روحانی ڈائجسٹ / گوشۂ ادب / عالمی ادب / تلاش (کیمیاگر) قسط 8

تلاش (کیمیاگر) قسط 8

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، حصولِ مقصد کی راہ میں حائل مشکلات، رکاوٹیں نہیں بلکہ آزمائش ہوتی ہیں، جب انسان کےدل میں کوئی خواہش سراٹھاتی ہے اور وہ کسی چیز کو پانے کی جستجو اور کوشش کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے کہ اس کی یہ خواہش پوری ہو ۔ اگر لگن سچی ہو تو خدا کی اس کائنات میں بکھری نشانیاں اِس جدوجہد کے دوران راہنمائی اور معاونت کرتی نظر آتی ہیں۔
کیمیاگر (الکیمسٹ Alchemist ) برازیلی ادیب پاؤلو کویلہو Paulo Coelho کا شاہکار ناول ہے، جس کا دنیا کی 70 زبانوں میں ترجمہ ہوا ۔ اس ناول نے فروخت کےنئے ریکارڈ قائم کرکے گنیز بک میں اپنا نام شامل کیا۔ اس کہانی کے بنیادی تصوّرات میں رومی، سعدی اور دیگر صوفیوں کی کتابوں اور فکرِ تصوّف کی جھلک نظر آتی ہے۔ 
کیمیا گر ، اندلس کے ایک نوجوان چرواہے کی کہانی ہے جو ایک انوکھا خواب دیکھتا ہے جس کی تعبیر بتائی جاتی ہے کہ اسے کوئی خزانہ ضرورملے گا ۔ وہ خزانے کی تلاش میں نکلتا ہے اور خوابوں، علامتوں کی رہنمائی میں حکمت اور دانائی کی باتیں سیکھتے ہوئے ، افریقہ کے صحراؤں میں اس کی ملاقات ایک کیمیاگر سے ہوتی ہے ، یہ کیمیا گر خزانے کی تلاش کے ساتھ انسانی سرشت میں چھپے اصل خزانے کی جانب بھی اس کی رہنمائی کرتا ہے….

آٹھویں قسط

گزشتہ قسط کا خلاصہ : یہ کہانی اسپین کے صوبے اندلوسیا کی وادیوں میں پھرنے والے نوجوان چراوہا سان تیاگو کی ہے، والدین اسے راہب بنانا چاہتے تھے مگر وہ سیاحت اور دنیا کو جاننے کے شوق میں چراوہا بن گیا۔ ایک رات وہ بھیڑوں کے گلّہ کے ساتھ ایک ویران گرجا گھر میں رات گزارتا ہے اور ایک عجیب خواب دیکھتا ہے کہ ‘‘کوئی اسے اہرام مصر لے جاتا ہے اورکہتا ہے کہ تمہیں یہاں خزانہ ملے گا۔’’ لیکن خزانے کا مقام دیکھنے سےقبل آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ دو سال تک ان بھیڑوں کے ساتھ رہتے ہوئے ان سے مانوس ہوچکا ہے۔ اب اس کی دلچسپی کا محور تاجر کی بیٹی تھی، جسے وہ گزشتہ سال ملا تھا ، اس کا ارادہ تھا کہ دوبارہ اس لڑکی سے ملے اور اسے اپنے بارے میں بتائے ۔ لیکن اس سے پہلے وہ شہر طریفا میں خوابوں کی تعبیر بتانے والی ایک خانہ بدوش بوڑھی عورت سے ملتا ہے، جو بتاتی ہے کہ جس خزانہ کی خواب میں نشاندہی کی گئی تھی وہ اسے ضرور ملے گا۔ وہ اس بات کو مذاق سمجھ کر چلا جاتا ہے اور شہر کے چوک پر آبیٹھا جہاں اس کی ملاقات خود کو شالیم کا بادشاہ کہنے والے ملکیِ صادق نامی بوڑھے شخص سے ہوتی ہے جو کہتا ہے کہ وہ خزانہ ڈھونڈنے میں اس کی مدد کرسکتا ہے ۔ پہلے تو لڑکا اُسے فراڈ سمجھا، لیکن جب وہ بوڑھا اسے وہ باتیں بتاتا ہے جو صرف وہی جانتا تھا تو اسے یقین ہوتا ہے۔ بوڑھا سمجھاتا ہے کہ ‘‘انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، جب انسان کسی چیز کو پانے کی جستجو کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے ’’۔ خزانہ کے متعلق مدد کرنے کے بدلے بوڑھا شخص بھیڑوں کا دسواں حصہ مانگتا ہے جو لڑکا اُسے دے دیتا ہے۔ بوڑھا بتاتا ہے کہ خزانہ اہرامِ مصر میں ہے اور اسے ڈھونڈنے کے لیے قدرت کے اشاروں کی زبان سمجھنا ہوگی۔ بوڑھا اُسے دو سیاہ سفید پتھر دیتا ہے کہ اگر کبھی تم قدرت کے اشاروں کو سمجھ نہیں سکو تو یہ دونوں پتھر ان کو سمجھنے میں مدد کریں گے۔ بوڑھا چند نصیحتیں کرکے بھیڑیں لے کر چلا جاتا ہے اور لڑکا ایک چھوٹے سے بحری جہاز سے افریقہ کے ساحلی طنجہ شہر کے قہوہ خانہ میں پہنچتا ہے۔ یہاں کا اجنبی ماحول دیکھ کر وہ فکرمند ہوجاتا ہے ، اسے ایک ہم زبان اجنبی ملتا ہے۔ لڑکا اس سے مصر پہنچنے کے لیے مدد مانگتا ہے۔ اجنبی بتاتا ہے کہ اس کے لیے کافی رقم درکار ہوگی۔ لڑکا اجنبی شخص پر بھروسہ کرکے رقم دے دیتا ہے ، لیکن اجنبی بازار کی گہما گہمی میں نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ رقم کھونے پر لڑکا مایوس ہوجاتا ہے لیکن پھر وہ خزانہ کی تلاش کا مصمم ارادہ کرتا ہے وہ سوچتے سوچتے بازار میں سوجاتا ہے، صبح وہ بازار میں اِدھر اُدھر گھومتا ہے اور ایک حلوائی کی مدد کرتا ہے ، حلوائی خوش ہوکر اسے مٹھائی دیتا ہے۔
اسی شہر میں ایک شیشہ کی دکان کا سوداگر پریشانی میں مبتلا تھا، تیس برسوں سے قائم اس کی ظروف کی دکان جو کبھی سیاحوں کی توجہ کامرکزتھی، اب بے رونق ہوتی جارہی تھی۔ سارا دن وہ گاہک کے انتظار میں گزاردیتا۔ اچانک دوپہر کو وہ لڑکا اس دکان پر آکر کہتا ہے کہ وہ دکان کیے شیشے اور ظروف کی صفائی کرنا چاہتاہے، بدلے میں اسے کھانا چاہیے۔ لڑکے نے صفائی مکمل کی تو شیشے کا سوداگر اسے کھانا کھلانے قریبی ہوٹل لے گیا جہاں لڑکے نے اسے بتایا کہ اسے مصر کے اہرام جانا ہے جس کے لیے وہ اس کی دکان پر صفائی کا سارا کام کرنے کو تیار ہے۔ لڑکے کی بات سن کر سوداگر بتاتا ہے کہ سال بھر کام کرنے سے بھی اتنی رقم جمع نہ ہوگی۔ لڑکا مایوس ہوجاتا ہے۔ تاجر واپس ملک لوٹنے کے لیے مدد کا کہتا ہے مگر لڑکا دکان میں کام کرنے پر راضی ہوجاتا ہے۔ لڑکے کو کام کرتے ہوئے ایک مہینہ بیت جاتا ہے تو لڑکا اندازہ لگاتا ہے کہ بھیڑیں خریدنے کے لیے اُسے کم از کم سال بھر کام کرنا پڑے گا۔ زیادہ رقم پانے اور زیادہ گاہک دکان میں لانے کے لیے وہ سڑک پر ایک شوکیس لگانے کا مشورہ دیتا ہے، پہلے تو تاجر نقصان کا خدشہ ظاہر کرتا ہے مگر پھر مان جاتا ہے ۔کاروبار میں بہتری آتی ہے۔ ، کام خاصا بڑھ جاتا ہے۔ ایک دن سوداگر لڑکے سے پوچھتا ہے کہ وہ اہرام کیوں جانا چاہتا ہے ، لڑکا بتا تا ہے کہ وہاں سفر کرنا اس کا خواب ہے۔ شیشے کا سوداگر بتاتا ہے کہ اس کا بھی خواب تھا کہ وہ مکّہ معظّمہ کے مقدس شہر کا سفرکرے، اس نے دکان کھولی ، رقم جمع کی، لیکن کوئی ایسا شخص نہ مل سکا جو اِس کی غیرموجودگی میں دکان سنبھالے۔ یوں مکّہ جانے کا خواب ، خواب ہی رہ گیا۔ لڑکا دکان کے ساتھ قہوہ کی دُکان کھولنے کا مشورہ دیتا ہے۔ تھوڑی پش و پیش کے بعد سوداگر مان جاتا ہے ۔ لوگ آنے لگتے ہیں اور کاروبار خوب پھیلنے لگتا ہے ….لڑکے کو کام کرتے گیارہ مہینے ہوئے تو اس نے شیشے کے سوداگر سے وطن واپسی کا اظہار کیا۔ بوڑھے سوداگر نے دعا کے ساتھ رخصت کیا، لڑکے نے اپنا سامان باندھا، اسے اپنا پرانا بیگ نظر آیا جس میں سے سیاہ و سفید پتھر نکلے۔ اِن دونوں پتھروں کو ہاتھ میں لینے سے اہرام پہنچنے کی خواہش پھر جاگ اٹھی ۔ اس نے سوچا کی اندلوسیا میں تو کبھی بھی واپسی ممکن ہے لیکن اہرامِ مصر دیکھنے کا موقع دوبارہ ہاتھ نہ آ سکے گا۔ اُسے یاد آیا کہ سوداگر کے پاس ایک شخص آیاکرتا تھا، جس نے تجارتی سامان کو قافلہ کے ذریعہ لق دق صحرا کے پار پہنچایا تھا۔ وہ اس شخص کے گودام جاتا ہے۔ گودام کی ٹوٹی پھوٹی عمارت میں انگلستان کا ایک باشندہ بیٹھا تحقیقی جرنل کی ورق گردانی کررہا تھا۔ اس نے پوری زندگی کو ایک ایسی زبان کی جستجو کے لیے وقف کر دیا جو صحیح معنی میں کائنات کی زبان ہو۔ اب وہ کیمیا گری سیکھنا چاہتا ہے لیکن اسے کامیابی نہ ملی۔ ایک دوست کی زبانی عرب کے ریگستان میں مقیم ایک بوڑھے عرب کیمیاگر کا تذکرہ سُن کر انگلستانی باشندہ اس سے ملنے کو بے قرار ہوگیا اور یونیورسٹی کی نوکری چھوڑ کر انگلستان سے رختِ سفر باندھا اور الفیوم پہنچے کے لیے وہ یہاں آپہنچا۔ اِسی گودام میں اس کی ملاقات اس نوجوان لڑکے سے ہوتی ہے۔ انگلستانی باشندہ سے گفتگو کے دوران اوریم اور تھومیم پتھروں ، غیبی اشارہ او رکائناتی زبان کا ذکر سن کر لڑکے کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوا۔گفتگو کے دوران لڑکے کی زبان سے نکل کہ وہ خزانہ کی تلاش میں ہے، لیکن شاید انگریزی باشندے کو خزانے میں کچھ دلچسپی نہ تھی ۔ اسےتو کیمیا گر کی تلاش تھی۔ اتنے میں گودام کے مالک کی آواز آئی کہ صحرائی قافلہ روانگی کے لیے تیار ہے…. اب آگے پڑھیں …………

….(گزشتہ سے پوستہ)

 

 

‘‘سنو!….’’ایک آواز بلند ہوئی۔ وہ گہری سیاہ آنکھوں والا ایک باریش بوڑھا عرب تھا۔
‘‘میں ہی اس قافلہ کا سردار اور اس سفر میں تمہارا راہنما ہوں۔’’
پھر اس نے کہا:
‘‘میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو اِس قافلے میں میرے ساتھ شریک ہے یہ جان لے کہ اُس کی زندگی اور موت گویا اب میرے رحم و کرم پر ہے۔ یہ صحرا …. پل میں تولہ پل میں ماشہ کے مترادف ہے، ایسا سمجھ لو کہ یہ ایک متلوّن مزاج عورت کی مانند ہے جو اکثر مردوں کے ہوش اُڑا دیتی ہے، چنانچہ اس سفر میں ہوشیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔’’
اِس قافلہ میں شامل ہونے کے لئے قریب قریب کوئی دو سو لوگ جمع تھے اور اُن کے ساتھ تقریباً چار سو جانور بھی تھے جن میں اونٹ، گھوڑے، خچّر اور مختلف پرندے بھی تھے۔ اس قافلہ میں عورتیں اور بچے بھی تھے۔ بہت سے مردوں کے کندھوں پر بندوقیں لٹکی ہوئی تھیں اور کمر میں تلواریں اُڑسی ہوئی تھیں۔
انگلستانی باشندہ اپنے ساتھ کئی صندوق لایا تھا جن میں کتابیں بھری ہوئی تھیں۔
قافلے میں لوگوں کے شور وغل کا ایک حشر بپا تھا جس کی وجہ سے کاروان کے سالار کو اپنی بات سب تک پہنچانے میں دقت ہورہی تھی ، اسی لئے سالار کو کئی بار اپنی بات دہرانی پڑرہی تھی ۔وہ بار بار کہہ رہا تھا
‘‘‘سنو !…. یہاں ا س کاروان میں ہر طرح کی نسل، زبان اور مختلف عقیدہ رکھنے والے افراد شامل ہیں اور ہر ایک اپنے خدا پر یقین رکھتا ہے میں ‘‘اللہ’’ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں کہ اِس ریگستان کو کامیابی سے پار کرنے کی میں ہر ممکن کوشش کروں گا…. ساتھ ہی ساتھ آپ لوگ بھی اپنے اپنے خدا کی قسم کھا کر عہد کریں کہ اِس دوران کسی حال میں میرے احکام سے سرتابی نہ کریں گے۔
یاد رکھو! ریگستان میں نافرمانی اور حکم عدولی کا دوسرا نام موت ہے۔’’
ہجوم میں بھنبھناہٹ سی ہونے لگی۔ ہر فرد زیرلب اپنے اپنے خداسے عہد کر رہا تھا۔ لڑکے نے دِل ہی دِل میں عیسائی عقیدے کے مطابق دُعا کی ۔ البتہ انگلستانی باشدے نے کچھ بھی نہ کیا۔ بھنبھناہٹ کچھ دیر تک جاری رہی۔ یہ محض کوئی عہد نہ تھا بلکہ لوگ دعا کر رہے تھے کہ وہ اس سفر میں ہر طرح کی مصیبت سے محفوظ رہیں اور خیریت سے اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔
بگل بجایا گیا اور پھر ہر شخص اپنی اپنی سواری پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ لڑکے اور انگلستانی باشندے نے باربرداری کے لیے پہلے ہی اونٹ خرید لئے تھے۔ یہ دونوں بھی تذبذب کے ساتھ غیر یَقینی طور پر اونٹوں پر بیٹھنے لگے ۔ شاید وہ دونوں زندگی میں پہلی مرتبہ اونٹوں پر بیٹھ رہے تھے ۔ بیٹھتے وقت ان کے انداز میں وہ خود اعتمادی نہ تھی جیسی عادی اونٹ سواروں میں ہوتی ہے۔
لڑکے کو انگلستانی باشندے کے اونٹ کو دیکھ کر ترس آ رہا تھا، جو اس کی کتابوں سے بھرے صندوقوں کے بوجھ سے دبا جا رہا تھا ۔
سفر کے آغازسے پہلے گودام میں انگلستانی باشندہ جس موضوع پر لڑکے سے گفتگو کر رہا تھا، وہیں سے پھر شروع کرتے ہوئے بولا،
‘‘اتفّاق نام کی کوئی چیز دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ میں آج یہاں اِس لئے ہوں کہ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا تھا کہ ایک عرب….’’
اس دوران کاروان چلنے لگا تو انگریز کی بات سنّا ممکن نہ رہا، لیکن لڑکا یہ تو جان ہی گیا کہ انگریز جو بات بتانے جا رہا تھا اُس کا تعلق واقعات کے اسباب اور وقوعوں کے درمیان کی پراسرار کائناتی قوت کی کڑیوں سے ہے جس کے متعلق اس بوڑھےبادشاہ نے بتایا تھا کہ

‘‘یہ پُراسرار قوت انسانی تقدیر کے مقصد کے حصول کو بروئے کار لانے میں بڑی معاون ہے۔ یہ قوت مقدّر کے حصول کے لئے روح کو جِلا دیتی ہے اور خواہشات و قوتِ ارادی کو بیدار کرکے اُس کی آبیاری کرتی ہے۔ ’’
مثلاً وہ چرواہا کیوں بنا؟…. اُسے ہی بار بار وہ خواب کیوں دکھائی دئیے؟ …. وہ افریقہ کی اِس سرزمین پر کیوں آیا ؟…. بادشاہ سے ملا اور اُس کا مال لُٹا اور پھر اُس کی ملاقات شیشے کے سوداگر سے ہوئی وغیرہ وغیرہ۔
‘‘جیسے جیسے کوئی اپنے مقدّر کو حاصل کرنے کے قریب ہو تا جاتا ہے، وہ مقدّر اُس کے وجود کا جواز فراہم کرنے لگتا ہے۔ ’’ لڑکے نے سوچا۔
***


قافلے نے مشرق کی سمت رُخ کرکے سفر شروع کردیا۔ صبح کے وقت سفر جاری رہا لیکن جب سورج کی تمازت بہت بڑھ گئی تو سفر روک دیا گیا۔ سہہ پہر میں سفر دوبارہ شروع کر دیا گیا۔ اس دوران لڑکے کی انگلستانی باشندےکی بات چیت کم ہی ہوئی۔ انگلستانی باشندہ زیادہ تر اپنی کتابوں میں منہمک رہا۔
کارواں خاموشی سے رواں دواں تھا۔ لڑکا دلچسپی اور خاموشی کے ساتھ ریگستان میں جانوروں کے چلنے کے انداز اور اپنے ارد گر مختلف زبان اور نسل کے لوگوں کا مشاہدہ کرتا رہا۔
سفر کے آغاز سے پہلے اور دورانِ سفر کتنا فرق تھا۔اُس وقت ہنگامہ تھا۔ جب سفر کی تیاری ہورہی تھی عورتوں اور بچّوں کی آوازیں تھیں یا جانوروں کا شور، تاجروں کی آپس میں بات چیت اور سفر کے راہبروں کے احکام یہ سب مل کر ایک ہنگامہ بپا کئے ہوئے تھے۔
لیکن اب ریگستان نے منظر بالکل بدل دیا تھا۔ صحرا کے ہوا کی سنسناہٹ اور اونٹوں کے پیروں کی آوازوں کے سوا کوئی اور آواز نہ تھی۔ یہاں تک کے راہبر اور ساربان بھی دن کے وقت زیادہ تر خاموش ہی تھے۔ ایک رات کسی ساربان نے دوسرے سے کہا:
‘‘میں اس ریتیلے ٹیلوں سے کتنی ہی بار گزرا ہوں…. لیکن یہ صحرا * اتنا وسیع اور اس کا نظر آنے والا اُفق اتنا دور ہے کہ آدمی اس صحرا میں خود کو بہت ہی حقیر محسوس کرنے لگتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صحرا کی ہیبت سے ہر کوئی خاموشی سے سفر کرتے رہنے ہی میں اپنی عافیت جانتا ہے۔
لڑکے اپنے وجدان سے سمجھ رہا تھا کہ ساربان کی باتوں کا مطلب کیا ہے، حالانکہ وہ اِس سے قبل کبھی کسی ریگستان سے نہیں گزرا تھا لیکن جب بھی وہ کسی سمندر کو دیکھتا یا کہیں آگ پر نظر پڑتی تب بھی اُس پر خاموشی خود بخود طاری ہو جاتی تھی۔ جیسے ان عظیم قوتوں کی ہیبت اُسے دم بخود کردیتی ہو۔
لڑکا سوچتا رہا ‘‘میں نے بھیڑوں سے بہت سی باتیں سیکھیں اور پھر شیشوں کی دُکان پر بھی میرے علم میں اضافہ ہوا ۔ اسی طرح یہ عظیم اور وسیع و عریض ریگستان جو سب سے عمر رسیدہ اور دانش مند نظر آتا ہے میں اِس سے بھی بہت کچھ حاصل کرسکتا ہوں ’’۔
ہوا مسلسل چل رہی تھی۔ اس کی رفتار میں ذرا بھی کمی نہ آرہی تھی۔ لڑکے کو وہ دن یاد آگئے جب وہ شہر طریفا کے قدیم قلعہ پر ایک بار بیٹھا ہوا تھا اور یہی ہوا اُس کے چہرے سے ٹکرا کر اپنے قوی وجود کا احساس دلا رہی تھی۔ اُس خیال نے اُسے اپنی بھیڑوں کی یاد دلا دی کہ وہ کیسے ان سے اون نکالتا تھا۔ اس کی بھیڑیں اب اندولسیا کے میدانوں میں پانی اور چارے کی تلاش میں سرگرداں ہوں گی۔
‘‘اب وہ بھیڑیں میری نہیں۔’’ اُس نے اپنے آپ سے یہ کہا ضرور لیکن اب اُس کے دِل میں ماضی کی حسرت ناک یادوں کی کسک باقی نہ تھی۔’’ وہ بھیڑیں اب تو اپنے نئے مالک چرواہے کی عادی ہو گئی ہوں گی۔ مجھے تو وہ کب کا بھول چکی ہوں گی، اور یہ ایک طرح سے اچھا ہی ہے، بھیڑ جیسی مخلوق کا کام بس چلنا اور چلتے رہنا ہی ہے۔ اُنہیں بس اُسی سے سروکار رہنا بھی چاہیے۔
یکایک خیالات کا بہاؤ تاجر کی لڑکی کی طرف مڑگیا۔ ایک سال گزرچکا ہے۔ اب تو اُس کی شادی بھی ہوچکی ہو گی۔ ممکن ہے کہ اُس کے باپ نے اُسے کسی نانبائی سے بیاہ دیا ہو یا پھر ایسے چرواہے سے جو پڑھ بھی سکتے ہوں اور پُر لطف کہانیاں بھی سنا سکتے ہوں …. ظاہر ہے اس دنیا میں وہ ہی تو اکلوتا پڑھا لکھا چرواہا نہیں ہوں۔
لیکن ان سب ماضی کی حسرتوں کے پرے اسے اس بات پر زیادہ خوشی ہورہی تھی کہ کس طرح ساربان کی باتوں کو اُس کے وجدان نے بآسانی سمجھ اور ذہن نشین کر لیا تھا۔ یہ یقیناً حیرت انگیز بات تھی۔ اُسے لگ رہا تھا کہ شاید وہ اب اُس کائناتی زبان کو سیکھنے لگا ہے جس کے ذریعہ لوگوں کے ماضی اور حال کا احاطہ کرنا ممکن ہے۔ جس طرح وہ بوڑھا بادشاہ میرے ماضی سے واقف تھا۔
اب اُس لڑکے کی سمجھ میں یہ بات آ رہی تھی کہ کائناتی زبان کو سمجھنے والا یہ وجدان تب جنم لیتا ہے جب انسانی روح، زندگی کی کائناتی لہروں میں غوطہ زن ہونے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ کیونکہ ان ہی کائناتی لہروں میں ہر انسان کا ماضی حال اور مستقل موجود ہے ۔ اِس لیے وجدان کے ذریعہ وہ سب معلوم ہو سکتا ہے جو اِس میں لکھا ہوتا ہے۔
‘‘مکتوب’’ (یعنی پہلےسے لکھا ہوا) لڑکے کی زبان سے نکلا اور خیال کی یہ لہر اُسے شیشے کے سوداگر کی طرف لے گئی۔

***

* شمالی افریقہ کے اس عظیم ریگستان کا نام صحارا ہے، انگریزی میں اسے Sahara کہا جاتا ہے جو دراصل عربی لفظ ‘‘صحرا’’ سے ماخوذ ہے۔صحرائے اعظم   ‘‘صحارا ’’ کا شمار دنیا کے عظیم ترین صحراؤں میں ہوتا ہے جہاں لاکھوں مربع کلو میٹر کے علاقے میں صرف ریت اڑتی دکھائی دیتی ہے، اندازا لگایا جاتا ہے کہ صحارا کا کل رقبہ 92 لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو تقریبا امریکہ کے کل رقبے کے برابر ہے۔   یہ  براعظم افریقا کے بارہ ممالک  الجیریا، چاڈ، مصر، لیبیا، مالی، ماریطانیہ، نائجیر، مغربی صحارا، سوڈان، ارتریا اور تیونس کے وسیع علاقے پر پھیلا ہوا  ہے۔   لق دق صحرائے اعظم مغرب میں بحر اوقیانوس، ماریطانیہ اور سپین کی سرحدوں تک چلا جاتا ہے۔   شمال میں کوہ اطلس اور بحیرہ روم، مشرق میں بحیرہ احمر اور مصر اور جنوب میں دریائے نائجر کی وادی اور سوڈان واقع ہیں۔  اکثر لوگ صحارا کو ریت کا ایک نہ ختم ہونے والا سمندر سمجھتے ہیں۔ جس میں اڑتی ہوائیں اس ریٹ کو ٹیلوں میں تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ درحقیقت ہوا جس انداز میں ریت کو ٹیلوں میں تبدیل کرتی ہے۔ اس سے یہ ایک حسین منظر بن جاتا ہے۔ یہ ٹیلے 755 فٹ کی بلندی تک ہوتے ہیں۔ ان کی اشکال بھی مختلف ہوتی ہیں۔  صحارا بالکل چٹیل بھی نہیں ہے اس میں کہیں کہیں پودے بھی اگتے ہیں۔ ایسے پودے جو صحرا میں پرورش پاسکتے ہیں اور جنہیں زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔  کہیں کہیں کھجور کے درخت،   کیکر اور مختلف قسم کی جھاڑیاں پائی جاتی ہیں۔ یہاں عام طور پر ایسے کیڑے ہوتے ہیں جو زمین کھود کر اپنا گھر بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے جانوروں میں ایک خاص قسم کا کینگرو اور ہرن بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقہ ہمیشہ سے ہی ایک ریگستان نہیں تھا۔ اس کے موسم میں مختلف ادوار میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔  آثار قدیمہ کے ماہرین کو یہاں ایسے آثار ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے یہاں کبھی  ایک بہت طویل جھیل بھی ہواکرتی تھی۔ بے آب و گیاہ اس صحرا میں یوں تو زندگی کا تصور خام خیالی محسوس ہوتا ہے لیکن یہاں صدیوں سے خانہ بدوش آباد ہیں۔ صحارا کی کل آبادی تقریباً 25 لاکھ افراد پر مشتمل ہے، جن میں اکثریت مصر، ماریطانیہ، مراکش، اور الجزائر کے افراد کی ہے، صحارا میں آباد باشندوں کی زیادہ تر تعداد بَربَر اور مورش  نَسل سے تعلق رکھتی ہے۔   زمانہ قدیم میں صحارا کے رہنے والے اونٹ، بھیڑ بکریاں پالتے اور ان سے ہی اپنی گزر بسر کیا کرتے تھے۔ طاقتور قبیلے ہی صحرا پر حکمرانی کرتے۔ نخلستانوں کا تمام انتظام اپنے ہاتھ میں رکھتے اور صحرا سے گزرنے والے قافلوں سے تمام کاروبار کرتے۔   صحارا کا علاقہ صدیوں سے قافلوں کے لیے گزرگاہ بنا ہوا ہے۔صدیوں تک صحارا کا راستہ ہی ایسا ذریعہ تھا جس سے گزر کر افریقہ کے باشندے افریقہ کی شمالی بندرگاہوں تک پہنچتے اور اپنے ساتھ سونا، ہاتھی دانت اور نمک لاتے اور اس کی تجارت کرتے تھے۔

***
ریگستان میں زیادہ تر تو ریت ہی ریت پھیلی ہوئی ہے البتہ کہیں کہیں راستہ پتھریلا ہو جاتا تھا۔ جب راستہ میں کوئی بڑی چٹان آ جاتی تو کاروان کو راستہ کاٹ کر گزرنا ہوتا۔ لیکن اگر چٹان پہاڑی جتنی بڑی ہوتی تو پھر خاصا بڑا چکّر کاٹ کر راستہ ملتا۔ اِسی طرح اگر ریت بہت باریک یا زمین نرم اور دھنسنے والی ہوتی اور اونٹ اُس میں چل نہ پاتے تو بھی کوئی دوسرا ایساراستہ تلاش کیا جا تا، جہاں زمین قدرے ٹھوس ہو۔
بعض مقامات پر زمین پر نمک کی ایک طویل تہہ جمی ہوئی ہوتی ہے جو دراصل ان خشک شدہ جھیلوں کا نمک ہے جو کبھی یہاں موجود تھیں۔ نمک کے راستوں پر اونٹ اکڑ کر اینٹھ جاتے ہیں اور آگے چلنے کو تیارٍ نہیں ہوتے، ایسے میں ساربان اونٹوں پر وزن کم کرنے کے لیے اونٹ پر لدا ہوا سامان اُتار دیتے۔ ساربان ایسے مواقع پر خود ہی سارا سامان ڈھوتے اور جب یہ نمکین راستہ ختم ہو جاتا تب وہ سامان دوبارہ پھر اونٹوں پر لاد دیتے ۔
ان قافلوں کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ دورانِ سفر اگر قافلے کا راہبر اور سردار بیمار ہو جاتا ہے یا اُس کی موت ہوجاتی تو سارے ساربان مل کر قرعہ اندازی کے ذریعہ دوسرے راہبر کا انتخاب کرتے ہیں۔
ان سب باتوں کا ایک ہی نتیجہ نکلتا تھا وہ یہ کہ چاہے راستہ میں کتی ہی رکاوٹیں آتی رہیں۔ کتنی ہی دفعہ راستہ تبدیل کرنا پڑے۔ لیکن قافلہ اپنی منزل کی طرف گامزن رہنا چاہیے ،قافلے کی سمت منزل کی طرف ہی تھی اور اتنے وسیع صحرا منزل کا تعیّن صرف ستارے*کے رُخ سے کیا جاتا۔ جب صبح کے آسمان پر وہ تارہ چمکتا نظر آتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ وہ اُسی راستہ پر گامزن ہیں جہاں پانی، کھجور کے درخت ، محفوظ سائے اور انسانی آبادی موجود ہے۔ صرف انگلستانی باشندہ ہی تھا جسے صحرا اور اس کے راستوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی وہ زیادہ وقت اپنی کتابیں میں ہی غرق رہتا تھا۔
کتاب تو لڑکے کے پاس بھی تھی اور سفر کے ابتدائی چند دنوں میں اُس نے ایک آدھ بار پڑھنے کی کوشش بھی کی لیکن اُسے صحرا اور قافلہ کا نظارا دیکھتے رہنے اور ریگستانی ہوا کی آوازوں کو سننے میں زیادہ دلچسپی تھی۔جب وہ اپنے اونٹ کی عادات سے واقف ہو گیا اور اُس سے ایک قسم کا رشتہ قائم ہو گیا تھا جیسا اس کا اپنی بھیڑوں کے ساتھ تھا۔ تو پھر اُسے کتاب میں مزہ نہ آیا اور اُس نے اُسے بند کر کے ایک طرف رکھ دیا۔ ویسے بھی کتاب کے بارے میں اُسے یہ وہم تو ہو گیا تھا کہ جب بھی وہ کتاب کھولتا ہے تو کوئی نہ کوئی نئی بات اُسے معلوم ہوتی ہے لیکن راستہ اور سفر کی دلچسپیوں کے سامنے یہ کتاب اُسے محض ایک غیر ضروری بوجھ محسوس ہورہی تھی۔

***

* قدیم زمانے میں اور آج بھی صحرا  اور سمندر کے سفر کے دوران  ستاروں کے ذریعے راستے معلوم کیا جاتا ہے۔      سمت شناسی کے ستاروں میں سے قطبی ستارہ (جسے North Star یا Polaris بھی کہتے ہیں) زمین کی شمالی جانب کی نشاندہی کرتا ہے، قطب تارہ بظاہر ساکن رہتا ہے  جس کی وجہ سے شمال کے رخ کا تعین ہوجاتا ہے ۔  لیکن  آسمان  میں قطب ستاروں کو کیسے پہچانا جائے، اس کے لیے ستاروں کے ایک جھرمٹ  دب اکبر     Usra Major سے مدد لی جاتی ہے۔  دب اکبر   شمال کی طرف آسمان پر سات ستاروں کا ایک جھرمٹ ہے۔  اس کی شکل ہل یا چمچہ کی طرح ہے ، دب اکبر کے ساتوں ساتوں ستارے  چوبیس گھنٹوں میں  اینٹی کلاک وائزAnticlock wise قطب ستارہ کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں۔  اس جھرمٹ  میں پہلے دو ستارے ہمیشہ قطب ستارہ کی سیدھ میں رہتے ہیں، اس لیے ان دو ستاروں کے درمیانی فاصلے کو اگر پونے پانچ گنا بڑھا دیا جائے تو قطب تارے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

 

 

 

(جاری ہے)
***

تحریر : پاؤلو کویلہو ; ترجمہ: ابن وصی
(جاری ہے)

 
اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

تلاش (کیمیاگر) قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں دوسری قسط ….(گزشتہ سے پوستہ) دُور فلک پر ...

تلاش (کیمیاگر) قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں پہلی قسط اندلس ، براعظم یورپ کے جنوب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن