کشورِ ظلمات ۔ قسط 8

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….

 

’’اندھیرا بھی روشنی ہے‘‘….
یہ حضرت قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے….
جس چیز کو ہم اندھیرا کہتے ہیں اُس میں بھی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا میں بھی زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ حرکت میں ہے…. ہم نے چونکہ اندھیرے کو خوف کی
علامت بنا دیا ہے، اس لئے اندھیرے میں روشن یہ دنیا ہم پر منکشف نہیں ہوتی…. لیکن ایسے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں جب کشورِ ظلمات کے مظاہر کے ادراک
کا احساس ہونے لگتا ہے…. سائنسی علوم کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں زندگی بیِشمار پیکر میں جلوہ گر ہوسکتی ہے…. سائنسی تحقیق کے مطابق
ایک زندگی وہ ہے جو ’’پروٹین اِن واٹر‘‘ کے فارمولے سے وجود میں آئی ہے۔ ہم انسان جو پروٹین اور پانی سے مرکب ہیں اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل
کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی مخلوق ’’پروٹین اِن ایمونیا‘‘ کے فارمولے پر تخلیق ہوئی ہو تو اُسے ایسی غذا کی ضرورت ہرگز نہ ہوگی جو انسان استعمال کرتے ہیں…. ممکن ہے وہ فضا
سے انرجی جذب کرکے اپنی زندگی برقرار رکھتی ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کے جسم میں نظام ہضم کے آلات مثلاً معدہ، جگر، گردے، آنتیں وغیرہ بھی موجود نہ ہوں!…. اُن
کے جسم کی ہیئت ہمارے تصور سے بالکل ماوریٰ ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کا جسم وزن سے بالکل آزاد ہو!…. وہ ہوا میں اُڑسکتی ہو!…. اتنی لطیف ہوکہ چشم زدن میں
ہماری نظروں سے غائب ہوجائے!…. وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہو!…. مابعد الحیاتیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسی مخلوق کا پایا جانا جانا
بعیدازامکان ہرگز نہیں ہے….
ظلمات کے معنی ہیں….تاریکی…. اور کشور کے معنی دیس یا وطن کے ہیں…. تاریکی کے دیس میں آباد ایک مخلوق سے متعارف کرانے والی یہ کہانی فرضی واقعات پر
مبنی ہے….  کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی….

 

 

(آٹھویں قسط)


رات کا آخری پہر تھا کہ حرا نیند سے اچانک ہڑبڑا کر بیدار ہوگئی…. وہ پسینے میں شرابور ہو رہی تھی اور اُسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہورہا تھا…. شاید کوئی ڈرائونا خواب دیکھا تھا….
وہ کافی دیر تک غنودگی کے عالم میں بیٹھی رہی….
وہ بیٹھے بیٹھے بھی بُری طرح ہانپ رہی تھی جیسے بہت دور سے بھاگتی ہوئی آرہی ہو…. کچھ دیر تک تو اُسے کچھ یاد نہ آیا کہ خواب میں کیا دیکھا تھا….
ذہن کی اسکرین پر کوئی منظر نہ اُبھرسکا…. اوسان کسی حد تک بحال ہوئے تو اُس نے تین چار گلاس پانی پیا…. اور پھر لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے اپنے ذہن پر زور ڈالنے لگی کہ آخر خواب میں ایسا کیا دیکھ لیا تھا جو اُس کی ایسی کیفیت ہوگئی…. کافی دیر بعد کچھ کچھ یاد آنے لگا….
وہ کسی صحرا میں تنہا کھڑی تھی…. دور دور تک کسی جاندار کا کوئی نام و نشان تک نہ تھا…. اتنے میں اُسے عمر کی آواز سنائی دی….
’’حرا…. تم واپس چلی جائو…. میرے لئے تم اپنی زندگی کو خطرے میں مت ڈالو…. جائو…. واپس چلی جائو‘‘….
وہ چاروں طرف دیکھنے لگی…. اُسے آواز کی سمت کا اندازہ نہیں ہوسکا….۔ کچھ دیر بعد عمر کی آواز دوبارہ سُنائی دی….
’’حرا…. خدا کے لئے تم واپس جائو‘‘….
اُس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر وہ کیا کرے؟…. پھر اُس نے ایک سمت چلنا شروع کردیا…. ریت میں اُس کے پیر دھنس رہے تھے…. ذرا سی دیر میں وہ بُری طرح تھک گئی…. سورج اُس کے سر پر پوری آبِوتاب کے ساتھ چمک رہا تھا…. وہ پسینے میں شرابور ہوچکی تھی…. پیاس کی شدت سے اُس کے حلق میں کانٹے چبھنے لگے تھے…. اُس کو دور ایک جھیل نظر آئی…. پانی دیکھ کر اُس کے اندر نجانے کہاں سے ہمت آگئی اور ریت میں اُس نے پوری قوت کے ساتھ بھاگنا شروع کردیا…. لیکن وہاں پانی کے بجائے ریت کے سوا کچھ نہ تھا…. یہ تو سراب تھا!….
پھر وہ ریت کے ایک اونچے ٹیلے پر بمشکل چڑھی کہ شاید کوئی راستہ دکھائی دے…. سورج کی سمت تو نظر اُٹھانا مشکل ہورہا تھا…. چنانچہ وہ دوسری جانب دیکھنے لگی…. کافی دیر تک اُس کی نظریں مایوس لوٹتی رہیں…. پھر اُسے بہت دور تین افراد اپنی جانب آتے ہوئے دکھائی دئیے…. کچھ دیر بعد وہ تینوں جب نزدیک آگئے تو اُس نے دیکھا کہ وہ دونوں افراد جو بہت ہی طویل القامت ہیں عمر کو زنجیروں میں جکڑے لئے جارہے ہیں…. وہ عمر کو دیکھتے ہی بے اختیار چیختی ہوئی اُس کی طرف بڑھی…. لیکن عمر اُس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا…. اور وہ طویل القامت افراد اُس کو پکڑنے کے لئے لپکے…. حرا نے خطرہ محسوس کیا اور تیز رفتاری کے ساتھ بھاگنے لگی…. نجانے کہاں سے اُس کے اندر توانائی آگئی تھی کہ وہ اُن کی پکڑ میں نہ آسکی…. اُسے حیرت ہوئی کہ وہ بھاگتے ہوئے ناصرف آگے کی طرف دیکھ رہی تھی بلکہ اُسے اپنے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ دونوں طویل القامت افراد بھی نظر آرہے تھے…. اتنے میں کسی نے اُسے پکارا ’’حرا رُک جائو…. آگے کھائی ہے‘‘…. لیکن اس سے پہلے کہ وہ آواز پر توجہ دیتی…. اگلا قدم اُٹھتے ہی وہ کھائی میں گرتی چلی گئی….
اور پھر اِسی کیفیت میں اُس کی آنکھ کھل گئی…. خواب کے بھرپور اثرات اُس کے جسم پر بھی موجود تھے…. وہ پسینے میں یوں تربتر تھی کہ گویا حقیقت میں کسی صحرا میں بھاگتی رہی ہو…. کسی بلندی سے گرنے پر جیسی کیفیت ہوسکتی ہے، بیدار ہونے کے بعد بھی اُس کی وہی حالت تھی….
خاصی دیر بعد جب وہ نارمل ہوگئی تو اُس نے نیم گرم پانی سے غسل کیا…. فجر کا وقت ہورہا تھا اُس نے فجر کی نماز ادا کی اور چھت پر چلی آئی…. کھلی فضا میں گہرے سانس لینے سے اُس کو بہت زیادہ سکون ملا…. مشرق سے اُبھرتے سورج کی نارنجی ٹکیہ کو دیکھتے ہوئے اُس کے سانس کا زیرو بم بہت مدہم ہوتا گیا…. وہ چند لمحوںتک استغراق کی اس کیفیت میں بیٹھی رہی….۔


٭٭٭


آج اُس نے آفس جانے کے بجائے انکل کے ساتھ شہر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں عمر کو تلاش کیا…. لیکن دن بھر کی دوڑ دھوپ سے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا…. شام ہوتے ہوتے جب وہ واپس لوٹ رہے تھے تو راستے میں ایک بہت بڑے پرائیوٹ ہسپتال پر نظر پڑی…. حرا نے انکل سے کہا ’’انکل!…. کیا خیال ہے اس میں بھی معلومات نہ کرلیں؟‘‘….۔
’’ہاں ہاں کیوں نہیں!…. مجھے بھی یہی انسپائر ہوا تھا‘‘…. انکل نے اگلے موڑ سے گاڑی کو ٹرن کیا اور ہسپتال کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کردی…. ہسپتال کے ریسیپشن سے معلومات کی…. ریسپشنٹ نے کمپیوٹر میں مریضوں کی لسٹ چیک کی اور عمر نامی کسی مریض کی موجودگی سے لاعلمی ظاہر کی…. ابھی وہ لوگ یہاں سے بھی مایوس ہوکر واپس لوٹ رہے تھے کہ ایک ڈاکٹر صاحب تیز قدموں سے چلتے ہوئے اُن کی طرف آتے دکھائی دئیے…. ’’ارے یار…. فیضی…. کہاں ہے بھئی تُو!‘‘…. وہ یہ کہتے ہوئے انکل کی طرف بڑھے…. اور انکل نے ’’ارے…. شدّو…. تُو…. شدّو ہے نا‘‘….کہتے ہوئے اُن کو گلے سے لگالیا….
چند لمحوں کے بعد وہ دونوں ڈاکٹر شاہد کے آفس میں بیٹھے تھے…. اور ڈاکٹر شاہد کہہ رہے تھے ’’میں پچھلے سال ہی امریکہ سے واپس لوٹا ہوں…. بچے سیٹ ہوگئے ہیں…. میں نے کہا کہ اب اتنا کمالیا ہے کچھ ہم وطنوں کے بھی کام آنا چاہئے…. لہٰذا میں اور تمہاری بھابھی یہاں واپس آگئے ہیں…. اور تُو سنا…. تُو نے شادی نہیں کی؟‘‘….۔
’’نہیں بھائی…. میں اس علّت سے محفوظ ہوں…. اپنی آزاد زندگی ہے…. کتابیں اوڑھنا بچھونا ہیں…. لکھنا پڑھنا اور سوچنا یہ دن رات کا مشغلہ…. ہاں تُو نے اچھی کہی…. گوروں سے خوب کمایا اور اب ہم وطنوں سے کمانے کے لئے آگیا ہے‘‘….انکل نے مسکراتے ہوئے کہا
’’نہیںیار ایسی بات نہیں ہے…. یہاںتو میں صرف چار گھنٹے کے لئے آتا ہوں باقی وقت میں اپنے چیریٹی کلینک پر ہوتا ہوں جہاں مریضوں کا انتہائی معمولی فیس پر علاج کیا جاتا ہے…. بہت سے مریضوں سے تو ہم فیس بھی نہیں لیتے…. اچھا تُو بتا…. خیریت تو ہے…. یہاں ہسپتال میں کیا کام پڑگیا تجھے؟‘‘….
’’یہاں پر ہم اپنے ایک عزیز کو تلاش کر رہے تھے…. بات یہ ہے کہ وہ پچھلے دو ہفتوں سے لاپتہ ہے…. ہم یہ سوچ کر کہ کہیں اُس کا ایکسیڈنٹ نہ ہوگیا ہو…. ہسپتالوں میں دیکھ رہے تھے…. یہاں بھی معلوم کیا…. لیکن وہ یہاں بھی نہیں ہے!‘‘….۔
’’کیا نام ہے اُس کا؟‘‘…. ڈاکٹر شاہد نے پوچھا
’’عمر!‘‘…. اس مرتبہ حرا نے جواب دیا….
’’دیکھو بھئی…. عمر نامی ایک مریض میرے کلینک پر بھی ہے…. تم دیکھ لو ہوسکتا ہے کہ وہی تمہارا عزیز ہو…. اس لئے کہ ابھی تک اُس کے کسی عزیز رشتہ دار نے رابطہ نہیں کیا ہے…. اور اُس کی کنڈیشن بھی کچھ ایسی ہے کہ‘‘….۔
’’کیا ہوا عمر کو؟‘‘…. حرا گھبرا کر اپنی سیٹ سے کھڑی ہوگئی….
’’ریلیکس بیٹی…. ابھی تو اس بات کی تصدیق ہونی باقی ہے کہ یہ وہی عمر ہے بھی یا نہیں جسے آپ تلاش کر رہے ہیں‘‘…. ڈاکٹر شاہد نے کہا….
’’اُسے تمہارے کلینک کون لایا تھا؟‘‘…. انکل نے پوچھا ’’ہوا کچھ یوں کہ میں دو ہفتے قبل اس ہسپتال سے آپریشن کرنے کے بعد رات گئے گھر واپس لوٹ رہا تھا…. مجھے وہ سڑک پر زخمی حالت میں بے ہوش نظر آیا اور میں گاڑی میں ڈال کر اپنے کلینک لے آیا…. اُس کے سر پر گہرا زخم تھا ہمیں ایک آپریشن بھی کرنا پڑا…. لیکن وہ اب تک ہوش میں نہیں آسکا ہے‘‘…. ڈاکٹر شاہد کی گفتگو سُن کر حرا کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہنے لگے تھے…. ڈاکٹر شاہد نے اُٹھ کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھا اور تسلّی دیتے ہوئے بولے ’’مجھے لگتا ہے کہ تمہارا عمر کے ساتھ کوئی گہرا رشتہ ہے…. اگر وہ لڑکا واقعی تمہارا ہی عمر ہے تو تم فکر نہ کرو…. اللہنے چاہا تو وہ بالکل ٹھیک ہوجائے گا‘‘….
اس کے بعد وہ دونوں ڈاکٹر شاہد کے ساتھ اُن کے کلینک پہنچے….
یہ کلینک تو محض نام کا تھا…. باہر سے ہی ایک خوبصورت ہسپتال نظر آتا تھا…. اسے ڈاکٹر شاہد نے تمام جدید سہولتوں سے آراستہ کر رکھا تھا…. مختلف راہداریوں سے گزرتے ہوئے وہ لوگ شیشے کے ایک بڑے سے دروازے کے پاس جاکر رُک گئے…. جس پر سُرخ رنگ سے ICU لکھا ہوا تھا…. باوردی گارڈ نے ڈاکٹر شاہد کو دیکھتے ہی کھڑے ہوکر دروازہ کھولا…. اندر داخل ہوتے ہی حرا کی پہلی نظر عمر پر پڑی…. ہاں یہ عمر ہی تھا…. اُس کے منہ پر آکسیجن ماسک اور بازو میں ڈرپ لگی ہوئی تھی…. اور بھی کئی آلات اُس کے جسم سے منسلک تھے….
حرا ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی…. فیض انکل اُسے لے کر باہر آگئے….
’’ہوں…. تو یہ وہی عمر ہے‘‘…. ڈاکٹر شاہد نے کہا’’میرا خیال ہے حرا تم عمر کی والدہ کو اطلاع کردو‘‘….۔ فیض انکل بولے
’’نہیں انکل!…. مجھ میں اب اتنی ہمت نہیں ہے کہ میں ماں جی کو یہ خبر سُنا سکوں‘‘…. حرا نے روتے ہوئے کہا ’’نہیں بیٹا…. تم تو بہت بہادر ہو…. ہمت سے کام لو…. اچھا چلو میں فون کردوںگا…. لیکن تم خود کو سنبھالو…. عمر بالکل ٹھیک ہوجائے گا‘‘…. فیض انکل حرا کو مستقل تسلی دیتے رہے….
ڈاکٹر شاہد دونوں کو اپنے آفس میں لے آئے…. چائے پینے کے بعد دونوں وہاں سے نکلے تو باہر اندھیرا ہوچکا تھا…. ڈاکٹر شاہد کا کلینک شہر سے کافی فاصلے پر اور آبادی سے بالکل الگ تھلگ تھا…. حرا نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور چالیس کی اسپیڈ سے گاڑی چلانے لگی…. وہ عمر کے متعلق سوچے جارہی تھی…. انکل نے اُسے متفکر دیکھا تو بولے ’’ارے بھئی حرا…. اب کیا پریشانی ہے…. اب تو عمر مل گیا ہے اور ڈاکٹر شاہد نے یقین بھی دلایا ہے کہ وہ صحتیاب ہوجائے گا‘‘….
اس وقت ان کی کار جس راستے سے گزر رہی تھی اُس کے دونوں اطراف کیکر کی گھنی جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں…. کوئی اور موقع ہوتا تو حرا باہر کے منظر سے خوفزدہ ہوجاتی لیکن اُس وقت اُس کا پورا دھیان عمر کی طرف تھا…. یوں ماحول اُسے بالکل متاثر نہیں کرسکا…. حرا کی نظر سڑک پر مرکوز تھی کہ اچانک اُس نے پوری قوت سے بریک لگائے…. ہیڈ لائٹ کی روشنی میں اُسے ایک سیاہ بلّی نظر آئی جو کار کی زد میں آنے والی تھی لیکن حرا کے بروقت بریک لگانے سے وہ محفوظ رہی…. سنسان علاقے میں کار کے بریک کی آواز خوفناک انداز میں گونجی تھی…. اچانک بریک لگنے سے حرا اور فیض انکل کو زبردست جھٹکا بھی لگا تھا…. لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بلّی اپنی جگہ سے ٹس سے مس بھی نہیں ہوئی تھی…. اُس کی چمکدار آنکھیں مسلسل حرا کی طرف مرکوز تھیں…. حرا نے مسلسل ہارن بجائے لیکن اُس پر بالکل اثر نہیں ہوا…. کچھ دیر دیکھنے کے بعد انکل گاڑی سے اُترے کہ بلّی کو بھگائیں….وہ ابھی اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ کوئی لکڑی نظر آجائے تو اُس سے بلّی کو ڈرایا جائے…. جب ایسا کچھ نہیں مل سکا تو اُنہوں نے سڑک کے کنارے پڑے چھوٹے چھوٹے کنکر بلّی کو مارے…. ساتھ ساتھ وہ ’’شش…. شش‘‘…. بھی کرتے جارہے تھے…. لیکن بلّی کی نظریں گاڑی میں بیٹھی ہوئی حرا پر ہی مرکوز رہیں…. ایک کنکر کچھ زور سے انکل نے بلّی کی طرف پھینکا جو بلّی کے سر پر لگا…. پھر تو وہ انکل پر بُری طرح جھپٹ پڑی اور اپنے پنجوں سے انکل کو زخمی کرنے کی کوشش کی…. انکل کے لئے یہ صورتحال بالکل غیر متوقع تھی اس لئے وہ بھی گھبرا گئے…. حرا بھی خوفزدہ ہوگئی تھی اور مسلسل چیخ رہی تھی کہ انکل گاڑی میں آجائیں…. بمشکل انکل نے بلّی کو پرے دھکیلا اور گاڑی میں بیٹھ کر دروازہ بند کیا…. بلّی شیشے پر پنجے مار رہی تھی…. حرا نے گیئر بدلا اور ایکسیلیٹر پر پیر رکھا…. ابھی گاڑی نے دو گز کا فاصلہ ہی طے کیا ہوگا کہ دیکھا پوری سڑک بلّیوں سے بھری ہوئی ہے…. سیاہ بلّیاں!….۔ جو عام بلّیوں سے جسامت میں کچھ بڑی تھیں…. بلکہ درمیانے قد کے کتے کے برابر…. جن کی خوفناک غرّاہٹ سناٹے میں گونج رہی تھی….۔
حرا نے گاڑی ریورس کی تو دیکھا کہ آٹھ دس بلّیاں پیچھے سے کار کی چھت پر چڑھ گئی ہیں….۔ بلّیوں نے چاروں طرف سے اُن کی گاڑی کو گھیر لیا تھا اور وہ پوری قوت سے ونڈ اسکرین اور دروازے کے شیشوں پر اپنے پنجے مار رہی تھیں…. انکل بھی سخت پریشان تھے…. کہ آخر یہ کیا ماجرا ہے؟…. پھر اُنہیں جیسے کچھ یاد آیا اور اُنہوں نے آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھنا شروع کیا…. آہستہ آہستہ انکل کی آواز بلند ہوتی جارہی تھی…. حرا نے دیکھا کہ ایک ایک کرکے بلّیاں سڑک سے اُترکر جھاڑیوں میںغائب ہوتی جارہی ہیں….۔ جب انکل نے اپنا ورد ختم کیا تو روڈ صاف ہوچکی تھی…. حرا نے پوری رفتار سے کار دوڑادی….۔


٭٭٭


گھر پہنچنے کے بعد انکل نے اپنے بازوئوں پر پڑنے والی خراشوں کو دیکھا تو حیرت سے بولے ’’ارے یہ کیا‘‘…. حرا جو کچن میں چائے بنا رہی تھی…. دوڑتی ہوئی آئی…. ’’کیا ہوا؟‘‘…. اُس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں…. انکل نے اُس کے چہرے کو دیکھا تو مسکرا کر بولے ’’تمہارا چہرہ سفید کیوں ہو رہا ہے…. ایسی کوئی بات نہیں ہے…. تم جائو!‘‘….۔
’’نہیںانکل بتائیں مجھے…. کیا بات ہے؟‘‘….
’’ارے بھئی کچھ بھی نہیں ہے!‘‘….
’’نہیں کچھ تو ہے!…. میں نے آپ کو بہت ہی کم حیرت زدہ دیکھا ہے…. اور اُس وقت آپ کی آواز سے شدید حیرت ظاہر ہورہی تھی‘‘….
انکل جو حرا کو خوفزدہ دیکھ کر بات کو ٹال رہے تھے اُس کی ضد سے مجبور ہوکر بولے ’’بات یہ ہے کہ بلّی مجھ پر جھپٹی تھی اور میرے بازوئوں پر خراشیں بھی آئی تھیں….لیکن یہ دیکھو….۔ اب تو خراش کیا اُس کا نشان بھی موجود نہیں ہے‘‘….
’’اوہ…. نو!…. واقعی یہاں تو ایک بھی نشان نہیں ہے‘‘….۔ حرا نے انکل کے بازو دیکھنے کے بعد بولی….۔
’’ممکن ہے قرآنی آیت کے ورد کی برکت سے نشان بھی غائب ہوگئے ہوں‘‘…. انکل نے اپنا خیال پیش کیا….
’’لیکن انکل…. خراشوں کے زخم درست ہوجانے کے بعد خراشوں کے نشان تو باقی رہنے چاہئے تھے‘‘….
’’بھئی اللہ کے کلام کی طاقت سے کیا نہیں ہوسکتا؟‘‘….
’’نہیں انکل مجھے بہت خوف محسوس ہو رہا ہے…. وہ بلّیاں…. کوئی عام بلّیاں نہیں تھیں…. اُن کی آنکھیں!…. انکل میں نے کل ایک خواب دیکھا تھا‘‘…. پھر حرا نے رات کو دیکھا ہوا پورا خواب انکل کو سنایا اور بولی ’’انکل اُن دونوں قدآور افراد کی آنکھیں بالکل ایسی ہی تھیں جیسے اُن بلّیوں کی آنکھیں‘‘…. پھر حرا کا دھیان بے اختیار اُس مجذوب فقیر کی جانب گیا ’’انکل…. مجھے ایک فقیر ملا تھا…. وہ مانگنے والا ہرگز نہیں تھا…. اُس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی…. میں اُس وقت شہلا کے ساتھ تھی…. لیکن اُس نے خاص طور پر مجھے مخاطب کیا…. اور بولا …. عشق قربانی مانگتا ہے…. آگ میں اُترنا پڑے گا…. میں نے تو اُس وقت اُسے کوئی اہمیت ہی نہیں دی تھی…. اور آگے بڑھ گئی تھی لیکن آج اس واقعہ کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہوں کہ مجھے اُس سے دوبارہ ملنا چاہئے‘‘…. ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ حرا کے والد کا فون آگیا اور حرا اپنے گھر روانہ ہوگئی…. اُس کے جانے کے بعد انکل نے نوعِ جنّات کے متعلق کتابیں نکالیں اور پڑھنے بیٹھ گئے….۔


٭٭٭


اگلے روز حرا نے لنچ سے پہلے آفس سے چھٹی لی اور انکل کے ہمراہ عمر کو دیکھنے کے لئے ڈاکٹر شاہد کے کلینک روانہ ہوگئی…. اس مرتبہ اُنہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا جو طویل تو تھا لیکن پُررونق تھا…. ابھی وہ کلینک سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تھے کہ کار کا ٹائر پنکچر ہوگیا…. انکل نے اسٹفنی نکالی اور ٹائر تبدیل کرنے لگے…. حرا کار سے ٹیک لگائے کھڑی اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی…. اتنے میں اُس نے دیکھا کہ سڑک کے دوسری طرف ایک درخت سے ٹیک لگائے وہی فقیر بیٹھا ہے…. حرا نے اُسے دیکھا تو تقریباً چلاتے ہوئے انکل کو مخاطب کیا ’’انکل دیکھیں…. میں نے کل جس فقیر کے بارے میں بتایا تھا…. وہ دیکھیں…. وہ وہاں درخت کے ساتھ بیٹھا ہے‘‘….
انکل ٹائر تبدیل کرچکے تھے، اپنے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اُٹھ کر کھڑے ہوئے اور حرا کی بتائی ہوئی سمت دیکھنے لگے…. ’’لیکن انکل…. یہ تو مجھے طارق روڈ پر ملا تھا…. اور یہ علاقہ توطار ق روڈ سے کوئی 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا…. یہ یہاںکیسے آگیا؟‘‘…. حرا نے خدشہ ظاہر کیا
’’بیٹا بہت سی باتیں آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ میں آتی جاتی ہیں…. آئو چلو اُس سے ملتے ہیں‘‘…. حرا نے گاڑی لاک کی اور دونوں سڑک پار کرکے اُس فقیر کے سامنے کھڑے ہوگئے…. فقیر اردگرد کے شور شرابے سے بے خبر آسن جمائے مستغرق تھا…. انکل دیوار کے ساتھ بنی کیاری کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور حرا کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا….
’’انکل…. اس سے بات کریں‘‘…. حرا نے آہستہ سے کہا
’’نہیں…. ابھی نامعلوم ان کا دھیان کہاں ہو…. ہماری دخل در معقولات سے ان کا کوئی کام ڈسٹرب ہوجائے‘‘….۔
’’یہ کیا کر رہے ہیں؟‘‘….
’’مراقبہ‘‘….
’’انکل…. ہم واپسی میں ان سے مل لیں گے…. ہمیں دیر بھی ہورہی ہے اور آتے جاتے لوگ ہمیں عجیب عجیب نظروںسے دیکھ رہے ہیں‘‘…. حرا نے کہا تو انکل نے حرا کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا….
فقیر اپنی نیم وا آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا…. ’’تم لوگ آگئے…. تم لوگوں کو تو آنا ہی تھا‘‘…. فقیر نے آہستہ سے کہا
’’بابا!….۔ عمر کے لئے دعا کریں اُسے ہوش آجائے‘‘…. حرا عاجزی کے ساتھ بولی
فقیر نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں…. کافی دیر گزر گئی…. فقیر نے آنکھیں کھولیں تو حرا اُس کی آنکھوں کو دیکھ کر سہم گئی…. فقیر کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں….
’’عمر…. آگیا بتیال کی قید میں ہے‘‘…. فقیر بولا
’’لیکن وہ تو ہسپتال میں بے ہوش پڑا ہے‘‘….
’’ہسپتال میں تو اُس کا گوشت پوست کا جسم ہے…. اُس کا اصل جسم آگیا بتیال نے قید کر رکھا ہے‘‘….۔
’’آگیا بتیال…. یہ کون لوگ ہیں؟‘‘….
’’یہ کشورِ ظلمات کا تخریب پسند گروہ ہے‘‘….
’’کشور ظلمات؟‘‘…. حرا نے پوچھا
’’ہاں کشورِ ظلمات…. اندھیرے کی دنیا…. لیکن جسے تم اندھیرا کہتے ہو اُس اندھیرے میں روشنیاں ہیں…. روشنیوں کی مخلوقات ہیں…. آگیا بتیال نوعِاجنّہ کے افراد پر مشتمل تخریب پسند گروہ ہے‘‘….
’’آخر عمر سے اُن کی کیا دشمنی ہے؟‘‘…. اس مرتبہ انکل نے سوال کیا
’’ایک جن زادی قسطورہ عمر پر عاشق ہے…. قسطورہ کا عم زاد آگیا بتیال کے سرکردہ لوگوں میں شامل ہے…. اُسے قسطورہ کے عشق کا پتہ چل گیا اور وہ رقابت کی وجہ سے عمر کی جان کے درپے ہوگیا…. لیکن اب اُس کا مقصد عمر کی جان لینا نہیں ہے…. بلکہ اُس کی برین واشنگ کرکے شیطنت کی طرزِفکر منتقل کرنا ہے…. تاکہ وہ ساری زندگی اُن کا آلۂ کار بنا رہے…. اس طرح وہ قسطورہ کو بھی تڑپا سکے گا‘‘….
’’عمر کو بچانے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‘‘…. انکل نے پوچھا
’’فی الحال تو تم لوگ عمر کے سرہانے بیٹھ کر سورئہجن کا زیادہ سے زیادہ ورد کرو…. تاکہ وہ تخریبی طرزِفکر سے محفوظ رہ سکے…. اس کے بعد کیا کرنا ہے…. یہ میں تمہیں اگلی ملاقات میں بتائوں گا…. ابھی تم لوگ جائو‘‘….
’’بابا…. اگلی ملاقات آپ سے کہاں پر ہوگی؟‘‘…. حرا نے دریافت کیا
’’اس کی تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں…. ہم تمہیں خود ہی مل جائیں گے…. جیسے ملتے رہے ہیں‘‘….۔
(جاری ہے)

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

پارس ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں دوسر ی قسط : گھر میں پھیلی سوگواری ...

کشورِ ظلمات ۔ قسط 5

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن