[miniorange_social_login apps="google" shape="longbuttonwithtext" view="horizontal" theme="default" space="10" width="200" height="35" color="000000"] یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے

لڑکا ہی پیدا ہو….

کیاکسی طریقے سے نرینہ اولاد حاصل کی جاسکتی ہے….؟
اولاد نرینہ کے خواہش مند افراد کے لیے خصوصی تحریر….

 

اولاد کی خواہش ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے ہاں اولاد پیدا ہو اور اس کا نام لینے والا اس وقت دنیا میں موجود رہے جب وہ خود دنیا میں موجود نہ ہو۔ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں اکثر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے ہاں پہلی اولاد لڑکا ہو۔
بیٹے کی خواہش میں لوگ خصوصاً خواتین طرح طرح کے جتن بھی کرتی ہیں۔
اولاد نرینہ کی یہ خواہش ضد پکڑ جائے تو انسان کو بہت سارے غلط فیصلے کرنے پر بھی اکسا دیتی ہے۔ لڑکے کی خواہش میں کئی لوگ دھن دولت بھی خوب خرچ کرتے ہیں۔ کئی مرد دوسری شادیاں بھی اس وجہ سے کرتے ہیں۔
اولاد نرینہ کا پیدا نہ ہونا کئی خواتین کے لئے باعث طعنہ بن جاتا ہے۔ جن کے ہاں بیٹیاں زیادہ ہوتی ہیں ایسے بعض گھروں میں بیویوں اور بہوؤں پر ظلم کے پہاڑ بھی توڑ دئیے جاتے ہیں۔ اُن کا ذہنی سکون تباہ اور ان کی زندگی اجیرن کردی جاتی ہے، جس کا اثر پورے گھر پر پڑتا ہے۔
بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں ہی قدرت کا انمول تحفہ ہیں، قدرتی طور پر بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کے امکانات تقریباً برابر ہی ہوتے ہیں البتہ بعض ایسے عوامل ضرور ہیں جو کسی ایک امکان کو دوسرے کی نسبت بڑھادیتے ہیں۔
اس مضمون میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ کون سے امکانات یا عوامل ہیں جو نرینہ اولاد کا سبب بنتے ہیں۔
کیا کسی طریقے سے والدین اپنی مرضی کی اپنی اولاد کی جنس کا تعین کرسکتے ہیں….؟

تخلیقی پراسس اور جنس کا تعین:
اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار جسم کے اندر ری پروڈکشن کا پورا پراسیس ابتداء ہی سے رکھ دیا ہے اس نظام کے ذریعے وہ اپنی نسل کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اس ری پروڈکشن کے عمل سے ہر نوع میں نر اور مادہ کی پیدائش ہوتی ہے لیکن نر یا مادہ کا انتخاب کسی بھی نوع کے اختیار میں نہیں ہوتا یعنی کوئی بھی استقرار حمل کے دوران بائی چوائس اپنی پسند سے جنس کا تعین یعنی بیٹی یا بیٹا کا انتخاب نہیں کر سکتا۔ سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بچے کی پیدائش میں جنس کے تعین میں طبی طور پر خواتین کا کوئی کردار نہیں ہوتا، پیدا ہونے والے بچے کی جنس کے تعین میں مردوں میں موجودکروموسومز ہی اہم کردار اداکرتے ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ کسی بھی انسان کا جینوم (خواہ وہ مرد ہو یا عورت) کروموسومز کے 23 جوڑوں سے مل کر بنتا ہے۔ ان میں سے آخری یعنی 23 واں جوڑا، مرد یاعورت کا تعین کرتا ہے۔ مرد میں کروموسومز کا یہ جوڑا، X اور Y کروموسوم پر مشتمل ہوتا ہے۔عورت میں کروموسومز کے اس جوڑے میں دونوں کروموسومزX ہوتے ہیں۔


نئی نسل (بچے) کی تخلیق اور اس کی جنس کا تعین کرنے کے لئے تخلیقی سرگرمی کے وقت ایک کروموسوم ماں کی طرف سے اور ایک کروموسوم باپ کی طرف سے آتا ہے۔ اس دوران اگر X اورY کروموسوم ملتے ہیں تو لڑکا پیدا ہوگا، XاورX کروموسوم کے ملاپ سے لڑکی پیدا ہوگی۔
واضح رہے کہ عورت کے پاس صرف X کروموسوم ہوتا ہے۔ جبکہ مرد کے پاس X اور Y دونوں کروموسومز ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ بات طے شدہ ہے کہ ماں کی طرف سے صرف X کروموسوم ہی آسکتا ہے جبکہ باپ کی طرف سے X اور Y، دونوں میں سے کوئی بھی ایک کروموسوم آنے کے مساوی امکانات ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں کی اس تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ قدرتی طور پر بھی لڑکے یا لڑکی کی پیدائش کے لئے ماں پر ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی، بلکہ جنس کے تعین میں باپ کی طرف سے آئے ہوئے X یاY کروموسوم ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ قدرت کے نظام میں لڑکی یا لڑکے کی پیدائش میں مرد اہمیت رکھتا ہے۔

مردانہ کروموسوم:
بیٹے کی پیدائش کا انحصار مرودں کے Y کرموسومز پر ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے اولادِ نرینہ سے محرومی کی ذمہ داری عورت پر نہیں بلکہ مرد پر عائد ہوتی ہے۔ اگر مرد کے جسم میں یہ کروموسومز کمزور ہوں یا کسی وجہ سے عورت کے کروموسومز سے مل نہ پائیں تو بیٹے کی پیدائش ممکن نہیں ہے، خواہ اُس مرد کی کتنی ہی شادیاں کیوں نہ کروادی جائیں۔


اولاد میں تاخیر ہورہی ہو تو سب سے پہلے ضروری ہے کہ مرد اپنی تولیدی صحت کا جائزہ لے۔ اولاد میں تاخیر یا ثانوی بانجھ پن (Secondary Infertility) کے مسئلہ پر عموماً مرد علاج کرانے سے کتراتے ہیں۔ مرد کی یہ ہچکچاہٹ بسا اوقات صحیح تشخیص میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے ۔ اکثر اوقات یہ ایک قابل علاج معاملہ ہوتا ہے۔ صحت کی جانچ پڑتال اور چند معمولی ٹیسٹ کے بعد ، غذا، دوا اور طرز زندگی میں کچھ تبدیلی سے اس مسئلہ کا حل ممکن ہے۔

اچھی غذا اور بیٹے کی پیدائش
جن لوگوں کے ہاں اولاد تو وقت پر ہورہی ہے لیکن بیٹیاں زیادہ پیدا ہورہی ہوں یا پہلی اولاد میں بیٹا ان کی زیادہ خواہش ہو، بعض ماہرین کہتے ہیں کہ انہیں اپنی غذا پر توجہ دینی چاہیے۔ اولادِ نرینہ کے جرثوموں کو تقویت دینے کے لئے بعض غذائیں مفید بتائی جاتی ہیں۔


حکماء کے مطابق بند گوبھی کا استعمال مرد میں اولادِ نرینہ کے جرثوموں کو تقویت دینے کے لئے مفید ہے۔ حمل کے قیام سے پہلے مرد کو کچھ عرصے روزانہ بند گوبھی کچی، سلاد کی صورت میں یا کسی بھی حالت میں استعمال کرنامفید بتایا جاتا ہے۔ بند گوبھی کی قسم کی دیگر سبزیوں کے ساتھ ساتھ ہری پتے دار سبزیاں بروکلی ، ایسپریگس Asparagus، پالک ، سویابین، ایووکیڈو، کیلا، کھٹی چیری، انجیر۔ ناریل، زیتون، السی اور تل کا تیل ، بادام، بادام کا مکھن جیسی غذائیں استعمال کی جانی چاہئیں ۔
ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خشک میوہ جات کھانے سے سپرم کی صحت میں بہتری آتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جن مردوں نے 14 ہفتوں تک روزانہ اخروٹ، بادام اور ہیزل نٹ کھائے ان کے سپرم کی تعداد اور ساتھ ہی سپریم کے تیرنے کی طاقت میں بھی اضافہ ہوا۔ مردوں میں سپرم کی تعداد میں کمی کی وجہ آلودگی، سگریٹ نوشی اور غیر صحت مند خوراک بھی بتائی جاتی ہے۔
حمل سے قبل خواتین کس قسم کی غذا استعمال کرتی ہیں، یہ بھی اسی نوعیت کاایک اہم عامل ہے۔
اس ضمن میں ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ جن غذاؤں میں سوڈیم اور پوٹاشیم زیادہ ہوتا ہے وہ لڑکے کے حصول میں زیادہ مددگار ہوتی ہیں۔ ان غذاؤں میں سبز پتوں والی سبزیاں، مکمل اناج، گوشت، مکئی اور بلوبیری وغیرہ شامل ہیں۔ جن غذاؤں سے پرہیز بہتر ہے ان میں مٹھائیاں، گولی ٹافی، گھر میں بنے یا بازاری میٹھے کھانے، اور کیک وغیرہ شامل ہیں۔
ایک سائنسی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ باقاعدہ ناشتہ کرنے والی اور معمول میں زیادہ کیلوری کی غذا کھانے والی خواتین کے ہاں بیٹے کی پیدائش کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ تحقیق برطانیہ میں ایگزیٹر یونیورسٹی اور اوکسفورڈ یونیورسٹی نے کی ہے اور اس کی تفصیل رائل سوسائٹی کے سائنسی جریدے ‘‘بائیولوجیکل سائنس’’ میں شائع کی گئی۔
اس تحقیق میں برطانیہ میں پہلی بار ماں بننے والی 740 خواتین کا حمل سے پہلے اور حمل کے ابتدائی مراحل میں خوراک کے ریکارڈ پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس گروپ میں سے چھپن فیصد خواتین کے ہاں بیٹا ہوا۔ یہ وہی خواتین تھیں جو زیادہ کیلوری اور غدائیت سے بھرپور کھانا کھا رہی تھیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جن خواتین کے ہاں بیٹا ہوا وہ باقاعدہ ناشتہ کرتی تھیں اور ان کی غذا میں مختلف وٹامن اور معدنیات شامل تھیں۔ان میں پوتاشیئم، کیلشیئم، وٹامن سی اور وٹامن بی اہم تھے۔
آئی وی ایف (IVF) in-vitro fertilization کے متعلق تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جسم میں گلوکوز کی زیادہ مقدار سے لڑکوں کے زیادہ اور لڑکیوں کے پیدا ہونے کے کم امکانات ہوتے ہیں۔ ناشتہ نہ کرنے والی خواتین میں گلوکوز کی مقدار گر جاتی ہے۔اس جائزے میں ناشتہ کرنے والی بیشتر خواتین صبح دودھ کے ساتھ ہائی انرجی سیرئیل، کھاتی تھیں ۔محققین کہتے ہیں کہ اس سے تولیدی صحت میں دلیا اور اجناس کی غذائی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
شیفیلڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایلن کیسی کا کہنا ہے کہ شاید اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں لڑکوں کی شرح پیدائش میں کمی ہو رہی ہے کیونکہ ان ممالک میں کئی خواتین اپنا وزن کم رکھنے کے غرض سے کیلوری کملیتی ہیں اور باقاعدہ ناشتہ بھی نہیں کرتیں۔

بہترین وقت کا دھیان رکھیں
میڈیکل سائنس کے مطابق بیضہ ریزی Ovulation کے وقت ایک انڈہ کسی ایک بیضہ دانی سے نکل کر متعلقہ نالی میں آجاتا ہے۔ دوسری طرف سے مرد کا اسپرم آتا ہے۔ دونوں کے ملاپ سے حمل ٹھہرجاتا ہے۔ ایک ماہ میں یعنی ایام ختم ہونے کے بعد اگلی بار ایام شروع ہونے تک عام طور پہ ایک بار بیضہ بنتا اور خارج ہوتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق Y کروموسوم تیزی سے تیر سکتا ہے، لیکن x میں زیادہ برداشت اور استقلال ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر خاتون کا بیضہ اور مر دانہ اسپرم چار سے چھ گھنٹے تک قریب رہیں تو حمل ٹھہرنے اور لڑکے کی پیدائش کے امکانات کے لیے مناسب وقت مانا جاتا ہے۔
کیلنڈر یا موبائل اپلی کیشن کی مدد سے خواتین اپنے ماہانہ سائیکل کا حساب لگاسکتی ہیں۔ اگر ایک خاتون کی ماہواری کا سائیکل 28 دن کا ہو تو گیارہویں دن سے چودہویں دن کے ایام میں بیضہ خارج ہو تا ہے۔ اس لئے ڈاکٹرز عام طور پہ میاں بیوی کو فطری ایام ختم ہونے کے بعد 7 ساتویں دن سے لیکر 20 بیسویں دن کے عرصے میں قربت کو مفید سمجھتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کے مطابق جس دن خواتین کا بیضہ خارج ہوتا ہے اس روز ان کے جسم کا درجہ حرارت کچھ بڑھ جاتا ہے۔ حمل کے لیے مناسب وقت گزرنے کے بعد جسم کا درجہ حرارت پھر سے نارمل ہو جاتا ہے۔ تھرمامیٹر سے روزانہ صبح کا درجہ حرارت نوٹ کیا جاسکتا ہے ۔ اس چارٹ میں جس دن جسم کا درجہ حرارت اعشاریہ دو درجہ یا اس سے زائد بڑھا ہوا ہو تو وہ حمل قرار پانے کے لیے دن مفید سمجھا جاتا ہے ۔

بڑھتے چاند کی تاریخ
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ رحم مادر میں جنین کی جنس کے تعین میں چاند کی تاریخوں کا عمل دخل بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چاند کی گیارہ تاریخ سے لے کر چودھویں کی رات تک صنف نسواں میں مردانہ جرثومے Y کی قبولیت کی استعدادبڑھ جاتی ہے۔اگر خاتون میں بیضہ ریزی (Ovulation Dates) کی مطابقت ہو تو قمری مہینے کی 14 تاریخ کو جنین کی جنس یعنی نرینہ ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چاند کی بدلتی تاریخوں کا اثر جنین کی صنفی نشوو نما پر بھی پڑتا ہے۔
کیلیفورنیا میتھوڈسٹ ہاسپٹل کے کنٹرولر ڈاکٹر کرٹس جیکسن نے چھ سال کے دوران گیارہ ہزار سے زیادہ بچوں کی پیدائش کی رپورٹس کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بڑھتے چاند کی تاریخوں میں قرار پانے والے حمل میں زیادہ تر لڑکے اور چاند کے گھٹنے کی تاریخوں میں قرار پانیوالے حمل میں زیادہ تر لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں۔
جرمنی کے ڈاکٹر بچلر نے بھی چڑھتے چاند میں قرار پانے والے حمل سے پیدا ہونے والے بچوں میں لڑکوں کی زیادہ تعداد نوٹ کی۔

چین کا کلینڈر
یہ چینی کیلنڈر 700 سال پہلے بیجنگ کی شاہی عمارت کے کھنڈروں میں دریافت ہوا تھا۔ چینی ماہرین کے مطابق عورت کے حمل اور عمر کے درمیان ایک خاص تعلق ہونے والے بچے کی صنف کے لیے اہم ہے۔ چینی اس کیلنڈر کی مدد سے اندازہ لگا تے ہیں کہ آیا مستقبل کا بچہ لڑکا ہوگا یا لڑکی۔ حیرت انگیز طور پر ہزاروں افراد اس چینی کیلنڈر کی بنیاد پر بچوں کی جنس کا تعین کر چکے ہیں۔ اس کلینڈر کے نتائج 90 فیصد درست ثابت ہوئے ہیں۔


اس کیلنڈر کی مدد سے، 18 سے 45 کی عورت کی چاند کی مناسبت سے قمری عمر کا حساب لگایا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ عمر کے حساب سے کون سے قمری مہینہ میں حمل ٹہرنے سے لڑکا یا لڑکی پیدا ہوگی، مثال کے طور پر، اگر کسی عورت کی قمری عمر 18 سال کی ہوتی ہے تو چاند کے پہلے اور تیسرے مہینے میں ٹہرنے والی حمل سے لڑکے کی پیدائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ہاتھ کی لکیریں
اولاد کی جنس کے تعین کے لیے بعض لوگ ہاتھ کی لکیروں یعنی پامسٹری کا بھی سہارالیتے ہیں۔


دست شناسی کے علم کے مطابق دائیں ہاتھ میں چھوٹی انگلی کے نیچے کی لکیریں، شادی اور اولاد کے متعلق ہوتی ہیں۔ ایک سیدھا افقی خط شادی کی لکیر کو ظاہر کرتا ہے اور اس کے اوپر عمودی خط اولاد کو ظاہر کرتے ہیں۔ چوڑی لکیریں لڑکوں کی علامت ہوتی ہیں۔ باریک خوبصورت لکیریں لڑکیوں کا اظہار کرتی ہیں۔ جب یہ لکیریں صاف دکھائی دیں تو یہ ہونے والے بچے کے تندرست اور صحتمند ہونے کی نشانیاں ہیں اور مدھم اور خم دار ہوں گی تو نتیجہ برعکس بتایا جاتا ہے۔

علم الاعداد
چین میں کلینڈر کے علاوہ علم الاعداد سے بھی بچے کی جنس کے اندازے لگائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر حمل ٹہرنے کے قمری مہینے اور ماں کی پیدائش کی تاریخ (قمری کلینڈر کے حساب سے)دونوں کے اعداد کا مجموعہ وتر یا جفت ہے (یعنی دونوں جفت ہیں یا دونوں وتر ہیں) تو لڑکی پیدا ہونے کے امکان ہیں۔ اور اگر دونوں اعداد کا مجموعہ ایک دوسرے کے برعکس ہے (یعنی ایک جفت اور ایک وتر ) تو لڑکا پیدا ہونے کے امکان زیادہ ہیں۔
(نوٹ: اس طریقہ میں تاریخ پیدائش اور مہینہ گریگورین کلینڈر کے حساب سے نہیں بلکہ چینی قمری کلینڈر کے حساب سے اخذ کیئے جاتے ہیں۔ )

نانی اماں کے ٹوٹکے
نانی اماں کے ٹوٹکوں کا تقریباً ہر گھرانے میں کبھی نہ کبھی ضرور استعمال ہوتا ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ جہاں دنیا بھر کی عقلی دلیلیں ناکام ہو جاتی ہیں وہاں ان بڑی بوڑھیوں کی سائنس یا ٹوٹکے کام آتے ہیں۔ ان ٹوٹکوں کی کی سائنسی توجیہہ یا لوجک (Logic)پیش کرنا تو ممکن نہیں ہے مگر یہ سینہ بہ سینہ خاندان کی بڑی بوڑھیوں سے منتقل ہوتے آرہے ہیں اور ان سے کتنا فائدہ ہوتاہے اس کے بارے میں تو اس کو استعمال کرنے والے ہی جانتے ہیں۔
عام طور پر ہر شادی شدہ جوڑ ے کی خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالی انہیں جلد صاحب اولاد کرے اور اولاد کا نرینہ ہونا ان کی خوشیوں کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ اگر کسی جوڑے کے گھر بیٹا پیدا نہ ہو رہا ہو تو بڑی بوڑھیاں چند ٹوٹکے بتاتی ہیں۔
بیٹی کا نام بشریٰ رکھیں: بعض بڑی بوڑھیوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر پہلے بیٹیاں پیدا ہوں تو اگر بیٹی کا نام بشری رکھا جاۓئے تو اس کے بعد ہونے والی اولاد بیٹا ہوتا ہے۔
ناریل کا پانی پینا: بڑی بوڑھیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حمل ٹہرنے سے پہلے خاتون ناریل کا پانی باقاعدگی سے استعمال کرے تو اس کو بیٹا ہوتا ہے ۔
لڑکے کے کپڑے سینا :حاملہ ماں اگر حمل کے آغاز کے دنوں میں لڑکے کے کپڑوں کی سلائی کرۓ ے گی تو اس سے بھی بیٹے کے پیدا ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
قربت کے لمحات میں: بیٹے کے خواہش مند جوڑوں کو کو چاہیے ۓ کہ قربت کے لمحات میں خاص لباس اور عورت سونے کا زیور پہنے۔ اس سے بھی بیٹے کی پیدائش کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔ بعض لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ قربت کے لمحات سے قبل شوہر کافی پیے تو بیٹا پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
زیادہ کھانا : جو عورتیں حمل سے پہلے زیادہ کھانا کھاتی ہیں تو ان کو بھی بیٹےکا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
گرم پانی سے غسل : حمل ٹہرنے کے دنوں میں گرم پانی سے غسل کے نتیجے میں بڑی بوڑھیوں کا یہ کہنا ہے پیدا ہونے والی اولاد نرینہ ہی ہوتی ہے۔
یہ تمام ٹوٹکے ایسے ہیں جن کو سائنس کی تائید تو حاصل نہیں ہوئی مگر ان کے بہت لوگ قائل نظر آتے ہیں۔

منٹوں میں جانیں کہ لڑکا ہوگا یا لڑکی
الٹراساؤند ٹیکنالوجی کی آمد سے قبل بڑی بوڑھیاں کچھ اشاروں سے بتایا کرتی تھیں کہ حمل میں لڑکا ہے یا لڑکی۔
دل کتنی تیزی سے دھڑک رہا ہے؟
دھڑکن کی رفتار جانچیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر بچے کے دل کی دھڑکن سست ہے اور 140 دھڑکن فی منٹ سے کم ہی رہتی ہے تو یہ لڑکا ہوگا۔ اگر دھڑکن 140 فی منٹ سے زیادہ ہو تو لڑکی کے امکانات زیادہ ہیں۔
کیا کھانے کا دل چاہ رہا ہے؟
کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر رحم میں لڑکا ہے تو ماؤں کو پروٹین سے بھرپور غذاؤں مثلاً گوشت کی طلب محسوس ہوتی ہے۔ وہ خواتین جو کسی لڑکی کو جنم دینے والی ہوتی ہیں انہیں میٹھی چیزیں مثلاً پھل اور بسکٹس کھانے کا دل کرتا ہے۔
بال بڑھنے کی رفتار
کچھ لوگوں کے مطابق وہ خواتین جن کو بیٹے کی پیدائش متوقع ہوتی ہے ان کی ٹانگوں کے بال تیزی سے بڑھتے ہیں۔ لڑکی ہو تو بالوں کے بڑھنے کی رفتار مناسب ہی رہتی ہے۔
ڈبل روٹی کے خشک حصے کھانا
کچھ بوڑھی خواتین مانتی ہیں کہ اگر رحم میں لڑکا ہو تو مائیں ڈبل روٹی کے خشک حصے کھانا پسند کرتی ہیں۔ اگر لڑکی ہو تو مائیں خشک حصے کھانا پسند نہیں کرتیں۔
سروے اور جائزے
ٹورانٹو میں ماؤنٹ سینائی ہسپتال کی تحقیق کے مطابق اگر کسی خاتون کا اوسط بلڈ پریشر103.3 رہے تو لڑکی اور اگر اوسط بلڈپریشر 106.0 ہو تو لڑکا پیدا ہونےکے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
انگلستان کی لیور پول یونیورسٹی کے ماہرین کے جائزہ کے مطابق اولاد نرینہ کے خواہش مند بڑی عمر کے لوگ اگر اپنے سے کافی کم عمر کی عورت سے شادی کر یں تواس بات کیامکانات کافی روشن ہو جاتے ہیں کہ ان کے ہا ں اولاد نرینہ ہو گی ۔ اس سے دراصل یہ بات ظاہر ہو تی ہے کہ جو عورتیں اپنے شوہر سے عمر میں کافی کم ہوتی ہے ان کی یہاں پہلے اولاد نرینہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے اور اگر بیوی کی عمر شوہر سے زیادہ ہو تو معاملہ برعکس ہو سکتاہے۔

دیسی علاج
استقرار حمل اور اولاد نرینہ کے لیے پوست، ریٹھہ اور بعض دیگر جڑی بوٹیوں کا استعمال بھی مفید بتایا جاتا ہے۔

رنگ و روشنی سے علاج
سلسلہ عظیمیہ کے مرشد خواجہ شمس الدین عظیمی تحریر فرماتے ہیں
خالص السی کا تیل ایک نیلے رنگ کی بوتل میں بھر لیں۔ اگر نیلے رنگ کی بوتل نہ مل سکے تو کسی بھی ٹرانسپیرنٹ بوتل پر وہ پلاسٹک چڑھا لیں جو اگر بتیوں کی پیکٹ پر چڑھی ہوئی ہے۔ اس تیل کو چالیس دن تک ایسی جگہ پر رکھیں جہاں دن بھر اس پر دھوپ پڑتی رہے۔ اگر درمیان میں مطلع ابر آلود ہو جائے تو یہ دن شمار کر کے دنوں کی تعداد بڑھا دیں۔ نیلی شعاعوں سے تیار کردہ اس تیل کو رات کو سوتے وقت اور صبح نہار منہ دائروں کی صورت میں کمر پر ریڑھ کی ہڈی کے جوڑ پر مالش کریں۔
وہ مرد جن میں جرثوموں کی کمی ہو اس طریقے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
جامنی شعاعوں کے تیل کی ریڑھ کی ہڈی کے اوپر 20منٹ مالش کریں۔ اس کے علاوہ لاجوردی شعاعوں کاتیل مستوارت کے امراض پوشیدہ مثلاً رحم کے اندر ورم، ایام کی کمی، ایام کی بے قاعدگی ، دوران ایام درد کی تکلیف اوربانجھ پن دور کرنے میں نہایت مجرب ہے اس کے استعمال سے مردوں کے اندر اولاد کے جرثومے نہ ہونے کی شکایت بھی رفع ہوتی دیکھی گئی ہے۔

روحانی علاج
*….فجر کی نماز کے بعد ایک مرتبہ سورۂ یٰسین شریف پڑھ کر پانی پر دم کر کے میاں اور بیوی دونوں پئیں۔ ان شاء اللہ اولاد نرینہ عطا ہوگی۔
حمل قرار پانے سے چند ماہ پہلے رات کو بعد از نماز عشاء اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ 313مرتبہ اسم الہی یَا اَوَّلُ پڑھ کر پانی پر دم کر کے پی لیا کریں۔
*…. خواتین ظہر کی نماز کے بعد ایک مرتبہ سورۂ مریم پڑھ کر پانی پر دم کر کے پی لیا کریں اور دم کیا ہوا پانی اپنے شوہر کو بھی پلا دیا کریں۔ اللہ کے فضل و کرم سے مرادپوری ہوجائے گی۔
*….رات سونے سے پہلے سورۂ ابراہیم (14)کی آیت نمبر 38 سے 40:
اول آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر مرد پانی پر دم کریں اور اپنی بیوی کو پلائیں ۔
ہر جمعرات چیل کوؤں کو پھیپڑے کا صدقہ دیں۔ کوشش کریں کہ اس صدقے میں ناغہ نہ ہو۔ صدقہ کا یہ عمل حمل قرار پانے کے بعد بھی تین ماہ تک جاری رکھیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

صحت مند زندگی کے لیے صرف ایک منٹ نکالیں

وقت کتنی جلدی ہاتھ سے پھسل جاتا ہے اور انسان کو اپنی مصروفیات میں اپنی …

مرد کی قوت کمزور پڑرہی ہے

مرد کی قوت کمزور پڑرہی ہے لڑکیوں کی شرح پیدائش میں اضافہ ہورہا ہے۔ چند …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے