شکریہ ۔ قسط 8

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

دنیا بھر میں ہر روز بے شمار تربیتی پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ، مضامین، کالم اور کتابیں یہ بتانے کے لئے لکھی جاتی ہیں کہ کس طرح ان خواہشات کے حصول کی تکمیل کی جائے۔ زندگی بہتر انداز میں گزارنے کے لئے ہم اپنے طور پربھی کوشش اور تجربات کرتے رہتے ہیں ۔اس کے باوجودہم ایسی زندگی نہیں گزار پاتے جو انسانیت کے شایانِ شان ہو۔ہم غربت، جہالت، بے روزگاری جیسے مسائل سے دو چار ہیں ۔ ہمارے رشتوں میں محبت ، قربانی اور روا داری کا فقدان رہتا ہے۔ اچھی زندگی ہمارے لئے ایک خواب بن جاتی ہے، وہ خواب جو ہم ہر رات دیکھتے ہیں ۔زندگی ایک معمہ بن جاتی ہے ، جسے سمجھتے سمجھتے پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ 1998 سے میرا تعلق پڑھانے اور ٹریننگز کرانے سے رہا ہے۔ اس دوران میں نے سینکڑوں لوگوں کے نقطہ نظر کو سنا، کتابیں پڑھیں اور یہ کوشش کی کوئی ایسا فارمولا ہاتھ لگ جائے جس کے باعث ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر تے ہوئے خوشحال زندگی گزاریں ۔ ایسی زندگی جو دونوں جہانوں میں سرفراز کر دے۔میرا ایمان ہے کہ انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے وہ حاصل کر ہی لیتا ہے۔مجھے بھی وہ فارمولا مل گیا۔ میں اس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں یہ کامیابی اور خوشحالی کا واحد فارمولا ہے،واحد فارمولا۔ اس سلسلۂ مضامین کا مقصد یہی ہے کہ نا صرف اُس قانون کو بیان کیا جائے بلکہ اس پر عمل کرنا آسان بنا دیا جائے تاکہ ہماری زندگی صحت ،محبت ، دولت اور خوشیوں سے بھر نے کے ساتھ ساتھ خدا کی رضا بھی حاصل کر لے ۔ محمد زبیر


کام سے محبت کریں

آٹھواں دن

   

“A musician must make music, an artist must paint, a poet must write, if he is to be ultimately at peace with himself. What a man can be, he must be”
[Abraham H. Maslow]

‘‘ایک موسیقار کو موسیقی ترتیب دینی چاہئے ایک مصور کو تصویریں بنانی چاہئیں، ایک شاعر کو لکھنا چاہئے، اگر وہ مکمل طور پر پرسکون زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ تو ایک انسان جو کر سکتا ہے، اسے وہ کام لازمی کرناچا ہئے۔ ’’۔ [ابراہم ماسلو]


کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جسے اپنے کام سے نفرت ہو اور اس نے بے پناہ کامیابیاں بھی حاصل کر لی ہوں؟ یقینا نہیں جانتے ہونگے۔ پیبلو پکاسو نے ایک مرتبہ کہا تھا :

‘‘ جب میں کام کرتا ہوں تو پر سکون ہو جاتا ہوں۔ کچھ نہ کر کے یا مہمانوں کے ساتھ وقت گزار کر میں تھک جاتا ہوں’’۔

 

ہوسکتا ہے کہ ہم پکاسو (Picasso) کی طرح تصویریں نہ بنا سکیں لیکن یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی مرضی کا کام کر کے، اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرکے وہ خوشی حاصل کر لیں جو عظیم انسانوں کے حصے میں آتی ہے۔ اور یہ کام اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہم کام کو کھیل سمجھیں، اس سے لطف اندوز ہوں۔ کام سے لطف اندوز ہونے کے دو طریقے ہیں:
وہ کام کئے جائیں جو ہمارے دل کی آواز ہیں، جس میں ہماری تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار ہو سکے۔ جس کے متعلق مارک ٹوئن نے کہا تھا:

The secret of success is making your vocation your vacation.
[Mark Twin]

کامیابی کا راز یہ ہے کہ اپنے مشغلے کو پیشہ بنا لیا جائے۔ [مارک ٹوئن]

 

 دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنے من پسند کام کیلئے راہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ جو کام بھی کرنے کا موقع ملا ہے اسے محبت، خوبصورتی اور شکر گزاری کے جذبے کے ساتھ کیا جائے۔

 

Success is getting what you want. and  Happiness is liking what you get.
[Jackson Brown, Jr]

کامیابی من پسند چیزوں کو حاصل کرنے جبکہ خوشی ان چیزوں کو پسند کرنے کا نا م ہے جو ہم نے حاصل کر لی ہیں۔۔ [جیکسن برائون ، جونئر]

 

جونہی آپ اپنے کام سے محبت کے نشے میں گرفتا ر ہو جائیں گے، ہر شے خوبصورت نظر آنے لگے گی۔کام کرتے ہوئے آپ کے چہرے پر مسکراہٹ اور ہونٹوں پر گنگناہٹ ہوگی۔کام کام نہیں رہے گا، بلکہ خوشی بن جائیگا۔ ایسی خوشی جو روح کو سر شار کر دیتی ہے، جس سے فارغ ہونے کے بعد آپ کے تعلقات تو بہتر ہونگے ہی ، صحت بھی بہترین رہے گی۔

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

کُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهٗ

‘‘ہر آدمی جس کام کیلئے پیدا کیا گیا ہے وہی کام کرنا اُس کو آسان ہے’’۔  [ترمذی، جلد دوم، کتاب التقدیر، حدیث 4]

 

کام کیلئے شکرگزاری کا پہلا فائدہ کیا ہوتا ہے؟ اب تک کی تمام مشقوں کے دوران آپ محسوس کرچکے ہوں گے کہ جب بھی آپ شکر ادا کرتے ہیں، آپ کے چہرے پر فوراً ایک مسکراہٹ آجاتی ہے۔ چہرے پر مسکراہٹ آنے کے متعدد فائدے ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ آپ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اور خوش ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ محبت کے جذبے سے لبریز ہوجاتے ہیں اور محبت کے جذبے سے لبریز ہونے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کا کام، کام نہیں رہتا بلکہ مشغلہ بن جاتا ہے۔ایسا شخص اپنے اردگرد کے لوگو ں کے لئے مثال بن جاتا ہے ، لوگوں کی ضرورت بن جاتا ہے۔
رین PC Wren اور مارٹن H Martinنے کام سے محبت سے متعلق انتہائی دلنشین بات کہی ہے۔وہ اپنی کتاب انگلش گرامر اینڈ کمپوزیشن High School English Grammar and Composition ، باب 39 میں لکھتے ہیں:

It is a great thing to take a pride in our work. Anything that is worth doing at all, is worth doing well. Even in the humblest task we should be ambitious to do it as well as we can, if possible better than anyone else.
For Example, a cobbler should not think that because his job is a humble one, it can be scamped and done anyhow; he should be determined to make better shoes than any other cobbler; and a tinker should take pride in mending even an old kettle better than any other tinker can.

 

‘‘اپنے کام پر فخر کرنا ایک عظیم عمل ہے۔ اگر کوئی کام کرنا ہی ہے تو اسے بہترین انداز میں کیا جانا چاہئے۔ اگر چہ کام معمولی ہی کیوں نہ ہو، استقلال کے ساتھ اس طرح کیا جائے کہ کسی اور سے اس طرح نہ ہو سکے۔مثال کے طور پر، ایک موچی کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اس کاکام معمولی ہے اس لئے کام چوری اور بے دلی سے جیسا تیسا کر کے مکمل کر دیا جائے۔ اسے ایک ایسا جوتا بنانا چاہئے کہ کوئی دوسرا موچی اس جیسا جوتا نہ سی سکے۔اسی طرح برتنوں کی مرمت کرنے والے شخص کو فخر کے ساتھ کیتلی کو اس طرح ٹھیک کرنا چاہئے کہ کوئی دوسرا اس طرح نہ کر سکے’’۔

اگر آپ ملازم ہے تو جتنی زیادہ چیزوں اور لوگوں کے لئے شکر ادا کریں گے ، اتنی ہی زیادہ بہتر چیزیں اور لوگ زندگی کا حصہ بننے لگیں گے۔ اگر آپ کا کردارگھر کا کام اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہے تو آپ بچوں کی مثبت باتوں کے متعلق جتنا زیادہ سوچیں گے، یہ چیزیں خود بخود بڑھنے لگیں گی۔اگر آپ اسٹوڈنٹ ہیں تو پڑھائی سے، کتابوں سے، اسائنمنٹ سے، اساتذہ اور دوستوں سے محبت کریں۔گھر سے لے کر اسکول تک ہر شخص آپ کا گرویدہ ہو جائیگا۔اگر آپ خاتونِ خانہ ہیں تو آپ کو اہلِ خانہ سے ملنے والی ہر ہر محبت، ہر ہر آسانی کا دل سے اعتراف کرنا چاہئے۔
اگر چہ بعض اوقات حالات بہت زیادہ خراب ہو جاتے ہیں ، کوئی بھلائی بظاہر نظر نہیں آرہی ہوتی، اس کے با وجود بھلائیوں کو محسوس کریں۔ اگر آپ خاتون ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ آپ میں کچھ کرنے کی خدا داد صلاحیت موجود ہے تو صرف عورت ہونے کی وجہ سے اپنے خوابوں کا قتل نہ کریں۔
اللہ کا شکر ادا کریں ۔ محبت اور شکر گزاری کے باعث تمام راستے ہموار ہونا شروع ہو جائیں گے۔اگر آپ تعلیم یافتہ نہیں ہیں تو اسے اپنی کمزوری نہ بنائیں ، دنیا میں بیشمار لوگ تعلیم نہ ہونے کے باوجود اپنے خوابوں کی تکمیل کر چکے ہیں۔ اگر آپ جسمانی طور پر معذور ہیں تو اسے بھی ناکامی کا جواز نہ بنائیں۔ کتنے ہی لوگ بڑی بڑی معذوری کے باوجود غیر معمولی زندگی گزار چکے ہیں۔ آپ کا کام کچھ بھی ہو ، کہیں ملازم ہوں ،خاتونِ خانہ ہوں ، کاروبارکرتے ہوں ، ریٹائرڈ ہوچکے ہوں یا اسٹوڈنٹ ہوں۔ کچھ بھی ہوں ، شکر گزاری اپنائیں ، پھر دیکھیں کہ حالات کیسے تبدیل ہوتے ہیں ۔ آپ کا کام شکر ادا کرنا ہے، باقی کام قدرت کا ہے، وہ اپنا کام قانون کے مطابق کرتی ہے۔سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب آپ محبت سے کام کرتے ہیں ، چاہے وہ آپ کا من پسند کام نہ بھی ہو،شکر گزاری کی بدولت راہیں ہموار ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
فرض کریں ایک کیمرہ اگلے چوبیس گھنٹے تک آپ کا ہر ہر عمل ریکارڈ کرنا شروع کردے، ہر ہر لفظ ہی نہیں ہر ہر خیال بھی محفوظ کرنا شروع کردے اور آپ کو بتادیاجائے کہ اِ س کی بنیاد پر آپ کو انعام یا سزا دی جائے گی۔ سوچیں یہ چوبیس گھنٹے کیسے گزاریں گے۔ یقینا بہت زبردست۔ آپ صرف سود مند کام کریں گے، خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں گے اورمثبت باتوں کو ذہن میں جگہ دیں گے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کا یہ دن ایک غیر معمولی دن ہوگا۔یہی کام آئندہ چوبیس گھنٹوں تک کرنا ہے یعنی دن بھر اپنے ہر ہر عمل پر نظر رکھنی ہے۔ اس طرح جیسے یہ ویڈیو آپ کو دکھائی جائے گی۔

 

One day  your life will flash before your eyes.  Make sure it’s worth watching.
[Gerald Way]

’’ ایک دن آپ کی زندگی کی فلم آپ کے سامنے چلائی جائے گی۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ فلم دیکھنے کے قابل ہو’’ [جیرالڈ وے]

یہ سوچیں کہ جب بھی آپ اپنے کام کے دوران کسی بھی چیز کے لئے شکر ادا کریں گے، ریکارڈ کیپریا کیمرہ مین اسے محفو ظ کرلے گا۔
آج آپ کا کام اتنا شکر ادا کرنا ہے جتناآپ کرسکتے ہیں ۔ جتنی طویل لسٹ بناسکتے ہیں بنائیں کیونکہ صرف ایک دن آپ کی زندگی کو تبدیل کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ لسٹ جتنی طویل ہوگی صلہ بھی اتنا زیادہ ملے گا۔آج اپنے گارڈ سے لیکر افسران تک ؛ پین سے لے کر کمپیوٹرتک اور کرسیوں سے لے کر گاڑی تک ان تمام چیزوں کو جو زندگی کو آسان بنارہی ہیں ، ان تمام باتوں کا جو آپ کے چہرے پر مسکراہٹ اور دل میں خوشی کی لہر پیدا کردیتے ہیں ،شکر اداکریں۔

 

[آٹھواں دن ]

ان تمام چیزوں کے نام لکھیں یاسکون سے بیٹھ کر سوچیں جنہوں نے آپ کی زندگی خوبصورت اور آسان بنا دی ہے۔

1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    4۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

5۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    6۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

7۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    8۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

9۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    10۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

فوائد و تاثرات:
_____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________ _____________________________

 

 

 

دو بھائیوں کا خواب

یہ بات ہے 1878 کی….

ایک پادری سفر سے واپس آیا تو اس کے بیٹے دور سے ہی اسے دیکھ کر اس کی طرف لپکے۔ بڑا بیٹا 11سال کا تھا اور چھوٹا بیٹا 7سال کا۔
ابھی بچوں اور اس کے درمیاں خاصا فاصلہ تھا کہ اس نے انہیں رکنے کا اشارہ کیااور کہا، ‘‘بیٹو! میں تمہارے لئے ایک چیز لایا ہوں، لو اسے پکڑو’’۔ اور اس نے ایک چیز انکی جانب اچھال دی۔ دونوں بیٹے اسے پکڑنے کیلئے تیار تھے مگر اس ایک لمحے میں ایک ایسی بات ہوئی جس نے دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ وہ چیز ان بچوں کی ہاتھوں میں آنے کے بجائے چھت کی سمت اڑنے لگی اور چند لمحوں میں پھڑ پھڑا کر فرش پر گر پڑی۔ لڑکے پھٹی آنکھوں سے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے، تیزی سے اس کھلونے کی سمت بھاگے۔وہ ایک اڑنے والا مشینی کھلونا تھا جسے تار، بانس اور کاغذ سے بنایا گیا تھا۔
اس کھلونے نے بچوں میں پرواز کا جنون بھر دیا۔ وہ اُس کھلونے سے اس وقت تک کھیلتے رہے جب تک وہ ٹوٹ نہیں گیا۔ چونکہ انکے پاس کوئی دوسرا کھلونا نہیں تھالہذا انہوں نے خود ہی اس قسم کا کھلونا بنا لیا۔بعد میں انہوں نے پتنگیں بنانا شروع کر دیں۔جو اس قدر عمدہ ہوتیں کہ محلے کے تمام لڑکے انہی سے خریدتے۔


اُن لڑکوں کے نام تھے ولبر رائٹ Wilbur Wright اور آرول رائٹOrville Wright۔جنہیں ہم رائٹ برادرز کے نام سے جانتے ہیں۔
دونوں بھائی جو چیز بھی اڑتی ہوئی دیکھتے تجسس سے تکنا شروع کر دیتے۔ گھنٹوں پشت پر لیٹ کر پتنگوں کو اڑتا دیکھتے۔ چڑیوں اور کبوتروں کو اڑتا دیکھتے اوریہ بھی دیکھتے کہ کس طرح عقاب بغیر بازو ہلائے اڑتارہتا ہے۔ وہ دونوں ہوا میں اڑنا چاہتے تھے لیکن غربت کی وجہ سے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہو گئے۔


تعلیم یافتہ تھے نہیں، دیہات میں جاکر بدبودار مردہ گھوڑوں اور بھینسوں کی ہڈیاں چنتے اور انہیں کھاد کی فیکٹری میں فروخت کر دیتے۔ بعد میں وہ لوہے کے ٹکڑے چننے لگے جسے کباڑ خانے میں بیچ دیتے۔اس کے بعد انہوں نے ایک چھاپا خانہ (پرنٹنگ پریس )بنایا اور اخبارات شائع کرنے کی کوشش کی ، لیکن یہ کاروبار ناکام ثابت ہوا۔پھر انہوں نے سائیکلوں کی خریدوفروخت اور مرمت کی ایک چھوٹی سی دکان شروع کردی۔
اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کیلئے مردہ خانوں کی ہڈیاں جمع کرتے ہوئے، لوہے کے ٹکڑے چنتے ہوئے، اخبار کی پرنٹنگ کرتے ہوئے اور سائیکلوں کے ٹائروں میں ہوا بھرتے ہوئے وہ ایک خواب کبھی نہیں بھولے ….‘‘پرواز کا خواب’’…. یہ خواب کی طاقت ہی تھی جس نے 17دسمبر 1903ء کے ایک ٹھٹھرتے دن اُنہیں مشینی پتنگ میں بٹھا دیا۔


ان کی محنت اور لگن کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ دو سو سے زائد تو صرف پروں پر تحقیق کی اور بالآخر انسانوں کے ہزاروں سال پرانے خواب ‘‘ہوا میں اڑنے’’ کو یقینی بنا دیا ۔

 

 

(جاری ہے)

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

شکریہ ۔ قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں[:ur]     اس دنیا میں ہمارے پاس دوطرح ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن