Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے
روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / صحت مند زندگی کے لیے صرف ایک منٹ نکالیں

صحت مند زندگی کے لیے صرف ایک منٹ نکالیں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

وقت کتنی جلدی ہاتھ سے پھسل جاتا ہے اور انسان کو اپنی مصروفیات میں اپنی صحت پر توجہ دینے کا خیال تک نہیں آتا تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق صرف ایک منٹ کے معمولی کام ہی جسمانی حالت بہتر بنانے کے لیے کافی ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ سخت ورزش ہی کریں بلکہ چند دیگر طریقہ کار بھی آپ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔
مغربی ماہر صحت ڈیبورا اینوسDeborah Enos اور سارا کلین Sarah Klein کی تحریروں سے انتخاب

 

بہتر خوراک، روزانہ ورزش اور بہتر اور پوری نیند صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے، لیکن جب تھکا دینے والا شیڈول ہمارے رستے میں حائل ہو تو ایسا کرنا مشکل بلکہ ناممکن لگتا ہے …. آخر ان چیزوں کے لیے کس کے پاس وقت ہے….؟ لیکن آپ کو یہ سن کر خوشی ہو گی کہ آپ ہر دن کسی طویل ورزشی دورانئےمیں پڑے بغیر اپنی صحت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ آپ کو روز مرہ زندگی سے صرف ایک منٹ اپنی صحت کے لیے خرچ کرنا ہو گا لیکن اس کے نتائج آپ کی صحت کے لیے حیران کن ہوں گے۔

گہری سانس لینا
اگر آپ تناو کا شکار ہیں تو ذہن و جسم کو آرام کا احساس دلانے والے اس طریقہ کار کو مت بھولیں یعنی گہری سانس۔ ایک یا دو گہری سانسیں لینے سے آپ کے دل کی دھڑکن کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور ایسا کرنے سے بلڈ پریشر کی شرح کو نیچے لانے میں بھی مدد ملتی ہے، جبکہ جسم میں تناؤ کا باعث بننے والے ہارمونز بننے کی رفتار سست پڑجاتی ہے۔

کسی سے گلے ملنا
کسی پیارے سے گلے ملنے سے زیادہ اچھا اور کیا طریقہ کار ہوسکتا ہے کیونکہ یہ گرمجوش معانقہ ہمیں خوشی کے احساس سے بھر دیتا ہے اور جسم میں سکون کی لہریں دوڑنے لگتی ہیں جبکہ اس کے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کی رفتار کم ہوجانا وغیرہ۔

مسکراہٹ
یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جو لوگ زیادہ ہنستے ہیں وہ عام طور پر خوش باش افراد ہوتے ہیں مگر جو لوگ کھل کر مسکراتے ہیں وہ طویل زندگی بھی پاتے ہیں کیونکہ وہ ذہنی تناؤ کا شکار بہت کم ہوتے ہیں اور اس کی وجہ مسکراہٹ ہے جو مشکل حالات میں بھی ذہن کو تناؤ یا مایوسی کا شکار نہیں ہونے دیتی اور چہرے پر مسکراہٹ لانے میں وقت ہی کتنا چاہیئے ہوتا ہے؟

کھل کر ہنسنا
ہنسی بہترین دوا ہے کیونکہ یہ نہ صرف جسم کو تناؤ سے نجات دلانے کا قدرتی ذریعہ ہے بلکہ اس سے دیگر طبی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جیسے اگر دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہوگئی ہو یا بلڈپریشر آسمان کو چھو رہا ہو تو ایک منٹ تک ہنسنے سے ہی یہ معمول پر آجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ یادداشت کو بھی بہتر بناتی ہے اور ہنسی کا عمل جسمانی سرگرمی بھی ہے یعنی کچھ کیلوریز بھی جلتی ہیں جس سے موٹاپے سے کسی حد تک تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

پُر امید رہنا
مشکل حالات میں بھی روشن رخ کو دیکھنا یا اس کی امید رکھنا صحت مند دل اور امراض کے خلاف طاقتور دفاعی نظام کا باعث بنتا ہے تو اگر کبھی آپ خود کو مشکل میں محسوس کریں تو ایک منٹ کے لیے ان خیالات کو ذہن سےنکال کر امید کے دامن کو تھام کر رکھیں۔

ایک منٹ تک کھڑے رہیں 
اگر آپ اپنی عمر بڑھانا چاہتے ہیں تو ابھی اُٹھ کر کھڑے ہو جائیں ہم میں سے اکثر لوگ اپنے دن کا زیادہ تر حصہ بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ ذرا ایک سیکنڈ کے لئے اپنے دن بھر کے کام کاج پر غور کریں جو سارا دن آپ نے بیٹھ کر کیا ہے۔مثلاً دفتر میں اپنے ڈیسک پر بیٹھے رہے ہیں ، گاڑی چلاتے رہے ہیں۔ ٹی وی دیکھتے رہے ہیں اور بیٹھ کر کھانا کھایا وغیرہ اس ضمن میں، مَیں ایک سٹڈی کا حوالہ دوں گا جس کے مطابق وہ لوگ جو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ ذہنی و نفسیاتی عوارض کا نسبتاً زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اینوس کے مطابق ایسی عورتیں جو دن بھر 10گھنٹے سے زیادہ کا عرصہ بیٹھ کر گزارتی ہیں ان لوگوں کی نسبت جو پانچ چھ گھنٹے بیٹھ کر گزارتے ہیں عارضہ قلب میں زیادہ مبتلا ہو جاتی ہیں۔ جب آپ کے ذہن میں کھڑا ہونے کا خیال آئے تو صرف ایک منٹ کے لئے کھڑا ہونا، عام وقت کے مقابلے میں آپ کی صحت کے لئے زیادہ اہم اور مفید ہے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے ایک سروے کے مطابق ایسی عورتیں جو روزانہ چھ گھنٹے سے زائد بیٹھی رہتی ہیں ان میں کم وقت بیٹھی رہنے والی عورتوں کی نسبت 34فیصد شرح اموات زیادہ ہے۔ اینوس کے بقول چھ گھنٹے بیٹھنے رہنے والے مرد حضرات چھ گھنٹے سے کم بیٹھے رہنے والے مردوں سے 17فیصد زائد شرح اموات رکھتے ہیں۔

کہنی کے بل زمین پر لیٹنا
روزانہ صرف ایک منٹ کے لیے اپنی دونوں کہنیاں زمین پر ٹکا کر پش اپ کے پوز میں رہنا کوئی مشکل کام نہیں اور یہ مشق آپ کے پیٹ کے عضلات کو مضبوط بناتی ہے اور کمر درد سے نجات ملتی ہے جبکہ دیگر کئی امراض کے لیے مفید ہونے کے ساتھ یہ عام اوقات میں کمر کو سیدھا رکھ کر بیٹھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

کمپیوٹر اسکرین سے نظر ہٹالینا
اگر آپ ڈیسک جاب کرتے ہیں یا ٹیکنالوجی کے دیوانے ہیں تو آپ یقیناً اپنا زیادہ وقت کمپیوٹر اسکرینز کے سامنے گزارتے ہوں گے مگر جو وقت آپ اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے گزارتے ہیں وہ ذہن کے لیے کافی تناو اور آنکھوں کے امراض کا باعث بنتا ہے تو ان حالات میں آپ کو ہر بیس منٹ بعد کمپیوٹر سے نظریں ہٹا کر خود سے بیس فٹ دور موجود کسی چیز کو محض بیس سیکنڈ تک دیکھنا چاہئے اور اس کا فائدہ آپ کو حیران کرکے رکھ دے گا۔

ہاتھوں کو دھونا
اس کام میں بمشکل ہی بیس سیکنڈ لگتے ہیں اور اس کی اہمیت کا آپ اندازہ تک نہیں کرسکتے۔ درحقیقت ہاتھوں کی مناسب صفائی لوگوں کے اندر ہیضے کا خطرہ 31 فیصد اور فلو و سرد موسم میں لاحق ہونے والے امراض کا امکان 21 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔

دانت برش کریں
ہلکی پھلکی چیزیں کھانے کی طلب ہماری دشمن ہوتی ہے کیونکہ یہ ہمارے کھانا کھانے کی خواہش میں کمی کرتی ہیں آپ سنیکس کھانے کی خواہش کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنا پسندیدہ کھانا یا مشروب پینے کے بعد آپ ایک منٹ تک اپنے دانت صاف کیجئے۔ دانت برش کرنے کے بعد ان کا ذائقہ آپ کے دہن سے ختم ہو جائے گا۔

اپنا موڈ تبدیل کیجیے چاکلیٹ کھائیے
آپ جانتے ہیں کہ جو کچھ بھی آپ کھاتے ہیں آپ پر اثر انداز ہوتا ہے اور آپ ویسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ نے کیسے محسوس کیا۔اس سلسلے میں محققین کہتے ہیں کہ جو لوگ ہلکی پھلکی غذائیں کھاتے ہیں ان میں عام لوگوں کی نسبت ذہنی دباؤ15فیصد کم ہوتا ہے اس میں اینوس نے یہ کہتے ہوئے اضافہ کیا ہے کہ لوگ جتنا کھاتے جاتے ہیں اتنا ہی وہ ڈپریشن کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔ اس سے ہمارے Eating Cycle پر روشنی پڑتی ہے جب ہم اداس ہوتے ہیں تو چپس کے بیگ یا آئس کریم کے کارٹن میں ہمیں تسکین ملتی ہے، تو اگلی بار ایسی حالت میں اپنے موڈ کو بدلنے کے لئے جنک فوڈ سے خود کو تسکین دینے کی بجائے ایک چاکلیٹ کھا کر اپنا موڈ تبدیل کریں اس سے آپ کے میٹھا کھانے کی خواہش بھی دب جائے گی اور آپ کو اچھا محسوس ہو گا۔ کوکا میں ایک قدرتی جز پایا جاتا ہے جو بلڈپریشر کم کرنے، اچھے کولیسٹرول کی مقدار بڑھانے جبکہ خراب کولیسٹرول کی شرح گرانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور یہ دوران خون کو بھی بہتر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ چاکلیٹ کا محدود مقدار میں استعمال ذیابیطس کو دور بھگاتا ہے اور جلد کی صحت کو برقرار رکھتا ہے۔

ایک چمچ السی کے بیج کا استعمال
جب ہمارے معدے میں گڑگڑاہٹ ہوتی ہے تو ہم جو بھی پاس میسر ہوتا ہے کھا لیتے ہیں، جس کا نتیجہ زائد کھانے کی صورت میں نکلتا ہے خصوصاً گھر آنے اور کھانا کھانے کے دوران جب ہماری بھوک عروج پر ہوتی ہے، لیکن اس وقت ہمیں کھانا کھانے کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اینوس اس سلسلے میں ہمیں ون منٹ ٹپ دیتی ہے جس کی مدد سے ہم اپنی بھوک اور رات کے مکمل کھانے سے پہلے پیدا ہونے والی ہلکی پھلکی غذا کی خواہش کو لگام دے سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال سے نپٹنے کے لئے ایک چمچ السی کے بیج flaxseed کھا لینے سے ہم گھر پہنچنے اور مکمل کھانا کھانے تک انتظار کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں، کیونکہ اس کے بیجوں میں زیادہ فائبر ہوتے ہیں جو فطری طور پر بھوک کو دبانے کا کام کرتے ہیں۔

 

اپنے ناشتے میں دارچینی کا استعمال
نمک یا چینی کی بجائے دارچینی کو ترجیح دینا موٹاپے سے بچاؤکا انتہائی بہترین طریقہ ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ مصالحہ آپ کو ذیابیطس اور بلڈپریشر سے بھی تحفظ دیتا ہے جبکہ کولیسٹرول بڑھنے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔


وزن کم کرنے کے لیے صرف ایک منٹ نکالیں

وزن کم کرنے اور بہترین صحت کے حصول کیلئے ورزش کامیاب ترین نسخہ ہے لیکن اکثر لوگ وقت کی کمی کا بہانہ بنا کر ورزش سے فرار اختیار کرتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ بہت افسوسناک ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے یونیورسٹی آف میک ماسٹر کے سائنسدانوں نے بہانے باز احباب کیلئے بہت ہی اچھی خبر دے دی ہے جس کے مطابق ہفتے میں صرف ایک  منٹ کی سخت ورزش صحت کے لئے بے پناہ فوائد کی حامل ہوسکتی ہے اور اب کوئی وجہ نہیں کہ کوئی بھی وقت کی کمی کا بہانہ بنا کر ورزش سے جی چرائے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہفتے میں ایک منٹ کی سخت ورزش تین دفعہ کرنی چاہیے لیکن ہرد فعہ جسم کو مناسب طور پر گرم کرنا اور اس کے بعد دھیرے دھیرے نارمل درجہ حرارت پر لانا ضروری ہے۔ تجربات میں شامل افراد نے ورزش کے آغاز میں تقریباً چار منٹ کیلئے ورزشی سائیکل نارمل رفتار سے چلائی تاکہ جسم وارم اپ ہوجائے۔ اس کے بعد 20 سیکنڈ کیلئے بھرپور ترین رفتار سے سائیکل چلائی، چند لمحے کا وقفہ کیا اور پھر 20 سیکنڈ کیلئے سائیکل چلائی، اور پھر چند لمحے وقفہ کے بعد 20 سیکنڈ کیلئے بھرپور رفتار سے سائیکل چلائی۔ یوں کل 60 سیکنڈ کیلئے سخت ورزش کی اور پھر تقریباً چار منٹ کیلئے نارمل رفتار پر ورزشی سائیکل چلا کر جسم کو نارمل درجہ حرارت پر لائے۔ یوں یہ ورزش ہفتے میں دس، دس منٹ کیلئے تین دفعہ کی جائے گی جس میں سے کل تین منٹ سخت ورزش کے ہوں گے۔ ڈیڑھ ماہ کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ شرکاءکی قوت برداشت میں 12 فیصد اضافہ ہوچکا تھا اور ان میں دل کی صحت اور بلڈ پریشر کے مسائل بھی واضح طور پر کم ہوچکے تھے، جبکہ ان کے وزن میں بھی کمی ہوچکی تھی۔

پرسکون نیند کے لیے صرف ایک منٹ نکالیں

دنیا کی بڑی آبادی بے خوابی کی شکار ہے اور ایسے افراد نشہ آور ادویات لینے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ چین کی نیند سو سکیں تاہم ماہرین نے ان دواؤں کو صھت کے لئے خطرناک قرار دیا ہے اور ایک ایسا طریقہ متعارف کرا دیا ہے جس سے صرف ایک منٹ میں انسان نیند کی آغوش میں جا سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کی جانب سے اس طریقے کو 4، 7 اور 8 سانس کی مشقیں کہا گیا ہے جسے انسان کے اعصابی نظام کے لیے قدرتی سکون آور دوا کہا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ان مشقوں کے لیے سب سے پہلے طریقے میں منہ کے ذریعے پوری سانس ایک زوردار آواز کے ساتھ خارج کریں، دوسرے مرحلے میں منہ بند کرکے ناک کے ذریعے دھیرے دھیرے سانس لیں اور ذہن میں چار تک گنتی گنتے ہوئے سانس لیتے رہیں اس کے بعد سانس روک کر رکھیں اور 7 تک گنتی گنیں اور یہ مدت پوری کرنے کے بعد منہ کے ذریعے پوری سانس خارج کر دیں اور دوبارہ وہی تیز آواز نکالیں۔ اس عمل میں ناک کے ذریعے آہستہ سے سانس لیں اور منہ کے ذریعے زوردار آواز کے ساتھ سانس باہر خارج کریں جبکہ اس پورے عمل میں زبان کی نوک ایک ہی پوزیشن میں رکھیں اور اس عمل کو 3 مرتبہ دوہرائیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ قدیم یوگا تکنیک پرانایاما سے لیا گیا ہے۔ اس عمل سے پھیپھڑوں میں آکسیجن اچھی طرح بھر جاتی ہے اور اعصاب کو آرام دے کر نیند لاتی ہے۔

ایک منٹ کا مراقبہ

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی تحقیق کے مطابق جو لوگ جو روزنہ کی بنیاد پر مراقبہ کرتے ہیں ان لوگوں کو اسٹریس کا سامنا کم رہتا ہے۔تحقیق کار کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس کی وجہ سے ذہنی تناؤ میں کمی آتی ہے جس سے دماغ کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل سست ہوجاتا ہے۔ لفظ مراقبہ سنتے ہیں تو اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ کوئی مشکل مشق ہے جس میں کسی طرح آپ اپنے من کی کسی اور ہی دنیا میں چلے جاتے ہیں اور گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں۔ نینسی بٹلر روس اپنی کتاب Meditation Express میں تحریر کرتی ہیں کہ مراقبہ آپ کی سوچ سے زیادہ آسان ہے۔ مراقبہ صرف ایک منٹ میں بھی ممکن ہے ، اسے وہ ایکسپریس انداز کا مراقبہ کہتی ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ مراقبہ اپنی سوچ کو ایک خاص شئے پر مرکوز کرنے کا نام ہے ، اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا جائے، اپنی آنکھوں کو بند کی جائیں ، اپنے ذہن کو پرسکون رکھتے ہوئے تمام فکروں سے آزاد اور خیالات سے خالی کردیا جائے ۔ بس یہی ایک منٹ کا مراقبہ ہے۔ ایک منٹ روزانہ کا یہ مراقبہ آپ کو ملٹی ٹاسکنگ یا ایک وقت میں کئی کام کرنے کی عادت کے منفی نتائج سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ذہنی تناؤ اسٹریس بھی کم اور خوشی کا احساس بڑھتا ہے۔

 

 

 


یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ بھی دیکھیں

طوفانوں سے بچانے والے بزرگ حضرت عبداللہ شاہ غازی

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، ...

پاکستان ۔ اللہ کا انعام

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے