آئیے مراقبہ کرتے ہیں ۔ 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

حصہ 6

گزشتہ ماہ ہم نے نیند کی کمی یا بے خوابی ،فوبیایعنی خوف(مثلاً بند جگہ کا خوف ،رشتے ٹوٹ جانے کاخوف یا تعلق ختم ہوجانے کا خوف یا ناکامی کاخوف)کا مختصراً کچھ ذکرکرتے ہوئے ان کیفیات میں مراقبہ کی افادیت بیان کی تھی ۔
موجودہ تیز رفتار دور میں جہاں سہولتیں بہت زیادہ میسر آرہی ہیں وہاں کئی جسمانی ،ذہنی اورنفسیاتی بیماریاں اورعارضے بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
بیس پچیس سال پہلے جن تکالیف کا ذکر محض کتابوں میں یا طبی شعبے سے وابستہ افراد میں ہی زیادہ ہوتا تھاکئی ایسی تکالیف کا ذکر اب عام ہوگیاہے ۔
ان میں شیزوفرینیا،ڈپریشن ، اختلاج بھی شاملہیں….
ان امراض یا عارضوں سے نجات کے لیے کاؤنسلنگ ،ذہنی سکون اورکیمیائی توازن برقرار رکھنے والی بعض ادویات ، منوم ادویات اوردیگر تدابیر کی ضرورت پڑتی ہے۔
مراقبہ کے ذریعہ شیزوفرینیا، ڈپریشن، اختلاج میں مبتلا افراد کوبہت زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔

 

 

شیزوفرینیا(Schizophrenia):

شیزوفرینیا ایک ذہنی بیماری ہے۔ شیزوفرینیا میں مبتلا فرد بظاہر تو نارمل نظر آتاہے لیکن یہ خود اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں خواہ مخواہ توہمات میں مبتلا ہوجاتاہے۔ شیزوفرینیا کے مریض کو اپنے واہموں پر مکمل یقین ہوتاہے۔ مثال کے طورپر ایسے شخص کو یہ یقین ہوسکتاہے کہ کچھ لوگ اس کی جان لینا چاہتے ہیں۔ ان توہمات کانشانہ کوئی ایک یا زیادہ اشخاص ہوسکتے ہیں۔
ان میں قریبی عزیز بھی ہوسکتے ہیں۔ محلے کے لوگ ،دفتری ساتھی یا کاروباری لین دین سے وا.بستہ افراد بھی ان توہمات کانشانہ ہوسکتے ہیں ۔کبھی ادارے بھی توہمات کی زرد میں آسکتے ہیں ۔ مثال کے طورپر اس مرض میں مبتلا کسی فرد کواپنے اس واہمے پر یقین ہوتا ہے کہ پولیس اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے یا پھر وہ سمجھنے لگتاہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس کے خلاف ہوگئی ہیں۔ اب ایسے شخص سے پوچھا جائے کہ بھائی فلاں ملک کی حکومت تمہارے خلاف کیوں ہوگی …. تو وہ کچھ ایسی کہانی سنائے گا کہ اس نے اپنے گھر میں یا دوستوں میں بیٹھ کر اس حکومت کے خلاف باتیں کی تھیں۔ اس لیے اب وہ حکومت اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ اسے گرفتا.ر کرکے جیل میں ڈال دے گی۔اپنے گھر کے کسی ایک فردیا زیادہ افراد کو یا خاندان والوں کو یا پڑوسیوں کو یا دفترمیں کام کرنے والوں کو یا کسی اورکو اپنا دشمن سمجھنا ،کچھ لوگوں کے بارے میں ایسی باتوں کا اظہار کہ یہ لوگ اس کےخلاف سازشیں کررہے ہیں، اس کی جائیداد ہھتیانا چاہتے ہیں یا اسے کسی اور طرح نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔اس جیسے خیالات بھی شیزوفرینیا کی علامات ہوسکتے ہیں ۔شیزوفرینیا میں مبتلا خاتون اگر ساس ہوں تو اپنی بہو اوراس کے رشتہ داروں پر اپنے خلاف سازشوں کے الزامات عائد کرسکتی ہیں۔ اگر بہو ہوں تو ساس نندوں، دیورانی،جھٹانی اوردیگر سسرالی رشتے دارروں کو اپنے نشانے پر لاسکتی ہیں۔ ان سب باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔یہ سب توہمات ہوتے ہیں مگر شیزوفرینیا کے مریض انہیں حقیقت سمجھتے ہیں اورچاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ان باتوں کو سچ سمجھیں۔اپنے واہموں کو حقیقت سمجھنے والا شیزوفرینیا کا مریض نہ صرف خود شدید اذیت میں ہوتاہے بلکہ بعض اوقات پورے خاندان کے لیے شدید مسائل کا سبب بن سکتاہے۔

تخیلاتی حرکات Hallucination :

 شیزوفرینیا کی ایک قسم تخیلاتی حرکات Hallucination) )ہے۔ اس قسم کے مریض کو اپنے ارد گردوکوئی شخص یا سایہ یا کوئی اورچیز نظر آتی ہے یا اُسے اپنے کانوں میں اجنبی یا مانوس آوازیں سنائی دیتی ہیں یا اُسے کوئی تیز یا ہلکی خوشبو محسوس ہوتی ہے یا پھر اسے ایسالگتاہے کہ جیسے کسی نے اُسے چھوا ہے۔ شیزوفرینیاکامریض اپنے ان تخیلات کوبالکل مجسم اورحقیقی سمجھتاہے ۔
ان تخیلاتی حرکات سے ظاہری حواس میں سے ایک یازیادہ حواس یعنی دیکھنا،سننا،سونگھنااورچھونا متاثر ہوسکتے ہیں۔ ہیلو سی نیشن میں مبتلا فرد اپنی کیفیات کے زیراثر خوف زدہ بھی ہوسکتاہے اورخوش بھی نظر آسکتاہے۔ اگروہ اپنے تخیلات میں کوئی ڈراؤنی چیز دیکھتاہے تو سہم جاتاہے اورڈررہا ہوتاہے لیکن اگر وہ اپنے لیے کوئی خوش.گوار منظر دیکھتاہے یا اپنے لیے کسی خوش خبری پر مبنی کوئی آواز سنتا ہے تو خوش ہوتا ہے اورخود کو ویسا ہی سمجھنے لگتاہے۔مثال کے طورپر کسی شخص کو یہ وہم ہوسکتاہے کہ وہ کسی ملک کا بادشاہ ہے یا کوئی بہت دولت مند آدمی ہے یا بڑا شاعر یا دانشور ہے۔اپنے ان توہمات کے زیر اثروہ اپنے گھر والوں سے اوراپنے ملنے جلنے والوں سے اپنے لیے خصوصی برتاؤ یا پروٹوکول کی توقع رکھتاہے۔اسے یہ پروٹوکول نہ ملے تو وہ اپنے گھر والوں کو ہی اپنا دشمن سمجھنے لگتاہے۔ ان کیفیات میں متبلا شخص اپنی ہاں میں ہاں ملانے والوں کو اپنا مخلص سمجھتاہے۔جولوگ اس کی باتوں سے اتفاق نہ کریں یا اسے براہ راست سمجھانے کی کوشش کریں انہیں یہ اپنا مخالف یا دشمن سمجھتاہے ۔
شیزوفرینیا میں مبتلا بعض افراد کے طرزعمل سے ناواقفیت کی وجہ سے ان کے خاندان میں یا دوستوں میں شدید دراڑیں بھی پڑ سکتی ہیں۔
اپنے مشاہدے کی بنیاد پرمیں یہ عرض کررہاہوں کہ کئی نفیساتی مریضوں کے رشتے دار اورقریبی دوست ان سے محض اس لیے ناراض اوردورہوگئے کہ وہ اپنے بارے میں مریض کی باتوں کو اس کے ذاتی اور سوچے سمجھے خیالات سمجھ رہے تھے۔
ایک مرتبہ شیزوفرینیا کے ایک مریض نے اپنے ایک رشتے دار پر شدید شکوک وشبہات کا اظہار کردیا۔وہ صاحب نہ صرف مریض سے بلکہ ان کے اہل خانہ سے بھی سخت ناراض ہوگئے۔میں نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ یہ صاحب نفسیاتی مریض ہیں اورتوہمات میں مبتلا ہیں۔ آپ اپنے بارے میں ان کے الفاظ کو حقیقت نہ جانیں۔میری بات سن کو وہ صاحب کہنے لگے
اس وقت کمرے میں تین افراد اورموجود تھے۔ انہوں نے کسی اورکے بارے میں یا ان سب کے بارے میں یہ بات کیوں نہ کہی….؟ یقیناً ان کے دل میں میرے خلاف بغض موجود ہے جس کا اس طرح اظہار ہوگیاہے۔
اس ایک واقعہ کی مثال سے یہ واضح ہورہاہے کہ شیزوفرینیا کے مریض کی بے سروپا باتوں کے نفیساتی اسباب کو سامنے نہ رکھاجائے تو قریبی تعلقات میں کس طرح شدید بگاڑ آسکتاہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر یہ کہا جائے گا کہ نفسیاتی امراض کی علامات اوراثرات سے آگہی نہ صرف مریض کی بہتری کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کے متعلقین میں کسی غلط فہمی سے بچنے کے لیے بھی نفیساتی امراض سے آگہی انتہائی ضروری ہے۔

خام خیالیDelusion:

شیزوفرینیا کی ایک قسم مغالطہ ،خود فریبی یا خام خیالیDelusion)) ہے۔
ڈیلیوژن میں مبتلا مریض یہ سمجھتا ہے کہ کسی ایک شخص نے یا زیادہ لوگو ں نے اس کے دماغ کو اپنے کنٹرول میں کرلیاہے۔ایسا مریض یہ سمجھنے لگتاہے کہ اس کے ذہن میں جو بھی خیال آتاہے یا وہ جو کچھ بھی سوچتا ہے وہ سب دوسروں تک پہنچ جاتاہے یا پھر وہ یہ سمجھنے لگتاہے کہ کوئی اورشخص اس کے ذہن میں اپنےخیالات ڈال رہاہے اوراسے کہا جارہاہے کہ فلاں کام کرو ،فلاں کام نہ کرو، فلاں سے ملو،فلاں سے نہ ملو۔ بعض مریض یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ انہیں کوئی غیبی طاقت کنٹرول کررہی ہے اوران سے کوئی خاص کام لینا چاہ رہی ہے۔
اس وہم میں مبتلا بعض لوگ شدید ذہنی اذیت میں رہتے ہیں۔اپنے اس وہم کی وجہ سے وہ اپنے آپ سے ہی برسرپیکار رہتے ہیں۔ انہیں اپنی پرائیویسی چھن جانے کا شدید صدمہ ہوتاہے۔ اس وہم کے زیر اثر اُن کی بھوک پیاس اورزندگی کے دوسرے معمولات متاثر ہوتے ہیں جبکہ بعض مریض اس خیال سے کہ وہ کسی غیبی طاقت کے زیر اثر ہیں بہت خوش ہوتے ہیں اور خود کونہایت اہم آدمی سمجھنے لگتے ہیں۔

 

بے ربط خیالات Thought Disorder:

شیزوفرینیا کی ایک قسم کی علامات میں خیالات کی بےربطگیMuddled Thinking) یاThought Disorder )شامل ہے۔
اس تکلیف میں مبتلا شخص اپنے کاموں پر پوری توجہ دینے میں مشکل محسوس کرتاہے۔ کسی کام کی انجا م دہی کے دوران ذہنی یکسوئی کے بجائے اس کے خیالات اِدھر اُدھر بھٹکتے رہتے ہیں۔ ان خیالات کے درمیان کوئی ربط نہیں ہوتا۔ ایک کے بعد ایک مختلف خیالات کی یلغار میں متاثرہ شخص کویہ بھی یا دنہیں رہتا کہ چندلمحے پہلے وہ کیا سوچ رہاتھا۔ اخبار یا کوئی کتاب پڑھتے پڑھتے کسی بات سے منسلک کوئی خیال آیا اب نظریں تو صفحے پر ہیں لیکن ذہن اس خیال میں لگ گیاہے۔پھر اس خیال سےذہن کسی دوسرے تصور میں چلاگیا۔ اس طرح یہ سلسلہ دراز ہوتے ہوتے کہیں سے کہیں پہنچ جاتاہے۔اس دوران مطالعہ بھی جاری رہتاہے لیکن اس شخص کو کچھ یا دنہیں ہوتا کہ پچھلی سطروں میں اس نے کیا پڑھا ہے۔ نہ ہی ذہن میں دورکرنے والے خیالات اسے ٹھیک طرح یاد ہوتے ہیں۔

 

مراقبہ اورشیزوفرینیا:


انسانی دماغ اورجسم پر مراقبہ کے مفید اثرات کے پیش نظر شیزوفرینیا کے مریضوں کےلیے باقاعدہ علاج کے ساتھ ساتھ مراقبہ بہت مفید ہوسکتاہے۔
میرے پاس مطب میں آنے والے شیزوفرینیا کے کئی مریضوں نے اپنے علاج کے لیے مراقبہ میں دلچسپی ظاہرکی۔ بعض مریضوں کو میں نے خود مراقبہ کے بارے میں بتایا ، ان میں سے کچھ نے میری بات پر توجہ دی بعض نے اسے غیر اہم جانا ۔
جن لوگو ں نے اپنے علا ج کے لیے مراقبہ میں دلچسپی ظاہر کی انہیں میں نے ان کی کیفیات کے پیش.نظرمراقبہ کے الگ الگ طریقہ ہائے کار تجویز کئے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں بعض دیگر تدابیر اختیارکرنے کے لیے بھی کہا۔ان تدابیر میں یا مراقبہ کے ذریعہ علاج کے اس پیکچ میں غذائی ردوبدل ،ادبی اوردیگرعلمی کتابوں کا مطالعہ اوربعض دیگر ہدایات بھی شامل تھیں۔روحانی ڈائجسٹ کے علم دوست قارئین کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ چند ماہ کے مراقبہ سے ان میں سےکئی مریضوں نے اپنی حالت میں نمایاں بہتری محسوس کی اور ان کی ذہنی صحت بحال ہونے میں زیادہ مددملی۔ مراقبہ سے حاصل ہونے والے فوائد اس طرح ظاہرہوئے کہ اہل خانہ یا دوستوں کے ساتھ تفریح یا باہر کھانا کھانا، انہوں نے زندگی کے معاملات میں ازسرنو دلچسپی لینی شروع کی۔ پاکستان میں شیرو فرینیا، ڈپریشن اور دوسرے کئی نفسیاتی امراض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ امراض کا پھیلاؤ تو فکر مندی کی بات ہے ہی لیکن مزید فکر کی اور تشویش کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں …..
-1ان امراض کے لیے علاج کے لیے نفسیاتی معالجین کی تعداد بہت کم ہے۔
2- امراض میں مبتلا افراد خود یا ان کے اہل خانہ ان کیفیات کو مرض یا نفسیاتی مسئلہ سمجھنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
3-مریض یا اہلِ خانہ میں سے کوئی ان علامات کو بطور مرض تسلیم کرلیں تب بھی کوئی ایک یعنی یا تو مریض خود یا اہل خانہ علاج کے لیے درکار تعاون فراہم نہیں کرتے۔
عوام الناس میں اس آگہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کہ نفسیاتی امراض کو پاگل نہیں بلکہ قابل علاج بیماری سمجھا جائے۔ اور معالجین کو اس نکتہ پر قائل Convince کرنے کی ضرورت ہے کہ نفسیاتی امراض میں ادویات کے ساتھ متبادل علاج Alternative Therapy کی افادیت کو بھی تسلیم کیا جائے۔
مریض کی بہتری کے لیے مراقبہ ، کلرتھراپی، وظائف کو بھی اختیار کیا جائے۔ بیماری سے شفا میں عبادات کا بھی بہت موثر کردار ہے۔ عبادات کرنے سے انسان کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ یقین میں یہ اضافہ شفائی عمل کو تیز کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عبادات، وظائف وغیرہ سے انسان کی قوت مدافعت بہتر ہوتی ہے۔
مریض کی بہتری کے لیے نفسیاتی معالجین، ڈاکٹر، متبادل علاج کے پریکٹشنز کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
مراقبہ پر سائنسی تحقیقات کے نتائج اس اشتراک عمل کو ایک اچھی بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔

 

(جاری ہے)

دسمبر 2012ء

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

یوگا – 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں دوسری قسط سانس کا اُتار چڑھاؤ یوگا میں ...

فینگ شوئی – 7

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر  7         فینگ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے