پارس ۔ قسط 4

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

کچھ نہیں بلکہ بہت سارے لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں ۔مرد ہونا طاقت اور اکرام کا سبب ہے۔عورت کا وجود کمزوری اورشرمندگی کی علامت ہے۔
ایسا سوچنے والے صرف مرد ہی نہیں ہیں کئی عورتیں بھی اس بات پر یقین رکھتی ہیں۔
بیٹے کی ماں بن کر بعض عورتیں خود کو محفوظ اورمعزز خیال کرتی ہیں، بیٹی کی ماں بن کر خود کوکمزور محسوس کرتی ہیں۔ مردانہ تسلط والے معاشر ے میں کئی مصیبتوں ،دکھوں اورظلمتوں کے درمیان ابھرنے والی ایک کہانی….مرد کی انا اورعونت، عورت کی محرومیاں اوردکھ،پست سوچ کی وجہ سے پھیلنے والے اندھیرے، کمزوروں کا عزم ،علم کی روشنی ،معرفت کے اجالے، اس کہانی کے چند اجزائے ترکیبی ہیں۔
نئی قلم کار آفرین ارجمند نے اپنے معاشرے کا مشاہدہ کرتے ہوئے کئی اہم نکات کو نوٹ کیا ہے۔ آفرین ارجمند کے قلم سے ان کے مشاہدات کس انداز سے بیان ہوئے ہیں اس کا فیصلہ قارئین خود کریں گے۔

چوتھی قسط :

 

چوتھی قسط :

سب سے آگے جمال اور ماسی سرداراں کی بیٹی شاداں کو دیکھ کر اس کی پریشانی بڑھ گئی تھی۔ وہ جانتا تھا ان کی موجودگی میں خیر کم ہی ہو تی ہے۔
ہا ہاہا …. طنزیہ انداز میں ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہوئے جمال نے کہا…. سب خیر ہے ہم نے سنا تُونے کرم دین کی بیٹی گودلے لی ہے۔
ہاں اور اب یہ میری بیٹی ہے۔ جمال کے استفسار پر شفیق مضبوط لہجے میں بولا
ایسے میں شفیق کی نظر مسجد کے مولوی صاحب پر پڑی جو کونے میں خاموش کھڑے تھے۔ ان کے چہرے پر ہلکی سی خفگی بھی تھی۔ انہیں دیکھ کر شفیق جلدی سے آگے بڑھا۔ وہ مولوی صاحب کا بہت احترام کرتا تھا ۔
مولوی جی….! آپ آئیے۔ اندر تشریف.لائیے۔
بس رہنے دے۔ اتنی ہی عزت کرتا ہے تُو میری انھوں نے بناوٹی خفگی کا اظہار کیا
بیٹی گود لے لی۔ ماں باپ بن گئے تم لوگ اور تُو نے ہمیں بتانا بھی مناسب نہ سمجھا۔ مولوی صاحب کی شکایت میں بھی شیرینی گھلی تھی
نئیں مولوی جی۔ آپ تو میرے بزرگ ہو جی۔ سب کچھ اتنی جلدی ہوگیاکر کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔بس جب اورجیسے رب کو منظور تھا۔شفیق مولوی صاحب کے سامنے شرمندہ شرمندہ سا وضاحتیں دینے لگا۔
ارے بھائی ….! ہم تو مبارک دینے آئے تھے۔ یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے۔ شاداں کی آواز ابھری۔ کسی سے کوئی اور بات بن نہ پڑ رہی تھی
خیر مبارک بھائیو ….شفیق مسکرادیا۔
دراصل سویرا ہونے تک بیٹی گود لینے کی بات پورے گاؤں میں پھیل چکی تھی۔ چارپانچ سو نفوس پر مشتمل یہ چھوٹا سا گاؤں جس کے باسی ایک دوسرے سے ایک خاندان کی طرح جڑے تھے اچھابرا، کھرا کھوٹا سب ان کا اپنا تھا ۔اگر زمین کے معمولی جھگڑوں پر ایک دوسرے کی جان لینے پر تیار ہوجاتے تو غیرت اور دوستی کے نام پر ایک دوسرے کے لیے جان دے بھی دیتے تھے۔ شفیق اور سکینہ کی باتوں سے کئی لوگ ان سے اختلاف رکھتے تھے لیکن اپنے مزاج اور اطوار کے باعث دونوں گاؤں والوں کے دلوں میں بھی خاص مقام رکھتے تھے۔ اسی لیے آج ان دونوں سے شکایت کر کے اپنا حق جتا رہے تھے۔
تھوڑی دیردونوں طرف خاموشی رہی۔ اس سکوت کو پھرشفیق نے ہی توڑا اور کہا۔ آئیے نا ….آپ سب اندر چلیں ۔
سکینہ دروازہ کھول…. اس نے پلٹ کر جلدی سے سکینہ سے کہا ۔
ارے نہیں ….تم شاید کہیں جارہے تھے ….؟
جی…. درگاہ جانے کی نیت تھی ۔شفیق نے بتایا
تو نیک کام میں دیر کیسی ….؟تم لوگ درگاہ ہو آؤ ہم…. پھر آجائیں گے اپنی بیٹی کو دیکھنے۔ انھوں نے سکینہ کی گود میں سوتی بچی کو جھانکنے کی کوشش کی۔ سکینہ نے بچی کو مولوی صاحب کے آگے کردیا۔
شفیق کو بھی اس طرح سب کو لوٹانا اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ جلدی سے بولا ۔
بر ا نہ ماننا بھائیو…. اگر آپ لوگ شام کو میرے گھر آؤ تے میری دھی رانی کی خوشی میں روٹی ہمارے ساتھ کھاؤ۔شفیق نے وہیں کھڑے کھڑے سب کو دعوت کا بلاوا دے دیا
کیوں مولوی جی ٹھیک ہے نا….؟ اس نے احتراماً مولوی صاحب سے پوچھا جو بچی کو شفقت سے دیکھ.رہے.تھے ۔
ہاں ہاں بلکل ٹھیک ہے۔تم درگاہ ضرور جاؤ اور وہاں میرا سلام بھی کہنا۔
تو پھر شام میں ملتے ہیں ۔کیوں بھائیو….!اس نے پھر سب کی جانب دیکھا۔
ہاں ہاں ضرور۔ لوگوں نے ان دونوں کو راستہ دے دیا۔


جھلسا دینے والی دھوپ اور حبس سے بے حال پسینے میں شرابور شفیق اور سکینہ بچی کو لیے درگاہ پہنچ گئے۔
وہاں بیٹھے زائرین اور مجاوروںمیں مٹھائی تقسیم کی۔ خوب دعائیں مانگیں۔ سکینہ کی آنکھوں سے خوشی کی برسات تھی کہ تھمتی نہ تھی۔ حاضری دے کر یہ دونوں باہر نکلے تو موسم بھی اپنا مزاج بدل چکا تھا۔ہوا کے تیز جھکڑ زمین پر بکھرے پتوں اور زائرین کو ایک ساتھ واپس اندر کی جانب دھکیل رہے تھے۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوتے دیکھ کر دونوں تیز تیز قدم اٹھاتے آگے بڑھے۔ شفیق کی نظریں کسی سواری کو ڈھونڈ رہیں تھیں تاکہ جلد از جلد گھر پہنچ کر دعوت کا انتظام کیا جاسکے ۔مگر قدرت شاید یہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ لوگ ابھی یہاں سے واپس جائیں۔ کہ اچانک چار دن سے ہونے والی گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا۔ ہلکی بوندوں نے تیز بارش کا روپ دھارن کرلیا تھا ۔سکینہ نے جلدی سے نازک نومولود کو کو اپنی چادر میں سمو لیا۔وہ واپس اندر مزار کی جانب پلٹے ۔مگر وہاں تو تل دھرنے کی جگہ نہ بچی تھی تمام زائیرین چھوٹی سی جگہ پر سما نے کی کوشش کررہے وہ دوڑ کر اسی ہجوم کا حصہ بن گئے۔ ذرا سی دھکم پیل کے بعد بالآخر ایک کونے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ دونوں تقریباً بھیگ چکے تھے۔ سکینہ کی پتلی سی چادر بچی کو بارش سے محفوظ رکھنے کے لئے ناکافی تھی ایسے میں ٹین کی چادروں سے ٹپکتا پانی بھی ان کے سروں کو بھگونے لگا۔ اس کی نظریں بےچینی سے ادھر ادھر کوئی محفوظ مقام ڈھونڈنے لگیں جہاں بچی کو ہوا اور پانی سے محفوظ رکھا جاسکے۔ اتنے میں ہجوم میں کھڑے ایک مجذوب نے جسے تھوڑی دیر پہلے سب چلچلاتی گرمی میں اون کی چادر اوڑھے دیکھ کر ہنس رہے تھے ۔اپنی اونی چادر اتار کر بچی پر ڈال دی ۔
بچی کو لپیٹ لے اس میں ۔ وہ مجذوب بولا۔ سکینہ نے مجذوب کی طرف دیکھے بغیر چادر لی اور بچی کو جلدی سے اس میں لپیٹ لیا۔
اب وہ پرسکون تھی۔ اس نے باہر جھانک کر دیکھا۔ بارش ہونے پر ننھے بچے خوشی میں مست خوامخواہ اچھل رہے تھے۔ ان میں سے کچھ شرارتی بچے ناہموار زمین کے گڑھوں میں جمع ہوجانے والے پانی میں ہاتھ مار مار کر چھپ چھپ کرتے اور پھر ایک دوسرے پر چھینٹیں اڑا رہے تھے۔
نہ جانے کتنا وقت گزر گیا سکینہ یوں ہی بے خود سی بارش کا نظارہ کرتی رہی ۔بارش تھم چکی تو ہر طرف مٹی کی سوندھی خوشبو پھیل گئی تھی۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، سبز شفاف پتے جودھل کر نکھر گئے تھے سارا منظر بہت خوبصورت ہو گیا تھا۔
کئی لوگ واپس جانے کے لیے باہر نکلے لیکن سکینہ کی متلاشی نظریں اسی مجذوب کو ڈھونڈ رہیں تھیں تاکہ اس کی چادر واپس کر سکے پوری درگاہ میں دیکھنے کے باوجود وہ نہ مل سکا۔ویسے ہی بہت دیر ہو چکی تھی اور پھر گاؤں والوں کو دعوت بھی دے چکے تھے۔ اس لیے اب جلد سے جلد گھر پہنچنا تھا۔
ایک کام کرتے ہیں یہ چادراُس آدمی کو دے دیتے ہیں کہ یہ اُس مجذوب کو دے دے ۔شفیق نے انگلی سے ایک آدمی کی جانب جو مزار کے ایک کونے میں سر جھکائے بیٹھا تھا اشارہ کیا۔
ہاں جی ….یہ صحیح ہے دونوں مزار کے پاس بیٹھے آدمی کی جانب تیزی سے بڑھ گئے۔
بابا جی ….! شفیق نے آہستہ سے پکارا اور احترام سے آدمی کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
اس آدمی نے سر اٹھا کر شفیق کی جانب دیکھا۔
وہ یک دم پیچھے ہٹ گیا۔ سکینہ کا دل بھی تیز تیز دھڑکنے لگا وہ بھی ایک قدم پیچھے ہوگئی۔
ہاشم بابا….سکینہ کے لب دھیرے سے ہلے۔دونوں کی نگاہیں جھک گئیں وہ احتراماٍ ایک قدم پیچھے ہٹ کر کھڑے ہوگئے۔
نورانی چہرہ بارعب شخصیت والے ہاشم بابا پیر سائیں کے خاص فیض یافتگان میں سے تھے ۔پیر سائیں کی خصوصی نظرِ کرم سے جواں سالی میں ہی ان پر معرفتِ الہی کی راہیں کھل گئیں تھیں۔ہاشم بابا کا کوئی خاص ٹھکانہ نا تھا۔ وہ بابا کے حکم پر شہروں،گاؤں قصبوں کا دورہ کرتے خلقِ خدا کی خدمت میں مصروف رہتے۔ سکینہ کو یاد تھا وہ بچپن میں اپنے بابا کے ساتھ جب بھی درگاہ آتی اس کا ننھا سا معصوم دل ہاشم بابا کو سلام کرنے اور ان سے دعا لینے کے لیےتڑپ تڑپ جاتا۔وہ نہیں جانتی تھی کہ کیوں وہ ہاشم بابا سے ملنے کے لئے تڑپتی ہے جن سے اس کا کوئی خونی رشتہ نہ تھا۔ نہ ہی وہ اسے جانتے تھے اور آج ….برسوں بعد ہاشم بابا ایک بار پھر اس کے بالکل سامنے تھے ۔ اس وقت ہاشم بابا سے ملاقات ہوجانا سکینہ کو ایک بہت بڑی نعمت محسوس ہورہا تھا۔ ہاشم بابا کے سامنے سکینہ ادب و عقیدت سے کپکپانے لگی۔ شفیق کی حالت بھی ایسی تھی جیسے وہ کسی خاص کیفیت میں ہو۔
بیٹھو….!دونوں کو اس طرح لرزتے کانپتے دیکھ کر بابا کی شیریں آوز ابھری۔
شفیق دو زانو سر جھکا کر بیٹھ گیا۔سکینہ ابھی تک کھڑی تھی۔ بابا کارعب اسے بیٹھنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا ۔
بیٹھ جا…. پھر آواز ابھری۔
وہ وہیں دھیرے سے سمٹ کر بیٹھ گئی۔
تھوڑی دیر خاموشی رہی ۔اس دوران سکینہ نے کن انکھیوں سے دیکھا۔ بابا کے لباس میں ہلکی سی نمی گواہی دے رہی تھی کہ وہ بارش کے دوران ہی درگاہ پہنچے۔ شاید اس لیے کسی نے نہیں دیکھامگر وہ کب آئے۔کب ؟اس کے ذہن میں سوال ابھرا
سکینہ نے دیکھا کہ بابا کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔
وہ سنبھل کر بیٹھ گئی۔
دعا سے فارغ ہو کر وہ ان کی جانب متوجہ ہوئے۔
ہاں کہو کیا بات ہے۔؟
دونوں کی کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اتنی اچانک ملاقات نے دونوں کو گڑبڑا دیا تھا۔ایسے میں ننھی بچی نے کسمسا کر سکینہ کو جیسے ملاقات کی وجہ بتادی۔ اس نے جلدی سے بچی کو آگے کردیا۔
وہ ہماری ب ب بیٹی…. اس کا نام ….سکینہ کے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے اس نے ہکلاتے ہوئے مدعا بیان کیا۔
ہاشم بابا نے غور سے پہلے سکینہ اور پھر بچی کی طرف دیکھا ….اسے گود میں لے لیا۔
ماشاء اللہ ….وہ شفقت سے بولے کیا نام ہے تمہارا وہ شفیق سے مخاطب ہوئے
جی میں شفیق…. اس کا سکینہ۔ میں کمہار ہوں۔ جی۔ شفیق ایک سانس میں بولا۔
اچھاا چھا ۔ایسے میں بچی رونے لگی انھوں نے انتہائی شفقت سے اپنی انگلی اس کے منہ میں دے دی بچی انگلی چوسنے لگی ۔ پتہ نہیں …. بابا جی کی انگلی سے شہد نکل رہا تھا یا کوئی اور تاثیر تھی پہلے تو بچی نے رونا بند کیا اور پھر انگلی چوستے چوستے گہری نیند سوگئی۔
ماشا ء اللہ ما شاءاللہ۔ ان کے لہجے میں خوشی تھی۔ ان کے لبوں پر کھلتی گہری مسکراہٹ ان کے پُرنور چہرے کو مزید تابناک بنا رہی تھی۔ وہ کچھ دیر بچی کو بغور دیکھتے رہے۔
کچھ توقف کے بعد ہاشم بابا بولے ۔ بہت خاص ہے یہ ….یہ پارس ہے۔تم لوگوں نے اس بچی کا کیا نام.رکھا.ہے….؟
جی… وہ جی ۔ بابا جی اس بچی کا نام آپ رکھیں نا… سکینہ نے شفیق کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
جی بابا جی …. شفیق نے بھی سکینہ کی تائید کرتے ہوئے بابا جی سے درخواست کی۔
بھئی۔ یہ بچی بہت خاص ہے…. یہ پارس ہے۔ اس کا نام پارس ہی رکھ دیتے ہیں۔ کیوں بھئی ….
ہاشم نے بچی کی طرف دیکھتے ہوئے اس طرح کہا جیسے وہ اس بچی کی رضامندی بھی چاہ رہے ہوں۔
اس وقت معصوم بچی سوتے سوتے ہلکے سے مسکرائی ماشاء اللہ …. ماشاء اللہ۔ لو بھئی اسے بھی نام پسند آیا ہے۔ ہاشم بابا نے اپنی گود میں لیٹی بچی کو مسکراتے دیکھا تو خود بھی بہت خوش ہوئے۔
نام پسند ہے نہ تجھے بھی….؟ باباہاشم اچانک سکینہ سے مخاطب ہوئے۔
وہ تو جیسے گونگی ہو گئی تھی۔ شفیق نے ٹہوکا دیا۔ بابا نے کچھ پوچھا ہےتجھ سے۔
ج جی بابا۔ ہاشم بابا بہت خوبصورت سکینہ ہکلائی
خوش رہو۔ بابا مسکرادیئے۔
رش بڑھ گیا تھا عقیدت مندوں کی نظر ہاشم بابا پر پڑ چکی تھی ۔اب مناسب تھا کہ وہ اٹھ جائیں۔ دونوں نے اجازت چاہی اور بابا کی دعائیں سمیٹے شاداں و فرحاں درگاہ سے باہر نکلے۔
شفیق نے جلدی سے ایک تانگہ رکوالیا اب انہیں گھر جانے کی جلدی تھی آخر دعوت کی تیاری بھی توکرنی تھی جو سویرے ہی شفیق نے سب کو دے ڈالی تھی
سنوجی….! آپ کسی کو ہاشم بابا والی بات مت بتانا۔وہ تانگے میں بیٹھتے ہوئے بولی۔
کونسی بات ….؟
وہی جو بابا نے کہا کہ یہ بہت خاص ہے ۔
یہ تو اچھی بات ہے کیوں نہ بتاؤں….؟
پتہ نہیں جی لوگ کیا سمجھیں….؟ کہیں میری بیٹی کو کسی کی نظر نہ لگ جائے۔وہ روایتی ماؤں کی طرح بولی
اچھا نہیں بتاؤں گا۔سکینہ کے انداز پر وہ ہنس پڑا۔
تانگہ سبک رفتاری سے گھر کی جانب رواں دواں تھامگر سکینہ کی پرواز تو جیسے فضاؤں میں تھی۔ آج اس کی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا ۔اس کی نظریں آسمان پر ٹکی ہوئی تھیں۔ جس کا نیلا تھال ابھی تک پانی کے سرمئی روئی کے گالوں سے نرم مشکیزوں سے بھرا ہواتھا ۔ یہ بادل کسی بھی لمحے برسنے کو بے تاب تھے۔ اسے ان سرمئی بادلوں میں بابا ہاشم کا مسکراتا چہرہ نظر آنے لگا۔ وہ مسکرادی ۔اس نے بچی کو ہولے سے.چوم.لیا۔
سچ بڑی نصیبوں والی ہے تُو۔ اس نے بچی کے کان میں سرگوشی کی اور پھر اسی چہرے کو نظروں میں بسائے وہ گھر آگئی۔
ابھی بہت کام باقی تھے۔ سکینہ گھر کی صفائی، کھانے کا انتظام اور دیگر تیاریوں میں مگن ہوگئی
ہمارے گاؤں دیہاتوں کی خوبصورت ریت کے مطابق محلے والے بالخصوص عورتیں ہر جگہ ہاتھ بٹانے کے لیے پہنچ جاتی ہیں پھر چاہے وہ گھر کی دعوت ہو یا کھیت میں کٹائی، شادی بیاہ ہو یا کسی کا مرنا جینا عورتوں کے بغیر سب ادھورا ہے ۔
یہاں بھی محلے کی چند عورتیں سکینہ کا ہاتھ بٹانے پہنچ گئی تھیں۔ کوئی چاول صاف کرنے میں مدد کرر ہی تھی توکوئی گھر کی صفائی کے ساتھ ساتھ لوک گیت بھی گاتی جارہی تھی۔ عورتوں کو اس طرح گاتا گنگناتا دیکھ کر گھر کے باہر محلے کے بچوں نے بھنگڑا ڈالنا شروع کردیا جس نے عید کا سا ماحول بنادیا تھا۔ایسے میں سکینہ نے گھر کو چھوٹے چھوٹے مٹی کے دئیوں سے روشن کردیا جو ننھے تاروں کی مانند چمک رہے تھے۔ شام تک ابر چھایا رہا۔ تقریباً پورا گاؤں دعوت میں شریک تھا سوائے کرم دین کے ۔


بھائیو….!پیٹ بھر کے کھاؤ دیسی گھیئو(دیسی گھی)والا شوربا گوشت ہے ۔خاص گڑ والے چاول بھی ہیں۔ ابھی لاتا ہوں ۔کھانا شفیق پرات میں سالن انڈیلتے ہوئے بولا ۔
شفیق تو بلکل پگلا گیا ہے اتنے سالوں بعد گود بھی لی تو بیٹی اور اب یہ دعوت بھی….جمال کی بری خصلت نے اسے اکسایا۔ وہ بھلا ایسا موقع ہاتھ سے کیسے جانےدیتا۔
مطلب ….؟ایک آدمی مرغی کی ٹانگ چباتے ہوئے بولا۔
مطلب یہ ہے کہ دس سال بے اولادی کے بعد بیٹا گود لیتا تو کم سے کم بڑھاپے کا سہاراتو بنتا۔
ہاں یہ تو ہے…. کم سے کم مشور ہ ہی کرلیتا۔
وہی تو۔
چل چھوڑ ہمیں کیا….؟ تُو ککڑ کھا ، تے عیش کر…. وہ کندھے اچکا کر بولا اور شوربا گوشت کی لذت میںگمہوگیا۔
نہیں پھر بھی سوچ تو سہی ….اگر ابھی اتنا خرچہ کیا ہے تو اس کی شادی پر کیا کرے گا۔ جہیز بھی تو دینا ہوگا۔ جمال کو بھی کسی طرح چین نہیں مل رہا تھا وہ پھرشروعہوگیا۔
ان کی باتیں قریب بیٹھے مولوی صاحب کے کانوں میں پڑیں تو وہ ضبط نہ کر پائے
لاحول ولا قوۃ….کچھ حیا کرو بے شرمو۔ کتنے پیار سے اس نے تم سب کو بلایا اور تم لوگ اسی کا مذاق اڑا رہے ہو منافقو ۔مولوی صاحب کا غصہ تیز ہوگیا۔
جی جی مولوی صاحب تسی صبح کہہ رہے ہو ایک آدمی نے جلدی سے بات بناکر انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنے لگا
باقی سب بھی زیرِ لب مسکراہٹیں دبائے کھانے میں مشغول ہو گئے ۔
اندر گھر میں گاؤں کی عورتیں بچی کے جھولے کے گرد گھیرا ڈالے بیٹھی تھیں ۔صحیح معنوں میں آج ہی سب نے بچی کو نظر بھر کر دیکھا تھا۔
ننھی بچی سنہری دھنک اور گوٹہ کناری سے کڑھی گلابی ریشم کے کپڑے میں لپٹی ہوئی تھی۔ اس کے بائیں گلابی گا ل پر کاجل سے ایک گول بڑ ا سا تل بنایا گیا تھاجو اس پر بہت سج رہا تھا….؟
ہاں ہے تو بڑی سوھنی۔ سکینہ….! اس کا ناں (نام) کی سوچا تُونے….؟
ارے یہ تو ہماری شہزادی ہے شہزادی۔ شفیق جو اندر سامان رکھنے آیا تھا وہیں سے بولا۔
اے تے وڈا خبصورت ناں اے۔(یہ تو بڑا خوبصورت نام ہے)
او نیئں نئیں ناں تو اس کا میرے سچے پیر سائیں کے ہاشم بابانے رکھا ہے ۔سکینہ پارس کی بلائیں لینے لگی۔
اچھا! کئی عورتیں ایک ساتھ بولیں…. وہ اب مرعوب نظر آرہی تھیں ۔
ہاں جی…. سکینہ اترائی۔
پارس رکھاہے اس کا نام ہاشم بابا نے۔
اس نے پیار سے بچی کو سینے سے چمٹالیا۔
واہ جی …. ہاشم بابا کب آئے گاؤں میں۔
ہاں جی …. وہ تو کافی عرصے سے گاؤں میں تھےہی نہیں۔
کب آئے وہ….؟
یہ تو مجھے پتہ نہیں کہ ہاشم بابا گاؤں میں کب آئے پر آج جب ہم درگاہ گئے تو وہاں ان سے ہماریملاقاتہوگئی۔
اچھا …. بڑی بات ہے جی…. ایک عورت نے کچھ طنزیہ سے انداز میں کہا۔
یہ تو بہت اچھا ہوا کہ تم لوگ آج بچی کو لے کر درگاہ گئے اور وہاں ہاشم بابا سے مل لیے۔ سکینہ کی ایک پڑوسن نے خوش دلی سے کہا۔
نصیبوں کی بات ہے جی نصیبوں کی۔ لگتا ہے یہ بچی بہت نصیبوں والی ہے۔ گاؤں کی ایک اور عورت سکینہ کو مبارک باد دیتے ہوئے بولی۔
ہاں …. مگر ہے تو لڑکی نا…. ایک عورت نے سرسری کے سے انداز میں اپنے ساتھ کھڑی عورتسے کہا۔
دیکھنا میں پارس کو خوب پڑھاؤں گی۔ اسے اچھی سے اچھی تعلیم دلواؤں گی۔سکینہ بڑے چاؤ سے بولی
اچھا…. کئی عورتوں نے پھر حیرت سے آنکھیں پھاڑیں ۔شاید ایسی عورت انھوں نے پہلی بار دیکھی.تھی۔
ارے اس کے نیک نصیب کی دعا کر۔ بس ساتھ خیریت کے گھرکو جائے ایک بوڑ ھی خاتون نے سکینہ.کو.ٹوکا۔
انشاءاللہ خالہ ضرور اپنے گھر کو جائے گی پر پہلے اسے پڑھاؤ ں گی اسے اچھا انسان بناؤں گی
تو کیا ہم نے برا انسان بنایا ہے اپنی بیٹیوں کو….؟ وہ چڑھ دوڑی۔
میرا مطلب ہے پڑھنے لکھنے سے صحیح غلط کا فرق پتہ چلتا ہے۔ فیصلہ کرنے کی قابلیت آتی ہے۔ سکینہ بھی بچوں کی طرح ضد کرنے لگی۔
ہاں بھئی بوت دیکھے ایسے پڑھانے والے۔ ذرا بڑی تو ہوجائے۔بوڑھی خاتون نے پھرچیلنج کیا۔

٭٭٭

مجھے تو اس عورت کی ذرا سمجھ نہیں آئی شاداں سویرے سویرے کسی نیوز بلیٹن کی طرح بانو کے گھر آدھمکی تھی اور دعوت کا احوال سنانے سے زیادہ سکینہ کو لعن طعن کرکے اپنا دل ہلکا کر رہی تھی
اچھا ۔ اف آج پھر کتنی گرمی ہے ۔ بانو خود کو پنکھا جھلتے ہوئے بولی
شاداں تُو ایسا کر ادھر بیٹھ جا ۔ادھر بہت ہوا ہے۔ بانو ایسا ظاہر کر رہی تھی جیسے اسے اس معاملے سے کوئی دلچسپی ہی نہ ہو۔
رب دی سو ایسا سجایا تھا اس کو جیسے کوئی حسین گڑیا۔ کہتی ہے پڑھاؤں گی اور اچھا انسان بناؤں گی بھلا بتاؤہم کیا برے انسان ہیں۔ وہ منہ سکیڑ کر بولی ۔
اب وہ اس کی بیٹی ہے۔ وہ جانے ہمیں کیا۔نصیبو نے ٹکڑا دیا
شاداں نصیبو کی بات سن کر تھوڑی حیران ہوئی ۔
کیا تم لوگوں کو ذرا دکھ نہیں ہوا بچی دیتے ہوئے۔ آخر کو تمہارا خون ہے وہ ۔
بانو کا رنگ پھیکا پڑگیا ۔
دیکھو باجی شاداں….! یہ فضول باتیں یہاں مت کرو۔ برادری کو جو بہتر لگا انھوں نے کیا۔اس نے اپنی جان چھڑائی۔
اور تم کو اس سے کیا….؟ ایویں دوسرے کے معاملوں میں فضول میں اپنی ناک گُھسیڑنا ۔نصیبو نے بھی دو ایک سنادی۔
ہے ہے توبہ کرو۔ میں یہاں کونسا تمہاری سن گن لینے آئی ہوں۔ میں تو سمجھی تھی کہ ماں باپ ہونے کے ناطے دکھی ہوگے ذرا دل ہی بٹادوںگیتمہارا۔
او ہو ہمیں کوئی دکھ نہیں ہم بہت خوش ہیں اور تم کونسا دکھ بانٹوگی۔ یہاں سے اگلے گھر جاکر ایک کی دو کرکے سناؤگی۔ نصیبو جل کر بولی۔
لے تے فر مجھے کیا….؟ میری بلا سے۔ میں تو چلی۔ شاداں بڑبڑاتی سر پر چادر ڈال باہر نکل گئی ۔
خیریت….؟ سامنے سے آتے کرم دین نے جو شاداں کو ایسے غصے میں جاتے دیکھا تو پوچھ بیٹھا۔
مگر وہ منہ بنا کر نکل گئی ۔
بانو کی زبانی ساری بات اور دعوت کا احوال سن کر وہ تھوڑا حیران ہوا ۔شاید اسے یقین نہیں تھا مگر پھر بھی بڑے اعتماد سے بولا:
ا بیّ صحیح کہتا تھا …. پڑھنے لکھنے سے عقل پر پتھر پڑ جاتے ہیں۔اب دیکھو نا ایک تو بیٹی گود لی اور اوپر سے یہ سب چونچلے بازیاں۔
آپ صحیح کہہ رے ہو جی۔ بانو نے جلدی سےسرہلا دیا۔
بے اولادی کی وجہ سے شفیق اور سکینہ کی عقل پہلے ہی جواب دے چکی تھی۔ اب ان کے ہاں بچے کی کلکاریاں سنائی دے رہی ہیں تو یہ پورے پاگل ہوگئے ہیں۔ بھلا بتاؤ….! بیٹی لے کر اتنی خوشیاں منانا یہ بھی کوئی بات ہوئی…. پاگل ہیں پاگل ۔ میں تو کہتا ہوں تو بھی اب ان لوگوں سے ذرا دور دور ہی رہ سمجھی ….؟
آہو جی ۔بانو نے فرمانبرداری سے سر ہلادیا۔ میں پانی لاتی ہوں۔

 

٭٭٭


گاؤں میں کئی دنوں تک دعوت اور اس کا لذیز کھانا موضوع گفتگو بنا رہا ۔ پھر سب معمول پرآنے لگا۔
بچی سال بھر کی ہوگئی تھی۔ پورا گاؤں جس بات کو شدت سے محسوس کررہا تھا وہ اس عرصے میں شفیق کے بدلتے ہوئے حالات تھے۔سب جانتے تھے وہ ایک معمولی کمہار ہے ۔روز مرہ کے برتن بناتا اور زیادہ سے زیادہ اگلے گاؤں تک بیچ آتا۔ اتنا کمالیتا کہ دو بندوں کی عزت سے گزر بسر ہوجائے ۔پھر بھی نہ جانے کہاں سے شفیق کے گھر میں ہُن برسنے لگا تھا۔اس کے بنائے ہوئے برتنوں کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا تھااور اب تو تحصیل میں بھی اس کے برتن فروخت ہونے لگے تھے۔
شفیق اور سکینہ پارس کو لے کر ہر تیسرے چوتھے دن درگاہ پر جاتے۔ وہاں حاضری اور دعا کے بعد ہاشم بابا سے ملتے۔ ہاشم بابا پارس کو اپنی گود میں لے کر اس پر دم کرتے اور اسے کچھ دیر اپنی گود میں لیے رکھتے۔
ماشاء اللہ …. ماشاء اللہ ۔ بہت پیاری بچی ہے۔ یہ نور والی ہے۔ اس سے روشنی پھیلے گی۔ یہ بہت خاص.ہے۔
جی بابا جی ….
بابا جی کی باتیں شفیق اور سکینہ خاموشی سے سنتے کچھ کہتے تو بس اتنا ہی کہہ پاتے جی ۔ بابا جی۔
گھر میں خوشحالی کے ساتھ ایک انجانی خوشی نے بھی بسیرا کر لیا تھا اور پھر ….ایک دن پورے گاؤں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب ایک انگریز میم شفیق سے ملنے آئی۔ اس کے ساتھ شہر کا کوئی آدمی اور تحصیل کا وہ دکاند دار بھی تھا جہاں شفیق برتن فروخت کرتا تھا۔اس نے بتایا یہ کہ میڈم تم سے آرڈر پر مٹی کے مختلف برتن مٹکے صراحی وغیرہ بنوانا چاہتی ہے جو یہ اپنے ملک میں نمائش میں رکھے گی۔ اس کام کے لیےانگریز میم کی طرف سے بتائی جانے والی رقم شفیق کے تصور سے بھی باہر تھی اتنی تو اسے گنتی بھی نہ آتی تھی۔
اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی تھی۔ وہ بار بار ننھی پارس کا ماتھا چومتا ۔اسے گود میں لے کر ہوا میں اچھالتا۔ ولایت سے برتنوں کے آرڈر ملنے پر جو بھی اسے مبارک باد دیتا وہ یہی کہتا کہ یہ سب میری بیٹی کے نصیب کا ہے۔ بڑی بھاگوان ہے میری پارس۔
سکینہ کو بار بار ہاشم با با کے کہے جملے یاد آجاتے۔ بڑی نصیبوں والی ہے تیری بیٹی۔ بہت خاص ہے۔
نصیبوں والی تو وہ سچ مچ تھی مگر اس خاص کا کیا مطلب ہے ….؟ سکینہ اکثر سوچتی مگر اسے کوئی خاطرخواہ جواب نہ مل پاتا۔

 

 

(جاری ہے….)
تحریر: آفرین ارجمند
از روحانی ڈائجسٹ اگست 2014ء

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

پارس ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں دوسر ی قسط : گھر میں پھیلی سوگواری ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن