجہ سے ترقی میں طنجہ سے اس قدر آگے نکل گیا کہ طنجہ کی تجارتی گہما گہمی میں کمی آتی گئی۔ ویسے بھی ہرکولیس کے ستون * کی وجہ سے بھی سیاحوں کا رخ سبتہ شہر کی جانب زیادہ ہوتا تھا۔
موقع سے فائدہ اُٹھانے کی دوڑ میں اس کے آس پڑوس کے کئی دکانداروں نے جگہیں تبدیل کر لیں اور سبتہ شہر یا کہیں اور منتقل ہوگئے ۔ پہاڑی پر بس اب چند ایک ہی دکانیں رہ گئیں تھیں۔ ظاہر ہے کہ اب محض چند چھوٹی موٹی دکانوں کو دیکھنے کے لئے کوئی سیاح تنگ گزرگاہوں والی پہاڑی پر اوپر چڑھنے میں تو دلچسپینہیں لے گا۔
لیکن شیشہ کا سوداگر کرتا بھی تو کیا کرتا۔ وہ ایک ہی جگہ پر تیس سال سے صرف یہی کام کر رہا تھا اور انجان جگہ جاکر بسنے کی نہ تو اس میں ہمت تھی اور نہ ہی کوئی نیا کاروبار از سرِ نو شروع کرنےکی طاقت ۔
دن کا زیادہ تر وقت وہ بس گاہک کے انتظار میں لوگوں کو آتے جاتے دیکھنے میں گزاردیتا۔ گزشتہ کئی برسوں سے اُس کی یہی مصروفیت تھی۔ وہ اس علاقے کے لوگوں اور اُن کے آنے جانے کے اوقات سے بھی اچھی طرح واقف ہو گیا تھا۔
آج اچانک دوپہر کے کھانے سے تھوڑا پہلے ایک نیا لڑکا اُس کی دکان کے سامنے آ کر رُکا۔ اپنے لباس سے تو وہ ایک عام سا کھاتے پیتے گھرانے کا لڑکا نظر آرہا تھا، لیکن دکاندار کی تجربہ کار نظروں نے یہ پہچاننے میں غلطی نہیں کی کہ لڑکے کی جیب میں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ۔
وہ ابھی کھانے کے لئے دُکان بند کرکے ہوٹل پر جانے ہی والا تھا کہ اُس نے فیصلہ کیا کہ یہ لڑکا ذرا آگے بڑھ جائے تو وہ کھانے کے لیےجائےگا۔

 

**یونانیوں کے مطابق  پہلے  زمانے میں یورپ اور افریقہ جُڑے ہوئے تھے ،  ان دونوں کے درمیان یک پہاڑ ہوا کرتا تھا جس پر  اٹلس دیوتا کا طویل مجسمہ نصب تھا ،  مشہور  طاقتور یونانی دیوتا ہرکولیس   جب اپنے سفر کے دوران یہاں سے گزرا تو  اس پہاڑ پر چڑھنے کے بجائے اس کے دوٹکڑے کرڈالے اور درمیان سے سمندر  کا راستہ نکال دیا، جہاں آج بحرہ روم  کی آبنائے ہے   ۔  آج یہ آدھا پہاڑ مراکش(افریقہ) کے شہر سبتہ  کا جبل موسیٰ ہے  اور پہاڑ کا دوسرا حصہ  اسپین (یورپ )میں جبل الطارق (جبرالٹر) کہلاتا ہے۔      ان دونوں پہاڑوں  پر یادگار کے طور پر ایک ایک ستون ایستادہ ہے۔ ان ستونوں کو ہرکولیس کا ستون Pillar of Hercules  کہا جاتا ہے ۔ 

 

***

دکان کے دروازے پر لگی ایک تختی پر کئی زبانوں میں کچھ لکھا تھا۔ جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ دُکان دار کئی زبانوں سے واقفیت رکھتا ہے، ظاہر ہے کہ مختلف زبانیں بولنے والے افراد، سیاح وغیرہ اُس دکان میں آتے رہے ہوں گے۔
لڑکے نے ذرا جھانک کر دیکھا تو اندر اُسے ایک آدمی بیٹھا نظر آیا۔ اس کےقریب آ کر وہلڑکا بولا:
‘‘دُکان کی کھڑکیوں کے شیشے دھول سے خاصے اٹے ہوئے ہیں۔ اگر آپ کہیں تو میں اِنہیں صاف کر دوں، میں شیشوں کے یہ بلوری ظروف بھی صاف کردوں گا۔ یہ جس حالت میں ہیں اُنہیں دیکھ کر لگتا نہیں کہ کوئی گاہک اسے خریدنے کی خواہش بھی کرے گا۔’’ لڑکے نے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ شیشے کے تاجر نے لڑکے کو دیکھا ضرور لیکن کچھ کہا نہیں۔
‘‘بس اُجرت کے طور پر کچھ تھوڑا بہت کھانا چاہیے۔’’دکاندار اب بھی کچھ نہ بولا۔
لڑکے نے سوچا کہ یہ دُکان دار فیصلہ کرنے میں زیادہ وقت نہ لگادے۔ چنانچہ اس نے دُکان دار خاموشی کو رضامندی سمجھتے ہوئے فوراً اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈالا جہاں اس کی جیکٹ ابھی تک موجود تھی۔ لیکن اب افریقہ کے اِس گرم ریگستانی علاقے میں اِس کے استعمال کی اُسے کوئی ضرورت نہیں تھی۔ جیکٹ نکال کر لڑکے نے صفائی شروع کر دی۔ کوئی آدھ گھنٹہ ہی لگا ہوگا کہ اُس لڑکے نے کھڑکیوں کے شیشوں کو چمکا دیا تھا۔ جب وہ صفائی کررہا تھا تو اِس دوران دو گاہک بھی دکان میں داخل ہوئے اور کچھ بلوری ظروف خریدکر لے گئے۔
صفائی مکمل کر نے کے بعد لڑکے نے اُس دُکاندار یعنی شیشے کے تاجر سے کچھ کھانے کے لئے مانگا۔ شیشے کا تاجر بولا۔
‘‘چلو کہیں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔’’
دکان کے دروازے پر ‘‘وقفہ’’ کی ایک مخصوص تختی لٹکا کر دونوں قریب کے ایک کیفے کی طرف بڑھ گئے، جہاں شاید صرف ایک ہی میز خالی پڑی تھی۔ کیفے کی میز پر بیٹھتے ہوئے شیشے کا سوداگر زور سے ہنسا۔
‘‘میں تمہیں یہ کھانا اس لیے نہیں کھلارہا کہ تم نے میری دُکان کی صفائی کی ہے۔ ویسے بھی کھانے کے لئے تمہیں دُکان کی صفائی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا ہماری مقدس کتاب ‘‘قرآن ’’کا حکم ہے۔’’
‘‘اچھا!…. تو پھر تم نے مجھے صفائی کرنے سے روکا کیوں نہیں ….؟’’
‘‘کیونکہ صفائی کی واقعی بہت ضرورت تھی۔ ظروف گرد میں اٹے ہوئے تھے، اسے تو صاف کرنا ہی تھا اور ہم دونوں کو اپنے ذہنوں سے منفی خیالات کی گرد کو بھی نکالنا ضروری تھا۔’’
جب دونوں کھانا ختم کر چکے تو شیشے کا سوداگر لڑکے کی جانب متوجہ ہوا اور کہا:
‘‘کیوں نہ تم میرے ساتھ میری دُکان پر کام کیا کرو۔ دیکھو آج تم نے میری دکان کی صفائی کی۔ اور دو گاہک بھی آئے۔ تمہارا آنا میرے کاروبار کے لیے خوش قسمت اور اچھا شگون ثابتہواہے۔’’
لڑکا سوچنے لگا۔ ‘‘سب ہی لوگ قسمت اور شگون پر یقین رکھتے ہیں، لیکن کسی کو اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کدھر اشارہ کر رہے ہیں۔ میں بھی تو ایک طویل عرصے تک اس بات سے ناآشنا تھا کہ میں اپنی بھیڑوں سے الفاظ کے بغیر ہمکلامیکرتارہا۔
‘‘ہاں تو نوجوان!…. کیا ارادہ ہے….؟؟، کیا تم میرے ساتھ میری دُکان پر کام کرنا پسند کروگے۔ ؟ ‘‘ سوداگر نے پوچھا۔
‘‘ہاں ، کیوں نہیں…. میں آج باقی دن بھی کام کروں گا۔’’ لڑکے فوراً بول اُٹھا ‘‘میں رات بھر کام کروں گا، طلوعِ صبح تک کام کروں گا اور دُکان کی ہر ہر چیز اور ہر ظروف کو بالکل چمکا کر رکھ دوں گا۔ بس اُجرت کے طور پر مجھے اتنی رقم درکار ہے کہ میں کل ہی یہاں سے مصر پہنچ سکوں۔‘‘
لڑکے کی بات سن کر سوداگر کھلکھلاکر ہنس پڑا۔ ‘‘لڑکے، اگر تم سال بھر بھی میری دکان میں کام کرتے رہو اور میں ہرظروف کی فروخت پر تمہیں کمیشن بھی دیتا رہوں تب بھی کسی سے کچھ رقم بطور قرض لئے بغیر تم مصر نہ جا سکوگے۔ تمہیں پتا نہیں یہاں سے مصر تک کا فاصلہ کتنا زیادہ ہے۔ ہزاروں کلومیٹر میں پھیلا ہوا ریگستان درمیان میں حائل ہے۔’’
ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ ماحول میں ایک سناٹا سا پھیل گیا، ایسا لگا جیسے پورے شہر کو نیند نے آلیا ہے۔ بازار خاموش، گاہک دُکاندار کی گفتگو بند، ایسا لگا کہ پوری کائنات خاموش ہو گئی ہے۔ جیسے امیدوں کی دنیا ختم ہو گئی۔ اسے اپنے خواب شیشے کے ظروف کی طرح ٹوٹ کر بکھرتے نظر آرہے تھے۔ کوئی اُمید نہیں نہ کوئی مہم جوئی، نہ بوڑھا بادشاہ نہ ہی تقدیر ، نہ خزانہ اور نہ ہی مصرکےاہرام۔
لڑکے کی روح مرجھا سی گئی۔ اُسے لگا کہ بس اِسی لمحہ اُسے موت آجائے اور ہمیشہ کے لئے ہر چیز ختم ہو جائے۔
کیفے پر بیٹھا لڑکا دور خلا میں گھور رہا تھا۔ یہ دیکھ کر سوداگر بھی بے چین ہوگیا۔ لڑکے کے چہرے پر یکایک تبدیلی سے وہ پریشان ہو اُٹھا۔ آج کی صبح جس خوشی سے وہ ہمکنار ہوا تھا وہ اب کافور ہو گئی۔
‘‘بیٹے …. البتہ اگر تم اپنے ملک واپس لوٹ کر جانا چاہو تو میں تمہیں ضروری رقم فراہم کر سکتا ہوں۔’’ شیشے کا سوداگربڑی اپنائیت سے بولا۔
لڑکے نے کوئی جواب نہ دیا۔ کھڑا ہوا، اپنا لباس درست کرتے ہوئے اُس نے تھیلا اُٹھایا اور بولا، ‘‘میں آپ کی دکان میں ضرور کام کروں گا۔’’
اور پھر تھوڑی خاموشی کے بعد بولا:
‘‘اب مجھے صرف بھیڑیں خریدنے کے لیے ضروری رقم درکار ہو گی۔’’  

(جاری ہے)
***

تحریر : پاؤلو کویلہو ; ترجمہ: ابن وصی
(جاری ہے)

 
اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

تلاش (کیمیاگر) قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں پہلی قسط اندلس ، براعظم یورپ کے جنوب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن