فینگ شوئی – 9

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

قسط نمبر  9


فینگ شوئی ایک قدیم سائنس ہے اس کا تعلق چین سے ہے۔ فینگ شوئی کے ذریعے آپ اپنے گھر کی تزئین و آرائش میں معمولی تبدیلی سے فطرت کے اصول آپ کے گھر میں روبہ عمل ہوجائیں گے۔ذہنی یکسوئی میں اضافہ ہوسکتا ہے رزق میں آسانی اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
روحانی ڈائجسٹ کے قارئین کے لیے ان صفحات پر چین کے معروف متبادل طریقہ علاج فینگ شوئی پرسلسلہ شروع کیاجارہا ہے۔

 

گھریلو تعلقات بہتر بنایئے:

 

دوستو….! اب تک ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ فینگ شوئی کس طرح ہمارے لئے سود مند ہے۔ اپنے مکان، دفتر، دکان وغیرہ کی تزئین و آرائیش پر فینگ شوئی کے اصولوں کے مطابق کرکے کئی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔
فینگ شوئی کی تعلیمات بھی ہمیں یہی بتاتی ہیں کہ کائناتی لہریں ہمارے خیالات وجذبات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ لہریں ہمارے جذبات میں شدت یا ٹھیراؤ پیدا کرتی ہیں۔ یہ ماورائی لہریں ہمارے ماحول میں ہر طرف موجود ہیں اور ہر ایک پر اثر انداز ہوتی ہیں فطرت سے دوری، صنعتی اور مشینی آلات کے بے دریغ استعمال سے شہری زندگی میں ان لہروں کا مثبت اثر کم ہو تا جارہا ہے۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ فطرت سے دوری کی بناء پر اس حیاتی قوت کو ہم صحیح طور پر حاصل نہیں کر پارہے ہیں۔ ظاہر ہے اس سے زندگی کے ہر شعبے میں ہمیں نقصان اُٹھانا پڑرہا ہے۔
کسی بھی وجہ سے ان لہروں کو صحیح طور پر قبول نہ کرنے کی بناء پر چڑ چڑا پن، غصہ، ترش مزاجی اورناگواری جیسے جذبات آپ کے تعلقات کو براہِراست متاثر کرتے ہیں۔ یہ متاثرہ تعلقات بہن بھائیوں کے ہوں یا والدین اور اولاد کے یا پھر میاں بیوی میں محبت اور خوشگوار تعلقات کا فقدان ہوجائے یا آپ کو مخلص ہمسفر کی تلاش میں مسائیل یا رکاوٹیں درپیش ہوں ۔اس سب کے لئے ‘‘ چی ’’ نامی یہ توانائی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ چی توانائی دائروی یا مرغولہ وار حرکت کرتی ہے۔ فینگ شوئی کے ماہرین کے مطابق اس کی دائروی حرکت جیسے جیسے سست پڑتی جاتی ہے یہ صحت اورتعلقات کے لیے مضر ہونے لگتی ہے اور ایک ایسا وقت بھی آنے لگتا ہے کہ یہ دائرے کی بجائے راست عمودا سفر کرنے لگتی ہے۔ اسے ‘‘شا’’ کہتے ہیں۔فینگ شوئی کے با ب میں یہ ہر لحاظ سے مضر اورنقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔
چی کی شا میں تبدیلی کی کئی وجوہات ہوتیں ہیں۔مگر بنیادی وجوہات میں غیر فطری زندگی، گھٹن زدہ یا مشینی ماحول قرار دئیے جاتے ہے۔ ُ شا ٗ کی وجہ سے نہ صرف جسمانی اور دماغی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ تعلقات بھی خراب ہونے لگتے ہیں چنانچہ ہمارے باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے گھر کے ان سیکٹرز پر خصوصی طور پر دھیان دیں جہاں خاندان اور ازدواجی زندگی سے متعلق چی توانائی کار فرما ہے۔اس کے لئے اگر آپ کو چند باتوں کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے اس کے بعد ہمیں یقین ہے کہ آپ کے گھر میں فینگ شوئی اصول کار فرما ہو جائیں گے۔
اب مزاج میں اتار چڑھائو،ردوبدل فطرت کا بھی حصہ ہے انسانی فطرت کبھی بھی ایک سی نہیں رہتی ۔اس کے باوجود کچھ جذباتی اتار چڑھائو،اور بدلائو ایسے بھی ہیں جن کی بنیاد پر ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کس حد تک چی تواناائی سے مستفیذ ہو رہے ہیں اورآپ کے گھر کے کون سے حصے چی توانائی کو متاثر کرہے ہیں ۔
ہم انہیں مرحلہ وار سمجھتے ہیں
۔اگر شا توانائی شمال مغرب جو کہ بزرگوں اور والدین کا سیکٹر ہے کو متاثر کرے تو آپ اپنی زندگی میں اچھے اور مخلص لوگوں کی توجہ سے محروم ہو سکتے ہیں ۔ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ جن سے مدد لینا چاہیں وہی آپ کے لئے نقصان یا تکلیف کا باعث بن جائیں ۔آپ کے لئے ذہنی تنائو کا شکار بھی رہ سکتے ہیں ۔بزرگوں اور کے لیے شمال مغربی سیکٹر انتہائی موزوں ثابت ہوتا ہے۔
۔مشرقی سیکٹر میں شا چی کے مضر اثرات خاندانی مفاہمت میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں اور اہل خانہ بہن بھائیوں کے درمیان محبت و خلوص کو متاثر کرتے ہیں ۔
۔اسی طرح شا چی جنوب مغرب سیکٹر ازدواجی تعلقات میں گرہیں ڈالتا ہے ۔میاں بیوی میں اختلافِ رائے ،معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑا معمول بن جاتا ہے۔اور غیرشادی شدہ افراد کے لئے تو مزید مشکلات پیدا کرتا ہے ۔
گزشتہ دنوں ہمارا ایک دعوت میں جانا ہوا۔وہاںملنے جلنے والے اور دیگر حلقہ احباب میں فینگ شوئی سے متعلق کئی باتیں زیرِ تذکرہ رہیں ۔اس دوران ہمارے ایک قریبی دوست نے ہماری ملاقات اپنے ایک رشتے دار سے کروائی جو اسلام آباد سے دعوت میں شرکت کے لئے آئے تھے ۔کچھ رسمی گفتگو اور فینگشوئی پر کئے جانے کام سے متعلق کچھ توصیفی کلمات کے بعد انھوں نے اپنے ذاتی تجربات ہم سے شئیر کئے ۔ان کے ہی اسرار پر ہم ان کی کہانی آپ سے شئیر کررہے ہیں۔فائز احمد کا کہنا تھا کہ آپ کے قارئین کو میری کہانی یقیناً بہت دلچسپ اور انوکھی لگے گی۔
فائز احمد کا تعلق ایک اعلی تعلیم یافتہ اور رئیس خاندان سے ہے ۔امریکہ سے ایم بی اے اور پھر ایم ایس کیا۔انھوں نے بتایا کہ ویسے تو مجھے نوکری کرنے کی ضرورت نہیں تھی مجھے تو ڈگری حاصل کرکے اپنا خاندانی بزنس ہی آگے بڑھانا تھا۔مگر کچھ نیا کرنے کی دھن میںاور ایک نئے تجربے کے لئے میں نے اور میرے ایک دوست نے ایک کمپنی ایگیزیکٹو پوسٹ پر جوائن کر لی اور کچھ عرصے ہم نے مل کر وہیں کام کیا۔۔فائز نے ہمیں بتایا کہ وہاں فینگ شوئی کنسلٹیشن معمول کا حصہ ہے ۔ ہماری کمپنی میںبھی کاروباری معاملات، نئے آفسز کی جگہ ،اور تزئین و آرائش میں اس علم سے کافی استفادہ حاصل کیا جا تا تھا ۔مگرمجھے اس میں کوئی خاص دلچسپی محسوس نہ ہوئی اور میں نے کبھی اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔میرے لئے یہ انٹرئیر ڈیزائینگ کے آرٹ سے زیادہ کچھ نہ تھا۔اور پھر کچھ ہی عرصے میں والدین کے ضد کرنے پر میں اسلام آباد واپس آگیا۔اور اپنا خاندانی بزنس جوائین کرلیا۔ اپنی قابلیت اور محنت کے بل پر بہت جلد میں نے بزنس انڈسٹری میں اپنی ایک الگ شناخت بنالی اور بزنس کو یورپ تک پھیلادیا۔میرے دوست مجھ سے مرعوب اور رشتے دار خائف رہنے لگے ۔جو میری کامیابی کی دلیل تھے۔ اس تمام عرصے میںٖ مجھے کبھی بھی اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ میں عمر کے ۳۵ ادوار گزارنے کے باوجود ایک مخلص شریکِ حیات کے ساتھ سے محروم تھا۔ایسا نہیں تھاکہ میری کوئی دوست نہیں تھی یا میرے والدین نے کبھی میرے لئے کوئی لڑکی پسند نہیں کی تھی۔ظاہر ہے رئیس خاندان کا اعلی تعلیمیافتہ چشم وچراغ تھا تو کئی خواہشمند اچھے رشتے بھی تھے ۔میرے والدین نے ایک ہم پلہ خاندان میں بات بھی پکی کردی ۔مگر کچھ عرصے بعد کچھ نامعقول وجوہات کی بناے پر وہ رشتہ ٹوٹ گیا۔اور پھر اس کے بعد جیسے یہ ایک معمول سا بن گیا۔گھر والے خوب سے خوب لڑکیاں میرے لئے دیکھتے بات بنتی نظر آتی مگر بگڑ جاتی ۔کئی دوستیاں ہوئیں جنہیں رشتے داری میں بدلنا چاہا تو وہ دوستیاں بھی نہ رہیں ۔میرے لئے یہ ایک انتہائی غیرمعمولی سی بات تھی۔ان حالات نے مجھے حد درجہ ڈپریسڈ کردیا تھا۔مجھے محسوس ہورہا تھا کہ میں تنہائی کا شکار ہورہا ہوں ۔میرے ماتحت اور بزنس پاٹنرز کے خیال میں مجھ میں پہلے جیسا جوش و ولولہ نہیں رہاتھا۔میں رات دن بس اپنا بزنس بڑھانے اور ا سٹریٹجییز بنانے میں وقت صرف کرنے لگا تھا۔میں صرف ایک پیسہ بنانے کی مشین بن کر رہ گیا تھا۔جسے خرچ کرنے والا مجھے کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ مگر جب قدرت مہربان ہوجائے تو راہیں بھی کھلتی چلی جاتی ہیں۔ایک سال پہلے میرا یو۔ ایس اپنے نئے پلا نٹ کی سائٹ وِزِٹ کے لئے جانا ہوا۔ جیسا کہ میں نے پہلے ہی بتایا کہ وہاں کاروباری معاملات میں اکثر لوگ فینگشوئی ایکسپرٹ سے ایڈوائز ضرور لیتے ہیں ۔اس وقت بھی میرے دوست کے ہمراہ ایک ایکسپرٹ موجود تھے۔ سائٹ وزٹ اور فینگشوئی ایکسپرٹ کے یس کے بعدمیں نے پوری ٹیم کے لئے ایک ِانفارمل بار بی کیو پارٹی ارینج کی ۔وہاں ہنسی مذاق اور دیگر غیر رسمی باتوں کے دورا ن اچانک میرے دوست نے فینگ شوئی ایکسپرٹ کے سامنے میری شادی کا تذکرہ چھیڑ دیا۔تب ہمارے فینگ شوئی ایکسپرٹ نے میری طرف چونک کر دیکھا۔ وہ بہت ناراض بھی ہوئے کہ جب فینگ شوئی کی ٹیکنکس آ پ کے کاروباری تعلقات استوار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتیں ہیں تو پھر ذاتی تعلقات میں کیوں نہیں۔ تمہیں ضرور میری مدد کی ضرورت ہے ۔میری ذاتی انا مجھے ان سب باتوں سے روک رہی تھی ۔اور میں نے کبھی اس پر اعتماد کا اظہار بھی نہیں کیا تھا۔اس لئے ان کی باتوں کو نظر انداز کرکے پاکستان لوٹ آیا۔شاید میرا عدم اعتماد ان کو پسند نہ آیا وہ مجھ سے ملنے کے لئے بضد ہوگئے۔اور اگلے ہی ہفتے میرا دوست انہیں زبردستی پاکستان لے آیا۔۔وہ میرے طرزِ رہائش او ر بنگلہ کی تزئین و آرائش دیکھ کر بہت متاثر ہو ئے اور میرے ٹِیسٹ اور سلیکشن کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے ان کے ریمارکس تھے کہ شاید وہ دبئی کے کسی محل میں ہوں۔مجھے اپنی تعریف بہت اچھی لگ رہی تھی ۔ایک اہم بات اور بتائوں کہ مجھے سمندر سے عشق ہے ۔اور اپنے اس شوق کی تکمیل کے لئے میں نے اربوں روپے خرچ کر کے ایک وال ایکوریم نصب کیا تھا جو میرے روم کی ایک پوری دیوار کو کور کرتاتھا ۔اس میں کئی نایاب مچھلیاں ایسی بھی تھیں جن کی مخصوص خوراک امپورٹ کی جاتی تھی ۔اب پرابلم یہ تھی کہ فینگ شوئی ایکسپرٹ پورے کمرے کو انتہائی عجیب سی نظروں سے گھور رہے تھے ۔ان کا اسرار تھا یہ ایکو رئیم یہاں کسی صورت بھی نہیں ہونا چائیے ۔انھوں نے کہا کہ تمہارا روم ایک آئیڈیل کارنر میں ہے مگر یہ بیڈ ایکورئیم اور روم کے ساتھ اٹیچڈ سوئمنگ پول تمہارا گھرآباد نہیں ہونے دے گا۔ مجھے ہکا بکا دیکھ کر کہنے لگے کہ فینگ شوئی کی تعلیمات کے مطابق تمہارا کمرہ جنوب مغرب سمت میں ہے اور یہ سیکٹر ازدواجی زندگی اور شادی کا ہے ۔ اس سیکٹر میں پانی کی موجودگی انتہائی غیر موزوں اور نامناسب ہے اور اوپر سے یہ جھلملاتا فانوس ۔اگر شادی کرنا چاہتے ہو تو اس سب کو بدلو۔مجھے اب خود پر غصہ آرہا تھا کہ خوامخواہ دوستوں کی باتوں میں آکر ان کو گھر آنے دیا ۔مگر میری بھی قسمت دیکھئیے۔جب تک میں انہیں رخصت کرنے کا فیصلہ کرتا میرے دوست ماما سے مل کر انہیں فینگ شوئی کے بارے بہت کچھ بتاچکے تھے ۔اور وہ بہت زیادہ ایمپریسڈ نظر آرہیں تھیں ۔
وہ بضد ہوگئیں کہ میں جلد از جلد فینگشوئی ایکسپرٹ کی ہدایات پر عمل کروں اور اور روم کو ری۔ کنسٹرکٹ کروں ۔بلکہ انھوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر پورا گھر ری۔ ڈیزائین کروانا چاہیں تو وہ بھی ہوجائے گا۔
میں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی مگر سب بے سود ۔مجھے ماما کی ضد کے آگے ہارنا پڑا اور اپنے پسندیدہ ایکوریم سے ہاتھ دھونا پڑا ۔سوئیمنگ پول میں بھی مٹی بھر دی گئی اور پھر سب کچھ عین ہدایات کے مطابق ایک نئے سرے سے کمرے کی آرائش کی گئی ہے ۔ کچھ سرخ رنگ کا استعمال کیا گیا اور کچھ پلانٹس بھی لگائے گئے ۔چھ سات مہینوں تک تومجھے کوئی ایسی پروگریس نظر نہیں آئی ۔مگر ۔۔پھر۔۔فائزاحمد کی آنکھوں میں اس وقت چمک سی پیدا ہوگئی جب انھوں نے آواز دے کر اپنی شریکِ حیات کو بلایا اور ہم سے ان کا تعارف کروایا۔سوھا فائز احمد کے نئے بزنس میں بزنس پارٹنر تھی۔ جنہیں وہ پہلے بھی پروپوز کرچکے تھے مگراس وقت بات بن نہ سکی تھی۔اور پھر دو مہینے پہلے ایک پارٹی میں انھوں نے سوھا کو دوبارہ پروپوز کیا جسے سوھا نے فوراً قبول کرلیا۔اور اب دونوں بزنس پارٹنر کے ساتھ پرفیکٹ لائف پارٹنر بھی ہیں۔اور ایک خوش و خرم زندگی گزار رہیں ہیں ۔
فائز احمد نے کہا کہ تھینکس ٹو مائی مَوم جن کی ضد کی وجہ سے میں نے فینگ شوئی ایکسپرٹ کی بات مانی اورمجھے ایک اچھی لائف پارٹنر ملی ۔میں اب اپنے ہر بزنس اور ہوم ڈیکور میں فینگ شوئی ایکسپرٹ کی رائے ضرور لیتا ہوں ۔
یہ تو تھے فائز احمد جو زندگی میں بہتری لانے کے فن سے مستفیذ ہوگئے ۔امید ہے کہ ان کے تجربے سے آپ عناصر اور ان سیکٹرز کی اہمیت کو سمجھ گئے ہوں گیں ۔اس کے علاوہ کچھ اہم نکات ہم آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں ۔ان پر بھی غور کیجئے اور اگر آپ کے گھر میں کوئی بھی نکتہ نظرانداز ہورہا ہے تو اس پر دیہان دیجئے۔
ْ۔جنوب مغرب سیکٹر میں سرخ رنگ جو کہ آگ کی علامت ہے اور آگ زمین کا عنصر بناتی ہے کا استعمال بہتر ہے۔
۔ایسی سجاوٹی اشیاء سے کمرہ کو سجائیے جو جوڑوں کی صورت میں ہو۔
۔ اگر آپ کے گھر کا مرکزی دروازہ گھر کے دائیں حصے پر ہو کیونکہ اس سے یہ حیاتی توانائی زیادہ بہتر انداز میں دور کرتی ہے۔ اس کی پورے گھر میں گردش سے باہمی تعلقات میں زیادہ کشش اور محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
۔ایسے مکان یا فلیٹ کا انتخاب انتہائی غیر موزوں ہے جہاں کچن اور باتھ روم جنوب مغرب میں واقع ہوں۔
۔اگر مکان یا فلیٹ میں کوئی اور متبادل باتھ روم ہے تو اسے ہی استعمال کیجئے ۔
۔ بیڈ روم میں آئینہ اس طرح نصب ہو کہ اس کا انعکاس بیڈ پر نہ ہو۔ اسی طرح چھت پر لگے فانوس یا شوپیس وغیرہ اس طرح نہ ہوں کہ ان میں عکس نظر آئے۔ اس عکس سے شخصیت کے دوہرے اثرات پڑتے ہیں جو چی کے بہاؤ کو متاثر کر کے تعلقات میں خرابی کا سبب بن سکتے ہیں۔

 

(جاری ہے)

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

مائنڈ فُلنیس – 7

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں  قسط نمبر 7     مائنڈ فلنیس کے ...

یوگا – 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں دوسری قسط سانس کا اُتار چڑھاؤ یوگا میں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن