پارس ۔ قسط 5

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

کچھ نہیں بلکہ بہت سارے لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں ۔مرد ہونا طاقت اور اکرام کا سبب ہے۔عورت کا وجود کمزوری اورشرمندگی کی علامت ہے۔ 
ایسا سوچنے والے صرف مرد ہی نہیں ہیں کئی عورتیں بھی اس بات پر یقین رکھتی ہیں۔
بیٹے کی ماں بن کر بعض عورتیں خود کو محفوظ اورمعزز خیال کرتی ہیں، بیٹی کی ماں بن کر خود کوکمزور محسوس کرتی ہیں۔ مردانہ تسلط والے معاشر ے میں کئی مصیبتوں ،دکھوں اورظلمتوں کے درمیان ابھرنے والی ایک کہانی….مرد کی انا اورعونت، عورت کی محرومیاں اوردکھ،پست سوچ کی وجہ سے پھیلنے والے اندھیرے، کمزوروں کا عزم ،علم کی روشنی ،معرفت کے اجالے، اس کہانی کے چند اجزائے ترکیبی ہیں۔
نئی قلم کار آفرین ارجمند نے اپنے معاشرے کا مشاہدہ کرتے ہوئے کئی اہم نکات کو نوٹ کیا ہے۔ آفرین ارجمند کے قلم سے ان کے مشاہدات کس انداز سے بیان ہوئے ہیں اس کا فیصلہ قارئین خود کریں گے۔

پانچویں قسط :

 

ننھی پارس جھولے میں لیٹی   جھنجنے کو اپنے ننھے منے ہاتھوں میں دبائے اسے الٹ پلٹ رہی تھی۔جھنجھنے  کے بجنے سے پیدا  ہونے والی چھن چھن کی آواز پر پارس کی آنکھوں کی چمک  مزیدبڑھ جاتی اور وہ خوش ہو کر تیزی سے ہاتھ پیر مارنے لگتی ،ساتھ میں ا س کی کلکاریاں ماحول کی خاموشی میں موسیقیت بکھیر دیتیں ۔

   سکینہ اس کی ہر حرکت پر صدقے واری جاتی  جھولے کو دھیرے سے آگے پیچھے دھکیل رہی تھی۔ساتھ ساتھ ذرا سی بھی مچھر یا مکھی کی بھن بھن پر وہ دوپٹے کا ایک بڑا سرا  ہاتھ میں پکڑ کر اسے ہوا میں لہرانے لگتی اوراپنی دانست میں پارس کو ان حشرات الارض سے محفوظ کر لیتی۔کبھی جو دوپٹہ پارس کے لگ جاتا  تووہ اور زور سے ہنسنے لگتی۔

 بس پھر تو سکینہ کو ایک کھیل مل جاتا ۔وہ اس کے چہرے کو  اپنے دوپٹہ  سے ڈھانپ لیتی ۔پارس اک دم ساکت سی ہوجاتی۔  اس کے جسم کی حرکت ڈھیلی پڑجاتی اور جب  وہ اس کا نام پکارتی تو پارس تیزی سے ہاتھ  پیرمارنے لگتی۔ اور پھر سکینہ جلدی سے اس کے اوپر سے دوپٹہ کھینچ لیتی ۔ اس کی ننھی منی کلکاریاں چھوٹے چھوٹے قہقے بن جاتے ۔اور سکینہ کاسیروں خونبڑ ھ جاتا۔

پارس اب گہری نیند سو چکی تھی۔ 

سکینہ کو لگا جیسے وہ کسی شوکیس میں رکھی بند آنکھوں والی گلابی رنگ گڑیا کو دیکھ رہی ہے جسے ہاتھ لگاتے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں میلی نہ ہوجائے۔

اسے  اپنی قسمت پر یقین  نہ آتا تھا۔ نہ جانے کون سی نیکی کی تھی جس کے صلے میں رب نے یہ بیش بہا تحفہ اس کے گود میں ڈال دیا۔

  اور پھر میرے پیر سائیں کی دعائیں ….  ہاشم باباکی شفقتیں

یہ تو بس رب کی دین ہے۔

 اس کی رحمت کا سایہ ہے ۔

 اس کے ذہن میں ہاشم بابا کے الفاظ گونجنے لگے۔

یہ بہت خاص ہے ،نور والی ہے۔

وہ ایک بار پھر گہری نیند میں ڈوبی پارس کو تکنے لگی۔

 سچ تو یہ ہے کہ ہاشم بابا کی پارس کی جانب توجہ اس کے لیے سوالیہ نشان  بن  گئے تھے ۔

اس بچی میں  ایسا کیا خاص ہے؟ جو مجھے سمجھ نہیں آتا۔وہ پھر اپنے ہی دل کے نہاں خانوں میں جواب کھوجنے لگی۔

اسے لگا ،  شاید اس کی بیٹی کراماتی ہے نہ جانے کب کوئی معجزہ کوئی کرامت اس کے سامنے آجائے۔

 مگر ان ڈیڑھ سالوں میں تو ایساکچھ بھی نہ ہوا تھا۔ اس نے دل کے نہاں خانوں سے ملنے والے جواب کو رد کردیا۔

یہ بھی سچ ہے کہ ہماری زندگی میں آنے والی خوشیوں کا دیپ پارس   ہی ہے۔ شاید اسی کو ہاشم بابا نے خاص کہا ہو ،وہ خود کو سمجھانے لگی۔

کیا سوچ رہی ہے؟شفیق نے جو اسے اس طرح سوچ میں ڈوبا دیکھا تو پوچھ بیٹھا۔

ہاشم بابا کہتے ہیں کہ یہ بچی بہت خاص ہے۔ تو ان کی اس بات کا مطلب کیا ہے….؟ ایسا کیا خاص ہے میریدھی میں ….؟

 ارے یہ ہماری پیاری بیٹی ہے۔ اب اس سے زیادہ خاص بات  اور کیا ہوسکتی ہے بھلا ؟شفیق مسکرا کر بولا۔

وہ تو ہے ….مگر….پھر بھی  

 ارے ….کیوں اتنا سوچتی ہے ۔ اب تُو اس خاص کا کوئی اور مطلب ڈھونڈنے کی کوشش مت کر۔شفیق اسے سمجھانے لگا ۔ویسے بھی اللہ والے کسی کا دل نہیں توڑتے ۔بابا ہمارا دل رکھنے کے لئے کہہ دیتے ہوں گے ۔ وہ ہنس کر  بولا

اب ایسی بات بھی نہیں۔ اس نے بڑے ناز سے کہا

 ہے بھی تو لاکھوں میں ایک  میری گڑیا ۔اس کے لہجے میں جہاں بھر کی چاشنی گھل گئی۔

ہاں یہی خاص بات ہے ۔سمجھی…. ؟

وہ زرا دیر توقف دے کر بولا  کہ ہماری گڑیا لاکھوں میں ایک ہے شفیق نے پارس کو گود میں لے لیا۔

ہم….شاید صحیح کہہ رہے ہو آپ ۔وہ دھیمے سے  بولی مگر اسے شفیق کی بات سے تسلی نہ ہو ئی تھی۔

ان کی آوازوں پر پارس نے کسمسا کرآنکھیں کھولدیں۔

اٹھا دیا ناں اسے ،  ابھی تو سوئی تھی۔ سکینہ نے خفگی کا اظہار کیا۔

شفیق اس کی بات ان سنی کرکے پارس کو گود میں اُٹھا کر ہوا میں اچھالنے لگا ۔

ارے …. یہ اپنے بابا سے کھیلے بغیر کیسے سو سکتی  ہے ۔ہے نا ….اس نے پارس  کی  طرف دیکھ کر کہا جیسے اسی سے پوچھ رہا ہو

جواب میں پارس کی کلکاریاں گونج رہی تھیں جیسے  ہاں کہہ رہی ہو ۔

پتہ نہیں ….بابا دوبارہ گاؤں واپس کب آئیں گے سنا ہے  اس بار انہیں بہت لمبے دورے پر بھیجا گیا ہے۔شفیق نے اس بار زور دے کر کہا۔

ہاشم بابا طویل عرصے سے گاؤں نہیں آئے تھے ۔

چپکے سے چار سال گز رگئے۔ وقت کا پتہ ہی نہ چلا۔ ان کی زندگی کی کتاب کے ان چار پنوں پر لکھی تحریرمیں صرف پارس کا نام جگمگا رہا تھا ۔ شفیق سویرے تب تک کام پر نہ جاتا جب تک پارس سے چند باتیں نہ کرلیتا۔ وہ اس کی توتلی بولی سن کر خوب محظوظ ہوتا۔اس کا چہرہ خوشی سے لال ہوجاتا۔پارس بھی شفیق سے لپٹ لپٹ جاتی ۔ اتنے میں سکینہ گھر کا ضروری کام نمٹا لیتی اور شفیق کے جانے کے بعد قائدہ لے کر بیٹھ جاتی جو اس نے خصوصی طور پر شہر سے منگوائے تھے اور پھر کبھی اسے ا ب پ تو کبھی اے بی سی ڈی پڑھاتی۔ جس طرح اس نے اپنے بابا ماسٹر غلام رسول سے پڑھا اور سیکھا تھا۔ننھی پارس کبھی شرارت میں ادھر ادھر بھاگتی تو کبھی ماں کی گود سے چمٹ کر لاڈ شروع کردیتی۔ سکینہ کا بس نہ چلتا کہ اسے گھول کر پورا قائدہ پلادے۔ ایسے وقت میں وہ پارس کو مصنوی غصے سے گھورتی۔ پارس جیسے ہی ماں کو ناراض ہوتا  دیکتھی جھٹ پورا سبق طوطی کی طرح سنانا شروع کردیتی اور سکینہ نہالنہالہوجاتی۔

وہ اسے ماں صدقے ماں واری کہہ کر خود میںچھپالیتی۔

سکینہ پارس کو لے کر پندرہ بیس دنوں میں ایک بار درگاہ ضرور چلی جاتی تھی۔ وہ اکثر محسوس کرتی کہ پارس عام بچوں کی طرح درگاہ پر شور نہیں کرتی تھی نہ ہی اس کا دھیان کھلونوں یامٹھائیوں کی طرف جاتا۔ جہاں ماں بٹھاتی  وہ خاموشی سے بیٹھ جاتی ۔

 

٭٭٭

 

میں سوچ رہاہوں پارس کو قرآن پاک پڑھانے کے لئے صاعقہ کے پاس بٹھا دیتے ہیں ۔گائوں کی اور بچیاں بھی تو جاتی ہیں اس کے پاس ۔شفیق سالن پلیٹ میں ڈالتے ہوئے بولا ۔

 صاعقہ آٹھ معصوم بچوں کی واحد کفیل تھی  ۔گھر میں جتنی غربت تھی دل میں غیرت اس سے کہیں زیادہ تھی ۔صائقہ گاؤں کے بچوں کو قرآن مجید پڑھاتی اور ساتھ ساتھ وہاں لڑکیاں بالیاں سینا پرونا بھی سیکھتیں۔  گاؤں میں قرآن پاک پڑھانے کے پیسے لینا معیوب سمجھا جاتا تھا اس لئے گاؤ ں والے جو بھی کچھ عقیدت  میں اس کے ہاتھ پر رکھ دیتے  ، وہ خاموشی سے لے لیتی۔

میں اپنی بیٹی کو خود پڑھاؤں گی۔سکینہ گرم روٹی اس کی پلیٹ میں رکھتے ہوئے بولی 

وہ تو صحیح ہے پر دیکھ نہ…. ایک تو تیرا وقت بچے گا دوسرے ان کی بھی کچھ مدد ہوجائے گی ۔شفیق نے وجہبیان کی ۔

ہاں یہ بات  تو صحیح ہے  ، پر میں اتنی دیر اپنی دھی سے دور کیسے رہوں گی ۔سکینہ نے کھانا کھاتے کھاتے  برابر میں کھلونوں سے کھیلتی پارس کو اپنے قریب کرلیا۔

ارے یہ چوتھا مکان ہے اس کا اور تو کہتی ہے کہ اتنی دور ….شفیق نے اس کی نقل اتاری

میں بھی تو اتنی دور جاتاہوں پارس کو گھر چھوڑ کر ۔

پر آپ تو کام سے جاتے ہو نہ ۔ مگر میں تو نہیں رہسکتی اس کے بغیر….سکینہ نے فیصلہ سنادیا ۔

اچھا ٹھیک ہے۔ تو تُو  بھی ساتھ چلی جایا کرنا۔ وہ کونسا تجھے نکال دے گی مگر اسے جانے دے۔شفیق نے بھی بات منوانے کی ٹھان لی ۔

سکینہ خاموشی سے برتن سمیٹنے لگی۔

دیکھ سکینہ….!  ہماری بیٹی اب بڑی ہورہی ہے۔ یہ اپنی ہم عمر بچیوں میں بیٹھے گی ان کے ساتھ کھیلے گی  ان میں سے سہلیاں بنائے گی تو اس کے لئے  اچھا رہے گا۔اسے خاموش دیکھ کر شفیق نے سمجھانے کیکوششکی۔

ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے ۔ یہ بات سکینہ کے دل کو لگی ۔وہ کھانے کے برتن سمیٹ کر باورچی خانے کے طرف چل دی اور شفیق پارس کے ساتھ کھیلنے لگا۔

وہ آج اپنی بیٹی کے لئے  بہت پیارے مٹی کے کھلونے بنا کر لایا تھا۔ یہ ہاتھی یہ گھوڑا اور یہ دیکھو کیسے چلتا ہے ۔ٹک ٹک ٹک وہ پارس کوگھوڑا چلا کر دکھانے لگا۔

اتنے میں سکینہ گیلے ہاتھ دوپٹے سے صاف کرتے  ہوئے اندر چلی آئی ۔اس کے چہرے پر سوچ کی گہری لکیریں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ شفیق کی بات سے پریشان سی  ہو گئی ہے  ۔

شفیق پارس کے ہاتھ میں کھلونا دے کر کھڑکی سے باہر جھانکنے لگا ۔

سکینہ  ذرا ادھر تو آ ….

کیا ہوا ۔وہ وہیں سے بولی 

ارے ادھر تو آکچھ دِکھانا ہے تجھے ۔

وہ دھیرے دھیرے تھکی تھکی چال چلتی اس کے پاس آکر کھڑی ہوگئی اور باہر جھانکنے لگی۔چھوٹی سی کھڑکی سے باہر کا منظر کچھ زیادہ واضح نہ تھا۔ویسے بھی رات کا وقت ہوچلا تھا گائوں میں بجلی تو تھی نہیں کہ گلیوں راستوں میں روشنی ہوتی ۔کچی مٹی اور گارے سے بنے گھروں میں جلتے دئیے ٹمٹماتے تاروں کی طرح ناکافی روشنی باہر پھینک رہے تھے۔ایسے میں سکینہ آنکھیں پھاڑ کر باہر دیکھنے کی کوشش کرنے لگی ۔مگر اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔

کیااا ؟؟اس نے ایسے ہی   باہرجھا نکتے ہوئے سوالکیا۔

شفیق اس کے اس انہماک پر مسکرانے لگا ۔دیکھ ہمارے برابر میں جو نمبردار کی زمین ہے ناں۔

ہاں وہ ترچھی ہوکر دیکھنے لگی۔خالی پڑی ہے کبسے۔ 

 تجھے پتہ  ہے ؟ میں توکب سے سوچے بیٹھا ہوں برابر والی نمبردار کی زمین لے لوں اور اپنا کام یہیں شروع کرلوں ۔

ہاں یہ تو اچھا ہے ۔پر اس کے لیےتو  کافی رقم چاہئیے ہوگی ، ہے ناں؟

ہاں بس اسی کے لئے جمع کررہا ہوں ۔

پھر تو گھر کے قریب دکان ہوگی تو میری بیٹی بھی میرے قریب رہے گی۔اس نے خیالوں ہی خیالوں پورانقشہ کھینچ لیا ۔

ہاں وہ تو تب ہوگا جب ہوگا۔سکینہ شفیق کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے  اس کی بات ٹال گئی 

 میں کل صاعقہ سے بات کرلوں گی ۔اس نے شفیق کو مطمئن کرتے ہوئے کہا 

سکینہ نے پارس کو صاعقہ کے پاس قرآن پاک کی تعلیم کے لئے بھیجنا  توشروع کردیا مگر وہ خود بھی اسے پڑھاتی اس کی پوچھ گچھ کرتی رہتی۔پارس کی  بہتر سے بہتر پڑھائی ۔ سکینہ  کی اولین خواہش تھی ۔

صاعقہ  بھی پارس سے بہت خوش ہوتی۔ وہ اس کی خوب تعریفیں کرتی کہ پارس بہت ذہین ہے۔ بس ایک دفعہ بتادو باقی خود پڑھتی ہے ۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ وہ صاعقہ سے لگ کر بیٹھ جاتی ۔اس سے  طرح طرح کے سوال کرتی کبھی تو صاعقہ اسے مطمئن کردیتی اور کبھی خود ہی سوچ میں پڑ جاتی۔شروع میں صاعقہ کو حیرت ہوتی اتنی چھوٹی بچی کتنی سنجیدگی سے پڑھتی ہے مگر پھر وہ سمجھ گئی کہ پارس بہت زیادہ ذہین ہے اور یہی بات وہ سکینہ سے بھی بار بار کہتی بھی تھی ۔

سکینہ تُو بہت خوش نصیب ہے۔ اللہ نے اسے صورت کے ساتھ عقل بھی دی ہے۔ بہت ذہین ہے۔ بڑا نام کمائے گی۔

 

٭٭٭

دن چڑھ آیا تھا۔سکینہ کا ہاتھ چکی پر تیز تیز چل رہا تھا ۔ وہ آج سویرے سے گندم پیسنے میں مصروف تھی ۔

تھوڑا سا باقی ہے ۔وہ گندم کے تھیلے میں جھانک کر  منہ منہ میں بڑ بڑائی اور وقت کا حساب کرنے لگی 

آدھ گھنٹہ اور لگے گا۔

باہر صحن میں پارس اور صاعقہ کی سب سے چھوٹی بیٹی جو اس کی ہم عمر بھی تھی دونوںمل کر  پٹو گرم کھیل رہی تھیں  ۔پارس کو خوش دیکھ کر سکینہ بھی مطمئن تھی۔شفیق نے کہا تھا۔  

ہاں اپنی ہم عمروں میں میں زیادہ خوش رہتی ہے۔وہ خود سے باتیں کرنے لگی۔

تھوڑی دیر میں وہ کام ختم کر کے باہر نکل آئی ۔

اس نے دیکھا پارس گھڑے پر رکھے مٹی کے پیالی کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہی تھی۔وہ ابھی  چھوٹی تھی اس کا ہاتھ گھڑونچے تک بھی بمشکل پہنچ پارہا تھا۔

اماں یہ دے دیں۔پارس نے  سکینہ کو  باورچی خانے سے باہر آتے دیکھ کر کہا

 ارے میری گڑیا کو پیاس لگی ہے ۔سکینہ جلدی سے پیا لے میں پانی انڈیل کر اسے پانی پلانے لگی ۔

نہیں پانی نہیں پینا۔ وہ گردن نفی میں ہلاکر بولی ۔

یہ پیالہ چاہئے ۔

خالی پیالہ کا کیا کرے گی….؟  اس نے دلار سے پوچھا۔

اپنے پاس رکھوں گی ۔پارس بھول پن سے بولی۔

ہاں ناں خالہ ہمیں یہ پیا لہ چاہئے ۔وہ وہاں جمع کرنے ہیں ۔صاعقہ کی بیٹی سدرہ ایک جانب اشارہ کرکے بولی 

سکینہ نے دوسری جانب دیکھا تووہاں چھوٹے چھوٹے مٹی کے پیالے جمع رکھے ہوئے تھے جن میں پارس کے کھلونوں والے پیالے بھی تھے ۔

ارے اتنے سارے پیالوں کا کیا کروگی تم ؟

اماں دیں ناں….پارس ضد کرنے لگی 

سکینہ نے پیالہ اس کے ہاتھ میں دے دیا ۔

اب بتاؤ کیا کھیل رہے ہو تم لوگ ؟

 جب گھر میں پانی آئے گا تو ہم  اس سے باہر نکال دیں گیں۔ پارس بولی اور دوڑ کر پیالہ باقی پیالوں کے ساتھ رکھ دیا۔

کہاں سے نکالے گی ؟سکینہ نے دوبارہ پوچھا

جب گھر میں پانی آ ئے گا تو بابا کے ساتھ مل کر میں اس سے پانی نکالوں گی۔

توبہ توبہ کیسی باتیں کرتی ہے۔ یہ کس نے کہا تجھ سے۔

 رات میں بابا نے کہا ۔پارس بولی

بابا نے….؟ سکینہ سمجھی وہ شفیق کی بات کررہی ہے ۔آجائے تو تیرے بابا سے پوچھتی ہوں ، یہ کیسی باتیں کرتے ہیں تجھ سے ۔سکینہ ڈر گئی ۔

لا….مجھے دے میں رکھ دوں ۔سکینہ نے پارس سے پیالہ  واپس لینے کی کوشش کی۔

نہیں ۔یہ میں نہیں دوں گی ۔پارس نے پیالہ گود میں چھپا لیا اور اندر بھاگ گئی ۔

بظاہر بات کچھ بھی نہیں تھی مگر نہ جانے کیوں سکینہ کو بے چینی ہونے لگی۔

پتہ نہیں شفیق نے بچی سے ایسا کیوں کہا ۔پتہ نہیں کہا بھی کہ نہیں۔ مگر پارس جھوٹ نہیں بولتی اس نے خود اپنے خیال کی نفی کی ۔

کم سے کم بچی سے تو ایسے نہیں کہنا چاہئے ناں …. سارا دن اسی سوچ میں شفیق کے آنے کا انتظار کیا ۔

سنو جی….! کیا آپ نے پارس سے کہا تھا کہ گھر میں پانی آئے گا….؟میں تو ہول ہی گئی۔شفیق کے گھر میں گھستے ہی سکینہ نے  بے چینی سے سوال کیا

نہیں،  میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا ۔

تو پھر ، وہ ایسا کیوں کہہ رہی تھی؟ سکینہ نے اسے ساری بات بتادی ۔

او ہو، اتنی سی بات ہے ، میں سمجھا پتہ نہیں ایسا کیا ہوگیا۔وہ وہیں چارپائی پر نیم دراز ہوگیا۔

ارے تُو وہم نہ کیا کر۔کوئی برا خواب دیکھ لیا ہوگا اس نے یا پھر کسی سہیلی نے  اسے کوئی کہانی سنادی ہوگی۔

مگر پارس جھوٹ نہیں بولتی  مجھے پتہ ہے۔سکینہ نے وکالت کی

میں نے کب کہا کہ  اس نے جھوٹ بولا۔شفیق اٹھ بیٹھا۔میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں کہ  تُوخوامخواہ دل کو مت  لگا۔ ویسے بھی اس عمر میں بچے بڑے حساس ہوتے ہیں۔   ہو سکتا ہے سہلیوں نے کوئی قصہ سنایا ہو  یا کوئی بات ہوئی ہو جس کا اثر لے لیا اس نے  اور بس۔

شفیق نے  ایک ہی سانس میں اپنے تئیں ساری بات کی وضاحت کردی تھی جس کا سکینہ پر کوئی اثر نہ ہوا۔

سچ کہوں تو مجھے وہم ہورہا ہے ویسے بھی آج کل ندی کا پانی خوب چڑھا ہوا ہے ۔اگر کچھ ہوگیا تو….

  ارے کیا ہوگیا ہے تجھے ؟یہ پانی تو مہینے سے چڑھا ہوا ہے اور ہر سال چڑھتا ہے ۔مگر ہر سال سیلاب تو نہیں آتا ناں اور ویسے بھی آج چوپال میں بھی یہی باتیں ہورہی تھیں ،سب  لوگ مطمئن ہیں ۔

 پنچائیت نے خاص طور پراطمینان کا اظہار کیا ہے انھوں نے کہا ہے کہ حکومت کا بندہ دیکھ کر گیا ہے۔ہماری طرف کا بند بہت مضبوط ہے اتنا دباؤ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ شفیق نے اسے تسلی دی ۔

بلا عذر انکار کرنا بھی مناسب نہ تھا اس لئے  گاؤں والوں کے ساتھ شفیق اور سکینہ   بھی  جانے کے لیے تیار تھے ۔

صبح کی نکلی برات دن چڑھے گاؤں پہنچی۔لڑکی والوں نے گاؤں کے رواج کے مطابق برات کا پرتپاک استقبال کیا۔مہمان نوازی میں کوئی کمی نہ چھوڑی لڑکی والے تھے کہ بچھے جارہے تھے۔شاداں کا چہرہ دلہن کا بھاری اور قیمتی زیور دیکھ کر باغ باغ ہوئے جارہا تھا۔وہ جس سے ملتی یہی کہتی نظر آتی  ۔

میں نہ کہتی تھی  جس  کے گھر میں دودھ اور پوت ہواسے کوئی دکھ نہیں ہوتا۔

اس کی بات سن کر کوئی ہاں میں سر ہلادیتا تو کوئی دل جلا لیتا۔  تمام رسمیں پورا کرتے کرتے  شام ہوچلی تھی کہ خبر ملی ندی کا بند اچانک نامعلوم وجہ سے ٹوٹ گیا ہے جس کی وجہ سے گاؤں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔بہاؤ شدید ہونے کی صورت میں سیلاب کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔

بس پھر کیا تھا ۔وہاں ہر طرف افراتفری مچ گئی تھی ۔کسی کو گھر کی فکر تھی تو کسی کو سامان کی۔   کوئی  اپنے گھر والوں کے لئے پریشان ہورہا تھا۔کسی بھی طرح جلد سے جلدواپسی کا انتظام کیا گیا۔ سکینہ اور شفیق نے بھی  چاہا کہ وہ گھر کی خبر لے۔ مگر صاعقہ نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا  ۔بہتر ہے انتظار کرلیا جائے سب اللہ پر چھوڑ دو اور یہیں رک جاؤ صبح کا انتظار کرو۔

چارو ناچار وہ  وہیں  دیگر لوگوں کے ساتھ بیٹھے.رہے۔

چہ منگوئیاں شروع ہوچکی تھیں ۔بظاہر موسم کے آثار بالکل بھی ایسے نہ تھے اور بند بھی مضبوط تھا ۔یہ ضرور چودھریوں کی کوئی سازش ہے ۔ایک  دھیمی سی آواز ابھری۔

ششش ….چپ۔ اصل بات تو بعد میں پتہ چلے گی۔ خاموش کرانے والی آواز اس سے زیادہ  اونچی تھی ۔ 

پانی کے دباؤ میں کچھ کمی آئی تو گھر کا رخ کیاگیا۔راستے سے گزرتے  پہچان ہی نہیں پڑ رہی تھی کہ وہی راستہ ہے  جہاں سے  ایک دن پہلے بھنگڑا ڈالتے  خوشی کے ڈھول بجاتے  شادیانے گاتے ایک برات گزری تھی ۔اب اسی راستے پر کچی مٹی کئی مکان زمین بوس ہوچکے تھے کئی مکانوں کی دیواریں اکھڑ چکی تھیں۔لوگ گھٹنوں گھٹنوں پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ننھے بچے  مردوں کے شانوں سے لٹکے ہوئےتھے۔

 ان دونوں نے اپنی رفتار تیز کردی تھی کہ نہ جانے گھر کا کیا حال ہوگا ….؟ 

گھر میں داخل ہوکر جو منظر اس کے سامنے تھااسے دیکھ کر  دونوں  کو جیسے سکتہ سا ہوگیاوہ رب کا جتنا شکر ادا کرتے کم تھا۔معجزاتی طور پرسب کچھ محفوظ تھا۔ پانی ٹخنوں کو بھی بمشکل چھو رہا تھا۔وہ دونوں بے یقینی کے عالم میں کمرے میں دوڑے ،اپنے چھوٹے سے گھر کا جائزہ لے لیا۔مگر کوئی  خاص  نقصان سامنے نہیں آیا ۔

یہ تو معجزہ ہے ، مالک کا احسان ہے ۔شفیق کی آواز رندھ گئی تھی ۔

اسے اپنی دکان کا خیال آیا جہاں باہر بھیجا جانے والا سامان تیار پڑا تھا۔

میں دکان کی خبر لیتا ہوں۔ شفیق جلدی سے گھر سے باہر نکلا ۔ ابھی راستے ہی میں تھا کہ سامنے سے آتے چند دوستوں نے خبر دی کہ اس کی دکان پوری طرح ڈوب گئی ہے۔

گھر اس ناگہانی آفت سے مکمل محفوظ رہا تھا لیکن اس کی دکان مکمل طور پر ختم ہوگئی تھی۔ پانی سامان کے ساتھ وہ رقم بھی بہا لے گیا تھا جو شفیق نہ جانے کب سے  نئی دکان کے لئے جمع کررہا تھا۔اسے اب نئے سرے سے سب کچھ شروع کرناتھا۔ پھر بھی وہ شکر گزار تھا رب کا  کہ اس کا گھر اور گھر والے محفوظ تھے ورنہ تو ایسے کئی تھے جن کے گھر اور روزگار دونوں ہی ازسرِ نو شروع ہونے تھے۔

کچھ دن تو سکینہ کے پاس موجود جمع پونجی سے نکل گئے ۔سکینہ کے پاس بھی زیادہ  رقم جمع نہ تھی کچھ رقم وہ پچھلے ہی ہفتے زرینہ کو نئی مشین خریدنے کے لئے ادھار دے چکی تھی ۔گاؤں کی اکثریت کی مالی حالت تباہ ہوچکی تھی اس لئے کسی سے بھی مالی امداد کی توقعفضولتھی۔

کیوں پریشان ہو اب….؟ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ شفیق کو تھکا ہارا دیکھ کر اسے تسلی دینے لگی۔

میں ٹھیک ہوں ۔اس کے لہجے میں اداسی تھی وہ چارپائی پر سیدھا لیٹ گیا۔

کاش اس وقت وہ کچھ کرپاتی ۔اس نے دل سے رب کو پکارا۔

اماں اماں …..! مجھے گڑیا سے کھیلنا ہے۔ پارس سکینہ کے دوپٹے کا کونہ پکڑ کر جھول گئی اور وہ جیسے دنیا میں واپس.آگئی۔

اب اسے کیا سوجھی ….؟اچھا اچھا لادوں گی…. اس نے پارس کو بہلایا ۔

نہیں ابھی چاہئے ….پرانی والی ۔پارس نے ضد کی

پرانی والی ….سکینہ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ارے کہاں سے ڈھونڈوں وہ پرانی والی….؟ سکینہ کو یاد آیاپچھلے سال زرینہ نے ایک کپڑے کی گڑیا پارس کے لیے  سی کر دی تھی۔ 

تب تو پارس  نے اس میں کوئی دلچسپی نہ لی تھی۔ سکینہ نے وہ گڑیا کسی صندوق میں ڈال دی تھی ۔

 مگر اب اچانک اسے کیوں یاد آگئی…. ؟

نہیں ابھی چاہیے ابھی  ۔پارس کی ضد زور پکڑ گئی۔

اچھا ڈھونڈتی ہوں ۔وہ اس کی ضد سے مجبور  اٹھ کر  اس کی گڑیا ڈھونڈنے لگی

بچوں کے دماغ کا بھی کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ پتہ نہیں کب کیا چاہیے۔نہ جانے کہاں رکھی ہے۔وہ بڑبڑاتی  ہوئی سارے صندوق الماری چھاننے لگی۔ اس نے پلنگ کے نیچے جھانک کر دیکھا۔وہاں پرانے کپڑوں کا صندوق رکھا تھا ۔ شاید اسی میں ہو۔ اس نے گھسیٹ کر  صندوق باہر نکال لیا اور بیزار ی سے اس میں رکھے  پرانے کپڑے جھاڑنے لگی۔ اس وقت اس کا دماغ شفیق کی پریشانی میں الجھا ہوا تھا۔

صندوق پلنگ کے نیچے پڑا تھا شاید اس وجہ سے کپڑوں میں سیلن آگئی تھی۔ وہ جلدی سے سارے کپڑے نکال کر دھوپ میں لے آئی۔کپڑے نکالتے ایک چادر پر اس کے ہاتھ رک گئے۔ یہ وہی مجذوب کی اونی چادر تھی جس میں اس نے پارس کو لپیٹا تھا۔سکینہ کی نظروں کے سامنے سارا منظر ایک فلم کی طرحگھومگیا۔

ہاشم بابا ،میرے پیر سائیں۔  بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا۔ وہ مسکرادی ۔اس نے دل ہی دل میں بابا کو سلام پیش کیا۔

چادر میں بھی ہلکی سی نمی محسوس ہورہی تھی۔ اس نے لپٹی چادر کو سکھانے کے لئے کھول کر جھاڑا۔سورج کی روشنی میں ایک چمک سی اس کی آنکھوں میں پڑی اور چھن کی آواز کے ساتھ ہی نیچے زمین پر کچھ گرا۔وہ جھک کر دیکھنے لگی اس کے پیروں کے پاس کچھ گرا تھا۔

سکینہ نے جھک کر غور سے دیکھا ۔وہ چند لمحوں تک انہیں یونہی دیکھتی رہی۔ حیرت سے اس کے آنکھیں اسی چمکدار چیزپر ٹک گئیں ۔اس نے آہستہ سے ہاتھوں میں اٹھا کر غور سے دیکھا اسے یقین نہیںآرہا تھا۔  

سنو جی ۔وہ شفیق کی طرف تیزی سے پلٹی جو ابھی تک چارپائی پر آنکھیں موندھے لیٹا ہوا تھا۔

ارے اٹھو نا…. دیکھو تو یہ کیا ہے….؟  اس کے لہجے میں حیرت و استعجاب کے ملے جلے جذبات تھے۔ آواز میں کپکپاہٹ صاف جھلک رہی تھی۔

کیا ہوا….؟ وہ جلدی سے اٹھ بیٹھا ۔

پارس کے کہنے پر میں اس کے لیے گڑیا تلاش کرنے گئی تھی ۔ وہ گڑیا تو ابھی تک نہیں ملی لیکن اس تلاش میں یہ سکے ملے ہیں۔ 

دیکھو سکینہ نے بند مٹھی اس کی ہتھیلی میں کھول دی ۔شفیق  نے سونے کے سکوں کو غور سے دیکھا

یہ تیرے پاس کہاں سے آئے ۔

یہ۔اس میں سے اس نے لرزتے کانپتے انگلی سے چادر کی طرف اشارہ کیا۔

مطلب….؟

پارس کے کہنے پر گڑیا تلاش کررہی تھی اس دوران کپڑوں میں یہ سکے مل گئے ہیں۔سکینہ  بمشکل بول پائی

شفیق سکوں کو رگڑ کر پھر  کان کے قریب لے جاکر بجا کر دیکھنے لگا۔

یہ تو اصلی ہیں ۔میرا مطلب اصلی سونے کے ہیں۔دونوں ایک دوسرے کو بے یقینی سے تک رہےتھے  ۔

 

 

(جاری ہے….)
تحریر: آفرین ارجمند
از روحانی ڈائجسٹ ستمبر 2014ء

 
اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

پارس ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں دوسر ی قسط : گھر میں پھیلی سوگواری ...

کشورِ ظلمات ۔ قسط 5

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن