روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / صحت و تندرستی / غذائیت / موسمِ گرما اور آپ کی ڈائیٹ

موسمِ گرما اور آپ کی ڈائیٹ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

موسمِ گرما کی شدّت غذائی تدابیر سے کم کی جاسکتی ہے

گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ سے محفوظ رہنے کے لیے ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں….؟ 

جی ہاں! ایسا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے آپ کو اپنی ڈائٹ پر خصوصی توجہ دینی ہوگی، اگر آپ صبح سویرے اٹھ کر گھی میں تلے ہوئے پراٹھے، فرائی انڈے یا اسی قسم کی دوسری اشیاء کھاتی ہیں اور ساتھ میں گرمی سے بچنے کی فرمائش بھی کرتی ہیں تو ایسا کم از کم ان حالات میں تو ناممکن ہے….!

اس قسم کا ناشتہ صبح سے ہی ہمارے جسم میں زیادہ طاقتور کیلوریز پیدا کردیتا ہے جو گرمی کے موسم میں خرچ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

 یہ وہ غذائیں ہیں جو گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کرتی ہیں اور ہضم ہونے میں تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے لگاتی ہیں۔

گرم موسم میں ناشتے کے طور پر ہلکا گرم دودھ کا گلاس اور کارن فلیکس بالکل مناسب رہیں گے۔ 

برسوں سے پراٹھوں اور انڈوں سے ناشتہ کرنے والی خواتین کے لیے اتنا بڑا چیلنج شاید جلد  برداشت نہ ہوسکے اور وہ اس تبدیلی کے ابتدائی دنوں میں شدید پریشانی یا جلد بھوک لگ جانے کی مشکلات میں مبتلا ہوں، لیکن اگر ایک مرتبہ یہ روٹین آپ نے کامیابی سے اپنالی تو پھر آپ اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ بہتر اور تیز گرمی کے دنوں میں بھی آرام محسوس کریں گی۔

اب آتے ہیں لنچ کی جانب! جسے ان دنوں میں ہلکا پھلکا اور غذائیت سے بھرپور ہونا چاہیے۔ گرمیوں میں تیز مرچ مسالوں والے کھانوں مثلاً بریانی، قورمہ یا تیل میں تلے ہوئے کوفتوں کی بجائے ٹھنڈی تاثر والی سبزیوں کو فوقیت دیں مثلاً ٹھنڈے، پالک اور گوبھی وغیرہ لینی چاہیے۔ دوپہر کے کھانے میں اور خاص طور پر گرمی کے دنوں میں کھانے کے ساتھ سلاد ہونا نہایت ضروری ہے۔ کھیرے، ککڑی، مولی اور گاجر سے بنائی گئی سلاد ان دنوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ کھانے کے بعد  پانی نہ  پئیں۔ 

پانی کے بجائے لیمن جوس کو ترجیح دیں کیونکہ اس میں شامل وٹامن سی کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور گرمی ختم کرنے میں بھی معاون  ثابت ہوتے ہیں۔

دوپہر کے کھانے کے ایک گھنٹے بعد پانی پئیں اور جتنا زیادہ پی سکتی ہیں پئیں۔ جتنا زیادہ پانی جسم میں ہوگا آپ اتنی ہی کم گرمی محسوس کریں گی۔ دن میں دو یا تین مرتبہ لیموں پانی بنا کر پئیں۔ ٹھنڈی ٹھار لسی بھی اس سلسلے میں خاصی مدد دےسکتی ہے۔ گرمیوں کے دنوں میں سب سے بڑا مسئلہ جسم میں پانی کی کمی کا ہونا ہے۔ ہمیں احساس نہیں ہوتا اور ہمارے جسم میں سے غیر محسوس انداز میں پانی کی کمی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ گرمیوں میں پائے جانے والے فروٹ کا جوس بنا کر پئیں مثلاً فالسے، گاجر، لیموں اور سیب کے علاوہ کیلے کا جوس بھی گری کے اثرات کم  کرنے میں اہم کردار ادا کرتےہیں۔

دیسی مشروبات میں ستو اور لسی گرمی کے  لیے مفید  مانے جاتے ہیں اور یہ واقعی سچ ہے کہ ایک گلاس لسی گرمی ختم کرنے والی بہت سی ڈبہ بند مصنوعات سے بہتر ہے۔ 

کچھ دیسی مشروبات کی ترکیبیں خصوصی طورپر حاضر ہیں۔

ٹھنڈائی

اشیاء: بادام کٹے ہوئے پچیس، خربوزے کے بیج پچیس، خشخاش کے بیج دس گرام، دودھ ڈیڑھ لیٹر، پانی ڈیڑھ لیٹر، چینی حسب ذائقہ، چند پتیاں گلاب کی، کیوڑہ کے چند قطرے۔

ترکیب: بادام، خربوزے اور خشخاش کے بیجوں کو رات بھر پانی میں بھگوئیں اور اگلے دن اسے تمام اشیاء کے ساتھ گرینڈر میں پیس لیں۔ بعد میں چینی اور کیوڑہ کے چند قطروں کا اضافہ کرلیں، مزیدار ٹھنڈائی تیار ہے۔

لسی

اشیاء: دہی آدھا کلو، ٹھنڈا پانی ایک لیٹر، چینی یا نمک حسب ذائقہ۔

ترکیب: اچھی  لسی بنانے کے لیے ٹھنڈے پانی میں چینی نہ ڈالیں۔ چینی ٹھنڈا پانی ڈالنے سے قبل ہی دہی میں گھول لیں آخر میں حسب ذائقہ نمک کا اضافہ کرلیں۔

سکنجبین

اشیاء: لیموں ایک عدد، چینی تین کھانے کے چمچ، پانی ایک لیٹر، کالی مرچ حسب ذائقہ۔

ترکیب: پانی میں چینی ملالیں، اب لیموں کے جوس کو اس پانی میں شامل کرلیں۔ آخر میں کالی مرچ پسی ہوئی حسب ذائقہ ملا لیں۔ سکنجبین تیارہے۔

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

دہی ۔ گرمیوں میں ایک مکمل غذا

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں[:ur] غذائیت کے اعتبار سے دہی میں ناصرف پروٹین ...

گرمیوں میں ستّو پینے کے فائدے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں[:ur] موسم گرما میں ایسی چیزیں درکار ہوتی ہیں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن