روحانی ڈائجسٹ / جہاں نما / پراسرار و حیرت انگیز / پتھروں پر منقش ، ہزاروں برس قدیم انسائیکلوپیڈیا

پتھروں پر منقش ، ہزاروں برس قدیم انسائیکلوپیڈیا

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..

 


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

ان پتھروں کو دیکھ کر سائنسدان حیران ہیں کہ ان اقوام کی منقش تصاویروں میں، لاکھوں سال قبل ناپیدہوچکے جانوروں سے لے کر اب تک دریافت ہونے والے کینگروؤں کی تصاویر نقش تھیں، اس کے علاوہ ٹیلی اسکوپ، مختلف انسانی اعضاء کی سرجری ، قدیم دنیاکے نقشوں ، کہکشانی نظام، شہاب ثاقب، فوسلز اورڈائنوسارزکی ہوبہو تصاویریں بھی ملی ہیں۔! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پتھروں پر منقش ، ہزاروں برس قدیم 

انسائیکلوپیڈیا

 

ماہرینِ ارضیات بتاتے ہیں کہ ایک زمانے میں تمام براعظم آپس میں جڑے ہوئے تھے، لیکن زمین کی اندرونی حرکات، زلزلہ، آتش فشاں کی ہلچل اور تباہ کن طوفانوں نے زمین کے طبقات کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا، جس کے باعث کرۂ ارض پر جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ انہی تباہ کن طوفانوں اور زلزلوں نے زمین پر پائے جانے والے ڈائنوسارز اور دیگر عظیم الجثّہ جانوروں کو صفحہ ٔ ہستی سے مٹا ڈالا۔ اس طرح کی اور بھی تباہیاں زمین پر آچکی ہیں لیکن انسانی تاریخ اُسے محفوظ نہ کرسکی۔ سائنسدانوں کے خیال کے مطابق آخری آئس ایج آج سے تقریباً دس ہزار برس قبل رونما ہوا، جس سے ناصرف زمین پر زبردست تبدیلیاں ظاہر ہوئیں بلکہ کئی ترقی یافتہ تہذیبوں کو بھی برباد کردیا۔
جو لوگ اس تباہی سے محفوظ رہے انہوں نے اپنی ترقی یافتہ تہذیب کی تاریخ اور علوم کو محفوظ کرنے کے لیے کوششیں کیں، بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ اہرام مصر محض فراعین کا مقبرہ نہیں بلکہ یہ انسانی تاریخ کی دانائی محفوظ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ جس کے ایک ایک گوشے سے علم و آگہی کا احساس عیاں ہے۔ جدید دور میں انسان معلومات یا یادگار اشیاء کو دھاتی بکسوں میں بند کرکے زمین میں دفن کردیتے ہیں تاکہ اگلی نسلیں انہیں کھود کر دریافت کریں اور اپنے اجداد کے کارناموں سے آگاہ ہوسکیں، ان بکسوں کو ٹائم کیپسول کہا جاتا ہے، بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اہرام مصر بھی اسی طرح کا ٹائم کیپسول ہے جو قدیم و جدید تہذیبوں کے سنگم پر کھڑا آنے والوں کو ماضی کے مالکوں کی حیرت انگیز بصیرت کا احوال سناتا ہے۔اسی طرح امریکہ میں ان ترقی یافتہ تہذیبوں کی محفوظ نسلوں نے اپنے علوم اور تاریخ کو محفوظ رکھنے کے لیے پتھروں پر اپنی داستان نقش کیں۔


1966ء کا ذکر ہے کہ پیرو کے شہر ایکا میں مقیم بائیولوجی کے پروفیسراور معالج ڈاکٹر جاویر کابریراکو مقامی باشندہ نے تحفہ میں ایک پتھر دیا جس پر ایک مچھلی کی تصویر نقش تھی۔ ڈاکٹر جاویر کابریرا نے اس تصویر پرغور کیا تو پتا چلا کہ یہ کوئی عام مچھلی کی تصویر نہیں ہے بلکہ اس قسم کی مچھلی لاکھوں سال قبل ناپید ہوچکی ہے اور صرف سائنس.دان اس مخلوق کے بارے میں جانتے ہیں۔

انہوں نے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس مقامی باشندے کو یہ اور اس جیسے مزید کچھ پتھر ایکا کے اوکاکاجے Ocucaje صحرا کی ریت میں دفن ملے تھے، ڈاکٹر کابریرا نے دوسرے پتھر دیکھے تو ان پر بنے نقش نے انہیں مزید حیرت میں ڈال دیا۔ چنانچہ انہوں نے وہ تمام پتھر اس سے خرید لیے اور پھر ایکاکے اوکاکاجے صحرا میں اس جیسے پتھروں کی تلاش شروع کردی۔

آخرکار ڈاکٹر جاویر کابریرا نے 34 سال میں تقریباپندرہ ہزار پتھر دریافت کیے جنہیں انہوں نے ایکا اسٹون Ica Stone کا نام دیا اور ان ایکا اسٹون کے لیے ایک میوزیم بھی بنایا۔ ڈاکٹر جاویر کاربریرانے ان پتھروں کے حیرت انگیز نقوش پر ایک کتاب ‘‘ایکا کے دفن پتھروں کا پیغام ’’ The Message of Engraved Stones of Ica لکھی، جس میں انہوں نے بتایا کہ آج سے ہزاروں سال پہلے ایکا میں ایسی ترقی یافتہ تہذیب مو جود تھی جو بہت سے ایسے سائنسی علوم سے واقف تھی، جن علوم کے متعلق آج تک ہم یہ سمجھتے تھے کہ انہیں ہم نے دریافت کیا ہے۔

 

1533ء میں جب ہسپانوی جہازرانوں نے امریکہ میں اپنی کالونیاں بسائیں تو انہیں یہاں تین بڑی تہذیبوں مایان، ازٹک اور انکا کے آثار ملےجو میکسیکو، پیرو اور بولیویا میں آباد تھیں۔ یہ عظیم الشان سلطنتیں تہذیب و تمدن اور علم و فن میں اس وقت کی تمام اقوام میں بہت آگے تھیں۔ انہوں نے اپنا ایک مخصوص نظام سیاست و معیشت وضع کیا تھا۔ جس کے مطابق بادشاہ ملک کا حکمران ہونے کے علاوہ رعایا کا دینی پیشوا بھی تھا۔ تمام ذرائع پیداوار حکومت کی تحویل میں‌تھے اور ریاست عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کی پابند تھی۔ انہوں نے زراعت کو ترقی دی۔ سڑکیں، پل اور آبی ذخائر تعمیر کیے۔ کوزہ گری ، دھات سازی اور پارچہبافی میں انہیں کمال حاصل تھا۔

ایکا سے ملنے والے پتھروں کے نقوش بتاتے ہیں کہ انہیں بنانے والی قوم لاکھوں برس قبل فنا ہوجانے والے ڈائنوسارز کے وجود سے واقف تھی، وہ لوگ سرجری کے لیے انوکھے آلات استعمال کرتے تھے اور کہکشانی نظام کو دیکھنے کے لیے ٹیلی اسکوپ بھی بناچکے تھے، یہی نہیں ان منقش پتھروں پر حجری عہد کے فوسلز، مگنفائن گلاسز، شہاب ثاقب، اہرام، دل، گردہ، جگر اور دیگر انسانی اعضاء کی سرجری کی حیرت انگیز تصاویر بھی ملتی ہیں۔ ایکا اسٹون پر نقش تصاویر میں لاکھوں برس قبل ناپید ہونے والے ڈائنوسارز سے لے کر موجودہ دور میں دریافت ہونے والے کینگرو کی تصویر بھی ہے۔


ایکا اسٹون پر جنوبی امریکہ اور دیگر براعظموں کے نقشے اس طرح بنے ہیں کہ ان مقام پر پائے جانے والے جانوروں، پہاڑوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
اسی طرح نازکا (پیرو)میں بنے عظیم الجثہ نقوش جنہیں تین ہزار فٹ بلندی سے ہی دیکھا جاسکتا ہے، اس کے نقوش بھی ایکا اسٹون پہ موجود ہیں۔گو آج تک سائنس دان اس قوم کے رہن سہن اور اس کے آغاز و ارتقاء کے بارے میں زیادہ تفصیلات حاصل نہیں کر سکے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ایکا میں ایسی ترقی یافتہ تہذیب مو جود تھی جو بہت سے ایسے سائنسی علوم سے واقف تھی، جن علوم کے متعلق آج تک ہم یہ سمجھتے تھے کہ انہیں ہم نے دریافت کیا ہے۔

 

ایکا اسٹون کا میوزیم 

 


ایکا اسٹون پر ڈائنوسارزکے نقوش ….!

 


نازکا لائن (پیرو) کے نقوش….!

 


ہارٹ سرجری اور دل کی شریانوں کی تصویر ….!


ایکا کا قدیم باشندہ ٹیلی اسکوپ سے ستاروں اور میگنیفائن گلاس سے رکازات کا معائنہ کررہا ہے ….!

 


ایکا اسٹون پر دنیا کے گلوب، افریقہ  اور جنوبی امریکہ کا نقشہ ….!

 

 

 

روحانی ڈائجسٹ جولائی  2012ء 

 
اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

کشورِ ظلمات ۔ قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے