روحانی ڈائجسٹ / گوشۂ ادب / عالمی ادب / تلاش (کیمیاگر) قسط 7

تلاش (کیمیاگر) قسط 7

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، حصولِ مقصد کی راہ میں حائل مشکلات، رکاوٹیں نہیں بلکہ آزمائش ہوتی ہیں، جب انسان کےدل میں کوئی خواہش سراٹھاتی ہے اور وہ کسی چیز کو پانے کی جستجو اور کوشش کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے کہ اس کی یہ خواہش پوری ہو ۔ اگر لگن سچی ہو تو خدا کی اس کائنات میں بکھری نشانیاں اِس جدوجہد کے دوران راہنمائی اور معاونت کرتی نظر آتی ہیں۔
کیمیاگر (الکیمسٹ Alchemist ) برازیلی ادیب پاؤلو کویلہو Paulo Coelho کا شاہکار ناول ہے، جس کا دنیا کی 70 زبانوں میں ترجمہ ہوا ۔ اس ناول نے فروخت کےنئے ریکارڈ قائم کرکے گنیز بک میں اپنا نام شامل کیا۔ اس کہانی کے بنیادی تصوّرات میں رومی، سعدی اور دیگر صوفیوں کی کتابوں اور فکرِ تصوّف کی جھلک نظر آتی ہے۔ 
کیمیا گر ، اندلس کے ایک نوجوان چرواہے کی کہانی ہے جو ایک انوکھا خواب دیکھتا ہے جس کی تعبیر بتائی جاتی ہے کہ اسے کوئی خزانہ ضرورملے گا ۔ وہ خزانے کی تلاش میں نکلتا ہے اور خوابوں، علامتوں کی رہنمائی میں حکمت اور دانائی کی باتیں سیکھتے ہوئے ، افریقہ کے صحراؤں میں اس کی ملاقات ایک کیمیاگر سے ہوتی ہے ، یہ کیمیا گر خزانے کی تلاش کے ساتھ انسانی سرشت میں چھپے اصل خزانے کی جانب بھی اس کی رہنمائی کرتا ہے….

ساتویں قسط

گزشتہ قسط کا خلاصہ : یہیہ کہانی اسپین کے صوبے اندلوسیا کی وادیوں میں پھرنے والے نوجوان چراوہا سان تیاگو کی ہے، ماں باپ اسے راہب بنانا چاہتے تھے مگر وہ سیاحت اور دنیا کو جاننے کے شوق میں چراوہا بن گیا۔ ایک رات وہ بھیڑوں کے گلّہ کے ساتھ ایک ویران گرجا گھر میں رات گزارتا ہے اور ایک عجیب خواب دیکھتا ہے کہ ‘‘کوئی اسے اہرام مصر لے جاتا ہے اورکہتا ہے کہ تمہیں یہاں خزانہ ملے گا۔’’ لیکن خزانے کا مقام دیکھنے سےقبل آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ دو سالوں سے ان بھیڑوں کے ساتھ پھرتے ہوئے ان سے مانوس ہوچکا ہے۔ لیکن اب اس کی دلچسپی کا محور تاجر کی بیٹی ہے، جسے وہ گزشتہ سال ملا تھا ، اس کا ارادہ تھا کہ دوبارہ اس لڑکی سے ملے اور اسے اپنے بارے میں بتائے ۔ لیکن اس سے پہلے وہ شہر طریفا جاکر خوابوں کی تعبیر بتانے والی ایک خانہ بدوش بوڑھی عورت سے ملتا ہے۔ جو بتاتی ہے کہ وہ خزانہ جس کی خواب میں نشاندہی کی گئی تھی اسے ضرور ملے گا۔ وہ اس بات کو مذاق سمجھ کر چلا آتا ہے اور شہر کے چوک پر آبیٹھا جہاں اس کی ملاقات خود کو شالیم شہر کا بادشاہ کہنے والے ملکیِ صادق نامی ایک بوڑھے شخص سے ہوتی ہے جو کہتا ہے کہ وہ خزانہ ڈھونڈنے میں اس کی مدد کرسکتا ہے ۔ پہلے تو لڑکا اُسے فراڈ سمجھا، لیکن جب اس بوڑھے نے وہ باتیں بتائیں جو اس نے کسی کو نہیں بتائی تھیں، تو اسے یقین ہوا۔ بوڑھا سمجھاتا ہے کہ انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، جب انسان کسی چیز کو پانے کی جستجو کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے ۔ خزانہ کے متعلق مدد کرنے کے بدلے بوڑھا شخص بھیڑوں کا دسواں حصہ مانگتا ہے ۔ جسے لڑکا دے دیتا ہے۔ بوڑھا بتاتا ہے کہ خزانہ اہرامِ مصر میں ہے اور اسے ڈھونڈنے کے لیے قدرت کے اشاروں کی زبان کو سمجھنا ہوگا۔ بوڑھا اُسے دو سیاہ سفید پتھر دیتا ہے کہ اگر کبھی تم قدرت کے اشاروں کو سمجھ نہیں سکو تو یہ دونوں پتھر ان کو سمجھنے میں مدد کریں گے۔ لیکن بہتر یہی ہو گا کہ تم اپنے فیصلہ خود اپنی عقل سے کرنے کی کوشش کرو۔ بوڑھا چند نصیحتیں کرکے بھیڑیں لے کر چلا جاتا ہے ۔ وہ لڑکا ایک چھوٹے سے بحری جہاز سے افریقہ کے ساحلی طنجہ شہر کے قہوہ خانہ میں پہنچتا ہے۔ یہاں کا اجنبی ماحول دیکھ کر وہ فکرمند ہوجاتا ہے کہ اسے ایک ہم زبان اجنبی ملتا ہے۔ لڑکا اس سے اہرام مصر پہنچنے کے لیے مدد مانگتا ہے۔ وہ اجنبی بتاتا ہے کہ اس کے لیے کافی رقم درکار ہوگی۔ لڑکا اجنبی شخص پر بھروسہ کرکے اُسے رقم کی پوٹلی دے دیتا ہے۔ اجنبی اُسے اپنے ساتھ بازار لے آتا ہے اور بازار کی گہما گہمی میں نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ رقم کھونے پر لڑکا خود کو بے یار و مددگار محسوس کرنے لگا، پھر وہ خود کو مایوسی سے باہر نکال کر مصمم ارادہ کرتا ہے کہ وہ پچھتاوے کی بجائے خزانہ کی تلاش میں مہم جو بنے گا۔ وہ سوچتے سوچتے بازار میں سوجاتا ہے اور صبح کوئی اُسے اُٹھاتا ہے۔ وہ بازار میں اِدھر اُدھر گھومتا ہے اور ایک حلوائی کی دکان لگانے میں مدد کرتا ہے ، حلوائی خوش ہوکر اسے مٹھائی دیتا ہے۔ لڑکا مٹھائی لے کر وہاں سے چلاجاتا ہے۔ اسی شہر میں ایک شیشہ کی دکان کا سوداگر پریشانی میں مبتلا تھا، تیس برسوں سے قائم اس کی ظروف کی دکان جو کبھی سیاحوں کی توجہ کامرکزتھی، اب بے رونق ہوتی جارہی تھی۔ سارا دن وہ گاہک کے انتظار میں گزاردیتا۔ اچانک دوپہر کو وہ اس دکان میں آیا اور بولا کہ وہ دکان کیے شیشے اور ظروف کی صفائی کرنا چاہتاہے، بدلے میں اسے کھانا چاہیے۔ لڑکے نے صفائی مکمل کی تو شیشے کا سوداگر اسے کھانا کھلانے قریبی ہوٹل لے گیا جہاں لڑکے نے اسے بتایا کہ اسے مصر کے اہرام جانا ہے جس کے لیے وہ اس کی دکان پر صفائی کا سارا کام کرنے کو تیار ہے۔ لڑکے کی بات سن کر سوداگر بتاتا ہے کہ سال بھر کام کرنے سے بھی اتنی رقم جمع نہ ہوگی۔ لڑکے کے مایوس ہوجاتا ہے۔ تاجر واپس ملک لوٹنے کے لیے مدد کا کہتا ہے مگر لڑکا کہتا ہے کہ وہ دکان میں کام کرکے اتنی رقم کمائے گا جس سے بھیڑیں خرید سکے۔ لڑکے کو کام کرتے ہوئے ایک مہینہ بیت جاتا ہے سوداگر اس کا خوب خیال رکھتا ہے۔ لڑکا اندازہ لگاتا ہے کہ تو بھیڑیں خریدنے کے لیے اُسے کم از کم سال بھر کام کرنا پڑے گا۔ زیادہ رقم پانے اور زیادہ گاہک دکان میں لانے کے لیے وہ سڑک پر ایک شوکیس لگانے کا مشورہ دیتا ہے، پہلے تو تاجر نقصان کا خدشہ ظاہر کرتا ہے مگر پھر مان جاتا ہے ۔کاروبار میں بہتری آتی ہے۔ ، کام خاصا بڑھ جاتا ہے۔ ایک دن سوداگر لڑکے سے پوچھتا ہے کہ اہرام محض چند پتھروں کے ڈھیرہیں وہ وہاں کیوں جانا چاہتا ہے ، لڑکا بتا تا ہے کہ وہاں سفر کرنا اس کا خواب ہے۔ شیشے کا سوداگر بتاتا ہے کہ اس کا بھی خواب تھا کہ وہ مکّہ معظّمہ کے مقدس شہر کا سفرکرے، اس نے دکان کھولی ، رقم جمع کی ، لیکن کوئی ایسا شخص نہ مل سکا جو اِس کی غیرم موجودگی میں دکان سنبھالے۔ یوں مکّہ جانے کا خواب ، خواب ہی رہ گیا۔ لڑکا کاروبار بڑھانے کے لیے دکان کے ساتھ قہوہ کی دُکان کھولنے کا مشورہ دیتا ہے۔ سوداگر تھوڑی پش و پیش کے بعد یہ بات بھی مان جاتا ہے ۔ خوبصورت بلوری ظروف میں قہوہ پیش کرنے والی اس انوکھی دکان کی خبر بہت جلد پورے شہر میں پھیل گئی ، لوگ جوک در جوک آنے لگتے ہیں اور کاروبار خوب پھیلنے لگتا ہے ….  …. اب آگے پڑھیں ………… 

….(گزشتہ سے پوستہ)

 

 


لڑکا اس دن صبح فجر سے بھی پہلے جاگ گیا تھا۔ براعظم افریقہ کی اِس سرزمین میں قدم رکھے آج اُسے پورے گیارہ مہینے اور نو دن ہو رہے تھے۔
اُس نے سفید لینن کا ایک خوبصورت عربی لباس زیبِ تن کیا، جو اُس نے آج ہی کے دن کے لئے تیار کرایا تھا۔ سرپرعمامہ باندھ کر اُسے اونٹ کی کھال سے بنے ہوئے حلقے سے سر پر جمایا اور پھر نئے سینڈل پہن کر و ہ آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے اُتر کر نیچے آ گیا۔
پورا شہر ابھی تک سویا ہوا تھا۔ اپنے دکان میں موجود قہوہ کے اسٹال پر پہنچ کر اُس نے خود اپنے لیے ایک سینڈوچ تیار کیا اور خوبصورت کرسٹل کے گلاس میں چائے نکال کر پی اور پھر سورج نکلنے کی سمت دروازے کے پاس بیٹھ کر حقہ کے کشلینے لگا۔
وہ کچھ دیر وہیں خالی ذہن بیٹھا خاموشی سے حقے کے کش لیتا رہا۔ وہ صحراء سے آنے والی ہواؤں کی آواز اور اس کی معطّر خوشبو کو محسوس کررہا تھا جس نے حقہ کے لطف کو دوچند کر دیا تھا۔
جب وہ حقّہ پی چکا تو اس کے ہاتھ جیب کی جانب گئے اور وہ کچھ دیر تک جیب میں ہاتھ ڈل کر بیٹھا رہا۔ جب ہاتھ جیب سے باہر آئے تو اس میں نوٹوں سے بھری ایک گڈی تھی، اس کی اب تک کی کمائی، ان گیارہ مہینوں میں اس کے پاس اچھی خاصی رقم جمع ہوچکی تھی، جس سے وہ ناصرف ایک سو بیس بھیڑیں اور ملک واپسی کا ٹکٹ خرید سکتا تھا بلکہ افریقہ سے اپنے ملک اشیا ء کی تجارت کرنے کے لیے درآمدی اجازت نامہ بھی خرید سکتا تھا۔
اتنے میں شیشے کا سوداگر بھی اٹھ کر نیچے آچکا تھا، دکان کھل جانے تک وہ وہیں دروازے پر سوداگر کا انتظار کرتا رہا پھر لڑکا اور شیشے کا سوداگر دونوں مزید چائے پینے کی غرض سے قہوہ اسٹال کی جانب چل دئیے ۔
لڑکا قہوہ اسٹال پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
‘‘میں آج واپس جا رہا ہوں…. میرے پاس اتنی رقم جمع ہو چکی ہے کہ اپنی بھیڑیں واپس خرید سکوں اور تم بھی مکہ جانے کے لئے ضروری رقم کماچکے ہو….’’
بوڑھا سوداگر خاموش رہا۔لڑکے نے تھوڑی دیر رک کر کہا۔ ‘‘مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا۔’’
سوداگر چائے تیار کرتے ہوئے بولا ‘‘تم نے میری بڑی مدد کی ہے۔ ’’
پھر تھوڑا ٹھہرکر لڑکے کی جانب مڑا اور بولا۔ ‘‘مجھے تم پر فخر ہے۔تم نے میری دکان کا منظر ہی بدل دیا ہے…. لیکن میں شاید مکّہ نہیں جا سکوں گا اور یہ بات تم جانتے ہو ….لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم بھی شاید بھیڑیں نہیں خریدو گے۔’’
‘‘آپ سے یہ کس نے کہا ؟….’’لڑکے بےحد تعجب سے بولا۔
‘‘مکتوبـ(مقدّر میں یہی لکھا ہے)….’’ بوڑھے سوداگر نے مسکراتے ہوئے کہا اور لڑکے کے حق میں دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دئیے۔

***

لڑکے نے اپنے کمرے میں جا کر سامان باندھنا شروع کیا جو تقریباً تین تھیلوں میں سمٹ آیا۔ کمرے سے نکلتے ہوئے اُس کی نظر کونے پر پڑی تو اُسے اپنا پرانا بیگ نظر آیا۔ ایک عرصہ سے اُسے اِس بیگ کا خیال بھی نہ آیا تھا۔ بیگ میں جھانکا تو وہی ضخیم کتاب اور اپنی پرانی جیکٹ تھی جسے لے کر وہ اندلوسیا سے افریقہ آیا تھا۔
بیگ سے پُرانی جیکٹ نکال کر سڑک پر کسی فقیر کو دینے کے لئے اُس نے جیسے ہی جیکٹ بیگ سے باہر نکالی ، اس کے ساتھ ہی فرش پر دو بڑے ہی خوبصورت پتھر گِر پڑے۔
‘‘اُوریم’’ اور ‘‘تُھومیم’’
اُن پتھروں کو دیکھتے ہی لڑکے کو شالیم کے بوڑھے بادشاہ کی یاد آگئی ۔ اُسے تعجب ہوا کہ ایک طویل عرصہ سے اُس نے اِن پتھروں کے متعلق غور ہی نہیں کیا تھا، جیسے وہ انہیں بھول ہی چکا ہو۔
گزشتہ تقریباً ایک سال سے وہ رات دن محض پیسہ کمانے میں ہی مگن رہا تھا تاکہ بس اس کے پاس اتنی رقم جمع ہوجائے کہ وہ اپنے ملک اندلوسیا عزّت و وقار کے ساتھ واپس جاسکے۔
اِن دونوں پتھروں کو دیکھتے ہی اُسے بوڑھے کی یہ بات یاد آئی کہ
‘‘خواب دیکھنا کبھی مت چھوڑنا…. قدرت کی نشانیوں کو سمجھنا اور اُن کے مطابق عمل کرنا’’
لڑکے نے دونوں پتھر ہاتھ میں اُٹھائے۔ ایک بار پھر اُسے ایسا محسوس ہوا جیسے بوڑھا بادشاہ اُس کے قریب کھڑاہے۔
اس نے سال بھر بہت شدید محنت کی ہے اور اب غیبی نشانیاں کہہ رہی ہیں کہ اب وہ وقت آچکا ہے کہ یہاں سے کوچ کیا جائے ۔
لڑکا سوچنے لگا کہ ‘‘میں جو کام چھوڑ کر آیا تھا پھر وہی کرنے جا رہا ہوں’’۔ پھر اُس نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ ‘‘لیکن بھیڑوں کی صحبت میں رہ کر میں عربی تو نہ سیکھ سکا تھا ….
البتہ بھیڑوں سے اُس نے اس سے بھی بہت اہم بات سیکھی تھی ، وہ یہ کہ ایک زبان ایسی بھی ہوتی ہے جسے دنیا میں ہر کوئی سمجھ لیتا ہے اور یہ وہی زبان تھی جو اس لڑکے نے افریقہ کی اجنبی سرزمین پر عربی جاننے سے قبل سوداگر کے ساتھ کام کرتے ہوئے اور اُس کی دکان کو بہتر بنانے اور نئی جہت سے روشناس کرانے کی اپنی جد و جہد کے دوران استعمال کی تھی۔ وہ زبان جس کے عناصرِ ترکیبی میں حروف و الفاظ شامل نہیں تھے۔ بلکہ یہ جذبات کی زبان تھی…. جو اخلاص اور محبت سے مقصد کو پیش نظر رکھ کر کام کو انجام دینے کے جذبہ، کچھ کر گزرنے کی تمنّا اور اس کے پورا ہونے کے یقین سے عبارت تھی۔
طنجہ اُس کے لئے اب کوئی اجنبی شہر نہیں رہا تھا، محض اپنی محنت سے اُس کا اپنا شہر بن گیا تھا۔ ‘‘شاید پوری دنیا کو اِسی طرح فتح کیا جا سکتا ہے’’ اُس نے سوچا پھر بوڑھے بادشاہ کا قول اُسے یاد آیا۔


‘‘انسان جب کسی چیز کو پانے کی جستجو اور سعی کرتا ہے تو تو در اصل قدرت اور پوری کائنات اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے، کائنات اِس کوشش میں انسان کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوتی ہے کہ اس کی یہ خواہش پوری ہو۔ اگر لگن سچی ہو تو خدا کی اس کائنات میں بکھری نشانیاں اِس جدوجہد کے دوران راہنمائی اور معاونت کرتی نظر آتی ہیں۔’’
لیکن اُس نے سوچا کہ اس بوڑھے بادشاہ نے تفصیل سے تو کچھ نہیں بتایا تھا۔ اس نے اُس بارے میں کچھ بھی نہ کہا تھا کہ اُسے کوئی لٹیرا بھی نقصان پہنچا سکتا ہے اور یہ کہ اہرام تک پہنچنے کے لئے راستہ میں بہت طویل صحرا حائل ہے۔ نہ ہی ایسے لوگوں کے بارے میں کچھ بتایا تھا جو خواب تو بہت دیکھتے ہیں لیکن اُنہیں حقیقت کا روپ دینے کی ہمت نہیں رکھتے ۔ اُس سے زیادہ اہم یہ بات بھی اس نے نہیں بتائی تھی کہ اہرام محض پتھروں کا ڈھیر ہیں اور کوئی بھی اُنہیں اپنے آنگن میں بنا سکتا ہے۔ اور ہاں !سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ بوڑھے نے اِس سلسلہ میں بھی کوئی رہنمائی نہیں کی تھی کہ اگر اتنی رقم اکٹھا ہوجائے کہ پہلے سے بھی بڑا ریوڑ خریدا جا سکے تو کیا کرنا چاہیے…. اِن سب باتوں کا جواب بوڑھے بادشاہ کی گفتگو میں موجود نہ تھا۔ وہ دیر تک یہی سوچتا رہا۔
پھر لڑکے نے پُرانا بیگ اُٹھاکر اُسے اپنے سامان کے ساتھ رکھا اور سیڑھیوں سے نیچے اُتر آیا۔ اس نے دیکھا کہ شیشے کا سوداگر کسی غیر ملکی جوڑے سے گفتگو کر رہا تھا اور دیگر گاہک چائے پینے میں مصروف تھے۔ صبح کے وقت عموماً بھیڑ نہیں ہوتی تھی۔جہاں وہ کھڑا تھا اُسے بوڑھے سوداگر کا چہرہ اور سر صاف نظر آرہے تھے۔ اُسے لگا کہ بوڑھے سوداگر کے بال بالکل ایسے ہی تھے جیسے شالیم کے بوڑھے بادشاہ کے تھے۔ طنجہ میں پہلے دن جب و ہ لُٹ چکا تھا اور نہ کچھ کھانے کے لئے تھا اور نہ ہی رہنے کے لئے، تو مٹھائی فروش کی مسکراہٹ میں بھی اُسے شالیم کے بوڑھے بادشاہ کی جھلک نظر آتی تھی۔
یہ مشابہتیں بھی عجیب تھیں۔ یہ لوگ تو اُس سے کبھی نہ ملے ہوں گے۔ اُسے لگا کہ جیسے شالیم کا بوڑھا بادشاہ بھی یہیں کہیں رہا ہوگا اور اپنی یادگار چھوڑگیا ہوگا لیکن اُسے یاد آیا کہ گفتگو کے دوران بوڑھے بادشاہ نے بتایا تھا کہ
‘‘جو لوگ اپنے مقدر کو حاصل کرنے میں لگ جاتے ہیں اُن کی مدد کرنا اُس بوڑھے بادشاہ کے فرائضِ منصبی میں شامل ہے۔’’
رخصت ہوتے ہوئے اس نے شیشے کے سوداگر کو الوداع نہیں کہا، کیونکہ لوگوں کے سامنے آنسو بہانا اُسے پسند نہیں تھا۔ اگر وہ سوداگر کے سامنے آ جاتا تو وہ شاید سِسک پڑتا اور اُس کی آنکھیں بھیگ جاتیں ، چنانچہ اس نے ہمت نہ کی۔ لوگوں کی موجودگی میں وہ رونا نہیں چاہتا تھا۔
میں اس جگہ کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ یہاں کے لوگوں کو اور ان سب نئی اور قیمتی باتوں کو جو میں نے یہاں رہ کر سیکھی تھیں، یہ سب باتیں اُسے یاد آئیں گی۔ اب اُس کی خود اعتمادی میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوچکا تھا اور اسے یقین ہوچکا تھا کہ وہ دنیا فتح کرسکتا ہے۔
‘‘لیکن مجھے تو واپس اندلوسیا کے میدانوں میں جاکر اپنی بھیڑوں کی نگرانی کرنا ہے، جو میرے لئے کوئی اجنبی کام نہیں ہے۔’’
اُس نے اپنے آپ کو سمجھاتے ہوئے سوچا ، لیکن اُس نے محسوس کیا کہ واپس جانے کے اِس فیصلے سے اُسے اپنے اندر کوئی خوشی محسوس نہیں ہورہی تھی۔
اس نے ایک برس تک یہاں بہت محنت کے ساتھ کام کیا تاکہ اپنے ایک خواب کو حقیقت میں بدل سکے، لیکن اب لمحہ بہ اس خواب کی اہمیت اور اسے پورا کرنے کی لگن اُس میں دھیمی پڑتی جارہی تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ خواب جو میں نے دیکھا تھا وہ میرے لئے تھا ہی نہیں۔ وہ پریشان ہو اُٹھا تھا۔ اُس کے خیالات بھٹکنے لگے۔
‘‘کیا پتہ …. شاید یہی اس کے لیے بہتر ہو، جیسا کہ اس شیشے کے سوداگر نے کہا تھا، ‘‘جانے کی تمنّا اصل ہے۔ مکّہ جانے کا تصوّر اور خیال ہی ہے جو اُسے زندہ رہنے کا حوصلہ دیتا ہے اور خواہش اس کی زندگی کو حرارت بخشتی ہے۔ اِس کی اُمید ہی اُسے روزمرّہ کے مسائل سے نبردآزما ہونے کی قوّت عطا کرتی ہے۔ مقصد کے حصول کی تمنّا بے کیف اور یکسانیت بھری زندگی کو کسی قدر لطف میں بدلتی رہتی ہے۔ ’’
وہ اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن وہ دونوں پتھر اُوریم اور تھومیم جو اس کے ہاتھ میں تھے نہ صرف اُسے بوڑھے بادشاہ کی باتوں اور اس کے وجود کا احساس دلارہے رہے بلکہ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ ان پتھروں کو ہاتھ میں لینے سے بوڑھے بادشاہ کی تما م تر توانائیاں اس کے اندر منتقل ہو گئی ہیں۔ ساتھ میں اہرام پہنچنے کی خواہش بھی۔
‘‘یہ محض اتفاق ہے یا کوئی غیبی اشارہ….؟’’ وہ چلتے ہوئے یہی سوچتا رہا ۔ راستہ میں وہ اُسی قہوہ کے ہوٹل سے گزرا جہاں افریقہ آمد کے پہلے روز وہ لُٹ گیا تھا۔ لیکن آج اُسے وہاں کوئی چور اُچکا نظر نہ آیا۔ قہوہ خانے کا وہی مالک اُس کے سامنے چائے کا ایک کپ رکھ گیا تھا۔ وہ پھر سوچنے لگا
‘‘کیا یہ محض ایک اتّفاق ہے یا پھر کوئی شگون، کوئی نشانی، کوئی غیبی اشارہ….؟’’
‘‘اندلوسیا میں اپنی بھیڑوں کی دنیا میں تو کبھی بھی واپسی ممکن ہے۔ بھیڑوں کو پالنا اور اُن کی رکھوالی کرنا میں نہ تو بھولا ہوں اور نہ ہی بھولنے کا امکان ہے، لیکن اگر یہ موقع میں نے گنوا دیا تو شاید اہرامِ مصر دیکھنے کا موقع دوبارہ ہاتھ نہ آ سکے گا۔
وہ بوڑھا بادشاہ ، اس نے چاہے لٹیروں، صحرا اور اہرام کے متعلق وہ سب کچھ نہیں بتایا جو میں نے یہاں آکر جانا لیکن وہ میرے ماضی سے آگاہ تھا۔ اُس نے جو کچھ کہا تھا صحیح تھا۔ اس کے سینہ پر لگی طلائی سینہ بند زرہ بتاتی ہے کہ وہ یقیناً بادشاہ رہا ہو گا، انتہائی ذہین اور دانا بادشاہ۔’’
لڑکا انہی خیالات میں ہی الجھا رہا۔
اس نے سوچا کہ ‘‘اندلس کی پہاڑیاں تو محض دو گھنٹہ کے فاصلے پر ہیں لیکن اہرام اور اُس کے درمیان ایک عظیم صحرا حائل ہے۔ البتّہ سوچنے کا ایک زاویہ نظر یہ بھی ہے کہ میں اہرام کے خزانے کے فاصلے سے دوگھنٹہ قریب ہوگیا ہوں…. یہ الگ علیحدہ بات ہے کہ یہ دو گھنٹے پھیل کر پورے ایک سال پر محیط ہو گئے ۔’’
‘‘میں جانتا ہوں کہ مجھ میں اپنے بھیڑوں کے ریوڑ میں واپس جانے کی خواہش کیوں جنم لے رہی ہے….؟ اِس کا جواب مجھے معلوم ہے ۔ کیونکہ میں بھیڑوں کو سمجھتا ہوں اور مجھے ایک چرواہے کی زندگی کے خطرات اور امکانات معلوم ہیں۔ مجھے اس کام میں کوئی مشکلات نہیں ہوں گی۔ میں جانتا ہوں کہ بھیڑ ایک اچھی دوست بن سکتی ہے، لیکن دوسری طرف اس لق ودق صحرا کے متعلق میں بالکل نابلد ہوں۔ نہیں معلوم کہ وہ میرا دوست ثابت ہو گا یا نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خزانہ تک پہنچنا اُس عظیم صحرا سے گزر کر ہی ممکن ہے۔ بالفرض اگر مجھے خزانہ نہ بھی ملا تو کیا حرج ہے میرا اپنے گھر واپس جانا نا ممکن تو نہیں ہے۔ میرے پاس مطلوبہ رقم بھی ہے اور وقت بھی ہے۔ پھر کیوں نہ ایک بار کوشش کر لی جائے۔’’
اِس خیال نے اُسے یکایک خوشی سے معمور کر دیا۔ اس نے سوچا کہ اندلوسیا واپسی تو کسی وقت بھی ممکن ہے۔ و ہ جب چاہے چرواہا بن سکتا ہے یا شیشوں کے ظروف کی تجارت بھی وہ کبھی بھی کر سکتا ہے۔
‘‘ہو سکتا ہے کہ دنیا بھر میں اور بھی بہت سی جگہوں پر نہ جانے کتنے ہی خزانے پوشیدہ ہوں، لیکن یہ بات اور ہے کہ اُس خزانے نے مجھے ہی چُنا ہے، اس کا خواب میں نے ہی دیکھا اور میں ہی ہوں جس سے اس بادشاہ نے ملاقات کی۔ ایسا ہر ایک کے ساتھ نہیں ہوتا۔’’
جب وہ قہوہ خانہ سے اُٹھا تو اندلوسیا واپس جانے کے بجائے اُس کے ذہن میں اہرام تک پہنچنے کے مختلف منصوبے تشکیل پا رہے تھے۔ اُس نے دونوں پتھروں اُوریم اور تھومیم کو ہاتھوں میں تھاماہوا تھا ۔ اِنہی پتھروں کی وجہ سے آج پھر خزانہ کی جستجو انگڑائی لے رہی تھی۔
پھر اُسے یاد آیا کہ شیشے کے سوداگر کے پاس ایک شخص آیاکرتا تھا، جو تجارتی سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہچانے کا کام کرتا تھا ۔ وہ شخص کسی قافلہ Caravan کے ذریعہ یہ تجارت کرتا تھا اور ایک مرتبہ اس نے سوداگر کے شیشوں کے ظروف کو بھی اس لق دق صحرا کے پار پہنچایا تھا۔
اسے شالیم کے بوڑھےبادشاہ کی بات یاد آئی ‘‘میں ہمیشہ ان لوگوں کی مدد کے لیے موجود رہتا ہوں جو لوگ اپنی تقدیر کی گتھی کو سکجھاکر اپنے مقصد کے حصول کے لئے کمر بستہ ہو جاتے ہیں’’۔
کیوں نہ اُسی تجارتی مال لانے والے شخص کے گودام جاکر اس سے پوچھوں کہ اہرامِ مصر کتنی دور ہے اور اس کے لئے اس صحرا میں کتنا عرصہ گزارنا پڑتا ہے اور اس پر کیا لاگت آئے گی۔

***

گودام اور جانوروں کے باڑے سے متصل ایک زیر تعمیر ٹوٹی پھوٹی وضع قطع کی بے ترتیب عمارتی ڈھانچے میں رکھی ایک بینچ پر انگلستان کا ایک باشندہ (Englishman) بیٹھا کیمیاکے ایک انگریزی تحقیقی جرنل کی ورقگردانی کررہا تھا۔
جانوروں کے باڑے سے متصل ہونے کی وجہ سے اس عمارت کے ماحول میں دھول مٹی کے ساتھ اصطبل کی گھانس پھوس اور جانوروں کے پیشاب اور فضلے کی بو بھی بُری طرح بسی ہوئی تھی۔
‘‘کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایسی جگہ آ کر رہنا پڑے گا….’’ وہ انگلستانی باشندہ منہ ہی منہ میں بڑبڑا رہا تھا۔
‘‘کیا زندگی کے دس سال میں نے یونیورسٹی میں اس لیے تحقیق کرتے گزارے کہ اب یہاں جانوروں کے اصطبل میں ….کتنی عجیب بات ہے’’
ورق پلٹے ہوئے اُس نے خود سے کہا۔
‘‘لیکن یہ تو ہونا ہی تھا…. میں نے جو سفر چنا ہے اس میں ایسے پڑاؤ آنے ہی تھے۔ میں غیبی اشاروں پر جو یقین رکھتا ہوں اور اُنہی کی رہنمائی میں اپنی زندگی کے اہم فیصلے کرتا ہوں۔ میں نے اپنی پوری علمی تحقیق اور زندگی کو ایک ایسی زبان کی جستجو کے لیے وقف کر دیا جو صحیح معنی میں کائنات کی زبان ہو۔ پہلے تومیں نے اسپرانتو * کا مطالعہ کیا اور پھر دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کا علم حاصل کیا یہاں تک کہ اب میں کیمیا گری سیکھ رہا ہوں۔ اسپرانتو پر تو عبور حاصل کرلیا، بڑے مذاہب کے بارے میں بھی میں اچھی طرح جانتا ہوں لیکن ابھی تک ایک کیمیاگر نہ بن سکا تھا۔’’
ویسے کیمیا گری کے متعدد بنیادی سوالوں کے کے پیچھے چھپے سچ کو جاننے اور کئی اہم نکتوں سلجھانے میں وہ کامیاب تو ہو گیا تھا لیکن آخر کار وہ ایک ایسے مقام پر آکر رُک گیا تھا جہاں سے آگے جانا اُسے ممکن نظر نہ آ رہا تھا۔
اُس نے کئی بار الکیمیا **کے ماہروں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ اُن سوالات کا حل پوچھے لیکن ان سے ملاقات میں کامیاب نہ ہو سکا۔
‘‘یہ کیمیا گر لوگ بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ محض اپنی ذات میں مستغرق رہتے ہیں۔ جب بھی کوئی ان علوم کو سیکھنے ان کے پاس جاتا ہے تو وہ مدد کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔’’
‘‘کون جانے ، ممکن ہے کہ خود اُن کی جستجو میں اُنہیں ناکامی ہوئی ہو اور اِس وجہ سے وہ اپنی معلومات کو بتانے کے لئے تیار نہ ہوتے ہوں یا پھر ممکن ہے کہ پارس پتھر*** کا راز جاننے کی کوششوں میں ناکامی نے اُن کا یہ مزاج بنا دیا ہو۔’’ اُس نے خود کو تسلی دیتے ہوئی توضیح پیش کی۔
وہ خود بھی پارس پتھر کی ناکام تلاش میں اپنی دولت کا بڑا حصہ خرچ کر چکا تھا۔ باپ کے وراثت میں اُسے بڑی جائیداد ملی تھی۔ جس میں سے اچھی خاصی دولت تو اُس نے دنیا کی بڑی بڑی لائبریریوں اور انتہائی قیمتی کتابوں کی تلاش میں خرچ کر دی تھی۔ اِنہی کتابوں میں کہیں اُس نے پڑھا تھا کہ کئی برسوں پہلے عرب سے ایک مشہور کیمیاگر ایک مرتبہ یورپ کی سرزمین آیا تھا۔ مشہور تھا کہ اُس کی عمر دوسو سال سے بھی تجاوز کر چکی تھی اور پارس پتھر اور آبِ حیات کی تلاش میں کامیاب ہو گیا تھا۔
وہ انگلستانی باشندہ اِس قصّہ کو پڑھ کر متاثر تو بہت ہوا تھا لیکن اُسے وہ ایک فرسودہ کہانی سے زیادہ اہمیت نہ دے سکا۔لیکن جب اُس کی ملاقات اپنے ایک دوست سے ہوئی جو عرب کے ریگستان میں آثار قدیمہ کی بھیجی ہوئی ایک مہم سے واپس آیا تھا، تو اس نے خود اپنا واقعہ سناتے ہوئے ایک بوڑھے عرب میں غیرمعمولی اور مافوق الفطرت طاقت ہونے کا تذکرہ کیا تھا۔ اس کے دوست نے اُسے بتایا کہ
‘‘وہ شخص الفیوم Al-Fayoumکے نخلستان میں رہتا ہے۔’’….‘‘لوگ کہتے ہیں کہ اُس کی عمر دو سو سال ہے اور اُسے کسی بھی دھات کو سونے میں بدلنے کا علم اُسے آتا ہے۔’’
یہ سُن کر انگلستانی باشندہ اس عرب سے ملنے کو بے قرار ہوگیا اور اپنے جوش و ولولہ کو قابو میں نہ رکھ سکا۔ اس نے یونیورسٹی کی نوکری سمیت اپنی تمام ذمہ داریوں اور مصروفیات کو منسوخ کیا اور ضروری کتابیں لے کر انگلستان سے رختِ سفر باندھا اور آج الفیوم پہنچے کے لیے وہ اس بدبو دار اصطبل میں قیام پذیر تھا۔
باہر کی جانب ایک طویل صحرائی قافلہ(کاروان )سفر کی تیاری کر رہا تھا، جسے افریقہ کے عظیم اور طویل ترین ریگستانِ صحارا کو پار کرتے ہوئے نخلستان ‘‘الفیوم’’ سے گزرنا تھا۔
‘‘اب میں اِس عجیب کیمیا گر تک پہنچے ہی والا ہوں’’ انگلستانی باشندہ سوچتے ہوئے مسکرانے لگا، لیکن اب اصطبل سے اُٹھتی ہوئی بدبو کی لہریں اس کے لیے تھوڑی بہت قابلِ برداشت ہو گئی تھیں۔
اِسی اثنا میں عرب لباس پہنا ایک نوجوان اپنا سامان اُٹھائے عمارت کے اندر داخل ہوا ۔ اس نے انگریز کو سلام کیا اور اس کے قریب ہی ایک بینچ پربیٹھ گیا۔
‘‘آپ کہاں جارہے ہیں ….؟ ’’، عرب لباس پہنے اس نوجوان لڑکے نے پوچھا۔
‘‘صحارا کے ریگستان کی جانب….’’ اس انگلستانی باشندے نے مختصر سا جواب دیتے ہوئے اپنی توجہ پھر کیمیا کی اس کتاب پر مرتکز کر دی۔ شاید وہ اس وقت کسی قسم کی گفتگو کرنا نہیں چاہتا تھا اور کیمیا گر سے ملنے سے پہلے جتنا وقت بھی ملتا ہے ، اُس میں اب تک کی پڑھی ہوئی تمام معلومات کو تازہ کر لینا چاہتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ کیمیا گر سے ملاقات ہوئی تو وہ اپنا علم سکھانے سے پہلے اُس کاسخت امتحان ضرور لے گا۔ ا س لیے کیمیا کے بارے میں ہر بات وہ ذہن نشین کرلینا چاہتا تھا۔
انگلستانی باشندے کے روئیے کو دیکھتے ہوئے اس لڑکے نے بھی مزید بات کرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے بیگ سے ایک کتاب نکال کر پڑھنے لگا۔
کتاب ہسپانوی زبان میں تھی۔
‘‘چلو یہ اچھا ہوا ….’’ انگریز نے لڑکے کے ہاتھ میں ہسپانوی زبان کی کتاب دیکھتے ہوئے سوچا، کیونکہ وہ عربی زبان کے مقابلے ہسپانوی زبان زیادہ بہتر بول اور سمجھ سکتا تھا۔ اُسے اطمئنان ہوا کہ اگر یہ لڑکا بھی سفر میں ساتھ جا رہا ہو گا تو اچھا رہے گا اور سفر کے خالی اوقات میں کم از کم کسی سے گفتگو تو ہو سکے گی۔
لڑکا اُسی کتاب کو پڑھنے میں لگا ہوا تھا ، جس کے آغاز میں رسمِ تدفین کا تذکرہ تھا اورجس بارے میں اس بوڑھے بادشاہ نے کہا تھا کہ یہ کتاب خشک اور الجھا دینے والی ہے۔
‘‘عجب بات ہے….میں ایک سال سے اِس کتاب کو پڑھنے کی کوشش رہا ہوں لیکن اِس کے ابتدائی چند صفحات سے آگے بڑھ ہی نہیں پایا’’
پہلے جب اس نے کتاب پڑھنا شروع کی تھی تو اس بوڑھے بادشاہ نے آ کر دخل اندازی کی تھی اور وہ کتاب پر توجہ مرتکز ہی نہیں کر سکا تھا لیکن آج تو وہ بوڑھا بادشاہ بھی درمیان میں نہیں ہے، پھر آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔
کتاب سے اس کی توجہ بھٹکنے کی وجہ دراصل ایک الجھن تھی، مصر جانے کے اپنے اِس فیصلہ کے متعلق ابھی تک وہ تردّد میں مبتلا تھا۔ البتہ وہ یہ بات جانتا تھا کہ کسی چیز کا فیصلہ کرنا تو محض اس سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ جب انسان کوئی فیصلہ کرتا ہے تو ایک طرح سے وہ ایسی تیز طوفانی لہروں میں کود پڑتا ہے جن کے بارے میں اُسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ لہریں اُسے اُٹھا کر کہاں لے جائیں گی۔ یہ لہریں کبھی کبھی ایسے مقامات پر بھی پہنچادیتی ہیں جو اُسے خواب میں بھی کبھی نظر نہآئے تھے۔
اُس نے سوچا
‘‘میں نے بھی جب خزانہ تلاش کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو کیا مجھے یہ انداز تھا کہ مجھے کسی شیشوں کے ظروف کی دکان پر سال بھر کام کرنا پڑے گا۔’’ اور اب جب میں اُس صحرائی قافلے کے ساتھ مصر جانے کا فیصلہ کر بیٹھا ہوں۔ اس سفر کے آخر میں ، میں کہاں پہنچوں گا، یہ بھی میرے لیے ابھی ایک معما اور راز ہی ہے۔’’
قریب میں بیٹھا انگلستانی باشندہ اپنی کتاب کے مطالعہ میں غٖرق تھا۔ لڑے کو ابتداء سے ہی محسوس ہورہا تھا کہ اُس کا رویّہ غیر دوستانہ ہے، بلکہ جب لڑکا وہاں پہنچا تھا تو اُس کے رویّہ سے ناگواری ہی ظاہر ہورہی تھی۔ اگر انگلستانی باشندے نے خود بات چیت بند نہ کی ہوتی تو ممکن ہے کہ وہ دونوں دوست بھی بن گئے ہوتے۔
پھر لڑکے نے یہ سوچ کر اپنی کتاب بند کر کے واپس اپنے بیگ میں رکھ دی کہ کہیں مجھے پڑھتا دیکھ کر انگلستانی باشندہ یہ نہ سوچ رہا ہو کہ میں اس کے جیسا بننے کا دکھاوا کررہا ہوں۔ اُس نے اپنی جیب سے وہ پتھر نکالے اور اُچھال کر اُن سےکھیلنےلگا۔
اس کے ہاتھوں میں وہ پتھر دیکھ کر وہ انگلستانی باشندہ چلّایا۔
‘‘یہ تو اوریم اور تھُومیم ہیں’’۔
فوراً ہی لڑکے نے اُنہیں جیب میں ڈال کر چھُپا لیا اور بولا، ‘‘یہ بیچنے کے لیے نہیں ہیں۔’’
انگلستانی باشندہ بولا ‘‘ویسے بھی مجھے انہیں خریدنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ پتھر اتنے زیادہ قیمتی بھی نہیں ہوتے ۔ ایسے پتھر لاکھوں کی تعداد میں اس زمین میں پائے جاتے ہیں۔ جنہیں اِن کی روایت کا علم ہے صرف اُنہیں ہی معلوم ہے کہ یہ اوریم اور تھُومیم ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ یہاں کے لوگوں کے پاس بھی یہ ملتا ہے۔’’
‘‘مجھے تو یہ ایک بادشاہ نے بطور تحفہ دئیے تھے’’ لڑکا بولا۔
انگلستانی باشندے نے لڑکے کی بات سننے سے پہلے ہی اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اسی طرح کے دو پتھر نکال کردکھائے اور پھر تعجب سے لڑکے سے پوچھا۔
‘‘کیا کہا تم نے…. بادشاہ نے۔’’
‘‘کیوں تمہیں یقین نہیں…. مجھے لگتا ہے کہ تم شاید یہ سوچ رہے ہو گے کہ ایک بادشاہ مجھ جیسے معمولی سے چرواہے سے کیوں کر بات کرنے لگا۔’’ لڑکے نے گفتگو ختم کرنے کے اندازمیںکہا۔
‘‘نہیں….ایسا بالکل نہیں ہے….’’انگلستانی باشندے نے لڑکے کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا ‘‘بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جب سب ہی نے بادشاہ کو پہچاننے سے انکار کر دیا تو سب سے پہلے چرواہے ہی تھے جنہوں نے بادشاہ کو پہچانا تھا۔ چنانچہ اگر بادشاہ کسی چرواہے سے بات کرے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔’’
پھر انگریزی باشندہ یہ سوچ کر کہ کہیں اس لڑکے کو اس کی بات سمجھنے میں دِقّت نہ ہورہی ہو مزید تفصیلات بتانے لگا کہ ‘‘یہ بات در اصل بائیبل میں لکھی ہے اور اوریم اور تھومیم کے بارے میں بھی بائبل میں ہی لکھا ہوا ہے ۔ دراصل یہ پتھر ایک زمانہ میں خدا سے تعلق کی نشانی سمجھے جاتے تھے۔ ، اس کے ذریعے استخارہ کرنے والےپادری اُنہیں ایک سونے کی پلیٹ میں جَڑوا کر سینے سے لگائے رکھتے تھے۔’’
گودام میں بیٹھے ہوئے اس انگلستانی باشندے کے منہ سے یہ سب باتیں سن کر لڑکے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ آخر کوئی تو ہے جو اس کی باتوں اور اس کے ساتھ ہوئے واقعات کی تصدیق اور یقین رکھتا ہے۔
‘‘میرا تم سے ملنا شاید کوئی اچھا غیبی اشارہ ہے’’۔ انگلستانی باشندے نے زیرِ لب ذرا کم آواز میں کہا۔
‘‘غیبی اشاروں کے بارے میں تمہیں کس سے معلوم ہوا’’ اب تو لڑکے کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔
انگلستانی باشندے نے الکیمیا کے اس جرنل کو بند کرتے ہوئے کہا
‘‘دراصل اس کائنات میں اور زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کے ہونے کا کوئی نہ کوئی غیبی اشارہ ضرور موجود ہوتا ہے۔ کائنات میں ایک زبان ایسی بھی ہوا کرتی تھی جسے ہر کوئی سمجھ سکتا تھا، لیکن اب لوگ اُسے بھول گئے ہیں۔ میں اور بہت سی چیزوں کے علاوہ اِس کائناتی زبان کی تلاش میں ہوں۔ یہاں بھی میں اِسی لئے آیا ہوں۔ اب مجھے ایک ایسے شخص کی تلاش ہے جو شاید یہ زبان جانتا ہے۔ شاید وہ کیمیا گر ہے۔’’
یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ ایک موٹاسا عرب شخص، جو شاید اس گودام کا مالک تھا اندر داخل ہوا اور دونوں سے مخاطب ہوکر بولا:
‘‘آپ لوگ بہت قسمت والے ہیں…. آج ہی ایک صحرائی قافلہ ‘‘الفیوم ’’کے لیے روانہ ہونے جارہا ہے۔’’
‘‘لیکن مجھے تو مصر کی طرف جانا ہے….’’ لڑکا فوراً بول اُٹھا۔
‘‘الفیوم مصر میں ہی تو ہے۔’’ وہ عرب بولا، ‘‘تم کیسے عرب ہو اتنا بھی نہیں جانتے۔’’
لڑکے کو عربی لباس میں دیکھ کر وہ شاید اسے عرب ہی سمجھ رہا تھا۔ اتنا کہہ کر عرب چلا گیا۔
کچھ دیر بعد انگلستانی باشندہ بولا۔
‘‘قسمت ہمارا ساتھ دے رہی ہے اور یہ بھی ایک اچھی علامت ہے….
یہ قسمت اور اتّفاق جیسے الفاظ بھی خوب ہیں…. اور میرے خیال میں یہ الفاظ کائناتی زبان میں ضرور شامل رہے ہوں گے۔ اگر وقت نے ساتھ دیا تو میں اس کائناتی زبان پر ایک ضخیم انسائیکلوپیڈیا ضرور لکھوں گا۔’’
پھر وہ انگلستانی باشندہ لڑکے سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ:
‘‘میرا خیال ہے کہ میری تم سے ملاقات وہ بھی اِس حال میں کہ اُوریم اور تھومیم تمہارے پاس ہیں۔ محض اتّفاق نہیں ہوسکتی۔ یہ قسمت ہے جو ہمیں ملا رہی ہے۔ ’’
پھر وہ کچھ سوچ کو بولا کہ
‘‘کیا تم بھی کسی کیمیاگر کی کی تلاش میں مصر جارہے ہو۔
‘‘ نہیں …. میں تو دراصل ایک خزانہ کی تلاش میں ہوں۔’’
لڑکے کی زبان سے نکل تو گیا لیکن فوراً ہی اُسے غلطی کا احساس ہو گیا اور وہ اندر ہی اندر افسوس کرنے لگا کہ اُس نے خزانہ کا تذکرہ کیوں کر دیا …. لیکن شاید انگریزی باشندے کو خزانے میں کچھ دلچسپی نہ تھی ۔ اسی لیے اس نے لڑکے کی بات کو اہمیت نہیں دی اور بولا ۔
‘‘ایک طرح سے دیکھا جائے تو میں بھی ایک خزانہ کی تلاش میں ہی ہوں۔لیکن وہ ایک الگ طرح کا خزانہ ہے’’
‘‘مجھے کیمیا گر سے کیا واسطہ ، مجھے تویہ بھی نہیں پتہ کہ کیمیا ہوتا کیا ہے ۔’’
لڑکا یہ کہہ ہی رہا تھا کہ گودام کے مالک کی آواز آئی جو سب کو باہر بلا رہا تھا۔
‘‘حضرات….! صحرائی قافلہ روانگی کے لیے تیار ہے….’’

* اسپرانتو Esperanto ایک مصنوعی بین الاقوامی زبان ہے ، جس کو ایک روسی فاضل زمن ہوف نے 1859ء میں مرتب کیا۔ اس کی ترویج کا مقصد بین الاقوامی رسل و رسائل میں آسانیاں بہم پہنچانا تھا۔ یہ زبان یورپ کی اہم زبانوں کے مصادر سے بنائی گئی تھی۔ اس کا لہجہ بھی صوتی اصولوں پر مبنی ہے۔ اسپرانتو کو ثقافتی، بین الاقوامی ادب، شاعری اور فلسفی مقاصد کے علاوہ ٹیلی وژن اور ریڈیو کی عام نشریات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
یہ ایک مفید کوشش تھی مگر عالمی سطح پر اس زبان کو زیادہ پزیرائی نہیں مل سکی ، آج اسپرانتو دنیا کے کسی ملک کی سرکاری زبان نہیں ہے، البتہ ابھی بھی دنیا میں 20 لاکھ کے قریب لوگ اس زبان کو بول اور سمجھ سکتے ہیں۔

** الکیمیا Al Chemyعربی لفظ ہے ، جو قدیم یونانی لفظ Chemeia سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے کالا جادو۔ یونانی لوگ مصر کو Chemia یعنی سیاہ مٹی کی سرزمین کہتے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ الکیمیا کی بنیاد مصر میں فرعونوں کے پروہتوں نے رکھی۔ وہ اس علم کے ذریعے آب حیاتElixir of Life اور پارس پتھر تیار کرنا چاہتے تھے۔ الکیمیا کے فلسفیوں کا دعویٰ تھا کہ کائنات بھر میں تمام چیزیں چار عناصر، ہوا، مٹی، پانی اور آگ سے بنی ہیں ، مٹی کو مختلف اشکال میں ڈھالنا ممکن ہے۔ چونکہ دھاتیں مٹی سے بنی ہیں لہٰذا تانبے کو سونے میں بدلا جاسکتا ہے۔
زمانہ قدیم میں مصروبابل، چین، ہندوستان اور یونان و روم علم الکیمیا کے بڑے مراکز تھے۔ ان تہذیبوں میں سینکڑوں ماہرین کی سعی رہی کہ وہ ایسا جنتر منتر تلاش کرلیں جو انسان کو نہ صرف عمر جادواں عطا کردے بلکہ اسے مٹی سے سونا بنانے کا گر بھی بتادے۔یونانی و رومی فلاسفہ و حکما نے علم الکیمیا پر کئی کتب بھی تحریر کیں ۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں عربی کتب کے لاتعداد تراجم لاطینی زبان میں طبع ہوئے۔ یوں اہل یورپ نے بھی علم الکیمیا سے آگاہی پائی مگر یورپ میں بھی الکیمیا کے اس پہلو کو زیادہ شہرت ملی کہ عام دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنا ممکن ہے۔ چنانچہ سیکڑوں لالچی اور پر تجسس یورپی علم الکیمیاکے اصول و قواعد سیکھ کر سونا بنانے کی کوششیں کرنے لگے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی تک بڑے بڑے سائنس دانوں کے کئی تجربات کا مقصد ‘‘پارس پتھر’’ اور ‘‘آب حیات’’ تلاش کرنا تھا۔
قدیم دور میں علم الکیمیا دیومالا، فلسفہ اور سائنس و ٹیکنالوجی کے نظریات کا مغلوبہ تھا لیکن جب مسلم سائنس دانوں کی تحقیقات کے زیر اثر یورپی ماہرین بھی لیبارٹریوں میں تجربات کرنے لگے، تو ایک نئی سائنس سامنے آنے لگی جسے ‘‘کیمیا’’ یعنی کیمسٹری کا نام دیا گیا۔ انیسویں صدی کے کیمیا دانوں نے پارس پتھر کی تلاش کے امکان کو مسترد کر دکے الکیمیا کے علم پر آخری مہر ثبت کردی ۔یوں آج الکیمیا محض ایک متروک علم اور مفروضہ کی حیثیت اختیار کرگیاہے۔


*** پارس پتھر (فلاسفر اسٹون Philosopher’s stone ) ماہرین الکیمیا کی اصطلاح میں ایک ایسی چیزہے جسے عام دھاتوں خصوصاً تانبے اور سیسے سے مس کیا جائے تو وہ سونا بن جاتی ہیں۔



(جاری ہے)
***

تحریر : پاؤلو کویلہو ; ترجمہ: ابن وصی
(جاری ہے)

 
اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

تلاش (کیمیاگر) قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں پہلی قسط اندلس ، براعظم یورپ کے جنوب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن