روحانی ڈائجسٹ / گوشۂ ادب / عالمی ادب / تلاش (کیمیاگر) قسط 6

تلاش (کیمیاگر) قسط 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، حصولِ مقصد کی راہ میں حائل مشکلات، رکاوٹیں نہیں بلکہ آزمائش ہوتی ہیں، جب انسان کےدل میں کوئی خواہش سراٹھاتی ہے اور وہ کسی چیز کو پانے کی جستجو اور کوشش کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے کہ اس کی یہ خواہش پوری ہو ۔ اگر لگن سچی ہو تو خدا کی اس کائنات میں بکھری نشانیاں اِس جدوجہد کے دوران راہنمائی اور معاونت کرتی نظر آتی ہیں۔
کیمیاگر (الکیمسٹ Alchemist ) برازیلی ادیب پاؤلو کویلہو Paulo Coelho کا شاہکار ناول ہے، جس کا دنیا کی 70 زبانوں میں ترجمہ ہوا ۔ اس ناول نے فروخت کےنئے ریکارڈ قائم کرکے گنیز بک میں اپنا نام شامل کیا۔ اس کہانی کے بنیادی تصوّرات میں رومی، سعدی اور دیگر صوفیوں کی کتابوں اور فکرِ تصوّف کی جھلک نظر آتی ہے۔ 
کیمیا گر ، اندلس کے ایک نوجوان چرواہے کی کہانی ہے جو ایک انوکھا خواب دیکھتا ہے جس کی تعبیر بتائی جاتی ہے کہ اسے کوئی خزانہ ضرورملے گا ۔ وہ خزانے کی تلاش میں نکلتا ہے اور خوابوں، علامتوں کی رہنمائی میں حکمت اور دانائی کی باتیں سیکھتے ہوئے ، افریقہ کے صحراؤں میں اس کی ملاقات ایک کیمیاگر سے ہوتی ہے ، یہ کیمیا گر خزانے کی تلاش کے ساتھ انسانی سرشت میں چھپے اصل خزانے کی جانب بھی اس کی رہنمائی کرتا ہے….

چھٹی قسط

گزشتہ قسط کا خلاصہ : یہیہ کہانی اسپین کے صوبے اندلوسیا کی وادیوں میں پھرنے والے نوجوان چراوہا سان تیاگو کی ہے، ماں باپ اسے راہب بنانا چاہتے تھے مگر وہ سیاحت اور دنیا کو جاننے کے شوق میں چراوہا بن گیا۔ ایک رات وہ بھیڑوں کے گلّہ کے ساتھ ایک ویران گرجا گھر میں رات گزارتا ہے اور ایک عجیب خواب دیکھتا ہے کہ ‘‘کوئی اسے اہرام مصر لے جاتا ہے اورکہتا ہے کہ تمہیں یہاں خزانہ ملے گا۔’’ لیکن خزانے کا مقام دیکھنے سےقبل آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ دو سالوں سے ان بھیڑوں کے ساتھ پھرتے ہوئے ان سے مانوس ہوچکا ہے۔ لیکن اب اس کی دلچسپی کا محور تاجر کی بیٹی ہے، جسے وہ گزشتہ سال ملا تھا ، اس کا ارادہ تھا کہ دوبارہ اس لڑکی سے ملے اور اسے اپنے بارے میں بتائے ۔ لیکن اس سے پہلے وہ شہر طریفا جاکر خوابوں کی تعبیر بتانے والی ایک خانہ بدوش بوڑھی عورت سے ملتا ہے۔ جو بتاتی ہے کہ وہ خزانہ جس کی خواب میں نشاندہی کی گئی تھی اسے ضرور ملے گا۔ وہ اس بات کو مذاق سمجھ کر چلا آتا ہے اور شہر کے چوک پر آبیٹھا جہاں اس کی ملاقات خود کو شالیم شہر کا بادشاہ کہنے والے ملکیِ صادق نامی ایک بوڑھے شخص سے ہوتی ہے جو کہتا ہے کہ وہ خزانہ ڈھونڈنے میں اس کی مدد کرسکتا ہے ۔ پہلے تو لڑکا اُسے فراڈ سمجھا، لیکن جب اس بوڑھے نے وہ باتیں بتائیں جو اس نے کسی کو نہیں بتائی تھیں، تو اسے یقین ہوا۔ بوڑھا سمجھاتا ہے کہ انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، جب انسان کسی چیز کو پانے کی جستجو کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے ۔ خزانہ کے متعلق مدد کرنے کے بدلے بوڑھا شخص بھیڑوں کا دسواں حصہ مانگتا ہے ۔ جسے لڑکا دے دیتا ہے۔ بوڑھا بتاتا ہے کہ خزانہ اہرامِ مصر میں ہے اور اسے ڈھونڈنے کے لیے قدرت کے اشاروں کی زبان کو سمجھنا ہوگا۔ بوڑھا اُسے دو سیاہ سفید پتھر دیتا ہے کہ اگر کبھی تم قدرت کے اشاروں کو سمجھ نہیں سکو تو یہ دونوں پتھر ان کو سمجھنے میں مدد کریں گے۔ لیکن بہتر یہی ہو گا کہ تم اپنے فیصلہ خود اپنی عقل سے کرنے کی کوشش کرو۔ بوڑھا چند نصیحتیں کرکے بھیڑیں لے کر چلا جاتا ہے ۔ وہ لڑکا ایک چھوٹے سے بحری جہاز سے افریقہ کے ساحلی طنجہ شہر کے قہوہ خانہ میں پہنچتا ہے۔ یہاں کا اجنبی ماحول دیکھ کر وہ فکرمند ہوجاتا ہے کہ اسے ایک ہم زبان اجنبی ملتا ہے۔ لڑکا اس سے اہرام مصر پہنچنے کے لیے مدد مانگتا ہے۔ وہ اجنبی بتاتا ہے کہ اس کے لیے کافی رقم درکار ہوگی۔ لڑکا اجنبی شخص پر بھروسہ کرکے اُسے رقم کی پوٹلی دے دیتا ہے۔ اجنبی اُسے اپنے ساتھ بازار لے آتا ہے اور بازار کی گہما گہمی میں نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ رقم کھونے پر لڑکا خود کو بے یار و مددگار محسوس کرنے لگا، پھر وہ خود کو مایوسی سے باہر نکال کر مصمم ارادہ کرتا ہے کہ وہ پچھتاوے کی بجائے خزانہ کی تلاش میں مہم جو بنے گا۔ وہ سوچتے سوچتے بازار میں سوجاتا ہے اور صبح کوئی اُسے اُٹھاتا ہے۔ وہ بازار میں اِدھر اُدھر گھومتا ہے اور ایک حلوائی کی دکان لگانے میں مدد کرتا ہے ، حلوائی خوش ہوکر اسے مٹھائی دیتا ہے۔ لڑکا مٹھائی لے کر وہاں سے چلاجاتا ہے۔ اسی شہر میں ایک شیشہ کی دکان کا سوداگر پریشانی میں مبتلا تھا، تیس برسوں سے قائم اس کی ظروف کی دکان جو کبھی سیاحوں کی توجہ کامرکزتھی، اب بے رونق ہوتی جارہی تھی۔ سارا دن وہ گاہک کے انتظار میں گزاردیتا۔ اچانک دوپہر کو وہ اس دکان میں آیا اور بولا کہ وہ دکان کیے شیشے اور ظروف کی صفائی کرنا چاہتاہے، بدلے میں اسے کھانا چاہیے۔ لڑکے نے صفائی مکمل کی تو شیشے کا سوداگر اسے کھانا کھلانے قریبی ہوٹل لے گیا جہاں لڑکے نے اسے بتایا کہ اسے مصر کے اہرام جانا ہے جس کے لیے وہ اس کی دکان پر صفائی کا سارا کام کرنے کو تیار ہے۔ لڑکے کی بات سن کر سوداگر بتاتا ہے کہ سال بھر کام کرنے سے بھی اتنی رقم جمع نہ ہوگی۔ لڑکے کے مایوس ہوجاتا ہے۔ تاجر واپس ملک لوٹنے کے لیے مدد کا کہتا ہے مگر لڑکا کہتا ہے کہ وہ دکان میں کام کرکے اتنی رقم کمائے گا جس سے بھیڑیں خرید سکے۔…. اب آگے پڑھیں ………… 

….(گزشتہ سے پوستہ)

 

 


لڑکے کو شیشے کے ظروف کی اس دکان پر کام کرتے ہوئے کوئی ایک مہینہ سے زائد عرصہ بیت گیا۔ کام تو وہ کر رہا تھا لیکن اس میں لگن نہ تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ کام اس کی طبعیت کے مطابق نہیں اسی لیے اِس کام میں اُس کا دِل نہیں لگ پارہا تھا ۔
شیشے کاسوداگر دکان کے کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھا اکثر لڑکے کو ٹوکتا رہتا تھا۔
‘‘احتیاط سے کام کرو …. سنبھال کے…. دیکھو! کہیں کوئی چیز ٹوٹ نہ جائے۔’’
سوداگر کی اتنی سرزنش، روک ٹوک کے باوجود لڑکا اس کام میں مستعدی سے لگا رہا۔ شیشے کا سوداگر ویسے بہت شریف آدمی تھا، وہ دوسرے معاملات میں نا صرف اُس کا اچھا خیال رکھتا ہے بلکہ وہ اُجرت کے ساتھ ساتھ سامان فروخت کرنے پر کمیشن بھی معقول دیتا تھا اور لڑکا بھی کچھ نہ کچھ جوڑ توڑ ہی لیتا تھا۔ اُس روز جب وہ اپنی جمع شدہ رقم گن رہا تھا تو اُس نے تخمینہ لگایا کہ اگر اسی طرح رقم جمع ہوتی رہی تو بھیڑیں خریدنے کے لیے اُسے کم از کم سال بھر کام کرنا پڑے گا۔ اگر اسے زیادہ رقم پانا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ گاہک اس دکان میں آئیں۔
‘‘کیوں نہ ہم کچھ ایسا انتظام کریں کہ پہاڑی کے نیچے سے گزرنے والے لوگ بھی وہیں ہمارے ظروف دیکھ لیا کریں۔ میں گاہکوں کی توجہ مبذول کرنے کے لیے نیچے سڑک پر ایک چھوٹا سا شوکیس بنا کر لگاسکتا ہوں۔ ’’ لڑکے نے شیشے کے سوداگر کو مشورہ دیتے ہوئے کہا۔


سوداگر سوچتے ہوئے بولا ‘‘میں نے پہلے تو کبھی ایسا کچھ کیا نہیں ہے۔ اس میں حرج نہیں لیکن …. سڑک پر لوگ گزریں گے، اور اس شوکیس سے ٹکرائیں گے تو شیشے کے ظروف ٹوٹ سکتے ہیں۔’’ سوداگر نے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا۔
‘‘یہ امکان تو بہرحال رہتا ہی ہے…. میں جب بھیڑیں پالتا تھا تو جب کسی کھیت یا جھاڑیوں سے گزرتا تھا تو یہ ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں کوئی بھیڑ کھو نہ جائے یا کسی کو بھیڑیا اُٹھا نہ لےجائے یا سانپ کے کاٹنے سے مر نہ جائے۔ بھیڑ اور چراوہا کی زندگی اِن امکانات اور خدشات سے خالی تو ہو ہی نہیں سکتی، زندگی شاید خطروں سے عبارت ہے۔’’
اتنے میں کچھ گاہک شاید ظروف خریدنے کے لئے دکان میں داخل ہوئے تو سوداگر گفتگو کو وہیں روکتے ہوئے گاہکوں کی جانب متوجہ ہوگیا۔ گاہکوں نے تین ظروف خرید ے۔ دکان اچھی چلنے لگی۔ شاید وہ دِن پھر واپس آرہے تھے جب یہ دکان طنجہ کی مشہور دکان ہوا کرتی تھی۔
‘‘کاروبار میں واقعی بہتری آئی ہے، خاصا بڑھ گیا ہے۔‘‘ گاہک چلے گئے تو سوداگر لڑکے سے بولا، ‘‘اب تو کام بہت اچھا چل رہا ہے اور تمہیں جلد ہی اتنی رقم تو مل ہی جائے گی کہ تم کچھ بھیڑیں خرید سکوگے، تو پھر کام کو اور زیادہ بڑھاکر زندگی سے زیادہ کی تمنا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟’’
‘‘لیکن ہمیں شگون کے غیبی اشاروں کو بھی تو دیکھنا چاہیے۔’’ لڑکا اچانک بول اُٹھا۔
بغیر سوچے سمجھے لڑکے کے منہ سے یہ بات نکل گئی تھی اور اُسے افسوس ہوا کہ اُس کی زبان سے ایسا کیوں نکلا۔ ظاہر ہے کہ شگون اور غیبی اشاروں کا علم شیشے کے سوداگر کو کیسے ہوگا۔ اس بوڑھے بادشاہ کی باتوں کے بار ےمیں اس تاجر کو کیسے معلوم ہوگا۔
‘‘یہ موافقت کا اصول principle of favorability ہے، اسے عموماً ابتدائی قسمت Beginner’s luck بھی کہتے ہیں۔ دراصل کائنات میں ایک ایسی پراسرار قوت پائی جاتی ہے، جو ہمارے خواہشوں اور خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے اور قسمت اور مقدّر کی منزل تک پہچانے میں ہماری معاونت کرتی ہے ۔ اسی لیے وہ ابتداء میں چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کا مزہ چکھا کر ہماری جستجو، شوق اور دلچسپی کو مزید بڑھاتی ہے۔’’ لڑکے بوڑھے بادشاہ کی باتیں یاد آرہی تھیں۔ لیکن دکاندار کے لئے بھی یہ باتیں اجنبی نہ تھیں، وہ لڑکے کی بات سمجھ سکتا تھا ۔ لڑکے کو دکان پر رکھنا اُس کے لئے بذاتِ خود فالِ نیک ثابت ہورہا تھا۔ اُس نے خود ہی محسوس کیا تھا کہ لڑکے کے آنے کے بعد سے ہی اُس کے کاروبار میں ترقی ہو رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی تجوری سکّوں سے بھرنے لگی ہے اور وہ اُس لڑکے کوبھی اس کے حق سے زیادہ رقم دیتا تھا۔ کیونکہ وہ سوچتا تھا کہ جتنی زیادہ چیزیں فروخت ہوں گی اُتنی ہی آمدنی زیادہ ہو گی۔ چنانچہ وہ لڑکے کو کچھ زیادہ ہی کمیشن دیا کرتا تھا۔ ویسے بھی اُسے معلوم تھا کہ لڑکا آخرکار بھیڑیں خرید کر واپس اپنے پرانے پیشہ پر لوٹ جائے گا۔
‘‘اچھا یہ بتاؤ کہ تم اہرامِ مصر کیوں جانا چاہتے ہو۔’’ شیشے کے تاجر نے لڑکے کی توجہ اُس کے شوکیس والے مشورے سے ہٹانے کی کوشش کی۔
‘‘کیونکہ میں نے ہمیشہ سے ہی اس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا ہے ….اب میں انہیں دیکھناچاہتا ہوں’’….
لڑکے نے خواب کے بارے میں کچھ ذکر نہ کیا۔ ویسے بھی خزانہ کی جستجو اُس کے لئے اب ایک تلخ یاد اور ادھوری کہانی بن کر رہ گئی تھی اور اب وہ اس کے بارے سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔
لڑکے کی یہ بات سن کر تاجر نے کہا ‘‘میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی عقلمند شخص ایسا ہوگا جو محض اہرام دیکھنے کی خاطر انتہائی خطرناک ریگستان عبور کرنے کی ہمّت کر سکے….’’ تاجر بولا۔
‘‘اور ویسے بھی یہ اہرام آخر ہیں بھی کیا….؟ محض چند پتھروں کے ڈھیر، جنہیں بس قطار در قطار لگا دیا گیا ہے، انہیں تو تم بھی اپنے گھر کے آنگن میں بنا سکتے ہو۔’’
‘‘شاید آپ نے کبھی کہیں سفر کرنے کا خواب نہیں دیکھا….’’ لڑکا اتنا کہہ کر اُس گاہک کی طرف پلٹ گیا جو ابھی ابھی دکان میں داخل ہی ہوا تھا، اور تاجر کسی سوچ میں غرق ہوگیا۔

***


پورے دو روز گزرنے کے بعد آخر کار شیشے کے تاجر نے شوکیس کےمتعلق لڑکے کی بات مانتے ہوئے حامی بھرلی اور اس سے کہا :
‘‘دیکھو!…. دراصل تبدیلیاں مجھے زیادہ پسند نہیں ہیں…. اور ویسے بھی میں اور تم اُس سامنے والے تاجر حَسَن کی طرح اتنے مالدار اور اچھی بڑی دُکان رکھنے والے تو ہیں ہی نہیں کہ اگر وہ کوئی چیز غلط بھی خرید لے یا اُسے تھوڑا بہت نقصان بھی ہوجائے تو اُس پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑتا، لیکن ایسی غلطی اگر ہم کر بیٹھیں تو اُس کا خمیازہ ہمیں پوری زندگی بھگتنا پڑسکتا ہے۔’’
‘‘ہاں یہ بات تو آپ کی بالکل درست ہے۔’’ لڑکے نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
‘‘تو پھر تم نے نیچے وہ نمائشی شوکیس لگانے کی بات کیوں کہی تھی؟’’
‘‘تاکہ کاروبار میں اضافہ ہو، منافع بڑھے اور میں جلد از جلد بھیڑیں خریدنے کے لائق ہو سکوں۔ جب تقدیر ساتھ دے رہی ہو تو ہمیں موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا چاہیے اور جس قدر بھی مدد مِل سکتی ہو، لینی چاہیے، شاید اِس کو اصولِ موافقت یا ابتدائی قسمت (حظ المبتدئ) کہتے ہیں۔’’
دکاندار چند لمحے کے لئے خاموش ہو گیا اور پھر کچھ سوچ کر بولا:
‘‘اللہ کے رسولﷺ نے ہمیں قرآن عطا کیاہے اور ساتھ ہی پانچ فرائض سونپے ہیں، اپنی زندگی میں جن کی ادائیگی کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔
سب سے اہم تو یہ ہے کہ واحد اور سچے خدا پر ایمان لانا۔ دوسرا روزانہ پانچ وقت صلوّۃ قائم کرنا، تیسرا ماہِ رمضان میں روزہ رکھنا اور چوتھا زکوٰۃ سے غریبوں کی مدد کرنا ۔’’
یہاں پہنچ کر وہ خاموش ہو گیا جیسے مزید بولنے کی اُس میں سکت نہ رہی ہو۔ اس کی آواز رندھ گئی اور آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اللہ کے رسول کا نام لیتے ہی اُس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔
شیشے کا تاجر ایک دین دار شخص تھا اور اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اسلامی تعلیمات کو بہت اہمیت دیتا تھا۔
‘‘آپ نے پانچواں فریضہ نہیں بتایا….’’ لڑکے نے اُسے یاد دلایا۔
دو دن پہلے ہی تو تم نے مجھ سے کہا تھا کہ ‘‘شاید ، میں نے کبھی کہیں سفر کرنے کا خواب نہیں دیکھا….تو سنو!….’’
‘‘پانچواں فریضہ ، فریضہ حج ہے یعنی مکّہ معظّمہ کے مقدس شہر کا سفر،جو ہرمسلمان پر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ فرض ہے۔’’
‘‘اور تمہارے اہرامِ مصر کے مقابلے میں مکّہ شہر تو یہاں سے کئی گنا زیادہ دور ہے۔ جوانی کے دنوں میں میری سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ بس اِتنی رقم جمع ہو جائے کہ یہ دکان کھول سکوں۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ آہستہ آہستہ اتنی رقم اکھٹی کر لوں گا کہ کسی وقت یہ مقدس فریضہ ادا کر سکوں۔ رقم تو اکھٹا ہوئی لیکن کوئی ایسا شخص نہ مل سکا جو میری غیر موجودگی میں اِس دکان کی نگرانی کر سکے۔ ہر کسی کی نگرانی میں دکان دینا ممکن بھی نہیں۔ بلّوری اشیاء بڑی نازک اور قیمتی ہوتی ہیں۔
یہاں میری دکان کے سامنے سے گزرنے والوں میں اکثر اوقات زائرینِ مکّہ ہوتے بھی ہیں۔ کوئی تنہا جارہا ہوتا ہے تو کوئی کسی کاروان و قافلے کے ساتھ …. بعضوں کے ساتھ غلام بھی ہوتے اور اونٹ بھی۔ اُن میں کچھ لوگ مالدار ہوتے اور زیادہ تر مجھ سے بھی زیادہ غریب …. لیکن ایک بات ہے کہ جو بھی وہاں جاکر واپس آتا تو اُس کے اندر خوشی اور اطمینان کی کوئی انتہا نہ ہوتی۔ حج بیت اللہ کی سعادت جس شخص کو نصیب ہو جاتی اس کی خوشی دیدنی ہوتی۔ جو کوئی حج سے واپس آتا تو اپنی خوشی کو دوسروں پر ظاہر کرنے کے لیے اپنے گھر کے دروازہ پر کعبۃ اللہ کی تصاویر یا ‘‘الحاج ’’ لکھ کرلگاتا اور ایک خاص نشان آویزاں کر دیتا تھا۔
مجھے وہ غریب چمڑا ساز موچی اچھی طرح یاد ہے ، جو سڑک کنارے زمین پر بیٹھ کر جوتوں کی مرمت کر کے اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتا تھا۔ وہ حج کو گیا تو ریگستان کو عبور کرنے میں اُسے پورا سال لگ گیا لیکن جب وہ مکہ سے واپس آیا تو اُس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ایسا لگتا ہی نہیں تھا کہ اس نے پورا سال ریگستان کے مشقت آمیز سفر میں گزارا ہے…. اُلٹا وہ خود یہ کہتا تھا کہ مہینوں صحرا کے سفر کے دوران اُسے محض اتنی تھکن بھی نہ ہوئی تھی ، جتنی اسے طنجہ کی گلیوں میں چمڑا خریدنے کی غرض سے چل کر جانے میں ہوتی تھی۔ ’’
شیشے کا سوداگر بڑے جذبے کے ساتھ یہ سب کچھ بیان کر رہا تھا۔ اُس کے چہرے سے ایک روحانی خوشی کی کیفیت عیاں تھی جیسے وہ خود کو ان سعادت افروز لمحات میں محسوس کررہا ہو۔’’
‘‘تو پھر آپ اَب مکّہ کیوں نہیں جاتے؟….’’ لڑکے کے انداز میں استعجاب پنہاں تھا۔
‘‘اصل میں یہ مکّہ جانے کا تصوّر اور خیال ہی ہے جو مجھے زندہ رہنے کا حوصلہ دئیے ہوئے ہے۔ مقدس سفر کی یہ خواہش ہی میری زندگی کو حرارت بخشتی ہے۔ اِس کی اُمید ہی مجھے اپنے روز مرّہ کے مسائل سے نبردآزما ہونے کی قوّت عطا کرتی ہے۔
ورنہ اس ساحلی شہر کے وہی ایک جیسے بے کیف دن ورات، روز الماریوں میں بھرے ان خاموش بلّوری ظروف کے ساتھ دن گزارنا اور اس عجیب بے ڈھنگے ہوٹل میں ایک ہی جیسا کھانا پینا۔ بھلا یکسانیت سے بھری یہ زندگی کوئی کب تک جھیل سکتا ہے…. مقصد کے حصول کی تمنّا ہی میری اِس بے کیف اور یکسانیت بھری زندگی کو کسی قدر لطف میں بدلتی رہتی ہے۔
جب میں اس لمحے کے متعلق سوچتا ہوں جب میرے میرے تمام خواب پورے ہو جائیں گے تو یہ خیال آتا ہےکہ اگر میں نے اپنے خواب پورےکرلیے تو واپسی کے بعد پھر میری زندگی کا جواز ہی کیا رہ جائے گا۔ کس اُمید اور خواہش کے بل بوتے پر میں اُس زندگی کی مشقّتوں کو برداشت کروں گا؟، پھر میرے زندہ رہنے کی کوئی وجہنہیںہوگی۔’’
‘‘تم بھی بھیڑوں اور اہرام کے خواب دیکھتے ہو لیکن مجھ میں اور تم میں ایک بڑا فرق ہے۔ تم اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے کوشش کررہے ہو لیکن میں…. میں تو بس مکّہ جانے کا خواب ہی دیکھتا ہوں۔ تمہیں پتہ ہے…. میں تو ہزاروں بار چشمِ تصوّر میں اس ریگستان سے گزرا ہوں ، خدا کے گھر کے سامنےخود کو موجود پاکر، ہجرِ اسود تک پہنچنے، اُسے چھونے اور چومنے کی کیفیت اور کعبہ کے سات مرتبہ طواف کرنے کے سعادت افروز لمحات کو محسوس کیا ہے۔
میں تو یہ بھی تصوّر میں لاچکا ہوں کہ جب میں کعبہ کے قریب پہنچوں گا تو میرے اردگرد کون کون لوگ ہوں گے، اور میراسامنا کن لوگوں سے ہوگا، اُن سے کیا باتیں ہوں گی اور اُن کے ساتھ مل کر میں کون سی عبادتیں کروں گا، لیکن …. میں بس تصورات کی دنیا میں ہی اپنے خوابوں کو پورا ہوتے دیکھتا ہوں۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ انسان کا سارے خواب پورے ہوں اور ویسے بھی سب خواب پورے ہونے بھی نہیں چاہئیں ورنہ زندگی میں ایک عجیب سا خالی پن در آتا ہے۔ پھر انسان کی پوری زندگی اس کی شخصیت ، ادھورے پن کی اس کیفیت اور احساس میں دب کر رہ جاتی ہے۔ ظاہر ہے یہ کیفیت ایک حد سے زیادہ بڑھ جائے تو انسان کی نفسیاتی اور جسمانی حالت برباد ہونےلگتیہے۔
اُس روز شیشے کے سوداگر نے لڑکے کو پہاڑی کے نیچے راستے پر شیشہ کا ایک ایسا شوکیس لگانے کی اجازت دے دی، جس کی بدولت وہاں سے گزرنے والے ہر مسافر کی توجہ اُس بلوری ظروف کی دُکان کی جانب جاسکے۔

 

***


اس طرح دو ماہ گزر گئے۔
شوکیس لگانے سے دکان میں یکایک گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ شیشے کا سوداگر اب پہلے سے زیادہ مطمئن تھا اور لڑکا بھی بہت خوش تھا ۔ لڑکے نے تخمینہ لگا یا کہ اگر کاروبار اِسی رفتار چلتا رہا تو نہ صرف یہ کہ بس چھ مہینوں میں وہ اندلوسیا واپس جانے کے قابل ہو جائے گا بلکہ پہلے سے دوگنی بھیڑیں خرید سکے گا۔ یعنی اِس طرح ایک سال سے بھی کم عرصہ میں اُس کا ریوڑ دُگنا ہو جائے گا۔ یہ تجارت تو اس کے لیے کامیاب اور منافع بخش رہی اور واپس جا کر بھی اُس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
عربوں سے تجارتی تعلقات بڑھانے کے لئے جتنی عربی زبان کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اتنی تو وہ اُسے اب سیکھ ہی چکا تھا۔ اب اُسے اُن سیاہ و سفید پتھر یوریم اور تھوریم کو استعمال کرنے کا خیال بھی نہیں رہا تھا، جو شالیم کے بوڑھے بادشاہ نے اُسے دئیے تھے۔ کیونکہ اہرام مصر کا سفر اُس کے لئے اب ناآسودہ خواہشات کا ایک ادھورا خواب ہیبنگیا تھا….
بہر حال لڑکا اب اپنے کام سے خوش تھا اور ہر گھڑی یہ سوچتا رہتاتھا کہ وہ دِن جلد آئے جب وہ وطن واپس جا کر طریفہ شہر میں ایک کامیاب اور فاتح شخص کی حیثیت سے داخل ہوگا۔
‘‘تمہیں یہ بات ہر لمحہ معلوم ہونی چاہیے کہ تمہیں زندگی میں کیا حاصل کرنا ہے ۔’’ لڑکے کو شالیم کے بوڑھے بادشاہ کی بات یاد آئی۔ لڑکے کو یہ سبق ازبر تھا اور وہ ہر لمحہ اُس کے حصول کے لئے کوشاں تھا۔ اُس نے سوچا کہ یوں بھی ایک اجنبی شہر میں آنا، ایک چور کے ہاتھوں پورا مال اسباب لٹا دینا اور پھر بغیر کوئی پیسہ خرچ کئے محنت کر کے اتنا کما لینا کہ دوگنی بھیڑیں خرید ی جا سکیں۔ یہ سب بھی تو شاید کوئی خزانہ پانے سےکم نہیں تھا۔
اُسے اپنے اوپر فخر سا ہونے لگا تھا۔ اِس اجنبی سرزمین پر آکر اس نے بہت سی نئی نئی باتیں سیکھ لی تھیں۔ مثلاً شیشوں کے ظروف کی تجارت کیسے کی جاتی ہے۔ لفظوں کے بغیر بھی زبان ہوتی ہے اور شگون اور غیبی اشارے کیسے سمجھے جاتے ہیں۔ یہ سب معلومات اُس کے لیے نئی تھیں، اندلوسیا میں رہ کر وہ شاید ان کے متعلق کبھی نہ جان پاتا۔
ایک دن جب وہ اپنی دکان کے قریب ہی کھڑا تھا تو اُس نے ایک گاہک کو کہتے سنا کہ ‘‘یہاں اس اونچی پہاڑی پر کوئی ایسی جگہ بھی نہیں جہاں بیٹھ کر کوئی مشروب یا قہوہ پی سکیں تاکہ اپنی تھکن دور کی جاسکے۔
لڑکا غیبی اشاروں اور امکانات کو سمجھنے میں اب مہارت حاصل کرتا جا رہا تھا۔ ایک خیال اچانک اُس کے ذہن میں آیا اور اُس نے دکان کے مالک سے بات کرنے کی ٹھان لی۔
‘‘کیا ہم یہاں قہوہ کی دُکان کھولسکتےہیں….’’
‘‘قہوہ!….’’ سوداگر لڑکے کی اس عجیب فرمائش پر حیران ہوا۔
‘‘ہاں، جو لوگ پہاڑی کے اوپر چڑھ کر آتے ہیں وہ تھک جاتے ہوں گے۔ اگر ہم کچھ ایسا انتظام کردیں کہ انہیں یہاں قہوہ بھی مل جایا کرے ، توکیسا رہے؟’’
‘‘ نیچے بازار میں قہوہ پلانے والوں کی تو بہت سی دکانیں ہیں۔ کوئی یہاں اوپر آکر قہوہ کیوں پئیے گا’’ شیشے کا سوداگر بولا۔
‘‘ہاں، لیکن اگر ہم یہ قہوہ اُنہیں خوبصورت بلوری ظروف میں دیں گے تو یہ تجربہ بالکل نیا ہو گا اور اِس طرح نہ صرف یہ کہ قہوہ فروخت ہوگی بلکہ خوبصورت ظروف میں قہوہ سے لطف اندوز ہونے والے گاہکوں کے دِل انہیں خریدنے کے لیے بھی مائل ہوں گے۔ میں نے لوگوں سے کہتے سنا ہے کہ ‘‘خوبصورتی انسان کو بہت جلد اپنی طرف راغب کرتی ہے۔’’
اُس وقت تو دکاندار خاموش ہی رہا لیکن شام کو صلوٰۃ سے فراغت اور دکان بند کرنے کے بعد اُس نے لڑکے کو اپنے پاس بلایا اور ساتھ حقہ پینے کی دعوت دی۔

 

***


حقے کو عرب میں نارجیلہ اور شیشہ کہا جاتا ہے۔ اس میں صراحی دار چلم ہوتا ہے، اس میں تمباکو ، جڑی بوٹیاں اور دیگر غذائی ذائقے ڈالتے ہیں۔ ربڑ کا ایک پائپ ہوتا ہے، جسے نَے کہتے ہیں۔ اس کے ذریعے لوگ حقہ کا دھواں لیتے ہیں۔ حقہ کی لمبی پائپ نما نَے لڑکے کو شروع سے ہی عجیب سی لگتی تھی۔ اندلوسیا میں اس نے ایسی چیز کبھی نہیں دیکھی تھی۔
حقہ نوشی کا عمل صدیوں سے عرب ممالک میں جاری ہے، کسی زمانے میں قافلوں میں آنے والے دور دراز کے لوگ رات کو ایک چوپال بناکر حقے کے ارد گرد بیٹھ کر نہ صرف ایک دوسرے کو اپنے اپنے علاقوں کی کہانیاں اور داستانیں سنایا کرتے ، بلکہ باری باری ایک دوسرے کی طرف حقے کی نَے بڑھاکر حقے نوشی بھی کرتےتھے۔
عرب ممالک میں حقہ شاپس ہیں، سرائیوں اور ہوٹلوں میں بھی حقہ موجود رہتا ہے جہاں لوگ آکر سیاسی اور دیگر موضوعات پر بحث کرتے ہیں۔ اسی طرح حقہ عرب کے ہر حجرے میں لازمی ہوا کرتا ہے، عرب لوگ اکثر رات کو اپنی تھکاوٹ مٹانے کے لیے حقہ اورقہوہ نوش کرتےہیں۔
شیشے کے سوداگر نے حقہ رکھتے ہوئے لڑکے کی جانب دیکھا اور پوچھا ‘‘تم اب بتاؤ!…. تم ایسا کیوں چاہتے ہو…. تمہارے پیشِ نظر کیا ہے؟’’
‘‘میں تو پہلے ہی آپ کو اپنا مقصد بتا چکا ہوں۔ مجھے اپنی بھیڑیں واپس خریدنی ہیں اور اِس کے لیے مجھے اچھی خاصی رقم درکار ہے۔’’
دکاندار نے چِلم میں کچھ کوئلے ڈالے اور حقہ کا ایک گہرا کش لیتے ہوئے بولا۔
‘‘یہ دکان میرے پاس تیس سال سے ہے۔ میں اچھے اور برے شیشوں اور بلور کی خوب پہچان رکھتا ہوں۔ اِس شیشے کے کاروبار میں جو کچھ بھی ہوتا ہے میں اُس سے خوب واقف ہوں۔ اِس میں کہاں اور کس طرح اُتار چڑھاؤ آسکتے ہیں ، میں اس کاروبار کے ہر پہلو کو جانتا ہوں…. اگر ہم بلوری ظروف میں قہوہ دینا شروع کر دیں گے تو تم جانتے ہو کہ ہمیں اپنی دکان بڑھانا پڑے گی اور اس طرح ہمیں اپنے روزمرّہ کے معمولات ، طرز زندگی اور طور طریقے بھی بدلنا پڑیں گے۔’’
‘‘یہ تو ہمارے حق میں بہتر ہی ہو گا…. ہےناں….’’ لڑکا بولا۔
‘‘دیکھو!…. تم نہیں جانتے کہ میں تیس سال ایک ہی جیسے معمولات گزارنے کا عادی ہوچکا ہوں۔ تمہارے آنے سے پہلے میں یہ سوچا کرتا تھا کہ ایک جگہ پڑے پڑے میں نے خاصا وقت برباد کر دیا ہے۔ یہ سوچ کر میں اداس ہو اُٹھتا تھا کہ میرے بہت سے دوست، عزیز، میرے ساتھ کام کرنے والے، آج کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ کچھ لوگ تو بالکل قلاش ہو گئے اور کچھ لوگوں نے خوب دولت جمع کرلی ہے۔
لیکن اب ہر چیز بدل گئی ہے، دیکھا جائےتو میرا حال کچھ بُرا تو نہیں ہے۔ دکان خوب چل رہی ہے۔ جیسی دکان میں چاہتا تھا ویسی ہی ہو گئی ہے۔ اب میں اس میں کوئی مزید تبدیلی نہیں چاہتا۔ اِس کی اصل وجہ یہ ہے کہ نئی نئی تبدیلیوں کے ساتھ بہت سے نئے مسائل بھی جنم لیتے ہیں ۔ اُن نئی تبدیلیوں اور نئے مسائل سے نپٹنا میرے لیے مشکل ہے۔ اپنے معمولات کا میں خاصا عادی ہو چکا ہوں ۔ جیسا چل رہا ہے چلنے دو….’’
لڑکے کے پاس اس کی بات کا کچھ جواب نہ تھا، اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے۔ سوداگر نے گفتگو جاری رکھی اور کہا۔
‘‘تمہارا آنا میرے لیے واقعی بڑا بابرکت ثابت ہوا ہے۔ بہت سی نئی باتیں میں نے سیکھی ہیں جنہیں میں پہلے بالکل نہ جانتا تھا لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ کسی بھی نعمت سے صرفِ نظر یا ناشکری کرنا ایک عذاب بن جاتاہے اور اُس ناشکری کا مرتکب ہونے سے مجھے بڑا خوف آتا ہے۔
مجھے زندگی سے مزید اور کچھ نہیں چاہیے، لیکن تم مجھے بڑی دولت اور ایسے امکانات کی طرف کھینچ رہے ہو جن کا تصوّر میں نے اِس سے قبل نہیں کیا تھا ، تم میرے اندر ان نئی خواہشات کو بیدار کرنے اور نئی امیدیں جگانےکے لیے بضد ہو ، ہاں میں اِن نعمتوں کو آتے اور اِن امکانات کو حقیقت میں بدلتے دیکھ رہا ہوں، میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے کاروبار میں کتنی وسعت ہوسکتی تھی جو میں نہیں کرسکا۔ اب مجھے معلوم ہے کہ میں کیا کیا کرسکتا ہوں لیکن اگرمیں یہ نہیں کرسکا تو تمہارے آنے سے پہلے جو میری ذہنی کیفیت تھی یہ اُس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہو گی۔ میں اس سے زیادہ مایوسی میں چلاجاؤں گا۔ کسی نعمت کو نہ جاننا تو عذاب ہے ہی لیکن جان لینا اور پھر ناشکری کر بیٹھنا تو اس سے بڑا عذاب ہے۔’’
یہ سُن کر لڑکے کو طریفہ کا واقعہ یاد آ گیا۔ اُس نے سوچا کہ اس نے اچھا کیا کہ طریفہ کے اس نان بائی سے بات نہیں کی اور خوابوں کے بارے میں ذکر نہیں کیا ورنہ اسے بھی ناآسودہ خواہشات کی اتنی ہی تکلیف اور مایوسی ہوتی۔
دونوں دیر تک بیٹھے حقہ کے کشوں سے محظوظ ہوتے رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ دونوں کی یہ گفتگو عربی زبان میں ہو رہی تھی۔ لڑکے کو خوشی تھی کہ وہ اب عربی زبان میں بات چیت کر سکتا ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب اُس کی کُل کائنات بھیڑیں ہی تھیں اور وہ سوچتا تھا کہ اُن بھیڑوں کی صحبت میں رہ کر ہر طرح کی معلومات سیکھ سکتا ہے لیکن اب اندازہ ہوا کہ دنیا بہت وسیع ہے۔ بھیڑوں کے ساتھ اس طرح رہ کر وہ عربی زبان کبھی نہ سیکھ پاتا۔
بوڑھے سوداگر کے لئے اُس کا دل احترام کے جذبات سے لبریز ہو گیا، اور بھی نجانے کتنی ایسی باتیں ہوں گی جو بھیڑوں کے ساتھ رہتے ہوئے وہ نہیں سیکھ سکتا تھا۔ اُن کی دنیا تو پانی اور چارہ تک محدود تھی۔ دوسرے یہ کہ وہ مجھے نہیں سکھا رہی تھیں بلکہ میں خود اُن سے سیکھ رہا تھا۔’’ لڑکاسوچتارہا۔
‘‘مکتوبـ ’’…. شیشے کے سوداگر نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
عربی کا یہ لفظ لڑکے کے لیے اجنبی تھا ۔ اس نے سوداگر سے پوچھا ‘‘اِس کا کیا مطلب ہے؟’’
‘‘اِس کا مطلب سمجھنے کے لئے تمہیں عرب میں پیدا ہونا چاہیے تھا۔’’ بوڑھا سوداگر مسکرایا پھر بولا۔ ‘‘تمہاری زبان میں اِس کا مطلب ہے کہ
‘‘یہ لکھا جا چکا….’’
حقہ میں پڑے ہوئے کوئلوں کو کریدتے ہوئے سوداگر نے لڑکے سے کہا کہ ‘‘اگر تقدیر میں یہی لکھا جاچکا ہے، تو پھر ٹھیک ہے تم اپنی تجویز کے مطابق بلوری ظروف میں قہوہ بیچنا شروع کر سکتے ہو…. ’’ویسے بھی بہتے دریا کے پانی کو روکنا کبھی کبھار نا ممکن ہوتا ہے۔

***


کچھ آدمی جب پہاڑی کی چوٹی پر پہنچے تو اوپر چڑھتے چڑھتے تھکن سے چور ہو چکے تھے۔ اچانک اُن کی نظر قہوہ کی ایک دکان پر پڑی جہاں شیشے کے خوبصورت بلوری ظروف میں تازہ قہوہ مل رہی تھی۔ ان میں ایک آدمی بولا
‘‘حیرت ہے،قہوہ پینے کا یہ انداز بھی ہو سکتا ہے…. ایسا خیال میری بیوی کو کیوں نہیں آیا’’، اُس نے نا صرف یہ کہ اس دکان میں قہوہ پی بلکہ اپنے گھر میں مہمانوں کی تواضع کے لئے یہ بلوری ظروف بھی خرید لئے۔ یقیناً اِن ظروف کی خوبصورتی ان مہمانوں کومسرورکرے گی۔ دوسرے شخص کا کہنا تھا کہ ‘‘بلّوری ظروف میں قہوہ پینے کا مزہ ہی کچھ اور ہے کیونکہ یہ ظروف قہوہ کی مہک کو زیادہ دیر تک برقرار رکھتے ہیں ہے ’’۔ تیسرے نے کہا کہ ‘‘میں نے تو یہ سنا ہےکہ مشرق کے لوگوں خصوصاً چینیوں کی روایت ہے کہ وہ شیشے کے خوبصورت ظروف میں قہوہ پیتے ہیں ، کیونکہ اس طرح قہوہ کے اندر کچھ خاص طلسمی خصوصیات پیدا ہوجاتی ہیں۔’’
بہت جلد یہ خبر پورے علاقے میں پھیل گئی کہ پہاڑی کے اوپر ایک نئے انداز کی دکان کھلی ہے۔ بہت سے لوگ اُسے دیکھنے اور چائے پینے پہاڑی پر آنے لگے۔ دیکھا دیکھی اور دکانیں بھی کھل گئیں جو بلوری ظروف میں ہی قہوہ دیتی تھیں لیکن وہ کیونکہ پہاڑی کے اوپر نہ تھیں، اس لیے اُس دکان کا مقابلہ نہ کر سکیں۔
کام خوب پھیل گیا۔ بڑھتے ہوئے کاروبار کو سنبھالنے کے لئے مزید دو آدمی رکھنا پڑے۔ اب سوداگر شیشے ظروف کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں قہوہ بھی برامد کرتا تھا اور اب عالم یہ تھا کہ کسی کو کوئی نئی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ پہاڑی والی دکان سے ہی رجوع کرتے۔
عورتیں ہوں یا مرد دکان پر بھیڑ رہنے لگیتھی۔
اِس طرح اور کچھ مہینے گزر گئے۔

(جاری ہے)
***

تحریر : پاؤلو کویلہو ; ترجمہ: ابن وصی
(جاری ہے)

 
اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

تلاش (کیمیاگر) قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں پہلی قسط اندلس ، براعظم یورپ کے جنوب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن