کشورِ ظلمات ۔ قسط 9

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….

 

’’اندھیرا بھی روشنی ہے‘‘….
یہ حضرت قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے….
جس چیز کو ہم اندھیرا کہتے ہیں اُس میں بھی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا میں بھی زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ حرکت میں ہے…. ہم نے چونکہ اندھیرے کو خوف کی
علامت بنا دیا ہے، اس لئے اندھیرے میں روشن یہ دنیا ہم پر منکشف نہیں ہوتی…. لیکن ایسے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں جب کشورِ ظلمات کے مظاہر کے ادراک
کا احساس ہونے لگتا ہے…. سائنسی علوم کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں زندگی بیِشمار پیکر میں جلوہ گر ہوسکتی ہے…. سائنسی تحقیق کے مطابق
ایک زندگی وہ ہے جو ’’پروٹین اِن واٹر‘‘ کے فارمولے سے وجود میں آئی ہے۔ ہم انسان جو پروٹین اور پانی سے مرکب ہیں اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل
کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی مخلوق ’’پروٹین اِن ایمونیا‘‘ کے فارمولے پر تخلیق ہوئی ہو تو اُسے ایسی غذا کی ضرورت ہرگز نہ ہوگی جو انسان استعمال کرتے ہیں…. ممکن ہے وہ فضا
سے انرجی جذب کرکے اپنی زندگی برقرار رکھتی ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کے جسم میں نظام ہضم کے آلات مثلاً معدہ، جگر، گردے، آنتیں وغیرہ بھی موجود نہ ہوں!…. اُن
کے جسم کی ہیئت ہمارے تصور سے بالکل ماوریٰ ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کا جسم وزن سے بالکل آزاد ہو!…. وہ ہوا میں اُڑسکتی ہو!…. اتنی لطیف ہوکہ چشم زدن میں
ہماری نظروں سے غائب ہوجائے!…. وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہو!…. مابعد الحیاتیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسی مخلوق کا پایا جانا جانا
بعیدازامکان ہرگز نہیں ہے….
ظلمات کے معنی ہیں….تاریکی…. اور کشور کے معنی دیس یا وطن کے ہیں…. تاریکی کے دیس میں آباد ایک مخلوق سے متعارف کرانے والی یہ کہانی فرضی واقعات پر
مبنی ہے….  کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی….

 

 

(نویں قسط)

رات دو ہفتے گزر گئے…. پتہ بھی نہیں چلا…. حرا کی روٹین بن چکی تھی کہ وہ آفس سے فارغ ہونے کے بعد ڈاکٹر شاہد کے کلینک چلی جاتی اور عمر کے سرہانے بیٹھ کر مجذوب فقیر کی ہدایت کے مطابق سورۂ جن کی تلاوت کرتی۔ اس دوران حرا کے والد بھی کئی مرتبہ عمر کو دیکھنے آئے تھے۔ کسی روز وہ فیض انکل کے ساتھ گھر واپس جاتی اور کسی روز اُس کے والد اُسے لینے آجاتے۔ ڈاکٹر شاہد حرا کی اس چاہت، لگن اور ہمت کو حیرت کے ساتھ ساتھ قدر کی نگاہ سے بھی دیکھ رہے تھے۔
پھر روزانہ کے اس معمول کو چالیس دن بھی گزر گئے….
اسی دوران کچھ عجیب و غریب کیفیات حرا کو محسوس ہورہی تھیں…. اُس کے خواب سچے ہونے لگے…. وہ خواب میں جو کچھ دیکھتی، چند روز یا اگلے روز وہ بات یا واقعہ اُسی طرح مظہر بن جاتا جس طرح خواب میں دیکھا تھا…. اس کے علاوہ جب وہ سورۂ جن کی تلاوت کررہی ہوتی تو اُسے چنبیلی کی تیز خوشبو محسوس ہوتی…. ایک مرتبہ فیض انکل بھی موجود تھے تو اُس نے تلاوت کے بعد اُن سے بھی دریافت کیا…. انہوں نے کہا کہ اُنہیں ہسپتال کی مخصوص بو جو دواؤں اور اسپرٹ کا مکسچر ہوتی ہے، کے علاوہ کوئی خوشبو محسوس نہیں ہورہی ہے…. یعنی یہ معاملہ صرف اُسی کے ساتھ تھا…. اُسے حیرت بھی ہوئی…. لیکن اُس نے زیادہ توجہ نہ دی….
چالیسویں دن وہ عمر کے کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی…. نرس ریڈنگ وغیرہ لے کر جاچکی تھی…. تلاوت کرتے ہوئے اُسے نیند کے شدید جھونکے آنے لگے لیکن اُس نے تلاوت جاری رکھی…. تلاوت ختم کرنے کے بعد اُس نے قرآنِ پاک اپنے پرس میں رکھا…. چند لمحوں میں اُسے چنبیلی کے پھولوں کی خوشبو دُور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی…. بتدریج یہ خوشبو بڑھتی چلی گئی…. اچانک اُسے اپنے سامنے ایک نسوانی وجود کا احساس ہوا….
دھوئیں کی مانند یہ نسوانی ہیولہ آہستہ آہستہ ٹھوس شکل اختیار کرتا گیا…. حرا کو بہت ڈر لگا اور اُس کے حواس جواب دینے لگے لیکن اُس نے بڑی ہمت سے کام لیا اور اپنے چہرے سے اس کیفیت کو ظاہر نہیں ہونے دیا….
وہ بہت خوبصورت لڑکی تھی…. لیکن اُس کا قدمردوں سے بھی زیادہ تھا…. چہرہ بے حد پرکشش تھا اور آنکھیں قدرے گول…. لیکن اُس وقت وہ بہت پریشان سی دکھائی دے رہی تھی…. اُس کی نظریں مسلسل عمر پر مرکوز تھیں…. شاید اُس کو احساس نہیں تھا کہ حرا بھی وہیں موجود ہے…. وہ عمر کے بیڈ کے ساتھ کچھ دیر فکر مندی کے عالم میں ٹہلتی رہی….
حرا کو خیال آیا کہ کہیں یہ قسطورہ تو نہیں ہے؟…. جو عمر کو نظر آیا کرتی تھی…. اگر یہ قسطورہ ہے تو آخر یہ اتنے روز کہاں غائب تھی اور اس نے عمر کی اس حالت میں کوئی مدد کیوں نہ کی؟….
حرا ایک طرف ڈر، خوف اور شش و پنج کے عالم میں بیٹھی تھی اور اُس کے ذہن میں طرح طرح کے سوالات اُبھر رہے تھے…. اُن میں سے کسی سوال کا جواب اُس کے پاس نہ تھا….
اچانک اُس ماورائی نسوانی وجود کو احساس ہوا کہ یہ لڑکی بھی اُس کو دیکھ سکتی ہے۔ شاید اس سے قبل وہ اِس حقیقت سے بے خبر تھی…. جب اُس کو قدرے یقین ہوگیا کہ حرا بھی اُس کی موجودگی سے آگاہ ہے…. تو اُس نے ٹہلنا بند کیا اور کچھ سوچ کر اُسے مخاطب کیا….
’’میں قسطورہ ہوں!…. تم؟‘‘….
’’میرا نام حرا ہے!‘‘…. حرا نے پھنسی پھنسی آواز میں جواب دیا
’’اچھا تم حرا ہو!…. اچھا ہوا تم سے ملاقات ہوگئی…. مجھے یقین نہیں تھا کہ تم مجھے دیکھ سکو گی…. اس لئے کہ ہمیں صرف وہی انسان دیکھ سکتے ہیں جن میں باطنی صلاحیتیں کام کررہی ہوتی ہیں یا پھر ہم اگر خود کو کسی پر ظاہر کردیں تو وہ انسان ہم کو دیکھ لیتا ہے‘‘….
’’تم قسطورہ ہو؟…. اگر یہ سچ ہے تو تم نے عمر کی کوئی مدد کیوں نہیں کی اور تم اتنے دنوں سے کہاں غائب تھیں؟‘‘…. حرا نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا….
’’ہاں!…. میں ہی قسطورہ ہوں…. میں کہاں غائب تھی؟…. مجھے بھی اُنہی لوگوں نے قید کرلیا تھا…. جنہوں نے عمر کو اغوا کیا تھا…. میں بڑی مشکل سے اُن کے چنگل سے نکل پائی ہوں…. عقابل چاچا نے ہم دونوں کی مدد کی تھی…. لیکن عمر دوبارہ اُن کی گرفت میں آگیا‘‘….
’’عقابل خان!…. وہ کوٹھی کا چوکیدار؟‘‘…. حرا نے سوال کیا
’’ہاں!….۔ وہ میرے چاچا ہیں…. کوٹھی پر وہ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے‘‘….
’’عمر کو تم نے دوبارہ کیوں آزاد نہیں کرایا؟‘‘….
’’اول یہ کہ وہ لوگ کہیں اور شفٹ ہوگئے تھے…. دوسرے جب ہمیں اُن کے ٹھکانے کا علم ہوا اور ہم وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ عمر اُن کے پاس سے فرار ہوچکا ہے…. وہ لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں…. ہماری خوب لڑائی ہوئی اور ہم نے اُنہیں وہاں سے مار بھگایا…. پھر ہم نے اُن کے قیدخانے کی تلاشی لی تو وہاں عمر موجود نہیں تھا…. چند قیدی وہاں بہت بُری حالت میں تھے…. ایک کی حالت ذرا بہتر تھی تو اُس نے اس بات کی تصدیق کی کہ عمر اُن کے چنگل سے آزاد ہوگیا تھا‘‘….
’’اب عمر کہاں ہوگا؟…. اوہ خدایا‘‘…. حرا دعائیں مانگنے لگی….
عمر کا گوشت پوست کا جسم بیڈ پر آنکھیں بند کئے لیٹا تھا…. لیکن بے حس و حرکت…. عمر کے باطنی وجود کا عمر کے شعور کے ساتھ رابطہ صرف اِس حد تک تھا کہ اُس کے دل کی دھڑکن بند نہیں ہوئی تھی…. لیکن زندگی کے تمام اعمال و افعال اس جسم سے منقطع ہوگئے تھے…. اور ایک دوسرے عالم میں جاری و ساری تھے….
’’تم فکر نہ کرو…. عقابل چاچا اور ہماری دنیا کی پولیس عمر کو تلاش کررہی ہے…. جلد ہی اُس کا پتہ چل جائے گا‘‘…. قسطورہ نے حرا کو تسلی دی…. یہ کہہ کر قسطورہ حرا کی نظروں سے اوجھل ہوگئی….


٭٭٭

 عمر کی حالت ایسی تھی گویا آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا….
اُس کی بدقسمتی کا دور اُس وقت شروع ہوا جب اُس نے شیراز کے تایا کی کوٹھی میں رہنے کا فیصلہ کیا…. یہ کوٹھی پورے علاقے میں جنّاتی کوٹھی کے نام سے مشہور تھی لیکن چونکہ اُسے اِس شہر میں زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا چنانچہ اِس بارے میں اُسے زیادہ معلومات نہیں تھیں….
اُس کوٹھی پر آگیا بتیال کے جنّات نے قبضہ کررکھا تھا…. آگیا بتیال کا ایک سرکردہ جن قسطورہ کے ماموں عنبر کا بیٹا تھا…. قسطورہ کے ننھیال کی طرزِ فکر میں تخریب کا عنصر نمایاں تھا…. لیکن اُس کے اندر اپنے دادا عمرام کی سوچ منتقل ہوئی تھی…. اُن کو روحانی بزرگوں اور اولیاء اللہ سے بہت فیض منتقل ہوا تھا…. اُن کے اندر قدرتی طور پر بچپن ہی سے یہ صلاحیت موجود تھی کہ وہ انسانوں کی دنیا میں بآسانی آجاسکتے تھے…. وہ قسطورہ کی تربیت کررہے تھے…. لیکن ابھی قسطورہ کو انسانوں کی دنیا میں جانے کی اجازت نہیں ملی تھی…. لیکن جس طرح انسانوں کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ وہ ہر اُس کام کو کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کام سے اُنہیں روکا جاتا ہے…. بالکل اُسی طرح بہت سے جنّات کی سوچ میں بھی یہ عنصر موجود ہے….
قسطورہ کو انسانوں کی دنیا دیکھنے کا بہت شوق تھا…. اُس کے اسکول میں ایک طالبعلم ایسا تھا جو انسانوں کی دنیا دیکھ کر آیا تھا۔ اُس کے اندر غیر ارادی طور پر یہ صلاحیت اُبھر آئی اور وہ مادّی دنیا میں داخل ہوگیا لیکن خود بخود یہ صلاحیت ختم بھی ہوگئی…. وہ بہت مزے لے لے کر انسانوں کی دنیا کے قصّے سنایا کرتا تھا…. اُس کا خیال تھا کہ انسان بہت ڈرپوک مخلوق ہے….
قسطورہ نے یہ بات اپنے دادا کو بتائی تو وہ مسکرانے لگے…. اور نہایت دھیمے لہجے میں جواب دیا’’بیٹی قسطورہ!…. تمہارے اسکول کے دوست کا خیال درست نہیں…. اُس کا تجربہ بھی بہت محدود ہے اور اُس تجربے سے حاصل ہونے والے نتائج کو سمجھنے کے لئے اُس کا شعور بھی ابھی بہت کم ہے لہٰذا اُس کی بات اِس قابل نہیں ہے کہ اُس پر توجہ دی جائے‘‘….
’’لیکن دادا…. وہ تو یہ بتاتا ہے کہ جب وہ انسانوں کے سامنے آیا تو سب بُری طرح ڈر گئے تھے…. اور ایک تو ہوش ہواس ہی گم کر بیٹھا تھا؟‘‘….
’’بھئی اگر انسانوں کی دنیا کا کوئی فرد ہماری دنیا میں آجائے تو ہماری دنیا کے بہت سے لوگ بھی اُسی ردّ عمل کا مظاہرہ کریں گے جیسا ردّ عمل انسانوں نے ظاہر کیا تھا‘‘….
’’دادا…. کیا انسان ہماری دنیا میں آسکتے ہیں؟‘‘….
’’ہاں! جو اپنی روحانی صلاحیتیوں سے واقف ہوتے ہیں وہ ہماری دنیا میں آتے جاتے رہتے ہیں‘‘….
قسطورہ کا تجسس دن بدن بڑھتا چلا گیا…. اور جب اُس کے اندر اتنی صلاحیت بیدار ہوگئی کہ وہ انسانوں کی دنیا میں داخل ہوسکے تو اُس نے موقع پاتے ہی اپنی خواہش پر عمل کرڈالا…. سوئے اتفاق اُس کی پہلی نظر عمر پر پڑی…. عمر اُس وقت جھنگ شہر میں مقیم تھا…. قسطورہ کا لڑکپن اب جوانی کی سرحدوں تک آن پہنچا تھا…. عمر بھی بھرپور جوان تھا…. قسطورہ کے نسوانی جذبات میں تلاطم پیدا ہوا اور وہ عمر کو دل دے بیٹھی…. اُس وقت اُس میں اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ انسانوں کے سامنے خود کو ظاہر کرسکے اور عمر میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ وہ قسطورہ کو دیکھ سکے چنانچہ قسطورہ انسانوں کی دنیا کو محض تماشہ کے طور پر دیکھتی رہی…. ابھی اُس کی روحانی تربیت ہورہی تھی…. قسطورہ کے دادا کو اُس کی سوچ کا اندازہ تھا اسی لئے انہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے عقابل کو انسانوں کی دنیا میں قسطورہ کی نگرانی پر مقرر کردیا تھا…. جو آگیا بتیال کی سرگرمی کو انسانوں کی دنیا میں پھیلنے سے روکنے کے لئے کافی عرصے سے اپنی ذمہّ داریاں بحسن و خوبی ادا کررہا تھا…. عقابل کو ابھی اس بات کا علم نہیں تھا کہ قسطورہ کا ماموں زاد بھائی عنبر آگیا بتیال کا سرگرم رکن ہے…. لیکن عنبر کو یہ بات معلوم تھی کہ عقابل کو اُن کے خلاف مقرر کیا گیا ہے…. چنانچہ اُس نے عقابل کو ختم کرنے کی بہت کوشش کی…. پھر اسی دوران عمر کوٹھی میں شفٹ ہوگیا…. گویا آگیا بتیال کا شکار خود چل کر اُن کے پاس آگیا تھا…. ایک روز عنبر نے قسطورہ کو کوٹھی میں آتے دیکھ لیا…. اُس نے چھپ کر قسطورہ کا پیچھا کیا…. قسطورہ انیکسی میں داخل ہوگئی…. ایک انسان کے لئے قسطورہ کا التفات اور سرشاری جو واضح طور پر عشقومحبت کا مظہر محسوس ہورہی تھی، کو دیکھ کر تو عنبر کا خون کھول اُٹھا….
وہ قسطورہ سے شادی کرنے کا خواہش مند تھا….
چنانچہ اس سے پہلے کہ معاملہ کوئی اور شکل اختیار کرجائے اُس نے اپنے والد کے ذریعے قسطورہ کے لئے رشتے کا پیغام بھیجا….
قسطورہ کی والدہ خود یہی چاہتی تھیں لیکن اُن کے گھر میں قسطورہ کے دادا عمرام کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا تھا…. اور قسطورہ کے دادا نے رشتے سے صاف انکار کردیا…. قسطورہ کی بھی یہی خواہش تھی۔ اُس کے دادا نے اُس کی رائے لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ صادر کیا تھا….
عنبر کو اس کی قطعی توقع نہیں تھی کہ اُس کے ساتھ ایسا بھی ہوسکتا ہے…. وہ آپے سے باہر ہوگیا…. اُس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ وہ عمر کو اغوا کر کے لے آئیں…. اُس کا منصوبہ بہت بھیانک تھا وہ عمر کے ذریعے قسطورہ کے گھر کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا تا کہ قسطورہ کی محبت، نفرت اور غصہ میں تبدیل ہوجائے یوں قسطورہ خود اپنے ہاتھوں عمر کو ختم کردے…. اور اس کام کے لئے پہلے عمر کی سوچ میں تبدیلی ضروری تھی…. عمر کی سوچ کو منفی طرزوں پر ڈالنے کے لئے اُس کو ایک شیطانی پروسس سے گزارنا تھا…. آگیا بتیال کے کارندوں کی ابتدائی کوششیں عقابل نے ناکام کردیں…. لیکن بالآخر وہ کامیاب ہوگئے….
عنبر چاہتا تھا کہ عمر کو مادّی جسم کے ساتھ عالمِجنّات میں لایا جائے لیکن اُس کا شعور کمزور ثابت ہوا اور یوں انہیں اُس کے جسم کو وہیں چھوڑنا پڑا…. قسطورہ کو جب پتہ چلا کہ عمر کو آگیا بتیال کے کارندوں نے اغوا کرلیا ہے تو جذبات میں آکر بغیر کسی سے مشورہ کئے اُن کے ٹھکانے کی طرف چل پڑی…. وہاں اچانک عنبر اور قسطورہ کا آمنا سامنا ہوگیا…. اب عنبر کے لئے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ وہ قسطورہ کو بھی قید کرلے، ورنہ قسطورہ کی گواہی اُس کی موت کا باعث بھی بن سکتی تھی….عالمِ جنّات کا قانون بہت سخت ہے…. وہاں پر تخریب پسند گروہ سے کسی جن کا تعلق ثابت ہوجائے تو اُسے عمر قید، ملک بدر یا پھر سزائے موت تک دی جاسکتی ہے…. اور آگیا بتیال کے گروہ کو ختم کرنے کے لئے عالمِ جنّات کی پولیس اور دیگر ریاستی ادارے سرگرم ہیں….
عنبر کا تعلق ایک معزز خاندان سے تھا، کسی کو خبر نہ تھی کہ اُس کی خفیہ سرگرمیاں کیا ہیں…. قسطورہ کو بھی ایک لمحے کے لئے یقین نہ آیا…. پھر اُسے یاد آیا کہ اُس کے دادا نے عنبر کے ساتھ اُس کے رشتے کی بات پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا…. یقینا وہ صاحبِبصیرت تھے….
عنبر نے قسطورہ کے ساتھ نہایت بے رحمی کا سلوک کیا…. اُسے اُس وقت صرف اپنی ذات سے دلچسپی تھی…. قسطورہ نے اپنے خیالات لہروں کی شکل میں دادا کو انسپائر کردیئے تھے اور منتظر تھی کہ اُن کی طرف سے کب مدد آتی ہے…. چند روز میں عقابل چاچا اُس کی مدد کو آن پہنچے…. اُنہوں نے آگیا بتیال کے بدمعاشوں کا مقابلہ کیا…. اس لڑائی میں وہ بُری طرح گھائل بھی ہوگئے…. لیکن آخر کار وہ قسطورہ اور عمر کو چھڑانے میں کامیاب ہوگئے…. اس سے پہلے کہ وہ لوگ کسی محفوظ جگہ پہنچتے…. آگیابتیال نے ایک بھرپور حملہ کردیا اور عمر دوبارہ اُن کی گرفت میں چلا گیا….
اب آگیابتیال نے اپنا ٹھکانہ بھی تبدیل کرلیا تھا…. عقابل کے علاوہ عالمِ جنّات کی پولیس بھی عمر کو تلاش کررہی تھی…. لیکن اُس کا کہیں کچھ پتہ نہ چلتا تھا….
اُدھر عمر کو ایک روز وہاں سے فرار ہونے کا موقع ملا…. وہ کافی عرصے سے اِس موقع کی تلاش میں تھا…. آگیا بتیال کے لوگ چند روز بعد اپنے ٹھکانے بدل رہے تھے، اِس لئے کہ اب عالمِ جنّات کی پولیس اُن کی تلاش میں مسلسل چھاپے مار رہی تھی…. ایک جگہ زیادہ دن رہنا اُن لوگوں کے لئے خطرے سے خالی نہ تھا…. ایک روز جب وہ نئی جگہ شفٹ ہورہے تھے تو ایک ویران علاقے سے اُن کا گزر ہوا…. رات ہوگئی تھی…. عمر کی نگرانی کرنے والے بدمعاش خوابِغفلت میں پڑے تھے جب کہ عمر کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور جاچکی تھی…. وہ خوب چوکنّا ہو کر آنکھیں بندکئے بیٹھا تھا…. اُس کے پیروں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں…. ایک بدمعاش نے کروٹ بدلی تو اُس کی بیلٹ سے لٹکتی ہوئی چابی عمر کو نظر آئی…. عمر نے آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ بڑھایا…. اور نہایت احتیاط سے چابی نکالنے کی کوشش کی…. چند کوششوں میں چابی نکل آئی…. اب ہتھکڑیاں کھولنے کا مرحلہ درپیش تھا…. یہ مرحلہ بہت طویل اور صبر آزما تھا…. خدا خدا کر کے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کھل گئیں اور وہ آزاد ہوگیا….
آزاد ہونے کے بعد اب وہ کہاں جائے کیوں کہ یہ تو بیابان تھا…. ہر طرف سیاہ پہاڑ دکھائی دیتے تھے…. جن کو دیکھ کر ہی خوف کی ایک لہر ریڑھ کی ہڈی میں دور کرنے لگتی تھی…. عمر نے اللہ کا نام لے کر ایک سمت بھاگنا شروع کردیا…. اُس نے محسوس کیا کہ عام حالت میں وہ جس قدر تیز دوڑ سکتا تھا، اُس وقت وہ کئی گنا زیادہ رفتار سے دوڑ رہا تھا….
کئی مرتبہ تو وہ ٹھوکر کھا کر گرا بھی لیکن دوبارہ سے ہمت کر کے اُس نے بھاگنا شروع کردیا…. کئی گھنٹے گزرنے کے بعد وہ ایک پہاڑ تک پہنچا…. پہاڑ کی چوٹی تک جانے کے لئے ایک راستہ سا بنا ہوا تھا…. اُس نے پہاڑ پر چڑھنا شروع کردیا…. پہاڑ کے اوپر پہنچ کر دوسری طرف اُسے آبادی کے آثار محسوس ہوئے…. لہٰذا احتیاط کے ساتھ عمر نے پہاڑ سے نیچے اُترنے کی کوشش کی…. ایک جگہ اُس کا پیر سلپ ہوگیا اور وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور بلندی سے نیچے کی طرف گرتا چلا گیا….
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

پارس ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں دوسر ی قسط : گھر میں پھیلی سوگواری ...

کشورِ ظلمات ۔ قسط 5

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن