کشورِ ظلمات ۔ قسط 10

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….

 

’’اندھیرا بھی روشنی ہے‘‘….
یہ حضرت قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے….
جس چیز کو ہم اندھیرا کہتے ہیں اُس میں بھی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا میں بھی زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ حرکت میں ہے…. ہم نے چونکہ اندھیرے کو خوف کی
علامت بنا دیا ہے، اس لئے اندھیرے میں روشن یہ دنیا ہم پر منکشف نہیں ہوتی…. لیکن ایسے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں جب کشورِ ظلمات کے مظاہر کے ادراک
کا احساس ہونے لگتا ہے…. سائنسی علوم کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں زندگی بیِشمار پیکر میں جلوہ گر ہوسکتی ہے…. سائنسی تحقیق کے مطابق
ایک زندگی وہ ہے جو ’’پروٹین اِن واٹر‘‘ کے فارمولے سے وجود میں آئی ہے۔ ہم انسان جو پروٹین اور پانی سے مرکب ہیں اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل
کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی مخلوق ’’پروٹین اِن ایمونیا‘‘ کے فارمولے پر تخلیق ہوئی ہو تو اُسے ایسی غذا کی ضرورت ہرگز نہ ہوگی جو انسان استعمال کرتے ہیں…. ممکن ہے وہ فضا
سے انرجی جذب کرکے اپنی زندگی برقرار رکھتی ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کے جسم میں نظام ہضم کے آلات مثلاً معدہ، جگر، گردے، آنتیں وغیرہ بھی موجود نہ ہوں!…. اُن
کے جسم کی ہیئت ہمارے تصور سے بالکل ماوریٰ ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کا جسم وزن سے بالکل آزاد ہو!…. وہ ہوا میں اُڑسکتی ہو!…. اتنی لطیف ہوکہ چشم زدن میں
ہماری نظروں سے غائب ہوجائے!…. وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہو!…. مابعد الحیاتیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسی مخلوق کا پایا جانا جانا
بعیدازامکان ہرگز نہیں ہے….
ظلمات کے معنی ہیں….تاریکی…. اور کشور کے معنی دیس یا وطن کے ہیں…. تاریکی کے دیس میں آباد ایک مخلوق سے متعارف کرانے والی یہ کہانی فرضی واقعات پر
مبنی ہے….  کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی….

 

 

(دسویں قسط)

عمر کو ہوش آیا تو اُس نے خود کو آہنی زنجیروں میں جکڑا ہوا پایا….اُس نے اُٹھنے کی کوشش کی لیکن آہنی زنجیروں کی گرفت اس قدر مضبوط اور سخت تھی کہ وہ محض بے جان شئے کی مانند بے حس و حرکت پڑے رہنے پر مجبور ہوگیا….۔ وہ یہ سوچ رہا تھا کہ کیا میں دوبارہ آگیا بتیال کے کارندوں کی گرفت میں آگیا ہوں؟…. یا پھر….
اُس نے ذہن پر زور دینے کی کوشش کی…. لیکن اُسے بے حد کمزوری محسوس ہو رہی تھی…. وہ زیادہ سوچ نہ سکا…. پھر اُس نے آواز دی…. ’’کوئی ہے؟‘‘…. جواب میں اُسے اپنی ہی آواز کی گونج سنائی دی…. پھر اُس پر غنودگی کا غلبہ ہوتا چلا گیا۔
٭٭٭
ڈاکٹر شاہد عمر کے جانب سے مایوس نہیں تھے…. لیکن اب اُن کی اُمیدیں کمزور پڑتی جارہی تھیں…. گوکہ وہ اس بات کی بھرپور کوشش کر رہے تھے کہ اس کیفیت کا اظہار اُن کے کسی جملے سے نہ ہونے پائے…. عمر کی والدہ نے تو دنیا و مافیہا سے بے خبر مصلّٰے اور تسبیح سنبھال رکھی تھی اور اسی میں رات دن ایک کر دیا تھا…. حرا نے بہتیرا سمجھایا کہ ماں جی اب آپ آرام کریں…. لیکن وہ سمجھتی تھیں کہ یہ وقت اُن کے آرام کا نہیں…. ماں کی دعا تو عرش کو ہلادیتی ہے…. اُن کا دل گواہی دیتا تھا کہ عمر جلد ہی صحتیاب ہوجائے گا…. حرابہت حساس تھی اُس نے ڈاکٹر شاہد کی ٹمٹماتی اُمیدوں کو شاید دیکھ لیا تھا…. اُسے اندازہ ہورہا تھا کہ عمر کے دل کی حرکت اور سانس کی آمدورفت کو مشینوں کے ذریعے برقرار رکھنے کا اب کوئی خاص فائدہ نہیں…. ایک بے جان وجود!…. برسوں بعد بھی جب بے جان رہے تو کیا ضرورت ہے اُسے تکلیف کے ساتھ روک کر رکھا جائے…. اُسے اگلی دنیا کے لئے آزاد کیوں نہ کردیا جائے…. کیا یہ زیادہ بہتر نہ ہوگا؟….
یہ خیالات اُس کے لئے نہایت تکلیف دہ تھے جو مسلسل اُن کے ذہن پر وارد ہورہے تھے…. بعض اوقات تو اُسے اپنا دماغ درد سے پھٹتا ہوا محسوس ہوتا…. وہ کر بھی کیا سکتی تھی سوائے دعا کرنے کے…. لیکن اُس کے اندر بھی عمر کی والدہ کی طرح اُمید کی ایک کرن مستقل روشن تھی…. اُسے شاید کسی معجزے کا انتظار تھا….لیکن اب یہ کرن بھی معدوم پڑتی جارہی اور جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اُس کی اُمید کی ڈوریں ایک ایک کرکے ٹوٹتی جارہی تھیں…. وہ سخت جھنجھلاہٹ کا شکار ہوگئی تھی….
پھر ایک روز ڈاکٹر شاہد نے فیض انکل اور حر اکو اپنے آفس میں بلواکر صاف صاف بات کر ڈالی…. حرا کے ضبط کے بند ٹوٹتے چلے گئے…. ڈاکٹر شاہد نے ساری حقیقت بیان کردی تھی…. لیکن اُن کا یہ کہنا تھا کہ اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ عمر کو دو تین سال تک اسی طرح زندہ رکھا جائے تو وہ ذاتی طور پر تمام اخراجات برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں…. اُنہوں نے دونوں کو کچھ روز تک اس حوالے سے سوچنے کا مشورہ دیا….
عمر کی ماں جی سے اِس موضوع پر کسی نے کوئی بات نہیں کی…. حرا اور فیض انکل دونوں ہی شش و پنج میں مبتلا تھے…. کیا کریں…. کیا نہ کریں…. حرا کے ذہن میں مجذوب فقیر کا خیال آیا…. وہ بھی کافی عرصہ سے کہیں دکھائی نہیں دیا تھا…. اور قسطورہ…. وہ بھی تو نظر نہیں آئی….۔
فیض انکل جو پہلے اُمید اور یقین کا باعث تھے اب وہ بھی اُسے صبر کی تلقین کر رہے تھے…. حرا اُن کی باتوں پر اُنہیں ایسے دیکھتی جیسے کہہ رہی ہو….۔
انکل آپ بھی؟….
لیکن وہ بیچارے بھی کیا کرتے…. اُن کے پاس بھی تو کوئی راستہ نہیں تھا…. جو باتیں وہ دونوں جانتے تھے اگر کسی کے سامنے بیان کی جاتیں تو وہ اُن کی عقل پر ہی شک کرنے بیٹھ جاتا…. فیض انکل کے پاس تاریکی کی اس دنیا کے بارے میں معلومات تو بہت تھیں جس کے اندھیاروں میں عمر گم ہوگیا تھا اور یہاں اُس کا مادّی جسم ایک بے جان شئے کی مانند پڑا تھا…. اُس دنیا سے متعلق اُن کے ذاتی تجربات بھی بہت تھے…. لیکن کشورِ ظلمات کی انجان اور ماورائی دنیا میں داخل ہونا اور پھر وہاں عمر کی تلاش!…. یہ اُن کے بس کا کام نہ تھا…. کشورِ ظلمات میں داخل ہونے کا دروازہ کہاں ہوگا…. کچھ پتہ نہیں…. چنانچہ اُنہوں نے بھی یہی مناسب سمجھا کہ اب صرف صبر واحد راستہ ہے…. جسے اب اختیار کرلینا چاہئے…. جہاں آدمی بالکل بے بس ہو اور اُسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اُس کو کس طرز کی کوشش کرنی چاہئے تو پھر دعا کا راستہ ہی باقی رہ جاتا ہے…. بندہ اپنے رب کے سانے سربسجود ہوکر اپنی عاجزی کا اظہار کردے….
وقت تھا کہ گزرا چلا جارہا تھا…. اس دوران دونوں کی ڈاکٹر شاہد سے ملاقات بھی ہوتی لیکن اس موضوع پر کوئی بات نہ ہوسکی اور ڈاکٹر شاہد بھی چونکہ حرا کے جذبات سے واقف تھے اس لئے اُنہوں نے بھی خود سے کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا…. ایک روز ڈاکٹر شاہد کے کلینک سے گھر واپس ہوتے ہوئے حرا اور فیض انکل کے ذہنوں میں بیک وقت ایک ہی سوچ گردش کر رہی تھی…. لیکن وہ دونوں اپنی زبان سے یہ سب کچھ کہنے کی ہمت نہیں کرپا رہے تھے…. آدھے سے زیادہ راستہ یونہی طے ہوگیا…. دونوں ایک دوسرے سے اپنے دل کی بات کہنے کے لئے مناسب الفاظ کا انتخاب کر رہے تھے….
گاڑی سنگل پر رُکی ہوئی تھی…. کہ اچانک وہی مجذوب فقیر دائیں جانب سے اُنہیں اپنی طرف آتا دکھائی دیا…. قریب آکر اُس نے فیض انکل کے شانے پر ہاتھ رکھا اور بولا ’’بچہ جس کے مقدر میں اللہ نے زندگی لکھی ہو اُسے موت کون دے سکتا ہے…. جو گم گیا اُسے تلاش کرو…. اُسے دفن مت کرو…. تلاش کرو‘‘….
فیض انکل نے فقیر کا ہاتھ پکڑ کر ملتجیانہ انداز میں کہا ’’بابا!…. کہاں تلاش کریں؟‘‘….
’’اپنے اندر تلاش کر…. سب کچھ اندر ہے…. سب کچھ اندر ہے‘‘….
یہ کہہ کر سڑک کراس کرتے ہوئے وہ تیزی سے بائیں جانب ایک گلی میں چلا گیا…. یہ سب کچھ اس قدر سرعت سے ہوا کہ وہ یہ بھول گئے کہ سگنل گرین ہوچکا ہے اور پیچھے کھڑی گاڑیاں مسلسل ہارن پر ہارن بجا رہی ہیں…. بادل ناخوانستہ اُنہوں نے بھی گاڑی سڑک پر دوڑادی…. حرا کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ….
’’انکل!…. سب کچھ اندر ہے…. کاکیا مطلب ہوا‘‘….
’’اپنی باطنی صلاحیتوں کا ادراک‘‘….
٭٭٭
عمر پر غنودگی کا غلبہ کم ہوا تو اُس نے اپنے اطراف جائزہ لینا شروع کیا…. یہ پتھر سے بنی ہوئی بہت قدیم عمارت تھی…. دیواروں پر لکڑیوں کے جالے تنے ہوئے تھے…. چھت کے شہتیر سے چمگادڑوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ اُلٹے لٹکے ہوئے تھے….
وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا…. یہ پہلے والی جگہ تو نہیں!…. یہ کوئی نیا قید خانہ ہے؟…. اُس نے سوچا…. پھر اُس نے اُٹھنے کی کوشش کی…. دیوار کا سہارا لینا چاہا تو اُس کا ہاتھ دیوار کے آرپار ہوگیا…. وہ بُری طرح سہم کر پیچھے ہٹ گیا…. اس نے اپنے اطراف کا جائزہ لیا…. ایک طرف کا دروازہ کھلا ہوا نظر آیا…. اُس کا ذہن یہاں سے فرار ہونے کے لئے بہت تیزی سے منصوبہ بندی کرنے لگا…. وہ تیزی سے دروازے کی طرف لپکا…. جس قدر تیزی سے اُس کا ذہن دروازے کے جانب متوجہ ہوا تھا قریب قریب اتنی ہی سرعت سے وہ دروازے کی پاس پہنچ گیا…. ایک لمحے کو رُک کر حیرت سے اُس نے سوچا آخر یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے…. میرا وجود اس قدر ہلکا پھلکاہوگیا ہے کہ میں کشش سے آزاد ہوگیا ہوں….
پھر تو وہ دوڑنے لگا…. یہاں تک کہ دوڑتے دوڑتے وہ فضا میں بلند ہوگیا اور پرواز کرنے لگا…. اُس کی رفتار بہت تیز تھی…. اُس نے نیچے دیکھا تو اُس کو خوف محسوس ہوا اور وہ نیچے اُتر آیا….
یہ کسی چھوٹے سے شہر کا بازار تھا….۔ موٹر سائیکلوں، رکشوں کے علاوہ یہاں بیل گاڑیاں بھی چل رہی تھیں…. وہ لوگوں کے درمیان چل رہا تھا لیکن کوئی اُس کی طرف متوجہ نہیں تھا…. اُس کو حیرت بھی ہوئی کہ آخر لوگ اُسے راستہ کیوں نہیں دے رہے…. سامنے سے آنے والے ایک ٹھیلے سے بچنے کی کوشش میں وہ ایک پہلوان نما آدمی سے ٹکرا بھی گیا لیکن اس ٹکر میںکسی کو کوئی چوٹ نہ لگی بلکہ وہ اس آدمی کے اندر سے گزر کر آگے بڑھتا گیا….
اُس کا وجود مادّی وجود نہیں تھا…. اُس کا یہ جسم روشنیوں کا جسم تھا…. لیکن بالکل مادّی جسم کی مانند، پورے خدوخال کے ساتھ…. وہی ہاتھ…. وہی پیر…. وہی ناک نقشہ…. سب کچھ وہی تو تھا…. مادّی جسم کے برعکس یہ بہت لطیف تھا…. اُس کے لئے یہ تجربہ انوکھا، دلچسپ اور حیرت انگیز تھا…. اب تک کسی کی نظر کو اُس نے اپنی جانب اُٹھتے ہوئے نہیں دیکھا…. یعنی لوگ اُسے دیکھنے سے قاصر تھے….
لوگوں کے پہناوے اور بول چال سے یہ اندازہ ہورہا تھا کہ وہ اس وقت بھارت کے کسی دیہاتی شہر میںموجود ہے…. یہاں کچھ مسلمان بھی نظر آئے لیکن زیادہ تعداد ہندوئوں کی تھی…. عورتیں شوخ رنگوں کی ساڑھیاں باندھے تھیں اور مرد کُرتے اور دھوتیاں پہنے ہوئے تھے…. ان کی دھوتیاں اُن کی پشت پر بندھی ہوئی تھیں…. مسلمان کرتا پاجامہ پہنے تھے…. اور مسلمان خواتین میں کچھ سیاہ برقعہ پہنے ہوئے تھیںاور کچھ شلوار قمیض میں ملبوس نظر آئیں….
اُس کو یہاں ایک دکان پر شوخ رنگ کے کپڑوںکے ٹکروں سے بنی ہوئی ایک چادر رکھی نظر آئی جسے پاکستان میں ’’رلّی‘‘ کہتے ہیں….
رلّی حرا کو بہت پسند تھی….
حرا کا خیال آتے ہی اُس کا دل محبت کے جذبات سے لبریز ہوگیا اُس وقت وہ یہ بھی بھول گیا کہ وہ مادّی وجود نہیںبلکہ ایک ماورائی وجود ہے اور اُسے یہاں کوئی بھی دیکھ نہیں سکتا…. اُس نے آگے بڑھ کر ’’رلّی‘‘ اُٹھائی اور دکاندار کو آواز دی جو دوسرے گاہکوں سے بحث میں اُلجھا ہوا تھا…. چند لمحے ہی گزرے ہوں گے اُسے یاد آگیا کہ وہ مادّی وجود نہیں ہے اور یہ لوگ اُس کو دیکھنے سے قاصر ہیں…. چنانچہ اس خیال کے آتے ہی اُس کے ہاتھ سے رلّی چھوٹ کر گرگئی…. گرنے کی آواز سے دکاندار کی توجہ رلّی کی طر ف مبذول ہوئی اور بڑبڑاتے ہوئے اُس نے رلّی اُٹھاکر اپنی جگہ پر رکھ دی…. وہ کہہ رہا تھا یہاں پر بلّیاں بہت ہوگئی ہیں…. بھگانے سے بھی نہیں بھاگتیں…. بہت ڈھیٹ ہیں…. سامان گرا پڑا کر چلی جاتی ہیں۔
عمر مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا…. اب وہ بازار کے آخری سرے پر پہنچ گیا تھا یہاں پر بستی کا بھی اختتام ہورہا تھا اور طویل میدانی علاقے کے بعد گھنا جنگل نظر آرہا تھا…. وہ ابھی میدان کے ابتدائی کنارے پر کھڑا سوچ رہا تھا کہ کہاں جائے…. سامنے سے خونخوار کتوں کا ایک ٹولہ اُس کو اپنی جانب دوڑتا دکھائی دیا…. کتوں کی نظر یں اُس کی طرف تھیں….
گویا یہ مجھے دیکھ سکتے ہیں!….
خوف کی ایک سرد لہر اُس کے رگ و پے میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی…. اُس نے اندھا دھند بھاگنا شروع کردیا…. اُس کی رفتار کتوں کے دوڑنے کی رفتار سے کہیں زیادہ تھی، کتے اپنی حد تک پہنچ کر رُک گئے اور کافی دیر تک اُس کی طرف منہ اُٹھائے بھونکتے رہے….
بے دھیانی میں وہ جنگل میں داخل ہوگیا تھا…. اور مسلسل بھاگ رہا تھا…. ذرا سی دیر میںجنگل کے وسط میں جا پہنچا…. یہاں ایک جوگی دھونی مارے بیٹھا تھا اور عجیب و غریب منتروں کا جاپ کر رہا تھا…. عمر دوڑتے ہوئے اُس کے قریب سے گزرا تو جوگی نے اُس کے ماورائی وجود کی آہٹ پائی…. اُس نے آنکھوں کھول کر دیکھا…. اور آواز لگائی…. رُک جا بالک….
عمر کو حیرت ہوئی اور وہ رُک بھی گیا…. اتنے عرصے بعد کسی انسان نے اُسے مخاطب کیا تھا…. اُس نے مڑ کر دیکھا جوگی کی لال انگارہ آنکھیں اُس پر جمی ہوئی تھیں…. اُس کے ہونٹوں پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی اُس کے چہرے سے خوشی کے فوارے اُبل رہے تھے جیسے پہروں سے منتظر شکاری کے چہرے سے پھوٹتے ہیں جب وہ شکار کو اپنے جال کی طرف بڑھتا ہوا دیکھا ہے۔
عمر نے خطرہ محسوس کیا اور بھاگنے کے لئے قدم بڑھائے…. پیچھے سے جوگی نے ایک مٹھی راکھ اُٹھا کر اُس کی طرف پھینکی…. راکھ فضا میں تحلیل ہونے کے بعد روشنیوں کے جال کی صورت اختیار کرگئی…. اس جال کا ایک سرا جوگی کے ہاتھ میں تھا…. قریب تھا کہ جال اُس کے اوپر آگرتا اور وہ ایک بار پھر جکڑ لیا جاتا….
اچانک سامنے سے ایک سادھو نمودار ہوا…. سادھو کا حلیہ بالکل جوگی کی مانند ہی تھا لیکن اُس کی آنکھوں میں نرمی، چہرے پر شفقت اور محبت کا بھرپور تاثر موجود تھا…. سادھو نے اشارہ کیا اور جال دھواں بن کر دوبارہ فضا میں تحلیل ہوگیا…. جوگی غصے سے اُٹھ کر کھڑا ہوگیا….’’تم آخر میرے معاملے میں کیوں دخل دیتے ہو‘‘….۔
’’یہ تمہارا معاملہ نہیں!…. تمہارا معاملہ صرف تمہاری سوچ کی حد تک ہے جسے تم اچھا یا بُرا بنا سکتے ہو…. باقی دنیا کے نظام میں دخل دینے کا تمہیں کوئی اختیار حاصل نہیں‘‘…. سادھو کے یہ کہتے ہی جوگی رسّیوں میں جکڑ گیا…. اب وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھا سوائے اس کے کہ سادھو کو مغلظات بکتا رہے….
عمر ہکا بکا کھڑا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا…. سادھو نے عمر سے کہا ’’جا بالک چلا جا…. تیری ماں تیرا انتظار کر رہی ہے…. میری شکتیاں بھی تیری مدد کریں گی‘‘…. عمر دوبارہ اُسی رفتار کے ساتھ دوڑنے لگا…. جنگل ختم ہوتے ہی دریا شروع ہوگیا تھا…. اب اُس نے پرواز شروع کردی…. اس دوران وہ نجانے کتنے صحرا و بیابان اور شہرو دیہات پر سے گزرا…. سمت کا تعین بھی خودبخود اُسے انسپائر ہوتا جارہا تھا…. قدرت اُس کی مدد کر رہی تھی…. کافی دیر بعد اُس نے نیچے دیکھا تو وہ دریا کے کنارے کنارے اُڑ رہا تھا…. اچانک ایک جگہ سے چیختے چلّاتے خوفناک وجود اُس کی طرف لپکے…. یہ شاید شمشان گھاٹ تھا…. جہاں پر آوارہ انسانی ہمزاد مقیم تھے جو اپنی کثافت کے باعث مادّی زون سے باہر نہیں نکل سکے تھے…. اب اُس کے ماورائی وجود کو دیکھ کر اُس کا پیچھا کر رہے تھے…. خوفناک آوازیں اُس کے ذہن پر نشتر بن کر چبھ رہی تھیں….
ان میں کچھ عورتیں تھیں اور کچھ مرد…. ان کے اُڑنے کی رفتار بھی بہت تیز تھی…. اس کو خوف لاحق ہوا کہ کہیں وہ ان کی گرفت میں نہ آجائے…. وہ اپنے دفاع کے لئے کیا کرے؟…. ابھی وہ یہی کچھ سوچ رہا تھا کہ اُسے اپنی ماں جی کی آواز سنائی دی وہ کہہ رہی تھیں…. ’’پتر عمر!…. اللہ کا نام لے…. اللہ بڑا کارساز ہے‘‘….
وہ مسلسل یہی پکارے جارہی تھیں…. اُس وقت اُسے جو بھی کلام الٰہی یاد آیا اُس نے پڑھنا شروع کردیا…. پھر وہ مسلسل یاحی یاقیوم کا ورد کرنے لگا….
اچانک اُسے ایک زبردست جھٹکا لگا اور اُس کا ذہن اندھیرے میں ڈوبتا چلا گیا…. اندھیرے کی سیاہی میں ایک وجود ایسا تھا جو روشنی بن کر اُسے نظر آرہا تھا…. وہ اُس کی ماں جی تھیں…. اُس نے بے اختیار پکارا…. ماں جی!….
پھر اُس نے آنکھیں کھولیں…. وہ ہسپتال کے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا….’’ماں جی‘‘…. اُس نے پھر آواز دی…. اُس کی آنکھیں غنودگی اورکمزوری کی وجہ سے بند ہوئے جارہی تھیں…. اُس نے دیکھا، ماں جی کرسی پر بیٹھے بیٹھے بے خبر سو رہی ہیں…. اُس نے پھر پکارا ’’ماں جی!‘‘….
’’پتر‘‘…. ماںجی اُٹھ کر بجلی کی مانند اُس کی جانب لپکیں اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں…. شور سُن کر کئی نرسیں اِدھر دوڑیں عمر کو ہوش میں آتا دیکھ کر ایک نرس ڈاکٹر کو بلانے چلی گئی اور باقی عمر کے پاس آگئیں….

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

پارس ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں دوسر ی قسط : گھر میں پھیلی سوگواری ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن