روحانی ڈائجسٹ / روحانی ڈاک / روحانی ڈاک – مارچ 2019ء

روحانی ڈاک – مارچ 2019ء

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں


 ↑ مزید تفصیلات کے لیے موضوعات  پر کلک کریں↑

Image Map

 


***

نوجوان لڑکوں کو گمراہی سے کیسے بچایا جائے؟

سوال: ہم چھ بہنیں ہیں اور ہمارے دو بھائی ہیں۔بڑے بھائی کی عمر اٹھائیس سال ہوگئی ہے لیکن وہ کوئی کام نہیں کرتا۔ دن میں ہر وقت سوتا رہتا ہے۔ شام کے وقت جاگتا ہے ۔ ہلکا پھلکا کچھ کھا پی کر اپنی موٹر سائیکل لے کر گھر سے نکل جاتا ہے۔ رات بھر سڑکوں پر اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ ریس لگاتا اور ون وہیلنگ کرتا ہے۔
تین بہنیں شادی شدہ ہیں۔والد صاحب ریٹائرڈ اوربیمار ہیں۔ والد صاحب کی پینشن اورکچھ جمع پونجی سے ہماراگذارا ہورہا ہے لیکن کب تک …. ہم بہنوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی مگر بڑے بھائی نے بمشکل انٹرکیاہے ۔
ہمارا بھائی روزگار اور آمدنی کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔ والد صاحب اسے اپنے ایک دوست کی دکان پربٹھاناچاہتے ہیں مگروہ ان کی بات نہیں مانتا۔والد صاحب نے اسے دوتین جگہ ملازمتیں بھی دلوائیں مگر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کراس نے انکار کردیا ۔ اس کی دیکھا دیکھی چھوٹا بھائی بھی پڑھنے لکھنے میں بالکل دھیان نہیں دیتا، سارا سارا دن اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ پھرتا رہتا ہے۔ روز روز محلے سے اس کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔
محترم وقار عظیمی صاحب….! آپ سے درخواست ہے کہ کوئی ایسا وظیفہ بتادیں کہ ہمارے دونوں بھائی گمراہی سے باز آجائیں اور ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو۔ ۔۔  

جواب:

رات سونے سےپہلے 101 مرتبہ

 بِسمِ اﷲِالرَّحمٰنِ الرَّ حِیم
بَحَولِ وَقُوَّتِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ اَلْمُھَیْمِنُ الْعَزِیزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ط

گیارہ گیارہ مرتبہ درودشریف کے ساتھ پڑھ کر اپنےبھائیوں کاتصور کرکے دم کردیں اور دعا کریں کہ ان میں احساسِ ذمہ داری آئے، کام اور پڑھائی میں اُن کا دل لگے اور انہیں اپنے فرائض ٹھیک طرح ادا کرنے کی توفیق ملے۔
یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔
ناغہ کے دن شمار کرکے بعد میں پورے کریں۔
۔

 


***

ایک عورت دشمن بن گئی !

سوال: تین سال پہلے میری شادی ہوئی۔ اللہتعالیٰ کے فضل وکرم سے میرے دوبیٹے ہیں۔
ہمارے پڑوس میں رہنے والی ایک فیملی کا ہمارے ہاں بہت آنا جانا تھا۔ اس عورت کی شادی میری شادی سے دوسال پہلے ہوئی تھی۔اس کی دو بیٹیاں ہیں۔
جب میرے ہاں دوسرے بیٹے کی ولادت ہوئی تو ان دنوں اس کے ہاں بھی دوسری ولادت متوقع تھی۔ میرے ہاں بیٹا اوراس کے ہاں بیٹی ہوئی۔ اس عورت نے مجھ سے کہا تم اپنا بیٹا مجھے دے دو اورمیری بیٹی تم لے لو اس طرح دونوں کی فیملی مکمل ہوجائے گی۔ میں نے بہت نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ بدتمیزی اوربددعاؤں پر اترآئی۔
اب اس عورت کا رویہ دشمنی میں بدل چکاہے۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ اپنے گھرسے ہمارے گھر کی طرف پانی پھینکتی ہے۔کبھی عجیب وغریب شکلوں والے کاغذ کسی پتھر میں لپٹے ہوئے ہمیں ملتے ہیں۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ وہ ہمارے گھر کی طرف رُخ کرکے کچھ پھونک رہیتھی۔
یہ سب باتیں میں نےاپنے شوہر کو بتائیں۔ انہوں نے اشاروں کنایوں میں مناسب الفاظ میں اس کے شوہر سے بات کی لیکن اس عورت کے طرزعمل میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ہمارے چند پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ یہ عورت جادو ٹونے کے خبیث کاموں میں پڑ چکی ہے۔
اس عورت کی ان حرکتوں کی وجہ سے میری راتوں کی نیند اورچین تباہ ہوچکاہے۔مجھے اپنے بچوں کی سلامتی کی فکر ہورہی ہے۔
محترم ڈاکٹر صاحب….! پلیز ہمیں بتائیں کہ ہم کیا کریں۔ کرایہ کا یہ مکان چھوڑ کر کہیں اورشفٹ ہوجائیں….؟

 

جواب: اللہ تعالیٰ سب کو خود غرض اورمنفی طرز عمل رکھنے والے لوگوں کے شر سے اپنی امان میں رکھے۔ آمین
شر سے بچنے اور بدعملیات کے منفی اثرات سے حفاظت کے لیے رات سونے سے پہلے 101 مرتبہ سورہ یوسف( 12)کی آیت67میں سے

اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلّٰهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَO

گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر خود پر ، شوہر پر اوربچوں پردم کرلیں اور وہیں بیٹھے ہوئے اپنے کمرے کے چاروں کونوں کی طرف رُخ کرکے دم کردیں۔
صبح اورشام سات مرتبہ سورہ فلق، سات مرتبہ سورہالناس اورتین مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر پانی پر دم کرکے سب گھر والوں کو پلائیں اورسب پردم بھی کردیں۔
تعویذ: ایک عددسفید کاغذ پرسیاہ روشنائی سے بِسْمِ اللَّهِ کے ساتھ آیت الکرسی لکھ کر تعویذ بنا کربچوں کے گلے میں پہنادیں ۔
وضو بےوضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء :

یاحفیظ یاسلام یاحی یاقیوم

کا ورد کرتیرہیں۔
حسب استطاعت صدقہ کردیں۔
۔

 


***

بھائی علاج نہیں کرواتے

سوال: ہمارے بڑے بھائی جن کی عمر سترسال ہے۔غیر شادی شدہ ہیں۔گذشتہ ڈھائی سال سے سخت بیمار ہیں۔مسئلہ صرف ان کی بیماری کا نہیں ہے بلکہ زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ باقاعدہ علاج کروانے پر آمادہ نہیں ہوتے بلکہ خود سے مختلف نسخے اور ٹوٹکے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ حکیمی علاج کراؤں گا ،پھر کہتے ہیں کہ ہومیوپیتھی کا علاج فائدہ مند ہوگا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بیماری سے گناہ دھلتے ہیں۔
ڈاکٹروں نے انہیں ہائی بلڈ پریشر،ذیابطیس تشخیص کیا ہے۔ ہم سب گھر والے ان کی طرف سے بہت پریشان ہیں لیکن وہ اپنی رائے پر قائم ہیں۔ ۔

جواب:اپنے بڑے بھائی کو سمجھائیں کہ علاج کروانا سنت نبوی ﷺ ہے۔ انسان پر اپنے جسم کا بھی حق ہے۔ اس حق کی ادائی کے لئے کوشش کرنا ہرانسان پر لازم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مومنوں کو اپنی صحت برقرار رکھنے کی کوششوں اور بیماری کی حالت میں علاج کی تاکید فرمائی ہے۔
قدیم خیالات کے حامل بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ بیماری کی صورت میں حکیمی علاج کروانا کوئی احسن عمل ہے جبکہ ڈاکٹری علاج نہایت مجبوری میں کیا جانے والا کوئی غیرمباح عمل ہے۔ یہ طرزِفکر درست نہیں ہے۔ حسب ضرورت علاج ضروری ہے خواہ وہ حکیمی علاج ہو، ہومیوپیتھک علاج ہو، ایلوپیتھک علاج ہو یا کوئی اور طریقہ علاج ہو۔
اگر آپ کے بھائی علاج کے ہی مخالف ہیں تو وہ اپنا علاج خود یا حکیمی علاج کیوں کررہے ہیں۔ یہ بھی تو علاج کی ہی قسمیں ہیں۔
بعض لوگ ڈاکٹری علاج اور اینٹی بائیوٹک ادویہ کے بجائے قدرتی طریقہ علاج کو فوقیت دیتے ہیں۔ قدرتی طریقہ علاج کی افادیت اپنی جگہ مسلم لیکن کئی امراض مثلاً ہائی بلڈپریشر، ذیابیطس، امراضِ قلب، ٹی بی، نمونیہ وغیرہ میں قدرتی طریقہ علاج کی نسبت ڈاکٹری علاج زیادہ موثر ہے۔
بے شک ….بیماری کی وجہ سے انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں، تاہم بیماری آنے اور بیماری خود پر مسلط رکھنے میں واضح فرق ہے۔
علاج سے لاپروائی برتتے ہوئے ضد میں بیماری خود پر مسلط رکھنا کوئی احسن عمل اور نیکیوں کے حصول کا ذریعہ نہیں ہے۔
رات سونے سے پہلے اکیس مرتبہ سورۂ فاطر (35)کی آیت 3 :
تین تین مرتبہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر بھائی کا تصور کرکے دم کردیں اور اُن کے لئےدعاکریں۔

 


***

بیٹی ڈاکٹر بننا چاہتی ہے مگر….

سوال: ہماری دوبیٹیاں ہیں۔ بیٹا نہیں ہے۔میں ایک ادارے میں نائب قاصد ہوں۔میری اہلیہ پڑھی لکھی خاتون ہیں اورایک اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ہماری گزربسر الحمد للہ اچھی ہوتی رہی ہے۔
میری بڑی بیٹی کو ڈاکٹر بننے کا بہت شوق ہے۔اس نے انٹر کے بعدپری میڈیکل کے لیے انٹری ٹیسٹ دیا اوراس کا داخلہ میرٹ پر ہوگیا۔
ہم بھی چاہتے تھے کہ وہ ڈاکٹر بنے لیکن قسمت کی ستم ظریفی کہ بیٹی کےپہلے سیمسٹر کے بعد ہی میری اہلیہ کو دل کا اٹیک ہوا اورکچھ عرصہ بعد ان کا بائی پاس ہوا۔جوجمع پونچی سبنھال کررکھی تھی وہ ان کے علاج میں خرچ ہوگئی۔
میں جو کچھ کماتا ہوں اس رقم کا زیادہ حصہ اہلیہ کے علاج معالجے اوردوائیوں میں لگ جاتا ہے۔ بیٹی نے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیےایک ادارے میں پارٹ ٹائم جاب بھی دیکھ لی ہے ۔
چھوٹی بہن جو میٹرک میں ہے وہ بھی بڑی بہن کی معاونت کے لیے ٹیوشن پڑھا رہی ہے۔ ہماری بیٹی اپنے ارادوں کی بہت مضبوط ہے اورڈاکٹر بننا چاہتی ہے لیکن ہمارے پاس وسائل نہیں کہ اس کا مقصد بآسانی پورا کرسکیں۔
براہِ کرم بیٹی کے مقصد کے حصول وتکمیل کے لئے وظیفہ بتادیں۔۔

جواب: اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہوں آپ کے لیے آسانیاں فراہم ہوں آمین!مالی مشکلات کے باوجودآپ کی بیٹی اورآپ کے اہل خانہ کا تعاون قابل ستائش ہے ۔
جو لوگ اللہ کے بھروسہ پر کوشش کرتے ہیں انہیں زندگی کے مختلف مراحل میں اللہتعالیٰ کی مدد ملتی ہے۔ اللہتعالیٰ کا فضل و کرم انشاء اللہ آپ کے بھی شامل حال رہے گا۔
عشاء کی نماز کے بعد اکتالیس مرتبہ آیت الکرسی اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر خیرو برکت کے لئے دعا کریں۔
سب گھر والے وضو بے وضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء یاحی یاقیوم کا ورد کرتے رہیں۔
۔

 


***

بیوی کے پاس جاتے ہی جذبات سرد کیوں پڑ جاتے ہیں….؟ 

سوال: میرے ایک دوست کی عمر پچیس سال ہے۔ اس کی شادی کو تین ماہ ہوئے ہیں۔ لیکن وہ ابھی تک ازدواجی حقوق ادا نہیں کرسکا۔ وہ کہتا ہے کہ میں جیسے ہی بیوی کے سامنے جاتا ہوں تو خوف اور گھبراہٹ میں مبتلا ہوجاتا ہوں جس کی وجہ سے جذبات سرد پڑ جاتے ہیں۔
اس کی بیگم بہت ہی اچھی خاتون ہیں۔ انہوں نے ابھی تک شوہر کا پردہ رکھا ہوا ہے لیکن بات کب تک چھپی رہے گی….؟
میرا دوست کہتا ہے کہ شادی سے پہلے وہ بالکل ٹھیک تھا۔ اگر کسی کمزوری کا ذرا بھی شک ہوتا تو وہ شادی ہی نہیں کرتا۔ اس کی وجہ سے اسے یقین ہورہا ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات پر بندش کروادی گئیہے۔
آپ سے درخواست ہے کہ میرے دوست کی کیفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری علاج تجویز فرمائیں۔

جواب: محبت کرنے والے میاں بیوی کے درمیان دوریاں پیدا کرکے شیطان بہت خوش ہوتا ہے۔ کسی کی خوشیوں سے خوش نہ ہونے والے بعض لوگوں میں حسد اور جلن، محبت کرنے والے جوڑوں کے لیے رکاوٹوں اور مشکلات کا سبب بھی بنسکتےہیں۔
شیطانی طرز فکر کے حامل ایسے لوگ کبھی محض اپنی حاسدانہ نظروں سے اور کبھی کسی منفی عمل کے ذریعے میاں بیوی کے لیے پریشانیوں کا سامان کرتےرہتے ہیں۔
یہ پریشانیاں اور مشکلات کئی انداز سے ظاہر ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر شوہر یا بیوی کو ایک دوسرے سے بیزاری محسوس ہونا، عام طور پر موڈ ٹھیک رہنا لیکن ایک دوسرے کو دیکھتے ہی موڈ آف ہوجانا یا غصہ بڑھ جانا، صحت ٹھیک ہونے کے باوجود شوہر میں بیوی یا بیوی میں شوہر کی قربت کی خواہش ختم ہوجانا، معمول کے ازدواجی تعلقات اور سب ٹیسٹ نارمل ہونے کے باوجود حمل قرار نہ پانا یا حمل قائم نہ رہ پانا جیسے مسائل شامل ہیں۔
نظر بد اور حسد کے زیر اثر یا کوئی بندش کرادینے کی وجہ سے سامنے آنے والی ایسی مشکلات سے نجات کے لیے قرآنی آیات، مسنون دعاؤں اور بزرگوں کے بتائے ہوئے وظائف اور طریقوں سے مدد لینی چاہیے۔ صدقہ خیرات کرنا چاہیے۔ روحانی علاج کے ساتھ ساتھ اگر ضرورت ہو تو طبی اور نفسیاتی علاج بھی کروانا چاہیے۔
آپ کے دوست کراچی میں مقیم ہیں۔ مناسب سمجھیں تو کسی دن مطب کے اوقات میں آکر مل لیں۔ مطب کے ٹائمنگ 02136688931 پر فون کرکے معلوم کرلیں۔

 

 


***

جوانی میں جذباتی خیالات سے بچنے کے لیے مجرب عمل! 

سوال: میری عمر تیس سال ہے۔ ابھی کنوارا ہوں۔ مجھے چند سال سے صنف مخالف کے بارے میں ہر وقت گندے خیالات اور شیطانی وسوسے آتے رہتے ہیں۔ اپنے ان خیالات کی وجہ سے میں خود کو بہت گنہگار سمجھتا ہوں۔
میں ان خیالات سے جان چھڑانے کی بہت کوشش کرتا ہوں لیکن میرے ذہن سے یہ خیالات نہیں نکلتے۔ ان برے خیالات کی وجہ سے میرے جسم میں بےچینی رہتی ہے۔ سر میں درد رہنے لگا ہے اور دماغ میں بھاری بن محسوس ہوتا ہے۔ ….

جواب: پہلے تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ بلوغت کے بعد صنف مخالف میں کشش محسوس ہونا کوئی برا خیال یا شیطانی وسوسہ نہیں بلکہ ایک فطری عمل ہے۔
ہر ذی نفس میں صنف مخالف کے لیے کشش اور اس کے ساتھ قربت کا تقاضہ موجود ہے۔ یہ کشش اور تقاضہ بقائے نسل کے ایک بہت بڑے قدرتی پروگرام کا حصہ ہے۔
ان خیالات اور تقاضوں کی شدت کی وجہ سے کسی آدمی کا خود کو گنہگار سمجھنا دراصل قدرت کے نظام کو نہ سمجھنے کا اظہار ہے۔ ان قدرتی تقاضوں کی تکمیل کے لیے مذہبی و معاشرتی حدود کی پاس داری نہ کرنا بری بات ہے۔ قدرتی نظام کے تحت ابھرنے والے تقاضے یا خیالات فی نفسہ برے نہیں۔
نوجوانی کے دور میں ان تقاضوں کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ صرف نوجوانی کے دور کا معاملہ نہیں ہے۔ جسمانی، ذہنی، جذباتی لحاظ سے صحت مند افراد میں عمر کے ہر حصے میں یہ تقاضے موجود رہتے ہیں۔ نوجوانی میں یا عمر کے کسی اور حصے میں ان تقاضوں کی شدت کا بہترین حل تو نکاح کے ذریعے فطری خواہشات کی تکمیل کا اہتمام کرنا ہے۔ کسی وجہ سے ایسا نہ ہوسکے تو مختلف تدابیر کے ذریعے ان تقاضوں کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ان میں ہیجان انگیز لٹریچر کے مطالعے سے، ہیجان انگیز مناظر کے مشاہدے سے گریز، ایسے لڑکوں کی صحبت سے کنارہ کشی جو جذبات کو بھڑکانے اور اس کے لیے مختلف ذرائع اختیار کرنے کے مشورے دیتے ہوں۔
کھانوں میں مچھلی، بیف، مٹن یا چکن اور انڈے کے استعمال سے اجتناب اور سبزیوں، دالوں، پھلوں کا استعمال بڑھا دینا مفید ہیں۔
ان تقاضوں کی شدت کنٹرول کرنے کے لیے روزہ رکھنا بہت معاون ہے۔
روزہ رکھیے ، زیادہ وقت باوضو رہنے کے ساتھ ساتھ ذکر الٰہی کا اہتمام کیجیے۔
چلتے پھرتے اللہ تعالیٰ کے اسماء یاحی یاقیوم یا دیگر اسماء کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔
اچھی کتابوں کا مطالعہ کیجیے اور مثبت فکر دوستوں کی صحبت اختیار کیجیے۔

 

 


***

شادی پہ بندش کروادی ہے

سوال: میری عمراٹھائیس سال ہے۔ سرکاری افسر ہوں۔ اللہ پاک نے شکل وصورت بھی اچھی دی ہے۔ گھریلو حالات اچھے ہیں۔ والد صاحب بھی آفسیر تھے۔ اللہ کے کرم سے سب کچھ ٹھیک ہے مگر میری شادی کا مسئلہ حل نہیں ہوپارہا کسی وجہ کے بغیر انکار ہوجاتا تھا۔ اب تو کئی سال سے کوئی رشتہ ہی نہیں آیا۔ والدہ نے جہاں سے بھی حساب کروایا، سب نے بندش بتائی ہے۔میرے والدین میری وجہ سے بہت پریشان ہیں۔
محترم وقار صاحب….! میری مدد فرمائیں۔

جواب: شادی پر بندش سے نجات کے لیے صبح اور شام سات مرتبہ سورہ فلق، سات مرتبہ سورہ النّاس اورتین مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر پانی پر دم کرکے یہ پانی پی لیں اوراپنے اوپربھی دم کرلیں۔
رات سونے سے پہلے اکتالیس مرتبہ :

لَااِلٰہ َاِلَّا اﷲُ وَحْدَہ’ لَاشَرِیْکَ لَہ’ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٌ قَدِیْرO

سات سات مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیں۔
عشاء کی نماز کےبعد 101سومرتبہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
یُرْ سِلُ الرَّیَاحُ فِیْمَا کَانَ فِیْہِ

اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر رشتہ میں درپیش رکاوٹ سے نجات اوراچھی جگہ رشتہ طے ہونے اور خیر و عافیت کے ساتھ شادی کے لیے دعا کریں۔
یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔
ناغہ کے دن شمارکرکے بعد میں پورے کرلیں۔
وضو بےوضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء
یاحفیظ یاوھاب یاسلام
کاورد کرتی رہیں۔
حسب استطاعت صدقہ کردیں۔

 

 


***

پرائے مرد کو بعض عورتیں اپنی طرف کیوں بلاتی ہیں

سوال: میری شادی کو بارہ سال ہوگئے ہیں۔ میرے چار بچے ہیں۔ اپنے شریک حیات کے ساتھ زندگی بہت ہی پرسکون اور اطمینان بخش گزر رہی تھی، لوگ ہماری فیملی کی مثالیں دیا کرتے تھے لیکن پھر نہ جانے کس کی نظر لگی کہ بہت کچھ پہلے جیسا نہ رہا۔ میرے شوہر کی اپنے آفس میں جونیئر پوسٹ پر کام کرنے والی ایک شادی شدہ عورت سے بہت بےتکلفی ہوگئی۔ وہ عورت اور اس کا شوہر بہت ہی بداخلاق لوگ ہیں۔ میں نے ہر طرح سے شوہر کو سمجھا کر دیکھ لیا ہے لیکن انہوں نے اس عورت کے گھر آنا جانا اور دیر تک رکنا نہیں چھوڑا۔
میں اپنے شوہر کا بہت خیال رکھتی ہوں۔ ان کے سب کام ان کے کہنے سے پہلے ہی کرکے دے دیتی ہوں۔ میرے شوہر بھی بہت نفیس طبیعت کے انسان ہیں نہ جانے وہ ان لوگوں میں کیسےپھنسگئے….؟
میرے شوہر اپنے فارغ اوقات میں اکثر وقت اس عورت کے گھر رہنے لگے ہیں،اور اسی کے ساتھ باہر ہوٹلوں میں کھانا کھاتے بھی دیکھے گئے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ میرے شریک حیات اس عورت کے سحر میں اپنی دولت لٹاتے رہنے کے ساتھ ساتھ کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ آخر ایک عورت اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے ایک پرائے مرد کو اپنی طرف کیوں مائل کرتی ہے؟۔  

جواب:غیر عورت سے رغبت سے نجات کےلیے ….
وضو کرکے تین مرتبہ:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيم
لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّی كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ۭO اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ O لاَتَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ

پڑھ کر ایک پیالی پانی پر دم کرکے انہیں پلائیں۔
یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔
رات سونے سے پہلے اکتالیس مرتبہ سورۂاخلاص، گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے شوہر کا تصور کرکے دم کردیں اور ان کے راہ راست پر آنے کی دعا کریں۔
یہ عمل نوے روز تک جاری رکھیں۔
ناغہ کے دن شمار کرکے بعد میں پورے کرلیں۔

 


***

حیرت انگیز عمل….پرائز بانڈ نکل آیا 

خط: کہتے ہیں کہ جہاں عروج ہو وہاں زوال بھی آتا ہے۔ چند ماہ قبل ایسی ہی کچھ حالت میری بھی تھی، میں اپنے کاروبار کے بدترین زوال سے گزر رہا تھا۔ دکان میں سامان کم ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہوگیا تھا اور اس وجہ سے گاہک بھی دکان پر نہ رُکتے تھے۔ آس پاس کے دکان دار بھی میرے روز روز اُدھار مانگنے سے تنگ آگئے تھے۔ بچوں کی اسکول فیس، گھر کا راشن اوردیگر گھریلو پریشانیاں اس کے علاوہ تھیں۔ پیسے نہ ہونے کے باعث روز روز کی تکرار سے تنگ آکر بیگم بھی بچوں کو لے کر اپنی والدہ کے گھر جا بیٹھی تھیں۔
ایک رات نہایت بجھے دل کے ساتھ دُکان بند کرکے مارکیٹ سے نکلا ، راستے میں ایک ہوٹل پر رُک کر کچھ کھانے کو طلب کیا اور وہیں ایک میز پر بیٹھ کر کھاناکھانے لگا۔ کھانا کھاتے ہوئے میری نظر ایک عمر رسیدہ اور مفلوک الحال شخص پر پڑی ، جو اس ہوٹل سے دور ایک فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا تھا، مالی پریشانیوں اور تنہائی کے سبب میں ایک ایک نوالہ بمشکل حلق سے اُتار پا رہا تھا، سوچا ان بزرگ کو بھی اس کھانے میں شامل کرلوں۔
میں نے انہیں اپنے ساتھ کھانے کی میز پر بٹھالیا۔ وہ بہت ہی خاموش طبیعت ہستی تھی، بہت ہی سست روی اور تحمل سے ان بزرگ نے روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تناول کیا۔
واپسی جاتے ہوئے مجھ سے گویا ہوئے کہ کسی کو دے کر آزمایا جاتا ہے تو کسی سے لے کر۔ تو اس سختی کو صرف آزمائش ہی سمجھ۔ پھر کہنے لگے آ….!میں تجھے اس مشکل سے نکلنے کا راستہ بتاؤں۔ انہوں نے مجھے کچھ نصیحتیں بھی کیں۔
میں نے بے دلی سے ان بزرگ کی باتیں سن تو لیں تو ان پر کوئی عمل نہ کیا۔ جب سب تدابیر ناکام ہوچکی تھیں اور مصیبت سے نکلنے کا کوئی راستہ باقی دکھائی نہ دیتا تھا۔ تب میں نے ان بزرگ کی ہدایات پر عمل کرنا شروع کردیا۔ کچھ دن بعد مجھے پیسوں کی بہت زیادہ تنگی محسوس ہوئی تو سات سال سے صندوق میں بند دو پرائز بانڈز فروخت کرنے کا خیال آیا۔ ایک دوست نے مشورہ دیا کہ انہیں بیچنے سے پہلے ذرا چیک کرلو، کیا پتہ کوئی چھوٹا موٹا انعام نکل آیا ہو۔ اپنے دوست کے مشورے پر میں نے جب انعام یافتہ بانڈز کی لسٹ چیک کی تب میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ سات سال سے میرے صندوق میں بند اس بانڈ پر پچھلے ہفتے ہی میں دوسرا بڑاانعام نکل آیا تھا۔ پرائز بانڈز پر انعام کے ذریعے حاصل ہونے والی بڑی رقم سے میری مشکلات حل ہوگئیں، کاروبار پھلنے پھولنے لگا، ناراض بیوی واپس گھر آگئی ہے۔ ایک اچھی خاصی رقم میں نے بینک مال میں بھی جمع کروادی۔
اس واقعے کے بعد وہ بزرگ ہستی دوبارہ مجھے کبھی نہ ملی لیکن ان کا بتایا ہوا عمل مجھے من و عن یاد ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج میرے حالات بہت اچھے ہیں ۔
میں چاہتا ہوں کہ اُن بزرگ کا بتایا ہوا عمل روحانی ڈائجسٹ کی وساطت سے دوسرے لوگوں تک بھی پہنچ جائے کیا پتہ کس کا کب بھلا ہوجائے، ان بزرگ نے مجھ سے کہا تھا:

وظیفہ: ہر رات سونے سے پہلے ایک سو ایک مرتبہ یا فتاح گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ لیا کرو اور ہفتے میں کم از کم تین دن چیل اور کوؤں میں پھیپھڑے کا گوشت تقسیم کیا کرو۔ جب موقع ملے تو مستحق افراد کو کھانا بھی کھلا دیا کرو۔ ان شاء اللہ سخت گھڑی ٹل جائے گی۔

 

 


***

خوف ،بے چینی اورڈپریشن

سوال: میری شادی کو پندرہ سال ہوگئے ہیں۔ میرے چار بچے ہیں۔ مجھے بچپن سے ہی کتابیں رسالے پڑھنے کا شوق ہے۔ کچھ عرصہ پہلے روحانی ڈائجسٹ کا مطالعہ کیا تومجھے لگاکہ یہ وہ رسالہ ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔اب میں باقاعدگی سے روحانی ڈائجسٹ پڑھتی ہوں۔
محترم وقار عظیمی صاحب! آپ لوگ جس طرح مخلوق خدا کی خدمت کررہے ہیں اس کی ستائش کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ آپ کو اجرعظیم فرمائے۔آمین
میں اب اپنے مسئلے کی طرف آتی ہوں۔ میری رہنمائی فرمائیں اور کوئی دعا بھی بتائیں۔
میری شادی اٹھارہ سال کی عمر میں خالہ کے گھر ہوئی۔میری دونندیں ،دودیور اورایک جیٹھ ہیں۔ بڑی نند کا رویہ توٹھیک ہے لیکن دوسری نند کا رویہ میرے ساتھ شروع ہی سے انتہائی خراب رہاہے۔ شادی سے پہلے بھی وہ میرے ساتھ بہت سردمہری سے پیش آتی تھی لیکن میرے گھر والوں نے اس پر توجہ نہ دی۔ اس کی رخصتی میرے ولیمے کے دنہوئی۔
ہم جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں۔میرے سسرال والے بیٹیوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ میری نند کا گھر بھی ہمارے گھر سے قریب ہے۔ وہ اکثر اپنی والدہ کے گھرآتی رہتی ہے اوراس کی زبان پر میری برائیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ میری اچھائی کو بھی وہ برائی ہی بتاتی ہے۔
پورے خاندان میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس سے اس نے میرے خلاف باتیں نہ کی ہوں جس کی وجہ سے سسرال میں سب میرے مخالف ہوگئےہیں۔
اس کی اس بے وجہ نفرت کا سبب مجھے سمجھ نہیں آتا۔میں اپنی طرف سے پوری کوشش کرتی ہوں کہ اس کے ساتھ مل کر رہوں ،ہمیشہ خود ہی آگے بڑھ کر بات کرتی ہوں۔ اس کو تحائف وغیرہ بھی دیتی رہتی ہوں لیکن وہ میرے خلاف اس حد تک ہے کہ اس نے میرے بچوں کی خوشیوں میں بھی حصہنہیںلیا۔
یہ سب برداشت کرتے کرتے میں ذہنی مریض بن گئی ہوں۔ڈپریشن دورکرنے کی دوائیں لینا شروع کیں۔میری شادی کو پندرہ سال ہوگئے ہیں لیکن اس نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔ میرے شوہر بھی اس معاملے میں میرا ساتھ نہیں دیتے ۔
۔

جواب: ڈپریشن سے نجات کے لیے ڈاکٹری دواؤں کے ساتھ ساتھ صبح اورشام کے وقت اکتالیس مرتبہ سورہ ٔآل عمران (3)کی آیت2
گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر شہد یا پانی پر دم کرکے پئیں۔
یہ عمل دوماہ تک جاری رکھیں۔
رات سونے سےپہلے101مرتبہ اسم الہٰی :
یاودود
گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنی نند کا تصورکرکے دم کردیں اوردعا کریں کہ انہیں آپ کے ساتھ عزت واحترام سے پیش آنے کی توفیق عطا ہو۔
یہ عمل کم ازکم چالیس روزتک جاری رکھیں۔
اس دعا کے بعد 101مرتبہ درود شریف پڑھ کر اپنے اوپردم کرلیا کریں۔

 


***

بیٹیوں کے نصیب کھل جائیں

سوال: میری تین بیٹیاں ہیں۔میری بڑی بیٹی تیتیس سال ، منجھلی بیٹی تیس سال اورچھوٹی بیٹی اٹھائیس سال کی ہے۔ان تینوں کے رشتوں کی طرف سے بہت فکر ہے۔کئی رشتے کرانے والیو ں سے بھی کہا ہے ۔شروع شروع میں توایک دورشتے آئے بھی لیکن صرف دیکھ کر چلے گئے کوئی جوابنہیں دیا۔
بڑے بزرگوں کے کہنے پر ایک دوعامل حضرت سے رجوع بھی کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کی بیٹیوں کے رشتے باندھ دیئے گئے ہیں۔
ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ جب ہمارا کسی سے کوئی لڑائی جھگڑا ہی نہیں ہے تو کوئی کیوں ہم سے دشمنی کرے گا۔
آپ مہربانی فرماکر ایسا عمل بتائیں کہ بیٹیوں کے نصیب کھل جائیں اورشادی میں بندش ختم ہوجائے۔

جواب: حآپ عشاء کی نماز کے بعد ایک سوایک مرتبہ سورہ بقرہ(2) کی آیت 163:
گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر بیٹیوں کی شادی میں درپیش رکاوٹوں سے نجات اوربہترجگہ رشتہ طے ہونے کے لیے دعاکریں۔
اس عمل کی مدت کم از کم چالیس روز ہے۔
ناغہ کے دن شمارکرکے بعد میں پورے کرلیں۔
عصر ومغرب کے درمیان پانچ مرتبہ سورہ فلق،پانچ مرتبہ سورہ الناس اورتین مرتبہ آیتالکرسی پڑھ کر پانی پر دم کرکے بیٹیوں کو پلائیں یا وہ خودپڑھ کر دم کرکے پی لیا کریں۔
یہ عمل کم ازکم اکیس روزتک جاری رکھیں۔
تینوں بیٹیاں وضو بے وضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء :
یاحفیظ یاسلام 
کا ورد کرتی رہیں۔
تینوں بیٹیوں کی طرف سے حسب استطاعت علیحدہ علیحدہ صدقہ کردیں۔

 


***

عرس میں شرکت…. اور بیعت

سوال: ہمارا تعلق متوسط گھرانے سے ہے۔میں ایک مسئلہ آ پ سے شیئر کرنا چاہتی ہوں۔
میرے والد اوروالدہ دونوں اولیاء اللہ سے بہت عقیدت ومحبت رکھتے ہیں اوراولیاء کرام کی بہت عزت کرتے ہیں ۔ہمارے گھر میں ہر سال گیارہویں شریف کی نیاز بھی ہوتی ہے ۔یہ نیاز دادا،پردادا کے زمانے سےہورہی ہے۔
اولیاء کرام سے اتنی انسیت ومحبت کے باوجود ہمارے والدین نجانے کس بناء پرکسی روحانی بزرگ سے بیعت ہونا اورمزار پر جانا اچھا نہیں سمجھتے ۔
میرے بھائی نے والد صاحب سے ایک عرس میں جانے کی اجازت طلب کی تو والد صاحب نے سختی سےمنع کردیا۔
جب بھائی نے وجہ دریافت کی تو والد صاحب نے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا۔
محترم ڈاکٹر صاحب ! آپ اس سلسلے میں ہماریرہنمائی فرمائیں۔

جواب: اولیاء کرام کے یوم وصال پر یا کسی اورموقع پر ان کی یاد میں تقریب منعقد کرنا کوئی فرض یا واجب نہیں ہے۔ وصال کے دن ایصال ثواب کے لیے برسی پر عرس یا کسی اورمناسب نام سے کوئی تقریب منعقد کرلی جائے ،اس دوران قرآن پاک اوردیگر اوراد کے ذریعہ ان بزرگوں کی روح کو ایصال ثواب کیا جائے تو ایسی تقریبات منعقد کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔اس موقع پر اجتماع کی وجہ سے ہر سال اندرون وبیرون ملک رہائش پذیر کئی لوگوں کو آپس میں ملنے جلنے کے مواقع بھی ملتے ہیں ۔
مزارات پر حاضر ہوکر قرآن پاک کی تلاوت اوراوراد کے طریقے تو بزرگان دین سے قلبی وابستگی اورعقیدت کی وجہ سے پروان چڑھے ہیں۔اگر کوئی صاحب ان طریقوں پر عمل نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں۔ یہ تولوگوں کی اس عقیدت ومحبت کے اظہار کا ایک طریقہ ہے جو وہ اپنے روحانی اسلاف سےکرتےہیں۔
بیعت ہونا ان لوگوں کے لیے ضروری ہے جو کسی سلسلہ طریقت میں شامل ہوکر اپنے تذکیہ نفس کا اہتمام کرنا چاہتے ہوں اور روحانی علوم سیکھناچاہتےہوں۔
اگربیعت اس لیے کی جائے کہ اس سے دنیاوی کام ہوتے رہے اور بلاؤں سے نجات ملتی رہے یا بیعت کے ذریعہ اس کی جادو ٹونوں ،نظر بد سے حفاظت ہوتی ہے تویہ تصور صحیح نہیں ہے۔ اس تصور سے بیعت ہونا بھی کوئی ضروری نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت کرتے ہیں اورسب ہی کے پالن ہارہیں۔

 


***

 

نندوں نے گود اجاڑ دی

سوال:میری شادی کو سات سال ہوگئے ہیں۔ شروع کے تین دن بہت ہی پرمسرت گزرے ۔اس کے بعد سسرال والوں نے اپنا اصلی چہرہ کھاناشروعکردیا۔
میرے شوہر بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ ان سے چھوٹی دوبہنیں اورتین بھائی ہیں۔ میرے سسر کا ایک سال پہلے انتقال ہوگیا تھا۔ ان کے بعد گھر کی ذمہ داری میرے شوہر کی ہے۔ ان کے چھوٹے بہن بھائی خود غرض اورمطلب پرست ہیں۔
اگر میرے شوہر کسی وجہ سے ان کی کوئی خواہش پوری نہ کرسکیں تو سب مل کر ایک ساتھ میرے شوہر کے ساتھ بدتمیزی کرنے لگتے ہیں۔میرے شوہر ماں کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہتے جس وجہ سے وہ بہت گستاخ ہوتے جارہے ہیں۔
میں شادی کے بعد تین بار امید سے ہوئی۔ دوبار نندوں کی وجہ سے میراحمل ضائع ہوا۔ پہلی بارایک نند نے مجھے سیڑھیوں سے جاتے ہوئے دھکا دیا جو کہ غلطی یا اتفاقیہ بتائی گئی۔دوسری بار چھوٹی نند نے غصہ میں میرے پیٹ پر لاتیں ماریں۔ تھوڑی دیر بعدمیری بلیڈنگ شروع ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے کافی کوشش کی لیکن بلیڈنگ نہ رکی اورحمل ضائع ہوگیا۔
تیسری بار امیدہوئی تو میرے شوہر نے مجھے میری والدہ کے پاس بجھوادیا۔
میں ہفتے کی شام سسرال آتی اورپیر کی صبح میرے شوہر مجھے میری والدہ کے ہاں چھوڑ جاتے۔حمل کادورانیہ اس طرح گزرا۔ اللہ نے ہمیں ایک خوبصورت بیٹاعطافرمایا۔
میری ساس اورنندوں نے بیٹا ہونے کے باوجود میرا جینا دوبھر کر رکھا ہے لیکن میرے شوہر ابھی بھی اپنی والدہ اور بہنوں سے ڈرتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب! میں نے سسرال میں سات سال بہت اذیت میں گزارے ہیں۔ اب میں تھک گئی ہوں۔میں چاہتی ہوں کہ میرے شوہر اب مجھے الگ گھر لے کر دیں ۔

جواب:رات سونے سے پہلے اکتالیس مرتبہ سورہ اخلاص گیارہ گیارہ مرتبہ درودشریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے شوہر کاتصورکرکے دم کردیں اوردعاکریں کہ انہیں آپ کے حقوق اچھی طرح اداکرنے کی توفیق ملے۔
یہ عمل کم ازکم چالیس روزتک جاری رکھیں۔
ناغہ کے دن شمار کرکے بعد میں پورے کرلیں۔
وضو بےوضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء
یاعزیز یاسلام
کا وردکرتی رہیں۔
حسب استطاعت صدقہ بھی کردیں۔

 

 


***

امتحان میں کامیابی کے لیے دعا

سوال:میرے تین بیٹے ہیں۔بڑا بیٹا میٹرک کے امتحانات دے رہاہے۔ اسکول کے ساتھ ساتھ میں نے ایک اچھی اکیڈمی میں اسے ٹیوشن بھی لگا رکھی ہے۔ ماشاء اللہ بہت ذہین بچہ ہے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے اسے شکایت ہے کہ وہ جو بھی یاد کرتا ہے، جلد ہی بھول جاتا ہے۔اس کے اساتذہ کہتے ہیں کہ وہ پڑھائی میں بالکل ٹھیک ہے لیکن اس کے باوجود اسے امتحانات سے پہلے شدید بے چینی کا سامنا ہے۔ اب اس کے امتحانات ہونے والے ہیں اور اسے ڈر ہے کہ کہیں وہ فیل نہ ہوجائے۔
محترم ڈاکٹر صاحب…. ! آپ سے گزارش ہے کہ کوئی ایسی دعا بتادیجیے جس سے میرے بیٹے کی بے چینی ختم ہوجائے اور اسے امتحانات میں اعلیٰ نمبروں سے کامیابی حاصل ہو۔

جواب:صبح اور شام کے وقت 101مرتبہ

رَبِّ یَسِّرْ وَلَا تُعَسِّرْ 

سات سات مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر ایک ایک چمچی شہد پر دم کرکے پلائیں۔ جب تک اس کے امتحان ہوں یہ عمل جاری رکھیں۔
عشاء کی نماز کے بعد101مرتبہ اللہ تعالیٰ کےاسماء :

یَا عَلِیْمُ یَارَحْمٰنُ یَا رَحِیْم 

گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر بیٹے کے لیے امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیابی کے لیے دعاکریں۔
یہ وظیفہ نتیجہ آنے تک جاری رکھیں۔
بیٹے کی طرف سے حسب استطاعت صدقہ کرتی رہیں۔

 

 


***

 

لڑکی نے شادی کا جھانسہ دے کر لوٹ لیا….

سوال:چار سال پرانی بات ہے۔ سماجی رابطوں کی ایک ویب سائٹ کے ذریعے میری ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی۔ اُس وقت میری عمر 24 سال تھی ، کسی لڑکی سے دوستی کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ ہمارے درمیان دن رات میسیجنگ پر گفتگو ہونے لگی ۔ آہستہ آہستہ یہ دوستی محبت میں تبدیل ہوگئی۔
اس لڑکی کا تعلق دوسرے شہر سے تھا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو اپنی تصاویر ارسال کرتے، وہ لڑکی بہت زیادہ حسین تھی۔ اس کی ارسال کردہ تصاویر حسن اور جذبات سے بھرپور ہوتی تھیں۔
میں چاہتا تھا کہ جلد از جلد ہماری شادی ہو جائے۔ اُس لڑکی کا کہنا تھا کہ اس کے والد طبیعت کے بہت سخت ہیں انہیں پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہوں گے۔ اس نے کہا کہ میں کوئی صحیح موقع دیکھ کر ہی ان سے بات کروںگی۔
ہمیں بات کرتے کرتے کب دو سال کا عرصہ گزر گیا مجھے پتہ ہی نہ چلا۔ اس دوران میں اُس لڑکی کے منہ سے نکلی ہر بات پوری کرتا رہا، کبھی وہ مجھ سے آن لائن شاپنگ کی پے منٹ کرواتی تو کبھی مختلف حیلے بہانوں سے آن لائن کیش منگواتی۔ اگر کبھی میں اس کی کوئی خواہش پوری کرنے میں ناکام رہتا تو وہ ناراض ہوجاتی اور مجھ سے بات کرنا بند کردیتی، پھر مجھے ایسا لگتا کہ جیسے میں اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا، اور اس لڑکی سے معافیاں طلب کرنے لگتا۔
اس لڑکی نے مجھ سے آہستہ آہستہ لاکھوں روپے خرچ کروادیے۔
میں نے اس لڑکی کے متعلق اپنے گھر والوں کو بھی آگاہ کیا تھا ، گھر والوں کے سمجھانے پر ہی میں نے اس لڑکی پر زور دینا شروع کیا کہ اب ہمیں شادی کرلینی چاہیے۔میرے بہت اصرار کرنے پر جب اس لڑکی کے تمام حیلے بہانے ختم ہوچکے تو اس نے ایک دن اچانک اپنا نمبراور اپنی سوشل میڈیا کی تمام آئی ڈیز وغیرہ سب بند کردیں۔
آج اس بات کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرچکا ہے ، میرا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا، بعد میں انٹرنیٹ پر سرچنگ کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ وہ اپنی جو تصاویر مجھے ارسال کرتی تھی وہ بھی اُس کی اپنی نہیں تھیں۔
اُس لڑکی نے صرف میرا وقت اور میرا پیسہ ہی برباد نہیں کیا بلکہ مجھے لگتا ہے کہ اس نے میری تمام زندگی برباد کردی ہے۔ آج میری زندگی میں خوشی نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ نا میرا دل پڑھائی میں لگتا ہے اور نہ کاروبار میں۔
مجھے ہر عورت دھوکے باز اور جھوٹی نظر آتی ہے۔ اس لیے اکثر وقت تنہائی میں گزارتا ہوں لیکن یہ تنہائی اس کی یادوں میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔ اس کی کہی باتیں آج بھی میرے کانوں میں گونجتی رہتی ہیں۔
برائے مہربانی مجھے کوئی ایسا عمل یا کوئی ایسا تعویذ عنایت کردیں جس سے میں دوبارہ پہلے کی طرح خوش و خرم ہو جاؤں۔

جواب:بیٹا….! صرف آپ ہی نہیں بلکہ خوش فہمی اور خود ترسی میں رہنے والے کئی لڑکے اور لڑکیاں اس صورت حال میں پھنس کر پریشان ہوتے رہے ہیں۔ آپ کی سادگی یا خود فریبی کے کیا کہنے۔ آپ اب بھی اس مخاطب کو لڑکی ہی سمجھ رہے ہیں۔
اس قسم کی صورت حال سے بچنے کا بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ اچھی طرح اطمینان کرلیا جائے کہ جس سے تعلق قائم ہو رہا ہے وہ دراصل ہے کون….؟ ان نئے قائم ہونے والے تعلقات پر کس قسم کا رویہ اختیار کیا جائے گا اور ان کی حدود کیا ہوں گی۔
بہرحال جو ہونا تھا وہ تو ہوچکا۔ حادثے کے بعد نصیحت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آئندہ اس قسم کی صورت حال سے بچا جاسکے۔
لوگوں سے برقی رابطوں کے ذریعے تعلقات بنانے میں آئندہ احتیاط کیجیے۔ بہتر یہ ہوگا کہ رشتے کے معاملات خود طے کرنے کے بجائے اپنے والدین پرچھوڑ دیں۔

 


***

جوڑوں کی تکلیف

سوال:میری عمر پچاس سال ہے۔ میرا وزن ساٹھ کلو گرام ہے۔ مجھے گزشتہ چار سال سے جوڑوں کے درد کی تکلیف ہے۔ منہ ہاتھ دھونے، بالوں میں کنگھی کرنے اورنماز پڑھنے سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔
ڈاکٹری علاج کروارہی ہوں لیکن کوئی خاص فرق نہیں ہوا۔ دوائیوں کے کثرتِ استعمال سے السر کی تکلیف بھی ہوگئی ہے۔ چکر آتے ہیں اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔

 

جواب: ڈاکٹری علاج کے ساتھ ساتھ جوڑوں کے درد کے لیے قدرتی اجزاء پرمشتمل ایک مفید نسخہ نوٹ کرلیں:
اسگند، سورنجان، اسپند، خولنجان، تمام چیزیں چوبیس چوبیس گرام لے کر باریک سفوف بناکر رکھ لیں۔چار چار گرام سفوف صبح شام پانی سے لیں۔
سرخ شعاعوں میں تیارکردہ تیل کی ہاتھ اورپیروں کے جوڑوں پر ہلکے ہاتھ سے مالش کی جائے۔
زردے اورعرق گلاب سے روشنائی بنا کر سفید کاغذ یا چینی کی پلیٹوں پر

بِسْمِ اﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ O
اَلْسَّلَاسِلُ فِی مَرْجَعِ البَحْرَیْنِ یَا اَللہُ

لکھ کر زرد شعاعوں سے تیارکردہ ایک ایک پیالی پانی سے دھو کر دونوں وقت کھانے سے آدھے گھنٹے پہلے پئیں۔

 

 


***

 

روزگار نہیں مل رہا….

سوال:میرے تین بیٹے ہیں۔ بیٹی نہیں ہے۔ میرے شوہر کے انتقال کو دس سال ہوگئے ہیں۔ میرے بڑے بیٹے نے شوہر کے انتقال کے بعدگھر کی ذمہ داری سنبھالی۔ اپنی تعلیم کوخیر باد کرکے اس نے ملازمت شروع کردی جس سے گھر کی دالروٹیچلنےلگی۔
بڑے بیٹے کو تعلیم کا بہت شوق تھا۔یہ شوق وہ خود توپورا نہیں کرسکا لیکن اس نے اپنے چھوٹے بھائیوں میں تعلیم کا شوق پیدا کیا اورانہیں اچھی تعلیم دلوائی۔ایک بیٹے نے انجینئرنگ کی ڈگری لی اوردوسرے بیٹے نے سی اے میں داخلہ لیا ہواہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ میرا بڑا بیٹا جس فیکٹری میں کام کرتاتھا وہ تین ماہ سے بند ہوگئی ہے۔ میرے انجینئرنگ کرنے والے بیٹے کو بھی ایک سال ہوگیا ہے اب تک کوئی ملازمت نہیں ملی ۔دونوں بھائی بہت پریشان ہیں۔روزانہ ملازمت تلاش کرنے نکلتے ہیں لیکن کہیں کوئی امید نہیں بندھ رہی۔

 

جواب: عشاء کی نما ز کے بعد اکتالیس مرتبہ سورہ ٔہود(11)کی آیت نمبر6:
گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر بہتر وبابرکت روزگار کے حصول، معاشی خوشحالی اوروسائل میں فراوانی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضوردعاکریں۔
یہ عمل کم ازکم چالیس روزتک جاری رکھیں۔
شام کے وقت پانچ مرتبہ سورہ فلق ،پانچ مرتبہ سورہ الناس اورتین مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر پانی پر دم کرکے دونوں بیٹوں کو پلائیں اوران پر دمبھیکردیں۔
یہ عمل کم ازکم اکیس روزتک جاری رکھیں۔
اپنے دونوں بیٹوں سے کہیں کہ وہ چلتے پھرتے وضو بے وضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء
یافتاح یارزاق 
کا ورد کرتے رہا کریں۔
حسب استطاعت صدقہ کردیں۔

 


***

سست وکاہل مرد

سوال:یری شادی کو تین سال ہوگئے ہیں۔میرا ایک بیٹاہے جس کی عمر دوسال ہے۔میرے شوہر اپنے والد صاحب کے ساتھ کپڑے کا کام کرتے تھے۔ان کی دکان کی سیل بہت اچھی ہوتی تھی۔ ہماری شادی کے پانچ ماہ بعد میرے سسرکا انتقال ہوگیا۔ان کے بعد میرے شوہر کاروباری ذمہ داری کو ٹھیک طرح نہ سنبھال سکے۔ آخرکار ان پر مارکیٹ کے بہت سے لوگوں کاقرضہچڑھ گیا۔
ایک سال تک تومیرے شوہر ادھر سے قرضہ لے کر اُدھر دے کر کام چلاتے رہے ۔پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے ایک قریبی دوست کو دکان کا سارا مال فروخت کرکے قرضہ اتار یں گے اورانہی دوست کے لیے بطور سیلزمین دکان پرکام کریں گےیعنی دکان شوہر کی اورمال ان کے دوست کا ہوگا۔اسی دوران گھریلو کشیدگی کے سبب میری ساس نے ہمیں علیحدہ کردیا اورہم کرایہ کے مکان میںشفٹ ہوگئے۔
میرے شوہر حد درجہ سست وکاہل ہیں ۔وہ دن کے ساڑھے بارہ بجے گھر سے نکلتے ہیں جب دکان کھولتے تو آدھا دن گزر چکا ہوتاہے۔
میں نے اپنے شوہر کو کئی بار سمجھایا کہ آپ کے دوست نے آپ پر اعتماد کیا ہے،آپ اس کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں لیکن میر ے شوہر کی سمجھ میں میری بات نہ آئی۔شوہر کے دوست نے بھی کئی بار تنبیہہ کی لیکن میرے میاں نے اس کی بات کو کوئی اہمیت نہ دی۔بالآخر مجبورہوکر اس نے انہیں دکان سے فارغ کردیا اور حساب کتاب کرکے کرائے کی دکان کی چابیاں ان سے لے لیں۔
اب حالات یہ ہیں کہ وہ اسی مارکیٹ میں دوسری جگہ بہت ہی معمولی تنخواہ پر ملازمت کررہے ہیں ۔گیس ،بجلی کے بل،کرایہ اورگھریلو اخراجات میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔شوہر نے پھر لوگوں سے قرضہ لینا شروع کردیا ہے۔آمدنی کم ہونے کی وجہ سے گھر میں لڑائی جھگڑے رہتے ہیں ۔ان کو بہت زیادہ غصہ بھی آنے لگاہے ۔
آپ کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ میرے شوہر کی سستی و کاہلی ختم ہوجائے اوروہ ایک ذمہ دار فردبن جائیں۔

 

جواب: رات سونے سے پہلے 101مرتبہ سورۂ آلِ عمران(3) کی آیت 92:
گیارہ گیارہ مرتبہ درودشریف کے ساتھ پڑھ کرایک ایک چمچ شہد پر دم کرکے شوہر کو پلائیں اوران کےاوپر بھی دم کردیں اورسستی وکاہلی سے نجات اور انہیں احساسِ ذمہ داری کی توفیق ملنے کیدعاکریں۔
یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔
شوہر سے کہیں کہ وہ وضو بے وضو چلتے پھرتے اللہتعالیٰ کے اسمائے مقدسہ:

یاحی یاقیوم 

یاحی یاقیوم
کا ورد کثرت سے کیا کریں۔

 


***

 


***

 


***

 


***

 

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

بےاولادی کا دکھ….

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں بےاولادی کا دکھ…. محترم بھائی ! میر ی ...

حسد کی آگ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں حسد کی آگ…. میرے تین بیٹے ہیں۔بڑے بیٹے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن